Al-Muminoon 23:32

Al-Muminoon · from ayah 32

23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ— اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ۟۠فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ

اور ان ہی میں سے ان میں ایک پیغمبر بھیجا (جس نے ان سے کہا) کہ خدا ہی کی عبادت کرو (کہ) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We sent among them a messenger from themselves, [saying], "Worship Allah; you have no deity other than Him; then will you not fear Him?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:32

پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان ہی میں سے ان میں ایک پیغمبر بھیجا (جس نے ان سے کہا) کہ خدا ہی کی عبادت کرو (کہ) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم کیوں نہیں ڈرتے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے درمیان انہی میں کے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ (جس نے کہا) کہ : اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ بھلا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو ہم نے ان میں (بھی) انہی میں سے رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان میں انھی سے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو ان کی طرف انھیں میں سے ایک رسول بھیجا، (جس نے انھیں کہا کہ) اس اللہ کی عبادت کرو جس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان میں بھی ایک رسول انہی میں سے اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان میں بھی ہم نے انہی میں کا ایک رسول بھیجا اس نے بھی ان کو یہی دعوت دی کہ تم سب لوگ اللہ ہی کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے ان کی طرف ایک پیغمبر کو انہیں میں سے بھیجا (یہ پیام دے کر) کہ اللہ ہی پرستش کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ان میں بھی ہم نے ایک رسول ؑ بھیجا انہی میں سے (اُس ؑ نے بھی یہی کہا) کہ بندگی کرو اللہ کی اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جس نے ان سے کہا کہ ”اللہ ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں“ ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We sent among them a Messenger from among themselves, saying: "Serve Allah; you have no god other than He. Do you have no fear?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and sent among them a messenger from themselves (to convey the message): :Worship Allah; you have no god whatsoever other than Him. So do you not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

and sent among them a messenger from themselves (to convey the message): :Worship Allah; you have no god whatsoever other than Him. So do you not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We sent to them a Messenger from among themselves (saying): "Worship Allah! You have no other God but Him. Will you not then have Taqwa"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we sent among them a messenger of their own, saying: Serve Allah, Ye have no other Allah save Him. Will ye not ward off (evil)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We sent among them a messenger from themselves, [saying], "Worship Allah; you have no deity other than Him; then will you not fear Him?"

— Saheeh International

We sent to them a Messenger from among their own people who told them, "Worship God; He is your only Lord. Will you then not have fear of Him?"

— Muhammad Sarwar

So We sent among them an apostle from among them, saying: Serve Allah, you have no god other than Him; will you not then guard (against evil)?

— Muhammad Habib Shakir

Then We sent amongst them an apostle from amongst themselves, saying: worship Allah, for you there is no god but he; will ye then not fear Him?

— Abdul Majid Daryabadi

And We sent to them a messenger from among themselves, (saying), "Worship Allah! ye have no other god but Him. Will ye not fear (Him)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–41

عادوثمود کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–32

سورة الْمُؤْمِنُوْن 34 بعض لوگوں نے اس سے مراد قوم ثمود لی ہے، کیونکہ آگے چل کر ذکر آ رہا ہے کہ یہ قوم صیحہ کے عذاب سے تباہ کی گئی، اور دوسرے مقامات پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ثمود وہ قوم ہے جس پر یہ عذاب آیا، (ہود، 67۔ الحجر، 83۔ القمر، 31)۔ بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ذکر دراصل قوم عاد کا ہے، کیونکہ قرآن کی رو سے قوم نوح کے بعد یہی قوم اٹھائی گئی تھی، وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (اعراف۔ آیت 69)۔ صحیح بات یہی دوسری معلوم ہوتی ہے، کیونکہ " قوم نوح کے بعد " کا اشارہ اسی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ رہا صَیْحَہ (چیخ، آواز، شور، ہنگامہ عظیم) تو محض اس کی مناسبت اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–36

خلاصہ تفسیر پھر (قوم نوح کے بعد) ہم نے دوسرا گروہ پیدا کیا (مراد عاد ہے یا ثمود) پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں کے تھے (مراد ہود ؑ یا صالح علیہ السلام) ہیں، ان پیغمبر نے کہا کہ) تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود (حقیقی) نہیں، کیا تم (شرک سے) ڈرتے نہیں ہو، اور (ان پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں سے جو رئیس تھے جنہوں نے (خدا اور رسول کے ساتھ) کفر کیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت ہود اور حضرت صالح کی طرف اشارہ یہ ان رسولوں کی طرف اشارہ ہے جو عاد وثمود کی طرف بھیجے گئے۔ یعنی حضرت ہود اور حضرت صالح کی طرف جن کی سرگزشتیں سورة ہود اور سورة اعراف میں گزری چکی ہیں۔ ان اعبدواللہ میں ان سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ یعنی اس پیغام کے ساتھ ان کو بھیجا کہ لوگو۔ اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ یہ دعوت بعینیہ وہی دعوت ہے جو حضرت نوح نے دی اور جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ رسولا منھم یعنی یہ رسول بھی انہی قوموں کے اندر کے زد تھے۔ کوئی فرشتے یا جن نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہر قوم کی طرف رسول انہی میں سے بھیجا۔ اس احسان کے مختلف پہلوئوں کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32-1یہ رسول بھی ہم نے انہی میں سے بھیجا، جس کی نشو و نما ان کے درمیان ہی ہوئی تھی، جس کو وہ اچھی طرح پہچانتے تھے، اس کے خاندان، مکان اور جائے پیدائش ہر چیز سے واقف تھے۔ 32-2اس نے آ کر سب سے پہلے وہی توحید کی دعوت دی جو ہر نبی کی دعوت و تبلیغ کا سرنامہ رہی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–42

17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–41

ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41) اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 فَاَرْسَلْنَا فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ ” یہاں پر نام نہیں بتایا گیا لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ یہ حضرت ہود علیہ السلام کا تذکرہ ہے یا پھر حضرت صالح علیہ السلام کا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 یہ اور نسل یا اور قوم عاد یا عاد اولیٰ تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم کے بعض دوسرے مقامات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اسی قوم کا ذکر ہوا ہے۔ اور ان کی طرف حضرت ہود کو بھیجا گیا تھا۔ 37 یعنی اللہ کے ساتھ دوسرے شریک بنانے کے برے انجام سے تمہیں خطرہ پیدا نہیں ہوتا کہ کہیں ہم پر قہر الٰہی نازل نہ ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–32

31۔ (شرک اور انجام شرک سے) (آیت) ” من بعدھم “۔ یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد جس کا ذکر ابھی ہوچکا ہے۔ (آیت) ” قرنا اخرین “۔ یہ قوم کون سی تھی ؟ عام رجحان یہ ہے کہ یہ قوم عاد یا قوم ثمود کی جانب اشارہ ہے۔ بہرحال کوئی نہ کوئی مشرک ہی قوم تھی۔ (آیت) ” رسولا منھم “۔ سنت الہی یہی ہے کہ جس قوم کی ہدایت مقصود ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہادی خود اسی قوم میں سے بھیجا جاتا ہے۔ (آیت) ” ان ........ تتقون “۔ دعوت ہر نبی مرسل کی ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید ہی کی رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–32

آیت نمبر 23 تا 32 ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فارسلنا فیہم رسولا منہم اور ان کے اندر انہی میں سے ایک شخص کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ سے مراد ہے قوم عاد یا قوم ثمود۔ بقول بغوی اوّل زیادہ مناسب ہے (کیونکہ قوم نوح کے بعد قوم عاد ہی پیدا ہوئی ‘ جس کی ہدایت کے لئے اللہ نے رسول کو بھیجا تھا) ۔ اگر عاد مراد ہو تو رسول سے حضرت ہود ( علیہ السلام) مراد ہوں گے اور ثمود مراد ہو تو رسول سے مراد حضرت صالح ( علیہ السلام) ہوں گے۔ مِنْہُمْکا یہ مطلب ہے کہ رسول انہی کی قوم سے تھا جس کی سچائی اور خوش رفتاری سے سب لوگ واقف تھے اور سب کو اس کے سچا اور نیک ہونے کا اقرار تھا۔ ان اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ افلا تتقون۔ (یہ پیام دے کر بھیجا) کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–32

(31۔ 32) پھر ہم نے قوم نوح ؑ کی ہلاکت کے بعد دوسرا گروہ پیدا کیا اور ان کی طرف ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں سے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرلو اور جس خدائے وحدہ لا شریک پر میں تمہیں کو ایمان لانے کے لیے کہتا ہوں اس کے علاوہ اور کوئی اللہ نہیں کیا تم پھر غیر اللہ کی عبادت سے ڈرتے نہیں ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَرْسَلْنَا فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ۔۔ : اس آیت کی تفسیر اسی سورت کی آیات (23، 24) میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–32

آیت نمبر 31-32 ا للہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانا من بعدھم : یعنی قوم نوح کی ہلاکت کے بعد قرنا اٰخرین۔ ایک دوسری جماعت پیدا کردی۔ بعض نے کہا : یہ قوم عاد تھی۔ فارسلنا فیھم رسولا منھم یعنی ہم نے ان میں ہود کو بھیجا کیونکہ حضرت نوح کی قوم کے پیچھے قوم عاد آئی تھی۔ بعض نے کہا : وہ قوم ثمود تھی۔ فارسلنا فیھم رسولا یعنی ہم نے ان میں حضرت صالح کو بھیجا انہوں نے کہا : اس کی دلیل اللہ کا ارشاد ہے۔ فاخذتھم الصیحتہ (الحجر :83) اور اس کی مثال یہ ہے۔ واخذالذین ظلموا الصیحتہ (ہود :67) میں کہتا ہوں۔ جنہیں چنگھاڑ نے آلیا تھا وہ حضرت شعیب کی قوم اصحاب مدین تھے۔ یہ بعید نہیں کہ یہ ہوں اللہ بہتر جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–35

1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قرنا “ سے مراد ہے امت (یعنی قوم)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَاَرْسَلْنَا : پھر ہم نے بھیجا ] [ فِيْهِمْ : ان میں ] [ رَسُوْلًا : ایک رسول ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ اَنِ : یہ کہ ] [ اعْبُدُوا : تم سب عبادت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مَا : نہیں ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود ] [ غَيْرُهٗ : اس کے سوا ] [ اَفَلَا : تو کیا نہیں ] [ تَتَّقُوْنَ : تم سب ڈرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–43

حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–41

قصہ قوم عاد یا قوم ثمود قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ ” فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ الخ “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از ہود (علیہ السلام) برائے نفی شرک فی التصرف۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو پیغام دیا تھا۔ ” اُعْبُدُوْا اللّٰهَ مَالَکُمْ الخ “ تم صرف اللہ ہی کو حاجات و مصائب میں پکارو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کارساز اور حاجت روا نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–41

ربط آیت : گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَرْسَلْنَا فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝ 0ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۝ 32ۧ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ اَنِ اعْبُدُ واللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلا تَتَّقُوْنَ ۔ (المومنون : 32) پھر ہم نے ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو۔ ) قومِ نوح کے بعد دیگر قوموں کی طرف رسولوں کی بعثت قومِ نوح کی تباہی کے بعداللہ بہتر جانتا ہے زمین کی آبادی میں کتنا عرصہ لگا۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) آپ کی اولاد اور آپ پر ایمان لانے والوں کی اولاد سے نئی دنیا آباد ہوئی۔ ان میں سے ہر مرنے والا شخص اپنے پسماندگان کو یقینا حضرت نوح (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : قوم نوح کی بربادی کے بعد دوسری قوم کا تذکرہ اور کردار :۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرقاب کرنے کے بعدبچنے والے لوگوں کو بڑی افزائش سے سرفراز فرمایا جس کے نتیجہ میں ایک دفعہ پھر طوفان نوح کے علاقہ میں آبادی کی کثرت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان میں ایک رسول بھیجا جس نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس پیغمبر نے لوگوں کو باربار یہ بات سمجھائی کہ اے لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ایسا کرنے کے لیے تیار ہو ؟ لیکن قوم نے اللہ تعالیٰ کو صرف ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32: فَاَرْسَلْنَا فِیْھِمْ (پس انہیں بھیجے) ارسال کا لفظ الیٰؔ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے فیؔ کے ساتھ متعدی نہیں ہوتا۔ مگر یہاں اور اس قول میں : کذلک ارسلناک فی امۃ ] الرعد : 30[ اور وما ارسلنا فی قریۃ ] الاعراف : 94[ فی کے ساتھ متعدی کیا گیا ہے لیکن امۃ اور قریہ کو ارسال کی جگہ اور ظرف قرار دیا جیسا رؤبہ کا قول ہے۔ ارسلت فیھا مصعبًا ذا اء قحام اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کلام عرب میں اس کا استعمال پہلے پایا جاتا ہے۔ باقی قرآن مجید کو دیکھ کر تمام نحو وصرف ایجاد ہوئی ہے۔ رَسُوْلًا (ایک رسول) ہود (علیہ السلام) ۔ مِّنْھُمْ (انہی میں سے) ان کی قوم میں سے : اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32۔ فارسلنا فیھم رسولا منھم، اس سے مراد ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم مراد ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ان عبداللہ مالک من الہ غیرہ افلاتتقون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–41

31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

42 حضرت نوح کے بعد رسول کی آمد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان میں ہم نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا "۔ جو کہ اللہ پاک کی قدیمی سنت اور ہمیشہ کا دستور رہا کہ ہر قوم کا پیغمبر انہی میں سے ہوا ہے۔ سو اسی بناء پر قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف حضرت ھود اور حضرت صالح کو رسول بنا کر بھیجا گیا جن کی سرگزشتیں پہلے گزر چکی ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت نوح کے بعد جن قوموں کو اٹھایا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بھی اپنے رسول بھیجے تاکہ وہ ان کو حق و ہدایت کی تعلیمات مقدسہ سے آگاہ کرسکیں۔ کیونکہ حق و ہدایت کی ضرورت انسان کے لیے اس کی دوسری تمام جسمانی اور مادی ضرورتوں سے بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–32

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–34

1 ۔ یعنی اس سے بڑھ کر تمہاری ذلت کیا ہوگی کہ باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرنے لگو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23؛32) ان اعبدوا اللہ۔ میں ان مفسرہ ہے کیونکہ ارسال میں قول کے معنی متضمن ہیں یعنی ہم نے رسول کی زبان سے ان کو کہا کہ :۔ اعبدوا اللہ تم اللہ کی عبادت کرو۔ اعبدوا عبادۃ سے (باب نصر) امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے (نیز ان کے لئے مزید ملاحظہ 23:27)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–32

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–41

قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔ (ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

(ف 2) اس ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو خیر و برکت سے نوازا اور وہ ساری دنیا میں پھیل گئے پھر ان ہی میں سے ایک ان میں رسول بھیجا جس نے اسی پیغام کو دہرایا اور وہی نغمہ توحید سنایا ، جس کو اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) بارہا سنا چکے تھے ، اور عجیب بات ہے کہ ان کو اسی قسم کے سرداروں سے وہی جواب سننا پڑا ، جو نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ، کہ تم آخر ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ، تم میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں ؟ کہ تمہیں رسول اور پیغمبر جانیں ۔ یہ واقعات اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ حضور ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک ہے اس کی دعوت ایک ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) پھر ہم نے ان میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں کا تھا اس پیغمبر نے ان سے کہا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں۔ یہ پیغمبر شاید ہود (علیہ السلام) ہوں گے انہوں نے بھی قوم عاد کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی پوجا کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ کوئی قابلِ پرستش ہے سو کیا تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عاد قوم اور ثمود قوم کے رسولوں نے بھی توحید کا درس ہی دیا تھا : 32۔ قوم عاد کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہود (علیہ السلام) کو اور قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جن کا ذکر سورة الاعراف اور سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا اور ان دونوں رسولوں کی مختصر سرگزشتیں بھی سورة ہود میں گزر چکی ہیں اور اس جگہ بھی ان کے توحید کے درس کے متعلق اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو ڈرانے کی پوری کوشش کی لیکن قوم کے سرداروں نے ان کی ایک نہ مانی اور انجام کار انکو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے آلیا جس کے نتیجہ میں سب ہلاک ہو کر رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

In the earlier verses the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told who was sent to his people to guide them along the path of righteousness and the following verses contain a brief account of some other prophets without mentioning their names and the people for whose guidance they were sent. From certain references and allusions the commentators have concluded that the verses refer to Sayyidna Hud (علیہ السلام) or Sayyidna Salih (علیہ السلام) who were sent for the guidance of the tribes of 'Ad and Thamud respectively. In the present story both these tribes are reported to have perished as…

Read the full tafseer →