Explained with ayahs 26–30
جب نوح ؑ ان سے تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے پروردگار میں لاچار ہوگیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الہٰی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کرچکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ واللہ اعلم۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 28
یعنی میری طرف سے اس تکذیب کا بدلہ لے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فَدَعَا رَبَّہ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ، " پس نوح نے اپنے رب کو پکارا کہ میں دبا لیا گیا ہوں، اب تو ان سے بدلہ لے " (القمر آیت 10) اور سورة نوح میں فرمایا قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَ الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّاراً ہ اِنَّکَ اِنْ تَزَرْھُمْ یُضِلُّوْا عبادَکَ وَلَا یَلِدُوْآ اِلَّا فَاجِراً کَفَّاراً۔ " اور نوح نے کہا " اے میرے پرو دگار، اس زمین پر کافروں میں سے ایک بسنے والا بھی نہ چھوڑ، اگر تو نے ان کو رہنے دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کی نسل سے بدکار منکرین حق ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
معارف و مسائل
وَفَار التَّنُّوْرُ ، تنور، اس خاص جگہ کو بھی کہا جاتا ہے جو روٹی پکانے کیلئے بنائی جاتی ہے اور یہی معنے معروف و مشہور ہیں۔ دوسرے معنے میں تنور پوری زمین کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ خلاصہ تفسیر میں اسی معنے کے اعتبار سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات نے اس سے ایک خاص تنور روٹی پکانے والا مراد لیا ہے جو کوفہ کی مسجد میں اور بعض کے نزدیک ملک شام میں کسی جگہ تھا۔ اس تنور سے پانی ابلنے لگنا حضرت نوح ؑ کے لئے طوفان کی علامت یہ قرار دی گئی تھی (مظھری) حضرت نوح ؑ اور ان کے طوفان اور کشتی کا واقعہ پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے)۔
Read the full tafseer →بعض اجمالات کی وضاحت
یہ آیت بلکہ حضرت نوح کی پوری سرگزشت سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر کفایت کریں گے۔ کسی چیز کی تفصیل مطلوب ہو تو وہاں دیکھ لیجیے۔ باعیننا ووحینا یعنی یہ کشتی ہمارے اہتمام اور ہماری ہدایات کے مطابق بنائو۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سارا نقشہ، اس کی جزئیات کی تفصیل کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ سے حضرت نوح کو بتایا تاکہ یہ اس عظیم مہم کے لئے بالکل موزوں ہو جو پیش نظر تھی۔ امر سے مراد حکم عذاب ہے۔ فار التنور اسی طرح کا ایک محاورہ ہے جس طرح حمی الوطین، وغیرہ محاورات ہیں۔ ان محاورات کا مفہوم متعین کرنے میں الفاظ کا لحاظ نہیں بلکہ صرف اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27-1یعنی ان کی ہلاکت کا حکم آجائے۔
27-2تنور پر حاشیہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہمارے ہاں کا معروف تنور نہیں، جس میں روٹی پکائی جاتی ہے، بلکہ روئے زمین سے مراد ہے ساری زمین ہی چشمے میں تبدیل ہوگئی۔ نیچے زمین سے پانی چشموں کی طرح ابل پڑا۔ نوح ؑ کو ہدایت جاری ہے کہ جب پانی زمین سے ابل پڑے۔
27-3یعنی حیوانات، نباتات اور ثمرات ہر ایک میں سے ایک ایک جوڑا (نر مادہ) کشتی میں رکھ لے تاکہ سب کی نسل باقی رہے۔
27-4یعنی جن کی ہلاکت کا فیصلہ، ان کے کفر و طغیان کی وجہ سے ہوچکا ہے، جیسے زوجہ نوح ؑ اور انکا پسر۔
27-5یعنی جب عذاب کا آغاز ہوجائے تو ان ظالموں میں سے کسی پر رحم کھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔
15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے
16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →فاوحینا مغرقون آیت نمبر (27) ”
یوں سنت الہیہ نے زندگی کی ترقی اور نشونما کی راہ سے یہ روڑا ، قوم نوح کا روڑا دور کیا۔ تاکہ اسانی زندگی شاہراہ ترقی پر آگے بڑھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں انسانیت کی نشو نما کا آغاز ہوا تھا ، اور آغاز کے ساتھ ہی اس میں ٹھہرائو اور جمود پیدا کیا جس طرح کسی نازک پودے کو زمین سے نکلتے ہی آفات سماوی یا اور کوئی مشکلات درپیش ہوجائیں اور وہ مرجھاجائے اور خشک ہوجائے جبکہ وہ ناتواں ہو۔ ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے طوفان ایک بہترین علاج تھا۔ یاد رہے کہ طوفان زمین کو دھوا ڈالتا ہے اور طوفان زمین کو دھو ڈلتا ہے اور طوفان کے بعد اس زمین فصل اگتی ہے ۔ اسی طرح زمین…
Read the full tafseer →6۔ طوفان نوح۔ یہ قصہ پہلے سورة ، ، ھود، وغیرہ میں گزر چکا ہے۔ وہاں ان الفاظ کی تفسیر ملاحظہ ہو۔7 یعنی کافروں کو، خواہ تیرے کنبہ کے ہوں سوار مت کر۔
8 یعنی حکم قطعی عذاب کا ہوچکا۔ یہ فیصلہ اٹل ہے، ضرور ہو کر رہے گا۔ اب ظالموں میں سے کسی کو بچانے کے لیے ہم سے سعی سفارش نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فَاسْلُکْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ ”
ہر قسم کے جاندار ‘ حیوانات وغیرہ میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ کو بھی اس کشتی میں سوار کرلینا تاکہ ان کی نسل محفوظ رہ سکے۔
وَاَہْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ ج ”
اس استثناء میں آپ علیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹا شامل تھے ‘ جن کے بارے میں پہلے ہی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
31 حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ تبلیغ غالباً تمام انبیاء سے زیادہ ہے جو قرآن کی صراحت کے مطابق ساڑھے نو سو سال ہے۔ اس طویل عرصہ میں آپ اپنی قوم سے ناروا باتیں اور طعنے وغیرہ سنتے اور برداشت کرتے رہے۔ اتنی طویل مدت میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے۔ دوسروں کا کیا ذکر آپ کی بیوی اور ایک بیٹا بھی آپ کے مقابلہ میں کافروں کا ساتھ رہے تھے۔ حضرت نوح کو یہ یقین ہوگیا کہ اب جو کافر موجود ہیں وہ اس قدر ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دعوت حق کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بس یہ لوگ صرف حضرت نوح کی اذیت اور ذہنی کوفت کا باعث بن رہے تھے۔ جب ان کافروں نے آپ کو اذیت دینے میں انتہا کردی…
Read the full tafseer →26۔ (اس کے کفر کے پاداش میں) کافر نافرمان کے لئے کوئی گنجائش نجات ومغفرت کی نہیں۔ خواہ وہ نبی کا عزیز قریب ہی ہو۔ (آیت) ” من کل زوجین اثنین “۔ یعنی ایسے جانوروں میں جو کام آنے والے ہوں دو دو عدد۔ نوح۔ فلک۔ تنور وغیرہ پر حاشیے سورة ہود (پ 12) میں گزر چکے۔
27۔ (ان کے حق میں سعی سفارش سب لاحاصل ہے) (آیت) ” الذین ظلموا “۔ اپنے حق میں ظلم کرنے والے یعنی کافر، محاورۂ قرآنی میں یہ استعمال عام ہے۔ ای فی الذین کفروا (ابن جریر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
آیت نمبر 23 تا 32
ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فاوحینا الیہ (پس ہم نے نوح کی دعا قبول کی) پھر ان کے پاس وحی بھیجی۔
ان اصنع الفلک باعیننا ووحینا کہ میری نگرانی میں میری وحی (تعلیم و حکم) کے موافق کشتی بناؤ۔
بِاَعْیُنِنَا یعنی ہماری نگرانی اور حفاظت میں کشتی بناؤ ‘ کوئی تمہارا کام بگاڑ نہ سکے گا۔
فاذا جآء امرنا وفار التنور فاسلک فیہا من کل زوجین اثنین واہلک الا من سبق علیہ القول منہم پھر جب ہمارا حکم (عذاب کا یا سوار ہوجانے کا) آجائے اور روئے زمین سے پانی ابلنے لگے تو ہر ایک قسم کے
جانوروں کا ایک ایک جوڑا (لے کر) کشتی میں داخل کرلینا اور اپنے متعلقین کو بھی (کشتی میں سوار کرلینا) باستثناء ان لوگوں کے ‘ جن کے (ہلاک کرنے کے) متعلق پہلے ہی حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) نوح ؑ نے (مایوس ہو کر) عرض کیا، پروردگار ان پر عذاب نازل کرکے میرا بدلہ لے لے کیوں کہ انہوں نے میری رسالت کو جھٹلایا ہے تو ہم نے انکے پاس بذریعہ جبریل امین ؑ حکم بھیجا کہ تم کشتی تیار کرلو ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے پس جس وقت ہمارے عذاب کا وقت قریب آپہنچے اور زمین سے پانی ابلنا شروع ہو یا یہ کہ صبح کا کنارا نکل جائے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک نر اور ایک مادہ اس کشتی میں سوار کرلو اور آپ کے متعلقین میں سے جو آپ پر ایمان لائے ان کو بھی سوار کرلو سوائے ان کے جن پر عذاب نازل ہونے کا حکم ہوچکا اور یہ سن لو کہ مجھے اپنی قوم کے کافروں کی نجات کے بارے میں کوئی درخواست مت کرنا…
Read the full tafseer →فَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ۔۔ : اس آیت کی تفسیر سورة ہود (37) میں دیکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21-27
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” فاسلک فیہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے ساتھ کشتی میں ہر چیز کے دو جوڑے سوار کرلو۔
Read the full tafseer →فَاَوْحَيْنَآ [ تو ہم نے وحی کی ] اِلَيْهِ [ ان کی طرف ] اَنِ [ کہ ] اصْنَعِ [ آپ تیار کریں ] الْفُلْكَ [ کشتی ] بِاَعْيُنِنَا [ ہماری آنکھوں (کے سامنے ) سے ] وَوَحْيِنَا [ اور ہماری وحی سے ] فَاِذَا [ پھر جب ] جَاۗءَ [ آجائے ] اَمْرُنَا [ ہمارا حکم ] وَفَارَ [ اور ابل پڑے ] التَّنُّوْرُ ۙ [ تنور ] فَاسْلُكْ [ تو آپ ڈال دیں ] فِيْهَا [ اس میں ] مِنْ كُلٍّ [ ہر چیز میں سے ] زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ [ دو جوڑوں کو ] وَاَهْلَكَ [ اور اپنے گھروالوں کو ] اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے ] سَبَقَ [ پہلے ہوچکا ] عَلَيْهِ [ جس کے خلاف ] الْقَوْلُ [ فیصلہ ] مِنْهُمْ ۚ [ ان میں سے ] وَلَا تُخَاطِبْنِيْ [ اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا
اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →27:۔ ” فَاَوْحَیْنَا الخ “ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو طوفان سے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کے بچاؤ کی تدبیر ارشاد فرمائی کہ ہماری ہدایات کے مطابق ایک کشتی تیار کرلو اور جب تنور میں سے پانی ابلنے لگے فورًا خود بھی اس میں سوار ہوجاؤ اور اپنے مومن اہل و عیال اور دوسرے مومنوں کو بھی اس میں سوار کرلو اور جن جانوروں کی زیادہ ضرورت ہے ان میں سے بھی ایک ایک جوڑا (نر و مادہ) ساتھ لے لو۔ اور اب ان مشرکین کے بارے میں کسی قسم کی سفارش وغیرہ نہ کرنا کیونکہ اب ہم انہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…
Read the full tafseer →فَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ 0ۙ فَاسْلُكْ فِيْہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَہْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ 0ۚ وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا 0ۚ اِنَّہُمْ مُّغْرَقُوْنَ 27
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
1 ؎ یعنی اس کی بات کا جس سے ہم کو ڈراتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا فَاِذَا جَآئَ اَمْرُنَا وَفَارَالتَّنُّوْرُلا فَاسْلُکْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ ج وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِ یْنَ ظَلَمُوْا ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ ۔ (المومنون : 27)
تو ہم نے حضرت نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق ایک کشتی تیار کیجیے۔ تو جب ہمارا عذاب آجائے اور تنور ابل پڑے تو اس میں ہر چیز کے جوڑے رکھ لو اور اپنے لوگوں کو بھی سوار کر الوبجز ان کے جن کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب یقین ہوگیا کہ اس کی قوم نے اسے کلیتاً جھٹلا دیا ہے تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد طلب کی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور پتھر مار مار کر جان سے ختم کرنے کی دھمکی دی۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ اگر تو واقعی اللہ کا پیغمبر ہے تو ہمیں عذاب سے تباہ و برباد کر دے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے یہ کہہ کر مدد طلب کی کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوچکا ہوں تو میری مدد فرما۔ اس صورت حال میں حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →کشتی سامنے بنانے کا مطلب :
27: فَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ (پس ہم نے ان کی طرف وحی کی) یعنی ان کی دعا کو قبولیت بخشی اور ان کی طرف یہ وحی بھیجی۔ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا (تم ہمارے سامنے کشتی تیار کرو) تم اس کو اس حالت میں بنائو کہ تمہیں اپنے متعلق اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا یقین ہو اور یہ بھی یقین ہو کہ تم اس کی نگاہ میں ہو یا ہماری حفاظت و نگرانی کا یقین اسقدر ہو گویا کہ تمہارے ساتھ ہمارے حفاظت کرنے والے ہیں جو اپنی آنکھوں سے تمہاری نگہبانی کررہے ہیں تاکہ کوئی تمہارے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے اور نہ کوئی مفسد تمہارے کام کو برباد کرسکے اہل عرب کا محاورہ ہے : علیہ من اللہ عین کا لئۃ اس…
Read the full tafseer →27۔ فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک ووحینا، ،، اس کشتی میں داخل ہوجائے، من کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ، مگر ان کو اس پر سوار مت کیجئے جن پر ہلاک کرنے والاحکم سبقت کرچکا ہے۔ ولاتخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت 23
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →37 قوم نوح کے عذاب کے فیصلے کا ذکر : سو اس سے قوم نوح کیلئے عذاب کے فیصلے اور اس بارے میں حضرت نوح کو بعض خاص ہدایات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو آنجناب کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑے کو لے کر اس کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے گھر والوں کو بھی اس میں لے لیں بجز ان کے جن کے بارے میں ہمارا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ یعنی جن کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اب غرق ہونا ہے اپنے کفر و انکار اور فساد کی بناء پر۔ اس لئے اپنے گھر والوں میں سے کسی ایسے شخص کو اپنی اس کشتی پر سوار نہیں کرنا۔ اشارہ آپ کے بیٹے کنعان اور بیوی کی طرف ہے جو کہ اپنے کفر و انکار پر قائم تھے۔ (ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…
Read the full tafseer →4 ۔ کہ وہ ایمان نہ لائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔ مراد ہیں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی بیوی اور ان کا بیٹا۔ واللہ اعلم۔ (ابن کثیر) 5 ۔ یعنی مجھ سے ان کے بچانے کے لئے سفارش نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(23:26) بما۔ اس میں ب سببیہ ہے اور ما مصدریہ ای بسبب تکذیبہم ایای ان کے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے۔
کذبون۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصل میں کذبونی تھا۔ انہوں نے مجھے جھٹلایا ۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے میری تکذیب کی۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 :
الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[17] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 23 صفحہ 520۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(ف 1) ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے قوم کو کیا پیغام دیا ، اور ان کے مخالفین نے کس طرح کے بیہودہ اعتراضات سے ان کا غیر مقدم کیا ، ارشاد ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے محض توحید کی تلقین کی اور قوم سے کہا کہ صرف ایک خدا کی پرستش کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی چارہ ساز نہیں ہے ، پرہیزگاری اور تقوی کا تقاضا بھی ہے ، کہ تمہارے دلوں میں توحید کی روشنی ہو اور تم بجز اس کی ذات بےآتا کہے اور کسی کے آگے نہ جھکو ۔
قوم کے سرداروں اور بڑوں کو یہ تعلیم پسند نہ آئی کیونکہ وہ بجائے خود اپنی قوم کے معبود بنے ہوئے تھے انہوں نے کہا ہم نوح (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم نہیں…
Read the full tafseer →(27) اس دعا کے بعد ہم نے نوح کی جانب یہ حکم بھیجا کہ تو ہماری نگرانی میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے نر مادہ دونوں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں داخل کرلیجئو اور اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیجئو مگر ان میں سے جس کی نسبت پہلے سے بات طے ہوچکی ہے یعنی جس کے غرق ہونے کا حکم نافذ ہوچکا ہو گھر والوں میں سے اس کو سوار نہ کیجئو اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں کوئی گفتگو نہ کیجئو کیونکہ یہ سب غرق کئے جائیں گے یعنی دعا کے بعد کشتی بنانے کا حکم دیا اور
اور یہ بھی بتادیا کہ یہ لوگ غرق ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 4۔ یعنی جاہ و ریاست مقصود ہے۔
Read the full tafseer →سیدنا نوح (علیہ السلام) کو کشتی تیار کرنے کا حکم اور مخالفین کی ہلاکت کی اطلاع :
27۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے ایک لمبے عرصے تک قوم کی مخالفت کو برداشت کیا اور برابر ان کو وعظ ونصیحت کرتے رہے لیکن قوم کے لوگ بھی نہایت حد تک ڈھیٹ تھے انہوں نے بھی آپ کی ایک نہ سنی اور حالات اس قدر بگڑ گئے کہ وہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کو دیکھتے تو آپ سے پردہ کرلیتے تاکہ وہ نظر ہی نہ آئیں انجام کار سیدنا نوح (علیہ السلام) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور آپ نے اللہ سے ان کی ہلاکت طلب کی اس لئے کہ آپ کو ان کے انجام کے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون مشیت کے مطابق جب انکی ہلاکت کا وقت قریب آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
وَفَارَ التَّنُّورُ (And the oven gushes forth - 23:27). The word تَّنُّور means oven which is used for making flat, round bread, and is also used in the sense of the whole earth. According to some people تَّنُّور is a specific oven in the Kufah mosque, while others believe that it was somewhere in Syria. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was informed by Allah that when water began boiling forth from the تَّنُّور (oven) that would be the sign of the coming of the Deluge (Mazhari). The story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ، the Deluge and his Ark has been reported in some earlier Surahs (See…
Read the full tafseer →29. Some commentators think that tannur means the earth; others take it for the highest part of the earth; and still others think that the words far-at-tannur in the text have been used for the break of dawn. There are some who express the opinion that the words have been used metaphorically for the creation of turmoil. But in view of the context, we see no reason why one should take a far fetched figurative meaning of a clear word of the Quran. It appears that a particular oven (tannur) had been earmarked for the deluge to start from, which was to all appearances an unexpected origin of the…
Read the full tafseer →