Explained with ayahs 18–22
آسمان سے نزول بارش
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بیشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت و ضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہوجائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 22
یعنی دودھ جس کے متعلق قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ خون اور گوبر کے درمیان یہ ایک تیسری چیز ہے جو جانور کی غذا سے پیدا کردی جاتی ہے (النحل، آیت 66)۔
Read the full tafseer →اس کے بعد ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے جانوروں، چوپایوں کے ذریعہ انسان کو عطا فرمائی تاکہ انسان ان سے عبرت حاصل کرے اور حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور رحمت کاملہ پر استدلال کر کے توحید و عبادت میں مشغول ہو۔ اسی لئے فرمایا وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ، یعنی تمہارے لئے چوپایہ جانوروں میں ایک عبرت و نصیحت ہے آگے اس کی کچھ تفصیل اس طرح بتائی نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا، کہ ان جانوروں کے پیٹ میں ہم نے تمہارے لئے پاکیزہ دودھ تیار کیا جو انسان کی بہترین غذا ہے اور پھر فرمایا کہ صرف دودھ ہی نہیں، ان جانوروں میں تمہارے لئے بہت سے (بیشمار) منافع اور فوائد ہیں وَلَكُمْ…
Read the full tafseer →عبرۃ کے معنی، جیسا کہ آل عمران 13 کے تحت واضح ہوچکا ہے، ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا اور اس سے سبق حاصل کرنا ہے۔ اس کی تنکیر تضخیم شان کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اوپر جو چیزیں مذکور ہوئیں ان میں جو درس عبرت و موعظت ہے وہ تو ہے ہی اگر تم غور کرو تو تمہارے لئے تمہارے چوپایوں کے اندر بھی بڑا سبق موجود ہے۔
نسقیکم کا دوسرا مفعول یہاں ظاہر نہیں فرمایا ہے۔ دوسری جگہ اس کو لبناً خالصاً سائف لشاربین (نحل 66) کے الفاظ سے ظاہر فرما دیا ہے۔ اسی طرح مما فی بطونھا یہاں مجمل سے دوسری جگہ اس کی وضاحت من بین فرث ودم (نحل 66) کے الفاظ سے ہوئی ہے۔ اگر ان محذوفات کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20-1اس سے زیتون کا درخت مراد ہے، جس کا روغن تیل کے طور پر اور پھل سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سالن کو صِبْغٍ ، ُ رنگ کہا ہے کیونکہ روٹی، سالن میں ڈبو کر، گویا رنگی جاتی ہے۔ طُوْرِ سَیْنَآءَ (پہاڑ) اور اس کا قرب و جوار خاص طور پر اس کی عمدہ قسم کی پیداوار کا علاقہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق…
Read the full tafseer →13 نباتات کے بعد یہ حیوانات کا ذکر ہوا، یعنی جانوروں کا دودھ ہم اپنی قدرت سے تم کو پلاتے ہیں۔ اور بہت کچھ فائدے تمہارے لیے ان کی ذات میں رکھ دیے ہیں۔ حتٰی کہ بعض جانوروں کا گوشت کھانا بھی حلال کردیا۔
Read the full tafseer →آیت 21 وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط ”
اگر تم سمجھنا چاہو تو ان میں تمہاری ہدایت کے لیے بہت واضح نشانیاں ہیں۔
نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہَا ”
سورۃ النحل میں اس عجوبۂ قدرت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْ نِہٖ مِنْم بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآءِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ ”اور یقیناً تمہارے لیے چوپایوں میں بھی عبرت ہے ‘ ہم پلاتے ہیں تمہیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہوتا ہے ‘ گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ ‘ پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار“۔ اگر ہم گائے یا بھینس کا پیٹ چاک کرکے دیکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
24 چوپایوں میں عبرت یا حیران کن بات یہ ہے کہ گھاس پھوس کھانے والے اور چرنے والے مویشی (ماداؤں) کے جسم میں جب غذا جاتی ہے تو اس سے خون اور فضلہ یا گوبر کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی بنتی ہے۔ جو اوصاف میں ان دونوں چیزوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ خون اور گوبر دونوں نجس اور حرام چیزیں ہیں۔ جبکہ دودھ نہایت پاکیزہ، حلال، طیب، انتہائی سفید رنگ، مزہ میں شیریں اور پینے میں خوشگوار ہوتا ہے اور مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔ اس سے بھوک بھی دور ہوجاتی ہے اور پیاس بھی۔ اس میں اللہ تعالیٰ محیرالعقول کارنامہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماداؤں کے جسم میں ایسی مشینری فٹ کردی ہے جو گھاس پھوس سی چیز کو ایک نہایت اعلیٰ اور…
Read the full tafseer →18۔ روغن زیتون کے فوائد غذائی بھی اور خارجی استعمال میں بھی طب قدیم وجدید دونوں کو مسلم ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ زیتون کا ذکر توریت وانجیل دونوں میں بھی بار بار آیا ہے۔ مثلا استثناء 8: 8۔ قاضیون 9: 8۔ متی 6: 7۔ او 25: 3۔ لوقا 10: 34)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →وان لکم فی الانعام لعبرۃ اور تمہارے لئے مویشیوں میں بھی غور کرنے کا موقع ہے۔ عبرت ‘ نشانی ‘
دلیل جس سے صانع کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر تم استدلال کرسکتے ہو۔ عام لوگ چونکہ عبرت اندوز نظر سے چوپایوں کو نہیں دیکھتے اور ان کی تخلیق سے سبق نہیں لیتے اس لئے ان کو منکر قرار دے کر کلام کو پرزور طور پر تاکید کے ساتھ بیان کیا (اگر علامات انکار موجود ہوں خواہ مخاطب منکر نہ ہو تب بھی اس کو خطاب اسی طرح تاکید کے ساتھ کیا جاتا ہے جیسے منکر سے کیا جاتا ہے) ۔
نسقیکم مما فی بطونہا ولکم فیہا منافع کثیرۃ ومنہا تاکلون۔ ہم تم کو ان کے پیٹوں کے اندر (پیداشدہ) چیز (دودھ) سے پینے کو دیتے ہیں اور تمہارے لئے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) اور تمہارے لیے مویشی بالخصوصا اونٹ میں بھی غور کرنے کا مقام ہے ہم تمہیں کو ان میں سے خالص شیریں دودھ پینے کو دیتے ہیں، جو خون اور نجاست کے درمیان سے نکلتا ہے اور تمہارے لیے ان میں اور بھی کئی سواری اور بار برداری کے بہت سے فوائد ہیں اور ان کے گوشت، دودھ اور بچوں کو کاٹ کر کھاتے پیتے بھی ہو اور اونٹوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر سمندر میں سفر کرتے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً : پچھلی آیات میں پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی نباتات کا ذکر فرمایا، جس میں موت کے بعد زندگی کی دلیل اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد دہانی ہے۔ اب موت کے بعد زندگی کا یقین دلانے کے لیے اور اپنی نعمتوں اور قدرتوں کا احساس دلانے کے لیے نباتات سے اعلیٰ درجے کی زندگی والی مخلوق کا ذکر فرمایا، جو روح رکھنے والے چوپائے ہیں۔ ”لَعِبْرَةً“ میں تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی عبرت“ کیا ہے۔
نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا : اس کی تفصیل سورة نحل (66) میں دیکھیے۔
وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (142) ، سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21-27
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے انعام سے مراد ہے اونٹ گائے، بھیڑ اور دنبہ آیت ” ولکم فیہا منافع “ یعنی جو وہ بچے جنتے ہیں اور اس میں سے (تمہارے لیے) سوار ہے اور دودھ ہے اور گوشت ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعلی الفلک “ سے مراد کشتیاں ( کہ جس پر تم سواری کرتے ہو)
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكُمْ [ اور بیشک تمہارے لئے ] فِي الْاَنْعَامِ [ مویشیوں میں ] لَعِبْرَةً ۭ [ یقینا ایک عبرت ہے ] نُسْقِيْكُمْ [ ہم پینے کے لئے دیتے ہیں تم کو ] مِّمَّا [ اس میں سے جو ] فِيْ بُطُوْنِهَا [ ان کے پیٹوں میں ہے ] وَلَكُمْ [ اور تمہارے لئے ] فِيْهَا [ ان میں ] مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ[ بہت سے (دوسرے ) فائدے ہیں ] وَّمِنْهَا [ اور ان میں سے ] تَاْكُلُوْنَ [ تم لوگ کھاتے (بھی ) ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
جانوروں کے منافع، کشتیوں پر بار برداری کا نظام
درختوں کے فوائد بتانے کے بعد چوپاؤں کے منافع بیان فرمائے، انسانوں کو ان سے بڑے بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں ان کا دودھ بھی پیتے ہیں گوشت بھی کھاتے ہیں ان کے بالوں کو کاٹ کر کپڑے اور اوڑھنے بچھونے کی چیزیں بنا لیتے ہیں اور ان پر سوار ہوتے ہیں۔ جیسے بنی آدم کی نسلیں چل رہیں ہے اسی طرح چوپایوں میں بھی تناسل کا سلسلہ چل رہا ہے اللہ تعالیٰ نے جانروں کو انسانوں کے لیے مسخر فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے۔
آخر میں کشتیوں کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کشتیوں پر بھی سوار ہوتے ہیں سامان لادتے ہیں اور دور دراز کا سفر کرتے ہیں۔ کشتیاں بنانے کا الہام فرمانا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21:۔ ” وَ اِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً الخ “۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ فرمایا ان چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت اور توحید کے دلائل ہیں۔ ” مِمَّا فِی بُطُونِھَا “” مَا “ سے دودھ مراد ہے یہ ہماری قدرت کی ایک نشانی ہے کہ ہم چوپایوں کے پیٹ سے گوبر اور خون سے بالکل پاک صاف دودھ پیدا کرتے ہیں جو تمہیں لذیذ اور خوشگوار غذا کا کام دیتا ہے۔ ” وَلَکُمْ فِیھَا مَنَافِع الخ “ اس کے علاوہ ان چوپایوں میں تمہارے لیے اور بہت فائدے ہیں مثلاً ان کی تجارت کے ذریعے دولت کماتے ہو۔ ” وَ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ “ چوپائے زندہ وہ تو بھی تمہارے لیے ان میں منافع ہیں اور اگر ان کو ذبح کرلو تو بھی ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے درس توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کے کچھ نمونے بیان فرمائے ہیں۔ پہلے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کیا اور پھر انتہائے عمر تک کے حالات بیان کیے۔ درمیان میں اپنی کبریائی کا ذکر بھی کیا فتبرک اللہ احسن الخالقین یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی برکتوں والی اور بہترین خالق ہے وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
اس زندگی کے بعد اللہ نے انسان کی موت کا ذکر بھی کیا اور پھر قیامت کو دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہوئی۔ اللہ نے آسمان کے ساتھ طبقات کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی کہ اللہ کے فرشتے آسمانوں کے مختلف مقامات پرچلتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے راستے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً 0ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِہَا وَلَكُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ كَثِيْرَۃٌ وَّمِنْہَا تَاْكُلُوْنَ 21ۙ
نعم ( جانور)
[ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ان میں غور کر کے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے اس کے بعد دلائلِ آفاق یعنی انسان سے جو باہر شواہد ہیں ان کو شروع کرتا ہے اور سب میں آسمان کا پہلے ذکر فرماتا ہے فقال ولقد خلقنا قوقکم سبع طرائق یعنی ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق جمع طریقہ۔ آسمانوں کو طرائق یا تو اس لیے کہا کہ یہ ملائکہ کے آنے جانے کے رستے ہیں یا سبع سیارہ کی چال کے رستے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو طرائق ان کے تطارق کی وجہ سے کہا ہو۔ جس کے معنی تہ بہ تہ یعنی اوپر تلے ہونے کے ہیں۔ یقال طارق الرجل فعلیہ اذا اطبق نعلاعلی نعلٍ و طارق بین الثوبین اذالبس ثوبافوق ثوبٍ ۔ یہ خلیل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِھَا وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ۔ (المومنون : 21، 22)
اور بیشک تمہارے لیے جانوروں میں بھی درس آموزی کا سامان ہے۔ ہم ان چیزوں کے اندر سے جو ان کے پیٹوں میں ہے تمہیں (خوشذائقہ دودھ) پلاتے ہیں۔ اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان سے تم اپنی غذا کا سامان بھی حاصل کرتے ہو۔ اور ان پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار کیا جاتا ہے (تم سواری کرتے ہو) ۔
عبرت کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں ” عبرت “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : پانی اور نباتات سے چوپائے زندہ رہتے ہیں اور چوپاؤں میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بڑے فائدے رکھے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کو اپنی قدرت کی نشانی بتلا کر اس سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ چوپاؤں کی دس قسمیں ہیں۔ ان میں اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ ایسے چوپائے ہیں جن سے انسان بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ ان کا دودھ پینے کے علاوہ مکھن، گھی، دہی اور بہت سی دوسری چیزیں بنانے کے کام آتا ہے۔ ان چوپاؤں کا گوشت کھایا جاتا ہے بکری اور بھیڑ کے سوا حلال چوپاؤں اور گدھے اور گھوڑے پر سواری کی جاتی ہے۔ جہاں تک ان چوپاؤں اور گھوڑوں کا تعلق ہے ان سے کھیتی باڑی اور سواری کا کام لیا…
Read the full tafseer →چوپائوں کا تذکرہ :
21: وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ (اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں) انعام جمع نعم کی ہے اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ (البتہ عبرت ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ )
قراءت : شامی، نافع، ابوبکر نے نَسْقِیکم پڑھا ہے۔ اور یہ سقی واسقی کی طرح دو لغات ہیں۔
مِّمِّا فِیْ بُطُونِھَا (اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے) یعنی ہم ان کے پیٹوں سے تمہارے لئے خالص مزیدار دودھ نکالتے ہیں۔ وَلَکُمْ فیْھَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ (اور تمہارے لئے ان میں اور بہت فوائد ہیں) جو دودھ کے علاوہ ہیں۔ مثلاً اون، بال پشم، جن سے مختلف انسانی لباس بنتے ہیں۔ وَّ مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ (اور ان میں سے بعض کو…
Read the full tafseer →21۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ۔ یہ نشانی ہے جس کے ساتھ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ نسقیکم ، عام قراء نے نون کے ساتھ ذکر کیا ہے ابوجعفر نے اس جگہ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور فتحہ کے ساتھ۔ ممافی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرہ ومنھا تاکلون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
18۔ 22:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب مرے ہوئے لوگوں کی مٹی سے ان کے جسم اسی طرح تیار ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ برس کی بیج سے کھیتی تیار ہوجاتی ہے ‘ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حشر کے دن ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جسم کے تیار ہوجانے میں ایسا ہی کام دے گا جیسے اب اناج کا بیج کھیتی کی تیاری میں کام دیتا ہے ‘ اس حدیث کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں اس تفسیر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قرآن میں حشر کے ذکر کے ساتھ مینہ کا ذکر جو آیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے ‘ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(آیت نمبر 21)
(وان لکم فی الانعام لعبرۃ) یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے مویشوں، یعنی اونٹوں، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لئے فوائد ہیں۔ (نسقیکم مما فی بطونھا) ، ، پلاتے ہیں ہم تمہیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔ ، ، یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے۔ (ولکم فیھا منافع کثیرۃ) یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمہارے لئے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمہارے لئے خیمے بنائے جنہیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →27 مویشیوں کے اندر موجود سامان عبرت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارے لیے ۔ اے لوگو !۔ تمہارے ان مویشیوں میں بھی بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے "۔ جو تمہارے سامنے رہتے، تمہیں طرح طرح سے کام آتے اور تم ان سے قسما قسم کے فائدے اٹھاتے ہو۔ مگر تم لوگ اس بارے میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے تاکہ اس سے تمہیں حق اور حقیقت کی ہدایت و راہنمائی بھی نصیب ہو سکے جو کہ ان تمام مادی فوائد سے کہیں بڑھ کر عظیم دولت ہے۔ " عبرۃٌ " کی تنوین و تنکیر تعظیم و تفخیم کے لیے ہے۔ مطلب یہ کہ اوپر آسمان و زمین کی جو چیزیں ذکر کی گئی ہیں ان کے اندر جو درسہائے عبرت و بصیرت پائے جاتے ہیں وہ تو ہیں ہی۔ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں
تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “
مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →10 ۔ پانی اور نباتات کے ذریعہ جو نعمتیں انسان تک پہنچ رہی ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد اب ان نعمتوں کا بیان ہو رہا ہے جو حیوانات کے واسطہ سے انسان تک پہنچتی ہیں۔ گویا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی دلیل ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اس میں سے ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں۔ مراد ہے دودھ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : لبنا خالصا سائغا للشاربین۔ یعنی ان جانوروں کے پیٹوں میں گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ جو پینے والوں کے لئے مزیدار ہے، پلاتے ہیں۔ (نحل :66) 11 ۔ یعنی ان کا گوشت کھاتے ہو۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان پر تمہاری معیشت کا نظام قائم ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(23:21) الانعام۔ مویشی، بھیڑ۔ بکری۔ اونٹ ۔ گائے۔ بھینس۔ یہ نعم کی جمع ہے نعم کے معنی اونٹ کے۔ انعام میں گودوسرے مویشی کو بھی شامل کرلیتے ہیں لیکن جب تک ان میں اونٹ شامل نہ ہو ان کو انعام نہیں کہا جاسکتا۔
عبرۃ۔ عبرت۔ نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنا حال قیاس کرنا۔ دھیان کرنا۔ نسقیکم۔ نسقی مضارع جمع متکلم۔ اسقی یسقی اسقاء (افعال) سے ہم پلاتے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تمہیں پلاتے ہیں۔
بطونھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب انعام کی طرف راجع ہے اور اس آیت میں اور اگلی آیت 22 میں ھا اسی معنی میں ہے۔
تحملون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر حاضر۔ حمل مصدر (باب ضرب) تم اٹھائے جاتے ہو۔ تم سوار کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 :
فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برستا ہے نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عماروتوں کو نقصان پہنچ جاوے اور نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو، زمین ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گھٹلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہرجاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے پھر فرمایا یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر پانی سکھادیاجائے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
[15] مراد ہے زیتون کا درخت جس سے روغن نکلتا ہے جو بطور دوا بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت سے ملکوں کے لوگ سالن کی جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ زیتون خاص پیداوار ہے فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نما سینا کی۔ طورسینا کی طرف اس کو منسوب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں مقام طورسینا ہے اس درخت کا اصلی وطن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
حیوانات سے عبرت پذیری !
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر نوع کے حالات و کیفیات بیان کرتا ہے اور معمولی باتوں سے حقائق وعبر کے موتی نکال لاتا ہے ، وہ کہتا ہے تمہاری نظریں عمیق اور گہری ہونی چاہئیں تم ہر واقعہ اور ہر چیز پر مبصرانہ غور کرو ، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ قدرت کا نظام کس قدر حکیمانہ اور جامع ہے ارشاد ہوتا ہے کہ حیوانات اور جانوروں کو دیکھو ، تم روزانہ دودھ پیتے ہو ، مگر کبھی اس بات پر بھی غور کرنے کی توفیق ہوئی ہے کہ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ، وہ چارہ جو گائے اور بھینس کھاتی ہے ایک کیمیاوی عمل میں پہنچتا ہے اور وہاں کئی تبدیلیوں کے بعد دودھ کی شکل میں تھنوں میں آجاتا ہے ، پھر…
Read the full tafseer →(21) اور لوگو ! تمہارے لئے چوپائوں میں بھی غور کرنے کا موقعہ اور غور کرنے کا مقام ہے ان چوپایوں کے پیٹ کی چیز سے ہم تم کو پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان چوپایوں میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔ اوپر کی آیت میں نباتاتی احسانات کا ذکر تھا اب حیوانات پر توجہ دلائی کہ ان پر بھی ذرا غور کرو کہ ان چوپایوں سے تمہارے کتنے فوائد وابستہ ہیں ان کے جوف کی چیزوں میں سے تم کو دودھ پلاتے ہیں یعنی گوبر اور خون کے درمیان دودھ کی دھاریں جاری کرتے ہیں پھر ان چوپایوں سے جو بار برداری کا کام لیا جاتا ہے وہ ظاہری ہے ان فوائد کے علاوہ بعض حلال جانوروں کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 3۔ مثلا ان کے بال اور اون کام آتے ہیں۔
Read the full tafseer →جانوروں میں بھی عبرت کے نشان موجود ہیں ذرا ان کے دودھ پر غور تو کرو :
21۔ نباتات کی طرح حیوانات بھی انسان ہی کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں انہیں اپنا معبود یا مخدوم سمجھ لینا انسان کی انتہائی پستی پر دلالت کرتا ہے لیکن جب کوئی قوم من حیث القوم کسی گھٹیا سے گھٹیا کام کو بھی کرنے لگ جائے اور اس کو پوری قوم یا کثیر تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوجائے تو اس کی کمزوری اور گھٹیا پن کی طرف بہت کم دھیان جاتا ہے ۔ ذرا غور کرو کہ موشیوں کے شکم میں کیا بھرا ہے ؟ گوبر ‘ پیشاب اور اسی طرح کا بہت سارا گند ہی تو ہے پھر یہ کسی کی جلوہ نمائی ہے کہ اس میں تمہارے پینے کے لئے وہ ایک ایسی چیز نکالتا ہے جو اپنے…
Read the full tafseer →The reason why olive tree has been associated with the Tur mountain is that this tree first grew on that mountain. Some people have said that it was the first tree to grow on earth after the great Deluge in the days of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . (Mazhari)
Then there is a mention of the blessings and the numerous gifts which Allah has provided for the benefitof ankind so that they may ponder and worship Him. The words of the verse are وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً (And indeed there is a sure lesson in the cattle for you - 23:21). The lesson to which this verse refers has been…
Read the full tafseer →22 That is, milk. Refer to(Surah An-Nahl, Ayat 66 and E.N. 54) thereof.
Read the full tafseer →