Explained with ayahs 51–56
اکل حلال کی فضیلت
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء ؑ کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 48
یہ محض بیان واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس استدلال کی ایک کڑی بھی ہے جو آغاز سورة سے چلا آ رہا ہے۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جب نوح ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ تک تمام انبیاء یہ توحید اور عقیدہ آخرت کی تعلیم دیتے رہے ہیں، تو لا محالہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوع انسانی کا اصل دین یہی اسلام ہے، اور دوسرے تمام مذاہب جو آج پائے جاتے ہیں وہ اسی کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں جو اس کی بعض صداقتوں کو مسخ کر کے اور اس کے اندر بعض من گھڑت باتوں کا اضافہ کر کے بنالی گئی ہیں۔ اب اگر غلطی پر ہیں تو وہ لوگ ہیں جو ان مذاہب کے گرویدہ ہو رہے ہیں، نہ کہ وہ جو ان کو چھوڑ کر اصل دین کی طرف بلا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا، زبر، زبور کی جمع ہے جو کتاب کے معنے میں آتا ہے اس معنے کے اعتبار سے مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو سب انبیاء اور ان کی امتوں کو اصول اور عقائد کے مسائل میں ایک ہی دین اور طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی تھی مگر امتوں نے اس کو نہ مانا اور آپس میں ٹکڑے مختلف ہوگئے ہر ایک نے اپنا اپنا طریقہ الگ اور اپنی کتاب الگ بنا لی۔ اور زبر کبھی زبرہ کی جمع بھی آتی ہے جس کے معنے قطعہ اور فرقہ کے ہیں۔ یہی معنے اس جگہ زیادہ واضح ہیں اور مراد آیت کی یہ ہے کہ یہ لوگ عقائد اور اصول میں بھی مختلف فرقے بن گئے لیکن فروعی اختلاف ائمہ مجتہدین کا اس میں داخل نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت (53-52)
تمام انبیاء کی مشترک دعوت کے برخلاف ان کی امتوں کا رویہ
ان تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور یہ سب ایک ہی امت ہیں۔ یہ ایک ہی دین ل کے آئے اور لوگوں کو ایک ہی امت بنانے کی کوشش کی اور میں ہی سب کا رب ہوں۔ یعنی اصل حقیقت تو یہ ہے لیکن امتوں نے اپنی باہمی ضدم ضدا سے اپنے واحد دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور اب حال یہ ہے کہ جو کچھ جس کے پاس ہے وہ اسی میں مگن ہے بعینیہ یہی بات تمام انبیاء کی دعوت کا حوالہ دینے کے بعد سورة انبیاء میں یوں فرمائی گئی ہے۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ واناربکم فاعبدوں، وتقطعوآ امرھم بینھم 53-52 (یہ سب تمہاری ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں تو میری ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52-1اُ مَّۃ سے مراد دین ہے، اور ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب انبیاء نے ایک اللہ کی عبادت ہی کی دعوت پیش کی ہے۔ لیکن لوگ دین توحید چھوڑ کر الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے عقیدہ و عمل پر خوش ہے، چاہے وہ حق سے کتنا بھی دور ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
20: حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی کے طور پر بغیر باپ کے بیت اللحم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے، بیت اللحم کا بادشاہ ان کی والدہ کا دشمن ہوگیا تھا، اس لئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو وہاں سے نکل کر کسی ایسی جگہ اپنے آپ کو اور اپنے صاحبزادے کو چھپانا پڑا جہاں اس بادشاہ کی پہنچ نہ ہو، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو ان کے لئے پرسکون بھی تھی، اور وہاں چشمے کا پانی بھی بہتا تھا جو ان کی ضروریات پوری کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
درس نمبر 50 ایک نظر میں
یہ اس کا سورة کا تیسرا سبق ہے ۔ رسولوں کے حالات بیان کرنے کے بعد اب اس میں لوگوں کے حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جب رسول آخر تشریف لائے تو لوگوں کے یہ حالات تھے۔ لوگوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات تھے۔ عقیدہ توحید جسے تمام بالا تفاق بیان کرتے آئے تھے اس میں بھی اختلافات تھے۔
رسول خاتم النبین جس حق کو لے آئے ہیں اس کے ساتھ بھی لوگوں نے ایسا غفلت کا سلوک کیا حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس نئی دعوت اور اس کے ماننے والوں پر غور کرتے ۔ اہل ایمان کا کردار ان کے سامنے تھا۔ وہ اللہ کی بندگی کرتے تھے ، نیک کام کرتے تھے ، خوف آخرت رکھتے تھے۔ اس تصور آخرت سے ان کے دل کانپتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
3 یعنی اصول کے اعتبار سے تمام انبیاء کا دین وملت ایک اور سب کا خدا بھی ایک ہے جس کی نافرمانی سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔ لیکن لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اصل دین کو پارہ پارہ کردیا اور جدی جدی راہیں نکال لیں۔ اس طرح آراء وا ہواء کا اتباع کر کے سینکڑوں فرقے اور مذہب بن گئے۔ یہ تفریق انبیاء نے نہیں سکھلائی۔ ان کے یہاں ازمنہ وامکنہ وغیرہ کے اختلاف سے صرف فروعی اختلاف تھا۔ اصول دین میں سب بالکلیہ متفق رہے ہیں۔ عموماً مفسرین نے آیت کی تقریر اسی طرح کی ہے۔ لیکن حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر پیغمبر کے ہاتھ اللہ تعالیٰ نے جو اس وقت کے لوگوں میں بگاڑ تھا، اس کا سنوار فرمایا۔ پیچھے لوگوں نے جانا ان کا حکم جدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
آیت 53 فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًا ط ”
اَمر سے یہاں مراد ”دین“ ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘ اور وہ یہودیت ‘ عیسائیت وغیرہ ناموں پر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔
Read the full tafseer →57 یعنی اصل دین میں چند موٹی موٹی باتیں شامل تھیں۔ اور ہر نبی یہی اصول دین پیش کرتا رہا۔ مگر لوگوں نے انھیں اصول دین میں اختلاف کرکے سینکڑوں فرقے بناڈالے۔ مثلاً پہلی شق توحید ہی کو لیجئے۔ شیطان نے شرک کی بیسیوں نئی سے نئی قسمیں ایجاد کرکے لوگوں کو اس راہ پر ڈال دیا بعض لوگوں نے کسی شخص، نبی یا فرشتوں کو اللہ کی اولاد قرار دیا۔ حلول اور اوتار کا عقیدہ وضع کیا اور اللہ تعالیٰ کو بعض لوگوں کے اجسام میں اتار دیا۔ کسی نے کہا کہ فلاں ہستی اللہ کے نور میں سے (جدا شدہ) نور ہے۔ کئی ہستیوں کو اللہ کے علاوہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر تسلیم کیا گیا اور سب سے بڑھکر یہ کہ حضرت انسان نے جسے تمام مخلوق سے…
Read the full tafseer →50۔ (اور باوجود وضوح حق کے اپنے ہی دین وطریقہ سے چمٹا ہوا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →فتقطعوا امر ہم بینہم زبرا کل حزب بما لدیہم فرحون۔ سو لوگوں نے اپنے دین میں (اپنا طریق الگ الگ کر کے) اختلاف پیدا کرلیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ دین ہے وہ اسی پر اترائے ہوئے ہیں ‘ یعنی جن لوگوں کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے پیغمبروں کے بعد دین میں تفرقہ پیدا کرلیا اور ایک دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اصولی اختلاف دین بنا لیا اور ایک دین کے چند دین بنا لئے کوئی تو تمام پیغمبروں کی اور ان کے لائے ہوئے احکام کی تصدیق کرتا رہا۔ یہ ہر زمانے میں اہل حق کا گروہ رہا اور کچھ لوگ کسی پیغمبر اور کسی حکم پر ایمان لائے۔ دوسرے انبیاء و احکام کا انکار کردیا ‘ جیسے یہودی اور عیسائی اور صابی۔ بعض نے سب ہی…
Read the full tafseer →(53) تو ان امتوں نے اپنے دین میں اپنا طریقے سے الگ الگ مختلف فرقے بنائے، جیسے یہود، نصاری، مشرکین، مجوس، ہر ایک گروہ اور جماعت کے پاس جو دین ہے وہ اسی سے خوش ہے۔
Read the full tafseer →فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا : اصل دین تمام پیغمبروں کا ایک ہے، البتہ بعض وقتی احکام میں فرق ہوسکتا ہے۔ آدم ؑ سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک سب کا دین اسلام ہے اور ان کے پیروکار سب امت مسلمہ ہیں۔ جس کے چند بنیادی اصول یہ ہیں : 1 توحید، یعنی عبادت صرف اللہ کی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ 2 قیامت، یعنی مرنے کے بعد سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے عمل کا بدلا پانا ہے۔ 3 اکل حلال، یعنی صرف حلال اور طیب کھانا کھانا ہے، حرام سے پوری طرح اجتناب کرنا ہے۔ 4 عمل صالح، یعنی ریا سے بچ کر خالص اللہ کے لیے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنا ہے۔ ہر پیغمبر یہی اصول دین لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
آیت نمبر 52-54
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : و ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ یہ تمہارا دین اور تمہاری ملت ہے پس اسے لازم پکڑو۔ امت سے مراد یہاں دین ہے اس کے محمل پہلے گزر چکے ہیں اسی سے اللہ کا ارشاد ہے : انا وجدنا اباء نا علیٰ امۃ (الزخرف :23) یعنی علی دین النابغہ نے کہا :
حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ وھل یاثمن ذوامۃ وھو طائع
مسئلہ نمبر 2: وان ھذہ ھمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور فتحہ کے ساتھ اور نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا گیا ہے : خلیل نے کہا : یہ محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے یعنی انا اعلم بان ھذاد ینکم الذی امرتکم ان تومنوا بہ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارا یہ دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ زبرا سے مراد کتابیں ہیں اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے ان میں تحریف اور تبدیلی کردی۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ میں زبر سے مراد ہے اللہ کی کتابیں اور انہوں نے کتابوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ” کل حزب “ میں حزب کا معنی ہے ٹکڑا اور یہ اہل کتاب تھے۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ سے…
Read the full tafseer →[ فَتَقَطَّعُوْٓا : پھر ان سب نے جدا جدا کرلیا ] [ اَمْرَهُمْ : اپنا معاملہ ] [ بَيْنَهُمْ : انکے درمیان ] [ زُبُرًا : ٹکڑے ٹکڑے ] [ كُلُّ : ہر ] [ حِزْبٍۢ : گروہ ] [ بِمَا : اس وجہ سے جو ] [ لَدَيْهِمْ : انکے پاس ] [ فَرِحُوْنَ : سب خوش ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں
یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال
وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں
قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی…
Read the full tafseer →45:۔ ” فَتَقَطَّعُوْا الخ “ یہ جواب سوال مقدر ہے سوال یہ تھا جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ایک تھی اور سب توحید پر متفق تھے تو یہ اختلاف کس طرح پیدا ہوگیا تو اس کا جواب دیا گیا کہ سب لوگوں اور امتوں کے لیے اللہ نے ایک ہی دین مقرر فرمایا تھا اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں کی بنیاد توحید پر تھی لیکن امتوں کے دنیا پرست عالموں اور دین حق کے باغی مولویوں نے اللہ کی توحید میں اختلاف ڈال دیا۔ اور دین واحد کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور لوگوں کو مختلف اور متضاد فرقوں میں تقسیم کردیا۔ ” فَتَقَطَّعُوْا “ کی ضمیر فاعل باغی اور گمراہ پیشواؤں سے کنایہ ہے کیونکہ ہر زمانے میں انہوں نے ہی توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا…
Read the full tafseer →فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَيْنَہُمْ زُبُرًا 0ۭ كُلُّ حِزْبٍؚبِمَا لَدَيْہِمْ فَرِحُوْنَ 53
قطع
القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ،
( ق ط ع ) القطع
کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَاِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَا تَّقُوْن۔ فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا ط کُلُّ حِزْبٍ م بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ۔ (المومنون : 52، 53)
(اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ پس انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اب ہر گروہ اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ )
گزشتہ حقیقت کا اظہار
یٰٓاَیُّھَا الرُّسُل کے خطاب سے جس حقیقتِ ثابتہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کو کھول دیا گیا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور یہ سب ایک ہی امت تھے کیونکہ یہ ایک ہی دین لے کر آئے۔ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : تمام انبیاء (علیہ السلام) کی ایک ہی دعوت تھی کہ اپنے رب کی نافرمانی سے بچو۔
تمام انبیاء ( علیہ السلام) رشتہ نبوت کے حوالے سے ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور سب کے سب اپنے رب کی طرف بلانے والے تھے۔ ہر نبی اپنے زمانے میں لوگوں کو صرف اپنے رب کی طرف بلاتا تھا۔ لیکن انبیاء کرام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کے علمی اور روحانی ورثاء نے ذاتی اور گروہی مفادات کی وجہ سے نہ صرف ان کی امتوں کو پارہ پارہ کیا بلکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کے لائے ہوئے دین اور شریعت کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ انبیاء کے بعد ان کی امتوں کے علماء کے فتوے ٰ اور ان کی فقہ ہی اصل دین قرار پائی۔ علماء نے اپنی…
Read the full tafseer →لوگوں کا کتابوں سے سلوک :
53: فَتَقَطَّعُوْآ اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ (پس لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا) تقطع بمعنی قطع ہے اپنے دین کے معاملے کو قطع کیا۔ زُبُرًا (ٹکڑے ٹکڑے) یہ زبور کی جمع ہے۔ مختلف کتابیں یعنی انہوں نے اپنے دین کو کئی دین بنادیا۔ ایک قول وہ اپنے دین میں کئی فرقوں میں بٹ گئے ہر فرقہ ایک کتاب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ قول حسن (رح) : اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مختلف ٹکڑوں میں کاٹ دیا اور اس کی تحریف کر ڈالی۔
قراءت : زُبُرا جمع زُبْرۃ پڑھا جاتا ہے ٹکڑا۔ کُلُّ حِزْبٍ (ہر گروہ) دین کو کاٹ کر جدا کرنے والوں میں سے ہر گروہ۔ بِمَالَدَیْھِمْ (جو کچھ ان کے پاس ہے) یعنی کتاب اور دین یا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
53۔ فتقطعوا امرھم، اپنے اپنے دین میں نئے نئے الگ الگ طریقے ایجاد کرلیے۔ بینھم انہوں نے آپس میں تفرقہ پیدا کردیاتو وہ آپس میں یہودی نصرانی اور مجوسی ہوگئے۔ زبرا، وہ گروہ گروہ ہوگئے فرقہ فرقہ، ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اس کا واحد زبور ہے۔ زبور کا معنی ہے ٹکڑا، فرقہ، اس سے زبرالحدید) لوہے کے ٹکڑے ۔ وہ فرقے فرقے ہوگئے جیسے لوہے کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں بعض اہل شام کے قراء نے زبراباء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
بعض نے کہا کہ انہوں نے کتاب کے مختلف حصے بنالیے ہیں وہ بعض پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ بعض کتاب کی تحریف کی ۔ کل حزب بمالدیھم ، ہر گروہ کے پاس جو کچھ دین ہے وہ اسی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
آیت (51)
(یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →72 تفریق دین کے جرم کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرات انبیائے کرام نے تو ایک ہی دین کی دعوت دی مگر ان کی امتوں نے اس کے باوجود اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرات انبیاء و رسل کا دین بھی ایک تھا اور ان سب کی دعوت بھی ایک تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان کی امتوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا آپس میں اپنے دین کو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جن کو حضرات انبیائے کرام نے ایک ہی دین و ملت کی تعلیم و تلقین فرمائی تھی انہوں نے آگے مختلف ناموں سے کئی دین بنا لئے۔ کوئی یہودی بن گیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی کچھ اور۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو دین حق تو ایک ہی دین تھا اور ایک ہی ہے۔ اور حضرات انبیائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
فرقہ بندی کا وبال
تشریح : جیسا کہ کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ انسان تخلیق کے لحاظ سے جسمانی طور پر اور روحانی طور پر ایک ہی بناوٹ سے پیدا کیا گیا ہے مگر لوگوں نے اپنی طرف سے بیشمار نئے نئے روحانی راستے نکال لیے ہیں، یعنی کوئی رسولوں کو ہی پوجنے لگا، کوئی سورج، چاند، ستارے، سانپ، گائے، پتھر کو اللہ بنا بیٹھا۔ کسی نے قبروں اور مزاروں کو پوجنا شروع کردیا اور پھر اپنے ان غلط عقیدوں پر اس قدر سختی سے قائم ہے کہ اس کی مت مار دی گئی ہے۔ شرک کی غلاظت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ان کے دل توحید کو ہرگز ماننے کو تیار نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے کہ آنکھیں ہیں مگر حق کو دیکھتی نہیں کان ہیں مگر حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →9 ۔ یعنی اپنے آپ کو برحق اور دوسرے کو باطل پرست سمجھتا ہے۔ 10 ۔ یعنی عذاب یا کفر پر موت کے وقت تک، یہ تہدید ہے تعیین نہیں ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(23:53) فتقطعوا :ترتیب کا ہے تقطعوا ماضی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ تقطع (تفعل) سے اور تقطع بمعنی قطع ہے جیسے تقدم بمعنی قدم۔ یعنی انہوں نے کاٹ دیا ۔ انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ انہوں نے توڑ دیا۔
امرہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ امر بمعنی معاملہ۔ کام۔ حکم۔ امرہم ای امر دینہم۔ زبرا۔ الزبرۃ لوہے کی بڑی سل کو کہتے ہیں اور اس کی جمع زبرآتی ہے جیسے اتونی زبر الحدید (18:96) لوہے کی سلیں مجھے لادو !
کبھی زبرۃ کا لفظ بالوں کے گچھا پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کی جمع زبر آتی ہے استعارہ کے طور پر پارہ پارہ کی ہوئی چیز کو بھی زبر کہا جاتا ہے (آیہ ہذا) ۔ زبر بمعنی کتب۔ اوراق بھی آیا ہے اس صورت میں یہ زبور کی جمع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 :
الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 :
خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[27] یعنی میرے احکام کی مخالفت نہ کرو۔ اللہ سے ڈرنے کے معنی بس اس قدر ہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت پر
جرأتِ اقدام باقی نہ رہے۔ یہ معنی ہرگز نہیں کہ (نعوذباللّٰہ) اسے ہّوا بنا کر اس طرح ڈرایا جائے جس طرح کسی جابر حاکم یا موذی دشمن سے ڈرایا جاتا ہے۔ اللہ تو محبت و محبوبیت کی چیز ہے دہشت و وحشت کی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(ف 3) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو اس آیت میں ایک نشانی قرار دیا گیا ہے بہت سی نشانیوں سے تعبیر نہیں کیا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک خرق عادت میں دونوں برابر کے شریک ہیں ، اور وہ خرق عادت ولادت بلا زوج ہے یعنی مریم (علیہ السلام) نے بغیر خاوند کے بچہ جنا اور مسیح (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے لہذا یہ نشانی ہے ان مادہ پرستوں کے لئے جو اسباب و علل کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں اور اس خالق العلل کی قدرتوں اور حکمتوں سے آگاہ نہیں ، اور اس میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔
مقصد یہ ہے جس قدر پیغمبروں کا ذکر گزر چکا ہے ، سب کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ وہ قوم میں اکل حلال کا جذبہ پیدا کریں…
Read the full tafseer →(53) دین کی وحدت اور اپنی ربوبیت اور تقوے کا اظہار کرنے کے بعد اشاد ہوتا ہے پھر لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اپنا دین آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اب ہر فرقہ کے لوگوں کے پاس جو دین ہے وہ اسی پر خوش اور مگن ہورہے ہیں یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ سب لوگ ایک ہی دین پر قائم رہتے اور پیغمبروں کے زمانے میں جو وقتی طور پر فروعی مسائل میں کچھ اختلافات ضرورت کے اعتبار سے ہوتے ہیں ان سے متاثر نہ ہوتے اور اصول میں سب ایک رہتے لیکن ہوا یہ کہ لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے آپس میں بانٹ لئے اور اب ہر فرقہ اپنی شریعت الگ بنائے بیٹھا ہے اور اسی پر مگن ہورہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ بس حق میرے ہی پاس ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 3۔ یعنی کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا۔
4۔ اور میرے احکام کی مخالفت مت کرو۔
Read the full tafseer →لوگوں نے ایک دوسرے سے کٹ کر جدا جدا دین کیوں بنا لئے ؟
53۔ قرآن کریم کا جب ظہور ہوا تو دنیا کا یہ حال تھا کہ تمام پیروان مذاہب ‘ مذہب کو صرف اس کے ظواہر ورسوم ہی میں دیکھتے تھے اور مذہبی اعتقاد کا تمام جوش و خروش اسی طرح کی باتوں میں سمٹ آیا تھا ۔ ہر گروہ یقین کرتا تھا کہ دوسرا گروہ نجات سے محروم ہے کیونکہ وہ دیکھتا تھا کہ دوسرے کی اعمال ورسوم ایسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں لیکن قرآن کریم نے اعلان کیا کہ ایسا نہیں ہے ‘ یہ اعمال ورسوم نہ تو دین کی اصل و حقیقت ہیں ‘ نہ ان کا اختلاف حق و باطل کا اختلاف ہے ۔ یہ تو محض مذہب کی عملی زندگی کا ظاہری ڈھانچا ہے مگر روح و حقیقت ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا But they split up ways from one another (dividing themselves) into factions - 23:53). The word زُبُر is the plural of زُبُور meaning a book, and the verse would mean that Allah had commanded all prophets and their followers to adhere to the one and only faith revealed by Him in all matters relating to the basic principles and beliefs. But the followers of different prophets split up into groups and sects and each one of them chose a different way of life and adopted a different book in which the beliefs of each group and sect were recorded. Sometimes…
Read the full tafseer →48. This is not a mere statement of a fact, but it is a link of the same argument which is being put forward from the very beginning of the Surah. The argument is this: Islam has been the real and original religion of all the Prophets from Noah to Jesus (peace be upon them all), because all of them brought and taught the same doctrines of Tauhid and the Hereafter. On the contrary, all the other religions are the perversions of the real and original religion, which has been tampered with in many ways. Therefore, those who are following the perverted religions are in the wrong and not the…
Read the full tafseer →