Explained with ayahs 51–56
اکل حلال کی فضیلت
اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء ؑ کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 47
" تمہاری امت ایک ہی امت ہے " یعنی تم ایک ہی گروہ کے لوگ ہو۔ " امت " کا لفظ اس مجموعہ افراد پر بولا جاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہو۔ انبیاء چونکہ اختلاف زمانہ و مقام کے باوجود ایک عقیدے، ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک ہی امت ہے۔ بعد کا فقرہ خود بتارہا ہے کہ وہ اصل مشترک کیا تھی جس پر سب انبیاء جمع تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 130 تا 133۔ 213۔ آل عمران، 19۔ 20۔ 23۔ 34۔ 64۔ 79 تا 85۔ النساء، 1550 تا 152۔ الاعراف 59۔ 65۔ 73۔ 85۔ یوسف 37 تا 40۔ مریم، 49 تا 59۔ الانبیاء 71 تا 93۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، لفظ امت، ایک جماعت اور کسی خاص پیغمبر کی قوم کے معنی میں معروف و مشہور ہے اور کبھی یہ لفظ طریقہ اور دین کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے قرآن کی ایک آیت (آیت) وجدنا ابآءنا علی امة، اس میں امت سے مراد ایک دین اور طریقہ ہے۔ یہی معنے اس جگہ بھی مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت (53-52)
تمام انبیاء کی مشترک دعوت کے برخلاف ان کی امتوں کا رویہ
ان تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور یہ سب ایک ہی امت ہیں۔ یہ ایک ہی دین ل کے آئے اور لوگوں کو ایک ہی امت بنانے کی کوشش کی اور میں ہی سب کا رب ہوں۔ یعنی اصل حقیقت تو یہ ہے لیکن امتوں نے اپنی باہمی ضدم ضدا سے اپنے واحد دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور اب حال یہ ہے کہ جو کچھ جس کے پاس ہے وہ اسی میں مگن ہے بعینیہ یہی بات تمام انبیاء کی دعوت کا حوالہ دینے کے بعد سورة انبیاء میں یوں فرمائی گئی ہے۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ واناربکم فاعبدوں، وتقطعوآ امرھم بینھم 53-52 (یہ سب تمہاری ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں تو میری ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52-1اُ مَّۃ سے مراد دین ہے، اور ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب انبیاء نے ایک اللہ کی عبادت ہی کی دعوت پیش کی ہے۔ لیکن لوگ دین توحید چھوڑ کر الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے عقیدہ و عمل پر خوش ہے، چاہے وہ حق سے کتنا بھی دور ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
20: حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی کے طور پر بغیر باپ کے بیت اللحم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے، بیت اللحم کا بادشاہ ان کی والدہ کا دشمن ہوگیا تھا، اس لئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو وہاں سے نکل کر کسی ایسی جگہ اپنے آپ کو اور اپنے صاحبزادے کو چھپانا پڑا جہاں اس بادشاہ کی پہنچ نہ ہو، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو ان کے لئے پرسکون بھی تھی، اور وہاں چشمے کا پانی بھی بہتا تھا جو ان کی ضروریات پوری کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
یا ایھا الرسل فا تقون (آیت نمبر 51 تا 52)
یہاں رسولوں کے خطاب میں رسولوں کے بشریت کو نمایاں کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کی قوموں کو اعتراض اس پر تھا کہ رسول بشر کیوں ہیں ؟
کلو من الطیبت (23 : 51) ” پاک چیزیں کھائو “۔ کیونکہ کھانا خاصہ بشریت ہے لیکن یہاں طیبات کی قید لگا کر بتایا کہ رسولوں کی بشریت ارقع ہوتی ہے اور وہ تمام انسانیت کو ارفع بناتے ہیں اور تمام انسانوں کو پاک کرے ہیں اور ان کو عالم بالا سے جوڑتے ہیں۔
پھر اس نداء میں کہا جاتا ہے کہ اچھے اعمال کرو یعنی اس زمین کی اصلاح کرو ، لہذا کام بھی بشریت ہی کا تقاضا ہے لیکن لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے کام بھی کرتے ہیں جبکہ رسول لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
3 یعنی اصول کے اعتبار سے تمام انبیاء کا دین وملت ایک اور سب کا خدا بھی ایک ہے جس کی نافرمانی سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔ لیکن لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اصل دین کو پارہ پارہ کردیا اور جدی جدی راہیں نکال لیں۔ اس طرح آراء وا ہواء کا اتباع کر کے سینکڑوں فرقے اور مذہب بن گئے۔ یہ تفریق انبیاء نے نہیں سکھلائی۔ ان کے یہاں ازمنہ وامکنہ وغیرہ کے اختلاف سے صرف فروعی اختلاف تھا۔ اصول دین میں سب بالکلیہ متفق رہے ہیں۔ عموماً مفسرین نے آیت کی تقریر اسی طرح کی ہے۔ لیکن حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر پیغمبر کے ہاتھ اللہ تعالیٰ نے جو اس وقت کے لوگوں میں بگاڑ تھا، اس کا سنوار فرمایا۔ پیچھے لوگوں نے جانا ان کا حکم جدا…
Read the full tafseer →آیت 52 وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ”
تمام پیغمبروں کا تعلق ایک ہی امت یا جماعت سے ہے۔ بعض روایات کے مطابق انبیاء ورسل علیہ السلام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول علیہ السلام ہیں اور باقی انبیاء علیہ السلام۔ ان انبیاء علیہ السلام ورسل علیہ السلام میں سے بعض کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے جبکہ اکثر کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ سورة النساء ‘ آیت 164 میں اس بارے میں یوں وضاحت فرمائی گئی ہے : وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط ”اور بھیجے وہ رسول علیہ السلام جن کا ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ کرچکے ہیں…
Read the full tafseer →56 امت سے مراد ایسا گروہ ہے جو ہم عقیدہ و ہم خیال ہو۔ اور یہاں تمہاری امت سے مراد انبیاء و رسل کی جماعت بھی ہوسکتی ہے اور ان کے ساتھ ان پر ایمان لانے والے بھی۔ اور یہ پوری کی پوری جماعت متحد العقیدہ تھی۔ یعنی ان سب کی اصولی تعلیم اور اصولی عقائد ایک ہی جیسے رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ (1) اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کی ذات وصفات اور عبادات میں کسی دورے کو شریک نہ کیا جائے۔ (2) یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ مرنے کے بعد ہر انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسے اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا۔ دنیا میں جو اعمال وہ کرتا رہا اس کے متعلق…
Read the full tafseer →49۔ (اور میرے احکام کی مخالفت نہ کرو) اللہ سے ڈرنے کے معنی بس اسی قدر ہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت پر جرات اقدام باقی نہ رہے۔ یہ معنی ہرگز نہیں کہ (نعوذ باللہ) اسے (آیت) ” ھوا “۔ بنا کر اس طرح ڈرا جائے۔ جس طرح کسی جابر حاکم یا موذی دشمن سے ڈرا جاتا ہے۔ اللہ تو محبت و محبوبیت کی چیز ہے، دہشت ووحشت کی نہیں۔ اس کا خوف، صرف خوف عقلی رہنا چاہیے نہ کہ خوف طبعی۔ (آیت) ” امۃ “ سے یہاں مراد دین یا مسلک سے ہے۔ امتکم اے ملتکم وشریعتکم (روح) امۃ واحدۃ اے بالملۃ والدین (ابن جریر۔ عن ابن جریح) دین اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
آیت نمبر 51 تا 77
ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…
Read the full tafseer →وان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون۔ اور یہ تمہارا طریقہ۔ ایک طریقہ اور میں تمہارا رب
ہوں تو مجھ سے ڈرو (میری ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ بناؤ اور نہ میری نافرمانی کرو۔ مترجم) ۔
اُمَّتُکُمْیعنی تمہاری ملت اور شریعت جس پر تم سب قائم ہو۔
اُمَّۃً وَّاحِدَۃٌ ایک طریقہ یعنی اسلام ‘ عقائد اور اصول اعمال (اور بنیادی دستور) میں سب کا ایک طریقہ ہے۔ فرعی اعمال میں حسب حکم خداوندی زمانہ کے اختلاف کی وجہ سے اختلاف ہے اور منسوخ کو چھوڑ کر ناسخ پر عمل کرنا ضروری ہے۔
فَاتَّقُوْنَسببیہ ہے۔ یعنی میں چونکہ تمہارا رب ہوں اس لئے مجھ سے ڈرو۔
Read the full tafseer →(52) یہ ہے تمہارا طریقہ اور وہ ایک ہی طریقہ ہے اور یہ ہے تمہارا پسندیدہ دین اور میں تمہارا رب حقیقی وحدہ لاشریک ہوں کہ اس عظیم نعمت کے ساتھ میں نے تمہیں کو سرفراز کیا، سو تم میری ہی اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (92)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
آیت نمبر 52-54
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : و ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ یہ تمہارا دین اور تمہاری ملت ہے پس اسے لازم پکڑو۔ امت سے مراد یہاں دین ہے اس کے محمل پہلے گزر چکے ہیں اسی سے اللہ کا ارشاد ہے : انا وجدنا اباء نا علیٰ امۃ (الزخرف :23) یعنی علی دین النابغہ نے کہا :
حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ وھل یاثمن ذوامۃ وھو طائع
مسئلہ نمبر 2: وان ھذہ ھمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور فتحہ کے ساتھ اور نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا گیا ہے : خلیل نے کہا : یہ محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے یعنی انا اعلم بان ھذاد ینکم الذی امرتکم ان تومنوا بہ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارا یہ دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
1۔ احمد ومسلم ترمذی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگوبلاشبہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک چیز کو قبول فرماتے ہیں فرمایا آیت ” واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیم “ اور فرمایا آیت ” یا ایہا الذین اٰمنوا کلو من طیبت ما رزقنکم “ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے اور پینا حرام ہے اور لباس حرام ہے اور اس کو حرام سے غذا دی گئی آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہتا ہے اے میرے رب اے میرے رب تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔
2۔ احمد بن فی الزہد ابن ابی…
Read the full tafseer →[ وَ اِنَّ : اور بیشک ] [ هٰذِهٖٓ : یہ ] [ اُمَّتُكُمْ : تمہاری امت ] [ اُمَّةً : ایک گروہ ] [ وَاحِدَةً : صرف ایک ] [ وَّاَنَا : اور میں ہی ] [ رَبُّكُمْ : تمہارا رب ] [ فَاتَّقُوْنِ : پس تم سب مجھ سے ڈرو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں
یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال
وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں
قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی…
Read the full tafseer →44:۔ ” وَ اِنَّ ھٰذِہٖ الخ “ اس میں خطاب حسب سابق تمام رسولوں سے ہے یا خطاب عام ہے انبیاء (علیہم السلام) اور دوسرے سب لوگوں کو شامل ہے یا خاص امت محمدیہ سے خطاب ہے اس صورت میں یہ جملہ معترضہ ہوگا۔ والخطالب للرسل (علیہم السلام) علی نحو ما مر وقیل عام لھم ولغیرھم (روح ج 18 ص 40) ۔ ” اُمَّةٌ“ کے معنی ملت و شریعت کے ہیں۔ ای ملتکم و شریعتکم ایھا الرسل ” اُمَّةً وَّاحِدَةً “ ای ملۃ و شریعۃ متحدة (ابو السعود ج 6 ص 295) ۔ ” امة واحدۃ “ یہ ” اِنَّ ھٰذِهٖ اُمَّتُکُمْ “ کے مضمون سے حال ہے اور یہ گذشتہ تمام دلائل عقلیہ ونقلیہ سے متعلق ہے یعنی دلائل عقلیہ سے بھی ثابت ہوگیا اور انبیاء سابقین (علیہم السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا…
Read the full tafseer →وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ 52
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38]
الامۃ
ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
1 ؎ سب حضرات انبیاء (علیہم السلام) بلحاظ اصول وایں اور خدا پرستی کے ایک ہی گروہ ہی سب کا ایک ہی خدائے واحد ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَاِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَا تَّقُوْن۔ فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا ط کُلُّ حِزْبٍ م بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ۔ (المومنون : 52، 53)
(اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ پس انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا اب ہر گروہ اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔ )
گزشتہ حقیقت کا اظہار
یٰٓاَیُّھَا الرُّسُل کے خطاب سے جس حقیقتِ ثابتہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کو کھول دیا گیا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور یہ سب ایک ہی امت تھے کیونکہ یہ ایک ہی دین لے کر آئے۔ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا اور کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا نام لیے بغیر ان کی امتوں کے کردار اور انجام کی طرف اشارات کیے گئے۔ ان سب کے لیے جو بنیادی احکام تھے ان کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایک جماعت ہونے کی بناء پر ایک ہی تعلیم دی تھی جس کا خلاصہ تین احکام میں ذکر کیا ہے 1 حلال اور طیب کھاؤ۔ 2 نیک اعمال کرتے رہے۔ 3 سب کا ایک ہی رب ہے اسی سے ڈرتے رہو۔ وہ تمہارے اعمال کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔
یہاں اعمال کی قبولیت کے…
Read the full tafseer →52: وَاِنَّ ھٰذِہٖٓ (بیشک یہ ) ۔
قراءت ـ: کوفی قراء نے استیناف کی بناء پر اِنَّ پڑھا اور حجازی نے أنّ اور بصری ان کو بمعنی ولِاَنَّ کے تسلیم کیا۔
یعنی فاتقون لان ھذہٖ یا ماقبل پر معطوف ہے ای بما تعملون علیمٌ و بأنَّ ھٰذہ یا تقدیر اس طرح مانیں : واعلموا ان ھذہٖ اُمَّتُکُمْ (تمہارا طریقہ) یعنی تمہاری ملت و شریعت جس پر تم قائم ہو۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃ ً (ایک طریقہ ہے) وہ شریعت اسلام ہے۔ امۃً منصوب حال ہونے کی وجہ سے ہے مطلب یہ ہے کہ دین ایک ہے اور وہ اسلام ہے اور اس کی مثل دوسری آیت ہے : ان الدین عند اللہ الاسلام ] آل عمران : 19 ] وَّ اَنَارَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ (اور میں تمہارا رب ہوں پس تم مجھ…
Read the full tafseer →52۔ وان ھذہ، اہل کوفہ ان میں الف کے کسرہ کے ساتھ ہے اور باقی قراء نے الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عامر نے نون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض نے ان کو صلہ قرار دیا ہے۔ دوسرے قراء نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں پر عبارت محذوف ہے۔ بان ھذہ امتکم اس سے مراد تمہاری ملت و شریعت جس پر تم ہو۔
” امتکم امۃ واحدہ۔ ملت واحدہ سے مراداسلام ہے۔ واناربک فاتقون، یعنی میں چونکہ تمہارا رب ہوں س لیے مجھ سے ڈرو۔ اس کا معنی یہ ہے کہ میں تمہیں اسی بات کا حکم کرتا ہوں جو حکم پہلے بھیجے ہوئے انبیاء کرتے تھے ہم سب کا حکم (تبلیغ ) ایک ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
آیت (51)
(یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →71 تمام انبیائے کرام کی دعوت ایک ہی رہی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں۔ پس تم سب مجھ ہی سے ڈرو "۔ " امت " کا لفظ ایسی جماعت اور گروہ کے لئے آتا ہے جو ایک خاص عقیدئہ و مسلک کے رشتے میں منسلک ہوں۔ اور حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ چونکہ سب کے سب ایک ہی دین پر تھے جو کہ اسلام ہے، جو کہ عبارت ہے اسلام لوجہ للہ سے۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ پاک کے حوالے اور سپرد کردینا۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاِسْلامُ } ۔ سو تمام انبیائے کرام کا دین یہی ایک دین تھا جس کی اصل اور اساس متین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔
(غذا اور عمل)
یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…
Read the full tafseer →7 ۔ انبیاء کے درمیان زمان و مکان کا کتنا ہی اختلاف رہا ہو لیکن چونکہ وہ اصول (عقیدہ توحید) میں متفق تھے اور اسی کی طرف ان کو دعوت دی۔ اسی لئے ان سے خطاب کر کے فرمایا گیا کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ 8 ۔ ہر ایک نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لی ہے بعد میں ان کے ماننے والوں نے دین میں اختلاف کیوں اور کیسے کیا ؟
Read the full tafseer →(23:52) امتکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری جماعت۔ تمہارا گروہ۔
امت کا لفظ اس مجموعہ افراد پر بولاجاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) چونکہ اختلاف زمانہ ومقام کے باوجود ایک عقیدے اور ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے اس لئے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک امت ہے اور بعد کا فقرہ خود بتارہا ہے کہ وہ اصل مشترک کیا تھی جس پر سب انبیاء جمع تھے۔ (تفہیم القرآن) ۔
بعض کے نزدیک امت سے یہاں مراد دین یا مسلک ہے۔ امتکم۔ ای ملتکم وشریعتکم (روح المعانی) امتکم مضاف مضاف الیہ مل کر ان کی خبر ہے جب کہ ھذہ ان کا اسم ہے۔ امۃ واحدۃ موصوف وصفت دونوں مل کر امتکم سے حال ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔ ان ھذہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–61
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 :
الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 :
خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[27] یعنی میرے احکام کی مخالفت نہ کرو۔ اللہ سے ڈرنے کے معنی بس اس قدر ہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت پر
جرأتِ اقدام باقی نہ رہے۔ یہ معنی ہرگز نہیں کہ (نعوذباللّٰہ) اسے ہّوا بنا کر اس طرح ڈرایا جائے جس طرح کسی جابر حاکم یا موذی دشمن سے ڈرایا جاتا ہے۔ اللہ تو محبت و محبوبیت کی چیز ہے دہشت و وحشت کی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(ف 3) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو اس آیت میں ایک نشانی قرار دیا گیا ہے بہت سی نشانیوں سے تعبیر نہیں کیا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک خرق عادت میں دونوں برابر کے شریک ہیں ، اور وہ خرق عادت ولادت بلا زوج ہے یعنی مریم (علیہ السلام) نے بغیر خاوند کے بچہ جنا اور مسیح (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے لہذا یہ نشانی ہے ان مادہ پرستوں کے لئے جو اسباب و علل کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں اور اس خالق العلل کی قدرتوں اور حکمتوں سے آگاہ نہیں ، اور اس میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔
مقصد یہ ہے جس قدر پیغمبروں کا ذکر گزر چکا ہے ، سب کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ وہ قوم میں اکل حلال کا جذبہ پیدا کریں…
Read the full tafseer →(52) اور یقیناً یہ ہے تمہارا طریقہ کہ وہ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ ہے اور میں تمہارا پروردگار و ہوں پس تم مجھ سے ڈرتے رہو یعنی رسولوں سے یہ بھی فرمایا کہ باعتبار اصول دین کے تم سب کا دین اور ملت اور طریقہ ایک ہی ہے تم سب کا مالک اور منعم حقیقی ایک میں ہی ہوں سو مجھ سے ڈرتے رہا کرو اور میرے احکام کی مخالفت اور میرے احکام کی تعمیل میں سستی نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 3۔ یعنی کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا۔
4۔ اور میرے احکام کی مخالفت مت کرو۔
Read the full tafseer →بلاشبہ سارے انبیاء ورسل کی ایک ہی جماعت تھی کیونکر نظریہ ایک تھا :
52۔ زیر نظر آیت نے نہایت وضاحت سے یہ بات ثابت کردی کہ سارے انبیاء ورسل کی ایک جماعت اور ایک دین تھا اور یہی وہ اصل عظیم ہے جو گزشتہ سورتوں میں بھی جگہ جگہ واضح کی گئی اور گرشتہ سورت الانبیاء کی آیت 92 میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے وحدت کی جگہ تفرقہ کی اور جمعیت کی جگہ تشتت وتخرب کی راہ اختیار کی اور اس طرح جس کے پلے جو کچھ پڑگیا وہ اس پر مگن ہوگیا اور دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ، ہم نے اس کی وضاحت سورة البقرہ کی آیت 59 ‘ 81 ‘ 106 ‘ 113 ‘ 114 ‘ 127 ‘ 129…
Read the full tafseer →وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً (And surely this is your creed, a single creed - 23:52). The word اُمَّہ is used to describe a group or the followers of a prophet. Sometimes it is also used in the sense of "faith", "creed" or "way of life", as in the verse وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ (We found our fathers upon a creed - 43:22). In the present verse the word ummah has been used in the latter sense.
Read the full tafseer →47. The original Arabic word ummat (community) comprises those individuals who have some basic things common among them. All the Messengers of Allah belonged to one and the same community because they had the same creed and the same religion and the same message. See also (Surah Al-Baqarah, Ayats 130-133, 213); (Surah Aal-Imran, Ayats 19-20, 33-34, 64,79-85); (Surah An- Nisa, Ayats 150-152); (Surah Al-Aaraf, Ayats 59, 65, 73, 85); (Surah Yusuf, Ayats 37-40); (Surah Maryam, Ayats 49-59); and (Surah Al-Anbiya, Ayats 71-93) along with the relevant E.Ns.
Read the full tafseer →