Al-Muminoon 23:47

Al-Muminoon · from ayah 47

23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ۟ۚفَقَالُـوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا وَقَوۡمُهُمَا لَـنَا عٰبِدُوۡنَ‌ۚ

کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور اُن کو قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Should we believe two men like ourselves while their people are for us in servitude?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:47

کہنے لگے "کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور اُن کو قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان ﻻئیں؟ حاﻻنکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ کہنے لگے : کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بولے کیا ہم ایمان لے آئیں اپنے جیسے دو آدمیوں پر اور ان کی قوم ہماری بندگی کررہی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو انہوں نے (بھی یہی) کہا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہماری پرستش کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہنے لگے : کیا ہم اپنے ہی دو آدمیوں پر ایمان لائیں جبکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی جیسے دو انسانوں کی بات مان لیں درآنحالیکہ ان کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ انہوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں ؟ اور وہ بھی اس حال میں کہ ان کی قوم کے لوگ ہماری غلامی کر رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

چناچہ وہ بولے کیا ہم اپنے ہی جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں درآنحالیکہ ان کی قوم (بھی) ہمارے زیر حکم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لائیں جبکہ ان کی قوم ہماری محکوم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہنے لگے ”کیا ہم اپنے جیسے ان دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Shall we put faith in two mortals like ourselves when their people are slaves to us?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So they said, :shall we believe in two humans who are like ourselves and whose people are serving us as slaves?

— Muhammad Taqi Usmani

So they said, :shall we believe in two humans who are like ourselves and whose people are serving us as slaves?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Shall we believe in two men like ourselves, and their people are obedient to us with humility!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they said: Shall we put faith in two mortals like ourselves, and whose folk are servile unto us?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Should we believe two men like ourselves while their people are for us in servitude?"

— Saheeh International

They said, "Should we believe in two mere mortals who are like ourselves and whose people are our slaves?"

— Muhammad Sarwar

And they said: What! shall we believe in two mortals like ourselves while their people serve us?

— Muhammad Habib Shakir

So they said: shall we believe In two human beings like unto us, while their nation are to us slaves?

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Shall we believe in two men like ourselves? And their people are subject to us!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–49

دریا برد فرعون حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 اصل میں وَکَانُوْا قَوْماً عٓالِیْنَ کے الفاظ ہیں، جن کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بڑے گھمنڈی، ظالم اور دراز دست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑے اونچے بنے اور انہوں نے بڑی دوں کی لی۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ 26۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 41 اصل الفاظ ہیں " جن کی قوم ہماری عابد ہے "۔ عربی زبان میں کسی کا " مطیع فرمان " ہونا اور " اس کا عبادت گزار " ہونا، دونوں تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں، جو کسی کی بندگی و اطاعت کرتا ہے وہ گویا اس کی عبادت کرتا ہے۔ اس سے بڑی اہم روشنی پڑتی ہے لفظ " عبادت " کے معنی پر اور انبیاء (علیہم السلام) کی اس دعوت پر کہ صرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–50

خلاصہ تفسیر پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 46–48

آیت 48-46 فرعونیوں کے قومی مزاج کی خصوصیت یعنی انہوں نے بھی وہی استکبار کی روش اختیار کی جو ہمیشہ سے انبیاء کے مکذبین کی رہی ہے۔ وکانوا قوما عالین ان کے قومی مزاج کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اکستابر ان کے کسی قوتی ہیجان اواشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ تھے ہی نہایت سرکش اور مغرور لوگ، فرعونیوں کے اسی مزاج کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس بھیجا تو فرمایا کہ اذھب الی فرعون انہ طغی (طہ :24) (فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے) اور یہ بات بھی ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں حضرت موسیٰ کو عصا کا معجزہ جو عطا فرمایا تو اسی لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–48

یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی بشریت ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

19: حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی قوم بنی اسرائیل تھی جسے فرعون نے غلام بنایا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–48

ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48) اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔ فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی موسیٰ و ہارون کی قوم (بنی اسرائیل) تو ہماری غلامی کر رہی ہے ان میں کے دو آدمیوں کو ہم اپنا سردار کس طرح بنا سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 47–49

آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ” فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔ سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–48

49 یعنی دوسرے انبیاء کا تکذیب کرنے والے چودھری حضرات تو اپنے انکار کی صرف ایک وجہ بتلاتے تھے کہ یہ نبی بھی ہم جیسا ہی انسان ہے اور اس میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں فرعون اور اس کے سرداروں نے اس وجہ کے ساتھ ایک اور وجہ بھی بیان کردی کہ ان نبیوں کی برادری تو ہماری غلام ہے۔ لہذا ہم ان پر ایمان لاکر دوہری رسوائی کیسے قبول کریں۔ یہاں عٰبِدُوْنَ کے لفظ سے عبارت کا مفہوم کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ عبادت محض پوجا پاٹ کا نام نہیں۔ کیونکہ بنی اسراویل فرعونیوں کا پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے۔ بلکہ عبادت کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں ہمہ وقت کی غلامی اور فرمانبرداری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ یعنی ایک تو یہ دونوں یوں ہی محض بشر ہیں ہمارے ہی جیسے۔ کوئی فوق البشر نہیں، کوئی دیوتا نہیں اور پھر بشر بھی کیسے ایسے پست و حقیر کہ ان کی قوم کی قوم ہماری محکوم و غلام ہے۔ اسے تو آزاد کر اسکے نہیں اور چلے ہیں ہمارے سامنے پیغمبری کا دعوی کرنے ! شامت زدہ قوموں کی ہمیشہ یہ شامت رہی ہے کہ اصل مسئلہ پر خلوئے ذہن کے ساتھ غور ہی نہیں کرتے۔ صحیح تنقیح کو سامنے لاتے ہی نہیں۔ غیر متعلق اور دوسرے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔ (آیت) ” وقومھما لنا عبدون “۔ حکمران ظاہر ہے کہ فرعون تھا نہ کہ اس کی ساری قوم، لیکن وہی نفسیت بشری جو آج پھیلی ہوئی ہے اس وقت بھی تھی، یعنی حکمران قوم کا ایک ایک فرد اپنے کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقالوا انومن لبشرین مثلنا وقومہما لنا عبدون۔ چناچہ (باہم) کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں کو پیغمبر مان لیں ‘ حالانکہ ان کی قوم والے لوگ (سب کے سب) ہمارے زیر حکم ہیں ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(47) اور کہنے لگے کیا ہم ایسے دو شخصوں پر یعنی موسیٰ ؑ و ہارون ؑ پر جو کہ ہماری ہی طرح ہیں ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا۔۔ : تکبر اور سرکشی کے نتیجے میں انھوں نے موسیٰ اور ہارون ؑ کی بات ماننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں کی بات پر ایمان لے آئیں، جب کہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں اور ہم ان سے بلند تر ہیں۔ پہلا اعتراض موسیٰ اور ہارون ؑ کی ذات پر ہے اور دوسرا ان کی قوم پر ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے کھانے پینے اور چلنے پھرنے میں رسولوں کو اپنے جیسا بشر تو دیکھ لیا اور اسے جھٹلانے کا بہانہ بھی بنا لیا، مگر یہ نہ دیکھا کہ وہ ان کے دلائل و معجزات کے سامنے لاجواب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود انھیں قتل کرنے سے عاجز ہیں۔ کم از کم وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–48

آیت نمبر 45-48 اللہ کا ارشاد ہے : ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون بایتنا وسلطن مبین۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ عالین کا معنی ہے تکبر کرنے والے اور دوسرے پر ظلم کرنے والے جیسے اللہ نے فرمایا : ان فرعون علا فی الارض (القصص :4) ۔ فقالو انئومن لبشرین مثلنا یہ آیت پہلے گزر چکی ہے۔ من المھلکین سمندر میں غرق ہونے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں سے ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–49

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” وکانوا قوما عالین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنے رسولوں کی نافرنامی کی یہی ان کا علو اور بلند ہونا تھا اور (یہ آیت) پڑھی، آیت ” تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “۔ (القصص آیت 83)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَقَالُوْٓا : تو ان سب نے کہا ] [ اَنُؤْمِنُ : کیا ہم ایمان لائیں ] [ لِبَشَرَيْنِ : دو آدمیوں پر ] [ مِثْلِنَا : اپنے جیسے ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَوْمُهُمَا : ان دونوں کی قوم ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ عٰبِدُوْنَ : سب عبادت کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–48

(ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ) یعنی مذکورہ اقوام کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور سلطان مبین دے کر بھیجا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو سورة انفال کی آیت (وَ لَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) اور اس کی بعد آیت میں مذکور ہیں اور سلطان مبین (حجۃ واضحہ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا مراد ہے۔ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا ان لوگوں نے تکبر اختیار کیا انہیں دنیا میں جو برتری حاصل تھی اس کی وجہ سے اپنے کو بڑا سمجھتے تھے اور تکبر انہیں لے ڈوبا کہنے لگے یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–49

قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام قال اللہ تعالیٰ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون .... الیٰ .... لعلہم یھتدون۔ (ربط) ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال اور فرعون اور اس کی قوم کی تکذیب اور ان کا غارت ہونا بیان کیا، چناچہ فرماتے ہیں پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دے کر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے حق کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہوئے تو بولے۔ تو کیا ہم نے اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی کل قوم ہماری غلام اور تابعدار رہی ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–47

39:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسی الخ “ یہ نفی شرک فی التصرف پر چوتھی نقلی دلیل ہے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کو ہم نے واضح دلائل اور کھلے معجزات دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھرے دربار میں فرعون اور قوم فرعون کو توحید کی دعوت دی۔ ” فَاسْتَکْبَرُوْا الخ “ لیکن انہوں نے حکومت اور دولت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر اس کو ٹھکرا دیا۔ ” اَنُوْمِنُ لِبَشَرَیْنِ الخ “ اور صاف کہہ دیا کہ موسیٰ وہارون دونوں بشر ہیں ہم انہیں کس طرح اللہ کے نبی مان لیں۔ اور پھر ساتھ ہی وہ ہیں تو قوم بنی اسرائیل کے افراد جو ساری کی ساری ہماری غلام ہے اور ہر وقت ہماری خدمت اور غلامی میں لگی رہتی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–50

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔ اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ۝ 47ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 44–49

1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَقَالُوْآ اَ نُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُھُمَا لَنَا عٰبِدُ وْنَ ۔ (المومنون : 47) تو انھوں نے کہا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں درآں حالیکہ ان کی قوم ہماری غلامی کررہی ہے۔ ) فرعونیوں کا قومی مزاج یہ اسی تکبر کا اظہار ہے جو ان کا قومی مزاج بن چکا تھا۔ ایک تو وہ اسی گمراہی کا شکار تھے جو سب گمراہ قوموں میں قدر مشترک کے طور پر موجود رہی ہے۔ یعنی وہ بشریت اور نبوت میں تضاد سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں نبوت و رسالت ایک بلند منصب ہے اور بشر نہایت معمولی مخلوق ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے منصب کا تاج ایسی معمولی مخلوق کے ایک فرد کے سر پر رکھ دیاجائے۔ اور ان کے اس عذرلنگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : پے درپے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو بیک وقت رسول مبعوث کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مختلف اقوام کی طرف پے درپے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے تاآنکہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بیک وقت عظیم معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بھیجا گیا۔ جب دونوں بھائی فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے پاس پہنچے تو انہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ مگر فرعون اور اس کے وزیروں اور مشیروں نے بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جن کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

47: فَقَالُوْا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلَنَا (یہ کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے انسانوں پر ایمان لائیں) ۔ نحو : البشر ؔ کا لفظ واحد اور جمع دونوں آتا ہے۔ اور مثلؔ اور غیرؔ کا لفظ تثنیہ اور جمع اور مذکر و مؤنث دونوں کی صفت بن سکتے ہیں۔ وَقَوْمُھُمَا ( اور ان کی قوم) مراد بنی اسرائیل۔ لَنَا عٰبِدُوْنَ (ہمارے خدمت گار ہیں) مطیع اور حکم بردار ہیں۔ اطلاقِ عرب : اہل عرب کے ہاں ہر وہ شخص جو کسی بادشاہ کا خدمت گزارو مطیع ہو اس کو عابد کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

47۔ فقالوا، یعنی فرعون اور اس کی قوم نے کہا، انومن لبشرین مثلنا، اس سے حضرت ہارون وموسی (علیہ السلام) مراد ہیں کہ کیا ہم ان پر ایمان لے آئیں۔ وقومھمالناعابدون، وہ ان کی اطاعت کرنے والے اور عاجزی کرنے والے ہیں۔ عرب لوگ ہراس شخص کو عابد کہہ دیتے ہیں جو کسی کا خدمتی اور حکم بردار ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–49

45۔ 49:۔ اوپر کی آیتوں میں قوم شعیب کا ذکر مختصر طور پر فرما کر ان آیتوں میں قوم فرعون کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیئے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھیں کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپنا سردار اور راہبر کیونکر بنا سکتے ہیں ‘ کوئی فرشتہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–49

64 پیغمبر کی بشریت کی بنا پر ان پر ایمان لانے سے انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا " کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں "۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہی غلط فہمی جو گمراہوں اور باطل پرستوں کو ہمیشہ رہی کہ نبوت اور بشریت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ لہذا ہم اپنے ہی جیسے ان دونوں شخصوں کو نبی نہیں مان سکتے۔ اس کے برعکس آج کے بعض جاہلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ حضرات نبی تھے اس لئے وہ بشر نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت نبی بھی ہوتے ہیں اور بشر بھی۔ اور ان دونوں صفتوں کا اجتماع ہی عقل سلیم اور فطرت مستقیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔ (بندہ اور اللہ کا بندہ) اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ اصل میں لفظ ” عابدن “ کے معنی ہیں ” عبادت کرنے والے “ مگر یہ لفظ بندگی اور غلامی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–49

(23:46) ملائہ۔ اس کے سردار۔ عالین۔ علو سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عالی واحد۔ سرکشی کرنے والے۔ متکبر زبردستی کرنے والے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 : سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–49

قوم فرعون کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت ک لیے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھی کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپناسردار اور راہبر کیونکر بناسکتے ہیں کوئی فرشتہ اللہ کانائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لیتا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی، انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

آزادی ہر شخص کا انسان حق ہے : (ف 1) جن لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا ، ان میں فرعون اور اس کی قوم بھی تھی یہ نہیں تحقیق ہوسکا کہ یہ کون فرعون تھا ، البتہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تقریبا چار سو سال بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حالت بہت خراب تھی وہ ہر طرح غلامی کی لعنتوں میں گرفتار ہوگئے فرعون نے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے اور ان کو ہر نوع کی خوبیوں سے محروم رکھا ، ان کے جذبات غیر وحمیت کو کچل دیا اور مفلس اور نادار بنادیا تاکہ وہ ہمیشہ فرعون اور اس کی قوم کے محتاج رہیں ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو آیات ومعجزات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) لہٰذا ! وہ آپس میں کہنے لگے کیا ہم ایسے دو 2 شخصوں پر ایمان لے آئیں جو ہم ہی جیسے آدمی ہیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہمارے ماتحت اور خدمت گزارو تابعدار ہیں یعنی آپس میں بطور مشورہ یہ گفتگو کرنے لگے کہ کیا ہم ایسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی بات ماننے لگیں جو ہم ہی جیسے آدمی ہیں اور ان دونوں کی قوم یعنی بنی اسرائیل تو ہماری رعایا اور ہمارے غلام اور خدمت گزار ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–49

ف 7۔ یعنی ہم کو تو خود ان کی قوم پر ریاست حاصل ہے، پھر ان دونوں کو ہم پر کیسے ریاست حاصل ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون اور اس کے دربایوں نے کہا اچھا ہم ان دو انسانوں کو نبی و رسول مان لیں ؟ 47۔ موسیٰ اور ہارون تو ہماری ہی طرح کے دو انسان ہیں اور پھر کیا ہم اپنے جیسے انسانوں کو نبی ورسول مان کر ان پر ایمان لے آئیں حالانکہ اس پر تعجب بالائے تعجب یہ ہے کہ وہ خود اور اس کی پوری قوم تو ہماری غلام ہے تو کیا ہم ان غلاموں کو اپنا آقا اور سردار مان لیں یہ تو وہی بات ہوئی کہ الٹے بانس بریلی کو ، کیا ہم اور کیا موسیٰ اور اس کی قوم کے لوگ ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کی مت ماری گئی ہے اس لئے اس نے نبی ورسول ہونے کا دعوی کیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–50

Commentary وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

40a For explanation, see (E.N. 26). 41. Abid is worshiper. According to the Arabic usage, to be a worshiper and a bondsman are almost synonymous. Therefore when the Prophets invited their people to worship Allah alone, they wanted them to worship and serve and obey none but Allah, and that is the real significance of the word ibadat. For further explanation, see (E.N. 50 of Surah Al-Kahf).

Read the full tafseer →