Explained with ayahs 31–41
عادوثمود کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة الْمُؤْمِنُوْن 37
اصل میں لفظ غُثَاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ کوڑا کرکٹ جو سیلاب کے ساتھ بہتا ہوا آتا ہے۔ اور پھر کناروں پر لگ لگ کر پڑا سڑتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ (اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔ پس مرنا جینا اسی دنیا کا ہے اور پھر دوبارہ زندہ ہونا نہیں) یہی قول عام کفار کا ہے جو قیامت کے منکر ہیں۔ یہ انکار جو زبان سے کرتے ہیں وہ تو کھلے کافر ہیں ہی، لیکن افسوس اور بہت فکر کی چیز یہ ہے کہ اب بہت سے مسلمانوں میں بھی عملی طور پر یہ انکار ان کے ہر قول و فعل سے مترشح ہوتا ہے کہ آخرت اور قیامت کے حساب کی طرف کبھی دھیان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس مصیبت سے نجات عطا فرماویں۔
Read the full tafseer →صیعۃ کا مفہوم
صیعۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں اور قرآن میں یہ عذاب الٰہی کی تعبیر کے لئے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے، خواہ وہ عذاب کسی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ اس کو سخت آواز کے عذاب کے ساتھ مخصوص کردینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
حق کا مفہوم
حق سے مراد یہاں وہ وعدہ حق ہے جو تکذیب کی صورت میں بشکل عذاب لازماً ظاہر ہونے والا تھا اور جس کی پیغمبر نے ان کو خبر دے دی تھی۔
غث کا مفہوم
لفظ غشآء قرآن مجید اور کلام عرب دونوں میں دو مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انشاء اللہ سورة اعلیٰ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل بحث کریں گے۔ یہاں یہ پامال شدہ خس و خاشاک کے مفہوم میں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی اس دعا کے بعد ان پر خدا…
Read the full tafseer →41-1یہ چیخ کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ کی چیخ تھی، بعض کہتے ہیں کہ ویسے ہی سخت چیخ تھی، جس کے ساتھ باد صر صر بھی تھی۔ دونوں نے مل کر ان کو چشم زدن میں فنا کے گھاٹ اتار دیا۔
41-2غُثْآءَ اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو سیلابی پانی کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں درختوں کے پتے، خشک تنے، تنکے اور اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جب پانی کا زور ختم ہوجاتا ہے، تو خشک ہو کر بیکار پڑے ہوتے ہیں، یہی حال ان منکرین اور متکبرین کا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…
Read the full tafseer →2 اس سے بظاہر مترشح ہوتا ہے کہ یہ قصہ " ثمود " کا ہے کہ وہ چنگھاڑ سے مرے ہیں۔ واللہ اعلم۔
3 جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا لے جاتا ہے، اس طرح عذاب الٰہی کے سیل میں بہے چلے گئے۔
4 یعنی خدا کی رحمت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت 41 فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ بالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَآءً ج ”
جیسے کھیت سے فصل کٹ جانے کے بعد پیچھے بھوسہ اور خس و خاشاک پڑے رہ جاتے ہیں اسی طرح انہیں جھاڑ جھنکاڑ اور کوڑے کرکٹ میں تبدیل کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
44 یعنی بالکل ٹھیک اسی وقت ان پر عذاب آیا جو وقت ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ یہاں ہیبت ناک چیخ کے عذاب سے بعض علماء نے یہ قیاس کیا ہے کہ یہ قصہ قوم عاد اولیٰ کا نہیں کیونکہ ان پر تند و تیز اور شدید سرد آندھی کا عذاب آیا تھا۔ بلکہ یہ قصہ عاد ثانی۔ یعنی ثمود) کی قوم کا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
اس آیت میں بالحق کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو انھیں سزا دی تو وہ ٹھیک ان کے گناہوں کی پاداش کے مطابق تھی۔ عدل و اصناف کا یہی تقاضا تھا اور اس سلسلہ میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوا۔
45 غثاء بمعنی کوڑا، کرکٹ، کچرا، خس و خاشاک۔ یعنی وہ ہمارے عذاب کی رو میں یوں بہہ گئے جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
37۔ یعنی ان قوموں کو ہلاک وبرباد کرنے کے بعد ان کے مسکنوں تک کو ویران کردیا۔ (آیت) ” بالحق “۔ سے مراد ہے اس صحیح وعدہ کے مطابق جو رسول سے ہوچکا تھا۔ اے بالوعد الصدق الذی وعدہ الرسول (روح) (آیت) ” الصیحۃ “۔ سے مراد آندھی بھی ہوسکتی ہے، زلزلہ بھی۔ غرض عذاب کی ہر صورت۔ (آیت) ” عما “۔ میں عن مرادف ہے بعد کا۔ عن بمعنی بعدھنا (روح) (آیت) ” قلیل “۔ کو زمان قلیل کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اے عن زمان قلیل (بیضاوی)
38۔ ظالم سے مراد کافر ومنکر کہیں۔ (آیت) ” بعدا “۔ عربی محاورہ میں یہ اسی موقع پر آتا ہے جیسے اردو میں ” خدا کی مار “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →فاخذتہم الصیحۃ بالحق فجلعنہم غثآء چناچہ ان کو ایک سخت چیخ (یعنی عذاب) نے موافق
(وعدۂ ) حق کے آپکڑا اور پھر ہم نے خس و خاشاک ( کی طرح پامال) کردیا۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ صیحۃ سے مراد ہے ہلاکت۔ قاموس میں ہے صیحۃ اور صیاح سخت چیخ۔ صِیْحَ بِہِمْان کو گھبرا دیا گیا۔ صِیْحَ فِیْہِمْوہ ہلاک ہوگئے اور صیحۃ عذاب کو بھی کہتے ہیں۔
اگر قَرْنًا اٰخَرِیْنَسے قوم عاد مراد ہو تو صیحۃ سے مراد ہوگا عذاب اور اگر یہ قصہ ثمود کا ہے تو صیحۃ سے مراد ہوگی چیخ۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے بیان کردیا ہے کہ آسمان سے ایک چیخ سنائی دی اور ہر چیز سے ایک چیخ نکلی اور بادل کا کڑکا بھی ہوا جس سے سب کے دل پھٹ گئے (قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(39۔ 40۔ 41) اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، اس تکذیب پر نزول سزا کے وقت عنقریب یہ پچھتائیں گے چناچہ ان کو جبریل امین کی آواز نے سخت عذاب کے ساتھ آپکڑا، پھر ہلاک کرنے کے بعد ہم نے ان کو خس و خاشاک کی مانند کردیا تو ان کافروں کے لیے اللہ کی مار اور رحمت خداوندی سے رسوائی اور محرومی ہے۔
Read the full tafseer →فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ : یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے ”فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ“ کا ترجمہ یہ کیا ہے : ”آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آدبوچا۔“ یعنی وہ وعدہ جو ”عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ“ کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ ”اَلْحَقُّ“ سے مراد قطعی امر بھی ہوسکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت نمبر 38-41
اللہ کا ارشاد ہے : ان ھو الا رجل : اس سے مراد وہ رسول لیتے تھے۔ افتری اس کا معنی ہے اس نے گھڑا۔ علی اللہ کذبا وما نحن لہ بمومنین۔ قال رب انصرنی بما کذبون۔ یہ پہلے گزر چکا ہے قال عما قلیل ما زائدہ موکدہ ہے یعنی عن قلیل۔ لیصبحن ندمین۔ وہ اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے لام۔ لام قسم ہے یعنی واللہ لیصبحن، فاخذتھم الصیحتہ تفاسیر میں ہے حضرت جبرائیل نے اس ہوا کے ساتھ ان پر چیخ ماری جس کے ساتھ اللہ نے انہیں ہلاک کردیا اور وہ سب مرگئے۔ فجعلنھم غثائ۔ ہلاک ہونے والے سیلاب کے خش و خاشاک کی طرح تھے۔ غثاء سے مراد وہ پرانے درخت، گھاس اور سر کنڈے ہوتے ہیں جو پرانے ہوجاتے ہیں اور ریزہ ریزہ ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ان کو ایک چیز کی طرح بنادیا (جیسے) درخت کی بےجان بوسیدہ چیز۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ایک بوسیدہ چیز۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فجعلنہم غثاء “ سے مراد ہے کہ ہم ان کو بوسیدہ سیا خشک خاک کی طرح بنا دیں گے سیلاب ان کو یوں اٹھائے گا جس طرح قوم ثمود کو اٹھایا تھا۔
Read the full tafseer →[ فَاَخَذَتْهُمُ : تو پکڑ لیا ان کو : الصَّيْحَةُ : چیخ ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ فَجَعَلْنٰهُمْ : تو ہم نے کر ڈالا انہیں ] [ غُثَاۗءً : کوڑا ] [ فَبُعْدًا : پس دوری ] [ لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
قصہ قوم عاد یا قوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
36:۔ ” قَالَ رَبِّ الخ “ جب حضرت ہود (علیہ السلام) عوام و خواص مشرکین کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے ان کی ہلاکت کی بد دعا کی۔ واعلم ان ذالک الرسول لما یئس من قبول الاکابر والاصاغر فزع الی ربہ وقال رب النصرنی بما کذبون فاجابہ اللہ فیما سال (کبیر ج 6 ص 284) ۔ ” قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ الخ “” عن “ بمعنی ” بعد “ ہے اور ” مَا “ نکرہ موصوفہ ہے اور ظرف ” لیصبحن “ سے متعلق ہے یا ” مَا “ زائدہ ہے (ابو السعود۔ روح) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا صبر کرو بہت تھوڑے سے وقت کے بعد ہی ان پر عذاب آنیوالا ہے جسے دیکھ کر وہ بہت نادم اور پشیمان ہوں گے۔ ” فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَةَ الخ “ چناچہ فورا ہی ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ربط آیت :
گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…
Read the full tafseer →فَاَخَذَتْہُمُ الصَّيْحَۃُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَاۗءً 0ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ 41
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْن۔ َ فَاَخَذَ تْہُمُ الصَّیْحَۃُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰھُمْ غُثَآئً ج فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المومنون : 40، 41)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب یہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہو کر رہیں گے۔ آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک سخت ڈانٹ نے ان کو آپکڑا۔ تو ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا۔ تو برباد ہوجائے وہ قوم جو ستم شعار ہے۔ )
دعا کی قبولیت
اللہ کے رسول کی دعا قبول ہوئی۔ تو اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اب اس قوم کی تباہی میں کوئی دیر نہیں عنقریب تم دیکھو گے کہ اللہ کی طرف سے ایسی گرفت ہوگی کہ انھیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ ہم نے اللہ کے رسول کی رسالت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مظالم پر حضرت ھود (علیہ السلام) کی اپنے رب سے مدد طلب کرنا :۔
حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم کے مظالم سے تنگ آکر اپنے رب کے حضور یہ کہہ کر مدد کی درخواست کی کہ میرے رب مجھے میری قوم نے جھٹلا دیا ہے اس لیے میری مدد فرما۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عنقریب تیری قوم کے لوگ پچھتائیں گے اور پھر یہی ہوا کہ ان کو ایک دھماکہ خیز چٹخارے نے آلیا۔ جس نے انہیں خس و خاشاک کی طرح ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ اس طرح اس قوم پر اللہ کی پھٹکار ہوئی۔ یہ لوگجسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی…
Read the full tafseer →چیخ کے ہلاکت :
41: فَاخََذَ تْھُمُ الصَّیْحَۃُ (ان کو چیخ نے آپکڑا) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری جس نے تمام کو تہس نہس کردیا۔ بِالْحِقِّ (حق کے موافق) اللہ تعالیٰ کے عدل کے مطابق۔ محاورہ میں کہتے ہیں : فلان یقضی بالحق ای بالعدل فلاں عدل سے فیصلے کرتا ہے۔ فَجَعَلْنٰھُمْ غُثَآئً (پس ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا) ان کی ہلاکت و تباہی کو غثاء سے تعبیر فرمایا۔ الغثائ اس کوڑا کر کٹ کو کہا جاتا ہے جو سیلاب کی روبہا کر لاتی ہے اور وہ پرانے پتے اور بوسیدہ ٹہنیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ فَبُعْدًا (پس دوری ہے) ہلاکت ہے محاورہ میں کہا۔ : بَعِدَ وَبَعَدَ و بُعدًا ای ھلک یہ ایسے مصادر ہیں جو اپنے افعال…
Read the full tafseer →41۔ فاخذتھم الصیحہ، عذاب کی چیخ و پکار ، بالحق، بعض نے کہا کہ ہلاک کرنے والی چیخ اور بعض نے کہا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری جس کے ذریعے سے ان کے دل پھٹ گئے۔ فجعلناھم غثائ، ہم نے ان کو ہلاک کردیاجی سے سیلابکے اوپر کوڑا کرکٹ بہہ کر آجاتا ہے ہم نے اس کوڑے کی طرح ان کو کردیا۔ فبعداللقوم الظالمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →53 ظالموں کے لیے لعنت و پھٹکار ۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی پھٹکار ۔ اور دوری ۔ ہے ظالم لوگوں کیلئے "۔ جو کہ اپنے خود اختیار کردہ کفر وعناد کے نتیجے میں اور تکذیبِ حق کی بناء پر دائمی طوق لعنت میں گرفتار اور ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا و ماخوذ ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حق سے اعراض و روگردانی اور حق کی تکذیب اور اس کا انکار ظلم ہے۔ جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں آخرت میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سب سے بڑے اور عظیم الشان و بےمثال مظہر جنت اور اس کی نعیم مقیم سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
7 ۔ یعنی اس کے لئے زندگی کی جو مدت اللہ نے مقرر کردی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے زیادہ ٹھہرتی ہے اور نہ کم۔
Read the full tafseer →(23:41) الصیحۃ۔ دراصل صحیح کے معنی آواز پھاڑنا کے ہیں۔ لکڑی چرنے یا کپڑے پھٹنے سے جو زور کے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو الصیاح کہتے ہیں۔ اس سے صیحۃ ہے بلند آواز، چیخ۔ پھر چیخ چونکہ گھبراہٹ کا باعث ہوتی ہے اس لئے صیحۃ بمعنی گھبراہٹ یا عذاب بھی استعمال ہوتا ہے۔
الصیحۃ بمعنی چیخ۔ کڑک۔ ہولناک آواز۔ چنگھاڑ ہے۔ یہ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر ہے اور حاصل مصدر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ صیحۃ صور (نرسنگھے) میں پھونکنے کی آواز کو بھی کہتے ہیں۔ صحیح مادہ۔ بالحق۔ یہ اخذتہم سے متعلق ہے یعنی وعدہ برحق کے موافق (چنگھاڑنے انہیں آلیا) ۔
غثائ۔ ہانڈی کی جھاگ اور اس کوڑا کرکٹ کو کہتے ہیں جسے سیلاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 :
لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔
(ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–42
[20] غالباً اس سے مراد قوم عاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
قوم ہود (علیہ السلام) کا آخرت سے انکار :
(ف 1) دنیا میں ہر وقت ایسے مادہ پرست لوگ موجود رہے ہیں جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہوتا ، اور جو چاہتے ہیں کہ انہیں افکار و اعمال میں پوری آزادی دے دی جائے ، وہ جو چاہیں کریں ، اور جو چاہیں کہیں ، ان کی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو ، وہ محض نفس کے بندے ہوئے ہیں ان کے سامنے صرف یہ نصب العین ہوتا ہے کہ جس طرح ہو ، دنیاوی زندگی عیش سے گزر جائے نہ انہیں اللہ کا ڈر ہوتا ہے ، اور نہ اعمال کی باز پرس کا خیال ، انکی رائے میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اخلاقی مقصد نہیں ، وہ ایک حیوان ہے جو کھاتا پیتا اور مرجاتا ہے بخلاف اس کے مذہب نے ہمیشہ…
Read the full tafseer →(41) لہٰذا ہمارے وعدئہ برحق کے مطابق ان کو ایک سخت ہولناک آواز نے آپکڑا پھر ہم نے ان کو خشک اور سوکھا ہوا کوڑا بنادیا پس ظالم لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے دوری ہو اور کافروں پر خدا کی مار ہو یعنی پیغمبر سے جو وعدہ ہم نے کیا تھا اس کے مطابق ان پر چیخ کا عذاب آیا ی صیحہ مطلقاً کوئی عذاب ہوکر کہیں ہوا ہو کہیں چیخ ہو کہیں زلزلہ ہو۔ بعض حضرات مفسرین نے قوم عاد مراد لیا ہے۔ اور بعض نے اس قصہ سے ثمود مراد لیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے یہ قصہ ہے ثمود کا کہ چنگھاڑ سے وہی مرے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 3۔ چونکہ صحیحہ سے ثمود کا معذب ہونا دوسری آیات میں بھی آیات ہے، اس قرینہ سے بعض نے تو اس کو ثمود کا قصہ سمجھا ہے، اور چونکہ اکثر جگہ بعد قوم نوح کے عاد کا قصہ آیا ہے، اس قرینہ سے بعض نے اس کو عاد کا قصہ سمجھا ہے، اور مراد صحیحہ سے عقوبت ہائلہ لی ہے، یا ممکن ہے کہ عاد پر بھی صحیحہ آیا ہو۔
Read the full tafseer →ایک سخت چیخ نے انکو ایسا آلیا کہ خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا :
41۔ ایک ہولناک آواز اٹھی اور ان لوگوں کو اس نے اس طرح لپیٹ میں لے لیا کہ اس کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیا ۔ (صیحۃ) صاح یصیح صیاحا کے معنی زور سے چیخنے کے ہیں لیکن حقیقت اس کی یہ ہے کہ لکڑی کے چرنے یا کپڑے کے پھٹنے سے جو زور سے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو (الصیاح) کہتے اور (صیحۃ) کا لفظ اس سے ہے اور چونکہ زور کی آواز سے اور وہ بھی جب اچانک آئے تو آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے یہ لفظ بمعنی گھبراہٹ اور سخت عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں یہ لفظ تقریبا تیرہ بار استعمال ہوا ہے (بالحق) سے مراد یہاں وہ وعدہ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
There is nothing but our worldly life. We die and we live and we are not to be raised again. - 23:37
This is the argument which the unbelievers advance when denying belief in the Day of Judgment. Those who deny it publicly are confirmed infidels, but it is very unfortunate that many Muslims also act in a manner that the same denial can be felt from their deeds and actions. They seem to be totally oblivious of the coming in of the Hereafter. May Allah Ta'ala grant them faith to release themselves from the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
37. Lexically, the word ghutha means the rubbish which is brought by flood waters and is deposited on the banks to rot there.
Read the full tafseer →