Al-Muminoon 23:46

Al-Muminoon · from ayah 46

23:46

اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَ ۟ۚاِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا عٰلِيۡنَ‌

(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To Pharaoh and his establishment, but they were arrogant and were a haughty people.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:46

مگر انہوں نے تکبر کیا اور بڑی دوں کی لی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وه سرکش لوگ

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس تو انہوں نے گھمنڈ کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے تکبر والے لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے غرور کیا اور وہ لوگ غلبہ پائے ہوئے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے بھی تکبّر و رعونت سے کام لیا اور وہ بھی (بڑے) ظالم و سرکش لوگ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو وہ اکڑ گئے اور وہ تھے ہی سرکش لوگ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس رسول بنا کر تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، مگر انہوں نے بھی اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا (اور وہ حق کے منکر ہوگئے) اور وہ تھے بھی بڑے سرکش لوگ،

— مولانا اسحاق مدنی

فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس سو ان لوگوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی متکبر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ بڑے سر کش لوگ تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرعون اور اس کی جماعت کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

to Pharaoh and to his chiefs, but they behaved superciliously and they were haughty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

towards Fir'awn (Pharaoh) and his advisors. But they showed arrogance and they were haughty people.

— Muhammad Taqi Usmani

towards Firawn (Pharaoh) and his advisors. But they showed arrogance and they were haughty people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Fir`awn and his chiefs, but they behaved insolently and they were people self-exalting (by disobeying their Lord).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Pharaoh and his chiefs, but they scorned (them) and they were despotic folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To Pharaoh and his establishment, but they were arrogant and were a haughty people.

— Saheeh International

to the Pharaoh and his nobles. But they behaved proudly and thought themselves superior people.

— Muhammad Sarwar

To Firon and his chiefs, but they behaved haughtily and they were an insolent people.

— Muhammad Habib Shakir

Unto Fir'awn and his chiefs, but they grew stiff-necked, and they were a people self-exalting.

— Abdul Majid Daryabadi

To Pharaoh and his Chiefs: But these behaved insolently: they were an arrogant people.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–49

دریا برد فرعون حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 اصل میں وَکَانُوْا قَوْماً عٓالِیْنَ کے الفاظ ہیں، جن کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بڑے گھمنڈی، ظالم اور دراز دست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑے اونچے بنے اور انہوں نے بڑی دوں کی لی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–50

خلاصہ تفسیر پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 46–48

آیت 48-46 فرعونیوں کے قومی مزاج کی خصوصیت یعنی انہوں نے بھی وہی استکبار کی روش اختیار کی جو ہمیشہ سے انبیاء کے مکذبین کی رہی ہے۔ وکانوا قوما عالین ان کے قومی مزاج کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اکستابر ان کے کسی قوتی ہیجان اواشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ تھے ہی نہایت سرکش اور مغرور لوگ، فرعونیوں کے اسی مزاج کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس بھیجا تو فرمایا کہ اذھب الی فرعون انہ طغی (طہ :24) (فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے) اور یہ بات بھی ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں حضرت موسیٰ کو عصا کا معجزہ جو عطا فرمایا تو اسی لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46-1استکبار اور اپنے کو بڑا سمجھنا، اس کی بنیادی وجہ بھی وہی عقیدہ آخرت سے انکار اور اسباب دنیا کی فروانی ہی تھی، جس کا ذکر پچھلی قوموں کے واقعات میں گزرا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–46

18: یعنی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کے لیے فنا ہونے کا جو وقت مقرر کر رکھا ہے، وہ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–48

ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48) اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔ فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 45–46

8 اس لیے خدائی پیغام کو خاطر میں نہ لائے۔ کبرو غرور کے نشہ نے ان کے دماغوں کو بالکل مختل کر رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 44–46

کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوْلُہَاکَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا ” ان کی تکذیب کے جواب میں ہم بھی ان قوموں کو یکے بعد دیگرے ہلاک کرتے چلے گئے۔ وَّجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ ج ” ان قوموں کے نام اب دنیا میں کہانیوں اور داستانوں کی حد تک باقی رہ گئے ہیں کہ قوم مدین فلاں علاقے میں بستی تھی ‘ عامورہ اور سدوم کے شہر فلاں جگہ پر واقع تھے ‘ وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 یعنی وہ متکبر قسم کے لوگ تھے جو اپنے آپ کو عام انسانوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 45–46

43۔ قبول حق واتباع ہدایت کی راہ میں بڑا مانع یہی جذبہ خود بینی و استکبار رہا ہے۔ (آیت) ” بایتنا وسلطن مبین “۔ یعنی احکام اور معجزۂ صریح کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الی فرعون و ملاۂ فاستکبروا وکانوا قوما عالین۔ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا سو انہوں نے (ماننے اور تصدیق کرنے سے) تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی متکبر۔ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍکھلی دلیل ‘ جو مقابل حریف کو لا جواب بنا دینے والی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍسے مراد عصا ہو سب سے پہلا معجزہ یہی تھا ‘ اسی لئے اس کو مستقل طور پر ذکر کیا۔ اسی سے متعدد معجزات صادر ہوئے تھے ‘ مثلاح وہ سانپ بن جاتی تھی۔ جادوگروں نے رسیوں سے جو سانپ بنائے تھے ان کو یہ لاٹھی نگل گئی تھی۔ اسی کی ضرب سے سمندر کا پانی پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا تھا ‘ اس کی ضرب سے پتھر سے چشمے جاری ہوجاتے تھے۔ یہ پڑاؤ کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) تو انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ اور آیات تسعہ پر ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی موسیٰ ؑ کے مخالف اور ایمان سے تکبر کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ : یہاں وہ بات حذف کردی ہے جسے فرعون اور اس کے سرداروں نے سخت تکبر سے ٹھکرا دیا، کیونکہ اس سے پہلے تمام انبیاء کے تذکرے میں اس کا بیان کئی بار ہوچکا ہے، یعنی : (اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) [ المؤمنون : 32 ] ”کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کے بیان کے متعلق ہر رسول کی دعوت یہی تھی۔ (دیکھیے انبیاء : 25) فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ :”فَاسْتَكْبَرُوْا“ میں سین اور تاء کا اضافہ تکبر کی شدت پر دلالت کرتا ہے۔ ”قَوْمًا عَالِيْنَ“ کی تفصیل کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–48

آیت نمبر 45-48 اللہ کا ارشاد ہے : ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون بایتنا وسلطن مبین۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ عالین کا معنی ہے تکبر کرنے والے اور دوسرے پر ظلم کرنے والے جیسے اللہ نے فرمایا : ان فرعون علا فی الارض (القصص :4) ۔ فقالو انئومن لبشرین مثلنا یہ آیت پہلے گزر چکی ہے۔ من المھلکین سمندر میں غرق ہونے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں سے ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–49

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” وکانوا قوما عالین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنے رسولوں کی نافرنامی کی یہی ان کا علو اور بلند ہونا تھا اور (یہ آیت) پڑھی، آیت ” تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “۔ (القصص آیت 83)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِلٰى : کی طرف ] [ فِرْعَوْنَ : فرعون ] [ وَمَلَا۟ىِٕهٖ : اس کے سرداروں ] [ فَاسْتَكْبَرُوْا : تو ان سب نے تکبر کیا ] [ وَ : اور ] [ كَانُوْا : وہ سب تھے ] [ قَوْمًا : قوم ہے ] [ عَالِيْنَ : سب سرکش ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–48

(ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ) یعنی مذکورہ اقوام کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور سلطان مبین دے کر بھیجا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو سورة انفال کی آیت (وَ لَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) اور اس کی بعد آیت میں مذکور ہیں اور سلطان مبین (حجۃ واضحہ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا مراد ہے۔ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا ان لوگوں نے تکبر اختیار کیا انہیں دنیا میں جو برتری حاصل تھی اس کی وجہ سے اپنے کو بڑا سمجھتے تھے اور تکبر انہیں لے ڈوبا کہنے لگے یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–49

قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام قال اللہ تعالیٰ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون .... الیٰ .... لعلہم یھتدون۔ (ربط) ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال اور فرعون اور اس کی قوم کی تکذیب اور ان کا غارت ہونا بیان کیا، چناچہ فرماتے ہیں پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دے کر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے حق کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہوئے تو بولے۔ تو کیا ہم نے اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی کل قوم ہماری غلام اور تابعدار رہی ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–47

39:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسی الخ “ یہ نفی شرک فی التصرف پر چوتھی نقلی دلیل ہے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کو ہم نے واضح دلائل اور کھلے معجزات دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھرے دربار میں فرعون اور قوم فرعون کو توحید کی دعوت دی۔ ” فَاسْتَکْبَرُوْا الخ “ لیکن انہوں نے حکومت اور دولت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر اس کو ٹھکرا دیا۔ ” اَنُوْمِنُ لِبَشَرَیْنِ الخ “ اور صاف کہہ دیا کہ موسیٰ وہارون دونوں بشر ہیں ہم انہیں کس طرح اللہ کے نبی مان لیں۔ اور پھر ساتھ ہی وہ ہیں تو قوم بنی اسرائیل کے افراد جو ساری کی ساری ہماری غلام ہے اور ہر وقت ہماری خدمت اور غلامی میں لگی رہتی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–50

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔ اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ۝ 46ۚ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 44–49

1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ 5 لا بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا ئِہٖ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا عِالِیْنَ ۔ (المومنون : 46) پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر۔ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے بھی تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے۔ ) دورسولوں اور ان کی امتوں کی تاریخ سے استدلال ہزاروں سال تک روئے زمین پر مختلف قوموں کی آبادی اور ان کے بگاڑ کے نتیجے میں ہزاروں انبیائے کرام کی بعثت کے اجمالی ذکر کے بعد اب متعین طور پر دو رسولانِ گرامی کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جن کے نام لیوائوں اور نسبت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–48

فہم القرآن ربط کلام : پے درپے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو بیک وقت رسول مبعوث کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مختلف اقوام کی طرف پے درپے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے تاآنکہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بیک وقت عظیم معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بھیجا گیا۔ جب دونوں بھائی فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے پاس پہنچے تو انہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ مگر فرعون اور اس کے وزیروں اور مشیروں نے بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جن کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَائِہٖ فَاسْتَکْبِرُوْا (فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف پس انہوں نے تکبر کیا) بڑائی کی وجہ سے ایمان کو قبول کرنے سے باز رہے۔ وَکَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَ (اور وہ لوگ تھے ہی متکبر و مغرور ) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46۔ الی فرعون وملائہ فاستکبروا ، وہ ایمان کی تعظیم اور ماننے سے تکبر کرنے لگے۔ وکانوا قوماعالین، یعنی وہ لوگ مغرور تھے لوگوں پر جبر اور طلم کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–49

45۔ 49:۔ اوپر کی آیتوں میں قوم شعیب کا ذکر مختصر طور پر فرما کر ان آیتوں میں قوم فرعون کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیئے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھیں کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپنا سردار اور راہبر کیونکر بنا سکتے ہیں ‘ کوئی فرشتہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

62 اِعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے مقابلے میں ان لوگوں نے اعراض و استکبار سے کام لیا اور اس طرح وہ دائمی تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں گرگئے۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومی کا ایک بنیادی سبب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ ایسا شخص اپنی بڑائی کے گھمنڈ کی بنا پر حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اور وہ پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ حق سے منہ موڑ لیتا ہے۔ سو اعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 63 حق کے مقابلے میں سرکشی باعث محرومی ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔ (بندہ اور اللہ کا بندہ) اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–49

(23:46) ملائہ۔ اس کے سردار۔ عالین۔ علو سے اسم فاعل جمع مذکر۔ عالی واحد۔ سرکشی کرنے والے۔ متکبر زبردستی کرنے والے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–50

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 : سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 : حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–49

قوم فرعون کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت ک لیے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھی کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپناسردار اور راہبر کیونکر بناسکتے ہیں کوئی فرشتہ اللہ کانائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لیتا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی، انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

آزادی ہر شخص کا انسان حق ہے : (ف 1) جن لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا ، ان میں فرعون اور اس کی قوم بھی تھی یہ نہیں تحقیق ہوسکا کہ یہ کون فرعون تھا ، البتہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تقریبا چار سو سال بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حالت بہت خراب تھی وہ ہر طرح غلامی کی لعنتوں میں گرفتار ہوگئے فرعون نے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے اور ان کو ہر نوع کی خوبیوں سے محروم رکھا ، ان کے جذبات غیر وحمیت کو کچل دیا اور مفلس اور نادار بنادیا تاکہ وہ ہمیشہ فرعون اور اس کی قوم کے محتاج رہیں ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو آیات ومعجزات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) فرعون اور اس کے درباری اور مشیران خاص کی طرف بھیجا سو انہوں نے متکبرانہ برتائو کا اظہار کیا اور تکبر کرنے لگے اور وہ لوگ تھے ہی بڑے متکبر اور سرکش یعنی لگاتار انبیاء کے آنے کے بعد پھر ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے احکام یا نونشانیاں اور حجت واضحہ اور براہین قاطعہ دیکر بھیجا لیکن ان بدبختوں نے متکبرانہ برتائو کیا اور ان دونوں کو تحقیر آمیز جواب دیا اور یہ لوگ بڑے زور پر چڑھ رہے تھے اور یہ لوگ تھے ہی سرکش و متکبر۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون اور اس کی حکومت کے اعوان وانصار کے تکبر کا ذکر : 46۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن ‘ جوانی اور ہجرت اول ودوم کا ذکر سورة طہ میں گزر چکا ہے اس جگہ زیر نظر آیت میں فرعون کے استکبار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، طرعون اور اس کے دوسروں سرداروں کا تکبر کیا تھا ؟ وہی جس کا ذکر دوسروں انبیاء کرام کے بیان میں گزر چکا ہے کہ وہ خود اپنے کو بلند وبالا سمجھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کو حقیر سمجھا اور اس طرح انہوں نے وہی حربہ استعمال کیا جو دوسرے انبیاء ورسل کی امتیں اپنے اپنے رسولوں کے خلاف استعمال کرچکی تھیں اور آنے والی آیت میں اس کی تفصیل کی جا رہی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–50

Commentary وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).

Read the full tafseer →