Explained with ayahs 45–49
دریا برد فرعون
حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة الْمُؤْمِنُوْن 42
قصۂ موسیٰ و فرعون کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 49۔ 50۔ الاعراف 103 تا 136۔ یونس 75 تا 92۔ ہود 96 تا 99۔ بنی اسرائیل 101 تا 104۔ ظٰہٰ 9۔ 80۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
خلاصہ تفسیر
پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 48-46
فرعونیوں کے قومی مزاج کی خصوصیت
یعنی انہوں نے بھی وہی استکبار کی روش اختیار کی جو ہمیشہ سے انبیاء کے مکذبین کی رہی ہے۔ وکانوا قوما عالین ان کے قومی مزاج کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اکستابر ان کے کسی قوتی ہیجان اواشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ تھے ہی نہایت سرکش اور مغرور لوگ، فرعونیوں کے اسی مزاج کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس بھیجا تو فرمایا کہ اذھب الی فرعون انہ طغی (طہ :24) (فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے) اور یہ بات بھی ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں حضرت موسیٰ کو عصا کا معجزہ جو عطا فرمایا تو اسی لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی بشریت ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
19: حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی قوم بنی اسرائیل تھی جسے فرعون نے غلام بنایا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
10 یعنی فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے ان کو تورات شریف مرحمت کی تاکہ لوگ اس پر چل کر جنت اور رضائے الٰہی کی منزل تک پہنچ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ”
فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔
سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
49 یعنی دوسرے انبیاء کا تکذیب کرنے والے چودھری حضرات تو اپنے انکار کی صرف ایک وجہ بتلاتے تھے کہ یہ نبی بھی ہم جیسا ہی انسان ہے اور اس میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں فرعون اور اس کے سرداروں نے اس وجہ کے ساتھ ایک اور وجہ بھی بیان کردی کہ ان نبیوں کی برادری تو ہماری غلام ہے۔ لہذا ہم ان پر ایمان لاکر دوہری رسوائی کیسے قبول کریں۔
یہاں عٰبِدُوْنَ کے لفظ سے عبارت کا مفہوم کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ عبادت محض پوجا پاٹ کا نام نہیں۔ کیونکہ بنی اسراویل فرعونیوں کا پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے۔ بلکہ عبادت کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں ہمہ وقت کی غلامی اور فرمانبرداری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
45۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ توریت ہے اور ذکر اب فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلیوں کا ہو رہا ہے۔ (آیت) ” لعلھم “۔ ضمیر جمع غائب اسرائیلیوں یا قوم موسیٰ کی جانب ہے، نہ کہ قوم فرعون کی۔ ولا یجوز عود الضمیر الی فرعون وقومہ (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →فکذبوہما فکانوا من المہلکین۔ اس غرور کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون کو جھوٹا قرار دیا اور ہلاک کردہ (قوموں) میں سے ہو گے۔
اَنُؤْمِنُ میں استفہام انکاری ہے یعنی ان دونوں کی فضیلت اور نبوت کو ہم تسلیم نہیں کریں گے اور انکی تصدیق نہیں کریں گے۔
لَبَشَرَیْنَبشر کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے جیسے آیت فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا میں اور جمع پر بھی اطلاق ہوتا ہے جیسے آیت فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا میں ۔
مِثْلِنَالفظ مثل کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے اور دو پر بھی اور مذکر پر بھی اور مؤنث پر بھی۔ وَقَوْمُہُمَا قوم سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(48۔ 49) غرض کہ وہ لوگ ان دونوں کی رسالت کو جھٹلاتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ سب کے سب دریا میں غرق کیے گئے اور ہم نے موسیٰ ؑ کو توریت عطا کی تاکہ وہ لوگ گمراہی سے ہدایت پائیں۔
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ : فاء سببیہ ہے، یعنی تکبر جھٹلانے کا سبب بنا اور جھٹلانا ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہونے کا باعث بنا۔
فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ : یعنی بجائے اس کے کہ وہ عام عادت کے مطابق یکے بعد دیگرے فوت ہوں، جھٹلانے کے باعث سمندر میں ڈبو کر ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہوگئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (90 تا 92) ”مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ“ میں قریش کے لیے بھی دھمکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت نمبر 45-48
اللہ کا ارشاد ہے : ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون بایتنا وسلطن مبین۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ عالین کا معنی ہے تکبر کرنے والے اور دوسرے پر ظلم کرنے والے جیسے اللہ نے فرمایا : ان فرعون علا فی الارض (القصص :4) ۔ فقالو انئومن لبشرین مثلنا یہ آیت پہلے گزر چکی ہے۔ من المھلکین سمندر میں غرق ہونے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں سے ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” وکانوا قوما عالین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنے رسولوں کی نافرنامی کی یہی ان کا علو اور بلند ہونا تھا اور (یہ آیت) پڑھی، آیت ” تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “۔ (القصص آیت 83)
Read the full tafseer →[ فَكَذَّبُوْهُمَا : سو ان سب نے جھٹلایا ان دونوں کو ] [ فَكَانُوْا : تو وہ سب ہوگئے ] [ مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ : ہلاک کیے جانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ) یعنی مذکورہ اقوام کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور سلطان مبین دے کر بھیجا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو سورة انفال کی آیت (وَ لَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) اور اس کی بعد آیت میں مذکور ہیں اور سلطان مبین (حجۃ واضحہ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا مراد ہے۔ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا ان لوگوں نے تکبر اختیار کیا انہیں دنیا میں جو برتری حاصل تھی اس کی وجہ سے اپنے کو بڑا سمجھتے تھے اور تکبر انہیں لے ڈوبا کہنے لگے یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام
قال اللہ تعالیٰ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون .... الیٰ .... لعلہم یھتدون۔
(ربط) ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال اور فرعون اور اس کی قوم کی تکذیب اور ان کا غارت ہونا بیان کیا، چناچہ فرماتے ہیں پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دے کر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے حق کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہوئے تو بولے۔ تو کیا ہم نے اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی کل قوم ہماری غلام اور تابعدار رہی ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
40:۔ ” فَکَذَّبُوْھُمَا الخ “ قوم فرعون نے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی تکذیب کی تو انہیں عذاب غرق سے ہلاک کردیا گیا۔ ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسی الْکِتٰبَ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب بھی دی جو سراپا ہدایت تھی تاکہ وہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں۔ ان واقعات سے اہل مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہئے ہم نے پہلی قوموں میں اپنے پیغمبر بھیجے جنہوں نے ان کو توحید کی دعوت دی لیکن مشرکین دعوت کو رد کردیا۔ آخر ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ مشرکین مکہ بھی ان معاند و سرکش کافروں کی طرح دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس انکار و جحود سے باز نہ آئے اور ضد وعناد سے ہمارے پیغمبر کی تکذیب کرتے رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔
اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْہُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُہْلَكِيْنَ 48
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار :
وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] .
( ھ ل ک ) الھلاک
یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے
ایک یہ کہ
کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی
ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس…
Read the full tafseer →فَکَذَّ بُوْھُمَا فَکَا نُوْا مِنَ الْمُھْلَکِیْنَ ۔ (المومنون : 48)
پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ )
تکذیب اور تکبر کا انجام
بڑائی کے گھمنڈ نے ایک بہت بڑی سعادت سے انھیں محروم رکھا۔ انھوں نے اللہ کے دونوں سچے نبیوں کی تکذیب کرڈالی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اللہ کا وہ قانون حرکت میں آیا جو سابقہ امتوں میں اس سے پہلے بارہا بروئے کار آچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو ایک خاص حد تک مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ کسی طرح بھی ہدایت کے راستے پر نہیں آتی اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان پر اتمامِ حجت ہوجاتا ہے تو پھر انھیں زندہ نہیں چھوڑا جاتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : پے درپے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو بیک وقت رسول مبعوث کیا گیا :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مختلف اقوام کی طرف پے درپے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے تاآنکہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بیک وقت عظیم معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بھیجا گیا۔ جب دونوں بھائی فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے پاس پہنچے تو انہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ مگر فرعون اور اس کے وزیروں اور مشیروں نے بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جن کی…
Read the full tafseer →48: فَکَذَّبُوْھُمَا فَکَانُوْا مِنَ الْمُھْلَکِیْنَ (پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا نتیجتاً وہ ہلاک ہونے والے لوگوں میں سے ہوگئے) غرق سے ان کو ہلاک کردیا گیا۔
Read the full tafseer →48۔ فکذبوھما فکانوا من المھلکین، وہ سب غرق کردیے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
45۔ 49:۔ اوپر کی آیتوں میں قوم شعیب کا ذکر مختصر طور پر فرما کر ان آیتوں میں قوم فرعون کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیئے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھیں کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپنا سردار اور راہبر کیونکر بنا سکتے ہیں ‘ کوئی فرشتہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
64 پیغمبر کی بشریت کی بنا پر ان پر ایمان لانے سے انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا " کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں "۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہی غلط فہمی جو گمراہوں اور باطل پرستوں کو ہمیشہ رہی کہ نبوت اور بشریت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ لہذا ہم اپنے ہی جیسے ان دونوں شخصوں کو نبی نہیں مان سکتے۔ اس کے برعکس آج کے بعض جاہلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ حضرات نبی تھے اس لئے وہ بشر نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت نبی بھی ہوتے ہیں اور بشر بھی۔ اور ان دونوں صفتوں کا اجتماع ہی عقل سلیم اور فطرت مستقیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →2 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة یونس رکوع 9 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
(23:46) ملائہ۔ اس کے سردار۔ عالین۔ علو سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عالی واحد۔ سرکشی کرنے والے۔ متکبر زبردستی کرنے والے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 :
سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 :
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
قوم فرعون کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت ک لیے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھی کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپناسردار اور راہبر کیونکر بناسکتے ہیں کوئی فرشتہ اللہ کانائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لیتا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی، انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
[23] یعنی بنی اسرائیل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آزادی ہر شخص کا انسان حق ہے :
(ف 1) جن لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا ، ان میں فرعون اور اس کی قوم بھی تھی یہ نہیں تحقیق ہوسکا کہ یہ کون فرعون تھا ، البتہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تقریبا چار سو سال بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حالت بہت خراب تھی وہ ہر طرح غلامی کی لعنتوں میں گرفتار ہوگئے فرعون نے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے اور ان کو ہر نوع کی خوبیوں سے محروم رکھا ، ان کے جذبات غیر وحمیت کو کچل دیا اور مفلس اور نادار بنادیا تاکہ وہ ہمیشہ فرعون اور اس کی قوم کے محتاج رہیں ۔
ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو آیات ومعجزات…
Read the full tafseer →(48) غرض ! وہ فرعون اور فرعونی ان دونوں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے رہے اور آخرکار ہلاک شدگان میں داخل کردیئے گئے یعنی انہوں نے تکذیب کا شیوہ اختیار کیا اور بالآخر دریائے شور میں غرق کئے گئے اور ہلاک شدگان میں سے ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 7۔ یعنی ہم کو تو خود ان کی قوم پر ریاست حاصل ہے، پھر ان دونوں کو ہم پر کیسے ریاست حاصل ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →فرعون والوں نے دونوں کو جھٹلایا اور انجام کار وہ خود ہلاک ہوگئے :
48۔ فرعون اور اس کے اعوان وانصار کے مزاج اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا پیغام سنتے ہی نہایت سرکشی اور غرور کے ساتھ اس کا ٹھکرا دیا ، تفصیل اس کی سورة الاعراف ‘ سورة ہود اور سورة طہ آیت 24 میں گزر چکی ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کو راہ راست پر لانے کے لئے دعوت خداوندی کو پورے عزم وجزم کے ساتھ پیش کیا اور اخلاقی طور پر ان کو دلائل سے ثابت کردیا کہ حکومت کی صلاحیت تم میں موجود نہیں ہے اور ظالم حکمرانوں کے دن گنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن فرعون اور اس کے سرداروں نے ان کی ایک نہ سنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
Commentary
وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
42. For further details of the story of Prophet Moses (peace be upon him) and Pharaoh, see (Surah Al-Baqarah, Ayats 49-50); (Surah Al-Aaraf, Ayats 103-136); (Surah Younus, Ayats 75-92), (Surah H0ud, Ayats 96-99), (Surah Bani Israil, Ayats 101-104), (Surah TaHa, Ayats 9-80) along with the relevant E. Ns.
Read the full tafseer →