Al-Muminoon 23:26

Al-Muminoon · from ayah 26

23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ ۟قَالَ رَبِّ انْصُرۡنِىۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ

نوح نے کہا کہ پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Noah] said, "My Lord, support me because they have denied me."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:26

نوحؑ نے کہا "پروردگار، ان لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تو ہی میری مدد فرما"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نوح نے کہا کہ پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

نوح ؑ نے دعا کی اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

نوح نے کہا : یا رب ! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نوح نے عرض کی اے میرے رب! میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نوح ؑ نے عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! میری مدد کر، اس لیے کہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نوح نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر تو میری مدد فرما

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس نے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو اس چیز سے میری مدد کر جس میں انہوں نے مجھ کو جھٹلایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نوح نے ان سے مایوس ہوجانے کے بعد عرض کیا اے میرے رب ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر تو ہی میری نصرت فرما۔

— مولانا اسحاق مدنی

) نوح نے) عرض کیا اے میرے پروردگار میرا بدلہ لے کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نوح ؑ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! تو میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلادیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نوح نے کہا ”پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Noah said: "My Lord! Come to my help at their accusation that I am lying."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord, help me, for they have rejected me.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord, help me, for they have rejected me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O my Lord! Help me because they deny me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Help me because they deny me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Noah] said, "My Lord, support me because they have denied me."

— Saheeh International

Noah prayed, "Lord, help me; they have called me a liar".

— Muhammad Sarwar

He said: O my Lord! help me against their calling me a liar.

— Muhammad Habib Shakir

Nuh said: my Lord! vindicate me, for they belie me.

— Abdul Majid Daryabadi

(Noah) said: "O my Lord! help me: for that they accuse me of falsehood!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–30

جب نوح ؑ ان سے تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے پروردگار میں لاچار ہوگیا ہوں میری مدد فرما۔ جھٹلانے والوں پر مجھے غالب کر اسی وقت فرمان الہٰی آیا کہ کشتی بناؤ اور خوب مضبوط چوڑی چکلی۔ اس میں ہر قسم کا ایک ایک جوڑا رکھ لو حیوانات نباتات پھل وغیرہ وغیرہ اور اسی میں اپنے والوں کو بھی بٹھالو مگر جس پر اللہ کی طرف سے ہلاکت سبقت کرچکی ہے جو ایمان نہیں لائے۔ جیسے آپ کی قوم کے کافر اور آپ کا لڑکا اور آپ کی بیوی۔ واللہ اعلم۔ اور جب تم عذاب آسمانی بصورت بارش اور پانی آتا دیکھ لو پھر مجھ سے ان ظالموں کی سفارش نہ کرنا۔ پھر ان پر رحم نہ کرنا نہ ان کے ایمان کی امید رکھنا۔ بس پھر تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الْمُؤْمِنُوْن 26 یہ خیال تمام گمراہ لوگوں کی مشترک گمراہیوں میں سے ایک ہے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا اور نبی بشر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے قرآن نے بار بار اس جاہلانہ تصور کا ذکر کر کے اس کی تردید کی ہے اور اس بات کو پورے زور کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تمام انبیاء انسان تھے اور انسانوں کے لیے انسان ہی نبی ہونا چاہیے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں الاعراف، آیات 63۔ 69۔ یونس، آیت 2۔ ہود، 27۔ 31۔ یوسف 109۔ الرعد 38۔ ابراہیم 10۔ 11، النحل 43۔ بنی اسرائیل، 94۔ 95۔ الکہف 110۔ الانبیاء 3۔ 34۔ المومنون 33۔ 34۔ 47۔ الفرقان 7۔ 20۔ الشعراء 154۔ 186۔ یٰسین 15۔ حٰم السجدہ، 6۔ مع حواشی)۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 27 یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–26

خلاصہ تفسیر (اس سے پہلی آیتوں میں انسان کی تخلیق اور اس کی بقاء و آسائش کے لئے مختلف قسم کے سامان پیدا کرنے کا ذکر تھا آگے اس کی روحانی تربیت اور دینی فلاح کا جو انتظام فرمایا اس کا ذکر ہے اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر کر کے بھیجا سو انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا کہ اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارے لئے معبود بنانے کے لائق نہیں (اور جب یہ ایک بات ثابت ہے تو) پھر کیا تم (دوسروں کے معبود بنانے سے) ڈرتے نہیں ہو پس (نوح ؑ کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں جو کافر رئیس تھے (عوام سے) کہنے لگے کہ یہ شخص بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک (معمولی) آدمی ہے اور کچھ (رسول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال رب انصرنی بما کذبون (26) وعدہ عذاب کے ظہور کے لئے حضرت نوح کی دعا یعنی جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا، حضرت نوح نے یہ دعا کی کہ اے رب ! اب تو میرے اور میری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور اس وعدہ عذاب کو پورا کر کے میری مدد فرما جس سے میں نے ان کو شب و روز ڈرایا لیکن انہوں نے میری سنی ان سنی کردی اور اس عذاب کے بارے میں جھٹلا دیا۔ حضرت نوح کی اس دعا کا ذکر، تفصیل کے ساتھ سورة نوح میں آئے گا۔ یہاں اس دعا کے معاً بعد، آگے والی آیت میں، حضرت نوح کی کشتی بنانے اور عذاب سے بچنے کے لئے تبادلوں کی ہدایت ہوئی جو اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ حضرت نوح کی یہ دعا اسی وعدہ عذاب کے ظہور کے لئے تھی۔ آگے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26-1ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ و دعوت کے بعد، بالآخر رب سے دعا کی، (فدَعارَبَّہ، اَنِّیْ مَغْلُوْب فَانْتَصِرُ) (القمر10 ' نوح ؑ نے رب سے دعا کی، میں مغلوب اور کمزور ہوں میری مدد کر ' اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ میری نگرانی اور ہدایت کے مطابق کشتی تیار کرو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–26

13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال کذبون (26) جب زندہ انسان اس طرح پتھروں کی طرح جمود اختیار کرلیں۔ زندگی آگے بڑھنا رک جائے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے ترقی و کمال کے جو مدارج مقرر کر رکھے ہیں۔ انسان اس کی طرف برھنا چھوڑ دیں تو ایسے انسان انسانی ترقی کی راہ میں روڑہ بن جاتے ہیں۔ اب دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو زندگی کو اس جگہ پر جامد چھوڑ دیا جائے اور یا پھر انکو پاش پاش کردیا جائے جس نے زندگی کی گا ڑی کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں یہی فیصلہ ہوا کہ اسے انسانیت کی راہ سے برطرف کردیا جائے۔ کیونکہ حضرت نوح السلام کا دور آغاز انسانیت کا دور ہے ۔ اس لیے اللہ نے انسانیت کی راہ میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جب نوح کی ساری کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، ساڑھے نو سو برس سختیاں جھیل کر بھی ان کو راہ راست پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تو خدا سے فریاد کی کہ اب ان اشقیاء کے مقابلہ میں میری مدد فرمایئے۔ کیونکہ بظاہر یہ لوگ میری تکذیب سے باز آنے والے نہیں۔ اوروں کو بھی خراب کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–26

آیت 24 فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْلا ” حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے سرداروں نے اپنے عوام کو تسلی دینے کے لیے ان کے سامنے یہ دلیل اختیار کی کہ یہ نوح علیہ السلام بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہی تو ہے اور ایک انسان اللہ کا فرستادہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ط ” اس نے اقتدار و اختیار اور سرداری حاصل کرنے کے لیے نبوت و رسالت کا یہ ڈھونگ رچایا ہے۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلآءِکَۃً ج ” اگر اللہ نے اپنا رسول بھیجنا ہوتا تو وہ اپنے فرشتوں میں سے کسی کو بھیجتا۔ اس شخص میں کون سی ایسی خاص بات تھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

31 حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ تبلیغ غالباً تمام انبیاء سے زیادہ ہے جو قرآن کی صراحت کے مطابق ساڑھے نو سو سال ہے۔ اس طویل عرصہ میں آپ اپنی قوم سے ناروا باتیں اور طعنے وغیرہ سنتے اور برداشت کرتے رہے۔ اتنی طویل مدت میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے۔ دوسروں کا کیا ذکر آپ کی بیوی اور ایک بیٹا بھی آپ کے مقابلہ میں کافروں کا ساتھ رہے تھے۔ حضرت نوح کو یہ یقین ہوگیا کہ اب جو کافر موجود ہیں وہ اس قدر ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دعوت حق کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بس یہ لوگ صرف حضرت نوح کی اذیت اور ذہنی کوفت کا باعث بن رہے تھے۔ جب ان کافروں نے آپ کو اذیت دینے میں انتہا کردی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ پیغمبروں کا صبر بھی آخر غیر محدود نہیں ہوتا۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے پیام حق کی برابر تکذیب ہی ہورہی ہے تو ایک مدت مدید کے بعد آخر ان کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوجاتا ہے۔ اور وہ نصرت الہی کے اسی دنیا میں عملی ظہور کی دعا کرنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–32

آیت نمبر 23 تا 32 ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب انصرنی بما کذبون۔ نوح نے کہا اے میرے رب ! چونکہ انہوں نے میری تکذیب کی اس لئے میرا ان سے بدلہ لے۔ (یا مجھے ان کے مقابلے میں کامیاب کر) ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے یہ دعا اس وقت کی جب آپ کو اللہ کی طرف سے اطلاع دے دی گئی کہ جو ایمان لے آئے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ اُنْصُرْنِیْمیری مدد کر یعنی جس عذاب سے میں نے ان کو ڈرایا تھا وہ عذاب نازل فرما دے۔ اور ان کو تباہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–27

(26۔ 27) نوح ؑ نے (مایوس ہو کر) عرض کیا، پروردگار ان پر عذاب نازل کرکے میرا بدلہ لے لے کیوں کہ انہوں نے میری رسالت کو جھٹلایا ہے تو ہم نے انکے پاس بذریعہ جبریل امین ؑ حکم بھیجا کہ تم کشتی تیار کرلو ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے پس جس وقت ہمارے عذاب کا وقت قریب آپہنچے اور زمین سے پانی ابلنا شروع ہو یا یہ کہ صبح کا کنارا نکل جائے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک نر اور ایک مادہ اس کشتی میں سوار کرلو اور آپ کے متعلقین میں سے جو آپ پر ایمان لائے ان کو بھی سوار کرلو سوائے ان کے جن پر عذاب نازل ہونے کا حکم ہوچکا اور یہ سن لو کہ مجھے اپنی قوم کے کافروں کی نجات کے بارے میں کوئی درخواست مت کرنا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ انْــصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ : درحقیقت یہ قوم پر عذاب کی دعا ہے۔ نوح ؑ نے یہ بد دعا کب کی اور کن الفاظ میں کی، اس کے لیے دیکھیے سورة قمر (9، 10) ، سورة شعراء (117، 118) اور سورة نوح (26، 27)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21-27 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–26

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے انعام سے مراد ہے اونٹ گائے، بھیڑ اور دنبہ آیت ” ولکم فیہا منافع “ یعنی جو وہ بچے جنتے ہیں اور اس میں سے (تمہارے لیے) سوار ہے اور دودھ ہے اور گوشت ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعلی الفلک “ سے مراد کشتیاں ( کہ جس پر تم سواری کرتے ہو)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (نوح نے ) کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] انْــصُرْنِيْ [ تو نصرت کر میری ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَذَّبُوْنِ [ ان لوگوں نے جھٹلایا مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–30

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26:۔ ” قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ الخ “ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے مگر قوم ضد وعناد سے اپنے مشرکانہ عقائد و اعمال پر جمی رہی تو ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہو کر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے اللہ میر متواتر تبلیغ و دعوت پر ان کے مسلسل انکار و جحود کی وجہ سے اب انہیں ہلاک کردے اور میری تکذیب کا ان سے انتقام لے۔ ای اھلکھم بسبب تکذیبھم ایای (کبیر ج 6 ص 281) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–30

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ۝ 26 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ ۔ (المومنون : 26) حضرت نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو اس چیز سے میری مدد فرما جس میں انھوں نے مجھے جھٹلادیا ہے۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی نزول عذاب کے لیے دعا حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کی بجائے جب آپ کے قتل کے منصوبے بنانے شروع کر دئیے اور یہ فیصلہ کرلیا کہ اس نبی اور اس کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے مٹا دیا جائے۔ تو تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ الہٰی ! میرے پاس نہ افرادی قوت ہے اور نہ اقتدار کی ہیبت۔ تیری تائید ونصرت کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔ میں نے شب وروز اپنی قوم کو سمجھایا اور تبلیغ و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب یقین ہوگیا کہ اس کی قوم نے اسے کلیتاً جھٹلا دیا ہے تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد طلب کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور پتھر مار مار کر جان سے ختم کرنے کی دھمکی دی۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ اگر تو واقعی اللہ کا پیغمبر ہے تو ہمیں عذاب سے تباہ و برباد کر دے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے یہ کہہ کر مدد طلب کی کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوچکا ہوں تو میری مدد فرما۔ اس صورت حال میں حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26: قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا کَذَّبُوْنِ (کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب چونکہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے اس لئے تو ان سے میرا بدلہ لے) جب نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اللہ تعالیٰ سے انتقام کی دعا کی۔ مطلب یہ ہے میری تکذیب کرنے کی وجہ سے ان کو ہلاک کر دے۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کی نصرت ان کے ہلاک کرنے سے ہی ہوسکتی تھی۔ یا نمبر 2۔ اُنصرنی یہ ماکذبون کا بدل ہے جیسے تم کہو۔ ھذا بذاک ای بدل ذاک۔ اس طرح معنی یہ ہوگا اے میرے رب ان کی تکذیب کے غم کو ان پر غلبہ کی تسلی سے بدل دے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–30

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

36 نوح کی دعا اپنے رب کے حضور : سو ان متکبروں کے مقابلے میں حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور نصرت و امداد کی دعا کی۔ یعنی جب وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی ہی پر اڑے رہے تو آخر کار حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " اے میرے رب میری مدد فرما "۔ کہ تو ہی ہے سب کی مدد فرمانے والا ہے۔ سو جب نوح (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان پیغمبر بھی اپنی حاجتوں اور مشکلوں میں اسی وحدہ لاشریک کو پکارتے اور اسی کے محتاج ہیں تو پھر اور کون سی ہستی ایسی ہوسکتی ہے جسے حاجت روا و مشکل کشا مانا جائے ؟۔ سو غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو مردہ ہستیوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے اور ان سے مدد کی درخواست و دعاء…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–32

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ جمہور مفسرین (رح) کے نزدیک یہی آگ کا تنور مراد ہے اور بعض نے مطلق وجہ ارض مراد لیا ہے۔ (ہود :40) 3 ۔ یعنی اپنے گھروالوں کو بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 26–27

(23:26) بما۔ اس میں ب سببیہ ہے اور ما مصدریہ ای بسبب تکذیبہم ایای ان کے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے۔ کذبون۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصل میں کذبونی تھا۔ انہوں نے مجھے جھٹلایا ۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے میری تکذیب کی۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–32

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–31

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–26

[16] نوح (علیہ السلام) کا قصہ سورة اعراف آیت 59 تا 764 صفحہ 346، 348 میں اور سورة ہود آیت 25 تا 48 صفحہ 496، 498، 500، 502 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

(ف 1) ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے قوم کو کیا پیغام دیا ، اور ان کے مخالفین نے کس طرح کے بیہودہ اعتراضات سے ان کا غیر مقدم کیا ، ارشاد ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے محض توحید کی تلقین کی اور قوم سے کہا کہ صرف ایک خدا کی پرستش کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی چارہ ساز نہیں ہے ، پرہیزگاری اور تقوی کا تقاضا بھی ہے ، کہ تمہارے دلوں میں توحید کی روشنی ہو اور تم بجز اس کی ذات بےآتا کہے اور کسی کے آگے نہ جھکو ۔ قوم کے سرداروں اور بڑوں کو یہ تعلیم پسند نہ آئی کیونکہ وہ بجائے خود اپنی قوم کے معبود بنے ہوئے تھے انہوں نے کہا ہم نوح (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی اے میرے پروردگار ! چونکہ یہ لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور انہوں نے مجھ کو جھٹلایا ہے اس لئے آپ میری مدد کیجئے۔ یعنی ان کے مقابلے میں طاقت مجھ میں نہیں ہے یہ سب ایک طرف اور میں تنہا انہوں نے میری تکذیب کی ہے لہٰذا تو میری مدد فرما۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا نوح (علیہ السلام) کا قوم کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا : 26۔ ” سیدنا نوح (علیہ السلام) نے دعا مانگی اے اللہ ! اے میرے رب ! انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو ہی میری مدد فرما “ معلوم ہوا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں قوم کے لوگ پوری طرح بپھر گئے تھے اور آپ پر پل پڑنے کے لئے ہر وقت تیار تھے ۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا تفصیلی ذکر سورة نوح میں آئے گا اور ہم نے اس سے پہلے سیدنا نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے عنوان کے تحت سورة ہود میں بھی ذکر کردیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–26

In the last benefit, ships and boats are also included, because they are also used in transportation وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ (And on them and on the boats you are transported - 23:22). All types of mounts which are run with wheels may also be added to fulk (boats) because they render the same service.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28.“Help me because they have denied me”: Take Thy vengeance on these people for they have denied me. (Verse 10 of Surah Al-Qamar) says: Then cried Noah to his Lord, I am overcome, so take Thy vengeance on these people, and (verses 26-27 of Noah) say: And Noah said, O my Lord, do not leave of these disbelievers any dweller upon the earth, for if Thou sparest them, they will mislead Thy servants and will beget none but sinners and disbelievers.

Read the full tafseer →