Al-Muminoon 23:34

Al-Muminoon · from ayah 34

23:34

وَلَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۟ۙوَلَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَـكُمۡ اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَۙ

اور اگر تم اپنے ہی جیسے آدمی کا کہا مان لیا تو گھاٹے میں پڑ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you should obey a man like yourselves, indeed, you would then be losers.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:34

اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم اپنے ہی جیسے آدمی کا کہا مان لیا تو گھاٹے میں پڑ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی ہے تو بےشک تم سخت خسارے والے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر کہیں تم نے اپنے ہی جیسے ایک انسان کی فرمانبرداری قبول کرلی تو تم بڑے ہی گھاٹے کا سودا کرو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو پھر تم ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ اگر تم نے اپنے جیسے ایک بشر کا کہنا مان لیا تو یقینا تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہوگے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرلی تو پھر تو تم خسارے میں ہی رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی بات مان لی تو تم بڑے ہی گھاٹے میں رہو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تم لوگ اپنے ہی جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگے تو یقینا اس صورت میں تم لوگ بڑے ہی خسارے اور گھاٹے میں رہو گے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے بشر کی راہ قبول کرلی تو تم تو نرے گھاٹے ہی میں رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر تم لوگ اپنے ہی جیسے ایک انسان کی اطاعت کرو گے تب تو تم بڑا نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کا کہنا مان لیا تو اس وقت تم گھاٹے میں پڑگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you were to obey a human being like yourselves, you will certainly be losers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If you obey a human like yourselves, then you will be absolute losers.

— Muhammad Taqi Usmani

If you obey a human like yourselves, then you will be absolute losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"If you were to obey a human being like yourselves, then verily, you indeed would be losers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If ye were to obey a mortal like yourselves, then, lo! ye surely would be losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you should obey a man like yourselves, indeed, you would then be losers.

— Saheeh International

If you follow a mortal like yourselves you will certainly be lost.

— Muhammad Sarwar

And if you obey a mortal like yourselves, then most surely you will be losers:

— Muhammad Habib Shakir

And were ye to obey a human being like you, ye are forthwith to be losers.

— Abdul Majid Daryabadi

"If ye obey a man like yourselves, behold, it is certain ye will be lost.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–41

عادوثمود کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بیان فرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بعد بھی بہت سی امتیں آئیں جیسے عاد جو ان کے بعد آئی یا ثمود قوم جن پر چیخ کا عذاب آیا تھا۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے ان میں بھی اللہ کے رسول ؑ آئے اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی تعلیم دی۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا، مخالفت کی، اتباع سے انکار کیا۔ محض اس بنا پر کے یہ انسان ہیں۔ قیامت کو بھی نہ مانا، جسمانی حشر کے منکر بن گئے اور کہنے لگے کہ یہ بالکل دور از قیاس ہے۔ بعثت ونشر، حشر و قیامت کوئی چیز نہیں۔ اس شخص نے یہ سب باتیں از خود گھڑلی ہیں ہم ایسی فضول باتوں کے مانے والے نہیں نبی ﷺ نے دعا کی اور ان پر مدد طلب کی۔ اسی وقت جواب ملا کہ تیری…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–37

سورة الْمُؤْمِنُوْن 36 بعض لوگوں نے یہ غلط سمجھا ہے کہ یہ باتیں وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ نہیں یہ خطاب دراصل عوام الناس سے تھا۔ سرداران قوم کو جب خطرہ ہوا کہ عوام پیغمبر کی پاکیزہ شخصیت اور دل لگتی باتوں سے متاثر ہوجائیں گے۔ اور ان کے متاثر ہوجانے کے بعد ہماری سرداری پھر کس پر چلے گی، تو انہوں نے یہ تقریریں کر کر کے عام لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔ یہ اسی معاملے کا ایک دوسرا پہلو ہے جو اوپر سرداران قوم نوح کے ذکر میں بیان ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ خدا کی طرف سے پیغمبری ویغمبری کچھ نہیں ہے، محض اقتدار کی بھوک ہے جو اس شخص سے یہ باتیں کرا رہی ہے۔ یہ فرماتے ہیں کہ بھائیو، ذرا غور تو کرو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–36

خلاصہ تفسیر پھر (قوم نوح کے بعد) ہم نے دوسرا گروہ پیدا کیا (مراد عاد ہے یا ثمود) پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان ہی میں کے تھے (مراد ہود ؑ یا صالح علیہ السلام) ہیں، ان پیغمبر نے کہا کہ) تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود (حقیقی) نہیں، کیا تم (شرک سے) ڈرتے نہیں ہو، اور (ان پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں سے جو رئیس تھے جنہوں نے (خدا اور رسول کے ساتھ) کفر کیا تھا اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ بس یہ تو تمہاری طرح ایک (معمولی) آدمی ہیں (چنانچہ) یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عوام کو بھڑکانے کے لئے جذباتی حربہ یہ اپنے عوام کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے انہوں نے ایک جذباتی حربہ استعمال کیا کہ اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کو، خدا کا رسول مان کر، اس کا قلاوہ اطاعت اپنی گردن میں ڈال لیا تو دین اور دنیا دونوں اعتبار سے اپنی لٹیا ڈبو دو گے۔ معلوم نہیں یہ شخص تمہیں کس کھڈ میں گرائے اور کہاں لے جا کے مارے کہ وہاں تم پانی بھی نہ پائو ! ! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی مہلک قدم اٹھانے سے پہلے خوب سوچ لو۔ ہم تمہیں نیک و بداچھی طرح سمجھائے دیتے ہیں !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

34-1وہ خسارہ ہی ہے کہ اپنے ہی جیسے انسان کو رسول مان کر تم اس کی فضیلت و برتری کو تسلیم کرلو گے، جب کہ ایک بشر، دوسرے بشر سے افضل کیوں کر ہوسکتا ہے۔ یہی وہ مغالطہ ہے جو مکرین بشریت رسول کے دماغوں میں رہا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جس بشر کو رسالت کے لیے چن لیتا ہے تو وہ اس وحی رسالت کی وجہ سے دوسرے تمام غیر نبی انسانوں سے شرف و فضل میں بہت بالا اور نہایت ارفع ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–42

17: یہاں قرآن کریم نے پیغمبر کا نام نہیں لیا، لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت صالح ؑ ہیں جنہیں قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا تھا، کیونکہ آگے آیت نمبر 40 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوم کو چنگھاڑ سے ہلاک کیا گیا تھا، اور بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شاید حضرت ہود ؑ مراد ہوں، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا اور چنگھاڑ سے مراد ہوا کا عذاب ہے جس کے ساتھ یقیناً خوفناک آواز بھی ہوگی، ان دونوں کے واقعات سورة اعراف (7۔ 65 تا 73) اور سورة ہود (11۔ 50 تا 61) میں گزرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–41

ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41) اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اس سے بڑی خرابی اور ذلت کیا ہوگی کہ اپنے جیسے ایک معمولی آدمی کو خواہ مخواہ مخدوم ومطاع ٹھہرا لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–37

آیت 34 وَلَءِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْلا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ” ذرا ان سرداروں کی منطق اور دلیل ملاحظہ ہو۔ یعنی اگر تم لوگ ہماری اطاعت کرو تو درست اور بجا ‘ لیکن اس شخص کا کہنا مانو تو ناقابل قبول ! اس لیے کہ ہم پیدائشی سردار ہیں ‘ تمہارے حکمران ہیں ‘ ہمارا حکم تو تمہیں ماننا ہی ماننا ہے۔ ہماری اطاعت تو تم پر لازم ہے ہی ‘ مگر اس شخص کی اطاعت اس لیے نہیں ہوسکتی کہ یہ تمہاری طرح کا انسان ہے۔ یہ دلیل دیتے ہوئے وہ بھول گئے کہ وہ خود کوئی فرشتے نہیں بلکہ اپنے عوام جیسے ہی انسان ہیں اور انسان ہوتے ہوئے ہی وہ اپنے جیسے انسانوں سے اطاعت اور فرمانبرداری کی توقع رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

40 حالانکہ وہ خود بھی ایک عام انسان ہی تھے۔ اور عام لوگوں کی طرح کھاتے پیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کے مطاع بنے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ عوام ان کی اطاعت کریں۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس لئے نہ تھا کہ انسان مطاع نہیں بن سکتا۔ بلکہ صرف اس لئے تھا کہ کہیں لوگ نبی کی دعوت قبول کرکے ہماری اطاعت کو ترک کرکے اس کی اطاعت نہ کرنے لگ جائیں۔ گویا اصل خطرہ انھیں سرداروں کا تھا اور ان کے لئے تو یہ واقعی خسارہ کی بات تھی۔ لیکن لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ نبی کی اطاعت کرکے تم خسارہ میں رہو گے۔ گویا بشر ہونے کے باوجود ان کی اپنی اطاعت میں خسارے کی بات ان کے نزدیک خارج از بحث تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ (عقلی اور عملی نتائج کے لحاظ سے) یعنی اپنی رائے اور اپنے آزاد مشرب کو چھوڑ کر اگر تم ایک اپنے ہی جیسے انسان کی بنائی ہوئی راہ پر پڑلیے تو اس سے بڑھ کر بیوقوفی اور کیا ہوگی ؟ یہ تو بڑا نقصان عقل ہوا۔ اور پھر یہ تمہیں خدا معلوم کیسی کیسی مادی مضرتوں میں مبتلا کردے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا یعنی اس کی طرف رجوع کرنے کو اور ہم نے ان کو دنیوی زندگانی میں خوشحالی عطا کی تھی یعنی انعامات سے نوازا تھا کہنے لگے بس یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو واللہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو، یعنی نقصان اٹھانے والے ہو کیا یہ شخص تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے مخرجون أنّکم اولیٰ کی خبر ہے اور ثانی أنّکم پہلے أنکم کی تاکید ہے اِنَّ کے اسم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولئن اطعتم بشرا مثلکم انکم اذا لخسرون۔ اور بخدا اگر تم اپنے جیسے آدمی کے (کہے پر چلے اور) فرماں بردار بن گئے تو یقیناً اس وقت گھاٹے میں رہو گے کہ اپنے جیسے آدمی کے فرماں بردار بنو گے اور خود اپنے کو ذلیل کرو گے۔ وہ لوگ عجیب بیوقوف اور جاہل تھے کہ اپنے جیسے آدمی کی بات ماننے کا تو انکار کرتے تھے اور بےجان پتھروں کی پوجا کر کے اپنے ذلیل ہونے کا مظاہرہ کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(34) اور اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کا کہا مان لو تو واقعی تم بیوقوف اور خسارے میں ہو،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ۔۔ : سورة قمر میں اسی قوم کے صالح ؑ کے متعلق تحقیر سے بھرے ہوئے الفاظ ملاحظہ کریں، کہا : (فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ 24؀ ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ) [ القمر : 24، 25 ] ”پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں ؟ یقیناً ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔ کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔“ اپنے مال و جاہ پر مغرور سرداروں نے سرداری خطرے میں دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–35

آیت نمبر 33-35 اللہ کا ارشاد ہے : وقال الملا۔ الملاء سے مراد اشراف، قائدین اور رئو وساء ہیں۔ من قومہ الذین کفرو وکذبو بلقاء الاخرۃ مراد دوبارہ اٹھنا اور حساب ہے۔ واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا ہم نے ان پر دنیا کی نعمتوں میں وسعت کردی حتیٰ کہ وہ اکڑ گئے اور اپنی خوشحالی کیوجہ سے کہنے لگے۔ ما ھذا الا بشر مثلکم یا کل مما تاکلون منہ ویشرب مما تشربون۔ من حذف ہے یعنی مما تشربون منہ۔ یہ بصریوں کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک حذف کی احتیاج نہیں ہے۔ کیونکہ ماجب مصدر یہ ہو تو ضمیر عائد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر تو ما کو بمعنی الذی بنائے گا تو مفعول کو حذف کرے گا من کے اضمار کی پھر بھی ضرورت نہیں۔ ولئن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–35

1۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ” قرنا “ سے مراد ہے امت (یعنی قوم)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَىِٕنْ : اور البتہ اگر ] [ اَطَعْتُمْ : تم نے کہا مانا ] [ بَشَرًا : ایک انسان ] [ مِّثْلَكُمْ : اپنے جیسا ] [ اِنَّكُمْ : بیشک تم ] [ اِذًا : تب ] [ لَّخٰسِرُوْنَ : یقینا وہ سب خسارہ پانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–43

حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کی بعثت اور ان کی قوم کی تکذیب اور ہلاکت حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین میں بسنے والے قوموں کی ہدایت کے لیے کثیر تعداد میں اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، مذکور بالا آیات میں ایک رسول اور ان کی امت کی تکذیب کا پھر چیخ سے ہلاک ہونے کا تذکرہ ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے حضرت ھود یا حضرت صالح ( علیہ السلام) کے واقعے مراد ہیں۔ پہلے قول کو اس اعتبار سے ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور سورة شعراء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد ہی حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے اور اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–41

قصہ قوم عاد یا قوم ثمود قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–34

32:۔ ” وَ قَالَ الْمَلَاُ الخ “ حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے مشرکین نے وہی کچھ کہا جو دعوت نوح (علیہ السلام) کے جواب میں ان کی قوم کے رؤسا کہہ چکے تھے۔ ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ “ وہ توحید کے بھی منکر تھے اور قیامت کے بھی۔ ” وَ اَتْرَفْنٰھُمْ الخ “ ہم نے ان کو دنیوی انعامات سے مالا مال کر رکھا تھا۔ یعنی نعمنا ھم و وسعنا علیھم فی الحیاۃ الدنیا (خازن ص 37) ۔ ہم نے ان کو دنیا میں انعام و اکرام سے نوازا مگر انہوں نے ہمارے پیغام توحید کا سختی سے مقابلہ کیا اور ضد وعناد سے اس کا انکار کیا۔ 33:۔ ” مَاھٰذَا الخ “ روساء مشرکین نے عوام سے کہا یہ پیغمبر تو تم جیسا بشر ہی ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–41

ربط آیت : گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ۝ 0ۙ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ۝ 34ۙ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–43

جس پر ان کی قوم کے سردار جو آخرت کے منکر اور کافر تھے اور اللہ نے ان کو دنیا میں ثروت و دولت بھی دی تھی (کیونکہ ایسی باتیں دنیا دار دولتمند ہی غرور میں آکر کیا کرتے ہیں) وہی بیہودہ شبہات کرنے لگے کہ یہ رسول ہمارے جیسا ہے ‘ جس طرح ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں یہ بھی اسی طرح اور وہی چیزیں کھاتا پیتا ہے۔ پھر ایسے شخص کے حکم پر چلنا جو ہم جیسا انسان ہے خرابی میں پڑنا ہے۔ (ان حمقاء نے رسول کو یہ سمجھا تھا کہ وہ نوع انسانیت سے علیحدہ کوئی اور ہی طرح کا ہونا چاہیے) اور یہ جو کہتا ہے کہ مر کر اور بوسیدہ ہو کر بھی لوگ زندہ ہوں گے تو یہ بہت بعید بات ہے صرف دنیا ہی کی موت اور زندگی ہے یہ جھوٹا آدمی ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّ بُوْا بِلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ وَاَتْرَفْنٰھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لا مَاھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ لا یَاْکُلُ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ ۔ وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ لا اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (المومنون : 33، 34) تو ان کی قوم کے سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا اور ہم نے دنیا کی زندگی میں انھیں خوشحالی دے رکھی تھی، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی مانند ایک بشر ہے یہ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو۔ اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اور اگر تم پیروی کرنے لگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–34

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا ردّ عمل : جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے نمائندوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا یا اور ان پر الزامات لگائے یہی وطیرہ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں نے ان کے ساتھ اختیار کیا۔ کیونکہ لیڈر حضرات دنیوی نفع و نقصان کے حوالے سے زیادہ شعور رکھتے ہیں اور وہی مفادات اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں اس لیے دعوت توحید کی مخالفت میں دنیا پرست مذہبی پیشوا اور لیڈر مخالفت میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح قیادت سے لوگوں کو متنفر کرتے ہیں ان کی مخالفانہ تحریک کے پیچھے دو باتیں کار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًامِّثْلَکُمْ (اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اطاعت کی) ان باتوں میں جن کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے اور جن سے تمہیں روکتا ہے۔ اِنَّکُمْ اِذًا (بیشک تم اس وقت) ان یہ جزاء شرط کے موقعہ میں ہے اور انکاجواب جنہوں نے قوم میں سے یہ بات کہی تھی : لخاسرون ہے۔ لَّخٰسِرُوْنَ (ضرور نقصان میں پڑنے والے ہو) ۔ اس لئے کہ تم نے اپنے جیسے انسان کی اطاعت اختیار کرلی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–41

31۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–49

(آیت نمبر 31) نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

46 کفر و شرک کا نتیجہ وانجام مت ماری ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے کفر و شرک کی بنا پر انسان کی مت ماری کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ چناچہ یہ کفر و شرک کی نحوست اور مت ماری کا ایک اور مظاہرہ ہے کہ اپنے ہی جیسے بشر کو تو وہ لوگ پیغمبر ماننے کو تیار نہ ہوئے اور ان کی پیروی کو گھاٹے کا سودا قرار دیا۔ مگر اپنے سے کمتر مخلوق، یہاں تک کہ جمادِلایعقل اور اپنے ہاتھوں کے تراشیدہ و خراشیدہ خود ساختہ بتوں کو خدا اور معبود مان لیا اور ان کے سامنے سر ٹیک دئیے۔ اور اپنے حکمرانوں میں سے جس کو چاہا خدا کا اوتار مان کر اس کی خدائی کو تسلیم کرلیا اور اس کی فرمانبرداری میں کوئی عار نہ سمجھی۔ جو اسی طرح کھاتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–52

سیدنا نوح، موسیٰ ، ہارون، عیسیٰ (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے حالات تشریح : ان آیات میں اولوالعزم اور انتہائی فضیلت والے انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات کا ذکر فرما کر اہل مکہ کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی تمہاری طرح کے نافرمان لوگ گزر چکے ہیں۔ تو ان کا انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ اور آنحضرت ﷺ کو بھی ان پیغمبروں کی پریشانیوں اور آزمائشوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں یا سرداران قریش آپ کی شخصیت اور نبوت پر اعتراضات کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تمام قومیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں انہوں نے اور ان کے سرداروں نے اپنی سرداری اور اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف تو ان میں سے بھی سرداران قوم جن پر اللہ جل جلالہ کے احسانات دوسروں کی نسبت زیادہ تھے اور جو دنیا میں بہت مزے سے تھے حتی کہ اپنی عیش میں آخرت کو یوں بھولے کہ اس کا انکار کردیا ، کہنے لگے یار یہ بھی تو ایک بندہ بشر ہی ہے ویسے ہی زندگی کی ضروریات اس کی ہیں جیسے کسی دوسرے بشر کی کھاتا پیتا ہے ۔ (بندہ اور اللہ کا بندہ) اب بھلا تم اپنے جیسے بندے کی اطاعت کرو گے یہ تو بڑی گھاٹے کی بات ہے یعنی بندے کو انہوں نے اوصاف بشریت سے پرکھا حالانکہ یہ تو سب میں یکساں ہوتی ہیں بندے کی پرکھ تو اس کی وفا ہے کہ وہ کس سے وابستہ اور کس کا بندہ ہے ، خواہشات کا ، دنیا کا یا اللہ کا بندہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–34

1 ۔ یعنی اس سے بڑھ کر تمہاری ذلت کیا ہوگی کہ باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرنے لگو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–34

(23:33) اترفناہم ماضی جمع متکلم ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو آرام دیا۔ ہم نے انہیں عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رکھا تھا۔ اتراف افعال۔ مصدر۔ الترفۃ عیش و عشرت میں فراخی اور وسعت کو کہتے ہیں۔ ما ھذا الا بشرتا وما نحن لہ بمؤمنین (تا آیۃ 38) الملا کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 44 : لقائ (ملاقات۔ حاضری) ‘ اترفتا (ہم نے عیش و آرام کیا) ‘ ایعدکم (کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے) ‘ تراب (مٹی) ‘ ھیھات (بیعد ہے۔ دور ہے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) ‘ نموت (ہم مرجاتے ہیں) ‘ نحیا (ہم زندہ رہتے ہیں) ‘ مبعوثین (اٹھائے جانے والے) ‘ افتری (جھوٹ باندھا) ‘ یصبحن (وہ رہ جائیں گے۔ وہ ہوجائیں گے) ‘ نادمین (شرمندہ) ‘ الصیحۃ (چنگھاڑ) ‘ غثائ (کوڑا۔ کباڑ) ‘ ماتسبق (نہیں آگے بڑھتی) ‘ اجل (مدت) ‘ تترا (مسلسل ایک کے بعد دوسرا) ‘ احادیث (باتیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوم کے بھیانک انجام کے بعدان آیات میں کسی نبی یا رسول کا نام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–41

قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔ (ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

(ف 2) اس ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو خیر و برکت سے نوازا اور وہ ساری دنیا میں پھیل گئے پھر ان ہی میں سے ایک ان میں رسول بھیجا جس نے اسی پیغام کو دہرایا اور وہی نغمہ توحید سنایا ، جس کو اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) بارہا سنا چکے تھے ، اور عجیب بات ہے کہ ان کو اسی قسم کے سرداروں سے وہی جواب سننا پڑا ، جو نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ، کہ تم آخر ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو ، تم میں ایسی کون سی خصوصیات ہیں ؟ کہ تمہیں رسول اور پیغمبر جانیں ۔ یہ واقعات اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ حضور ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک ہے اس کی دعوت ایک ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت قبول کرلی اور کہنا مان لیا تو یقیناً تم اس وقت سخت نقصان میں پڑجائوگے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام عام طور سے دو باتیں کہا کرتے فاتقوا اللہ واطیعون یعنی اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ یہ اطاعت کافروں کو بہت ناگوار تھی اسی کو کافر سرداروں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ یہ بڑے نقصان کی بات ہے کہ تم اپنے ہی جیسے بشر کی اطاعت قبول کرلو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سارے انبیاء ورسل کی اطاعت سے اس بات کے پیش نظر روکا گیا : 34۔ قرآن کریم نے بتایا کہ گزشتہ قوموں کے لیڈروں اور بعض مذہبی راہنماؤں نے عوام کو بھڑکانے کے لئے جو جذباتی حربے اختیار کئے ان میں سے یہ سب سے بڑا اور اہم حربہ تھا کہ انہوں نے اپنے اپنے زمانہ کے رسول ونبی کی مخالفت میں اپنے عوام کو اسی طرح بھڑکایا کہ تم بڑے عجیب لوگ ہو کہ ایک بشر کو رسول ماننے لگے معلوم نہیں یہ شخص تم کو تمہارے باپ دادا کے دین سے دور کر رہا ہے کیا تمہارے باپ دادا سب غلط ہی تھے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایک بار اچھے بھلے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور وہ اپنے باپ دادا کی حمایت میں فورا اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ ہر قوم کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–36

In the earlier verses the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told who was sent to his people to guide them along the path of righteousness and the following verses contain a brief account of some other prophets without mentioning their names and the people for whose guidance they were sent. From certain references and allusions the commentators have concluded that the verses refer to Sayyidna Hud (علیہ السلام) or Sayyidna Salih (علیہ السلام) who were sent for the guidance of the tribes of 'Ad and Thamud respectively. In the present story both these tribes are reported to have perished as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–40

36. Some commentators have wrongly opined that the chiefs exchanged these remarks against the Messenger between themselves. These remarks in fact were addressed to the common people. When the chiefs felt that the message was spreading among the common people and there was a real danger that they would be influenced by the pure character of the Messenger and that their superiority then would automatically come to an end, they began to delude them by raising such objections against him. It is worth while to note that both the chiefs of the people of Noah and the chiefs of the people of Aad…

Read the full tafseer →