Explained with ayahs 42–44
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی
ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے درپے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آگئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آگیا۔ تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورة یاسین میں فرمایا آیت (يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 30) 36۔ يس :30) افسوس ہے بندوں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 38
یا باالفاظ دیگر پیغمبروں کی بات نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
خلاصہ تفسیر
پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →قتریٰ کا مفہوم
قتری کی اصل وتری ہے۔ عربی کے معروف اعدے کے مطابق و ت سے بدل گئی ہے۔ جاو القوم قتریٰ کے معنی ہوں گے لوگ تسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے آئے۔
قوموں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ان کی اصلاح کے اہتمام میں اضافہ
بالتدریج قوموں کی تعداد میں جتنا ہی اضافہ ہوتا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت و اصلاح کے اہتمام وا نتظام میں بھی اسی رفتار سے اضافہ فرمایا۔ یہاں تک کہ ایک ہی دور میں الگ الگ قوموں میں الگ الگ رسول بھی آئے۔ اگرچہ تاریخوں میں تفصیل نہیں ملتی لیکن حضرت ابراہیم و حضرت لوط کا ایک زمانے میں ہونا تو قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور حضرت شعیب ایک ہی دور کے رسول…
Read the full tafseer →44-1نَتْرَا کے معنی ہیں۔ یکے بعد دیگرے، متواتر لگا تار۔
44-2ہلاکت اور بربادی میں۔ یعنی جس طرح یکے بعد دیگرے رسول آئے، اسی طرح رسالت کے جھٹلانے پر یہ قومیں یکے بعد دیگرے، عذاب سے دو چار ہو کر ہست و نیست ہوتی رہیں۔
44-3جس طرح اَعَاجِیْبُ ، اُعْجُوبَۃً کی جمع ہے (تعجب انگیز چیز یا بات) اسی طرح اَحَاحِیْثُ اُحْدُوْثَۃً کی جمع ہے بمعنی مشہور معروف مخلو قات کے واقعات اور قصص۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
18: یعنی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کے لیے فنا ہونے کا جو وقت مقرر کر رکھا ہے، وہ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ثم انشانا لا یو منون (آیت نمبر 42 : 44)
یہاں پر دعوت اسلامی کی پوری تاریخ کا خلاصہ بیان کردیا جاتا ہے اور اس خلاصے میں اللہ کی اس سنت کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔ اس تاریخ کا اغاز قوم نوح اور قوم ہود ” عاد “ سے ہوا اور اختتام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ درمیان کے قرون کا یہ خلاصہ تھا اور سنت الہیہ یہ ہے :
ما تسبقا یستاخرون (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلادیا۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کی تکذیب کی۔
کلما کذبوہ (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے سے جھٹلا یا “۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کو جھٹلادیا…
Read the full tafseer →6 یعنی رسولوں کا تانتا باندھ دیا یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور مکذبین میں بھی ایک کو دوسرے کے پیچھے چلتا کرتے رہے۔ ادھر پیغمبروں کی بعث کا اور ادھر ہلاک ہونے والوں کا نمبر لگا دیا۔ چناچہ بہت قومیں ایسی تباہ و برباد کی گئیں جن کے قصے کہانیوں کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ آج ان کی داستانیں محض عبرت کے لیے پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔
7 یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوْلُہَاکَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا ”
ان کی تکذیب کے جواب میں ہم بھی ان قوموں کو یکے بعد دیگرے ہلاک کرتے چلے گئے۔
وَّجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ ج ”
ان قوموں کے نام اب دنیا میں کہانیوں اور داستانوں کی حد تک باقی رہ گئے ہیں کہ قوم مدین فلاں علاقے میں بستی تھی ‘ عامورہ اور سدوم کے شہر فلاں جگہ پر واقع تھے ‘ وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →46 قوم عاد اولیٰ اور عاد ثانی کے بعد، موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک درج ذیل انبیاء مبعوث ہوئے۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ایوب، اور حضرت شعیب (علیہم السلام) یہ تو وہ انبیاء ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے اور جن کا ذکر قرآن میں نہیں آیا وہ ان سے بہت زیادہ ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ سے دنیا میں مبعوث ہونے والے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے 313 تا 315 بتلائی اور انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتلائی جبکہ قرآن میں صرف 27 انبیاء و رسل کا ذکر ہے۔
اب اگر تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو جہاں تک انسانی علم کی رسائی ہوسکی ہے اس کے مطابق عاد…
Read the full tafseer →41۔ (ہلاک ہونے میں) یعنی جوں جوں جو قوم اپنے رسول کی تکذیب کی مجرم ہوتی رہی اسی نسبت وترتیب سے وہ ہلاک وبرباد کی جاتی رہی۔
42۔ یعنی وہ ایسے نیست ونابود ہوئے کہ ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔ بس محض ان کے تذکرے اور قصے رہ گئے کہ لوگ سنیں اور عبرت حاصل کریں۔ اے صاروا یتحدث بھم وبحالھم فی الاھلاک علی سبیل التعجب والاعتبار وضرب المثل بھم (بحر) احادیث جمع ہے احدوثۃ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →ثم ارسلنا رسلنا تترا پھر ہم نے ان کے پاس اپنے پیغمبروں کو (ہدایت کے لئے) پے در پے بھیجا۔
تَتْرَااصل میں وترا تھا وترا وتر سے مشتق ہے۔ وتر (طاق) شفع (جفت) کی ضد کو کہتے ہیں۔ تواتر اور مواترہ چیزوں کا پے در پے یعنی ایک کے بعد دوسرے کا اور دوسرے کے بعد تیسرے کا آنا اور بغیر کسی اجتماعیت کے تسلسل قائم ہونا۔
قاموس میں ہے تواتر پے در پے ہونا۔ (بغیر کسی انقطاع و خلا کے) یا مع انقطاع کے۔ وَاتَرَُ مَواتَرَۃً وَوِتَارًاایک کے پیچھے دوسرا آیا ‘ کیونکہ مواترت بین الاشیاء اسی وقت ہوتی ہے ‘ جب ان چیزوں کے درمیان انقطاع ہو۔
حضرت مفسر نے فرمایا ‘ مراد یہ ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک اشیاء میں تواتر اسی وقت ہوگا…
Read the full tafseer →(44) پھر ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے بھیجا جب کسی امت کے پاس اس امت کا رسول اللہ کے احکام لے کر آیا اور انہوں نے اس رسول کو جھٹلایا، تو ہم نے بھی ہلاک کرنے میں ایک کے بعد ایک کا نمبر لگا دیا اور ہم نے ان کی کہانیاں بنا دیں کہ ان کے زمانہ میں وہ سنائی جانے لگیں تو اللہ کی رحمت سے دور ہیں وہ لوگ جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا۔۔ :”تَتْرَا“ ”دَعْوٰی“ اور ”سَلْوٰی“ (فَعْلٰی) کے وزن پر مصدر ہے، جو ”رُسُلَنَا“ سے حال ہے۔ ”تَتْرَا“ اصل میں ”وَتَرٰی“ ہے۔ واؤ کو تاء سے بدل دیا، جس طرح ”تَقْوٰی“ میں تاء واؤ کی جگہ آئی ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی ”مُتَوَاتِرِیْنَ“ یعنی پھر ہم نے اپنے کئی رسول پے در پے بھیجے، مگر ان کی قوموں نے پہلی امتوں کے انجام سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ہر امت اپنے رسول کے آنے پر اسے جھٹلاتی رہی، تو ہم نے بھی یکے بعد دیگرے ان کی ہلاکت کا تانتا باندھ دیا اور انھیں ایسا نیست و نابود کیا کہ قصے کہانیوں کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت نمبر 42-44
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانا من بعدھم یعنی ان کی ہلاکت کے بعد قرونا امتیں اخرین۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ اس کلام میں حذف ہے پس انہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ ماتسبق من امۃ اجلھا من صلہ ہے یعنی کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور پیچھے نہیں رہ سکتی جیسے اللہ کا ارشا ہے۔ فاذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ (الاعراف) تترا کا معنی ہے متواتر۔ بعض کو بعض کے پیچھے بھیجا ترغیب وترہیب کے لئے۔ اصمعی نے کہا : واترت کتبی علیہ۔ بعض کو بعض کے پیچھے رکھا مگر ان میں سے ہر دو کے درمیان وقفہ تھا۔ دوسرے علماء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1۔ ابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ثم ارسلنا رسلنا تترا “ سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے بعض بعض کے پیچھے آئے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا آیت ” بعضہم علی اثر بعض “
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →[ ثُمَّ : پھر ] [ اَرْسَلْنَا : بھیجا ہم نے ] [ رُسُلَنَا : ہمارے رسول ] [ تَتْرَا : پے در پے ] [ كُلَّمَا : جب بھی ] [ جَاۗءَ : آیا ہو ] [ اُمَّةً : ایک گروہ ] [ رَّسُوْلُهَا : اس کا رسول ] [ كَذَّبُوْهُ : ان سب نے جھٹلایا اسے ] [ فَاَتْبَعْنَا : تو ہم نے پیچھے چلتا کیا ] [ بَعْضَهُمْ : انکے بعض کو ] [ بَعْضًا : بعض پر ] [ وَّجَعَلْنٰهُمْ : اور ہم نے بنادیا انہیں ] [ اَحَادِيْثَ : قصے کہانیاں ] [ فَبُعْدًا : تو دوری ] [ لِقَوْمٍ : اس قوم کے لیے ] [ لَا : نہیں ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ سب ایمان لاتے ہیں ]
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرعون اور اس کے درباریوں کا تکبر اور تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمانے کے بعد ایک اور رسول کی تشریف آوری کا اور ان کی امت کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد اور بہت سی جماعتیں پیدا کیں، ان سے حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قومیں اور ان کے علاوہ جو قومیں تھیں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کے باعث ہلاک کردی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر میں جس امت کے ہلاک ہونے کا جو وقت مقرر تھا ہر امت ٹھیک اسی وقت میں ہلاک کی گئی۔ نہ وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
قصہ بعض ایگر امم سابقہ بطریق اجمال
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرونا اخرین .... الیٰ .... فیعدا لقوم لا یؤمنون۔
(ربط) ان آیات میں اجمالاً حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب اور حضرت یونس اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصوں کی طرف اشارہ ہے چناچہ ان سب کا قصہ اسی ترتیب کے ساتھ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ پھر قوم عاد یا ثمود کے ہلاک ہونے کے بعد ہم نے دوسری امتیں پیدا کیں انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور مدت مقررہ پر ہلاک ہوئی۔ کوئی امت اپنی میعاد ہلاکت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ اس سے پیچھے رہ سکتی ہے بلکہ ٹھیک اس وقت ہلاک ہوئے جو خدا نے ان کے لیے مقرر کردیا تھا پھر ان کے بعد ہم نے پے…
Read the full tafseer →38:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا الخ “ یہ توحید پر تیسری نقلی دلیل ہے یہاں اجمالاً ذکر فرمایا کہ پھر ہود (علیہ السلام) کے بعد ہم نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے جو اپنی امتوں کو دعوت توحید دیتے رہے جب ایک قوم نے ہمارے رسول کی تکذیب کی اور دعوت توحید کو نہ مانا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی جگہ اوروں کو پیدا کیا۔ ” تَتْرٰي “ اصل میں ” وَ تَرٰي “ تھا واؤ کو تا سے بدل دیا گیا اور یہ ” اَرْسَلْنَا “ سے حال واقع ہے ای ارسلنا رسلنا متواترین (بحر، روح) ۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ الخ “ یعنی دعوت توحید کو رد کرنے والوں اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو ہم نے نیست و نابود کردیا اور دنیا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔
اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا 0ۭ كُلَّمَا جَاۗءَ اُمَّۃً رَّسُوْلُہَا كَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا وَّجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِيْثَ 0ۚ فَبُعْدًا لِّــقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ 44
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
1 ؎ تترا ای متواترین واحد بعد واحد من الوتر والتاء بدل من من الوا وکما فی تو لجوالالف للتانیث باعتبار ان الرسل جماعۃ وقرء بالنوین علیٰ انہ مصدر بمعنی الفاعل وقع حالاء ابو السعود۔ قرا إبن اکثیر ننری متوشہ والصباقون بغیر تنوین وھو اختیار اکثر اہل اللغنہ لانھا فعلی من المواترہ وہی المتابعۃ وفعلی لانیوں کدعویک 12 منہ تترا النا بدل من الوا ولانہ من المواترۃ وہی المتابعۃ ومن ذلک قولہم جاؤا علیٰ وتیرۃ واحدۃ اے طریقۃ وھو نصب علی الہال انی متتابعیں وفی الاصل نہ مصدر وقیل صفۃ الصدر مخدوف اے ارسالا متواتر ولفہا وما الحاق بجعفر کا رطی او بدل من التنوین 12 الحقانی
ترکیب : :۔ ہارون بدل ہے اخاہ سے۔ مثلنا اس…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا ط کُلَّمَا جَآئَ اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ فَاَ تْبَعْنَا بَعْضَھُمْ بَعْضًا وَّجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِ یْثَ ج فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المومنون : 44)
(پھر ہم نے اپنے رسول یکے بعد دیگرے بھیجے۔ جب آیا کسی قوم کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے اس کو جھٹلایا۔ تو ہم نے بھی ایک کے پیچھے دوسری کو لگا دیا اور ان کو افسانہ بنادیا۔ پس اللہ کی پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لاتی۔ )
چند الفاظ کی تشریح : ” تَتْرًا “ اصل ” وتریٰ “ ہے۔ عربی کے معروف قاعدے کے مطابق ’ ’ و “ ، ” ت “ سے بدل گئی ہے۔ اس کا معنی ہے ،” یَتْبَعُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا “ ،” یکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ھود کے بعد دوسری قوم کا معرض وجود میں آنا اور پنپنا :۔
اللہ تعالیٰ نے قوم ھود کے بعد ایک مدّت تک لوگوں کو پنپنے کا موقعہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف پے درپے کئی رسول بھیجے لیکن جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی۔ اس طرح ایک قوم دوسری قوم کے پیچھے چلتی رہی پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوئی اور اس پر عذاب نازل ہوا ان کی یاد قصہ کہانیوں کے سوا کچھ نہ رہی۔ کیونکہ یہ اپنے رب پر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ایک فیصلہ کر رکھا ہے جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو وہ لوگ نہ اس وقت سے آگے نکل سکتے ہیں اور نہ پیچھے رہ…
Read the full tafseer →44: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (پھر ہم نے اپنے رسولوں کو مسلسل بھیجا) تَتْرَا یہ فعلیٰ کا وزن ہے۔ الف تانیث کی ہے جیسے سَکْرَیٰ کیونکہ رسل جماعت ہے اس لئے اس پر تنوین نہیں ہے کیونکہ غیر منصرف ہے۔
قرات : مکی اور ابو عمرو اور یزید نے تترًی تنوین سے پڑھا ہے۔ اس بناء پر کہ الف الحاقی ہے جیسے ارطیٰ میں ہے۔
نحو : دونوں قراءتوں میں نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے۔ ای متتابعًا واحدًا بعد واحدٍ اس میں کہ وہ پے در پے یکے بعد دیگرے آنے والے تھے۔ اس میں (تترا) تاء وائو کے بدلہ میں آئی ہے یہ اصل میں وتری ہے جو وتر سے لیا گیا ہے جو فرد کو کہتے ہیں شفع کا بالمقابل ہے وائو کو تاء سے بدل دیا جیسا کہ تراث…
Read the full tafseer →44۔ ثم ارسلنا تری، تواتر اور متواترہ چیزوں کا پے درپے یعنی ایک کے بعد دوسرے کا اور دوسرے کے بعد تیسرے کا آنا اور بغیر کسی اجتماعیت کے تسلسل قائم ہونا اور اس وجہ سے کہ دونوں نبیوں کے درمیان ایک طویل زمانہ ہے۔ اصمعی کا قول ہے کہ ، واترت الخبر، اس وقت کہاجاتا ہے جب ایک کے پیچھے دوسری خبر دی جائے اور دونوں کے درمیان کچھ وقفہ ہو۔
قراء کا اس بارے میں اختلاف ہے ، ابوجعفر ابن کثیر ابوعمرو نے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور یعقوب نے الف کے ساتھ پڑھا ہے ابوعمرو حالت وقف میں آخرالف کے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جیسے ، رایت زیدا، میں آخر الف ہے اور باقی قراء نے اس کو بلاتنوین کے ساتھ پڑھا ہے ہمارے نزدیک اس کے آخر میں…
Read the full tafseer →44:۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی بےپرواہ ہے کہ اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے لیکن رسول وقت کی بات کو نہ ماننا اور رسول وقت کی فرمانبرداری کو مسخرا پن میں اڑا کر رسول وقت کو غصہ دلانا ایسی اللہ کی ایک غصہ اور غصب اور وبال کی چیز ہے کہ جو لوگ اس نافرمانی میں مبتلا ہوں ‘ ان کے وبال کی حالت پر باوجود اس بےپروائی کے خود اللہ تعالیٰ نے حسرت اور افسوس کا استعمال فرمایا ہے چناچہ سورة یسٰ میں ارشاد فرمایا ہے یا حسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزؤن جس کا حاصل یہ ہے کہ بندوں کی رسولوں کو جھٹلانے کی حالت قابل افسوس ہے اب ایک گروہ ان لوگوں کا تھا وہ رسول وقت کو رسول ہی نہیں مانتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →56 ہر قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہر قوم کی ہدایت و راہنمائی اور اس کی اصلاح و خیرخواہی کے لیے اس کے اندر رسول بھیجا مگر ان لوگوں نے حق سے منہ موڑ کر اپنی تباہی اور بربادی کی راہ ہی کو اپنایا۔ پس آج جو لوگ حق کو جھٹلاتے اور اہل حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے سے ہی ایسے ہوتا آیا ہے۔ پس آپ ﷺ تسلی رکھیں اور اسی طرح صبر و برداشت ہی سے کام لیں جس طرح کہ پہلے انبیائے کرام نے کیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
8 ۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جن کا سورة اعراف اور بعض دوسرے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ عصا بھی اگرچہ ان ہی نشانیوں میں سے تھا لیکن اس کی حیثیت چونکہ ان سب میں ممتاز تھی اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر ” سلطان مبین “ (کھلی سند) کے لفظ سے کیا گیا جیسے کہا جائے ” ملائکۃ اللہ و جبرئیل “ (اللہ کے فرشتے اور جبریل) یعنی تخصیص بعد تعمیم کے قبیل سے ہے۔
Read the full tafseer →(23:44) تترا۔ ای یتبع بعضہم بعضا۔ یکے بعد دیگرے ۔ پے درپے۔ متواتر تتر سے جس کے معنی کسی شے کے پے در پے آنے کے ہیں۔ الف تانیث کا ہے فرا کے نزدیک یہ تنوین کے عوض آیا ہے۔ جاء القوم تتری لوگ پے در پے آئے۔ اس کی اصل وتری ہے ایک ایک کر کے آنا۔
کلما۔ جب کبھی۔ یہ لفظ کل اور ما سے مرکب ہے۔ اس ترکیب میں لفظ کل ظرفیت کی وجہ سے ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے آیۃ ہذا یا کلما دعوتہم (71:7) جب کبھی میں نے ان کو دعوت دی (بلایا) ۔
امۃ۔ ای الی امۃ رسولھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب امت کے لئے ہے ! کذبوہ میں ضمیر جمع مذکر غائب امۃ (بمعنی جمع افراد امت) کے لئے ہے ہ کا مرجع رسول ہے۔ جب کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 :
لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی بےپرواہ ہے کہ اس کو کسی چیز کی پر اہ نہیں ہے لیکن رسول وقت کی بات کانہ ماننا اور رسول وقت کی فرمانبرداری کو مسخراپن میں اڑا کر رسول وقت کو غصہ دلانا ایسی اللہ کی ایک غصہ اور غضب اور وبال کی چیز ہے جو لوگ اس نافرمانی میں مبتلا ہوں ان کی وبال کی حالت پر باوجود اس بےپرواہی کے خود اللہ تعالیٰ نے حسرت اور افسوس کا اظہار فرمایا ہے چناچہ سورة یسین میں ارشاد ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بندوں کو رسولوں کے جھٹلانے کی حالت قابل افسوس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[21] یعنی ہر قوم جس نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی تھی اپنے مقررہ وقت پر ہلاک کی جاتی رہی۔ نہ اس سے ذرا پہلے نہ اس سے ذرا پیچھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
قوم ہود (علیہ السلام) کا آخرت سے انکار :
(ف 1) دنیا میں ہر وقت ایسے مادہ پرست لوگ موجود رہے ہیں جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہوتا ، اور جو چاہتے ہیں کہ انہیں افکار و اعمال میں پوری آزادی دے دی جائے ، وہ جو چاہیں کریں ، اور جو چاہیں کہیں ، ان کی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو ، وہ محض نفس کے بندے ہوئے ہیں ان کے سامنے صرف یہ نصب العین ہوتا ہے کہ جس طرح ہو ، دنیاوی زندگی عیش سے گزر جائے نہ انہیں اللہ کا ڈر ہوتا ہے ، اور نہ اعمال کی باز پرس کا خیال ، انکی رائے میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اخلاقی مقصد نہیں ، وہ ایک حیوان ہے جو کھاتا پیتا اور مرجاتا ہے بخلاف اس کے مذہب نے ہمیشہ…
Read the full tafseer →(44) پھر ہم پے در پے آگے پیچھے اپنے رسول بھیجتے رہے جب کسی قوم اور امت کے پاس اس کا رسول آیا تو وہ امت اس رسول کی تکذیب کرتی رہی اور اس کو جھٹلاتی رہی پھر ہم بھی ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کرتے رہے اور ہم نے ان ہلاک شدگان کو گزرے ہوئے افسانے کردیا اور قصہ ان نئی قوموں کے پاس اپنے رسول بھیجتے رہے اور ہر امت نے یہ شیوہ اختیار کیا کہ جب کوئی رسول ان کے پاس آیا تو عام لوگوں نے اس کو جھوٹا بتایا تو ہم بھی ایک امت کے بعد دوسری اس کی پیش رو امت کے ساتھ لگاتے رہے یعنی یکے بعد دیگرے ہلاک کرتے رے اور ان کو ماضی کی کہانیاں اور قصہ ہائے پارینہ بناتے رہے کہ آنے والوں کی زبان پر ان کی کہانیا رہ گئیں…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی وہ ایسے نیست و نابود ہوئے کہ بجز کہانیوں کے ان کا کچھ نام و نشان نہ رہا۔
Read the full tafseer →پھر پے درپے رسول آتے رہے اور اسی طرح ساری قوموں کے دور گزرتے رہے :
44۔ (تترا) کی اصل وت ر ہے اور وتر ایک کو کہتے ہیں اس طرح (تترا) کے معنی ہوئے پے در پے مسلسل ‘ یکے بعد دیگر آنا (تتر) سے جس کے معنی کسی چیز کے پے درپے آنے ہی کے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ قوموں کی تعداد میں جتنا بھی اضافہ ہوتا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت واصلاح کے اہتمام وانتظام میں بھی اسی رفتار سے اضافہ فرمایا یہاں تک کہ ایک ہی دور میں الگ الگ قوموں میں الگ الگ رسول بھی آئے اور ایک قوم میں ایک سے زیادہ رسول ونبی بھی ایک ہی دور میں بھیجے گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کی مکمل طور پر تائید کی اور کسی بات میں ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
Commentary
وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).
Read the full tafseer →38. That is, those who do not believe in the Messengers.
Read the full tafseer →