Explained with ayahs 42–44
اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی
ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے درپے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آگئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آگیا۔ تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورة یاسین میں فرمایا آیت (يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 30) 36۔ يس :30) افسوس ہے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة الْمُؤْمِنُوْن 37
اصل میں لفظ غُثَاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ کوڑا کرکٹ جو سیلاب کے ساتھ بہتا ہوا آتا ہے۔ اور پھر کناروں پر لگ لگ کر پڑا سڑتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
خلاصہ تفسیر
پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے اور امتوں کو پیدا کیا (جو کہ تکذیب رسول کے سبب وہ بھی ہلاک ہوئے اور ان کے ہلاک ہونے کی جو مدت علم الٰہی میں مقرر تھی) کوئی امت (ان امتوں میں سے) اپنی (اس) مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں نہ پیش دستی کرسکتی تھی اور نہ (اس مدت سے) وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے (بلکہ عین وقت پر ہلاک کئے گئے غرض وہ امتیں اول پیدا کی گئیں) پھر (ان کے پاس) ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے (ہدایت کے لئے) بھیجا (جس طرح وہ امتیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوئیں مگر ان کی حالت یہ ہوئی کہ) جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول (خدا کے احکام لے کر) آیا انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →قوموں کی اجل معین کا اندازہ اور قریش کو تنبیہ
میرے نزدیک یہاں عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے اور اوپر کی آیت اور اس آیت کے درمیان، وضاحت قرینہ کی بنا پر خلا بھی ہے۔ اگر محذوف کو کھول دیجیے اور خلا کو بھر دیجیے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان قوموں کی طرف ہم نے اپنے رسول بھیجے لیکن انہوں نے ان کی تکذیب کی جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ ہر قوم اپنی مہلت پوری کرچکنے کے بعد اپنے کیفر کردار کو پہنچی نہ کسی قوم پر اس کی اجل معین پوری ہونے سے پہلے عذاب آیا اور نہ کسی قوم کو اجل معین پوری ہوجانے کے بعد ایک منٹ کی مہلت علی قوموں کی ہلاکت کی اجل سے متعلق ہم دوسرے مقام میں…
Read the full tafseer →43-1یعنی سب امتیں بھی قوم نوح اور عاد کی طرح، جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو تباہ اور برباد ہوگئیں، ایک لمحہ آگے پیچھے نہ ہوئیں۔ جیسے فرمایا (ۭاِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ) 10۔ یونس :49)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
18: یعنی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کے لیے فنا ہونے کا جو وقت مقرر کر رکھا ہے، وہ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ثم انشانا لا یو منون (آیت نمبر 42 : 44)
یہاں پر دعوت اسلامی کی پوری تاریخ کا خلاصہ بیان کردیا جاتا ہے اور اس خلاصے میں اللہ کی اس سنت کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔ اس تاریخ کا اغاز قوم نوح اور قوم ہود ” عاد “ سے ہوا اور اختتام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ درمیان کے قرون کا یہ خلاصہ تھا اور سنت الہیہ یہ ہے :
ما تسبقا یستاخرون (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلادیا۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کی تکذیب کی۔
کلما کذبوہ (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے سے جھٹلا یا “۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کو جھٹلادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
5 یعنی ہر ایک قوم جس نے پیغمبروں کی تکذیب کی ٹھیک اپنے اپنے وعدہ پر ہلاک کی جاتی رہی، جو میعاد کسی قوم کی تھی ایک منٹ اس سے آگے پیچھے نہ ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت 41 فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ بالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَآءً ج ”
جیسے کھیت سے فصل کٹ جانے کے بعد پیچھے بھوسہ اور خس و خاشاک پڑے رہ جاتے ہیں اسی طرح انہیں جھاڑ جھنکاڑ اور کوڑے کرکٹ میں تبدیل کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
44 یعنی بالکل ٹھیک اسی وقت ان پر عذاب آیا جو وقت ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ یہاں ہیبت ناک چیخ کے عذاب سے بعض علماء نے یہ قیاس کیا ہے کہ یہ قصہ قوم عاد اولیٰ کا نہیں کیونکہ ان پر تند و تیز اور شدید سرد آندھی کا عذاب آیا تھا۔ بلکہ یہ قصہ عاد ثانی۔ یعنی ثمود) کی قوم کا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
اس آیت میں بالحق کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو انھیں سزا دی تو وہ ٹھیک ان کے گناہوں کی پاداش کے مطابق تھی۔ عدل و اصناف کا یہی تقاضا تھا اور اس سلسلہ میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوا۔
45 غثاء بمعنی کوڑا، کرکٹ، کچرا، خس و خاشاک۔ یعنی وہ ہمارے عذاب کی رو میں یوں بہہ گئے جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا…
Read the full tafseer →40۔ (وقت ہلاکت کے لحاظ سے) یعنی جس قوم کو جس وقت ہلاک ہونا ہی تھا وہ عین وقت معین پر ہلاک ہوئی۔ نہ اس سے ذرا پہلے نہ اس سے ذرا پیچھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →ما تسبق من امۃ اجلہا وما یستاخرون۔ (ان امتوں میں سے) کوئی امت نہ اپنی (ہلاکت کے) مقررہ
میعاد سے پہلے ہلاک ہوسکتی تھی نہ مقررہ وقت ہلاکت سے پیچھے (باقی) رہ سکتی تھی۔ یعنی ہلاکت کا جو وقت مقرر تھا نہ اس سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے نہ وقت مقرر کے بعد زندہ رہ سکتی تھی۔
Read the full tafseer →(43) ان امتوں میں سے کوئی امت نہ اپنی مقررہ مدت سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ اس سے پیچھے ہٹ سکتی ہے ،
Read the full tafseer →مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا۔۔ : یعنی کسی امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کی جو مدت مقرر کردی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے کم ٹھہرتی ہے نہ زیادہ۔ طبری نے فرمایا : ”یہ ہمارے نبی محمد ﷺ کی قوم کے مشرکوں کے لیے وعید ہے اور انھیں آگاہ کرنا ہے کہ ان کے کفر و شرک اور رسول کو جھٹلانے کے باوجود انھیں جو مہلت دی جا رہی ہے وہ اس لیے ہے کہ وہ اپنی مقرر کردہ مدت کو پہنچ جائیں، پھر ان پر اس کی گرفت آئے گی، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت نمبر 42-44
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانا من بعدھم یعنی ان کی ہلاکت کے بعد قرونا امتیں اخرین۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ اس کلام میں حذف ہے پس انہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ ماتسبق من امۃ اجلھا من صلہ ہے یعنی کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور پیچھے نہیں رہ سکتی جیسے اللہ کا ارشا ہے۔ فاذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ (الاعراف) تترا کا معنی ہے متواتر۔ بعض کو بعض کے پیچھے بھیجا ترغیب وترہیب کے لئے۔ اصمعی نے کہا : واترت کتبی علیہ۔ بعض کو بعض کے پیچھے رکھا مگر ان میں سے ہر دو کے درمیان وقفہ تھا۔ دوسرے علماء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ان کو ایک چیز کی طرح بنادیا (جیسے) درخت کی بےجان بوسیدہ چیز۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ایک بوسیدہ چیز۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ہم ان کو بوسیدہ سیا خشک خاک کی طرح بنا دیں گے سیلاب ان کو یوں اٹھائے گا جس طرح قوم ثمود کو اٹھایا تھا۔
Read the full tafseer →[ مَا : نہیں ] [ تَسْبِقُ : آگے نکل سکتی ] [ مِّنْ : سے ] [ اُمَّةٍ : بہترین امت ] [ اَجَلَهَا : اپنے وقت ] [ وَمَا : اور نہ ] [ يَسْتَاْخِرُوْنَ : وہ سب پیچھے رہ سکتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
قصہ بعض ایگر امم سابقہ بطریق اجمال
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرونا اخرین .... الیٰ .... فیعدا لقوم لا یؤمنون۔
(ربط) ان آیات میں اجمالاً حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب اور حضرت یونس اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصوں کی طرف اشارہ ہے چناچہ ان سب کا قصہ اسی ترتیب کے ساتھ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ پھر قوم عاد یا ثمود کے ہلاک ہونے کے بعد ہم نے دوسری امتیں پیدا کیں انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور مدت مقررہ پر ہلاک ہوئی۔ کوئی امت اپنی میعاد ہلاکت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ اس سے پیچھے رہ سکتی ہے بلکہ ٹھیک اس وقت ہلاک ہوئے جو خدا نے ان کے لیے مقرر کردیا تھا پھر ان کے بعد ہم نے پے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
37:۔ ” ثُمَّ اَنْشَانَا الخ “ ان کے بعد ہم نے کئی قرن آباد کیے اور ان میں اپنے پیغمبر بھیجے اور سرکش قوموں کو ہلاک کیا۔ ” مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ الخ “ ہر قوم کی ہلاکت کا جو وقت مقرر تھا اس وقت پر اسے ہلاک کردیا گیا نہ مقررہ وقت سے پہلے کسی قوم پر عذاب آیا اور نہ وقت معین میں تاخیر ہی ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔
اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی…
Read the full tafseer →مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَمَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ 43ۭ
سبق
أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ،
( س ب ق) السبق
اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…
Read the full tafseer →مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَمَا یَسْتَاْ خِرُوْنَ ۔ (المومنون : 43)
کوئی قوم اپنی اجل معین سے نہ بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ اس سے پیچھے ہی ہٹ سکتی ہے۔ )
غلط فہمی کے ازالے کے لیے سنت اللہ کا بیان
مختلف انبیائے کرام اور رسولانِ گرامی کی دعوت کی تکذیب کے نتیجے میں عذاب کا شکار ہونے والی امتوں کی تاریخ بیان کی جارہی ہے تاکہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ دنیا میں قوموں کی حیات وبقاء اور عزت وسرافرازی دنیوی وسائل کی فراہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آنے والے پیغامِ ہدایت کی قبولیت کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح دنیا کی تباہی دنیا کے وسائل کی کمی سے فیصلہ کن سطح کو نہیں پہنچتی بلکہ اس کا حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ھود کے بعد دوسری قوم کا معرض وجود میں آنا اور پنپنا :۔
اللہ تعالیٰ نے قوم ھود کے بعد ایک مدّت تک لوگوں کو پنپنے کا موقعہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف پے درپے کئی رسول بھیجے لیکن جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی۔ اس طرح ایک قوم دوسری قوم کے پیچھے چلتی رہی پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوئی اور اس پر عذاب نازل ہوا ان کی یاد قصہ کہانیوں کے سوا کچھ نہ رہی۔ کیونکہ یہ اپنے رب پر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ایک فیصلہ کر رکھا ہے جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو وہ لوگ نہ اس وقت سے آگے نکل سکتے ہیں اور نہ پیچھے رہ…
Read the full tafseer →43: مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ (نہیں سبقت کرتی کوئی امت)
نحو : من صلہ ہے ای ماتسبق امۃٌ۔
اَجَلَھَا (اپنے وقت مقررہ سے) وہ وقت جو اس کی ہلاکت کا مقرر ہے اور لکھا جاچکا ہے۔ وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ (ـاور نہ مقررہ میعاد سے پیچھے رہ سکتی ہے) اس سے وہ موخر نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →43۔ ماتسبق من امۃ اجلھا، جو مدت ان کے لیے مقرر تھی اس سے تقدیم و تاخیر نہیں ہوئی۔ من صلہ، ہے اس کی ہلاکت کے وقت ، ومایستاخرون ، اور نہ ہی ہلاکت سے پہلے ان کو موخر کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42۔ 43:۔ قوم ثمود اور قوم فرعون کے مابین میں جو قومیں گزری ہیں ‘ مختصر طور پر یہ ان کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا قوم ثمود کے بعد قوم لوط اور قوم شعیب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور باری باری سے قوم لوط کی ہدایت کے لیے لوط (علیہ السلام) کو اور قوم شعیب کی ہدایت کے لیے شعیب (علیہ السلام) کہ پیغمبر بنا کر بھیجا اور راہ راست پر آنے کے لیے ہر ایک قوم کو مہلت دی اور مہلت کے زمانہ میں اگرچہ ان قوموں نے طرح طرح سے سرکشی کی لیکن وقت مقررہ تک ان لوگوں کو ڈھیل دی گئی کیونکہ انتظام الٰہی میں وقت مقررہ سے پہلے نہ کوئی کام ہوتا ہے نہ وقت مقررہ آجانے کے بعد کسی کام میں کچھ دیر لگتی ہے اسی واسطے مہلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →55 ہر قوم اپنے وقت مقرر پر اپنے انجام کو پہنچ کر رہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بھی قوم اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکی ہے اور نہ اس سے پیچھے رہ سکی ہے "۔ بلکہ تکذیبِ حق اور مخالفت انبیاء کے جرم میں ہر امت ٹھیک اپنے اسی وقت پر ہلاک ہو کر رہی جو کہ ان کے لئے قضائے الہی میں طے اور مقدر ہوچکا تھا۔ اور قوموں کی اس مدت کو قدرت نے ان کے اخلاقی زوال کے پیمانے سے ناپ تول کر مقرر کیا ہوتا ہے۔ اور وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس قوم کا اخلاقی زوال اس حد تک کب پہنچتا ہے جب اس کی اس مدت مہلت کو ختم کردیا جائے۔ بہرکیف جب وہ مقررہ مدت ختم ہوجاتی ہے تو پھر کسی بھی قوم کو ایک منٹ سیکنڈ کیلئے بھی باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
7 ۔ یعنی اس کے لئے زندگی کی جو مدت اللہ نے مقرر کردی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے زیادہ ٹھہرتی ہے اور نہ کم۔
Read the full tafseer →(23:43) ما تسبق من امۃ اجلھا۔ ای ما تسبق امۃ من الامم اجلھا۔ کوئی قوم اپنی میعاد سے آگے نہیں بڑھ سکتی (پیش دستی نہیں کرسکتی) سبقت آگے بڑھنا۔
ما یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ دیر نہیں کرسکتے ضمیر جمع کا مرجع امۃ ہے جو باعتبار معنی جمع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 :
لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
(ف 1) قوم ثمود اور قوم فرعون کے مابین جو قومیں گزری ہیں مختصر طور پر ان کا حاصل یہ ہے کہ مثلا قوم ثمود کے بعد قوم لوط اور قوم شعیب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور باری باری سے قوم لوط کی ہدایت کے لیے لوط (علیہ السلام) کو اور قوم شعیب کی ہدایت ک لیے شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بناکربھیجا، اور راہ راست پر آنے کے لیے ہر ایک قوم کو مہلت دی، اور مہلت کے زمانہ میں اگرچہ ان قوموں نے طرح طرح کی سرکشی کی ، لیکن وقت مقررہ تک ان لوگوں کو ڈھیل دی گئی کیونکہ انتظام الٰہی میں وقت مقررہ سے پہلے نہ کوئی کام ہوتا ہے نہ وقت مقررہ آجانے کے بعد کسی کام میں کچھ دیرلگتی ہے اسی واسطے مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
[21] یعنی ہر قوم جس نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی تھی اپنے مقررہ وقت پر ہلاک کی جاتی رہی۔ نہ اس سے ذرا پہلے نہ اس سے ذرا پیچھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
قوم ہود (علیہ السلام) کا آخرت سے انکار :
(ف 1) دنیا میں ہر وقت ایسے مادہ پرست لوگ موجود رہے ہیں جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہوتا ، اور جو چاہتے ہیں کہ انہیں افکار و اعمال میں پوری آزادی دے دی جائے ، وہ جو چاہیں کریں ، اور جو چاہیں کہیں ، ان کی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو ، وہ محض نفس کے بندے ہوئے ہیں ان کے سامنے صرف یہ نصب العین ہوتا ہے کہ جس طرح ہو ، دنیاوی زندگی عیش سے گزر جائے نہ انہیں اللہ کا ڈر ہوتا ہے ، اور نہ اعمال کی باز پرس کا خیال ، انکی رائے میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اخلاقی مقصد نہیں ، وہ ایک حیوان ہے جو کھاتا پیتا اور مرجاتا ہے بخلاف اس کے مذہب نے ہمیشہ…
Read the full tafseer →(43) کوئی گروہ اور کوئی جماعت اپنے وقت مقررہ سے نہ آگے بڑھ سکی اور نہ وہ لوگ اس سے پیچھے رہ سکے یعنی جس نافرمان قوم کی ہلاکت کا جو وقت اور میعاد مقرر تھی اس میعاد سے نہ کوئی قوم پیش قدمی کرسکی اور نہ اس میعاد سے پیچھے رہ سکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 3۔ چونکہ صحیحہ سے ثمود کا معذب ہونا دوسری آیات میں بھی آیات ہے، اس قرینہ سے بعض نے تو اس کو ثمود کا قصہ سمجھا ہے، اور چونکہ اکثر جگہ بعد قوم نوح کے عاد کا قصہ آیا ہے، اس قرینہ سے بعض نے اس کو عاد کا قصہ سمجھا ہے، اور مراد صحیحہ سے عقوبت ہائلہ لی ہے، یا ممکن ہے کہ عاد پر بھی صحیحہ آیا ہو۔
Read the full tafseer →43۔ قوموں کی اجل معین کا اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس موجود تھا جب وہ وقت قریب آگیا اور انکی من مانیوں کے نتیجہ میں ان کی ہلاکت لازم ہوگئی تو اللہ نے وقت کے رسول یا نبی کو اس علاقہ سے ہجرت کا حکم دے دیا اور وارننگ کے طور پر اس کے ذریعہ سے یہ اعلان بھی کرا دیا کہ تمہارا وقت قریب آچکا ہے نیز ازیں بعد طے شدہ وقت کا اعلان کرا کر نبی ورسول کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی جب وہ نبی اور اس پر ایمان لانے والے اس علاقہ سے نکل گئے تو عین اپنے وقت پر عذاب الہی نازل ہونا شروع ہوگیا اور انجام کار اس قوم کو تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ، وضاحت کے لئے سورة ہود اور اس میں مذکور نبیوں کی مختصر سرگزشتوں کا مطالعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
Commentary
وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
37. Lexically, the word ghutha means the rubbish which is brought by flood waters and is deposited on the banks to rot there.
Read the full tafseer →