Al-Muminoon 23:30

Al-Muminoon · from ayah 30

23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ۟اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ

بےشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that are signs, and indeed, We are ever testing [Our servants].

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:30

اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس سارے واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں، اور یقینی بات ہے کہ ہمیں آزمائش تو کرنی ہی کرنی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں ضرو ر نشانیاں اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم آزمائش کرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم یقینا آزمانے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کرکے ہی رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس سرگزشت میں بڑی نشانیاں ہیں۔ اور بیشک ہم امحتان کرنے والے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اس قصے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں اور کھرا کھوٹا ظاہر کرنے کے لیے ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

اس (سارے واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور آزماتے ہی رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں بڑی نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم آزمانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک اس میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There are great Signs in this story; and surely We do put people to test.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, there are signs in it, and We do always test (people).

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, there are signs in it, and We do always test (people).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, in this, there are indeed Ayat, for sure We are ever putting (men) to the test.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! herein verily are portents, for lo! We are ever putting (mankind) to the test.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that are signs, and indeed, We are ever testing [Our servants].

— Saheeh International

In this story there is enough evidence (of the Truth); thus do We try (mankind)

— Muhammad Sarwar

Most surely there are signs in this, and most surely We are ever trying (men).

— Muhammad Habib Shakir

Verily in that are signs; verily We have ever been provers.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in this there are Signs (for men to understand); (thus) do We try (men).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–30

جب نوح ؑ ان سے تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے پروردگار میں لاچار ہوگیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الہٰی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کرچکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ واللہ اعلم۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 32 یعنی عبرت آموز سبق ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ توحید کی دعوت دینے والے انبیاء حق پر تھے اور شرک پر اصرار کرنے والے کفار باطل پر، اور یہ کہ آج وہی صورت حال مکہ میں درپیش ہے جو کسی وقت حضرت نوح اور ان کی قوم کے درمیان تھی اور اس کا انجام بھی کچھ اس سے مختلف ہونے والا نہیں ہے، اور یہ کہ خدا کے فیصلے میں چاہے دیر کتنی ہی لگے مگر فیصلہ آخرکار ہو کر رہتا ہے اور وہ لازماً اہل حق کے حق میں اور اہل باطل کے خلاف ہوتا ہے۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 33 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " آزمائش تو ہمیں کرنی ہی تھی "، یا " آزمائش تو ہمیں کرنی ہی ہے "۔ تینوں صورتوں میں مدعا اس حقیقت پر خبردار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–30

معارف و مسائل وَفَار التَّنُّوْرُ ، تنور، اس خاص جگہ کو بھی کہا جاتا ہے جو روٹی پکانے کیلئے بنائی جاتی ہے اور یہی معنے معروف و مشہور ہیں۔ دوسرے معنے میں تنور پوری زمین کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ خلاصہ تفسیر میں اسی معنے کے اعتبار سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس سے ایک خاص تنور روٹی پکانے والا مراد لیا ہے جو کوفہ کی مسجد میں اور بعض کے نزدیک ملک شام میں کسی جگہ تھا۔ اس تنور سے پانی ابلنے لگنا حضرت نوح ؑ کے لئے طوفان کی علامت یہ قرار دی گئی تھی (مظھری) حضرت نوح ؑ اور ان کے طوفان اور کشتی کا واقعہ پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے)۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سرگزشت کے اصل مدعا کی طرف اشارہ یہ اس اصل مدعا کی طرف اشارہ ہے جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ اس سرگزشت کے اندر غور کرنے والوں کے لئے بہت سے حاقئق ہیں۔ سب سے واضح حقیقت تو اس سے یہ سامنے آتی ہے کہ خدا اس دنیا کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ اس نے خلق کی اصلاح و ہدایت کے لئے اپنے رسول بھیجے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ رسول کی مخالفت اور اس کی تکذیب کے در پے ہوتے ہیں ایک حد خاص تک اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دیتا ہے لیکن بالآخر خدا ان کو پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو پھر کوئی ان کو چھڑا نہیں سکتا۔ تیسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں فوز و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30-1یعنی اس سرگزشت نوح ؑ میں اہل ایمان کو نجات اور کافروں کو ہلاک کردیا گیا، نشانیاں ہیں اس امر پر کہ انبیاء جو کچھ اللہ کی طرف سے لے کر آتے ہیں، ان میں وہ سچے ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور کشمکش حق و باطل میں ہر بات سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر اس کا نوٹس لیتا ہے اور اہل باطل کی پھر اس طرح گرفت کرتا ہے کہ اس کے شکنجے سے کوئی نکل نہیں سکتا۔ 30-2اور ہم انبیاء و رسل کے ذریعے سے یہ آزمائش کرتے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–31

14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔ 15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے 16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان …. لمبتلین (آیت نمبر) ابتداء بہت سی قسمیں ہیں ، بعض آزمائشیں صبر کے لیے ہیں بعض آزمائشیں شکر کے لیے ہوتی ہیں۔ بعض آزمائشیں اجر کے لیے ہوتی ہے ۔ قصہ نوح میں آنے والوں کے لیے ہر قسم کی آزمائش اور نصیحت ہے۔ اب ایک دوسری رسالت کا منظر اور تکذیب کے نتائج جبکہ دعوت بھی ایک ہے اور رسالت بھی دی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 کہ کون ان نشانوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے کون نہیں کرتا۔ کما قال تعالیٰ (وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ) 54 ۔ القمر :15)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّاِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ” اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے تحت دنیا میں مختلف لوگوں کو مختلف انداز میں آزماتے رہتے ہیں۔ اس اصول اور قانون کے بارے میں سورة الملک کے آغاز میں یوں ارشاد ہوا ہے : الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط آیت 2 ”وہی اللہ ہے جس نے موت اور حیات کو بنایا ہی اس لیے ہے کہ تمہیں پرکھے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 30–31

35 یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ایک غور کرنے والا انسان سبق حاصل کرسکتا ہے۔ اور جب ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس وقت قوم کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ نبی اور اس کے پیروکاروں کا بھی کہ وہ کس حد تک صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں اور جھٹلانے والوں کا بھی کہ وہ کس حد تک سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ پھر جو اس امتحان میں کامیاب ہوں انھیں انعامات سے نوازتے بھی ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور معاندین کو قرار واقعی سزا بھی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنے والی قوم میں سے کون ان نشانیوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل رکتا ہے اور کون نہیں کرتا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (اپنے بندوں کو ایسے ایسے حوادث تکوینی کے ذریعہ سے) (آیت) ” الایت “۔ اس سارے واقعہ کے اندر بہت سی نشانیاں حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–32

آیت نمبر 23 تا 32 ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ذلک لایت اس (واقعۂ مذکورہ) میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ وان کنا لمبتلین۔ اور (یہ نشانیاں بیان کر کے) ہم (اپنے بندوں کو) بلاشبہ آزمانے والے ہیں۔ فِیْ ذٰلِکَیعنی نوح اور ان کی قوم کے قصہ میں۔ لَاٰیٰتٍبلاشبہ بڑی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت کاملہ کو ثابت کرتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ مؤمنوں پر مہربانی کرتا ہے اور کافروں پر غضب نازل فرماتا ہے۔ اس قصہ کے اندر درس عبرت ہے اہل نظر کے لئے۔ وَاِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَاِنْ مخففہ ہے اصل میں انَّ تھا یعنی ہم یقیناً قوم نوح کو مصائب میں مبتلا کرنے والے تھے یا اپنے بندوں کی آزمائش کرنے والے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ان نافیہ ہے اور لَمُبْتَلِیْنَمیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(30) اس مشرک قوم کے ساتھ جو ہم نے کیا اس میں بڑی نشانیاں اور عبرت کی چیزیں ہیں خصوصا مکہ والوں کے لیے تاکہ وہ ایسے لوگوں کی پیروی نہ کریں اور ہم آزمایشوں کے ساتھ یا یہ کہ سزا دے کر آزماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ : نوح ؑ کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی عبرتوں کی طرف توجہ دلائی کہ یقیناً اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اس میں نوح ؑ کے اولو العزم پیغمبر ہونے کی کئی نشانیاں ہیں، یعنی مدت دراز تک ان کا بےمثال صبر، قوم کے ایمان نہ لانے کی اطلاع پر ان پر بددعا کا قبول ہونا، ان کے دشمنوں کا غرق ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان کی رسالت کی تصدیق کرنا اور ان کی تعریف کرنا وغیرہ۔ نوح ؑ کی قوم جیسی رسولوں کو جھٹلانے والی دیگر قوموں کے لیے بھی کئی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اللہ کی عظیم قدرت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اتنا عظیم طوفان جس سے پہاڑ بھی نہ بچا سکیں اور اس میں نوح…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 30 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان فی ذلک لایت یعنی نوح اور کشتی میں اور کفار کو ہلاک کرنے میں نشانیاں ہیں جو اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اپنے انبیاء کرام کی مدد کرتا ہے اور انکے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔ وان کنا لمبتلین۔ ہم ضرور پہلی قوموں کو بھی آزمانے والے تھے یعنی انکی طرف اپنے رسل بھیج کر ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا تھا تاکہ مطیع اور عاصی ایک دوسرے سے ممتار ہوجائیں اور ملائکہ کے لئے ان کی حالت واضح ہوجائے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم ان کے ساتھ آزمانے والوں کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ بعض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” ان فی ذلک لاٰیت وان کنا لمبتلین “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم سے پہلے بھی لوگ آزمائے گئے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ [ بیشک ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا کچھ نشانیاں ہیں ] وَّاِنْ [ اور بیشک ] كُنَّا [ ہم ] لَمُبْتَلِيْنَ [ یقینا آزمانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–30

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

30:۔ ” وَ اِنْ کُنَّا الخ “ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے۔ ” ابتلاء “ بلاء سے ہے بمعنی امتحان یا عذاب حضرت شیخ قدس سرہ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے و ان ای انہ کنا لمبتلین مخبرین قوم نوح البلاء او عبادنا لننظر من یعتبر او مصیبین قوم نوح ببلاء عظیم (جامع البیان ص 300) ای وان الشان کنا مصیبین قوم نوح ببلاء عظیم و عقاب شدید او مختبرین بھذہ الایات عبدنا لننظر من یعتبر و یتذکر (روح) ۔ یعنی ہم نے یہ اس لیے کیا تاکہ قوم نوح کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کریں یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ بندوں کو آزمانے کے لیے کیا کہ ان میں سے کون عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے۔ یہ پہلی دلیل کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–30

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ۝ 30 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّاِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ۔ (المومنون : 30) بیشک اس سرگزشت میں بڑی نشانیاں ہیں اور بیشک ہم امتحان کرنے والے ہیں۔ ) سرگزشت میں مضمر نشانیاں قرآن کریم قصہ گوئی کی کتاب نہیں وہ محض قصہ گوئی کے لیے کسی سرگزشت کو بیان نہیں کرتا بلکہ اس کے پیش نظر چند حقائق کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔ چناچہ اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس سرگزشت میں غور کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ سب سے پہلی نشانی تو یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کرنے کے بعد اس طرح لاتعلق ہو کر نہیں بیٹھا کہ وہ اپنی مخلوق کو رزق پہنچانے کا انتظام نہ کرے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے جہاں جہاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–30

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق سلسلہ کلام جاری ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر بیٹھنے اور اس سے اترنے کی دعا سکھلائی گئی چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ مسلسل دعا کرتے رہے ” اے میرے رب مجھے بابرکت انداز میں زمین پر اتارنا تو ہی بہتر انداز میں اتارنے والا ہے “ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نصیحت کے اسباق ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم لوگوں کو آزماتے ہیں۔ ایمانداروں کو اللہ تعالیٰ عام طور پر مشکلات اور مصائب کے ذریعے آزماتا ہے اور ظالموں کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بےشک اس میں) جو نوح (علیہ السلام) اور قوم نوح کے ساتھ کیا گیا۔ لَاٰیٰتٍ (البتہ نشانیاں ہیں) البتہ عبرتیں اور نصائح ہیں۔ وَّ اِنْ (اور بیشک) یہ مخففہ من المثقلہ ہے اور لام اس کو اور نافیہ کو جدا کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے : اِنّ الشان والقصۃ شان اور قصہ یہ ہے۔ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ (ہم ضرور آزمانے والے تھے) قوم نوح کو سخت سزا اور بڑا عذاب دینے والے ہیں یا ان آیات سے اپنے بندوں کو آزمانے والے ہیں تاکہ ہم دیکھیں کہ کون عبرت و نصیحت حاصل کرتا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا : ولقد ترکنھا ایۃً فھل من مدّکرٍ ] القمر : 15[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30۔ ان فی ذالک، ، جو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی کشتی کے متعلق ذکر کیا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ لایات ، ان کی قدرت کی نشانیاں۔ وان کنا لمبتلین، ہم نے ان کا امتحان لیا نوح (علیہ السلام) کو بھیج کر، ان کی نصیحت کے ساتھ، اور ہم نے ان کا انتظار کیا کہ وہ نزول عذاب سے پہلے اس پر عمل کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–30

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

40 ابتلاء و آزمائشِ خداوندی کے دستور کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم آزمائش کرکے ہی رہتے ہیں "۔ تاکہ کھرا کھوٹا ظاہر ہوجائے اور حق و باطل کا فرق و امتیاز پوری طرح نکھر کر سامنے آجائے۔ سو نوح کے اس قصہ سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ ایمان و یقین نجات کی کشتی ہے اور کفر و شرک تباہی کا راستہ اور ہلاکت کا گڑھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف نوح کے اس قصے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم اس کائنات کو پیدا کرکے اس سے لاتعلق ہو کر نہیں رہ گئے۔ بلکہ لوگوں کی ہدایت اور ان کی اصلاح کیلئے ہم اپنے رسول بھی بھیجتے رہے۔ پھر جنہوں نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ کفر کیا ان کو ایک عرصہ تک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–32

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ یعنی جس طرح قوم نوح کو جانچا۔ اسی طرح ہر قوم کی طرف رسول بھیج کر اس کا ضرور امتحان لیں گے۔ (ابن کثیر) اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہمیں تو (قوم نوح ( علیہ السلام) کی) آزمائش کرنا ہی تھی “۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:30) ان۔ مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہو کر ان بن گیا۔ تحقیق اور ثبوت کے لئے ہے اس کے بعد لام مفتوح کا آنا لازمی ہوتا ہے جیسا کہ آیت ھذا میں ہے (لمبتلین) مبتلین اسم فاعل جمع مذکر ابتلاء (افتعال) مصدر۔ جانچنے والے۔ کھرے کھوٹے کو الگ کردینے والے۔ بلی مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–32

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–31

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–31

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سن لی : (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین نے جب اس قسم کے اعتراضات کئے کہ آپ بشر ہیں بعد ایسی عجیب باتیں کہتے ہیں جو ہم نے اپنے بڑوں سے نہیں سنیں اور گناہوں کے ارتکاب میں بیباک ہوگئے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے لگے ، تو آپ نے نصرت الہی کی دعا مانگی ، فرمایا کہ اللہ میں نے ان تک تیرے پیغام کو پورے خلوص اور شوق سے پہنچا دیا ، اور تقریبا ایک ہزار سال تک ان کو دعوت حق دی ، مگر انہوں نے ہمیشہ تکذیب کی ہمیشہ ستایا ، اور دکھ دیا ، اب ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ادھر بھی مزید صبر اور برداشت کی گنجائش نہیں ، اس لئے انکو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) بلاشبہ ان واقعات مذکورہ میں اہل عبرت کے لئے بڑی نشانیاں اور بڑے دلائل ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ہم آزمائش کرنے والے ہیں یعنی نوح (علیہ السلام) کا رسول بناکر بھیجنا اور قوم کا ایک صحیح بات کو نہ سجھنا۔ نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو قوم کا ستانا اور ایذا رسانی، پھر طوفان کا آنا، کشتی کے لئے ہماری قدرت کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں اور یہ نشانیاں ظاہر کرکے ہم آزماتے ہیں کہ کون صبر کرتا ہے اور برداشت سے کام لیتا ہے یا یہ کہ ان واقعات کا ذکر کرکے اور بندوں کو خبر دیکر آزماتے ہیں کہ کون ان واقعات سے نصیحت قبول کرتا ہے اور ان واقعات کو سن کر اثر لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سرگزشت کے اصلی مدعا کی طرف اشارہ فرما دیا گیا : 30۔ بلاشبہ اس سارے واقعہ میں بہت سی نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی پوشیدہ ہیں ، سب سے واضح نشانی تو اس سے یہ سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو پیدا کرکے اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا بلکہ اس نے خلق کی اصلاح وہدایت کے لئے اپنے رسول بھیجے اور دوسری نشانی یہ واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ رسول کی مخالفت اور اس کی تکذیب کے درپے ہوتے ہیں ایک حد خاص تک اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دیتا ہے لیکن بالاخر ان کو پکڑ لیا جاتا ہے اور جب پکڑ لیا جاتا ہے تو پھر کوئی ان کو چھڑانے والا نہیں ہوتا تیسری نشانی یہ آشکارا ہوگئی کہ حق و باطل کی کشمکش میں فوز و فلاح رسول ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–30

وَفَارَ‌ التَّنُّورُ‌ (And the oven gushes forth - 23:27). The word تَّنُّور‌ means oven which is used for making flat, round bread, and is also used in the sense of the whole earth. According to some people تَّنُّور‌ is a specific oven in the Kufah mosque, while others believe that it was somewhere in Syria. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was informed by Allah that when water began boiling forth from the تَّنُّور‌ (oven) that would be the sign of the coming of the Deluge (Mazhari). The story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ، the Deluge and his Ark has been reported in some earlier Surahs (See…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32. At the conclusion of the story of Prophet Noah (peace be upon him), particular attention has been drawn to the many signs in the story from which one can learn many lessons. For instance, the Prophet who invited the people to Tauhid was in the right and those who practiced and insisted on shirk and disbelief were in the wrong and were destroyed. That the same kind of conflict, which took place between Prophet Noah (peace be upon him) and his people, was going on in Makkah. Therefore, ultimately the Prophet (peace be upon him) will come out victorious over his antagonists just like Prophet…

Read the full tafseer →