Explained with ayahs 18–22
آسمان سے نزول بارش
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بیشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت و ضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہوجائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 21
مراد زیتون، جو بحر روم کے گرد و پیش کے علاقے کی پیداوار میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ اس کا درخت ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو ہزار برس تک چلتا ہے، حتی کہ فلسطین کے بعض درختوں کا قد و قامت اور پھیلاؤ دیکھ کر اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے سے اب تک چلے آ رہے ہیں۔ طور سیناء کی طرف اس کو منسوب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہی علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں ترین مقام طور سیناء ہے، اس درخت کا وطن اصلی ہے۔
Read the full tafseer →وَشَجَــرَةً تَخْــرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ ، سیناء اور سینین اس مقام کا نام ہے جس میں کوہ طور واقع ہے۔ زیتون کا تیل، تیل کی ضروریات مثلاً بدن کی مالش اور چراغ میں جلانے کے بھی کام آتا ہے اور کھانے میں سالن کا بھی کام دیتا ہے اسی کو فرمایا تَنْۢبُتُ بالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ ، زیتون کے درخت کے لئے کوہ طور کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ درخت سب سے پہلے کوہ طور ہی پر پیدا ہوا ہے اور بعض نے کہا کہ طوفان نوح کے بعد سب سے پہلا درخت جو زمین پر اگا ہے وہ زیتون تھا۔ (مظھری)
Read the full tafseer →شجرۃ سے مراد زیتون کے درخت ہیں۔ اگرچہ اس کا نام نہیں لای ہے لیکن جو صفات اس کی بیان فرمائی ہیں وہ خود پتہ دے رہی ہیں کہ اس سے مراد زیتون ہی ہے۔ طور سینا اس کی پدیاوار کا خاص علاقہ تھا۔ اس کا روغن اہل عرب میں بہت مقبول تھا اور اہل کتاب کے ہاں تو اس کو صرف غذائی روغن ہی کا نہیں بلکہ ایک قسم کے مذہبی تقدس کا بھی درجہ حاصل تھا۔ صبغ کے معنی سالن کے ہیں۔ یہ مکھن کی طرح ایک لذیذ اور مقوی سالن بھی تھا۔ یہاں اس کی تنکیر اس کی خوبی پر دلیل ہے۔ یعنی صبغ طیب للاثلین کھانے والوں کے لئے ایک اچھا سالن یہ اس کے دوسرے فوائد کے ساتھ اس کی ایک مزید خوبی کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20-1اس سے زیتون کا درخت مراد ہے، جس کا روغن تیل کے طور پر اور پھل سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سالن کو صِبْغٍ ، ُ رنگ کہا ہے کیونکہ روٹی، سالن میں ڈبو کر، گویا رنگی جاتی ہے۔ طُوْرِ سَیْنَآءَ (پہاڑ) اور اس کا قرب و جوار خاص طور پر اس کی عمدہ قسم کی پیداوار کا علاقہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق…
Read the full tafseer →12 یعنی زیتون کا درخت جس میں سے روغن نکلتا ہے جو مالش وغیرہ کے کام آتا ہے اور بہت ملکوں کے لوگ سالن کی جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس درخت کا ذکر خصوصیت سے فرمایا کیونکہ اس کے فوائد کثیر ہیں اور خاص فضل و شرف رکھتا ہے۔ اسی لیے سورة " التین " میں اس کی قسم کھائی گئی۔ جبل طور کی طرف نسبت کرنا بھی اس کی فضیلت و برکت ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ وہاں اس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 20 وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ ”
اس سے زیتون کا درخت مراد ہے جو عام طور پر جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑی علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
م تَنْبُتُ بالدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ ”
ایک زمانے میں روئے زمین پر وسیع علاقے کی آبادی کا اپنی خوراک کے لیے بنیادی طور پر اسی زیتون پر ہی انحصار تھا اور عام لوگ روغن زیتون میں روٹی کو بھگو کر کھالیتے تھے۔
Read the full tafseer →23 اس درخت سے مراد زیتون کا درخت ہے۔ شام و فلسطین اس درخت کا اصلی وطن ہے۔ اور طور سینا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ اس علاقہ کا مشہور مقام ہے۔ اس درخت کی عمر، اس کا قد و قامت اور پھیلاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے ہے۔ جیسے ہمارے ہاں برگد کا درخت ہوتا ہے۔ جس کے زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے اس کی کئی شاخیں واپس زمین تک آکر اس کا سہارا بنتی ہیں۔ زیتوں کے درخت سے تیل وافر مقدار میں حاصل ہوتا ہے۔ یہیں سے یہ تیل دنیا کے اکثر مقامات پر جاتا ہے۔ طبی لحاظ سے یہ تیل بہت مفید چیز ہے۔ اور بہت سے لوگ اس کے پھل کا اچار ڈالتے ہیں۔ اس کے تیل کو سالن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور سالن میں گھی کی جگہ بھی استعمال کرتے ہیں…
Read the full tafseer →17۔ یہاں کسی درخت کے نام کی تصریح نہیں لیکن سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد زیتون ہے۔ والمراد بہ ھنا الزیت (روح) زیتون خاص پیداوار ہے ملک فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نما سیناء کی۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →وشجرۃ تخرج من طور سینآء اور ہم نے ایک (اور) درخت پیدا کیا (یعنی زیتون) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے۔
سَیْنَآءَکے معنی مختلف بیان کئے گئے ہیں۔ مجاہد نے کہا سیناء کا معنی ہے برکت۔ یعنی برکت والے پہاڑ سے ہم نے زیتون کو پیدا کیا۔
قتادہ ‘ ضحاک اور عکرمہ نے کہا اس کا معنی ہے اچھا اور خوبصورت۔ ضحاک نے کہا یہ نبطی زبان کا لفظ ہے اور عکرمہ نے اس کو حبشی زبان کا لفظ کہا ہے۔ کلبی نے کہا سیناء کا معنی ہے درختوں والا۔ بعض نے کہا سریانی زبان میں گھنے درختوں کی جھاڑی کو سیناء کہتے ہیں۔ مقاتل نے کہا جس پہاڑ پر بکثرت پھل دار درخت ہوں اس کو نبطی زبان میں سیناء اور سینین کہا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا سینا۔ خاص…
Read the full tafseer →(20) اور اسی پانی سے ایک زیتون کا درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا میں کثرت سے ہوتا ہے نبطی زبان میں طور پہاڑ کو اور حبشی زبان میں سیناء اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت زیادہ ہوں جس میں سے تیل نکلتا ہے اور وہ تیل سالن کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ۙوَشَجَــرَةً تَخْــرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ : طور ایک مخصوص پہاڑ کا نام ہے۔ طور کا معنی پہاڑ بھی ہے۔ بعض نے کہا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر درخت اگتے ہوں۔ سیناء اس پہاڑ کا نام ہے، جیسا کہ جبل احد کہتے ہیں، یا ”جَبَلَا طَيْءٍ“ (بنو طے کے دو پہاڑ) کہتے ہیں۔ امام طبری نے فرمایا : ”اور ہم نے تمہارے لیے وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، یعنی اس پہاڑ سے جس پر درخت اگتے ہیں۔ مراد زیتون کا درخت ہے۔“ اعراب القرآن و بیانہ از درویش میں ہے : ”سیناء ایک شبہ جزیرہ ہے، جس کی حد شمال میں بحر ابیض متوسط ہے اور مغرب میں نہر سویز اور خلیج سویز ہے اور مشرق میں فلسطین اور خلیج عقبہ ہے اور جنوب میں وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 20 ۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و شجرۃ اس کا عطف جنات پر ہے۔ فراء نے اس پر رفع بھی جائز قرار دیا کیونکہ فعل ظاہر نہیں اس کا معنی ہوگا وثم شجرۃ اس سے مراد زیتون کا درخت ہے۔ اس کو علیحدہ ذکر فرمایا کیونکہ اس کے منافع شام، حجاز اور دوسرے شہروں میں بہت زیادہ ہے۔ اور اس کو پانی بھی زیادہ نہیں د ینا پڑتا اور اس کی گوڈی وغیرہ بھی کم ہوتی ہے جبکہ دوسرے درختوں کی دیکھ بھال زیادہ ہوتی ہے۔ تخرج یہ صفت ہے۔ من طور سیناء اللہ نے زیتون کے درخت کو طور سیناپہاڑ سے نکالا ہے جس میں اللہ نے برکت کر کھی ہے۔ طور سیناء شام کی زمین سے ہے۔ یہ وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ نے حضرت موسیٰ سے کلام کی تھی۔…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من طور سیناء “ میں طور سے مراد وہ پہاڑ ہے کہ جس سے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” وشجرۃ تخرج “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔ آیت ” من طور سیناء “ سے خوبصورت پہاڑ مراد ہے ” تنبت بالدہن وصبغ للاٰکلین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس میں تیل اور سالن بنا دیا۔
3۔ ابن ابی شیبہ وعد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من طور سیناء “ سے مراد ہے مبارک پہاڑ آیت ” تنبت بالدہن “ یعنی اگاتا ہے تیل کو۔
4۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →وَشَجَــرَةً [ اور (ہم نے اگایا) ایک ایسا درخت جو ] تَخْــرُجُ [ نکلتا ہے ] مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ [ سینا کے کوہ طور سے ] تَنْۢبُتُ [ وہ اگتا ہے ] بِالدُّهْنِ [ تیل کے ساتھ ] وَصِبْغٍ [ اور سالن کے ساتھ ] لِّلْاٰكِلِيْنَ [ کھانے والوں کے لئے ]
ذھ ن : (ن) دھنا ۔ (1) سر میں تیل لگانا ۔ (2) کسی چیز کو تر کرنا ، نرم کرنا ۔ دھن ۔ کسی چیز کا تیل یا چربی ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔ دھان ۔ تیل کی تلچھٹ ۔ فکانت وردۃ کالدھان [ تو وہ ہوجائے گا ۔ گلابی جیسے تیل کی تلچھٹ ] 55: 37 ۔ (افعال) ادھان ۔ نرم ہونا۔ ڈھیلا پڑنا ۔ آیت ۔ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ [ وہ لوگ چاہتے ہیں اگر آپ ڈھیلے پڑیں تو وہ…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَاءَ ) (اور ہم نے تمہارے لیے ایک درخت کو پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے) وہ تیل لے کر اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے اس سے زیتون کا درخت مراد ہے اس کو سورة النور میں شجرہ مبارکہ (برکت والا درخت) فرمایا ہے اور سورة والتین میں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے، یہ درخت بڑے منافع اور فوائد کا درخت ہے اس کے دو فائدے تو یہاں اسی آیت میں بیان فرما دیئے ہیں۔ اول تو یہ اس کا تیل بہت نافع ہے بہت سے کاموں میں آتا ہے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں اور سالن کی جگہ استعمال کرتے ہیں، اور خود زیتون کے دانے بھی روٹی سے اور بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →19:۔ ” وَ شَجَرَةً الخ “ یہ ” جَنّٰتٍ “ پر معطوف ہے اور اس درخت سے زیتون کا درخت مراد ہے طور سیناء وہی پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے تھے طور بمعنی پہاڑ۔ اور سیناء اس پہاڑ کا نام ہے یہ پہاڑ ملک شام میں واقع ہے اس پر زیتون بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ ” تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ الخ “ جملہ ” شَجَرَةً “ کی صفت ہے اور ” با “ ملابست و مصاحبت کے لیے ہے جس کا متعلق محذوف ہے اور وہ ” تَنْبُتُ “ کے فاعل سے حال واقع ہے ای تنبت متلبسۃ بالدُّھنِ (روح) ۔ یعنی وہ درخت پیدا ہوتا ہے تو روغن بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے یا ” با “ بمعین مع ہے اور یہ حال ہے۔ قال الزجاج الباء للحال ای تنبت و معھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے درس توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کے کچھ نمونے بیان فرمائے ہیں۔ پہلے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کیا اور پھر انتہائے عمر تک کے حالات بیان کیے۔ درمیان میں اپنی کبریائی کا ذکر بھی کیا فتبرک اللہ احسن الخالقین یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی برکتوں والی اور بہترین خالق ہے وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
اس زندگی کے بعد اللہ نے انسان کی موت کا ذکر بھی کیا اور پھر قیامت کو دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہوئی۔ اللہ نے آسمان کے ساتھ طبقات کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی کہ اللہ کے فرشتے آسمانوں کے مختلف مقامات پرچلتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے راستے…
Read the full tafseer →وَشَجَــرَۃً تَخْــرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ 20
شجر
الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وقال : أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] ، وقال : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] ، لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] . وواد شَجِيرٌ: كثير الشّجر، وهذا الوادي أَشْجَرُ من ذلك، والشَّجَارُ الْمُشَاجَرَةُ ، والتَّشَاجُرُ : المنازعة . قال تعالی: حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ان میں غور کر کے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے اس کے بعد دلائلِ آفاق یعنی انسان سے جو باہر شواہد ہیں ان کو شروع کرتا ہے اور سب میں آسمان کا پہلے ذکر فرماتا ہے فقال ولقد خلقنا قوقکم سبع طرائق یعنی ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق جمع طریقہ۔ آسمانوں کو طرائق یا تو اس لیے کہا کہ یہ ملائکہ کے آنے جانے کے رستے ہیں یا سبع سیارہ کی چال کے رستے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو طرائق ان کے تطارق کی وجہ سے کہا ہو۔ جس کے معنی تہ بہ تہ یعنی اوپر تلے ہونے کے ہیں۔ یقال طارق الرجل فعلیہ اذا اطبق نعلاعلی نعلٍ و طارق بین الثوبین اذالبس ثوبافوق ثوبٍ ۔ یہ خلیل اور…
Read the full tafseer →وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِسَیْنَآئَ تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ ۔ (المومنون : 20)
(اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا ہے جو طور سینا سے نکلتا ہے اور تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔ )
درخت کا اگرچہ نام نہیں لیا گیا لیکن اس کی صفات کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ” زیتون “ کا درخت ہے۔ یہ اگرچہ مختلف ملکوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن طور سینا کا ذکر یا تو اس کے وطن اصلی کے طور پر کیا گیا ہے کیونکہ شام میں یہ کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور یا تقدس کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے تو اس میں کوئی استبعاد نہیں ہوگا کہ قدرت نے سب سے پہلے اور سب سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آسمانوں کی تخلیق کے بعد بارش کا تذکرہ اور اس کے فوائد :۔
اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے اپنے اندازے کے مطابق بارش نازل کرتا ہے اور پھر پانی کو زمین میں ذخیرہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس بات پر قادر ہے کہ پانی کو خشک کردے۔ یا اسے زمین میں اتنا نیچے لے جائے کہ اسے حاصل کرنا انسان کے بس سے باہر ہو۔ پانی کے ساتھ باغات اور نباتات پیدا ہوتے ہیں جن کے پھل لوگ کھاتے ہیں۔ اسی نے طور سیناء کے علاقے میں زیتون کا درخت پیدا کیا جس سے تیل نکلتا ہے جسے لوگ سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں زمین میں پانی ذخیرہ کرنے کے بارے میں سائنسدانوں کی دو آراء ہیں 1 جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو…
Read the full tafseer →20: وَشَجَرۃً (اور ہم نے ایک درخت پیدا کیا) اس کا عطف جناتٍ پر ہے اور وہ زیتون کا درخت ہے۔ تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآ ءَ (جو طور سیناء میں پیدا ہوتا ہے)
نحو : طور سیناء اور طور سینین میں یا تو طور کی اضافت بقعہ کی طرف ہو جس کا نام سیناء اور سینون ہو یا نمبر 2۔ پہاڑکا نام جو مضاف، مضاف الیہ سے مرکب ہو جیسے امرءٔ القیس۔ یہ فلسطین کا ایک پہاڑ ہے۔ اور سینائؔ ہرحال میں غیر منصرف ہے اس کا سین مکسور ہے۔ جیسا حجازی اور ابو عمرو نے سیناء پڑھا ہے اور دو وجہ تعریف اور عجمہ پائی جاتی ہیں۔ یا یہ سَیْنَاء جیسا دیگر قراء کی قراءت ہے کیونکہ الف تانیث ہے جیسے صَحْراء یہ دو سبب کے قائم مقام ہے۔
تَنچْبُتُ…
Read the full tafseer →20۔ وشجرۃ، اور ہم نے تمہارے لیے ایک اور درخت پیدا کیا، تخرج من طور سینائ۔ اور وہ زیتون کا درخت ہے ۔ قراء اہل حجاز اور ابوعمرو نے ، سیناء سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اسکے معنی میں اختلاف ہے۔
1۔ مجاہد کا قول ہے ک ہ اس کا معنی برکت ہے یعنی برکت والے پہاڑ سے ہم نے زیتون کو پیدا کیا۔
2۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے حسن، ہم نے زیتون کو اچھے پہاڑ سے پیدا کیا۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے۔
3۔ عکرمہ نے کہا ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے۔ 4۔ کلبی نے اس کا معنی یہ نقل کیا ہے کہ سیناء کا معنی ہے درختوں والا۔
5۔ بعض نے کہاسریانی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
18۔ 22:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب مرے ہوئے لوگوں کی مٹی سے ان کے جسم اسی طرح تیار ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ برس کی بیج سے کھیتی تیار ہوجاتی ہے ‘ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حشر کے دن ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جسم کے تیار ہوجانے میں ایسا ہی کام دے گا جیسے اب اناج کا بیج کھیتی کی تیاری میں کام دیتا ہے ‘ اس حدیث کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں اس تفسیر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قرآن میں حشر کے ذکر کے ساتھ مینہ کا ذکر جو آیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے ‘ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 )
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بےپایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولقد خلقنا فوقکم) ، ، اور بنائے ہم نے تمہارے اوپر ، ، یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر (سبع طرائق) ہم نے سات آسمان طبق برطبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد و دیعت کئے گئے۔
(وما کنا عن الخلق غفلین) ، ، اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ ، ، پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لئے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →26 ایک عظیم الشان سالن کی نعمت و عنایت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قدرت نے اپنے بندوں کے لیے ایک عظیم الشان سالن کا بھی انتظام فرمایا ہے۔ یعنی { صبغ } سے یہاں پر مراد سالن ہے۔ کیونکہ اس میں لقمہ ڈبونے سے رنگ دار ہوجاتا ہے۔ (روح، ابن کثیر، معالم، خازن، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ زیتون کا تیل کھایا بھی کرو اور لگایا بھی کرو کہ یہ ایک بابرکت درخت سے حاصل ہوتا ہے۔ (مسند احمد (رح) وغیرہ ) ۔ سو زیتون کے شجرئہ مبارکہ سے حاصل ہونے والا روغن ایک عظیم الشان سالن تھا اور ہے۔ جو قدرت نے اپنی فیاضیوں سے اپنے بندوں کے طرح طرح کے فوائد اور منافع کیلئے پیدا فرمایا۔ جو مکھن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں
تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “
مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →9 ۔ مراد ہے زیتون کا درخت جو کوہ طور اور اس کے قریب بحیرہ روم کے اردگرد کے علاقہ میں بکثرت پیدا ہوتا ہے اور نہایت عمدہ ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(23:20) شجرۃ۔ اس کا عطف جنت پر ہے۔ ای وانشانا لکم شجرۃ۔ وھی شجرۃ الزیتون۔ یہاں زیتون کا درخت مردا ہے۔ تخرج۔ اخراج (افعال) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ نکلتی ہے وہ نکلے گی نباتات کے زمین سے اگنے کو بھی اخراج کہتے ہیں۔ یہاں انہی معنوں میں آیا ہے۔ یخرج بہ زرعا مختلفا الوانہ (39:21) اس سے مختلف رنگوں کی کھیتیاں اگاتا ہے۔
طور سینائ۔ مضاف مضاف الیہ۔ طور بمعنی پہاڑ۔ سینا جزیرہ نمائے سینا کا علاقہ سینا۔ بوجہ تانیث بالالف (جو قائم مقام دو سببوں کے ہے جیسے صحراء یا بوجہ عجمہ ومعرفہ یا بوجہ معرفہ وتانیث غیر منصرف ہے۔ طور سینائ۔ سینا کا پہاڑ۔
تنبت۔ نبت ینبت۔ (باب نصر) نبت سے جس کے معنی اگنے اور اگانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 :
فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برستا ہے نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عماروتوں کو نقصان پہنچ جاوے اور نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو، زمین ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گھٹلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہرجاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے پھر فرمایا یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر پانی سکھادیاجائے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
[15] مراد ہے زیتون کا درخت جس سے روغن نکلتا ہے جو بطور دوا بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت سے ملکوں کے لوگ سالن کی جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ زیتون خاص پیداوار ہے فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نما سینا کی۔ طورسینا کی طرف اس کو منسوب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں مقام طورسینا ہے اس درخت کا اصلی وطن ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی مختلف نعمتوں کا ذکر سے مقصد ہے کہ جس طرح تمہاری مادی ضروریات کیلئے اس کائنات میں وافر پیدا کیا ہے اسی طرح تمہاری روحانی ضروریات سے بھی وہ آگاہ رہے ،
ان آیات میں انعام اور وحی کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی ہے گویا جس طرح بارش کے بعد کھیت لہلہا اٹھتے ہیں اور اس کا پانی ضرورت کا سبب بن جاتا ہے ، اسی طرح جب دل کی زمین خشک ہوجاتی ہے تو سیرابی کے لئے ترستی ہے ۔
حل لغات :
طرائق : جار کہنہ ، واشراف قوم وگرو ، مراد آسمان راہیں مختلف آسمان ہے ۔
Read the full tafseer →(20) اور اسی پانی سے ہم نے زیتون کا درخت بھی پیدا کیا جو طور سینا میں بکثرت پیدا ہوتا ہے وہ تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے اگتا ہے طور سینا اور طور سینین ایک ہی چیز ہے۔ زیتون کا درخت بہت مشہور درخت ہے جو عام طور سے شرق اردن اور بیت المقدس کی پہاڑوں پر بکثرت دستیاب ہوتا ہے اس کا تیل بہت سے امراض کے لئے نافع ہوتا ہے اور عوام اس کو سالن کی جگہ بھی استعمال کرتے ہیں یعنی روٹی زیتون کے تیل کے ساتھ نمک ڈال کر کھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1۔ جس پہاڑ کا نام طور ہے طور سینا بھی اسی کا نام ہے کیونکہ وہ جس جگہ ہے اس کا نام سینا ہے اور سینین بھی، گو اب کچھ اور نام ہوگیا ہو، اور زیتون کی تخصیص طور کے ساتھ بوجہ کثرت سے پیدا ہونے کے ہے اور طور کی تخصیص زیتون کے ساتھ بوجہ کثرت منافع کے ہے۔
2۔ یعنی اس کے پھل سے دونوں کام کی چیز حاصل ہوتی ہے خواہ روشن کرنے اور مالش کرنے کے کام میں لاو۔ خواہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاو۔
Read the full tafseer →زیتون کے درخت کی خاص فضیلت کہ وہ گھی کے لئے تیار کیا گیا ہے :
20۔ قرآن کریم نے اس جگہ صرف درخت کا ذکر کیا ہے اس درخت کا نام یہاں نہیں لیا گیا لیکن اس کی جو تعریف کی گئی اور اس کا جو وطن بتایا گیا یہ دونوں باتیں زیتون کے درخت پر ہی صادق آتی ہیں اس لئے بالاتفاق اس کو زیتون ہی کا درخت بیان کیا گیا ہے کیونکہ طور سینا کے علاقہ میں یہ درخت کثرت سے پایا جاتا ہے اور اس درخت میں گھی کی مقدار بھی بہت زیادہ رکھی گئی ہے یہی درخت ہے جو سبز کاٹ کر بھی اس وقت جلایا جاسکتا ہے اور اس سے آگ روشن ہوجاتی ہے اور اس کو کھانے میں بہت ہی لذیذ اور صحت کے لئے نہایت مفید مانا گیا ہے ۔ دھنیت کی سب سے زیادہ پر اپنی چیزوں…
Read the full tafseer →وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاءَ (And [ We produced ] a tree [ of olive ] that comes out from the [ mount ] Tur of Sinai. - 23:20). Sinai is the name of the area where the Tur Mountain is located. Olive oil can be used to massage the body, in lamps to provide light and in food as a curry or dressing. This has been expressed in the verse in the words تَنبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْآكِلِينَ (which grows having oil and a dressing for those who eat - 23:20).
Read the full tafseer →21. That is, the olive-tree, which is the most important product of the lands around the Mediterranean Sea. The olive-tree can last for 2,000 years or so, so much so that some trees in Palestine are said to be existing since the time of Prophet Jesus (peace be upon him). It has been attributed to Mount Sinai probably for the reason that the area whose well known and prominent place is Mount Sinai is its original habitat.
Read the full tafseer →