Al-Muminoon 23:25

Al-Muminoon · from ayah 25

23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰی حِیْنٍ ۟اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ حَتّٰى حِيۡنٍ

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اس کے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

He is not but a man possessed with madness, so wait concerning him for a time."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:25

کچھ نہیں، بس اس آدمی کو ذرا جنون لاحق ہو گیا ہے کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہو جائے)"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اس کے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(رہا یہ شخص، تو) یہ اور کچھ نہیں ایک ایسا آدمی ہے جسے جنون لاحق ہوگیا ہے، اس لیے کچھ وقت تک اس کا انتظار کر کے دیکھ لو (کہ شاید اپنے حواس میں آجائے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تو نہیں مگر ایک دیوانہ مرد تو کچھ زمانہ تک اس کا انتظار کیے رہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ شخص تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے دیوانگی (کا عارضہ لاحق ہو گیا) ہے سو تم ایک عرصہ تک اس کا انتظار کرو (دیکھو آگے کیا کرتا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جسے ایک جنون ہے، سو ایک وقت تک اس کے بارے میں انتظار کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تو ایک ایسا آدمی ہے جسے جنون ہوگیا ہے لہذا کچھ مدت اور انتظار کرو (شاید وہ ٹھیک ہوجائے)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تو بس ایک ایسا شخص ہے جس کو ایک قسم کا جنون ہے۔ تو کچھ دن اس کے باب میں انتظار کرو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسلیے اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا شخص ہے جسے کچھ جنون ہوگیا ہے پس تم لوگ اس کے بارے میں صبر و انتظار سے کام لو ایک وقت تک۔

— مولانا اسحاق مدنی

بس یہ ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے سو ایک خاص وقت تک انتظار کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ تو بس ایک ایسا شخص ہے جس کو کچھ جنون لاحق ہوگیا ہے چناچہ تم لوگ انتظار کرو اس (کے انجام) کا کچھ وقت کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس آدمی کو تو دیوانگی کی بیماری ہے تو اس کے بارے میں کچھ دیر انتظار کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He is a person who has been seized with a little madness; so wait for a while (perhaps he will improve)."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is none but a man suffering from madness; so wait for (what happens to) him until some time

— Muhammad Taqi Usmani

He is none but a man suffering from madness; so wait for (what happens to) him until some time

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"He is only a man in whom is madness, so wait for him a while."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He is only a man in whom is a madness, so watch him for a while.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He is not but a man possessed with madness, so wait concerning him for a time."

— Saheeh International

He is only an insane person. Wait for some time. Perhaps he will come to his senses."

— Muhammad Sarwar

He is only a madman, so bear with him for a time.

— Muhammad Habib Shakir

He is only a man in whom is madness wherefore await for him for a season.

— Abdul Majid Daryabadi

(And some said): "He is only a man possessed: wait (and have patience) with him for a time."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–25

نوح ؑ اور متکبر وڈیرے نوح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جاکر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرکے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی ؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–26

سورة الْمُؤْمِنُوْن 26 یہ خیال تمام گمراہ لوگوں کی مشترک گمراہیوں میں سے ایک ہے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا اور نبی بشر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے قرآن نے بار بار اس جاہلانہ تصور کا ذکر کر کے اس کی تردید کی ہے اور اس بات کو پورے زور کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تمام انبیاء انسان تھے اور انسانوں کے لیے انسان ہی نبی ہونا چاہیے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں الاعراف، آیات 63۔ 69۔ یونس، آیت 2۔ ہود، 27۔ 31۔ یوسف 109۔ الرعد 38۔ ابراہیم 10۔ 11، النحل 43۔ بنی اسرائیل، 94۔ 95۔ الکہف 110۔ الانبیاء 3۔ 34۔ المومنون 33۔ 34۔ 47۔ الفرقان 7۔ 20۔ الشعراء 154۔ 186۔ یٰسین 15۔ حٰم السجدہ، 6۔ مع حواشی)۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 27 یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–26

خلاصہ تفسیر (اس سے پہلی آیتوں میں انسان کی تخلیق اور اس کی بقاء و آسائش کے لئے مختلف قسم کے سامان پیدا کرنے کا ذکر تھا آگے اس کی روحانی تربیت اور دینی فلاح کا جو انتظام فرمایا اس کا ذکر ہے اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر کر کے بھیجا سو انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا کہ اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارے لئے معبود بنانے کے لائق نہیں (اور جب یہ ایک بات ثابت ہے تو) پھر کیا تم (دوسروں کے معبود بنانے سے) ڈرتے نہیں ہو پس (نوح ؑ کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں جو کافر رئیس تھے (عوام سے) کہنے لگے کہ یہ شخص بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک (معمولی) آدمی ہے اور کچھ (رسول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رسول پر خلل داغ کا الزام یعنی ان لیڈروں نے اپنے عوام کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی یہ شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے تو اس سے اس کے رعب میں نہ آئو۔ یہ محض ایک قسم کا خلل دماغ ہے جس کے سبب سے اس کو ایک قسم کا وسوسہ لاحق ہوتا ہے جس کو یہ آسمانی وحی سمجھ بیٹھتا ہے۔ فتربصوا بہ حتی حین یعنی اس شخص کی ان باتوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ مستقبل کے جس عذاب سے تم کو ڈرا رہا ہے اس سے کسی اندیشہ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ سب اس کے وساوس ہیں۔ بہت جلد یہ ہوا میں اڑ جائیں گے۔ بالکل اسی قسم کی بات قریش کے لیڈروں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کہی جس کا حوالہ سورة طور میں دیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25-1یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو بتوں کی عبادت کرنے کی وجہ سے، بیوقوف اور کم عقل سمجھتا اور کہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود ہی دیوانہ ہے اسے ایک وقت تک ڈھیل دو ، موت کے ساتھ ہی اس کی دعوت بھی ختم ہوجائے گی یا ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہوجائے اور اس دعوت کو ترک کر دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–26

13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–25

درس نمبر 149 تشریح آیات 23 تا 52 اس سبق کا مضمون اب دلائل النفس و آفاق سے براہ راست عقیدہ توحید کی طرف آجاتا ہے جو تمام انبیاء کا مدار دعوت رہے ہے اور تمام رسول اس کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام رسولوں نے تمام زمانوں میں لوگوں کو اسی عقیدے کے طرف بلایا اور تمام رسولوں کا استقبال ان کی امتوں نے کس طرح کیا۔ اس دعوت کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیسا رہا۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک تمام رسولوں نے کلمہ توحید کی طرف دعوت دی جس کا مفہوم عربی زبان میں یوں رہا کہ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے کیونکہ تمام رسول دعوت اپنی قوم کی زبان ہی میں دیتے تھے۔ چناچہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 معلوم ہوتا ہے کہ اس غریب کا دماغ چل گیا۔ بھلا ساری قوم کے خلاف اور اپنے باپ دادوں کے خلاف ایسی بات زبان سے نکالنا جو کوئی شخص باور نہ کرسکے کھلا جنون نہیں تو اور کیا ہوگا بہتر ہے چند روز صبر کرو اور انتظار کرو، شاید کچھ دنوں کے بعد اسے ہوش آجائے اور جنون کے دورہ سے افاقہ ہو یا یوں ہی مرمرا کر قصہ ختم ہوجائے۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–26

آیت 24 فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْلا ” حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے سرداروں نے اپنے عوام کو تسلی دینے کے لیے ان کے سامنے یہ دلیل اختیار کی کہ یہ نوح علیہ السلام بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہی تو ہے اور ایک انسان اللہ کا فرستادہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ط ” اس نے اقتدار و اختیار اور سرداری حاصل کرنے کے لیے نبوت و رسالت کا یہ ڈھونگ رچایا ہے۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلآءِکَۃً ج ” اگر اللہ نے اپنا رسول بھیجنا ہوتا تو وہ اپنے فرشتوں میں سے کسی کو بھیجتا۔ اس شخص میں کون سی ایسی خاص بات تھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 قوم نوح کی نظروں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دیوانگی یہ تھی کہ ساری قوم کے نظریہ کے خلاف خالص توحید کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ نوح کا (نعوذ باللہ) ایک بیہودہ سا خیال ہے۔ بھلا ساری قوم کے مقابلہ میں اس اکیلے کی پکار کی کیا حقیقت ہے۔ لہذا اس کی طرف توجہ کی چنداں ضرورت نہیں۔ وہ خود ہی جب اپنی ناکامی دیکھے گا تو اپنی ایسی باتوں سے باز آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ (جب یہ خود ہی ایک وقت پر پہنچ کر ختم ہوجائے گا) (آیت) ” بہ جنۃ “۔ یعنی اسے جنون ہوگیا ہے۔ یا یہ آسیب زدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–32

آیت نمبر 23 تا 32 ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ہو الا رجل بہ جنۃ فتربصوا بہ حتی حین۔ یہ صرف ایک ایسا آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے اب تم اس کو اس کی حالت پر ایک وقت تک رہنے دو اور منتظر رہو۔ جِنَّۃٌجنون ‘ یہ جو رسالت کا دعویٰ کر رہا ہے یہ اس کا جنون ہے ‘ درحقیقت یہ نفی رسالت کی تاکید ہے۔ کیونکہ دیوانہ رسول نہیں ہوسکتا اور اس کو جنون ہے اس لئے رسول نہیں ہوسکتا۔ فَتَرَبَّصُوْا یعنی اس کو برداشت کرو اور اس وقت کا انتظار کرو کہ یہ خود ہی مرجائے یا اس کا جنون دور ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–25

(24۔ 25) تو ان کی قوم کے رئیس یہ سن کر عوام سے کہنے لگے کہ نوح ؑ سوائے اس کے کہ تمہاری طرح کے ایک آدمی ہیں اور کچھ نہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کے دعوے سے تم پر فوقیت حاصل کریں اور اگر اللہ تعالیٰ ہمارے پاس رسول بھیجنا منظور ہوتا تو فرشتوں میں سے کئی فرشتے کو بھیج دیتا، نوح ؑ جو کہتے ہیں، ہم نے اپنے پہلے بڑوں کے زمانہ میں بھی اس چیز کا تذکرہ نہیں سنا، نوح ؑ کو جنون ہوگیا ہے تو ان کے وقت تک ان کی حالت کا انتظار کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ :”جِنَّةٌ“ جنون، دیوانگی۔ ان کی پانچویں بات یہ بہتان ہے جو انھوں نے لگایا، یعنی اس کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے، پھر وہ بات کہنا جو ہم نے کبھی سنی ہی نہیں کہ بتوں کی عبادت مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو اور دن رات اسی کی تبلیغ میں لگے رہنا، نہ کاروبار کا خیال، نہ پوری قوم کی مخالفت کی پروا، درحقیقت اسے ایک جنون لاحق ہے، دیوانگی ہے جو اس سے یہ سب کچھ کرواتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی نظر میں کافر جو کچھ کرتا ہے سراسر دیوانگی ہے کہ ساری جد و جہد چند روزہ زندگی کے لیے کرتا ہے، ہمیشہ کی زندگی کی اسے فکر ہی نہیں اور پیدا کرنے والے کے ساتھ ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21-27 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–26

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے انعام سے مراد ہے اونٹ گائے، بھیڑ اور دنبہ آیت ” ولکم فیہا منافع “ یعنی جو وہ بچے جنتے ہیں اور اس میں سے (تمہارے لیے) سوار ہے اور دودھ ہے اور گوشت ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعلی الفلک “ سے مراد کشتیاں ( کہ جس پر تم سواری کرتے ہو)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ [ نہیں ہے ] هُوَ [ وہ ] اِلَّا [ مگر ] رَجُلٌۢ [ ایک آدمی ] بِهٖ [ اس کے ساتھ ] جِنَّةٌ [ کوئی دیوانگی ہے ] فَتَرَبَّصُوْا [ تو تم لوگ انتظار کرو ] بِهٖ [ اس کے بارے میں ] حَتّٰى حِيْنٍ [ کچھ مدت تک ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–30

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:۔ ” اِنْ ھُوَ الخ “ یہ بھی رؤساء مشرکین کا قول ہے۔ نوح ایک ایسی بات کہتا ہے (یعنی صرف ایک اللہ ہی کو پکارو) جو ہم نے آج تک نہیں سنی اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دیوانہ ہے اور اس کے حواس درست نہیں ہیں۔ معاذ اللہ ! اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ شاید کچھ عرصہ کے بعد اس کی دماغی حالت درست ہوجائے اور وہ اپنے اس عجیب و غریب دعوی سے باز آجائے۔ یہ مشرکین کی ضد و عداوت کی انتہا تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–30

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ ہُوَاِلَّا رَجُلٌۢ بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰى حِيْنٍ۝ 25 رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنتہ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ ھُوَاِ لَّارَجُلٌ م بِہٖ جِنَّۃٌ فَتَرَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰی حِیْنَ ۔ (المومنون : 25) یہ تو بس ایک ایسا شخص ہے جسے جنون کا مرض ہوگیا ہے تو کچھ دن اس کا انتظار کرو۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جب دیکھا کہ نوح (علیہ السلام) کی باتوں اور آپ کی تعلیمات سے لوگ متأثر ہورہے ہیں اور آپ صرف اس دنیا کے بارے میں نہیں بلکہ آنے والی دنیا کے بارے میں اور بعض ان دیکھے حقائق کے حوالے سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو دوسروں کی گرفت میں نہیں آسکتیں اور نہ انسانی علم اس تک رسائی رکھتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کا اللہ کے ساتھ کوئی خاص رشتہ ہے اور آپ کے قول کے مطابق واقعی آپ پر فرشتہ وحی لے کر نازل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–25

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے سرداروں نے پانچ الزام لگائے۔ 1۔ یہ تمہارے جیسا بشر ہے 2۔ یہ تم پر برتری یعنی اقتدار چاہتا ہے۔ 3۔ اگر اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو نازل کرتا۔ لہٰذا یہ جھوٹا ہے 4۔ ہم نے ایسی بات اور دعوت اپنے آباؤ اجد سے نہیں سنی۔ 5۔ نوح پاگل ہوگیا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت کیا دی تھی ؟ اور اس کے جواب میں قوم کے لیڈروں نے اپنی اپنی پارٹی اور ور کر کو قابو میں رکھنے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کن باتوں کا پراپیگنڈہ کیا۔ لیڈروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

25: اِنْ ھُوَاِلَّا رَجُلٌ بِہٖ جِنَّۃٌ (یہ صرف ایک ایسا آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے) جِنّۃٌ کا معنی جنون ہے : فَترَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰی حِیْنٍ (پس اس کو برداشت کرو اور ایک وقت کا انتظار کرو) پس تم انتظار کرو اس کے متعلق ایک زمانہ تک صبر کرو یہاں تک کہ اس کا معاملہ کھل کر سامنے آجائے۔ پھر اگر تو جنون سے افاقہ ہوا فبہا ورنہ اس کو قتل کردینا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔ ان ھوالا رجل بہ جنہ۔ اسے مراد جنون ہے۔ فتربصوا بہ حتی حین۔ یعنی اس کو برداشت کرو اور اس وقت کا انتظار کرو یہ خود ہی مرجائے گا۔ اور راحت پالے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–30

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34 پیغمبر کی پاکیزہ ہستی پر جنون کا الزام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ اس شخص کو کچھ جنون ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس کے باعث یہ شخص عقل میں نہ آنے والی ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لیڈروں نے اپنی قوم کو اس مغالطے میں ڈالنے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خدا کا فرشتہ آتا ہے تو تم لوگ اس کے اس دعوے کو کوئی اہمیت نہ دینا اور اس کے رعب میں نہ آنا۔ یہ محض ایک قسم کا دماغی خلل ہے جو اس شخص کو لاحق ہوگیا ہے جس کی بناء پر یہ ایسے دعوے کرتا ہے اور اس کو آسمانی وحی سمجھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے ان ظالموں کے ظلم کا انداز کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–32

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی کچھ مدت تک اسے کچھ نہ کہو شاید خو دم بکتے بکتے چپ ہوجائے، یا شاید اس کا دماغ درست ہوجائے اور سمجھ کی باتیں کرے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

23:25) ان۔ نافیہ ہے۔ رجل بہ جنۃ۔ (ایسا) آدمی جس کو جنون ہو۔ جنۃ۔ جن یجن (نصر) سے مشتق ہے۔ بمعنی جنون۔ سودا۔ دیوانگی۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ما بصاحبکم من جنۃ (7:184) تمہارے رفیق (محمد ﷺ ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ الجن کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ رکھنے کے ہیں۔ جن (باب نصر) سے کسی چیز کو چھپانا۔ اور اجن کے معنی چھپانے کے لئے کوئی چیز دینا اسی سے الجن ہے جس کی جمع جنۃ آتی ہے تمام غیر مرئی روحانی مخلوق جو حواس سے مستور ہے اس صورت میں جن کا لفظ ملائکہ اور شیاطین دونوں کو شامل ہے۔ لہٰذا تمام فرشتے جن ہیں لیکن تمام جن فرشتے نہیں ہیں۔ اسی سے الجنۃ ہے۔ یعنی ہر وہ باغ جس کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–32

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 : الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 23–31

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–26

[16] نوح (علیہ السلام) کا قصہ سورة اعراف آیت 59 تا 764 صفحہ 346، 348 میں اور سورة ہود آیت 25 تا 48 صفحہ 496، 498، 500، 502 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

(ف 1) ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے قوم کو کیا پیغام دیا ، اور ان کے مخالفین نے کس طرح کے بیہودہ اعتراضات سے ان کا غیر مقدم کیا ، ارشاد ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے محض توحید کی تلقین کی اور قوم سے کہا کہ صرف ایک خدا کی پرستش کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی چارہ ساز نہیں ہے ، پرہیزگاری اور تقوی کا تقاضا بھی ہے ، کہ تمہارے دلوں میں توحید کی روشنی ہو اور تم بجز اس کی ذات بےآتا کہے اور کسی کے آگے نہ جھکو ۔ قوم کے سرداروں اور بڑوں کو یہ تعلیم پسند نہ آئی کیونکہ وہ بجائے خود اپنی قوم کے معبود بنے ہوئے تھے انہوں نے کہا ہم نوح (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) بس یہ ایک آدمی ہے جس کو کچھ جنون ہوگیا اور دیوانگی ہوگئی ہے سو ایک وقت خاص تک اس کا اور انتظار کرلو یعنی اس پر ایمان لانے میں جلدی نہ کرو اس پر کوئی جنون اور دیوانگی کا دورا پڑگیا ہے ذرا صبر کرو اور انتظار کرلو یا جنون سے افاقہ ہوجائے یا جنون میں ہی مرجائے اور اگر افاقہ نہ ہو تو تم اس کو قتل کردو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے سیدنا نوح (علیہ السلام) پر جنون کا الزام لگایا : 25۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں اور مذہبی راہنماؤں نے اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ یہ شخص جو یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس رب کریم کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے تو تم اس کے اس رعب میں مت آؤ یہ محض ایک قسم کا خلل دماغ ہے جس کے باعث یہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے ، شاید ہی کوئی نبی ہو جس پر قوم نے یہ الزام نہ دیا ہو کہ اس کو کسی کی مار لگ گئی ہے ؟ پاگل ہوگیا ہے ؟ غور کیجئے کہ قوموں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر یہ الزام کیوں لگایا ؟ اس لئے کہ وہ کہتے تھے یہ عجیب و غریب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–26

In the last benefit, ships and boats are also included, because they are also used in transportation وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ (And on them and on the boats you are transported - 23:22). All types of mounts which are run with wheels may also be added to fulk (boats) because they render the same service.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

26. There has been a common deviation that a human being cannot be a Prophet, and a Prophet cannot be a human being. That is why the Quran has refuted this wrong conception over and over again, and has stated forcefully that all the Prophets were human beings and that a human being only could be sent as a Prophet to human beings. For details, see (Suras Al-Aaraf Ayats 63, 69); (Yuonus, Ayat 2); (Houd, Ayats 27-31); (Yousuf, Ayat 109); (Ar- Raad, Ayat 38); (Ibrahim, Ayats 10-11); (An-Nahl, Ayat 43), (Bani Israil, Ayats 94-95); (Al-Kahf, Ayat 110); (Al-Anbiya, Ayats 3, 34); (Al-Mominoon, Ayats…

Read the full tafseer →