Explained with ayahs 45–49
دریا برد فرعون
حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 39
" نشانیوں " کے بعد " کھلی سند " سے مراد یا تو یہ ہے کہ ان نشانیوں کا ان کے ساتھ ہونا ہی اس بات کی کھلی سند تھا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔ یا پھر نشانیوں سے مراد عصا کے سوا دوسرے وہ تمام معجزات ہیں جو مصر میں دکھائے گئے تھے، اور کھلی سند سے مراد عصا ہے، کیونکہ اس کے ذریعہ سے جو معجزے رونما ہوئے ان کے بعد تو یہ بات بالکل ہی واضح ہوگئی تھی کہ یہ دونوں بھائی مامور من اللہ ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف حواشی 43۔ 44)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
خلاصہ تفسیر
پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →آیات اور سلطن مبین سے مراد
حضرت نوح کے بعد کے تمام رسولوں کی طرف اجمالی اشارہ کرنے کے بعد یہ ان رسولوں کا ذکر ہے جن کی مفصل سرگزشت تورات و انجیل کے صحیفوں میں موجود یہ۔ فرمایا کہ ہم نے اپنی نشانیوں اور ایک حجت قاطعہ کے ساتھ موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو فرعون اور اس کے اعیان کے پاس رسول بنا کر بھیجا۔ آیات سے مراد میرے نزدیک وہ عام معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ کے ہاتھوں فرعونیوں کے انذار کے لئے ظاہر ہوئے۔ ان کی تفصیل تورات میں بھی موجود ہے اور ہم نے اپنی اس کتاب میں بھی ان کے حوالے دیے ہیں۔ سلطن مبین سے میرے نزدیک عصا کا معجزہ مراد ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اس معجزے کو درحقیقت ایک برہان…
Read the full tafseer →45-1آیات سے مراد وہ نو آیات ہیں، جن کا ذکر سورة اعراف میں ہے، جن کی وضاحت گزر چکی ہے اور سُلْطَانٍ مُبِیْنٍ سے مراد واضح اور پختہ دلیل ہے، جس کا کوئی جواب فرعون اور اس کے درباریوں سے نہ بن پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
18: یعنی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کے لیے فنا ہونے کا جو وقت مقرر کر رکھا ہے، وہ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
8 اس لیے خدائی پیغام کو خاطر میں نہ لائے۔ کبرو غرور کے نشہ نے ان کے دماغوں کو بالکل مختل کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوْلُہَاکَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا ”
ان کی تکذیب کے جواب میں ہم بھی ان قوموں کو یکے بعد دیگرے ہلاک کرتے چلے گئے۔
وَّجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ ج ”
ان قوموں کے نام اب دنیا میں کہانیوں اور داستانوں کی حد تک باقی رہ گئے ہیں کہ قوم مدین فلاں علاقے میں بستی تھی ‘ عامورہ اور سدوم کے شہر فلاں جگہ پر واقع تھے ‘ وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →47 سلطان بمعنی غلیہ، قوت، اختیار (منجد، مقائیس اللغة) اور بمعنی فرمان شاہی (منجد) یعنی اتھارٹی یا اتھارٹی لیٹر Letter Athority وہ اختیار یا اختیار نامہ جو کسی حاکم اعلیٰ سے اس کے نائب کو ملا ہو۔ (اور سلطان بمعنی بادشاہ اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے لغوی نہیں۔ نہ ہی قرآن نے اس لفظ کو کسی بھی جگہ ان معنوں میں استعمال کیا ہے) اور اس مقام پر سلطان مبین سے مراد یا ان دونوں نبیوں کی نبوت ہے یا وحی الٰہی۔ اور آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے صرف عصا اور یدبیضا ہی نہیں بلکہ دوسرے معجزات بھی کیونکہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تثنیہ کا نہیں۔ نیز آیات سے مراد احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
43۔ قبول حق واتباع ہدایت کی راہ میں بڑا مانع یہی جذبہ خود بینی و استکبار رہا ہے۔ (آیت) ” بایتنا وسلطن مبین “۔ یعنی احکام اور معجزۂ صریح کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ہرون بایتنا وسلطن مبینا۔ پھر ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اپنی آیات اور کھلی ہوئی دلیل دے کر
Read the full tafseer →(45) پھر ہم نے موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو اپنی نو نشانیاں اور کھلا معجزہ دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا ،
Read the full tafseer →ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوْنَ ڏ۔۔ : ”ثُمَّ“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پیغمبروں کے لمبے وقفے کے بعد مبعوث ہوئے۔ فرعون اور اس کی قوم اپنے زمانے کے نہایت قوت و شوکت اور مال و دولت والے لوگ تھے، انھوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا، چناچہ ان کی طرف رسول بھی نہایت عظیم الشان بھیجا گیا، جس کے حالات اور معجزات قرآن میں سب سے زیادہ بیان ہوئے ہیں اور اس مقام پر نوح ؑ کے بعد ذکر کردہ پیغمبروں اور امتوں کی طرح مبہم رکھنے کے بجائے موسیٰ و ہارون ؑ کا اور فرعون اور اس کے سرداروں کا نام لیا گیا۔ موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل تھی، جب کہ فرعون اور اس کی قوم قبطی تھے۔ اس لیے یہ کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت نمبر 45-48
اللہ کا ارشاد ہے : ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون بایتنا وسلطن مبین۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ عالین کا معنی ہے تکبر کرنے والے اور دوسرے پر ظلم کرنے والے جیسے اللہ نے فرمایا : ان فرعون علا فی الارض (القصص :4) ۔ فقالو انئومن لبشرین مثلنا یہ آیت پہلے گزر چکی ہے۔ من المھلکین سمندر میں غرق ہونے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں سے ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1۔ ابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ثم ارسلنا رسلنا تترا “ سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے بعض بعض کے پیچھے آئے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا آیت ” بعضہم علی اثر بعض “
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →[ ثُمَّ : پھر ] [ اَرْسَلْنَا : بھیجا ہم نے ] [ مُوْسٰى : موسیٰ ] [ وَاَخَاهُ : اور اس کے بھائی ] [ هٰرُوْنَ : ہارون ] [ بِاٰيٰتِنَا : ہماری آیات کو ] [ وَ : اور ] [ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : واضح دلیل ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ) یعنی مذکورہ اقوام کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور سلطان مبین دے کر بھیجا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیات سے وہ آیات مراد ہیں جو سورة انفال کی آیت (وَ لَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ ) اور اس کی بعد آیت میں مذکور ہیں اور سلطان مبین (حجۃ واضحہ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا مراد ہے۔ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف بھیجا ان لوگوں نے تکبر اختیار کیا انہیں دنیا میں جو برتری حاصل تھی اس کی وجہ سے اپنے کو بڑا سمجھتے تھے اور تکبر انہیں لے ڈوبا کہنے لگے یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام
قال اللہ تعالیٰ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون .... الیٰ .... لعلہم یھتدون۔
(ربط) ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال اور فرعون اور اس کی قوم کی تکذیب اور ان کا غارت ہونا بیان کیا، چناچہ فرماتے ہیں پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دے کر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے حق کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہوئے تو بولے۔ تو کیا ہم نے اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی کل قوم ہماری غلام اور تابعدار رہی ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
39:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسی الخ “ یہ نفی شرک فی التصرف پر چوتھی نقلی دلیل ہے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کو ہم نے واضح دلائل اور کھلے معجزات دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھرے دربار میں فرعون اور قوم فرعون کو توحید کی دعوت دی۔ ” فَاسْتَکْبَرُوْا الخ “ لیکن انہوں نے حکومت اور دولت و اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر اس کو ٹھکرا دیا۔ ” اَنُوْمِنُ لِبَشَرَیْنِ الخ “ اور صاف کہہ دیا کہ موسیٰ وہارون دونوں بشر ہیں ہم انہیں کس طرح اللہ کے نبی مان لیں۔ اور پھر ساتھ ہی وہ ہیں تو قوم بنی اسرائیل کے افراد جو ساری کی ساری ہماری غلام ہے اور ہر وقت ہماری خدمت اور غلامی میں لگی رہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔
اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاہُ ہٰرُوْنَ 0ۥۙ بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 45ۙ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی
ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ 5 لا بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا ئِہٖ فَاسْتَکْبَرُوْا وَکَانُوْا قَوْمًا عِالِیْنَ ۔ (المومنون : 46)
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر۔ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے بھی تکبر کیا اور وہ نہایت مغرور لوگ تھے۔ )
دورسولوں اور ان کی امتوں کی تاریخ سے استدلال
ہزاروں سال تک روئے زمین پر مختلف قوموں کی آبادی اور ان کے بگاڑ کے نتیجے میں ہزاروں انبیائے کرام کی بعثت کے اجمالی ذکر کے بعد اب متعین طور پر دو رسولانِ گرامی کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جن کے نام لیوائوں اور نسبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : پے درپے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو بیک وقت رسول مبعوث کیا گیا :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مختلف اقوام کی طرف پے درپے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے تاآنکہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بیک وقت عظیم معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بھیجا گیا۔ جب دونوں بھائی فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے پاس پہنچے تو انہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ مگر فرعون اور اس کے وزیروں اور مشیروں نے بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جن کی…
Read the full tafseer →بعثت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) :
45: ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی وَاَخَاہُ ھٰرُوْنَ (پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھیجا) ۔
نحو : ہارونؔ یہ اخاہ سے بدل ہے۔
بِاٰیٰتِنَا (اپنی آیات دے کر) نو آیات معجز ات مراد ہیں۔ وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (اور وہ دلائل) غالب آنے والے دلائل یا عصا۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
45۔ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ہارون بایاتنا وسلطان مبین۔ واضح دلیل کے ساتھ یعنی یدبیضاء اور عصی کے ساتھ اور اس کے علاوہ دوسرے معجزات کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
45۔ 49:۔ اوپر کی آیتوں میں قوم شعیب کا ذکر مختصر طور پر فرما کر ان آیتوں میں قوم فرعون کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیئے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھیں کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپنا سردار اور راہبر کیونکر بنا سکتے ہیں ‘ کوئی فرشتہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →60 موسیٰ اور ہارون کی بعثت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ہم ہی نے بھیجا موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تاکہ ان کو حق کو پیغام پہنچایا جاسکے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں کو راہ حق و صواب کی راہنمائی کرنا ہم نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی } ۔ (اللیل : 12) ۔ یعنی " ہدایت دینا ہمارے ہی ذمے ہے "۔
61 اپنی نشانیاں اور کھلی سند کے ساتھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ہاروں کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ تاکہ حق پوری طرح ان کے سامنے واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
8 ۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جن کا سورة اعراف اور بعض دوسرے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ عصا بھی اگرچہ ان ہی نشانیوں میں سے تھا لیکن اس کی حیثیت چونکہ ان سب میں ممتاز تھی اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر ” سلطان مبین “ (کھلی سند) کے لفظ سے کیا گیا جیسے کہا جائے ” ملائکۃ اللہ و جبرئیل “ (اللہ کے فرشتے اور جبریل) یعنی تخصیص بعد تعمیم کے قبیل سے ہے۔
Read the full tafseer →(23:45) سلطن۔ واضح دلیل۔ حجۃ واضحۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 50 :
سلطان مبین (کھلے دلائل) ‘ استکبروا (انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی) ‘ عالین (سرکش) ‘ عابدون (عبادت کرنے والے) ‘ اوینا (ہم نے ٹھکانہ دیا) ‘ ربوۃ (بلند ٹیلہ۔ اونچا مقام) ‘ ذات قرار (ٹھہرنے کی جگہ۔ سکون کی جگہ) ‘ معین (جاری پانی۔ چشمہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 :
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد بعض نبیوں کی امتوں کا نام لئے بغیر ان کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور ان آیات میں خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا گیا ہے ان واقعات کو اس لئے بھی بیان کیا گیا تاکہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
قوم فرعون کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت ک لیے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھی کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپناسردار اور راہبر کیونکر بناسکتے ہیں کوئی فرشتہ اللہ کانائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لیتا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی، انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[22] یعنی معجزہ صریحہ کہ دلیل نبوت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
قوم ہود (علیہ السلام) کا آخرت سے انکار :
(ف 1) دنیا میں ہر وقت ایسے مادہ پرست لوگ موجود رہے ہیں جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہوتا ، اور جو چاہتے ہیں کہ انہیں افکار و اعمال میں پوری آزادی دے دی جائے ، وہ جو چاہیں کریں ، اور جو چاہیں کہیں ، ان کی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو ، وہ محض نفس کے بندے ہوئے ہیں ان کے سامنے صرف یہ نصب العین ہوتا ہے کہ جس طرح ہو ، دنیاوی زندگی عیش سے گزر جائے نہ انہیں اللہ کا ڈر ہوتا ہے ، اور نہ اعمال کی باز پرس کا خیال ، انکی رائے میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اخلاقی مقصد نہیں ، وہ ایک حیوان ہے جو کھاتا پیتا اور مرجاتا ہے بخلاف اس کے مذہب نے ہمیشہ…
Read the full tafseer →(45) پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور احکام اور کھلی دلیل اور واضح سند دیکر۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی معجزہ صریحہ کہ دلیل نبوت ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو روشن دلائل دیئے جانے کا بیان :
45۔ نوح (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد بہت ہی قوموں کے عروج وزوال کا ذکر نہایت اختصار سے کرنے کے بعد اب قوم بنی اسرائیل کا ذکر چھیڑا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کے عروج کا ابتدائی زمانہ تو وہ تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے ذریعہ سے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں کو مصر میں لا آباد کرایا اور پھر ایک عرصہ تک ان کے عروج کا سلسلہ جاری رہا لیکن آخر کار وہ وقت بھی آیا کہ وہ آسمان رفعت سے گرتے گرتے قعر مذلت میں گر کر رہ گئے اور اسی ذلت سے انکو نکالنے کے لئے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ناساز گار حالات میں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
Commentary
وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).
Read the full tafseer →39. The use of a manifest Authority along with Our signs may either mean that the signs were a clear proof that they were Messengers of Allah, or the signs may refer to all other miracles of Prophet Moses (peace be upon him) than the staff, which may stand here for a clear authority, because the miracles shown by means of it were a clear proof that the two brothers had been sent by Allah.
Read the full tafseer →