Explained with ayahs 26–30
جب نوح ؑ ان سے تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے پروردگار میں لاچار ہوگیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الہٰی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کرچکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ واللہ اعلم۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 31
" اتارنے " سے مراد محض اتارنا ہی نہیں ہے، بلکہ عربی محاورے کے مطابق اس میں " میزبانی " کا مفہوم بھی شامل ہے۔ گویا اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا اب ہم تیرے مہمان ہیں اور تو ہی ہمارا میزبان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
معارف و مسائل
وَفَار التَّنُّوْرُ ، تنور، اس خاص جگہ کو بھی کہا جاتا ہے جو روٹی پکانے کیلئے بنائی جاتی ہے اور یہی معنے معروف و مشہور ہیں۔ دوسرے معنے میں تنور پوری زمین کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ خلاصہ تفسیر میں اسی معنے کے اعتبار سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس سے ایک خاص تنور روٹی پکانے والا مراد لیا ہے جو کوفہ کی مسجد میں اور بعض کے نزدیک ملک شام میں کسی جگہ تھا۔ اس تنور سے پانی ابلنے لگنا حضرت نوح ؑ کے لئے طوفان کی علامت یہ قرار دی گئی تھی (مظھری) حضرت نوح ؑ اور ان کے طوفان اور کشتی کا واقعہ پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 29-28
حضرت نوح کی ہجرت اور ہجرت کے مناسب دعا
حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کا کشتی پر یہ سوار ہونا اپنی قوم سے اسی طرح کی ہجرت تھی جس طرح کی ہجرت دوسرے رسولوں کو کرنی پڑی اس وجہ سے ان کو ہجرت کے مناسب حال دعا تلقین کی گئی کہ سوار ہو چکنے کے بعد یہ دعا کرنا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ظالموں سے ہمیں نجات دی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کرنا کہ اے رب تو ہمیں جہاں اتارے خیر و برکت اور اپنے فضل و رحمت کے ساتھ اتار۔ تو بہترین اتارنے ولا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی مضمون کی دعائیں دوسرے انبیاء سے بھی منقول ہیں۔ ہمارے حضور نے بھی ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا فرمائی تھی۔ رب ادخلنی مدخلل صدق داخرجنی مخرج صدق و…
Read the full tafseer →29-1کشتی میں بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا کہ ان ظالموں کو بالآخر غرق کر کے، ان سے نجات عطا فرمائی اور کشتی کے خیرو عافیت کے ساتھ کنارے پر لگنے کی دعا کرنا (وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ) 23۔ المومنون :29)
29-2نبی ﷺ ، سواری پر بیٹھتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اللّٰہُ اَکْبَرْ ، اللّٰہ اَکْبَرْ ،
ا للّٰہُ اَکْبَرْ (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ) 43۔ الزخرف :13)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔
15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے
16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فاذ المننزلین 28) تا (29
اس طرح آپ اللہ کی حمد کریں ، اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اللہ کی صفات بیان کریں اور نشانات اہلیہ کا اعتراف سیکھیں اور سکھائیں ۔ یہ ہے اللہ کی تعلیم اپنے بندوں کے لیے۔ اللہ پہلے نبیوں کو سکھاتا ہے اور عوام الناس کو تعلیم دیتے ہیں اور یہ نبی ہمیشہ عوام کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔
اب اس پورے قصے ، پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے تاکہ اس قصے کے مختلف مراحل میں جو سبق ہے اور جو حکمتیں ہیں انسان ان پر غور کریں۔
Read the full tafseer →1 یعنی کشتی میں اچھی آرام کی جگہ دے اور کشتی سے جہاں اتارے جائیں وہاں بھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ ہر طرح اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔
Read the full tafseer →آیت 29 وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا ”
پروردگار ! ہم تیری مہربانی اور تیرے حکم سے اس کشتی میں سوار ہوئے ہیں۔ ہمیں مستقبل کا کچھ علم نہیں۔ ہم نہیں جانتے اب یہ کشتی ہمیں لے کر کہاں کہاں جائے گی اور کہاں پر جا کر رکے گی۔ یہ معاملہ اب تیرے سپرد ہے۔ ہماری التجا ہے کہ اس کشتی سے ہمارے اترنے کو بھی بابرکت بنا دے۔
Read the full tafseer →34 یہ بھی اس دعا کا حصہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی میں سوار ہوتے وقت سکھلائی تھی۔ اس دعاء میں (اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِِِلْیْنَ ) کا ایک معنی تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تو بہت اچھا مہمان نواز ہے یا بہت اچھا میزبان ہے جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا : کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ناپ میں بھی پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی بہت اچھا ہوں (12: 59) مطلب یہ کہ مجھے بابرکت جگہ پر کشتی سے اتارنا اور اترنے کے بعد ہمیں وافر رزق بھی مہیا فرمانا
Read the full tafseer →29۔ یہ تعلیم دعا اس وقت کے لئے ہے جب کشتی خشکی پر ٹھہرنے کے قریب ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
آیت نمبر 23 تا 32
ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →وقل رب انزلنی مبارکا وانت خیر المنزلین۔ اور (یہ بھی) کہنا کہ اے میرے رب مجھے (زمین پر)
برکت کے ساتھ اتارنا اور تو سب اتارنے والوں سے اچھا ہے۔
رَبِّ اَنْزِلْنِیْ حضرت مفسر نے فرمایا سوار ہونے کے بعد کشتی میں اور اترنے کے وقت زمین میں۔
مُنْزَلاً مُّبَارَکًابرکت کا اتارنا۔ کشتی میں برکت کا اتارنا یہ کہ اللہ کے دشمنوں کی صحبت سے نجات دی اور اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوجانے کا موقع عنایت فرمایا اور زمین میں اترنے کے بابرکت ہونے کے یہ معنی کہ (اللہ نے ڈوبنے سے محفوظ رکھا۔ مترجم) ۔ اور نسل و رزق میں کثرت عطا فرمائی اور بےغمی کے ساتھ عبادت رب میں مشغول ہوجانے کا موقع عنایت کیا۔
دعا کرنے کا حکم صرف…
Read the full tafseer →(29) اور جس وقت کشتی سے زمین پر اترنے لگو تو یوں کہنا اے میرے رب میرے یہاں اترنے میں برکت فرمائیے یعنی پانی اور سبزہ کی برکت ہو اور آپ دنیا وآخرت میں سب اتارنے والوں سے اچھے ہیں۔
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا : یہ نوح ؑ کو سکھائی گئی دعا کا دوسرا حصہ ہے۔ ”مُنْزَلًا“ باب افعال میں سے مصدر میمی بھی ہے اور ظرف بھی، اتارنا اور اتارنے کی جگہ، یعنی اے میرے پروردگار ! تو مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور ایسی جگہ اتار جو بہت برکت والی ہو۔ بابرکت اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے، ہر حال میں اور ہر جگہ بڑی رحمت و برکت شامل رہے۔ ہمارے نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 29 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل رب انزلنی منزلا مبٰرکا یہ اکثر کی قرأت ہے منزلا میم کے ضمہ اور زاء کے فتحہ کے ساتھ۔ یہ انزال سے مصدر ہے یعنی انزلنی انزالا مبارکا۔ زربن جیش اور ابوبکر نے عاصم اور مفصل سے منزلا میم کے فتحہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ یعنی ظرف کا صیغہ پڑھا ہے یعنی مجھے مبارک جگہ پر اتار۔ جو ہری نے کہا : المنزل میم اور زاء کے فتحہ کے ساتھ النزول کا معنی اترنا ہے تو کہتا ہے : نزلت نزولا و منزلا : شاعر نے کہا :
ان ذکر تک الدار منزلھا جمل بکیت فدمع العین منحدر سجل
المنزل کو نصب دی گئی ہے کیونکہ وہ مصدر ہے انزلہ غیرہ اور استنزلہ ہم معنی ہیں۔ نزلہ تنزیلا۔…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وقل رب انزلنی منزلا مبارکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے کشتی سے اتارے (تو اس طرح دعا کرنا)
2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت ” انزلنی منزلا “ کو میم کی زبر اور زا کی زیر کے ساتھ پڑھتے تھے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” وقل رب انزلنی منزل مبرکا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو سکھا رہے ہیں کہ تم کس طرح کہو جب تم (سواری پر) سوار ہونے لگو اور تم کس طرح کہو جب (سواری سے) اترو سوار ہونے کے وقت یوں کہو…
Read the full tafseer →وَقُلْ [ اور آپ کہیں ] رَّبِّ [ اے میرے رب ] اَنْزِلْنِيْ [ تو اتار مجھ کو ] مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا [ ایک برکت دی ہوئی اتارنے کی جگہ میں ] وَّاَنْتَ [ اور تو ] خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ [ اتارنے والوں کا بہترین ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا
اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →29:۔ ” اِنَّ فِیْ ذَالِکَ الخ “” ذِالِکَ “ سے واقعہ مذکورہ کیطرف اشارہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کو بچانے اور مشرکین کو ہلاک کرنے میں ہماری قدرت کا ملہ کی نشانیاں ہیں اور منکرین کے لیے عبرت اور موعظت ہے اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کی مدد کرتا اور ان کے دشمنوں اور منکرین توحید کو ہلاک کرتا ہے۔ ای دلالات علی کمال قدرۃ اللہ تعالیٰ وانہ ینصر انبیاء ہ و یھلک اعداءھم (قرطبی ج 12 ص 120) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ 29
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
1 ؎ یعنی اس کی بات کا جس سے ہم کو ڈراتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فَاِذَااسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَامِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّاَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ ۔
(المومنون : 28، 29)
پس جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی میں اچھی طرح بیٹھ جائیں تو آپ کہیے کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔ اور یہ بھی عرض کیجیے کہ اے رب ! تو مجھے اتار مبارک اتارنا اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔ )
کشتی پر سوار ہونے والے اور ان کی دعا
یہ کشتی پر سوار ہونے والے کون لوگ ہیں ؟ ان میں حضرت نوح اللہ کے وہ عظیم رسول ہیں جنھوں نے نوصدیوں تک اس قوم کو اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق سلسلہ کلام جاری ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر بیٹھنے اور اس سے اترنے کی دعا سکھلائی گئی چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ مسلسل دعا کرتے رہے ” اے میرے رب مجھے بابرکت انداز میں زمین پر اتارنا تو ہی بہتر انداز میں اتارنے والا ہے “
اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نصیحت کے اسباق ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم لوگوں کو آزماتے ہیں۔ ایمانداروں کو اللہ تعالیٰ عام طور پر مشکلات اور مصائب کے ذریعے آزماتا ہے اور ظالموں کو…
Read the full tafseer →کشتی :
29: وَقُلْ (اور کہو) جب تم کشتی پر سوار ہو یا جب اس سے نکلو۔ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا (اے میرے رب تو مجھے اتارنا برکت کے ساتھ) مُنزَلًا مصدر مانیں تو انزالًا کے معنی میں۔ نمبر 2۔ اترنے کی جگہ۔
وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ (اور آپ سب سے بہتر اتارنے والے ہیں) کشتی کی برکت کا مطلب اس میں بیٹھ کر طوفان سے نجات پانا۔ نکلنے میں برکت کا مطلب نسل کا بڑھنا اور پے در پے مال و دولت کا حاصل ہونا ہے۔
Read the full tafseer →29۔ وقل رب انزلنی منزلا مبارکا، ابوبکر نے عاصم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ منزلا، میم کے فتحہ کے ساتھ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ اس سے مراد اترنے کی جگہ ہے بعض نے کہایہ یہ کشتی ہے جو سوار ہونے کے بعد اترے ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ زمین ہے جس میں طوفان کے بعد اترے ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد کشتی ہی ہو اور اسمیں یہ بھی احتمال ہے کہ کشتی سے نکلنے کے بعد کشتی میں برکت سے مراد عذاب سے نجات کا حاصل ہونا۔ کشتی سے نکلنے کے بعد ان کی اولاد ثلاثہ میں بہت کثرت سے بڑھی ہے۔ وانت خیرالمنزلین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت 23
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →39 حضرت نوح کی طرف سے بابرکت اتارنے کی دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " اے میرے رب مجھے اتارنا بھی بابرکت اتارنا "۔ کہ نزول بھی بابرکت ہو اور منزل و مقام بھی بابرکت۔ سو ایسے ہی ہوا اور طوفان نوح کی تباہی کے بعد تمام روئے زمین ان تمام خیرات و برکات سے پھر پوری طرح بھر گئی جو اس میں اس طوفان سے پہلے موجود تھیں اور جن کی انسان کو اور اللہ کی دوسری تمام مخلوق کو ضرورت تھی۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل سے ہی اتنی مخلوق پھیلی کہ سب روئے زمین خالی ہونے کے بعد پھر بھر گئی۔ اسی لئے آپ کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ سو برکت دینا اللہ پاک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
6 ۔ برکت کے اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے۔ ہر حل میں اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ اس آیت میں بندوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ کسی سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس سے اترتے وقت یہ دعا کیا کریں۔ بلکہ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت بھی سلام کے بعد یہ دعا پڑھا کریں۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(23:28) استویت۔ ماضی واحد مذکر حاضر استواء (افتعال) سے (جب) تو چڑھ چکے (جب ) تم (کشتی میں ) سوار ہوچکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 :
الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…
Read the full tafseer →[18] یہاں اتارنے سے مراد میزبانی ہے۔ نوح (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ اے اللہ یہ زمین تیری ہے اور ہم جو اتریں گے تو تیرے ہی مہمان ہوں گے اور تو میزبان۔ تو ہماری مہمانی اچھی طرح کرنا یعنی فراغت سے کھانے پینے کو دینا۔ یوں تو اور لوگ بھی میزبانی کرتے ہیں مگر تو ان سب سے بہترین حق میزبانی ادا کرنے والا یعنی روزی دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سن لی :
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین نے جب اس قسم کے اعتراضات کئے کہ آپ بشر ہیں بعد ایسی عجیب باتیں کہتے ہیں جو ہم نے اپنے بڑوں سے نہیں سنیں اور گناہوں کے ارتکاب میں بیباک ہوگئے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے لگے ، تو آپ نے نصرت الہی کی دعا مانگی ، فرمایا کہ اللہ میں نے ان تک تیرے پیغام کو پورے خلوص اور شوق سے پہنچا دیا ، اور تقریبا ایک ہزار سال تک ان کو دعوت حق دی ، مگر انہوں نے ہمیشہ تکذیب کی ہمیشہ ستایا ، اور دکھ دیا ، اب ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ادھر بھی مزید صبر اور برداشت کی گنجائش نہیں ، اس لئے انکو عذاب سے…
Read the full tafseer →(29) اور پروردگار کی جناب میں یوں کہیو اے میرے پروردگار مجھ کو کشتی سے برکت کا اتارنا اتاریو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر اتارنے والا ہے۔ یعنی جب کشتی میں سوار ہوجائے تو شکر کے ساتھ آئندہ کے لئے بھی بھلائی کی دعا کرنا یا اترتے وقت کے لئے دعا بتائی۔ بابرکت اتارنا یعنی ہر اعتبار سے اطمینان یا اترنے کی جگہ اور مکان آرام دہ ہو۔ مہمان کے اتارنے والوں میں آپ سب سے بہتر اتارنے والے ہیں کیونکہ آپ مہمان کے آرام و آسائش اور اس کے نفع اور نقصان پر قدرت رکھتے ہیں اور دوسرے قدرت نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی اطمینان ظاہری و باطنی کے ساتھ رکھو۔
Read the full tafseer →قوم کا کام تمام ہونے کے بعد کشتی کے ایک جگہ رکنے پر اترنے کی دعا :
29۔ کشتی پر بیٹھتے وقت ہی اترنے کی دعا بھی سکھا دی گئی تاکہ اس بات کی مزید یقین دہانی ہوجائے کہ جس کشتی پر ہم سوار ہو رہے ہیں اس پر سے انشاء اللہ بخیر و خوبی ہم اتر جائیں گے یہ بالکل اسی طرح کی دعا ہے جس طرح کی دعا ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ کو سکھائی گئی تھی جب آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا تھا جس کا ذکر پیچھے سورة بنی اسرائیل کی آیت 80 میں گزر چکا (مبارکا) یعنی ہمارا اترنا دونوں جہانوں میں خیروبرکت کا باعث ہو گھر میں داخل ہوتے وقت بھی اور ہر نئی جگہ اترتے وقت بھی یہ دعا پڑھنے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
وَفَارَ التَّنُّورُ (And the oven gushes forth - 23:27). The word تَّنُّور means oven which is used for making flat, round bread, and is also used in the sense of the whole earth. According to some people تَّنُّور is a specific oven in the Kufah mosque, while others believe that it was somewhere in Syria. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was informed by Allah that when water began boiling forth from the تَّنُّور (oven) that would be the sign of the coming of the Deluge (Mazhari). The story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ، the Deluge and his Ark has been reported in some earlier Surahs (See…
Read the full tafseer →31.“Landing”here does not simply mean touching and resting on the land, but it also implies the sense of hospitality, as if to say: O God, now we are Thy guests and Thou alone art our Host.
Read the full tafseer →