Al-Muminoon 23:28

Al-Muminoon · from ayah 28

23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَی الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۟فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡـفُلۡكِ فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ نَجّٰٮنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے۔ جس نے ہم کو نجات بخشی ظالم لوگوں سے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when you have boarded the ship, you and those with you, then say, 'Praise to Allah who has saved us from the wrongdoing people.'

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:28

پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہو جائے تو کہہ، شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے۔ جس نے ہم کو نجات بخشی ظالم لوگوں سے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں ٹھیک ٹھیک بیٹھ چکیں تو کہنا : شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب ٹھیک بیٹھ لے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب تم اور تمہاری سنگت والے (لوگ) کشتی میں ٹھیک طرح سے بیٹھ جائیں تو کہنا (کہ) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات بخشی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جاؤ تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پر جب تم اور جو تمہارے ہمراہ ہوں کشتی میں جم کر بیٹھ جاؤ تو کہنا : سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں سوار ہو لیں تو شکر ادا کیجیو کہ شکر ہے اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب کشتی میں بیٹھ جاؤ تم بھی اور وہ سب بھی جو عقیدہ و ایمان کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہیں تو یوں کہو کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں نجات دی ان ظالم لوگوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر بیٹھ چکیں تو کہنا کہ (ساری) حمد ہے اللہ کے لئے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب تم اور تمہارے سب ساتھی کشتی میں بیٹھ جائیں تو کہناکہُ کل شکر اس اللہ کا ہے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (اللہ کا شکر کرتے ہوئے) کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالموں سے نجات بخشی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And then when you and those accompanying you are firmly seated in the Ark, say: "Thanks be to Allah Who has delivered us from the wrong-doing people."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, when you and those with you are well seated in the ship, say, :Praise is for Allah who saved us from the wrongdoing people.‘

— Muhammad Taqi Usmani

So, when you and those with you are well seated in the ship, say, :Praise is for Allah who saved us from the wrongdoing people.‘

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And when you have embarked on the ship, you and whoever is with you, then say: `All the praise be to Allah, Who has saved us from the people who are wrongdoers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when thou art on board the ship, thou and whoso is with thee, then say: Praise be to Allah Who hath saved us from the wrongdoing folk!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when you have boarded the ship, you and those with you, then say, 'Praise to Allah who has saved us from the wrongdoing people.'

— Saheeh International

When all of you settle in the Ark, say, "Only God Who has saved us from the unjust people deserves all praise".

— Muhammad Sarwar

And when you are firmly seated, you and those with you, in the ark, say: All praise is due to Allah who delivered us from the unjust people:

— Muhammad Habib Shakir

And when thou art settled, thou and those with thee, in the ark, say thou: praise unto Allah who hath delivered us from the wrong doing people.

— Abdul Majid Daryabadi

And when thou hast embarked on the Ark - thou and those with thee,- say: "Praise be to Allah, Who has saved us from the people who do wrong."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–30

جب نوح ؑ ان سے تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے پروردگار میں لاچار ہوگیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الہٰی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کرچکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ واللہ اعلم۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 30 یہ کسی قوم کی انتہائی بد اطواری اور خباثت و شرارت کا ثبوت ہے کہ اس کی تباہی پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–30

معارف و مسائل وَفَار التَّنُّوْرُ ، تنور، اس خاص جگہ کو بھی کہا جاتا ہے جو روٹی پکانے کیلئے بنائی جاتی ہے اور یہی معنے معروف و مشہور ہیں۔ دوسرے معنے میں تنور پوری زمین کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ خلاصہ تفسیر میں اسی معنے کے اعتبار سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس سے ایک خاص تنور روٹی پکانے والا مراد لیا ہے جو کوفہ کی مسجد میں اور بعض کے نزدیک ملک شام میں کسی جگہ تھا۔ اس تنور سے پانی ابلنے لگنا حضرت نوح ؑ کے لئے طوفان کی علامت یہ قرار دی گئی تھی (مظھری) حضرت نوح ؑ اور ان کے طوفان اور کشتی کا واقعہ پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے)۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

آیت 29-28 حضرت نوح کی ہجرت اور ہجرت کے مناسب دعا حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کا کشتی پر یہ سوار ہونا اپنی قوم سے اسی طرح کی ہجرت تھی جس طرح کی ہجرت دوسرے رسولوں کو کرنی پڑی اس وجہ سے ان کو ہجرت کے مناسب حال دعا تلقین کی گئی کہ سوار ہو چکنے کے بعد یہ دعا کرنا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ظالموں سے ہمیں نجات دی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کرنا کہ اے رب تو ہمیں جہاں اتارے خیر و برکت اور اپنے فضل و رحمت کے ساتھ اتار۔ تو بہترین اتارنے ولا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی مضمون کی دعائیں دوسرے انبیاء سے بھی منقول ہیں۔ ہمارے حضور نے بھی ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا فرمائی تھی۔ رب ادخلنی مدخلل صدق داخرجنی مخرج صدق و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

27-1یعنی ان کی ہلاکت کا حکم آجائے۔ 27-2تنور پر حاشیہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہمارے ہاں کا معروف تنور نہیں، جس میں روٹی پکائی جاتی ہے، بلکہ روئے زمین سے مراد ہے ساری زمین ہی چشمے میں تبدیل ہوگئی۔ نیچے زمین سے پانی چشموں کی طرح ابل پڑا۔ نوح ؑ کو ہدایت جاری ہے کہ جب پانی زمین سے ابل پڑے۔ 27-3یعنی حیوانات، نباتات اور ثمرات ہر ایک میں سے ایک ایک جوڑا (نر مادہ) کشتی میں رکھ لے تاکہ سب کی نسل باقی رہے۔ 27-4یعنی جن کی ہلاکت کا فیصلہ، ان کے کفر و طغیان کی وجہ سے ہوچکا ہے، جیسے زوجہ نوح ؑ اور انکا پسر۔ 27-5یعنی جب عذاب کا آغاز ہوجائے تو ان ظالموں میں سے کسی پر رحم کھانے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–31

14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔ 15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے 16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–29

فاذ المننزلین 28) تا (29 اس طرح آپ اللہ کی حمد کریں ، اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اللہ کی صفات بیان کریں اور نشانات اہلیہ کا اعتراف سیکھیں اور سکھائیں ۔ یہ ہے اللہ کی تعلیم اپنے بندوں کے لیے۔ اللہ پہلے نبیوں کو سکھاتا ہے اور عوام الناس کو تعلیم دیتے ہیں اور یہ نبی ہمیشہ عوام کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔ اب اس پورے قصے ، پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے تاکہ اس قصے کے مختلف مراحل میں جو سبق ہے اور جو حکمتیں ہیں انسان ان پر غور کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

فَاسْلُکْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ ” ہر قسم کے جاندار ‘ حیوانات وغیرہ میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ کو بھی اس کشتی میں سوار کرلینا تاکہ ان کی نسل محفوظ رہ سکے۔ وَاَہْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ ج ” اس استثناء میں آپ علیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹا شامل تھے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 یہ واقعات اور ان کی تفصیل سورة ہود کے حواشی نمبر 34 سے 53 تک تفصیل سے گزر چکے ہیں۔ لہذا ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ 33 یعنی یہ قوم اتنی بدبخت تھی جس کی غرقابی پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور بجائے افسوس کے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ قوم فی الواقعہ خس کم جہاں پاک کا مصداق تھی۔ جبکہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں واضح طور پر یہ الفاظ کہے تھے کہ : یا اللہ ! اس قوم میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ رہنے دے کیونکہ ان کے ہاں جو بچے پیدا ہوں گے وہ بھی فاسق و فاجر ہی پیدا ہوں گے اور کبھی حق کو قبول نہ کریں گے (71: 26، 27)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ انبیاء ومومنین کو ایک ایک ادب کی تعلیم اللہ کی طرف سے ہوتی رہتی ہے۔ اور ہر نعمت کو اسی کی جانب منسوب کرنا سکھایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–32

آیت نمبر 23 تا 32 ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاذا استویت انت ومن معک علی الفلک فقل الحمد للہ الذی نجنا من القوم الظلمین۔ پھر جب تم اور تمہارے ساتھی بیٹھ چکیں تو کہنا اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو کافر لوگوں (کے افعال اور ایذاؤں) سے نجات دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) پھر جس وقت تم اور تمہارے مومنین کشتی میں بیٹھ کیں تو یوں کہنا کہ شرک ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں کافروں سے نجات دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَي الْفُلْكِ۔۔ : کشتی پر سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد کا حکم دیا اور اس کے الفاظ خود بتائے، جیسے آدم ؑ کو خود دعا سکھائی اور جیسے قیامت کے دن ہمارے نبی ﷺ کو حمد سکھائیں گے۔ دوسری جگہ چوپاؤں اور کشتیوں کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12 ۝ ۙلِتَسْتَوٗا عَلٰي ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْـتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ 13؀ۙوَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ) [ الزخرف : 12 تا 14 ] ”اور تمہارے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 28 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فا ذا استویت جب آپ اور جو آپ کے ساتھی ہیں سوار ہوجائیں اس پر فقل الحمد للہ تو اللہ کی حمد کرو کہ اس نے تمہیں خلاصی دی۔ من القوم الظلمین۔ غرق ہونے سے الحمد اللہ کا کلمہ ہر اللہ کے شکر گزار کا کلمہ ہے۔ سورة فاتحہ میں اس کا بیان گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–28

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فاسلک فیہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے ساتھ کشتی میں ہر چیز کے دو جوڑے سوار کرلو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِذَا [ پھر جب ] اسْتَوَيْتَ [ آپ متمکن ہوجائیں ] اَنْتَ [ آپ ] وَمَنْ [ اور وہ جو ] مَّعَكَ [ آپ کے ساتھ ہیں ] عَلَي الْفُلْكِ [ کشتی پر ] فَقُلِ [ تو آپ کہیں ] الْـحَمْدُ [ تمام شکروسپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] نَجّٰىنَا [ نجات دی ہم کو ] مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم قوم سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–30

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

28:۔ ” فَاِذَا اسْتَوَیْتَ الخ “ جب تم اپنے ہمراہیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوجاؤ تو شکر نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناکرو جس نے ظالم و سرکش قوم سے تم کو نجات دی ہے وہی تو کارساز اور مصائب و مشکلات سے نجات دینے والا ہے۔ ” وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ الخ “ اور یہ بھی دعا مانگو کہ اللہ اس کشتی سے مجھے صحیح سلامت اتاریو اور میرے اترنے کو دین و دنیا کی برکات سبب بنائیو ” مُں ْزَلًا مُّبَارَکًا “ یتسبب لمزید الخیر فی الدارین (روح ج 18 ص 28) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–30

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَي الْفُلْكِ فَقُلِ الْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 28 استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے فلك الْفُلْكُ : السّفينة، ويستعمل ذلک للواحد والجمع، وتقدیراهما مختلفان، فإنّ الفُلْكَ إن کان واحدا کان کبناء قفل، وإن کان جمعا فکبناء حمر . قال تعالی: حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] ،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

فَاِذَااسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَامِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکًا وَّاَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ ۔ (المومنون : 28، 29) پس جب آپ اور آپ کے ساتھی کشتی میں اچھی طرح بیٹھ جائیں تو آپ کہیے کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔ اور یہ بھی عرض کیجیے کہ اے رب ! تو مجھے اتار مبارک اتارنا اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔ ) کشتی پر سوار ہونے والے اور ان کی دعا یہ کشتی پر سوار ہونے والے کون لوگ ہیں ؟ ان میں حضرت نوح اللہ کے وہ عظیم رسول ہیں جنھوں نے نوصدیوں تک اس قوم کو اللہ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب یقین ہوگیا کہ اس کی قوم نے اسے کلیتاً جھٹلا دیا ہے تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد طلب کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور پتھر مار مار کر جان سے ختم کرنے کی دھمکی دی۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ اگر تو واقعی اللہ کا پیغمبر ہے تو ہمیں عذاب سے تباہ و برباد کر دے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے یہ کہہ کر مدد طلب کی کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوچکا ہوں تو میری مدد فرما۔ اس صورت حال میں حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَکَ عَلَی الْفُلْکِ (جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ چکیں) جب تم اچھی طرح مطمئن ہو کر سوار ہوجائو۔ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (تو اس طرح کہو تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے ظالم قوم سے ہمیں نجات دی) اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت اور ان سے نجات پر حمد وثناء کا حکم دیا۔ یہاں قولوا نہیں کہا گیا اگرچہ : فاذا استویت انت ومن معک معنی کے لحاظ سے اذا ستویتم کے معنی جمع دے رہا ہے کیونکہ وہ ان کے پیغمبر و مقتدی ہیں۔ اور آپ کا قول انہی کا قول ہے اور مقتدی کا کہنا مقتدیوں کا کہنا ہے۔ نحو : اس میں نبوت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ فاذا استویت ، جب تم اس میں بیٹھ چکو ۔ انت ومن معک علی الفلک فقل الحمداللہ الذی نجانا من القوم الظالمین۔ اس سے مراد کافر لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–30

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

38 نعمت سے سرفرازی پر شکر خداوندی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ کشتی میں بیٹھ جائیں آپ بھی اور آپ کے ساتھی بھی تو یوں کہو تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے ہمیں نجات دی ظالم لوگوں سے "۔ کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور سب اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل اور حضرت نوح جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی اسی وحدہ لا شریک کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو کس قدر بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اللہ کی مخلوق میں سے طرح طرح کی بےحقیقت چیزوں اور مخلوق و عاجز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–32

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

6 ۔ برکت کے اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے۔ ہر حل میں اور ہر جگہ تیری رحمت و برکت شامل حال رہے۔ اس آیت میں بندوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ کسی سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس سے اترتے وقت یہ دعا کیا کریں۔ بلکہ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت بھی سلام کے بعد یہ دعا پڑھا کریں۔ (قرطبی۔ شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 28–29

(23:28) استویت۔ ماضی واحد مذکر حاضر استواء (افتعال) سے (جب) تو چڑھ چکے (جب ) تم (کشتی میں ) سوار ہوچکو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–32

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–31

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–31

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سن لی : (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین نے جب اس قسم کے اعتراضات کئے کہ آپ بشر ہیں بعد ایسی عجیب باتیں کہتے ہیں جو ہم نے اپنے بڑوں سے نہیں سنیں اور گناہوں کے ارتکاب میں بیباک ہوگئے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے لگے ، تو آپ نے نصرت الہی کی دعا مانگی ، فرمایا کہ اللہ میں نے ان تک تیرے پیغام کو پورے خلوص اور شوق سے پہنچا دیا ، اور تقریبا ایک ہزار سال تک ان کو دعوت حق دی ، مگر انہوں نے ہمیشہ تکذیب کی ہمیشہ ستایا ، اور دکھ دیا ، اب ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ادھر بھی مزید صبر اور برداشت کی گنجائش نہیں ، اس لئے انکو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) پھر جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر سوار ہوجائیں تو یہ الفاظ کہیو اس اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات دی یعنی کافروں کے افعال و اعمال اور ان کی تکالیف سے نجات عطا فرمائی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب تم کشتی پر سوار ہوگئے تو بس نجات پاگئے اب حمد الہی کا ترانہ گاؤ : 28۔ کشتی پر سوار ہونے سے پہلے ہی سیدنا نوح (علیہ السلام) کو بتادیا گیا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی اور تمہاری ضرورت کی اشیاء وجانور اور چوپائے سوار ہوجائیں تو سمجھ لو کہ جو کشتی میں داخل ہوگئے اس عذاب الہی سے نجات پا گئے گویا وہی بچ سکیں گے جو کشتی پر سوار ہوں گے ‘ یہ بات اتنی وضاحت سے کیوں ارشاد فرمائی ؟ اس لئے کہ حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اگر پانی امڈ آیا تو باقی لوگوں میں سے کچھ بچے گا یا نہیں لیکن کشتی والوں کی غرقابی یقینی ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ سارا علاقہ پہاڑی علاقہ ہے اور کشتی پانی پر تیرتی ہوئی پانی کے زور ہی سے کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–30

وَفَارَ‌ التَّنُّورُ‌ (And the oven gushes forth - 23:27). The word تَّنُّور‌ means oven which is used for making flat, round bread, and is also used in the sense of the whole earth. According to some people تَّنُّور‌ is a specific oven in the Kufah mosque, while others believe that it was somewhere in Syria. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was informed by Allah that when water began boiling forth from the تَّنُّور‌ (oven) that would be the sign of the coming of the Deluge (Mazhari). The story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ، the Deluge and his Ark has been reported in some earlier Surahs (See…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30. The fact that Allah should be praised and thanked for the annihilation of those people, is a clear proof that they were the most wicked and villainous people in the world.

Read the full tafseer →