Al-Muminoon 23:31

Al-Muminoon · from ayah 31

23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ۟ۚثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ‌

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We produced after them a generation of others.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:31

ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دَور کی قوم اٹھائی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے بعد ہم نے اور بھی امت پیدا کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ان کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگت (قوم) پیدا کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو پیدا فرمایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان کے بعد ہم نے اور زمانے کے لوگ پیدا کیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور نسل کو پیدا کیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نے ان کے بعد دوسرے لوگ اٹھائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان کے بعد ہم نے اٹھا کھڑا کیا ایک اور قوم کو۔

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے دوسرا گروہ ان کے بعد پیدا کیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور نسل کو اٹھایا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان کے بعد ہم نے ایک جماعت اور پیدا کی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, after them, We brought forth another generation;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then after them We created another generation,

— Muhammad Taqi Usmani

Then after them We created another generation,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, after them, We created another generation.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, after them, We brought forth another generation;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We produced after them a generation of others.

— Saheeh International

We brought another generation into existence after the people of Noah.

— Muhammad Sarwar

Then We raised up after them another generation.

— Muhammad Habib Shakir

Then, after them We brought forth anot her generation.

— Abdul Majid Daryabadi

Then We raised after them another generation.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–41

عادوثمود کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–32

سورة الْمُؤْمِنُوْن 34 بعض لوگوں نے اس سے مراد قوم ثمود لی ہے، کیونکہ آگے چل کر ذکر آ رہا ہے کہ یہ قوم صیحہ کے عذاب سے تباہ کی گئی، اور دوسرے مقامات پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ثمود وہ قوم ہے جس پر یہ عذاب آیا، (ہود، 67۔ الحجر، 83۔ القمر، 31)۔ بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ذکر دراصل قوم عاد کا ہے، کیونکہ قرآن کی رو سے قوم نوح کے بعد یہی قوم اٹھائی گئی تھی، وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (اعراف۔ آیت 69)۔ صحیح بات یہی دوسری معلوم ہوتی ہے، کیونکہ " قوم نوح کے بعد " کا اشارہ اسی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ رہا صَیْحَہ (چیخ، آواز، شور، ہنگامہ عظیم) تو محض اس کی مناسبت اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–36

خلاصہ تفسیر پھر (قوم نوح کے بعد) ہم نے دوسرا گروہ پیدا کیا (مراد عاد ہے یا ثمود) پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں کے تھے (مراد ہود ؑ یا صالح علیہ السلام) ہیں، ان پیغمبر نے کہا کہ) تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود (حقیقی) نہیں، کیا تم (شرک سے) ڈرتے نہیں ہو، اور (ان پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں سے جو رئیس تھے جنہوں نے (خدا اور رسول کے ساتھ) کفر کیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (31) عاد اور ثمود کی طرف اشارہ قرن جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، صدی کے مفہوم میں بھی آتا ہے اور اس سے ایک دور کے لوگ اور قوم و امت بھی مراد ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قوم نوح کو تباہ کردینے کے بعد نوح اور انکی کشتی کے ساتھیوں کی نسل سے ہم نے دوسری قومیں اٹھائیں۔ یہ اشارہ عاد وثمود کی طرف ہے۔ سورة اعراف میں قوم نوح کے جانشین کی حیثیت سے قوم عاد کا اور عاد کے خلفاء کی حیثیت سے ثمود کا ذکر ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31-1اکثر مفسرین کے نزدیک قوم نوح کے بعد، جس قوم کو اللہ نے پیدا فرمایا اور ان میں رسول بھیجا، وہ قوم عاد ہے کیونکہ اکثر مقامات پر قوم نوح کے جانشین کے طور پر عاد ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ قوم ثمود ہے کیونکہ آگے چل کر ان کی ہلاکت کے ذکر میں کہا گیا کہ زبردست چیخ نے ان کو پکڑ لیا، اور یہ عذاب قوم ثمود پر آیا تھا۔ بعض کے نزدیک یہ حضرت شعیب ؑ کی قوم اہل میں ہیں کہ ان کی ہلاکت بھی چیخ کے ذریعے سے ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–31

14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔ 15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے 16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–41

ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41) اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31 ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِہِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ” اس سے مراد قوم عاد یا قوم ثمود ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–31

35 یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ایک غور کرنے والا انسان سبق حاصل کرسکتا ہے۔ اور جب ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس وقت قوم کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ نبی اور اس کے پیروکاروں کا بھی کہ وہ کس حد تک صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں اور جھٹلانے والوں کا بھی کہ وہ کس حد تک سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ پھر جو اس امتحان میں کامیاب ہوں انھیں انعامات سے نوازتے بھی ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور معاندین کو قرار واقعی سزا بھی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنے والی قوم میں سے کون ان نشانیوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل رکتا ہے اور کون نہیں کرتا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–32

31۔ (شرک اور انجام شرک سے) (آیت) ” من بعدھم “۔ یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد جس کا ذکر ابھی ہوچکا ہے۔ (آیت) ” قرنا اخرین “۔ یہ قوم کون سی تھی ؟ عام رجحان یہ ہے کہ یہ قوم عاد یا قوم ثمود کی جانب اشارہ ہے۔ بہرحال کوئی نہ کوئی مشرک ہی قوم تھی۔ (آیت) ” رسولا منھم “۔ سنت الہی یہی ہے کہ جس قوم کی ہدایت مقصود ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہادی خود اسی قوم میں سے بھیجا جاتا ہے۔ (آیت) ” ان ........ تتقون “۔ دعوت ہر نبی مرسل کی ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید ہی کی رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–32

آیت نمبر 23 تا 32 ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم انشانا من بعدہم قرنا اخرین۔ (ہم نے ان کو غرق کردیا) ان کے بعد پھر ایک اور قوم کو پیدا کیا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–32

(31۔ 32) پھر ہم نے قوم نوح ؑ کی ہلاکت کے بعد دوسرا گروہ پیدا کیا اور ان کی طرف ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں سے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرلو اور جس خدائے وحدہ لا شریک پر میں تمہیں کو ایمان لانے کے لیے کہتا ہوں اس کے علاوہ اور کوئی اللہ نہیں کیا تم پھر غیر اللہ کی عبادت سے ڈرتے نہیں ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ : اس سے مراد اکثر مفسرین نے قوم عاد لی ہے، کیونکہ قوم نوح کے جانشین یہی لوگ بنے تھے۔ ہود ؑ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : (وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ) [ الأعراف : 69 ] ”اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کا جانشین بنایا۔“ مگر بہت سے مفسرین نے اس سے مراد صالح ؑ کی قوم ثمود لی ہے، کیونکہ یہاں ”اَلصَّیْحَةً“ (چیخ) کا ذکر ہے اور ”صیحہ“ یعنی چیخ سے ہلاک ہونے والے ثمود تھے۔ اس کے علاوہ اہل عرب کی نصیحت کے لیے قوم ثمود کا تذکرہ زیادہ موزوں تھا، کیونکہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے بنائے ہوئے مکانات مقام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–32

آیت نمبر 31-32 ا للہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انشانا من بعدھم : یعنی قوم نوح کی ہلاکت کے بعد قرنا اٰخرین۔ ایک دوسری جماعت پیدا کردی۔ بعض نے کہا : یہ قوم عاد تھی۔ فارسلنا فیھم رسولا منھم یعنی ہم نے ان میں ہود کو بھیجا کیونکہ حضرت نوح کی قوم کے پیچھے قوم عاد آئی تھی۔ بعض نے کہا : وہ قوم ثمود تھی۔ فارسلنا فیھم رسولا یعنی ہم نے ان میں حضرت صالح کو بھیجا انہوں نے کہا : اس کی دلیل اللہ کا ارشاد ہے۔ فاخذتھم الصیحتہ (الحجر :83) اور اس کی مثال یہ ہے۔ واخذالذین ظلموا الصیحتہ (ہود :67) میں کہتا ہوں۔ جنہیں چنگھاڑ نے آلیا تھا وہ حضرت شعیب کی قوم اصحاب مدین تھے۔ یہ بعید نہیں کہ یہ ہوں اللہ بہتر جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–35

1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قرنا “ سے مراد ہے امت (یعنی قوم)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ثُمَّ : پھر ] [ اَنْشَاْنَا : ہم نے پیدا کیے ] [ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد ] [ قَرْنًا : لوگ ] [ اٰخَرِيْنَ : دوسرے سب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–43

حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–41

قصہ قوم عاد یا قوم ثمود قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

30:۔ ” وَ اِنْ کُنَّا الخ “ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے۔ ” ابتلاء “ بلاء سے ہے بمعنی امتحان یا عذاب حضرت شیخ قدس سرہ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے و ان ای انہ کنا لمبتلین مخبرین قوم نوح البلاء او عبادنا لننظر من یعتبر او مصیبین قوم نوح ببلاء عظیم (جامع البیان ص 300) ای وان الشان کنا مصیبین قوم نوح ببلاء عظیم و عقاب شدید او مختبرین بھذہ الایات عبدنا لننظر من یعتبر و یتذکر (روح) ۔ یعنی ہم نے یہ اس لیے کیا تاکہ قوم نوح کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کریں یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ بندوں کو آزمانے کے لیے کیا کہ ان میں سے کون عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے۔ یہ پہلی دلیل کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–41

ربط آیت : گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِہِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ۝ 31ۚ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْ م بَعْدِ ھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ۔ (المومنون : 31) پھر ان کے بعد ہم نے دوسرے لوگ اٹھائے۔ ) عاد وثمود کی طرف اشارہ قرن، جس طرح صدی کے معنی میں آتا ہے اسی طرح ایک قوم کے افراد کے بارے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرق کردیئے جانے کے بعد دوسری قوم اٹھائی۔ اس سے مراد قوم عاد اور قوم ثمود ہے کیونکہ سورة اعراف سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کے بعد قوم عاد آئی ہے اور اس کے بعد قوم ثمود، اور ان قوموں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح آزمائش میں ڈالاجس طرح قوم نوح کو ڈالا گیا تھا۔ طوفانِ نوح سے اس وقت کی معلوم دنیا، کہا جاتا ہے کہ، مکمل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : قوم نوح کی بربادی کے بعد دوسری قوم کا تذکرہ اور کردار :۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرقاب کرنے کے بعدبچنے والے لوگوں کو بڑی افزائش سے سرفراز فرمایا جس کے نتیجہ میں ایک دفعہ پھر طوفان نوح کے علاقہ میں آبادی کی کثرت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان میں ایک رسول بھیجا جس نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس پیغمبر نے لوگوں کو باربار یہ بات سمجھائی کہ اے لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ایسا کرنے کے لیے تیار ہو ؟ لیکن قوم نے اللہ تعالیٰ کو صرف ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم عاد کو دعوت کا تذکرہ : 31: ثُمَّ اَنْشَاْنَا (پھر ہم نے پیدا کئے) مِنْ بَعْدِھِمْ (ان کے بعد) قوم نوح کے بعد : قَرْنًا اٰخَرِیْنَ (ایک اور قوم کو) وہ عاد ہے جو کہ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی جس کے لئے ہود (علیہ السلام) کا قول گواہی دیتا ہے : واذکر وا اذجعلکم خلفاء من بعد قوم نوح ] الاعراف : 69[ اور قصہ نوح کے بعد اعراف میں ہود کا قصہ لایا گیا اور اسی طرح سورت ہود اور شعراء میں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–41

31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41 قوم نوح کی ہلاکت کے بعد نئی قوم کی اٹھان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان کے بعد ہم نے کھڑا کیا ایک اور قوم کو "۔ یعنی قوم عاد کو جو کہ قوم نوح کے بعد آباد ہوئی تھی۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے قوم ثمود مراد ہے کہ " صیحہ " کا عذاب انہی پر آیا تھا۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ مگر اکثر کا کہنا یہی ہے کہ اس سے مراد قوم عاد ہے۔ (خازن، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور یوں عل سبیل البدل دونوں ہی قومیں مراد ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ سورة الاعراف میں قوم نوح کی جانشین کی حیثیت سے قوم عاد کا اور قوم عاد کے خلفاء کی حیثیت سے قوم ثمود کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو قوم نوح کی جانشین کے طور پر قوم عاد آئی اور قوم عاد کی جانشین کے طور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–32

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد قوم عادلی ہے جیسا کہ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت ہود ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا : واذکروا اذجعلکم خلفاء من بعد قوم نوح۔ یاد کرو، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے بنایا۔ (آیت :69) اور علما نے لکھا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس قوم پر ریح اور صبیحۃ دونوں قسم کے عذاب آئے۔ (ابن کثیر) بعض نے اس سے مراد قوم ثمود، اور بعض نے قوم شعیب لی ہے۔ کیونکہ آگے ذکر آرہا ہے کہ یہ قوم ” صیحۃ “ (چنگھاڑ) سے تباہ ہوئی اور ثمود اور قوم شعیب ( علیہ السلام) وہ قومیں ہیں جن کے متعلق دوسرے مقامات پر بتایا گیا کہ ان کی ہلاکت چنگھاڑ سے ہوئی۔ دیکھئے ہود…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:31) انشانا۔ ماضی جمع متکلم انشاء (افتعال) مصدر۔ ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے پرورش کی۔ ن ش ء مادہ۔ قرنا واحد قرون۔ جمع قوم (ایسی قوم جو ایک زمانے میں ہو) ۔ قرنا اخرین۔ ایک دوسری قوم ۔ ایک دوسری جماعت (قوم عادیا ثمود مراد ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–32

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–31

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–31

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سن لی : (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین نے جب اس قسم کے اعتراضات کئے کہ آپ بشر ہیں بعد ایسی عجیب باتیں کہتے ہیں جو ہم نے اپنے بڑوں سے نہیں سنیں اور گناہوں کے ارتکاب میں بیباک ہوگئے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے لگے ، تو آپ نے نصرت الہی کی دعا مانگی ، فرمایا کہ اللہ میں نے ان تک تیرے پیغام کو پورے خلوص اور شوق سے پہنچا دیا ، اور تقریبا ایک ہزار سال تک ان کو دعوت حق دی ، مگر انہوں نے ہمیشہ تکذیب کی ہمیشہ ستایا ، اور دکھ دیا ، اب ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ادھر بھی مزید صبر اور برداشت کی گنجائش نہیں ، اس لئے انکو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد ایک اور قوم کو پیدا کیا یعنی ان کی تباہی اور ہلاکت کے بعد اور دوسری قوم پیدا کی گئی شاید یہ قوم عاد اور ثمود کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہاں مجمل طور پر دوسری قوموں کی سرگزشتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا : 31۔ (قرن) سے مراد ایک دور کے لوگ ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے مراد ایک صدی لی جاتی ہے لیکن دراصل مراد اس سے ایک قوم یا ایک امت ہی ہوتی ہے کیونکہ ایک امت کے بعد ہی دوسری کا دور شروع ہوتا ہے اور عام طور پر ایک صدی کے بعد کوئی شاذ آدمی ہی باقی رہ جاتا ہے اور صدی مراد لینے والوں کے پاس یہی اس کی دلیل ہے ۔ اس جگہ مراد اس سے عاد قوم اور ثمود قوم ہی ہو سکتی ہے جن کا ذکر اکثر مقامات پر قرآن کریم نے کیا ہے اور آنے والی آیت بھی اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

In the earlier verses the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told who was sent to his people to guide them along the path of righteousness and the following verses contain a brief account of some other prophets without mentioning their names and the people for whose guidance they were sent. From certain references and allusions the commentators have concluded that the verses refer to Sayyidna Hud (علیہ السلام) or Sayyidna Salih (علیہ السلام) who were sent for the guidance of the tribes of 'Ad and Thamud respectively. In the present story both these tribes are reported to have perished as…

Read the full tafseer →