Al-Muminoon 23:49

Al-Muminoon · from ayah 49

23:49

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ ۟وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡـكِتٰبَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We certainly gave Moses the Scripture that perhaps they would be guided.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:49

اور موسٰیؑ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تو موسیٰ ؑ کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راه راست پر آجائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی، تاکہ ان کے لوگ رہنمائی حاصل کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی کہ ان کو ہدایت ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے موسٰی ؑ کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (اس لئے) دی تھی کہ وہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تاکہ وہ راہ یاب ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب بخشی تھی تاکہ وہ لوگ اس سے راہنمائی حاصل کریں

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی تاکہ وہ ہدایت پائیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We gave Moses the Book that people might be guided by it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And, of course, We gave Musa the Book, so that they may take the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

And, of course, We gave Musa the Book, so that they may take the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We gave Musa the Scripture, that they may be guided.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We verily gave Moses the Scripture, that haply they might go aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We certainly gave Moses the Scripture that perhaps they would be guided.

— Saheeh International

We gave the Book to Moses so that perhaps they may have guidance.

— Muhammad Sarwar

And certainly We gave Musa the Book that they may follow a right direction.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We vouchsafed unto Musa the Book, that haply they may be guided.

— Abdul Majid Daryabadi

And We gave Moses the Book, in order that they might receive guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–49

دریا برد فرعون حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة الْمُؤْمِنُوْن 42 قصۂ موسیٰ و فرعون کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 49۔ 50۔ الاعراف 103 تا 136۔ یونس 75 تا 92۔ ہود 96 تا 99۔ بنی اسرائیل 101 تا 104۔ ظٰہٰ 9۔ 80۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–50

خلاصہ تفسیر پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر انعام فرعون اور فرعونیں کی سرکوبی کے بعد یہ وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباری تو اس غرے میں مبتلا رہے کہ بھلا وہ ایک ایسے شخص کی بات کس طرح مانیں جو ایک ایسی قوم کا فرد ہے جو ان کی غلامی کر رہی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی شخص اور اس کی قوم کو اپنی کتاب سے سرفراز فرمایا کہ وہ زندگی کے مراحل میں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ الکتاب سے یہاں تورات کے سوا کسی اور چیز کو مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور تورات کے متعلق معلوم ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو مصر سے ہجرت کے بعد عطا ہوئی ہے۔ یھتدون جمع کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49-1امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات، فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد دی گئی۔ اور نزول تورات کے بعد اللہ نے کسی قوم کو عذاب عام سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ مومنوں کو حکم دیا جاتا رہا کہ وہ کافروں سے جہاد کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

19: حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی قوم بنی اسرائیل تھی جسے فرعون نے غلام بنایا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

ولقد معین (آیت نمبر 49 تا 50) اس آیات میں جس ربوہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ کہاں ہے ۔ آیا یہ مصر میں یا دمشق میں تھا بیت المقدس میں تھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں حضرت مریم اپنے بچے کو لے کرگئی تھیں ، حضرت عیسیٰ کے بچپن میں۔ عیسائیوں کی کتابوں میں مفصل تذکرے موجود ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ ربوہ کہا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ مریم اور ابن مریم کو اللہ نے اسے پورے عرصہ میں نہایت ہی پاکیزہ مقام پر رکھا۔ یہ مقام سر سبز تھا ۔ پانی عام تھا اور وہ یہاں بہت ہی خوشی اور آرام سے رہتے تھے۔ بات یہاں تک آپہنچی ہے تو تمام رسولوں کی اس امت اور جماعت سے اللہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 48–49

10 یعنی فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے ان کو تورات شریف مرحمت کی تاکہ لوگ اس پر چل کر جنت اور رضائے الٰہی کی منزل تک پہنچ سکیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 47–49

آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ” فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔ سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات فرعون اور اس کے سرداروں کی غرقابی کے بعد دی گئی تھی۔ دوسرے یہ کہ جو کہ احکام موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کے نازل ہونے سے پہلے دیئے گئے تھے وہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کے لئے اسی طرح قابل اتباع تھے جس طرح تورات کے احکام۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نبی ہر کتاب اللہ کے علاوہ اللہ کی طرف سے اور بھی بہت کچھ نازل ہوتا ہے۔ اور اس کی اتباع بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے جیسے کتاب اللہ کی اور اس میں ان لوگوں کا پورا رد موجود ہے جو کہتے ہیں کہ ہمیں ہدایت کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–49

45۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ توریت ہے اور ذکر اب فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلیوں کا ہو رہا ہے۔ (آیت) ” لعلھم “۔ ضمیر جمع غائب اسرائیلیوں یا قوم موسیٰ کی جانب ہے، نہ کہ قوم فرعون کی۔ ولا یجوز عود الضمیر الی فرعون وقومہ (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اتینا موسیٰ الکتب لعلہم یہتدون۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (توریت) عطا کی تاکہ وہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) سیدھا راستہ پالیں (یعنی ان کو اللہ کے احکام معلوم ہوجائیں اور معرفت کا راستہ پالیں) ۔ لَعَلَّہُمْکی ضمیر بنی اسرائیل کی طرف راجع ہے ‘ قوم فرعون کی طرف راجع نہیں ہے کیونکہ قوم فرعون کے ڈوبنے کے بعد توریت کا نزول ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–49

(48۔ 49) غرض کہ وہ لوگ ان دونوں کی رسالت کو جھٹلاتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ سب کے سب دریا میں غرق کیے گئے اور ہم نے موسیٰ ؑ کو توریت عطا کی تاکہ وہ لوگ گمراہی سے ہدایت پائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ : موسیٰ ؑ کو کتاب تورات فرعونیوں کو غرق کرنے کے بعد ملی، جیسا کہ سورة اعراف (136 تا 145) میں فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ ؑ کے چالیس راتوں کے لیے طور پر اعتکاف اور دیدارِ الٰہی والے معاملے کے بعد الواح کی صورت میں کتاب عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ پر تورات فرعون اور قبطیوں کو غرق کرنے کے بعد نازل فرمائی اور تورات نازل کرنے کے بعد کسی امت کو عام عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں فرمایا، بلکہ ایمان والوں کو کفار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 49 اللہ کا ارشاد ہے : ولقد اتینا موسیٰ الکتب یعنی تورات، حضرت موسیٰ کا خاص ذکر کیا کیونکہ تورات طور میں ان پر نازل ہوئی تھی اور حضرت ہارون ان کی قوم میں خلیفہ تھے اگر ولقد اتینا ھما فرمایا جاتا تب بھی جائز ہوتا جیسے فرمایا : ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان (الانبیائ :48)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–49

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” وکانوا قوما عالین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنے رسولوں کی نافرنامی کی یہی ان کا علو اور بلند ہونا تھا اور (یہ آیت) پڑھی، آیت ” تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “۔ (القصص آیت 83)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَ : اور ] [ لَقَدْ : البتہ تحقیق ] [ اٰتَيْنَا : ہم نے دی ] [ مُوْسَى الْكِتٰبَ : موسیٰ کو کتاب ] [ لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ ] [ يَهْتَدُوْنَ : وہ سب ہدایت پاتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ) (اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں) جب فرعون اور اس کی قوم غرق ہو کر ہلاک ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے قوم بنی اسرائیل کو کے کر دریا پار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توراۃ شریف عطا فرمائی۔ جب تک بنی اسرائیل فرعون کی غلامی میں تھے احکام شرعیہ پر عمل کرنے سے عاجز تھے اس لیے انہیں تفصیلی احکام اس وقت دیئے جب فرعون کی گرفت سے نکل گئے یہ احکام توراۃ شریف کے ذریعہ دیئے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی توراۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–49

قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام قال اللہ تعالیٰ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون .... الیٰ .... لعلہم یھتدون۔ (ربط) ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال اور فرعون اور اس کی قوم کی تکذیب اور ان کا غارت ہونا بیان کیا، چناچہ فرماتے ہیں پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دے کر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے حق کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہوئے تو بولے۔ تو کیا ہم نے اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی کل قوم ہماری غلام اور تابعدار رہی ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–49

40:۔ ” فَکَذَّبُوْھُمَا الخ “ قوم فرعون نے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی تکذیب کی تو انہیں عذاب غرق سے ہلاک کردیا گیا۔ ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسی الْکِتٰبَ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب بھی دی جو سراپا ہدایت تھی تاکہ وہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں۔ ان واقعات سے اہل مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہئے ہم نے پہلی قوموں میں اپنے پیغمبر بھیجے جنہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی لیکن مشرکین دعوت کو رد کردیا۔ آخر ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ مشرکین مکہ بھی ان معاند و سرکش کافروں کی طرح دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس انکار و جحود سے باز نہ آئے اور ضد وعناد سے ہمارے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے تو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–50

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔ اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّہُمْ يَہْتَدُوْنَ۝ 49 كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 44–49

1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (المومنون : 49) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر انعام فرعون اور آل فرعون تو اپنے تکبر اور غرور اور نسلی تمرد کے باعث ہدایت سے محروم رہے اور اس کے نتیجے میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تباہی کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو صحرائے سینا میں ایک ایسے انعام سے نوازا جو کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا انعام ہے اور وہ انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کتاب ہدایت عطا فرمائی تاکہ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں اس سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : یہاں مختصر طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شخصیات کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ناصرف معجزات دے کر بھیجا بلکہ انہیں تورات بھی عنایت کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اس لیے عنایت فرمائی تاکہ اپنی قوم کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر تورات کی تعلیمات کے ذریعے یعنی نورہدایت کی طرف لائیں (ابراہیم : 5) جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چالیس راتیں طور پر اعتکاف کرنے کے لیے بلایا اور پھر انہیں لکھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دی) یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو الْکِتٰبَ (کتاب) تورات لَعَلَّہُمْ یَھْتَدُوْنَ (تاکہ وہ ہدایت پائیں) اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں اور اس کے مواعظ سے نصیحت پکڑیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49۔ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔ اس سے مراد توریت ہے۔ لعلھم یھتدون، تاکہ اس کی قوم ہدایت یافتہ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–49

45۔ 49:۔ اوپر کی آیتوں میں قوم شعیب کا ذکر مختصر طور پر فرما کر ان آیتوں میں قوم فرعون کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیئے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھیں کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپنا سردار اور راہبر کیونکر بنا سکتے ہیں ‘ کوئی فرشتہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–49

64 پیغمبر کی بشریت کی بنا پر ان پر ایمان لانے سے انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا " کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں "۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہی غلط فہمی جو گمراہوں اور باطل پرستوں کو ہمیشہ رہی کہ نبوت اور بشریت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ لہذا ہم اپنے ہی جیسے ان دونوں شخصوں کو نبی نہیں مان سکتے۔ اس کے برعکس آج کے بعض جاہلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ حضرات نبی تھے اس لئے وہ بشر نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت نبی بھی ہوتے ہیں اور بشر بھی۔ اور ان دونوں صفتوں کا اجتماع ہی عقل سلیم اور فطرت مستقیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔ (بندہ اور اللہ کا بندہ) اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب تورات فرعونیوں کے غرق ہونے کے بعد ملی جیسے فرمایا : ولقد اتینا موسیٰ الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی۔ اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب (توراۃ) دی بعد اس کے کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کردیا۔ (قصص :43) کیونکہ توراۃ نازل ہونے کے بعد کوئی قوم عذاب عام کے ساتھ ہلاک نہیں ہوئی اس لئے یہاں ” لعلھم “ (تاکہ وہ) میں ہم (وہ) ضمیر بنی اسرائیل ہی کے لئے قرار دی جاسکتی ہے فرعونیوں کے لئے نہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–49

(23:46) ملائہ۔ اس کے سردار۔ عالین۔ علو سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عالی واحد۔ سرکشی کرنے والے۔ متکبر زبردستی کرنے والے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 : سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–49

قوم فرعون کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت ک لیے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھی کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپناسردار اور راہبر کیونکر بناسکتے ہیں کوئی فرشتہ اللہ کانائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لیتا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی، انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–50

(ف 2) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد صرف قوم کی آزادی تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کی روحانی تربیت کی جائے تاکہ وہ دوسری قوموں کے لئے اسوہ ونمونہ بنیں ، اسی نے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک روشن کتاب عنایت فرمائی تاکہ وہ گمراہی کی ظلمتوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجائیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی تورات عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ راہ پائیں یعنی فرعونیوں کے ہلاک ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ہدایت اور تربیت کیلئے تورات بھی عطا فرمائی تاکہ وہ صحیح راہ پاکر منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–49

ف 7۔ یعنی ہم کو تو خود ان کی قوم پر ریاست حاصل ہے، پھر ان دونوں کو ہم پر کیسے ریاست حاصل ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کی حالت کو سنوارنے کے لئے کتاب عطا فرمائی : 49۔ غور کرو کہ کہاں وہ وقت کہ فرعون اور اس کے سردارن قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو پست و حقیر سمجھ کر ٹھکرا رہے ہیں اور ان کی باتوں کو کان رکھ کر سننے کے لئے تیار نہیں اور الٹا مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ دونوں اور ان کی قوم تو ہماری غلام ہے اس غلامی سے تو وہ نجات حاصل کر نہیں سکے اور آئے ہیں پیغمبری کرنے کے لئے لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ اللہ تعالیٰ نے غلاموں کو حکمران بنا دیا اور حکمرانوں کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا اور جو باقی رہے وہ اب گویا ان کے غلام ہو کر رہ گئے اور جب ہونے پر آیا تو یہ کام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–50

Commentary وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

42. For further details of the story of Prophet Moses (peace be upon him) and Pharaoh, see (Surah Al-Baqarah, Ayats 49-50); (Surah Al-Aaraf, Ayats 103-136); (Surah Younus, Ayats 75-92), (Surah H0ud, Ayats 96-99), (Surah Bani Israil, Ayats 101-104), (Surah TaHa, Ayats 9-80) along with the relevant E. Ns.

Read the full tafseer →