Al-Muminoon 23:51

Al-Muminoon · from ayah 51

23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ؕ— اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ۟ؕيٰۤـاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعۡمَلُوْا صَالِحًـا‌ ؕ اِنِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ

اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل نیک کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah said], "O messengers, eat from the good foods and work righteousness. Indeed, I, of what you do, am Knowing.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:51

اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل نیک کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزوں میں سے (جو چاہو) کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، مجھے اس کا پورا پورا علم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے رُسُلِ (عظام!) تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو (جیسا کہ تمہارا معمول ہے) اور نیک عمل کرتے رہو، بیشک میں جو عمل بھی تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے پیغمبروں کی جماعت ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو جو کچھ تم کرتے رہے ہو میں اسے خوب جانتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے رسولو، پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو۔ جو کچھ تم کرو گے میں اس سے اچھی طرح واقف ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے پیغمبرو، تم کھاؤ پیو پاکیزہ چیزوں میں سے اور کام کرو نیک بلاشبہ میں ان تمام کاموں کو جو تم لوگ شب و روز کرتے ہو پوری طرح جانتا ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان دونوں کو بلند زمین پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور شاداب تھی۔ اے پیغمبر نفیس کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ میں خوب جانتا ہوں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے رسولو ! پاکیزہ اور حلال چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً میں اس سے باخبر ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Messengers! Partake of the things that are clean, and act righteously. I know well all that you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O messengers, eat from the good things, and act righteously. Of whatever you do, I am fully aware.

— Muhammad Taqi Usmani

O messengers, eat from the good things, and act righteously. Of whatever you do, I am fully aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Messengers! Eat of the Tayyibat and do righteous deeds. Verily, I am Well-Acquainted with what you do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye messengers! Eat of the good things, and do right. Lo! I am Aware of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah said], "O messengers, eat from the good foods and work righteousness. Indeed, I, of what you do, am Knowing.

— Saheeh International

I told them, "Messengers, eat from the pure things and act righteously; I know all that you do.

— Muhammad Sarwar

O apostles! eat of the good things and do good; surely I know what you do.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye apostles! eat the good things and work righteously; verily of that which ye work I am the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye messengers! enjoy (all) things good and pure, and work righteousness: for I am well-acquainted with (all) that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

اکل حلال کی فضیلت اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء ؑ کو حکم فرتا ہے کہ وہ حلال لقمہ کھائیں اور نیک اعمال بجالایا کریں پس ثابت ہوا کہ لقمہ حلال عمل صالحہ کا مددگار ہے پس انبیاء نے سب بھلائیاں جمع کرلیں، قول، فعل، دلالت، نصیحت، سب انہوں نے سمیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے سب بندوں کی طرف سے نیک بدلے دے۔ یہاں کوئی رنگت مزہ بیان نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حلال چیزیں کھاؤ۔ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی والدہ کے بننے کی اجرت میں سے کھاتے تھے صحیح حدیث میں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں لوگوں نے پوچھا آپ سمیت ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی چند قیراط پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ اور حدیث میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 45 پچھلے دو رکوعوں میں انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب یٰٓاَیُّھَا الُّرُسُل کہہ کر تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں یہ سارے پیغمبر یکجا موجود تھے اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد فرمایا گیا۔ بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں میں آنے والے انبیاء کو ایک امت، ایک جماعت ایک گروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے طرز بیان یہاں ایسا اختیار کیا گیا کہ نگاہوں کے سامنے ان سب کے ایک گروہ ہونے کا نقشہ کھنچ جائے۔ گویا وہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہیں اور سب کو ایک ہی ہدایت دی جا رہی ہے۔ مگر اس طرز کلام کی لطافت اس دور کے بعض کند ذہن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ہم نے جس طرح تم کو اپنی نعمتوں کے استعمال کی اجازت دی اور عبادت کا حکم دیا اسی طرح سب پیغمبروں کو اور ان کے واسطے سے ان کی امتوں کو بھی حکم دیا کہ) اے پیغمبرو ! تم (اور تمہاری امتیں) نفیس چیزیں کھاؤ (کہ خدا کی نعمت ہیں) اور (کھا کر شکر ادا کرو کہ) نیک کام کرو (یعنی عبادت اور) میں تم سب کے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں (تو عبادت اور نیک کاموں پر ان کی جزا اور ثمرات عطا کروں گا) اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ جو طریقہ تمہیں ابھی بتایا گیا ہے) یہ ہے تمہارا طریقہ (جس پر تم کو چلنا اور رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (سب انبیاء اور ان کی امتوں کا کسی شریعت میں یہ طریقہ نہیں بدلا)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون …… آیات 67-51 آگے یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام رسولوں کو ایک ہی دین دیا لیکن ان کی امتوں نے اس دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا اور اب جس کے پاس جو کچھ ہے اس میں مگن ہے، اس کے خلاف کچھ سننے اور سمجھنے کے لئے تایر نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ ان کو کچھ دن اور موقع دو۔ یہ اپنی دنیوی کامیابیوں پر خوش ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ بڑے تیر مار رہے ہیں حالانکہ یہ صرف اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہیں لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہے۔ اصلی فتوحات دراصل وہ لوگ حاصل کر رہے ہیں جو آج خدا سے ڈرتے اور اس کی آیات پر ایمان لا رہے ہیں۔ بیشک یہ بازی جیتنے والے لوگ ہیں۔ رہے یہ برخود غلط…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51-1طِیِّبٰت سے مراد پاکیزہ اور لذت بخش چیزیں ہیں، بعض نے اس کا ترجمہ حلال چیزیں کیا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ صحیح ہیں کیونکہ ہر پاکیزہ چیز اللہ نے حلال کردی ہے اور ہر حلال چیز پاکیزہ اور لذت بخش ہے۔ خبائث کو اللہ نے اس لئے حرام کیا ہے کہ وہ اثرات و نتائج کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں ہیں۔ حلال روزی کے ساتھ عمل صالح کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسر کے معاون ہیں۔ اسی لئے اللہ نے تمام پیغمبروں کو ان دونوں باتوں کا حکم دیا۔ چناچہ تمام پیغمبر محنت کر کے حلال روزی کمانے اور کھانے کا اہتمام کرتے رہے، جس طرح حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے ' کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–55

20: حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی کے طور پر بغیر باپ کے بیت اللحم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے، بیت اللحم کا بادشاہ ان کی والدہ کا دشمن ہوگیا تھا، اس لئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو وہاں سے نکل کر کسی ایسی جگہ اپنے آپ کو اور اپنے صاحبزادے کو چھپانا پڑا جہاں اس بادشاہ کی پہنچ نہ ہو، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو ان کے لئے پرسکون بھی تھی، اور وہاں چشمے کا پانی بھی بہتا تھا جو ان کی ضروریات پوری کرسکے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–52

یا ایھا الرسل فا تقون (آیت نمبر 51 تا 52) یہاں رسولوں کے خطاب میں رسولوں کے بشریت کو نمایاں کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کی قوموں کو اعتراض اس پر تھا کہ رسول بشر کیوں ہیں ؟ کلو من الطیبت (23 : 51) ” پاک چیزیں کھائو “۔ کیونکہ کھانا خاصہ بشریت ہے لیکن یہاں طیبات کی قید لگا کر بتایا کہ رسولوں کی بشریت ارقع ہوتی ہے اور وہ تمام انسانیت کو ارفع بناتے ہیں اور تمام انسانوں کو پاک کرے ہیں اور ان کو عالم بالا سے جوڑتے ہیں۔ پھر اس نداء میں کہا جاتا ہے کہ اچھے اعمال کرو یعنی اس زمین کی اصلاح کرو ، لہذا کام بھی بشریت ہی کا تقاضا ہے لیکن لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے کام بھی کرتے ہیں جبکہ رسول لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی سب پیغمبروں کے دین میں یہ ہی ایک حکم رہا کہ حلال کھانا حلال راہ سے کما کر۔ اور نیک کام کرنا۔ نیک کام سب خلق جانتی ہے۔ چناچہ تمام پیغمبر نہایت مضبوطی اور استقامت کے ساتھ اکل حلال، صدق مقال اور نیک اعمال پر مواظبت اور اپنی امتوں کو اسی کی تاکید کرتے رہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ اسی طرح کا حکم جو یہاں رسولوں کو ہوا، عامہ مومنین کو دیا گیا ہے۔ اس میں نصاریٰ کی رہبانیت کا بھی رد ہوگیا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے خاص مناسبت رکھتا ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کا کھانا پینا، حرام کا ہو، اسے اپنی دعاء کے قبول ہونے کی توقع نہیں رکھنا چاہیے۔ اور بعض احادیث میں ہے کہ جو گوشت حرام سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 50–51

وَّاٰوَیْنٰہُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ” یہاں جس جگہ کا ذکر ہوا ہے اس کے مقام اور زمانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد وہی ٹیلا ہے جہاں ایک کھجور کے سایے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ شاید آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ماں بیٹا کچھ عرصہ اسی جگہ پر قیام پذیر رہے ہوں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی رائے میں یہ کسی اور جگہ کا ذکر ہے۔ اس دوسری رائے کی بنیاد جن معلومات پر ہے ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اس علاقے میں ہیرودیس بادشاہ کی حکومت تھی جو یہودی تھا۔ جس طرح برصغیر میں انگریزوں کی طرف سے راجوں اور نوابوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 خطاب کا یہ انداز اس لحاظ سے نہیں کہ سارے رسول کسی ایک جگہ اکٹھے کئے گئے تھے تو انھیں اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔ بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ چونکہ سارے رسولوں کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہذا بطور اختصار یہاں خطاب کا مشترکہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ نیز اس آیت میں اگرچہ خطاب رسولوں کو ہے تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور قرآن کریم نے بعض مقامات پر تو یٰاایُّھَا النَّاس کہہ کر حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے اور بعض مقامات پر اس حکم کے مخاطب ایمان لانے والے ہیں۔ 54 پاکیزہ چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا کھانا شریعت نے حلال قرار دیا ہو اور انھیں حلال ذرائع سے ہی حاصل کیا گیا ہو۔ اس کی مثال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

47۔ یہ مقام کون سا تھا ؟ اور واقعہ کب کا ہے ؟ بعض اہل تفسیر ادھرگئے ہیں کہ یہ ذکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت کا ہے۔ اس وقت حضرت مریم (علیہا السلام) کسی بلند ٹیلہ پر مقیم تھیں۔ اور نیچے چشمہ پر رہا تھا جیسا کہ سورة مریم میں ہے۔ (آیت) ” قدجعل ربک تحتک سر یا “۔ ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ لیکن اکثر محققین کی رائے میں اس سے مراد ملک مصر ہے اور آیت کا تعلق ایک دوسرے قصہ سے ہے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش کے زمانہ میں ملک شام کا حاکم ہیرو دیس (HEROD) تھا اور وہ نجوم وکہانت کے عروج کا زمانہ تھا۔ انجیل کی روایت ہے کہ اسے نجومیوں سے یہ پتہ چلا کہ اسرائیلیوں کا آیندہ بادشاہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–77

آیت نمبر 51 تا 77 ترجمہ : اے پیغمبرو ! پاکیزہ حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو وہ فرض اور نفل ہیں بلاشبہ میں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو خوب جانتا ہوں تو میں ان کاموں پر تم کو جزاء دوں گا اور یہ بات جان لو کہ یہ یعنی ملت اسلام اے مخاطبو تمہارا دین ہے یعنی تمہارے لئے واجب ہے کہ تم اس پر قائم رہو حال یہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے یہ حال لازمہ ہے اور ایک قرأت میں اَنْ کے نون کی تخفیف کے ساتھ ہے اور دوسری قرأت میں ہمزہ کے کسرہ اور نون کی تشدید کے ساتھ ہے اور یہ استیناف کے اعتبار سے ہے میں تمہارا رب ہوں تم مجھ سے ڈرتے رہو پھر وہ متبعین اپنے دینی معاملہ میں آپس میں مختلف ہوگئے زُبُرًا تقطعوا کے فاعل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایہا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا اے پیغمبر و حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ طَیِّبٰتِ سے مراد ہیں حلال چیزیں اور امر وجوب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حرام چیزیں نہ کھاؤ (اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ حلال چیزیں کھاؤ یعنی کل حلال چیزیں کھانے کا حکم وجوبی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ حرام چیزیں نہ کھاؤ۔ مترجم) یا لذیذ چیزیں مراد ہیں اس وقت امر اباحت اور سہولت پیدا کرنے کے لئے ہوگا اس سے رہبانیت اور ترک لذات کی تردید ہوجائے گی۔ بعض نے کہا اس سے حلال صاف قوام والا مراد ہے حلال تو حرام کی ضد ہوتا ہے اور صاف سے یہ مراد ہے کہ اس کے کھانے سے اللہ کی یاد نہ بھولے اس کا کھانا اللہ کی یاد سے غافل نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(51) اے محمد ﷺ حلال چیزیں کھاؤ اور خوب نیک کام کرو، آپ اور آپ کی امت جو نیک کام کرتی ہے میں اس کے ثواب سے خوب واقف ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ۔۔ : ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو حکم دے رہے ہیں کہ حلال کھاؤ اور صالح اعمال کرتے رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اکل حلال عمل صالح کے لیے مددگار ہے۔“ (ابن کثیر) ظاہر ہے حلال حاصل کرنے کے لیے محنت بھی کرنا پڑے گی۔ چناچہ نبوت سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں اور تجارت بھی کی ہے اور آخر میں تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ ترین رزق مال غنیمت کے ساتھ غنی فرما دیا، چناچہ فرمایا : (فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا) [ الأنفال : 69 ] ”سو اس میں سے کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی، اس حال میں کہ حلال، طیب ہے۔“ مقدام ؓ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 51 اس میں دو مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ نے فرمایا : اے لوگو بیشک قبول نہیں فرماتا مگر پاک اور اللہ نے مومنین کو وہی حکم دیا جو اس نے مرسلین کو حکم دیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، قبول الصدقۃ من الکسب الطیب، جلد 1، صفحہ 326) فرمایا یایھا الرسل کلو من طیبت واعملو صالحا انی بما تعملون علیم۔ اور اللہ نے فرمایا : یا ایھا الذین امنو کلو من طیبت ما رزقنکم (البقرہ :172) پھر ذکر کیا ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال پراگندہ ہیں، جسم غبار آلود ہے، اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرتا ہے کہتا ہے : یارب یارب جب کہ اس کا کھانا حرام ہے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–52

1۔ احمد ومسلم ترمذی وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگوبلاشبہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک چیز کو قبول فرماتے ہیں فرمایا آیت ” واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیم “ اور فرمایا آیت ” یا ایہا الذین اٰمنوا کلو من طیبت ما رزقنکم “ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے اور پینا حرام ہے اور لباس حرام ہے اور اس کو حرام سے غذا دی گئی آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہتا ہے اے میرے رب اے میرے رب تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ 2۔ احمد بن فی الزہد ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّهَا : اے ] [ الرُّسُلُ : بہت سے رسول ] [ كُلُوْا : تم سب کھاؤ ] [ مِنَ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ چیزوں میں سے ] [ وَ : اور ] [ اعْمَلُوْا : سب عمل کرو ] [ صَالِحًا : نیک ] [ اِنِّىْ : بیشک میں ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم سب عمل کرتے ہو ] [ عَلِيْمٌ : خوب جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–56

طیبات کھانے کا حکم، متفرق ادیان بنا کر مختلف جماعتیں بنانے والوں کا تذکرہ، مال اور اولاد کا خیر ہونا ضروری نہیں یہ چھ آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک ہی کو قبول فرماتا ہے (پھر فرمایا کہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو جو حکم دیا ہے وہی مومنین کو حکم فرمایا ہے رسولوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ( ٰٓیاََیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) (اے رسولو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو) اور مومنین کو خطاب کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ ” یَا اَیُّھَا الرُسُلُ الخ “ یہ توحید پر چھٹی نقلی دلیل ہے۔ ” یا ایھا الرسل “ سے پہلے ” قُلْنَا “ مقدر ہے یعنی ہم نے تمام رسولوں سے کہا پہلی پانچ نقلی دلیلیں نفی شرک فی التصرف پر قائم کی گئیں اور اس دلیل سے نفی شرک فعلی مقصود ہے تمام انبیاء ورسل (علیہم السلام) کو خطاب کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور انہیں استعمال کرو اور اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام نہ ٹھہراؤ نیز حلال چیزیں کھاؤ اور حرام و ناپاک مثلاً غیر اللہ کی نذر و نیاز سے اجتناب کرو۔ یعنی نہ غیر اللہ کے لیے تحریمات کرو اور نہ غیر اللہ کی نذریں نیازیں دو ۔ من الطیت یعنی غیر الرجس من الاوثان۔ قالہ الشیخ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۝ 0ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ۝ 5 1ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : :۔ ان کو قرائِ کوفہ نے بکسر الہمزۃ پڑھا ہے تب یہ جملہ مستانقہ ہے ھذا اس کا اسم امتکم خبر اور امۃ واحدۃ منصوب ہے حال لازمہ ہونے کی وجہ سے خبر ان سے دیگر قراء نے ان بالفتح پڑھا ہے یا لام مقدرمان کر جو اتقون سے متعلق ہوگا ای فاتقون لان ھذہ اور موضع ان کا نصب ہے یا جریا یہ معطوف ہے ماقبل پر۔ زبر الضمتین جمع زبورائے کتبامختلفہ یعنی جعلوا دینھمادیانا وزبراقطعا استعیرت من زبر الفضۃ والحدید (کبیر) تقربفتح الباء وھواجمع زبرۃ وھی القطعہ والفرقۃ والنصب علی الوجہ الادل علی الحال من امرھم وعلی الوجہ الثانی حال من الفاعل ان بابمعنی الذی و خبران نسارع۔ تفسیر : :۔ رسولوں کا ذکر فرما کر ان کے اس شبہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓـاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔ (المومنون : 51) (اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کروتم جو کچھ بھی کرو گے میں اس کو خوب جانتا ہوں۔ ) یٰـٓاَیُّھَاالرُّسُلُ کا مفاد گزشتہ دو رکوعوں میں متعدد انبیائے کرام کا ذکر کرنے کے بعد تمام انبیائے کرام کو یٰٓـاَیُّھَا الرُّسُلکے مشترک لفظ سے خطاب فرماکر ایک خاص حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ وہ یہ کہ گزشتہ دو رکوعوں میں ہم نے سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو انسانوں میں بگاڑ پیدا ہوجانے کے بعد اللہ کی جانب سے پہلے رسول ہیں۔ پھر ان رسولوں کی طرف اشارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا اور کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا نام لیے بغیر ان کی امتوں کے کردار اور انجام کی طرف اشارات کیے گئے۔ ان سب کے لیے جو بنیادی احکام تھے ان کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایک جماعت ہونے کی بناء پر ایک ہی تعلیم دی تھی جس کا خلاصہ تین احکام میں ذکر کیا ہے 1 حلال اور طیب کھاؤ۔ 2 نیک اعمال کرتے رہے۔ 3 سب کا ایک ہی رب ہے اسی سے ڈرتے رہو۔ وہ تمہارے اعمال کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ یہاں اعمال کی قبولیت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہر رسول کو خطاب : 51: یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ (اے رسولو حلال چیزیں کھائو) یہ نداء اور خطاب دونوں اپنے ظاہر پر نہیں ہیں کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) کے زمانہائے نبوت مختلف ہیں۔ معنی اس کا یہ ہے کہ ہر رسول کو اس کے زمانہ میں یہ بات کہی گئی اور اس کی اس نے وصیت و نصیحت فرمائی تاکہ سامع معتقد ہو کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تمام انبیاء کو اطلاع دی گئی اور انہوں نے اس کی وصیت کی پس ایسی بات قبولیت کے خاص طور پر لائق و مناسب ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ نمبر 2۔ یا یہ حضرت محمد ﷺ کو خطاب ہے کیونکہ آپ اپنے زمانہ میں تمام کے قائم مقام ہیں اور قیامت تک نبوت آپ کی ہی ہے۔ اور آپ ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51۔ یا ایھا الرسل، حسن مجاہد اور قتادہ اور سدی کلبی کا اور ایک جماعت کا قول ہے کہ اس سے مراد حضرت محمد ہیں عرب کے نزدیک واحد کا اطلاق جماعت پر ہوتا ہے۔ بعض نے کہا اس سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں بعض حضرات نے کہا کہ اس سے تمام انبیاء کرام مراد ہیں۔ کلو من الطیبات جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ واعملواصالحا، صلاح کہتے ہیں شریعت کے وجوب کردہ احکام کو صحیح طریقے سے چلنا۔ انی بماتعملون علیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–57

51۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–56

آیت (51) (یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

69 حضرات انبیاء و رسل کو ایک خاص ہدایت : کہ تم کھاؤ پیو پاکیزہ چیزوں سے اور کام کرو نیک "۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اے پیغمبرو ! تم کھاؤ (پیو) پاکیزہ چیزوں سے اور نیک کام کرو "۔ یعنی اپنے اپنے دور میں ہر پیغمبر کو اس کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ اور اس کے مطابق انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو اس کی تاکید و تلقین فرمائی۔ (الصفوۃ، المدارک وغیرہ) ۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام انبیائے کرام کو کہیں ایک جگہ جمع فرما کر ان سے یہ ارشاد فرمایا گیا تھا۔ سو یہ ایسے ہی جیسے کہا جائے " یا تُجَّارُ اِتَّقُوْا الرِّبَائَ " ۔ " تاجرو ! سود سے بچنا "۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کو یہی ہدایت فرمائی گئی کہ تم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–77

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اور تمام رسولوں کو اللہ جل جلالہ نے ایک طریق حیات عطا فرما کر حکم دیا کہ پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھاؤ اور اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قواعد پر عمل کرو کہ می تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں یہ قوم جس کی طرف تم مبعوث ہوئے ہو تمہاری جماعت ہے جو ایک ہے اور متفق ومتحد ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری عظمت کو ہر حال میں پیش نظر رکھو۔ (غذا اور عمل) یہاں انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل کو ارشاد فرما کر تمام قوموں کو ایک اصولی ضابطہ بتایا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ غذا سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے اور اگر غذا ہی حلال نہ ہو تو نیک عمل کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اگر کر بھی لے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو حکم رسولوں ﷺ کو دیا ہے وہی حکم اہل ایمان کو دیا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کر کے فرمایا : ایک شخص دور دراز کا سفر طے کر رہا ہے اور اس کے ہاں اور کپڑے گرد سے اٹے ہوئے ہیں مگر اس کا کھانا حرام کا ہے، پینا حرام کا ہے، لباس حرام کا ہے۔ وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرتا ہے : اے میرے رب ! اے میرے رب، مگر اس کی دعا قبول کیونکر ہو ؟ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:51) یایھا الرسل۔ اے (میرے ) پیغمبر و۔ اے (میرے ) رسولو۔ یہ خطاب کس سے ہے۔ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) یہ خطاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہے۔ کیونکہ آیت متصلہ (نمبر 50) میں ان کا ذکر ہے۔ (2) یہ خطاب نبی کریم حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ اور جمع کا صیغہ تعظیماً لایا گیا ہے۔ (3) یہ خطاب نبی کریم ﷺ کے بعد آنے والے نبیوں سے ہے۔ (4) یہ خطاب تمام انبیاء کی طرف ہے۔ اس ضمن میں علامہ مودودی کا وضاحتی نوٹ ملاحظہ ہو :۔ پچھلے دورکوعوں میں متعدد انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب یایھا الرسل کہہ کر تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سارے پیغمبر یکجا موجود تھے۔ اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–61

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 61 : الرسول (رسول) (پیغمبر) ‘ الطیبات (طیبۃ) پاکیزہ۔ ستھری چیزیں ‘ امۃ (امت۔ جماعت) ‘ تقطعوا (تم کاٹتے ہو) ‘ زبر (زبرۃ) کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا ‘(حزب) جماعت۔ فرقہ ‘(فرحون) خوش ہونے والے ‘(غمرۃ) گہرا پانی۔ غفلت ‘(نمد) ہم دیتے ہیں ‘(نسارع) ہم دوڑتے ہیں۔ ہم جلدی کرتے ہیں ‘(مشفقون) لڑنے والے۔ اندیشہ رکھنے والے ‘(وجلۃ) ڈرانے والے ‘(سابقون) سب سے آگے پہنچنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 61 : خاتم الا نبی اء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر جس نظام زندگی کی تکمیل فرمائی گئی ہے اس کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ وہ نظام زندگی صرف وہی راستے نہیں بتاتا جس سے انسان کی آخرت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–51

[24] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو۔ [25] نشانی یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو باپ کے بلا توسط پیدا کردیا۔ [26] اسرائیلی سلسلہ کے انبیاء کا ذکر یہاں صرف دو بڑے پیغمبروں پر ختم کردیا۔ ایک وہ جو اس امت کے لئے کتاب احکام و دستور شریعت لے کر آیا، دوسرا وہ جس پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–54

(ف 3) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو اس آیت میں ایک نشانی قرار دیا گیا ہے بہت سی نشانیوں سے تعبیر نہیں کیا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک خرق عادت میں دونوں برابر کے شریک ہیں ، اور وہ خرق عادت ولادت بلا زوج ہے یعنی مریم (علیہ السلام) نے بغیر خاوند کے بچہ جنا اور مسیح (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے لہذا یہ نشانی ہے ان مادہ پرستوں کے لئے جو اسباب و علل کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں اور اس خالق العلل کی قدرتوں اور حکمتوں سے آگاہ نہیں ، اور اس میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔ مقصد یہ ہے جس قدر پیغمبروں کا ذکر گزر چکا ہے ، سب کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ وہ قوم میں اکل حلال کا جذبہ پیدا کریں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) اے پیغمبرو ! تم پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھائو اور نیک اور بھلے کام کرو بلاشبہ تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو خوب جانتا ہوں یہ خطاب تمام رسولوں سے ہے۔ ہر رسول کے زمانے میں اس رسول کو ایسا فرمایا ہوگا یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے چونکہ آپ تمام رسولوں کی صفات کا مجموعہ اور خلاصہ ہیں اس لئے آپ کو خطاب فرمانا ایسا ہی ہے جیسے تمام نبیوں کو خطاب کیا اس خطاب میں رسولوں کی امتیں بھی شامل ہیں اور عمدہ نفیس جو مرغوب الطبع ہوں اور حلال ہوں وہ سب کو کھانی مباح ہیں ان نعمتوں کو کھائو اور عبادت کرو یعنی میری نعمتوں کا شکر بجالائو تم جو کام کرتے ہو میں اس کو خوب جانتا ہوں یعنی تمہارے نیک کام مجھ سے پوشیدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمام رسولوں کو مخاطب کرکے نیک اعمال کی ہدایت فرمائی گئی : 51۔ انبیاء ورسل کو ان کے ادوار میں ان کو یہ ہدایت دی گئی اور ان کو ہدایت کرنے میں راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو اپنے اپنے دور میں یہ حکم دیا (طیبت) کے متعلق پہلے عرض کیا گیا ہے کہ طیب حلال سے زیادہ اہم اور زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ ہر طیب مال ‘ طیب کھانا ‘ طیب کپڑا حلال اور جائز ہوتا ہے تاہم ہر حلال مال ‘ کھانا اور کپڑا ضروری نہیں کہ طیب بھی ہو۔ اس لئے سارے رسولوں اور نبیوں کو یہی حکم دیا گیا کہ وہ طیب چیزیں استعمال کریں اور اپنی قوم کو بھی طیب چیزیں استعمال کرنے کی تلقین وہدایت کریں اور بلاشبہ سارے رسولوں اور نبیوں نے اس پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا (0 messengers, eat from the good things and act, righteously - 23:51.) The word means pure and good things. Since things which are forbidden under the Islamic laws are neither pure nor desirable for people who are gifted with common sense, it follows that the word طَیِّبَات refers only to the things which are permitted under the Islamic Shari'ah and which are not only good in appearance, but also pure in their intrinsic nature. This verse also tells us that all the prophets were enjoined by Allah to do two things…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

45. In the preceding passage (verses 23-50), the stories of some Prophets have been related as individuals, but in this verse all of them have been addressed together. However, it does not mean that they were present at one and the same place at the time of address. As a matter of fact, this way of address has been adopted to show that the message of all the Messengers, who came to different countries in different ages, was the same and they all belonged to one and the same community, (verse 52). Therefore the message to one Messenger was meant to be the message for each one of them. In this…

Read the full tafseer →