ربوہ کے معنی
حضرت عیسیٰ ؑ اور مریم کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کی ایک زبردست نشانی بنایا آدم کو مرد و عورت کے بغیر پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا عیسیٰ ؑ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کیا۔ بقیہ تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا۔ ربوہ کہتے ہیں بلند زمین کو جو ہری اور پیداوار کے قابل ہو وہ جگہ گھاس پانی والی تروتازہ اور ہری بھری تھی۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس غلام اور نبی کو اور انکی صدیقہ والدہ کو جو اللہ کی بندی اور لونڈی تھیں جگہ دی تھی۔ وہ جاری پانی والی صاف ستھری ہموار زمین تھی۔ کہتے ہیں یہ ٹکڑا مصر کا تھا یا دمشق کا یا فلسطین کا۔ ربوۃ ریتلی زمین کو بھی…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 43
یہ نہیں فرمایا کہ ایک نشانی ابن مریم تھے اور ایک نشانی خود مریم۔ اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا۔ بلکہ فرمایا یہ ہے کہ وہ دونوں مل کر ایک نشانی بنائے گئے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ باپ کے بغیر ابن مریم کا پیدا ہونا، اور مرد کی صحبت کے بغیر مریم کا حاملہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو ان دونوں کو ایک نشانی بناتی ہے۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بےپدر کے منکر ہیں وہ ماں اور بیٹے کے ایک آیت ہونے کی کیا توجیہ کریں گے ؟ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حواشی 44۔ 53۔ النساء حواشی 190۔ 212۔ 213۔ جلد سوم، مریم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
خلاصہ تفسیر
پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →ذات قرار، ومصین کا مفہوم حضرت مریم اور حضرت مسیح کی سرگزشت کی طرف اجمالی اشارہ
ربعۃ مرتفع اور ہموار زمین کو کہتے ہی۔ ذاتقرار کے معنی پر سکون اور معین کے معنی چشمہ کے ہیں۔
یہ سیدنا مسیح کے وقت ولادت کی طرف اشارہ ہے۔ جب حضرت مریم کو ایک الگ تھلگ جگہ ایک درخت کے نیچے جا بیٹھنے کی غیبی ہدایت ہوئی۔ یہ جگہ مرتفع اور پرسکون تھی۔ یہاں کھجور کا ایک ثمر درخت بھی تھا اور اس کے نیچے ایک صاف و شفاف شیریں چشمہ بھی۔ اپنی زندگی کے اس نازک مرحلہ میں حضرت مریم ایک پرسکون گوگشتہ نتہائی کی سختم حتاج تھیں تاکہ زبان خلق کے طعنوں اور کچوکوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے فضل و رحمت سے ان کے لئے ایک پرامن…
Read the full tafseer →50-1کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی، جو رب کی قدرت کی ایک نشانی ہے، جس طرح آدم ؑ کو بغیر ماں باپ کے اور ہوا کو بغیر مادہ کے حضرت آدم ؑ سے اور دیگر تمام انسانوں کو ماں اور باپ سے پیدا کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔
50-2رَبْوَۃٍ (بلند جگہ) سے بیت المقدس اور مَعِیْنٍ (چشمہ جاری) سے وہ چشمہ مراد ہے جو ایک قول کے مطابق ولادت عیسیٰ ؑ کے وقت اللہ نے بطور معجزہ، حضرت مریم کے پیروں کے نیچے سے جاری فرمایا تھا۔ جیسا سورة مریم میں گزرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
20: حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی کے طور پر بغیر باپ کے بیت اللحم کے مقام پر پیدا ہوئے تھے، بیت اللحم کا بادشاہ ان کی والدہ کا دشمن ہوگیا تھا، اس لئے حضرت مریم (علیہا السلام) کو وہاں سے نکل کر کسی ایسی جگہ اپنے آپ کو اور اپنے صاحبزادے کو چھپانا پڑا جہاں اس بادشاہ کی پہنچ نہ ہو، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ایک ایسی بلند جگہ پر پناہ دی جو ان کے لئے پرسکون بھی تھی، اور وہاں چشمے کا پانی بھی بہتا تھا جو ان کی ضروریات پوری کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ولقد معین (آیت نمبر 49 تا 50)
اس آیات میں جس ربوہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ کہاں ہے ۔ آیا یہ مصر میں یا دمشق میں تھا بیت المقدس میں تھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں حضرت مریم اپنے بچے کو لے کرگئی تھیں ، حضرت عیسیٰ کے بچپن میں۔ عیسائیوں کی کتابوں میں مفصل تذکرے موجود ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ ربوہ کہا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ مریم اور ابن مریم کو اللہ نے اسے پورے عرصہ میں نہایت ہی پاکیزہ مقام پر رکھا۔ یہ مقام سر سبز تھا ۔ پانی عام تھا اور وہ یہاں بہت ہی خوشی اور آرام سے رہتے تھے۔
بات یہاں تک آپہنچی ہے تو تمام رسولوں کی اس امت اور جماعت سے اللہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →11 یعنی قدرت الٰہیہ کی نشانی ہے کہ تنہا ماں سے بن باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کردیا۔ جیسا کہ " آل عمران " اور سورة " مریم " میں اس کی تقریر کی جا چکی۔
12 شاید یہ وہ ہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چناچہ سورة مریم کی آیات (فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ اَلَّا تَحْزَنِيْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا 24 وَهُزِّيْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا 25ۡ) 19 ۔ مریم :25-24) دلالت کرتی ہیں کہ وہ جگہ بلند تھی۔ نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی۔ اور کھجور کا درخت نزدیک تھا۔ (کذافسرہ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ) لیکن عموماً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَّاٰوَیْنٰہُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ”
یہاں جس جگہ کا ذکر ہوا ہے اس کے مقام اور زمانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس سے مراد وہی ٹیلا ہے جہاں ایک کھجور کے سایے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ شاید آپ علیہ السلام کی ولادت کے بعد ماں بیٹا کچھ عرصہ اسی جگہ پر قیام پذیر رہے ہوں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی رائے میں یہ کسی اور جگہ کا ذکر ہے۔ اس دوسری رائے کی بنیاد جن معلومات پر ہے ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اس علاقے میں ہیرودیس بادشاہ کی حکومت تھی جو یہودی تھا۔ جس طرح برصغیر میں انگریزوں کی طرف سے راجوں اور نوابوں…
Read the full tafseer →51 اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ابن مریم بھی ایک نشانی تھے اور ان کی والدہ بھی ایک نشانی تھی۔ بلکہ یوں فرمایا ان دونوں کو ملا کر ایک نشانی بنایا۔ اور اس کی صورت صرف یہی رہ جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت کو بن باپ تسلیم کیا جاوے نیز یہ بھی کہ حضرت مریم کسی مرد کے چھوئے بغیر ہی نفحہ الٰہی سے حاملہ ہوئی تھیں۔
52 ربوۃ سے مراد ایسی زمین ہے جو عام سطح زمین سے قدرے بلند ہو اور اس کی بھربھری اور ریتلی قسم کی ہو۔ ایسی زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرکے خوب پھول جاتی ہے۔ پنجابی میں ایسی زمین کو میرا زمین کہتے ہیں۔ اس زمین کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عام زمین کی نسبت سرسبز و شاداب بھی زیادہ ہوتی ہے اور بلند…
Read the full tafseer →46۔ (اپنی قدرت وصنعت کا، مثلا یہی کہ عیسیٰ مسیح کو باپ کے بلاتوسط پیدا کردیا) (آیت) ” ایۃ “ کی تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے۔ اور بڑا نشان محاورۂ قرآنی میں وہ ہے جو معمولات عام سے ہٹ کر ہو، امام رازی (رح) سے فرمایا کہ مریم وابن مریم دوہستیوں کا ذکر لا کر قیاس یہ چاہتا تھا کہ (آیت) ” ایۃ “۔ (واحد) کے بجائے صیغہ تثنیہ ایتین استعمال ہوتا۔ لیکن قرآن مجید نے صیغہ واحد لاکر ادھر اشارہ کردیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات مراد نہیں۔ بلکہ کسی ایک ایسے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ دونوں شریک ہیں اور ایسا عجیب و غریب واقعہ بجز ان کی بےباپ کی ولادت کے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اور ان کی ماں (مریم) کو ایک بڑی
نشانی بنایا۔ نشانی بنانے سے مراد ہے بغیر باپ کے پیدا کرنا اور یہ نشانی دونوں کی ایک ہی تھی اس لئے لفظ آیۃ بصیغۂ واحد ذکر کیا۔ یا یوں کہا جائے کہ ابن مریم کے بعد لفظ آیۃ محذوف ہے ‘ یعنی ہم نے ابن مریم کو نشانی بنایا کہ انہوں نے شیر خوار ہونے کی حالت میں جب کہ پالنے میں تھے بات کی اور ماں کی پاک دامنی ظاہر کی اور دوسرے معجزے ان سے ظاہر ہوئے اور ان کی ماں کو بھی نشانی بنایا کہ بغیر مرد کی قربت کے ان کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوا۔
واوینہما الی ربوۃ ذات قرار و معین۔ اور ہم نے دونوں کو ایک ایسی بلند…
Read the full tafseer →(50) اور ہم نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کو بڑی نشانی بنایا کہ بغیر باپ کے اور بغیر کسی انسانی تعلق کے پیدا ہوئے یہ دونوں کے لیے قدرت کاملہ کی عظیم نشانی ہے اور ہم نے ان دونوں کو ایسی بلند زمین میں لے جا کر پناہ دی جو پھلوں کی وجہ سے اور نہر جاری ہونے کی وجہ سے سرسبز و شاداب جگہ تھی یعنی دمشق۔
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗٓ اٰيَةً : ”اٰيَةً“ میں تنوین تعظیم کی ہے ”عظیم نشانی۔“ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ابن مریم کو نشانی بنایا، نہ یہ فرمایا کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا، بلکہ دونوں کو ملاکر ایک عظیم نشانی قرار دیا، کیونکہ ان دونوں کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم نشان تھا کہ اس نے آدم ؑ کو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا فرمایا، حوا [ کو صرف مرد سے پیدا فرمایا اور مریم [ کے بطن سے عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ جب کہ عام پیدائش ماں باپ دونوں سے ہوتی ہے اور وہ بھی اللہ کی قدرت کا نشان ہے۔
3 یہاں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کا نام لینے کے بجائے ”ابن مریم“…
Read the full tafseer →آیت نمبر 50
واجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ اس پر گفتگو سورة الانبیاء میں گزر چکی ہے۔ واوینھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین۔ الربوۃ زمین کی بلند جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ یہاں اس سے مراد حضرت ابوہریرہ ؓ کے قول میں فلسطین ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ رملہ کا شہر ہے اور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ابن مسیب اور ابن سلام نے فرمایا : اس سے مراد دمشق ہے۔ کعب اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ کعب نے کہا : یہ وہ زمین ہے جو آسمان کے قریب اٹھارہ میل کے فاصلہ پر ہے۔
فکنت ھمیدا تحت رمس بربوۃ تع اور نی ریح جنوب وشمال
ابن زید نے کہا : اس سے مراد مصر ہے۔ سالم افطس نے سعید بن…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ “ سے مراد ہے کہ مریم (علیہا السلام) نے اس کو (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو) بغیر باپ کے جنا اور وہ ان کے بیٹے تھے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجعلناابن مریم وامہ آیۃ “ سے مراد ہے عبرت۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما “ سے مراد عیسیٰ اور اس کی والدہ ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوینہما “ سے مراد ہیں عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہا السلام) جب انہوں نے غوطہ (جو دمشق کے…
Read the full tafseer →[ وَ : اور ] [ جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [ ابْنَ مَرْيَمَ : مریم کا بیٹا ] [ وَ : اور ] [ اُمَّهٗٓ : اس کی ماں ] [ اٰيَةً : ایک نشانی ] [ وَّ ": اور ] [ اٰوَيْنٰهُمَآ : ہم نے جگی دی ان دونوں کو ] [ اِلٰى رَبْوَةٍ : ایک بلند زمین کی طرف ] [ ذَاتِ قَرَارٍ : سکون و قرار والی ] [ وَّ : اور ] [ مَعِيْنٍ : جاری چشمے ]
Read the full tafseer →حضرت مریم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ :
آخر میں فرمایا (وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ اٰیَۃً ) (اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو نشانی بنا دیا) ابن مریم یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کے بطن سے پیدا ہونا جبکہ کسی بشر نے ان کی والدہ کو چھوا تک نہ تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک عظیم نشانی ہے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے (جو سورة آل عمران اور سورة مائدہ میں بیان ہوچکے ہیں) ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یاد رہے قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ کسی نبی کا ابن فلاں کہہ کر تذکرہ نہیں فرمایا اور سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →قصہ مریم وعیسیٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ وادینھما الیٰ ربوۃ ذات قرار و معین۔
(ربط) اس آیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم صدیقہ (علیہ السلام) کا نہایت اختصار کے ساتھ حال بیان کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی قدرت کی نشانی بنایا اور بغیر باپ کے ان کو پیدا کیا چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو اور ان کی ماں مریم (علیہ السلام) کو اپنی قدرت کی نشانی بنایا کہ مریم (علیہ السلام) کے بغیر شوہر بچہ جننے سے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے خدا تعالیٰ کی قدرت عیاں ہے اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند اور اونچی زمین پر ٹھکانہ…
Read the full tafseer →41:۔ ” وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ الخ “ یہ توحید پر پانچویں نقلی دلیل ہے۔ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ بھی ہماری قدرت کاملہ اور وحدانیت کی واضح دلیل تھیں مریم صدیقہ، طبیہ و طاہرہ محض ہماری قدرت سے حاملہ ہوئیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ پیدا ہوئے اور پھر پیدا ہوتے ہی والدہ کی گود ہی میں توحید کا اعلان بھی کردیا۔ ” وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ الخ “ (مریم رکوع 2) یعنی میرا اور تم سب کا مالک اور کارساز اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے عبادت صرف اسی کی کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو یہی سیدھی راہ ہے۔ ” رَبْوَةٍ “ کے لغوی معنی بلند زمین کے ہیں۔ ھی مارتفع من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔
اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّہٗٓ اٰيَۃً وَّاٰوَيْنٰہُمَآ اِلٰى رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ 50ۧ
( ابْنُ )
أصله : بنو، لقولهم في الجمع :
أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن…
Read the full tafseer →1 ؎ مکان مرتفع 12 جلالین۔ ذات قرارًا ہے مستویۃ یستقر علیھا ساکنوھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗٓ اٰیَۃً وَّاٰوَیْنٰھُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ ۔ (المومنون : 50)
(اور ہم نے مریم کے فرزند اور ان کی والدہ کو ایک عظیم نشانی بنایا۔ اور انھیں ایک پرسکون اور چشمے والی بلند جگہ پر ٹھکانہ دیا۔ )
اس آیت کا مفہوم
تاریخِ نبوت کی آخری عظیم شخصیت حضرت مسیح ابن مریم ہیں۔ انسانی فکر کے الجھائو بھی عجیب ہیں۔ گزشتہ آیات میں تو ہم نے پڑھا کہ انسان اسلیے اللہ کے نبیوں پر ایمان لانے سے انکار کرتارہا کہ وہ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت مسیح ابن مریم کے بارے میں معاملہ بالکل برعکس رہا کہ ان پر جو لوگ ایمان لائے وہ ان کی بشریت پر معترض ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : یہاں مختصر طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شخصیات کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ناصرف معجزات دے کر بھیجا بلکہ انہیں تورات بھی عنایت کی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اس لیے عنایت فرمائی تاکہ اپنی قوم کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر تورات کی تعلیمات کے ذریعے یعنی نورہدایت کی طرف لائیں (ابراہیم : 5) جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چالیس راتیں طور پر اعتکاف کرنے کے لیے بلایا اور پھر انہیں لکھی…
Read the full tafseer →مریم اور ابن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ اور ان کا ٹھکانہ :
50: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ ٰایَۃً (اور ہم نے ابن مریم اور ان کی ماں کو نشانی بنایا) جو ہماری قدرت تامہ پر دلالت کرنے والی ہے کہ ہم جو چاہتے ہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ بلانطفہ پیدا کئے گئے۔ اٰیۃٌ کا لفظ واحد لایا گیا کیونکہ اعجوبہ دونوں میں ایک ہی ہے۔ یا مراد یہ ہے : وجعلنا ابن مریم ایۃً ومہٗ ایۃً اول کو حذف کردیا کیونکہ ثانیہ کی دلالت اس پر موجود ہے۔ وَّ ٰاوَیْنٰھُمَآ (اور ہم نے ان کو پناہ دی) ان کو ٹھکانہ دیا۔ اِلٰی رَبْوَۃٍ (ایک بلند زمین پر) ۔
قراءت : شامی و عاصم نے رَبوۃٍ پڑھا ہے۔ اور دیگرقراء نے رُبوۃٍ پڑھا۔
ربوۃ بلند…
Read the full tafseer →50۔ وجعلناابن مریم وامہ آیہ۔ ہماری قدرت کی نشانی۔ یہاں پر آیتان نہیں ۔ فرمایا بعض نے کہا کہ ان دونوں کی شان یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کو نشانی بنایا اور بعض حضرات نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کو نشانی بنایا ہے۔ کلتا الجنتین آتت اکلھا، وآوینا ھماالی ربوۃ ، ربوۃ بلند مقام کو کہاجاتا ہے۔
ربوہ مقام کی تفصیل۔
اس میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے۔
1) عبداللہ بن سلام نے فرمایا کہ یہ دمشق تھا۔
2) سعید بن مسیب اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔
3) ضحاک کا قول ہے کہ غوطہ دمشق مراد ہے۔
4) حضرت ابوہریرہ نے فرمایا ربوہ سے مراد رملہ ہے عطاء کی روایت میں ہے حضرت ابن عبا س کا قول آیا ہے کہ ربوہ سے مراد بیت…
Read the full tafseer →50:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توراۃ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی ‘ ان آیتوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم علیہا 1 ؎ السلام کا ذکر فرما کر یہ جتلایا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہود نے تورات کی ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا کیونکہ تورات کی جن آیتوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور خاتم الانبیاء ﷺ کے اوصاف تھے ‘ ان آیتوں میں انہوں نے رد وبدل کردیا جس سے شریعت عیسوی اور شریعت محمدی دو شریعتوں کے یہ لوگ منکر بن گئے ‘ حضرت مریم جیسی پاکدامن بی بی کو بدکاری کا الزام لگایا۔ دمشق کے ستارہ پرست بادشاہ کے دربار میں غلط مخبری کر کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی…
Read the full tafseer →آیت (50) ۔
وجعلنا ابن مریم و امۃ ایۃ) یعنی ہم نے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) پر احسان کیا ‘ ان کو اور ان کی والدہ کو انتہائی تعجب انگیز نشان بنادیا کیونکہ حضرت مریم (علیہ السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر آپ کو جنم دیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات دکھائے۔ ( و اوینھما الی ربوۃ) یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی اور یہ اس وقت کی بات ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔ جب حضرت جناب مریم (علیہ السلام) نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دیا۔ ( ذات قرار) یعنی آرام دہ ٹھکانا ( ومعین) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →67 حضرت عیسیٰ و مریم قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے مریم اور انکے بیٹے کو ایک عظیم الشان نشانی بنایا تھا "۔ اپنی قدرت کاملہ اور عظمت و عنایت بےپایاں کی۔ کہ مریم صدیقہ، طیبہ و طاہرہ بغیر شوہر کے اور بدوں کسی مرد کے چھونے کے ہماری قدرت و مشیت سے حاملہ ہوگئیں۔ اور ان کے بطن سے عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور مبارک بچے نے جنم لیا جنہوں نے ماں کی گود میں ہی صاف وصریح طور پر اپنی والدہ ماجدہ کی براءت و پاکدامنی اور اپنے خالق ومالک کی توحید و وحدانیت کا اعلان کیا اور آگے چل کر ایک دنیا ان کے فیض سے مستفید ہوئی۔ اور حضرت عیسیٰ کو مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →4 ۔ یعنی دونوں کو ملا کر ایک نشانی بنایا جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے ورنہ دونوں مل کر ایک نشانی نہیں بن سکتے۔ (انبیاء :9) 5 ۔ اس ربود (ٹیلہ) سے مراد کونسا مقام ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ اکثر اس سے مراد۔ اسرائیلی رایات کے مطابق۔ مصر لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ملک شام کا حاکم ہیروڈوس تھا۔ وہ نجومیوں سے سن کر کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو سرداری ملے گی بچپن ہی سے ان کا دشمن ہوگیا تھا اور ان کے قتل کے درپے تھا۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) انہیں لے کر مصر چلی گئیں اور جب تک ہیروڈوس زندہ رہا ملک شام واپس نہ آئیں۔ انجیل کی کتاب متی میں یہ…
Read the full tafseer →(23:50) اوینھما۔ اوینا ماضی جمع متکلم۔ اوی یؤوی ایواء (افعال) کسی کو جگہ دینا۔ ٹھکانہ دینا۔ رہنے کا مقام دینا۔
اوی یاوی (ضرب) اوی واوائ۔ البیت والی البیت۔ گھر میں اترنا۔ گھر میں پناہ لینا۔ ماوی ٹھکانہ۔ جائے پناہ۔ اوی مادہ۔ ھما ضمیر مفعول تثنیہ مؤنث غائب۔ اوینہما ہم نے ان دونوں کو پناہ دی۔
ربوۃ۔ بلند جگہ۔ ٹیلہ۔ بلندی۔ اسم ہے۔ ربو۔ ربا سے مشتق ہے اس کی جمع ربی وربی ہے اس بلند مقام سے کون سی جگہ مراد ہے اس میں مختلف قول میں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد دمشق ہے۔ بعض کے الرملۃ (فلسطین میں) اور بعض کے نزدیک اس سے مراد بیت المقدس یا مصر ہے !
ذات قرار۔ رہائش کے قابل۔ ٹھہرنے کے قابل ۔ سرسبز و شاداب جگہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 :
سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 :
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو…
Read the full tafseer →حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں حضرت عیسیٰ اور مریم کا ذکر فرمایا یہ جتلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہود نے تورات کی ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا کیونکہ تورات کی جن آیتوں میں عیسیٰ اور خاتم الانبیاء کے اوصاف تھے ان آیتوں میں انہوں نے ردوبدل کردیاجس سے شریعت عیسوی اور شریعت محمدی دونوں کے یہ لوگ منکر ہوگئے حضرت مریم جیسی پاک دامن بی بی پر بدکاری کا الزام لگایا، دمشق کے ستارہ پرست بادشاہ کے دربار میں غلط مخبری کرکے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی کے قابل ٹھہرایا چناچہ یہ سب قصہ سورة النساء کی تفسیر میں گزرچکا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی مرد کے چھونے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
[24] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو۔
[25] نشانی یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو باپ کے بلا توسط پیدا کردیا۔
[26] اسرائیلی سلسلہ کے انبیاء کا ذکر یہاں صرف دو بڑے پیغمبروں پر ختم کردیا۔ ایک وہ جو اس امت کے لئے کتاب احکام و دستور شریعت لے کر آیا، دوسرا وہ جس پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(ف 2) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد صرف قوم کی آزادی تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کی روحانی تربیت کی جائے تاکہ وہ دوسری قوموں کے لئے اسوہ ونمونہ بنیں ، اسی نے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک روشن کتاب عنایت فرمائی تاکہ وہ گمراہی کی ظلمتوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجائیں ۔
Read the full tafseer →(50) اور ہم نے ابن مریم یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو ایک بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں ماں بیٹوں کو ایک ایسی اونچی زمین اور ٹیلے پر جگہ دی جو قیام کے اور ٹھہرنے کے قابل تھی اور اس پر پانی جاری تھا بڑی نشانی یہ کہ بن باپ کے بچہ پیدا ہونا اور عالم طفولیت میں اس کا کلام کرنا ماں بھی ایک علامت قدرت الٰہی کی اور بچہ اس کی قدرت کی ایک نشانی اور اونچی جگہ فرمایا۔ شاید اس ٹیلے کو جہاں کھجور کا درخت ہرا ہوا تھا اور ٹیلے کے نیچے نہر یا چشمہ جاری تھا جیسا کہ سورة مریم میں گزر چکا ہے۔
کہتے ہیں یہود اور ان کا بادشاہ ہیر دوس ان ماں بیٹوں کے سخت دشمن تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس لئے کہ ایک ظالم بادشاہ بچپن ہی میں ان کے درپئے قتل ہوگیا تھا، یہ ظالم بادشاہ ہیردوس تھا، نجومیوں سے یہ سن کر کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو سرداری ہوگی صغر سن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا تھا الہام ربانی سے مریم (علیہا السلام) ان کو لیکر ملک مصر میں چلی گئیں۔ اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام چلی آئیں۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم (علیہ السلام) اور ابن مریم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اچھا ٹھکانا عطا کرنے کی طرف اشارہ :
50۔ سیدہ مریم (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات وواقعات قرآن کریم میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سارے نبیوں سے زیادہ بیان کئے گئے ہیں اس لئے آپ بھی ان کی تفصیلات پیچھے سورة آل عمران ‘ سورة النساء ‘ سورة المائدہ ‘ سورة الانعام ‘ سورة التوبہ اور سورة مریم میں پڑھ چکے ہیں اور سورة مریم میں تو سید مریم (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں اختصار کے ساتھ ان کی زندگیوں کے سارے واقعات ذکر کردیئے گئے ہیں وہاں ہم نے اس آیت کے متعلق بھی عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
Commentary
وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).
Read the full tafseer →43. The wording“We made the son of Mary and his mother a sign”is very significant, because it means that neither the son of Mary nor his mother was each a separate sign, but both of them together were a sign. This verse is a clear proof that a son was born to Mary without cohabitation with a man and that Jesus had no father. For further details see (Surah Aal-Imran, Ayats 45-49); (Surah An-Nisa, Ayats 156, 171); (Surah Maryam, Ayats 16-35) and (Surah Al-Anbiya, Ayats 91) and the relevant E.N.s.
In this connection, it should also be noted that the case of the error in regards to Prophet Jesus…
Read the full tafseer →