Explained with ayahs 31–41
عادوثمود کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 35
یہ خصوصیات لائق غور ہیں پیغمبر کی مخالفت کے لیے اٹھنے والے اصل لوگ وہ تھے جنہیں قوم کی سرداری حاصل تھی۔ ان سب کی مشترک گمراہی یہ تھی کہ وہ آخرت کے منکر تھے، اس لیے خدا کے سامنے کسی ذمہ داری و جواب دہی کا انہیں اندیشہ نہ تھا، اور اسی لیے وہ دنیا کی اس زندگی پر فریفتہ تھے اور " مادی فلاح و بہبود " سے بلند تر کسی قدر کے قائل نہ تھے۔ پھر اس گمراہی میں جس چیز نے ان کو بالکل ہی غرق کردیا تھا وہ خوشحالی و آسودگی تھی جسے وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ وہ عقیدہ، وہ نظام اخلاق، اور وہ طرز زندگی غلط بھی ہوسکتا ہے جس پر چل کر انہیں دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
خلاصہ تفسیر
پھر (قوم نوح کے بعد) ہم نے دوسرا گروہ پیدا کیا (مراد عاد ہے یا ثمود) پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں کے تھے (مراد ہود ؑ یا صالح علیہ السلام) ہیں، ان پیغمبر نے کہا کہ) تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود (حقیقی) نہیں، کیا تم (شرک سے) ڈرتے نہیں ہو، اور (ان پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں سے جو رئیس تھے جنہوں نے (خدا اور رسول کے ساتھ) کفر کیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں…
Read the full tafseer →متکبرین کے استکساری
ملا کی وضاحت آیت 24 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں ان متکربین کی بعض ایسی صفات بیان ہوئی ہیں جن سے ان کے طغیان اور رعونت کے اصل سبب پر روشنی پڑتی ہے۔ ان میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت اور آخرت میں خدا کے آگے پیشی کے منکر و مکذب تھے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ان کو دنیا میں جو رفاہیت و خوش حالی حاصل ہوئی ان کے لئے فتنہ بن گئی۔ انہوں نے سمجھا کہ ان کی یہ دنیاوی کامیابیاں ان کے عمل اور عقیدہ کی صحت کی دلیل میں، آخرت اول تو ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو جو کچھ ان کو یہاں حاصل ہے کوئی وجہ نہیں کہ وہ آخرت میں اس سے محروم ہوجائیں۔ اس دولت و رفاہیت کے سبب سے وہ اپنے اوپر کسی کی برتری تسلیم…
Read the full tafseer →33-1یہ سردار قوم ہی ہر دور میں انبیاء و رسل اور اہل حق کو جھٹلاتے ہیں، جس کی وجہ سے قوم کی اکثریت ایمان لانے سے محروم رہتی۔ کیونکہ یہ نہایت با اثر لوگ ہوتے تھے، قوم انھیں کے پیچھے چلنے والی ہوتی تھی۔
33-2یعنی عقیدہ آخرت پر عدم ایمان اور دنیاوی آسائشوں کی فروانی، یہ دو بنیادی سبب تھے، اپنے رسول پر ایمان نہ لانے کے۔ آج بھی باطل انھیں اسباب کی بنا پر اہل حق کی مخالفت اور دعوت حق سے گریز کرتے ہیں۔
33-3چناچہ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ تو ہماری ہی طرح کھاتا پیتا ہے۔ یہ اللہ کا رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ جیسے آج بھی بہت سے مدعیان اسلام کے لیے رسول کی بشریت کا تسلیم کرنا نہایت گراں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…
Read the full tafseer →5 یعنی اس کے معتقد نہ تھے کہ مرنے کے بعد ایک دن خدا سے ملنا ہے۔ بس دنیا کی زندگی اور اس کا عیش و آرام ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔
6 یعنی بظاہر کوئی بات اس میں تم سے سوا نہیں۔
Read the full tafseer →وَاَتْرَفْنٰہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا ”
قوم نوح علیہ السلام کے سرداروں کی طرح اس قوم کے بڑے سرداروں نے بھی اپنے عوام کو اسی منطق سے مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ :
Read the full tafseer →38 انبیاء کی دعوت کی زد چونکہ چودھری قسم کے لوگوں پر ہی پڑتی ہے اور انھیں اپنی سرداریاں خطرہ میں پڑتی نظر آتی ہیں۔ اس لئے انبیاء کے اولین مخالف یہی لوگ ہوتے ہیں۔ اور عام لوگوں میں چونکہ انھیں کا اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ لہذا انبیاء کی دعوت کے مقابلہ انھیں عوام سے سرکھپانا پڑتا ہے۔ تاکہ وہ انبیاء کی دعوت قبول کرکے ان کے دائرہ اثر سے باہر نہ ہوجائیں۔ مشرکین مکہ کی طرح قوم عاد بھی اخروی زندگی کی منکر تھی۔ اور مال و دولت کی فراوانی اور آسودگی کی زندگی نے ان سرداروں کو بالکل خدا فراموش بنا رکھا تھا۔ اور ان کا منتہائے مقصود صرف دنیا کا مال و دولت اور اس کا حصول تھا۔
39 نبی کی دعوت کے مقابلہ میں جس بات…
Read the full tafseer →32۔ یہ آیت (دوسری متعدد آیات کی طرح) اس باب میں نص ہے کہ دولت و خوشحالی کفر وشرک کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے۔ آج جو خامکار مصلحین اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ دنیوی اور مادی ترقیاں اسلام صحیح ہی سے پیدا ہوسکتی ہیں۔ وہ اس آیت کو اور ایسے ہی بہت سے دوسرے نصوص کو کیا کریں گے ؟
33۔ منکرین ومکذبین کی سب سے بڑی دلیل پہلے بھی یہی رہی ہے اور اب بھی یہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مادی حیثیت سے ہم اور نبی یکساں ہیں۔ طبعی حاجتوں کے لحاظ سے ہم میں اس میں کوئی فرق ہی نہیں وہ ہماری ہی طرح کھاتا پیتا، چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، لیٹتا بیٹھتا ہے تو اسے ہم نبی کیسے مان لیں ؟ ” خدا کا اوتار تو ہوسکتا ہے جو عجیب و غریب کرشمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…
Read the full tafseer →وقال الملا من قومہ الذین کفروا وکذبوا بلقآء الاخرۃ واترفنہم فی الحیوۃ الدنیا ما ہذا الا بشر مثلکم اور (پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں جو سردار تھے جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کے آنے کو
جھٹلایا تھا اور دنیوی زندگی میں ہم نے ان کو عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ یہ تو تمہاری طرح ایک معمولی آدمی ہے۔
بِلِقَآءِ الْاٰخِرَۃِیعنی قیامت اور قیامت کے عذاب وثواب کے منکر تھے۔
اَتْرَفْنٰہُمْہم نے ان کو خوش عیش بنایا تھا ‘ مال و اولاد کی کثرت عطا کی تھی۔
مِّثْلُکُمْتم جیسا ہے یعنی انسانی احوال و اوصاف میں تمہاری طرح ہے۔
یاکل مما تاکلون منہ ویشرب مما تشربون۔ جو تم کھاتے ہو وہی یہ بھی کھاتا ہے اور جو…
Read the full tafseer →(33) ان پیغمبر کی قوم میں سے جو رئیس تھے اور جنہوں نے کفر کرلیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو مال و اولاد بھی دیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ رسول تو تمہاری طرح ایک عام آدمی ہیں یہ وہی کھاتے ہیں جو کہ تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں جیسا کہ تم پیتے ہو۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : اس آیت میں ان کے سرداروں کی اپنے رسول کو بشر کہہ کر جھٹلانے کی دو بڑی وجہیں بیان ہوئی ہیں، ایک یہ کہ وہ آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور دوسری یہ کہ انھیں دنیا میں وسیع خوش حالی حاصل تھی۔ ”تَرَفٌ“ کا معنی وسیع خوش حالی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ میں سے حدیث کے منکر کا بھی یہی حال بیان کیا کہ اس کے انکار میں اس کی خوش حالی اور فارغ البالی کا دخل ہوگا۔ مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلَا إِنِّيْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ ، أَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
آیت نمبر 33-35
اللہ کا ارشاد ہے : وقال الملا۔ الملاء سے مراد اشراف، قائدین اور رئو وساء ہیں۔ من قومہ الذین کفرو وکذبو بلقاء الاخرۃ مراد دوبارہ اٹھنا اور حساب ہے۔ واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا ہم نے ان پر دنیا کی نعمتوں میں وسعت کردی حتیٰ کہ وہ اکڑ گئے اور اپنی خوشحالی کیوجہ سے کہنے لگے۔ ما ھذا الا بشر مثلکم یا کل مما تاکلون منہ ویشرب مما تشربون۔ من حذف ہے یعنی مما تشربون منہ۔ یہ بصریوں کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک حذف کی احتیاج نہیں ہے۔ کیونکہ ماجب مصدر یہ ہو تو ضمیر عائد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر تو ما کو بمعنی الذی بنائے گا تو مفعول کو حذف کرے گا من کے اضمار کی پھر بھی ضرورت نہیں۔ ولئن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قرنا “ سے مراد ہے امت (یعنی قوم)
Read the full tafseer →[ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ مِّنْ قَوْمِهِ : اس کی قوم میں سے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ كَفَرُوْا : سب نے کفر کیا ] [ وَ : اور ] [ كَذَّبُوْا : ان سب نے جھٹلایا ] [ بِلِقَاۗءِ : ملاقات کو ] [ الْاٰخِرَةِ : آخرت ] [ وَاَتْرَفْنٰهُمْ : اور ہم نے خوشحال رکھا تھا انہیں ] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی میں ] [ مَا : نہیں ] [ ھٰذَآ اِلَّا : یہ مگر ] [ بَشَرٌ : ایک انسان ] [ مِّثْلُكُمْ : تمہاری مثل ] [ يَاْكُلُ : وہ کھاتا ہے ] [ مِمَّا : اس سے جو ] [ تَاْكُلُوْنَ : تم سب کھاتے ہو ] [ مِنْهُ : اس سے ] [ وَيَشْرَبُ : اور وہ پیتا ہے ] [ مِمَّا : اس سے جو ] […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
قصہ قوم عاد یا قوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
32:۔ ” وَ قَالَ الْمَلَاُ الخ “ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے مشرکین نے وہی کچھ کہا جو دعوت نوح (علیہ السلام) کے جواب میں ان کی قوم کے رؤسا کہہ چکے تھے۔ ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ “ وہ توحید کے بھی منکر تھے اور قیامت کے بھی۔ ” وَ اَتْرَفْنٰھُمْ الخ “ ہم نے ان کو دنیوی انعامات سے مالا مال کر رکھا تھا۔ یعنی نعمنا ھم و وسعنا علیھم فی الحیاۃ الدنیا (خازن ص 37) ۔ ہم نے ان کو دنیا میں انعام و اکرام سے نوازا مگر انہوں نے ہمارے پیغام توحید کا سختی سے مقابلہ کیا اور ضد وعناد سے اس کا انکار کیا۔
33:۔ ” مَاھٰذَا الخ “ روساء مشرکین نے عوام سے کہا یہ پیغمبر تو تم جیسا بشر ہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
ربط آیت :
گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ الْاٰخِرَۃِ وَاَتْرَفْنٰہُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0ۙ مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ 0ۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْہُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ 33۠ۙ
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ،
( م ل ء ) الملاء
۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّ بُوْا بِلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ وَاَتْرَفْنٰھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لا مَاھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ لا یَاْکُلُ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ ۔ وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ لا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (المومنون : 33، 34)
تو ان کی قوم کے سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا اور ہم نے دنیا کی زندگی میں انھیں خوشحالی دے رکھی تھی، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی مانند ایک بشر ہے یہ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو۔ اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اور اگر تم پیروی کرنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا ردّ عمل :
جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے نمائندوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا یا اور ان پر الزامات لگائے یہی وطیرہ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں نے ان کے ساتھ اختیار کیا۔ کیونکہ لیڈر حضرات دنیوی نفع و نقصان کے حوالے سے زیادہ شعور رکھتے ہیں اور وہی مفادات اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں اس لیے دعوت توحید کی مخالفت میں دنیا پرست مذہبی پیشوا اور لیڈر مخالفت میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح قیادت سے لوگوں کو متنفر کرتے ہیں ان کی مخالفانہ تحریک کے پیچھے دو باتیں کار…
Read the full tafseer →33: وَقَالَ الْمَلَا ُٔ مِنْ قَوْمِہٖ (ان کی قوم کے سرداروں نے کہا)
وائو کو مقدم کرنے کی وجہ :
اعراف و ہود میں قوم ہود کی بات بغیر وائو ذکر کیا۔ کیونکہ وہ وہاں سائل کے سوال کو مقدر مان کر جواب میں لایا گیا : قال فما قال قومہ ؟ ان کی قوم نے کیا جواب دیا تو جواب دیا گیا انہوں نے یہ یہ کہا۔ اور یہاں وائو کے ساتھ لائے کیونکہ اس کا عطف اس پر ہے جو انہوں نے اس وقت کہا جب ان کو رسول نے کہا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس حق اور باطل کے حصول میں جمع ہوگئے۔ اور نبی ﷺ کا جواب ان کے کلام سے متصل نہیں اور فاءؔ سے بھی نہیں لائے۔ البتہ فاءؔ کے ساتھ قصہ نوح (علیہ السلام) میں لائے۔ کیونکہ یہ ان کے اس قول کا جواب ہے جو…
Read the full tafseer →33۔ وقال الملاء من قومہ الذین کفروا وکذبوا بلقاء الاخرۃ۔ جب آخرت میں پہنچ جائیں گے۔ واترفناھم ، ہم نے ان پر نعمت کی اور ان پر وسعت کی۔ فی الحیوۃ الدنیا ماھذا الابشرمثلکم یا کل مماتاکلون منہ ویشرب مماتشربون، اس سے وہ پیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–49
(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
42 حضرت نوح کے بعد رسول کی آمد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان میں ہم نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا "۔ جو کہ اللہ پاک کی قدیمی سنت اور ہمیشہ کا دستور رہا کہ ہر قوم کا پیغمبر انہی میں سے ہوا ہے۔ سو اسی بناء پر قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف حضرت ھود اور حضرت صالح کو رسول بنا کر بھیجا گیا جن کی سرگزشتیں پہلے گزر چکی ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت نوح کے بعد جن قوموں کو اٹھایا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بھی اپنے رسول بھیجے تاکہ وہ ان کو حق و ہدایت کی تعلیمات مقدسہ سے آگاہ کرسکیں۔ کیونکہ حق و ہدایت کی ضرورت انسان کے لیے اس کی دوسری تمام جسمانی اور مادی ضرورتوں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔
(بندہ اور اللہ کا بندہ)
اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
1 ۔ یعنی اس سے بڑھ کر تمہاری ذلت کیا ہوگی کہ باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرنے لگو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(23:33) اترفناہم ماضی جمع متکلم ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو آرام دیا۔ ہم نے انہیں عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رکھا تھا۔ اتراف افعال۔ مصدر۔ الترفۃ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں۔
ما ھذا الا بشرتا وما نحن لہ بمؤمنین (تا آیۃ 38) الملا کا کلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 :
لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔
(ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–42
[20] غالباً اس سے مراد قوم عاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(ف 2) اس ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو خیر و برکت سے نوازا اور وہ ساری دنیا میں پھیل گئے پھر ان ہی میں سے ایک ان میں رسول بھیجا جس نے اسی پیغام کو دہرایا اور وہی نغمہ توحید سنایا ، جس کو اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) بارہا سنا چکے تھے ، اور عجیب بات ہے کہ ان کو اسی قسم کے سرداروں سے وہی جواب سننا پڑا ، جو نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ، کہ تم آخر ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ، تم میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں ؟ کہ تمہیں رسول اور پیغمبر جانیں ۔
یہ واقعات اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ حضور ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک ہے اس کی دعوت ایک ہے…
Read the full tafseer →(33) اور اس توحید کی دعوت کو سن کر اس پیغمبر کی قوم کے وہ رئوسا اور سردار جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کے پیش آنے اور آخرت سے ملاقات کرنے کی تکذیب کی تھی اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو خوش حال کیا تھا اور آسودگی دی تھی ان سرداروں نے عوام سے کہا یہ مدعی نبوت بھی بس تم جیسا آدمی ہے جو کچھ تم کھاتے ہو اسی قسم کی چیزیں یہ بھی کھاتا ہے اور یہ بھ وہی پیتا ہے جس قسم سے تم پیتے ہو یعنی تم میں اور اس میں کیا فرق ہے کھانا پینا اور معاشرتی زندگی سب کی یکساں ہیں یہ بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 8۔ مراد ہود (علیہ السلام) یا صالح (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →ساری کافر قوموں نے ایک ہی جیسا سوال اٹھایا کہ کبھی بشر رسول نہیں ہوسکتا :
33۔ آدم (علیہ السلام) کے بعد جتنے رسولوں کا نام لے کر ذکر کیا اور جن کا بغیر نام کے ذکر ہوا سب کے متعلق یہ بیان کیا گیا کہ ہر رسول کی قوم نے رسول کو ماننے سے اس لئے انکار کیا کہ انہوں نے رسول کو بشر و انسان پایا اور سب سے پہلا اعتراض ان کا یہی تھا کہ تم آخر ہو کیا ؟ ایک بشر ہی تو ہو پھر ہم بھی بشر اور تم بھی بشر اس لئے ہم تمہاری رسالت کو کیونکر قبول کرلیں جب کہ ہم اپنے آباؤ اجداد سے سنتے آرہے ہیں کہ رسول کبھی بشر نہیں ہوتا ۔ سورة بنی اسرائیل میں ان میں سے بعض کا یہ اعتراض بھی نقل کیا جا چکا ہے کہ یہ تو کھاتا ہے جیسے ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
In the earlier verses the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told who was sent to his people to guide them along the path of righteousness and the following verses contain a brief account of some other prophets without mentioning their names and the people for whose guidance they were sent. From certain references and allusions the commentators have concluded that the verses refer to Sayyidna Hud (علیہ السلام) or Sayyidna Salih (علیہ السلام) who were sent for the guidance of the tribes of 'Ad and Thamud respectively. In the present story both these tribes are reported to have perished as…
Read the full tafseer →35. It should be noted that all those people who opposed the Messengers had three common characteristics: (1) They were the chiefs of their people. (2) They denied life in the Hereafter. (3) They were prosperous in the worldly life. Obviously, they loved the life of this world and could never conceive that their way of life, which had made them chiefs and brought prosperity, could ever be wrong. Therefore they opposed their Messengers, who took away their peace of mind, by preaching that there was a life-after-death and they shall have to render an account to Allah of what they did in this…
Read the full tafseer →