Explained with ayahs 23–25
نوح ؑ اور متکبر وڈیرے
نوح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بشیرونذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان میں جاکر پیغام الٰہی پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاری عبادت کا حقدار کوئی نہیں۔ تم اللہ کے سوا اس کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہوئے اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا یہ تو تم جیسا ہی ایک انسان ہے۔ نبوت کا دعویٰ کرکے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے سرداری حاصل کرنے کی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف وحی کیسے آتی ؟ اللہ کا ارادہ نبی بھیجنے کا ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کو بھیج دیتا۔ یہ تو ہم نے کیا، ہمارے باپ دادوں نے بھی نہیں سنا کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
سورة الْمُؤْمِنُوْن 26
یہ خیال تمام گمراہ لوگوں کی مشترک گمراہیوں میں سے ایک ہے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا اور نبی بشر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے قرآن نے بار بار اس جاہلانہ تصور کا ذکر کر کے اس کی تردید کی ہے اور اس بات کو پورے زور کے ساتھ بیان کیا ہے کہ تمام انبیاء انسان تھے اور انسانوں کے لیے انسان ہی نبی ہونا چاہیے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں الاعراف، آیات 63۔ 69۔ یونس، آیت 2۔ ہود، 27۔ 31۔ یوسف 109۔ الرعد 38۔ ابراہیم 10۔ 11، النحل 43۔ بنی اسرائیل، 94۔ 95۔ الکہف 110۔ الانبیاء 3۔ 34۔ المومنون 33۔ 34۔ 47۔ الفرقان 7۔ 20۔ الشعراء 154۔ 186۔ یٰسین 15۔ حٰم السجدہ، 6۔ مع حواشی)۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 27
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
خلاصہ تفسیر
(اس سے پہلی آیتوں میں انسان کی تخلیق اور اس کی بقاء و آسائش کے لئے مختلف قسم کے سامان پیدا کرنے کا ذکر تھا آگے اس کی روحانی تربیت اور دینی فلاح کا جو انتظام فرمایا اس کا ذکر ہے اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر کر کے بھیجا سو انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا کہ اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارے لئے معبود بنانے کے لائق نہیں (اور جب یہ ایک بات ثابت ہے تو) پھر کیا تم (دوسروں کے معبود بنانے سے) ڈرتے نہیں ہو پس (نوح ؑ کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں جو کافر رئیس تھے (عوام سے) کہنے لگے کہ یہ شخص بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک (معمولی) آدمی ہے اور کچھ (رسول…
Read the full tafseer →قوم کے لیڈروں کی طرف سے حضرت نوح کی مخالفت
ملاً سے مراد، جیسا کہ ہم بقرہ 246 کے تحت وضاحت کرچکے ہیں قوم کے اعیان، سردار اور لیڈر ہیں۔ دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش ہمیشہ یہی ہوئے ہیں اس لئے کہ اپنے وقت کے نظام باطل کے سربراہ ہونے کے سبب سے رسول کی کامیابی وہ اپنی موت سمجھتے ہیں۔ چناچہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ رسول کی دعوت سلیم الفطرت لوگوں پر اثر انداز ہو رہی ہے تو وہ اس کے اثر کو مٹان یکے لئے طرح طرح کی سخن سازیاں کرتے اور اپنے عوام کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ اس کی نیت و صداقت پر حملہ کرتے ہیں کہ اس شخص کا یہ دعویٰ کہ یہ خدا کا فرستادہ ہے محض جھوٹ اور افتراء ہے ! یہ…
Read the full tafseer →24-1یعنی یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے، یہ کس طرح نبی اور رسول ہوسکتا ہے ؟ اور اگر یہ نبوت و رسالت کا دعویٰ کر رہا ہے تو اصل مقصد اس سے تم پر فضیلت اور بہتری حاصل کرنا ہے۔
24-2اور اگر واقع اللہ اپنے رسول کے ذریعہ سے ہمیں یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ عبادت کے لائق صرف وہی ہے، تو وہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا نہ کہ کسی انسان کو، وہ ہمیں آ کر توحید کا مسئلہ سمجھاتا۔
24-3یعنی اس کی دعوت توحید، ایک نرالی دعوت ہے، اس سے پہلے ہم نے اپنے باپ دادوں کے زمانے میں تو یہ سنی ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
درس نمبر 149 تشریح آیات 23 تا 52
اس سبق کا مضمون اب دلائل النفس و آفاق سے براہ راست عقیدہ توحید کی طرف آجاتا ہے جو تمام انبیاء کا مدار دعوت رہے ہے اور تمام رسول اس کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام رسولوں نے تمام زمانوں میں لوگوں کو اسی عقیدے کے طرف بلایا اور تمام رسولوں کا استقبال ان کی امتوں نے کس طرح کیا۔ اس دعوت کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیسا رہا۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آج تک تمام رسولوں نے کلمہ توحید کی طرف دعوت دی جس کا مفہوم عربی زبان میں یوں رہا کہ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے کیونکہ تمام رسول دعوت اپنی قوم کی زبان ہی میں دیتے تھے۔ چناچہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
1 یعنی اس میں اور تم میں فرق کیا ہے جو یہ رسول بن جائے تم نہ بنو۔
2 یعنی بڑا بن کر رہنا چاہتا ہے اس لیے یہ سب ڈھونگ بنایا ہے۔ ورنہ خدا کسی کو رسول بنا کر بھیجتا تو کیا یہ ہی اس کام کے لیے رہ گیا تھا۔
3 یعنی ہم نے ایسی عجیب بات کبھی نہیں سنی کہ ایک ہماری طرح کا معمولی آدمی خدا کا رسول بن جائے اور تمام دیوتاؤں کو ہٹا کر تنہا ایک خدا کی حکومت منوانے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
آیت 24 فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْلا ”
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے سرداروں نے اپنے عوام کو تسلی دینے کے لیے ان کے سامنے یہ دلیل اختیار کی کہ یہ نوح علیہ السلام بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہی تو ہے اور ایک انسان اللہ کا فرستادہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ط ”
اس نے اقتدار و اختیار اور سرداری حاصل کرنے کے لیے نبوت و رسالت کا یہ ڈھونگ رچایا ہے۔
وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلآءِکَۃً ج ”
اگر اللہ نے اپنا رسول بھیجنا ہوتا تو وہ اپنے فرشتوں میں سے کسی کو بھیجتا۔ اس شخص میں کون سی ایسی خاص بات تھی…
Read the full tafseer →27 تمام انبیاء اور رسل ہمیشہ بشر ہی ہوتے تھے۔ اور انسانوں کے لئے رسول ہونا بھی کوئی بشر ہی چاہئے جو انہی میں سے ہو تاکہ جب وہ انھیں اپنی زبان میں اللہ کا پیغام پہنچاویں تو وہ اسے سمجھ سکیں۔ نیز رسول کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا۔ ان احکام پر سب سے پہلے خود عمل پیرا ہو کر عملی نمونہ دکھلانا بھی ہوتا ہے۔ اب اگر رسول انسان کی بجائے فرشتہ ہو یا نوری مخلوق ہو یا کسی اور اعلیٰ جنس سے ہو۔ تو اس پر ایمان لانے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لوگ انسان ہو کر ایک فرشتہ یا کسی بالاتر جنس والی ہستی کی اقتداء کیسے کرسکتے ہیں۔ یہی وہ مصلحتیں ہیں جن کا بنا پر رسول کا بشر ہونا ضروری ہے اور اسی لئے…
Read the full tafseer →21۔ (اپنی قوم کی عام پبلک سے)
22۔ (اور جب خالی خولی انسان ہی ہے تو پھر خدا کا اوتار یادیوتا وغیرہ کیسے ہوسکتا ہے) مشرک قوموں کی بنیادی غلطی بھی عقیدہ رسالت میں گمراہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ہدایت کے لئے جب کوئی آئے گا وہ یا تو خود خدا ہوگا بہ شکل انسان، اور یا کوئی دیوتا، یہ اسلام ہی ہے جس نے اس بنیادی گمراہی پر ضرب لگائی اور بار بار اعلان کیا کہ رسول تو محض بشر ہی ہوتا ہے مع تائید وحی کے۔ بجز دولت وحی کے کوئی شے بھی اس میں عام انسانوں سے زائد نہیں ہوتی۔ اہل توحید کو اور مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والوں کو یہ بات بالکل موٹی سی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن مشرکوں کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
آیت نمبر 23 تا 32
ترجمہ : قسم ہے ہماری عزت و جلال کی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے فرمایا سے میری قوم اللہ ہی کی بندگی کیا کرو یعنی اسی کی اطاعت کیا کرو اور اس کی توحید کا عقیدہ رکھو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود بنانے کے لائق نہیں (الٰہ) ما کا اسم ہے اور اس کا ماقبل (لکم) ما کی خبر ہے اور من زائدہ ہے، تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ یعنی اس کے غیر کی عبادت کرنے کی صورت میں کیا تم اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنے ماتحتوں سے کہا یہ شخص بجز اس کے کہ تمہارے ہی جیسا (معمولی) انسان ہے اور کچھ نہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فقال الملو الذین کفروا من قومہ ما ہذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم ولو شآء اللہ لا نزل ملئکۃ ما سمعنا بہذا فی ابآئنا الاولین۔ (اس کے جواب میں) ان کی قوم کے کافروں نے کہا
کہ یہ شخص تو تم ہی جیسا انسان ہے (پیغمبری کا دعویٰ کر کے) چاہتا ہے کہ تم سے برتر ہو کررہے۔ اگر اللہ کو (رسول بنانا) منظور ہوتا تو وہ (ہدایت کے لئے) فرشتوں کو اتار دیتا ہم نے تو یہ بات انپے پہلے بزرگوں سے بھی نہیں سنی۔
الملاء سرداران قوم نے آپس میں (یا عوام سے) کہا کہ یہ نوح ( علیہ السلام) تو تم جیسا آدمی ہے تمہاری طرح کھاتا اور سوتا ہے پھر یہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ قوم نوح کا خیال تھا کہ پتھر بھی معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(24۔ 25) تو ان کی قوم کے رئیس یہ سن کر عوام سے کہنے لگے کہ نوح ؑ سوائے اس کے کہ تمہاری طرح کے ایک آدمی ہیں اور کچھ نہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کے دعوے سے تم پر فوقیت حاصل کریں اور اگر اللہ تعالیٰ ہمارے پاس رسول بھیجنا منظور ہوتا تو فرشتوں میں سے کئی فرشتے کو بھیج دیتا، نوح ؑ جو کہتے ہیں، ہم نے اپنے پہلے بڑوں کے زمانہ میں بھی اس چیز کا تذکرہ نہیں سنا، نوح ؑ کو جنون ہوگیا ہے تو ان کے وقت تک ان کی حالت کا انتظار کرو۔
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ : معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے واضح طور پر الگ الگ قبیلے تھے اور نوح ؑ کا اپنا قبیلہ انکار میں پیش پیش تھا۔ اس لیے انکار اور اعتراض کے اپنوں کی طرف سے ہونے کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے ”مِنْ قَوْمِهٖ“ فرمایا۔ (بقاعی) اس میں ہمارے رسول ﷺ کے لیے تسلی ہے، کیونکہ آپ کی سخت ترین مخالفت آپ کے قریب ترین رشتہ دار ابولہب نے کی۔ (دیکھیے سورة لہب) ایک شاعر نے کہا
وَ ظُلْمُ ذَوِی الْقُرْبٰی أَشَدُّ مَضَاضَۃً
عَلَی الْمَرْءِ مِنْ وَقْعِ الْحُسَامِ الْمُھَنَّدِ
”اور قرابت والوں کا ظلم تکلیف میں آدمی پر ہندی تلوار لگنے سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔“
مَا ھٰذَآ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21-27
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے انعام سے مراد ہے اونٹ گائے، بھیڑ اور دنبہ آیت ” ولکم فیہا منافع “ یعنی جو وہ بچے جنتے ہیں اور اس میں سے (تمہارے لیے) سوار ہے اور دودھ ہے اور گوشت ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعلی الفلک “ سے مراد کشتیاں ( کہ جس پر تم سواری کرتے ہو)
Read the full tafseer →فَقَالَ [ تو کہا ] الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ [ ان کے سرداروں نے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] مِنْ قَوْمِهٖ [ ان کی قوم میں سے ] مَا ھٰذَآ [ نہیں ہیں یہ ] اِلَّا [ مگر ] بَشَرٌ [ ایک بشر ] مِّثْلُكُمْ ۙ [ تم لوگ جیسے ] يُرِيْدُ [ وہ ارادہ رکھتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّتَفَضَّلَ [ وہ فضیلت حاصل کریں ] عَلَيْكُمْ ۭ [ تم لوگوں پر ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَاَنْزَلَ [ تو اس نے اتارے ہوتے ] مَلٰۗىِٕكَةً ښ [ کچھ فرشتے ] مَّا سَمِعْنَا [ ہم نے نہیں سنا ] بِھٰذَا [ اس کے بارے میں ] فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ [ اپنے پہلے آباؤاجداد (کے قصوں ) میں ]
نوٹ ۔ 1: تورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا غرق آب ہونا
اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور ان کی قوم کی تکذیب کی وجہ سے طوفان میں غرق کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بت پرست تھی ان کے بتوں کے نام سورة نوح کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ صرف اسی کی عبادت کرو تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ کی طرف سے تمہاری گرفت ہوجائے اور تم پر عذاب آجائے۔ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →23:۔ ” فَقَالَ الْمَلَؤُا الخ “ قوم کے مشرک سرداروں نے لوگوں کو حضرت نوح سے بد ظن کرنے کے لیے عوام سے کہا کہ نوح پیغمبر نہیں ہے وہ تو تم جیسا بشر اور انسان ہے پھر اس میں کون سی خوبی ہے کہ وہ رسالت و نبوت کا مستحق ہو بات در اصل یہ ہے کہ نوح پیغمبری کا دعوے کر کے قوم کا سردار اور بڑا آدمی بننا چاہتا ہے۔ اہل دنیا چونکہ خود اس کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس لیے اہل حق کو اس کا طعنہ دیتے ہیں۔ ” وَ لَوْ شَاءَ اللّٰهُ الخ “ اگر اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا مقصود تھا تو وہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا یہ نوح تو بشر ہے اس لیے وہ ہرگز نبی نہیں کیونکہ بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ عیاذا باللہ۔ بیان لعدم رسالۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور…
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ 0ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ 0ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَاَنْزَلَ مَلٰۗىِٕكَۃً 0ۚۖ مَّا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ 24ۚ
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ،
( م ل ء ) الملاء
۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
اب یہاں سے چند انبیائِ گزشتہ کے تذکرے بیان کرتا ہے جن کے ذکر سے یہ چند باتیں ظاہر کرنی مقصود ہیں : (1) یہ کہ جس طرح اے محمد ! ﷺ آج تمہاری قوم تم سے کج بحثیاں اور شبہات رکیکہ کرتی ہے اسی طرح پہلے لوگ انبیائِ سابقین کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ (2) یہ کہ خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کی معرفت بڑے بڑے معجزے دکھا کر آخر کار ان کو ہلاک و برباد کیا ہے ایسا ہی تمہارے مخالفوں کے ساتھ ہونے والا ہے۔ (3) یہ کہ سب انبیاء خدا پرستی اور توحید کی تعلیم کرتے آئے ہیں یہ جو بت پرستی کو تقلیدِ آباؤ اجداد سے ایک امر جائز قرار دیتے ہیں محض غلط بات ہے۔ (4) خدا تعالیٰ ہر ایک قرن کو غارت کر کے اس کے بعد دوسرا قرن پیدا کرتا آیا…
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَاھٰذَآ اِلَّابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ لا یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ ط وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَۃً مَّاسَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ ۔
(المومنون : 24)
تو اس کی قوم کے سرداروں نے، جنھوں نے کفر کیا، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، یہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی بزرگی جتلائے اور اگر اللہ تعالیٰ رسول ہی بھیجنا چاہتا تو وہ فرشتوں کو (رسول بناکر) نازل کرتا۔ اس طرح کی بات ہم نے اپنے پہلے آبائو اجداد میں تو نہیں سنی۔ )
قومِ نوح کی مخالفت کے خدوخال
اس آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے سرداروں نے پانچ الزام لگائے۔
1۔ یہ تمہارے جیسا بشر ہے 2۔ یہ تم پر برتری یعنی اقتدار چاہتا ہے۔
3۔ اگر اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو نازل کرتا۔ لہٰذا یہ جھوٹا ہے
4۔ ہم نے ایسی بات اور دعوت اپنے آباؤ اجد سے نہیں سنی۔ 5۔ نوح پاگل ہوگیا ہے۔
اندازہ لگائیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت کیا دی تھی ؟ اور اس کے جواب میں قوم کے لیڈروں نے اپنی اپنی پارٹی اور ور کر کو قابو میں رکھنے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کن باتوں کا پراپیگنڈہ کیا۔ لیڈروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے…
Read the full tafseer →قوم کے بڑے :
24: فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ (پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا) یعنی شرفاء و سرداروں نے عوام الناس کو کہا : مَاھٰذَآاِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ (یہ تم جیسا انسان ہے) جو کھاتا پیتا ہے۔ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیکُمْ (تم پر برتری چاہتا ہے) یعنی تم پر بزرگی اور سرداری کرنا چاہتا ہے۔ وَلَوْشَآ ئَ اللّٰہُ (اگر اللہ تعالیٰ چاہتے) کہ وہ اپنا رسول بھیجیں۔ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَہً ( تو وہ ضرور فرشتے اتارتا) مَّا سِمَعْنَا بِھٰذَا (ہم نے یہ بات نہیں سنی) بشر کو رسول بنا کر بھیجنے والی بات یا وہ بات جس کا یہ ہمیں حکم دیتا ہے جیسے توحید، سبّ معبودان باطلہ…
Read the full tafseer →24۔ فقال الملاء الذین کفروا من قومہ ماھذا الابشرمثلکم یرید ان یتفضل علیکم، اس کو ہم نے تم پر فضیلت بخشی تو وہ تمہارا متبوع اور تم اس کے تابع ہو ۔ ولوشاء اللہ ، یعنی اگر اللہ کو منظور ہوتا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ لانزل ملائکہ، تو وھی پہنچانے میں۔ ماسمعنا بھذا۔ جس بات کا حضرت نوح (علیہ السلام) مدعی ہیں ، فی اباء ناالاولین۔ بعض نے کہا کہ ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی بشر کو رسول بناکربھیجا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت 23
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح علیہ اسلام کا ذکر کرتا ہے حضرت نوح علیہ اسلام زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، چناچہ انہوں نے فرمایا : (یقوم عبدوا اللہ) ، ، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ ، ، یعنی اس کے لئے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں۔ (مالکم من الٰہ غیرہ) ، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →32 قوم نوح کے سرداروں کا آنجناب کی بشریت کی بنا پر انکار : سو حضرت نوح کی اس دعوت حق کے جواب میں قوم نوح کے سرداروں نے کہا کہ " یہ شخص تو تم ہی لوگوں جیسا ایک بشر۔ اور انسان ۔ ہے "۔ تو پھر یہ نبی اور رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور یہی غلط فہمی لوگوں کو کل بھی رہی اور یہی آج بھی بہت سے لوگوں کو ہے۔ کہ وہ نبوت اور بشریت میں منافاۃ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں وصف یکجا نہیں ہوسکتے۔ پس تو فرق صرف یہ ہے کہ کل کے ان کھلے منکروں نے اس غلط فہمی کی بناء پر حضرات انبیائے کرام کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا تھا اور آج کے کچھ جاہلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ حضرات نبی و رسول تھے لہذا ان کو بشر اور انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–52
سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات
تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
ان روشن دلائل کے باوجود انسان کی بدنصیبی دیکھو کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو انکی قوم میں مبعوث فرمایا جنہوں نے گمراہی سے توبہ کرکے اللہ وحدہ ولا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور دلائل سے سمجھایا کہ اے قوم اللہ جل جلالہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا غیر اللہ کی عبادت چھوڑ دو اور اللہ سے رشتہ استوار کرو مگر ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے بھلا یہ کیسا نبی ہے لوگو تم سب کی طرح یہ بھی تو اوصاف بشریت ہی سے متصف ہے بس یہ مذہب کا سہارا لے کر تم پر سیاسی غلبہ چاہتا ہے اور حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے اگر اللہ کو پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
13 ۔ گویا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے (اعبدواللہ) پر طعن ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ اسی ایک کی عبادت کی جائے تو کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتا۔ یہاں ” شاء “ فعل کا مفعول محذف ہے اور ” لانزل “ جواب ” لو “ ہے یعنی لو شاء اللہ عبادتہ وحدہٗ لا نزل ملائکۃ۔ 14 ۔ کہ کسی بشر نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا توحید کی طرف دعوت دی ہو۔ یہ دوسرا اعتراض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23:23) افلا تتقون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےعطف کے لئے اس سے قبل فعل مقدرہ ہے۔ ای اتعرفون ذلک ای مضمون قولہ تعالیٰ (مالکم من الہ غیرہ) فلا تتقون عذابہ تعالیٰ الزی یستوجبہ ما انتم علیہ من تر عبادتہ سبحانہ وحدہ واشراککم بہ فی العبادۃ (کیا تم خدا تعالیٰ کے اس فرمان مالکم من الہ غیرہ کے مضمون کو تم پہچانتے ہو اور نہیں ڈرتے اس کے عذاب سے جو اس کی ترک عبادت سے اور اس کے ساتھ دوسروں کو عبادت میں شریک ٹھہرانے سے لازم آتا ہے۔ لا تتقون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم نہیں ڈرتے ہو۔
(23:24) الملؤا۔ اسم جمع معرف باللام، سرداروں اور بڑے لوگوں کی جماعت الملا۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 32 :
الملئوا (سردار) ‘ یتفضل (وہ بڑا بنتا ہے) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ ابائ (باپ دادے) ‘ جنۃ (جنون۔ پاگل پن) ‘ تربص (تم انتظار کرو) ‘ اصنع (بنائو) ‘ الفلک (کشتی) ‘ اعیننا (ہماری آنکھیں۔ ہماری نگرانی) ‘ فار (ابل پڑا) ‘ التنور (تنور۔ جس میں روٹی بنائی جاتی ہے) ‘ اسلک (تو چل۔ تو لے چل) ‘ زوجین (زوج) (جوڑے جوڑے) اثنین (دودو) ‘ سبق (گذر گیا۔ فیصلہ ہوگیا) ‘ لاتخاطبنی ( مجھ سے بات نہ کر) ‘ مغرقون (غرق کئے جانے والے) ‘ استویت (توچین سے بیٹھ گیا) ‘ انزلنی (مجھے اتاردے) ‘ مبتلین (آزمائش کرنے والے) ‘ انشأ نا (ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ قرن (گروہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
[16] نوح (علیہ السلام) کا قصہ سورة اعراف آیت 59 تا 764 صفحہ 346، 348 میں اور سورة ہود آیت 25 تا 48 صفحہ 496، 498، 500، 502 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
حیوانات سے عبرت پذیری !
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر نوع کے حالات و کیفیات بیان کرتا ہے اور معمولی باتوں سے حقائق وعبر کے موتی نکال لاتا ہے ، وہ کہتا ہے تمہاری نظریں عمیق اور گہری ہونی چاہئیں تم ہر واقعہ اور ہر چیز پر مبصرانہ غور کرو ، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ قدرت کا نظام کس قدر حکیمانہ اور جامع ہے ارشاد ہوتا ہے کہ حیوانات اور جانوروں کو دیکھو ، تم روزانہ دودھ پیتے ہو ، مگر کبھی اس بات پر بھی غور کرنے کی توفیق ہوئی ہے کہ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ، وہ چارہ جو گائے اور بھینس کھاتی ہے ایک کیمیاوی عمل میں پہنچتا ہے اور وہاں کئی تبدیلیوں کے بعد دودھ کی شکل میں تھنوں میں آجاتا ہے ، پھر…
Read the full tafseer →(24) اس پر اس کی قوم کے رئیس اور سردار جو منکر تھے عام آدمیوں سے کہنے لگے کہ یہ نوح (علیہ السلام) کچھ نہیں مگر تم ہی جیسا ایک آدمی ہے اس کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ تم پر بڑا بن کر رہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا ہوتا اور وہ یہ چاہتا کہ کسی رسول کو بھیجے تو وہ فرشتے نازل کرتا اور فرشتوں کو بھیجتا ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادوں میں سنی نہیں۔
یعنی رئوسائے منکرین اور قوم کے سردار جو خود بھی کافر تھے اپنی قوم کو سمجھانے لگے کہ یہ نوح (علیہ السلام) تم ہی جیسا ایک آدمی ہے رسول نہیں ہے یہ دعویٰ اس نے اس لئے کیا ہے کہ تمہارا لیڈر بننا چاہتا ہے اور تم پر نفوق چاہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 4۔ یعنی جاہ و ریاست مقصود ہے۔
Read the full tafseer →سرداران قوم کی طرف سے سیدنا نوح (علیہ السلام) کو جو جواب دیا گیا :
24۔ آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے یہی بات چلی آرہی ہے کہ اہل ثروت ‘ اصحاب اقتدار اور قوم کے وڈیروں ہی نے صالحین کی مخالفت میں پہل کی ہے کیونکہ انہی کا وجود ساری خرابیوں اور فسادات کا منبع ہوتا ہے اور اصلاح کی براہ راست رد بھی انہی کے اقتدار اور ان کے مفاد پر پڑتی ہے اس لئے وہ عوام کے دلوں میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انہیں اہل حق سے برگشتہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کے خلاف سب سے پہلے انہوں نے ہمیشہ یہ ہتھیار استعمال کیا کہ یہ بشر ہیں ‘ یہ ہماری طرح کے انسان ہیں ‘ پھر یہ بھی کبھی نبوت کے منصب عالی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
In the last benefit, ships and boats are also included, because they are also used in transportation وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ (And on them and on the boats you are transported - 23:22). All types of mounts which are run with wheels may also be added to fulk (boats) because they render the same service.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
26. There has been a common deviation that a human being cannot be a Prophet, and a Prophet cannot be a human being. That is why the Quran has refuted this wrong conception over and over again, and has stated forcefully that all the Prophets were human beings and that a human being only could be sent as a Prophet to human beings. For details, see (Suras Al-Aaraf Ayats 63, 69); (Yuonus, Ayat 2); (Houd, Ayats 27-31); (Yousuf, Ayat 109); (Ar- Raad, Ayat 38); (Ibrahim, Ayats 10-11); (An-Nahl, Ayat 43), (Bani Israil, Ayats 94-95); (Al-Kahf, Ayat 110); (Al-Anbiya, Ayats 3, 34); (Al-Mominoon, Ayats…
Read the full tafseer →