Explained with ayahs 31–41
عادوثمود کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
سورة الْمُؤْمِنُوْن 36 (الف)
یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے یہ لوگ منکر نہ تھے، ان کی بھی اصل گمراہی شرک ہی تھی، دوسرے مقامات پر بھی قرآن مجید میں اس قوم کا یہی جرم بیان کیا گیا ہے، ملاحظہ سورة اعراف آیت 70 ہود آیات 53۔ 54 حم السجدہ، آیت 14، الاحقاف، آیات 21، 22۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ (اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔ پس مرنا جینا اسی دنیا کا ہے اور پھر دوبارہ زندہ ہونا نہیں) یہی قول عام کفار کا ہے جو قیامت کے منکر ہیں۔ یہ انکار جو زبان سے کرتے ہیں وہ تو کھلے کافر ہیں ہی، لیکن افسوس اور بہت فکر کی چیز یہ ہے کہ اب بہت سے مسلمانوں میں بھی عملی طور پر یہ انکار ان کے ہر قول و فعل سے مترشح ہوتا ہے کہ آخرت اور قیامت کے حساب کی طرف کبھی دھیان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس مصیبت سے نجات عطا فرماویں۔
Read the full tafseer →پیغمبر کی مذکورہ دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ اب وعدہ الٰہی کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے اپنی اس رعونت پر یہ لوگ بہت جلد پچھتائیں گے
Read the full tafseer →40-1عما میں ما زائد ہے جو مجرور کے درمیان، قلت زمان کی تاکید کے لیے آیا ہے جیسے (فبما رحمتہ من اللہ) میں ما زائد ہے یعنی بہت جلد عذاب آنا ہے جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یعنی بہت جلد عذاب آنے والا ہے، جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…
Read the full tafseer →1 یعنی عذاب آیا چاہتا ہے جس کے بعد پچھتائیں گے، اور وہ پچھتانا نفع نہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت 38 اِنْ ہُوَ اِلَّا رَجُلُنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ”
اس نے اپنی نبوت و رسالت کے بارے میں جھوٹ گھڑ کر اللہ سے منسوب کردیا ہے۔
Read the full tafseer →43 یعنی ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی ان پر عذاب آنے والا ہے۔ جب یہ اس کے آثار دیکھ لیں گے تو اس وقت اپنی اس ہٹ دھرمی پر پچھتائیں گے لیکن اس وقت نہ انھیں پچھتانا کچھ کام دے گا اور نہ ایمان لانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
37۔ یعنی ان قوموں کو ہلاک وبرباد کرنے کے بعد ان کے مسکنوں تک کو ویران کردیا۔ (آیت) ” بالحق “۔ سے مراد ہے اس صحیح وعدہ کے مطابق جو رسول سے ہوچکا تھا۔ اے بالوعد الصدق الذی وعدہ الرسول (روح) (آیت) ” الصیحۃ “۔ سے مراد آندھی بھی ہوسکتی ہے، زلزلہ بھی۔ غرض عذاب کی ہر صورت۔ (آیت) ” عما “۔ میں عن مرادف ہے بعد کا۔ عن بمعنی بعدھنا (روح) (آیت) ” قلیل “۔ کو زمان قلیل کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اے عن زمان قلیل (بیضاوی)
38۔ ظالم سے مراد کافر ومنکر کہیں۔ (آیت) ” بعدا “۔ عربی محاورہ میں یہ اسی موقع پر آتا ہے جیسے اردو میں ” خدا کی مار “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →قال عما قلیل لیصبحن ندمین۔ اللہ نے فرمایا ‘ کچھ ہی وقت کے بعد یہ لوگ ضرور پشیمان ہوں گے۔
عَمَّا میں مازائد ہے جو مفہوم قلت کی تاکید کر رہا ہے یا نکرہ ہے اور قلیل اس کی صفت ہے یعنی تھوڑے وقت کے بعد مراد یہ ہے کہ جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ایسا عنقریب ہوجائے گا تو ضرور پشیمان ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(39۔ 40۔ 41) اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، اس تکذیب پر نزول سزا کے وقت عنقریب یہ پچھتائیں گے چناچہ ان کو جبریل امین کی آواز نے سخت عذاب کے ساتھ آپکڑا، پھر ہلاک کرنے کے بعد ہم نے ان کو خس و خاشاک کی مانند کردیا تو ان کافروں کے لیے اللہ کی مار اور رحمت خداوندی سے رسوائی اور محرومی ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ : ”قَلِيْلٍ“ کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے ”عَنْ“ کے ساتھ ”مَا“ کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت نمبر 38-41
اللہ کا ارشاد ہے : ان ھو الا رجل : اس سے مراد وہ رسول لیتے تھے۔ افتری اس کا معنی ہے اس نے گھڑا۔ علی اللہ کذبا وما نحن لہ بمومنین۔ قال رب انصرنی بما کذبون۔ یہ پہلے گزر چکا ہے قال عما قلیل ما زائدہ موکدہ ہے یعنی عن قلیل۔ لیصبحن ندمین۔ وہ اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے لام۔ لام قسم ہے یعنی واللہ لیصبحن، فاخذتھم الصیحتہ تفاسیر میں ہے حضرت جبرائیل نے اس ہوا کے ساتھ ان پر چیخ ماری جس کے ساتھ اللہ نے انہیں ہلاک کردیا اور وہ سب مرگئے۔ فجعلنھم غثائ۔ ہلاک ہونے والے سیلاب کے خش و خاشاک کی طرح تھے۔ غثاء سے مراد وہ پرانے درخت، گھاس اور سر کنڈے ہوتے ہیں جو پرانے ہوجاتے ہیں اور ریزہ ریزہ ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1۔ ابن جریر وابن المنزر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات “ یعنی بہت دور بہت دور ہے دوبارہ زندہ ہونا)
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ہیہات ہیہات لما تو عدون “ سے مراد ہے وہ اس کام کو دلوں میں بہت دور کی بات سمجھتے تھے۔ یعنی موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کو۔
Read the full tafseer →[ قَالَ : فرمایا ] [ عَمَّا : اس سے جو ] [ قَلِيْلٍ : بہت تھوڑی ] [ لَّيُصْبِحُنَّ : ضرور بالضرور وہ ہوجائیں گے ] [ نٰدِمِيْنَ : سب پچھتانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
قصہ قوم عاد یا قوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
36:۔ ” قَالَ رَبِّ الخ “ جب حضرت ہود (علیہ السلام) عوام و خواص مشرکین کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے ان کی ہلاکت کی بد دعا کی۔ واعلم ان ذالک الرسول لما یئس من قبول الاکابر والاصاغر فزع الی ربہ وقال رب النصرنی بما کذبون فاجابہ اللہ فیما سال (کبیر ج 6 ص 284) ۔ ” قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ الخ “” عن “ بمعنی ” بعد “ ہے اور ” مَا “ نکرہ موصوفہ ہے اور ظرف ” لیصبحن “ سے متعلق ہے یا ” مَا “ زائدہ ہے (ابو السعود۔ روح) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا صبر کرو بہت تھوڑے سے وقت کے بعد ہی ان پر عذاب آنیوالا ہے جسے دیکھ کر وہ بہت نادم اور پشیمان ہوں گے۔ ” فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَةَ الخ “ چناچہ فورا ہی ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ربط آیت :
گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…
Read the full tafseer →قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ 40ۚ
قل
القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60]
( ق ل ل ) القلۃ
والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْن۔ َ فَاَخَذَ تْہُمُ الصَّیْحَۃُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰھُمْ غُثَآئً ج فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المومنون : 40، 41)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب یہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہو کر رہیں گے۔ آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک سخت ڈانٹ نے ان کو آپکڑا۔ تو ہم نے ان کو خس و خاشاک کردیا۔ تو برباد ہوجائے وہ قوم جو ستم شعار ہے۔ )
دعا کی قبولیت
اللہ کے رسول کی دعا قبول ہوئی۔ تو اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اب اس قوم کی تباہی میں کوئی دیر نہیں عنقریب تم دیکھو گے کہ اللہ کی طرف سے ایسی گرفت ہوگی کہ انھیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ ہم نے اللہ کے رسول کی رسالت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مظالم پر حضرت ھود (علیہ السلام) کی اپنے رب سے مدد طلب کرنا :۔
حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم کے مظالم سے تنگ آکر اپنے رب کے حضور یہ کہہ کر مدد کی درخواست کی کہ میرے رب مجھے میری قوم نے جھٹلا دیا ہے اس لیے میری مدد فرما۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عنقریب تیری قوم کے لوگ پچھتائیں گے اور پھر یہی ہوا کہ ان کو ایک دھماکہ خیز چٹخارے نے آلیا۔ جس نے انہیں خس و خاشاک کی طرح ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ اس طرح اس قوم پر اللہ کی پھٹکار ہوئی۔ یہ لوگجسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی…
Read the full tafseer →40: قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کچھ ہی وقت کے بعد) ۔
نحو : ما زائدہ ہے یا ماؔ شئی کے معنی میں ہے یا مازمنٌ کے معنی میں ہے اور قلیلیہ ماؔ کا بدل ہے اور قسم کا جواب محذوف ہے۔ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَ (یہ لوگ ضرور پشیمان ہوں گے) جب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے جو عذاب ان پر اترے گا۔
Read the full tafseer →40۔ قال عما قلیل، اس سے مراد تھورے سے ماصلہ ہے۔ لیصبحن تو وہ ہوجائیں گے ، نادمین، کفر و تکذیب پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
51 پیغمبروں کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو کفار کی اس ہٹ دھرمی اور بہتان بازی اور الزام تراشی کے جواب میں پیغمبر نے رب سے دعا کی کہ " رب میری مدد فرما کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا "۔ کہ تو ہی ہے اے میرے مالک سب کی مدد کرنے والا اور ہر کسی کا حاجت روا و مشکل کشا اور فریاد رس۔ اور جب انبیاء و رسل بھی اسی وحدہ لاشریک کے محتاج ہیں اور ان میں سے بھی کوئی ہستی حاجت روا و مشکل کشا نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جسے حاجت روا و مشکل وغیرہ مانا جاسکے ؟ بہرکیف پیغمبر نے اپنے رب کے حضور دعاء کی کہ اے میرے رب ان لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے اور اب یہ میری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
5 ۔ اگر ” قرنا اخرین “ سے مراد قوم صالح ( علیہ السلام) (ثمود) ہو جیسا کہ علامہ طبری وغیرہ کا خیال ہے تو اس میں کچھ اشکال نہیں ہے۔ کیونکہ ” ثمود “ صیحہ سے ہلاک ہوئے ہیں لیکن اگر اس ” قرن “ سے مراد قوم عاد ہو جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے اور اوپر ذکر ہوا ہے تو یہ اشکال لازم آتا ہے کہ قوم ثمود تو باد صرصر سے ہلاک ہوئی ہے پھر یہاں اس ” صیحۃ “ سے کیا مراد ہے۔ اس کے جواب میں مفسرین (رح) نے لکھا ہے کہ باد صر صر کے عذاب کے ساتھ جبریل نے ایک چنگھاڑ ماری جس سے یکدم تمام کے تمام ختم ہوگئے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفس کے اس عذاب ہی کو ” صیحۃ “ سے تعبیر فرمایا ہو۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) 6 ۔ یعنی جو سزا…
Read the full tafseer →(23:40) عما قلیل۔ میں عن حرف جار ہے زمان مجرور محذوف ہے قلیل صفت ہے زمان موصوف کی۔ ما زائدہ ہے عما قلیل ای عن زمان قلیل تھوڑے عرصہ کے بعد ہی۔ عنقریب ہی۔
لیصبحن۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ اصباح (افعال) مصدر۔ فعل ناقص ۔ وہ ضرور ہی ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 :
لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔
(ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–42
[20] غالباً اس سے مراد قوم عاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
قوم ہود (علیہ السلام) کا آخرت سے انکار :
(ف 1) دنیا میں ہر وقت ایسے مادہ پرست لوگ موجود رہے ہیں جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہوتا ، اور جو چاہتے ہیں کہ انہیں افکار و اعمال میں پوری آزادی دے دی جائے ، وہ جو چاہیں کریں ، اور جو چاہیں کہیں ، ان کی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو ، وہ محض نفس کے بندے ہوئے ہیں ان کے سامنے صرف یہ نصب العین ہوتا ہے کہ جس طرح ہو ، دنیاوی زندگی عیش سے گزر جائے نہ انہیں اللہ کا ڈر ہوتا ہے ، اور نہ اعمال کی باز پرس کا خیال ، انکی رائے میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اخلاقی مقصد نہیں ، وہ ایک حیوان ہے جو کھاتا پیتا اور مرجاتا ہے بخلاف اس کے مذہب نے ہمیشہ…
Read the full tafseer →(40) اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھوڑے ہی دن جاتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے کئے پر پچھتاتے ہوں گے یعنی زیادہ دیر نہیں ہے کہ ان پر عذاب آئے گا اور یہ پچھتا رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 2۔ تو بھلا ایسا شخص کہیں قابل اطاعت و اتباع ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →بارگاہ ایزدی سے رسول کو جواب کہ عنقریب یہ لوگ نادم ہو کر رہ جائیں گے :
40۔ یہ ندامت وہ ندامت نہیں جس ندامت سے نادم ہونے والے کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ یہ وہ ندامت ہے جو فرعون کو مرتے وقت ہوئی تھی اور اس نے ڈوبتے ہوئے کہا تھا کہ ” میں یقین کرتا ہوں کہ اس ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں بھی اسی کے فرمانبرداروں میں ہوں “ کیا یہ اس کی بات ندامت کی بات نہیں تھی ؟ لیکن اس کو کوئی فائدہ ہوا ؟ بلاشبہ نہیں ہوا اس طرح کی ندامت کا ذکر اس جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ اے رسول ! اب وعدہ الہی کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے اپنی رعونیت پر یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
There is nothing but our worldly life. We die and we live and we are not to be raised again. - 23:37
This is the argument which the unbelievers advance when denying belief in the Day of Judgment. Those who deny it publicly are confirmed infidels, but it is very unfortunate that many Muslims also act in a manner that the same denial can be felt from their deeds and actions. They seem to be totally oblivious of the coming in of the Hereafter. May Allah Ta'ala grant them faith to release themselves from the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
36. Some commentators have wrongly opined that the chiefs exchanged these remarks against the Messenger between themselves. These remarks in fact were addressed to the common people. When the chiefs felt that the message was spreading among the common people and there was a real danger that they would be influenced by the pure character of the Messenger and that their superiority then would automatically come to an end, they began to delude them by raising such objections against him. It is worth while to note that both the chiefs of the people of Noah and the chiefs of the people of Aad…
Read the full tafseer →