Explained with ayahs 18–22
آسمان سے نزول بارش
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بیشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت و ضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہوجائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 19
یعنی کھجوروں اور انگوروں کے علاوہ بھی طرح طرح کے میوے اور پھل۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 20
یعنی ان باغوں کی پیداوار سے، جو پھل، غلے، لکڑی اور دوسری مختلف صورتوں میں حاصل ہوتی ہے، تم اپنی معاش پیدا کرتے ہو۔ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ میں منھا کی ضمیر جنات کی طرف پھرتی ہے نہ کہ پھلوں کی طرف۔ اور تاکلون کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ ان باغوں کے پھل تم کھاتے ہو، بلکہ یہ بحیثیت مجموعی روزی حاصل کرنے کے مفہوم پر حاوی ہے۔ جس طرح ہم اردو زبان میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص اپنے فلاں کام کی روٹی کھاتا ہے، اسی طرح عربی زبان میں بھی کہتے ہیں فلان یا کل من حفتہ۔
Read the full tafseer →آگے پانی کے ذریعہ پیدا ہونے والی خاص خاص چیزوں کو عرب کے مزاج و مذاق کے مطابق ذکر فرمایا کہ کھجور اور انگور کے باغات اس سے پیدا ہوئے اور دوسرے پھلوں کو ایک عام لفظ میں جمع کر کے ذکر فرمایا لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ، یعنی ان باغات میں تمہارے لئے کھجور و انگور کے علاوہ ہزاروں قسم کے پھل پیدا کئے جن کو تم محض تفریحی اور شوقیہ طور پر بھی کھاتے ہو اور ان میں سے بعض پھلوں کا ذخیرہ کر کے تمہاری مستقل غذا بھی ان سے تیار ہوتی ہے وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ کا یہی مطلب ہے۔ آگے خصوصیت سے زیتون اور اس کے تیل کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا کیونکہ اس کے منافع بیشمار ہیں۔ اور چونکہ زیتون کے درخت کوہ طور…
Read the full tafseer →تاکلون کا قرینہ دلیل ہے کہ فواکہ کثیرۃ کے بعد تتقکھون یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف مانا جائے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
یعنی اسی پانی سے اللہ نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے جن میں تمہارے لئے اور بھی بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے اور انہی باغوں سے تم اپنے لئے غذائی اجناس بھی حاصل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے صرف زندہ رہنے کا سامان ہی نہیں پیدا کیا بلکہ تمہارے کام و دہن کیضیافت کا سامان بھی مہیا فرمایا۔ جینے کو تو انسان صرف روٹی سے بھی جی سکتا ہے لیکن رب کریم نے تمہارے آگے قسم قسم کے میوے اور پھل بھی چن دیئے۔ اہل عرب کے ہاں ایک…
Read the full tafseer →19-1یعنی ان باغوں میں انگور اور کھجور کے علاوہ اور بہت سے پھل ہوتے ہیں، جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو اور کچھ کھاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
12: یعنی اگر آسمان سے پانی برسا کر تمہیں ذمہ داری دی جاتی کہ تم خود اس کا ذخیرہ کرو، تو یہ تمہارے بس میں نہیں تھا۔ ہم نے یہ پانی پہاڑوں پر برسا کر اسے برف کی شکل میں جما دیا، جو رفتہ رفتہ پگھل کر دریاؤں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور اس کی جڑیں زمین بھر میں پھیلی ہوئی ہیں، جن سے کنویں بنتے ہیں، اور اس طرح زمین کی تہ میں وہ پانی محفوظ رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق…
Read the full tafseer →11 یعنی ان کی بہار دیکھ کر خوش ہوتے ہو اور بعض کو بطور تفکہ اور بعض کو بطور غذا استعمال کرتے ہو۔
Read the full tafseer →لَکُمْ فِیْہَا فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ ”
ان میں سے اکثر پھل تمہارے لیے غذا کا کام دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →22 صرف یہی نہیں کہ ان باتوں سے تمہیں بہت سے پھل وغیرہ کھانے کو ملتے ہیں۔ بلکہ یہ باغ تمہارے لئے ذریعہ آمدنی اور ذریعہ معاش بھی ہیں۔
Read the full tafseer →16۔ (بعض کو خشک کرکے بطور غذا کے) (آیت) ” فواکہ کثیرۃ “۔ بہت سے پھل تروتازہ کھائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا کہ یہ عمل تکوینی بھی تمامتر حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ کھیت پات رزق کا دیوتا کوئی الگ نہیں۔ (آیت) ” نخیل واعناب “۔ کھجور کی اہمیت اور اس لیے اس کے ذکر کی تخصیص اہل عرب کے لئے بالکل ظاہر ہے۔ انگور بھی عرب کے بعض حصوں کا خاص میوہ ہے۔ ملاحظہ ہوبقرہ (پ 3) آیت 262 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →فانشانا لکم بہ جنت من نخیل واعناب لکم فیہا فواکہ کثیرۃ ومنہا تاکلون۔
پھر ہم نے اس (پانی) سے کھجوروں اور انگوروں کے باغ تمہارے لئے پیدا کئے جن کے اندر تمہارے واسطے بکثرت میوے ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌیعنی کھجوروں اور انگوروں کے علاوہ بھی تمہارے لئے بکثرت میوے ان باغوں میں ہوتے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو۔
وَّمِنْہَا یعنی باغوں کے پھلوں اور غلے کے کھیتوں سے بطور غذا تم بعض کو کھاتے ہو اور سامان زندگی حاصل کرتے ہو۔ کھجوروں اور انگوروں کا خصوصی تذکرہ بطور تمثیل کیا گیا ہے۔ ورنہ کشمش اور چھوارے اور طرح طرح کے پھل اور شربت سب ہی باغوں کی پیداوار ہیں ‘ یا…
Read the full tafseer →(19) اور پھر ہم نے اس پانی سے تمہارے لیے باغات پیدا کیے، کھجوروں کے اور انگوروں کے اور ان باغوں میں تمہارے لیے بکثرت قسم قسم کے میوے ہیں اور ان کو تم بعد میں کھاتے بھی ہو۔
Read the full tafseer →فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ : پانی اتارنے کے ذکر کے بعد حیات بعد الموت پر دلالت کرنے والی چند چیزیں ذکر فرمائیں، پہلی یہ کہ ہم نے اس پانی کے ساتھ (اپنے لیے نہیں بلکہ) تمہارے لیے کئی قسم کے باغات پیدا فرمائے۔
مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ : ”نَّخِيْلٍ“ کھجور کے درخت، ”اَعْنَابٍ“ ”عِنَبٌ“ کی جمع ہے، انگور کا پھل۔ کھجور اور انگور کا خصوصاً ذکر ان کے بیشمار فوائد کی وجہ سے فرمایا، کیونکہ انھیں دوسرے تمام پھلوں پر برتری حاصل ہے، جیسا کہ فرشتوں میں جبریل اور میکال کا خصوصاً الگ ذکر کیا، فرمایا : (مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 19
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : فانشانا یعنی اس پانی کو ہم نے نباتات کا سبب بنایا اور ہم نے اس کے ذریعے باغات کو وجود بخشا اور ہم نے انہیں پیدا کیا۔ اللہ نے النخیل (کھجور) والاعناب (انگور) کا ذکر کیا کیونکہ یہ طائف، مدینہ وغیرہما شہروں کے پھل ہیں۔ یہ طبری کا قول ہے۔ نیز تمام پھلوں سے یہ افضل ہیں۔ تشریف وتنبیہ کے لئے ان کا خصوصی ذکر فرمایا۔ لکم فیھا تمہارے لیے درخت میں۔ فواکہ کھجور اور انگور کے علاوہ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ نخیل اور اعناب کی طرف راجع ہو کیونکہ ان کی بہت سی اقسام ہیں۔ پہلا قول تمام پھلوں کو شامل ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ جس نے قسم اٹھائی کہ وہ پھل فواکہ نہیں کھائے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
1۔ ابن مردویہ والخطیب نے بسند ضعیف ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جنت میں سے پانچ نہریں اتاریں ایک سیحون ہے جو ہندوستان کی نہر ہے اور جیحوں ہے جو بلخ کی نہر ہے۔ دجلہ اور فرات عراق کی نہریں ہیں اور نیل مصر کی نہر ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ جاری کیا جنت کے درجات میں سے سب سے نچلے درجے میں سے جبرئیل کے پروں پر تارا جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو پہاڑوں کے سپرد کردیا اور ان کو زمین میں جاری کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو لوگوں کی زندگیوں کے لیے نفع دینے والی چیز بنادیا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ…
Read the full tafseer →فَاَنْشَاْنَا [ پھر ہم نے اگایا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] بِهٖ [ اس سے ] جَنّٰتٍ [ کچھ باغات ] مِّنْ نَّخِيْلٍ [ جیسے کھجوروں کے ] وَّاَعْنَابٍ ۘ [ اور انگوروں کے ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] فِيْهَا [ ان میں ] فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ [ کثرت سے میوے ہیں ] وَّمِنْهَا [ اور ان میں سے ] تَاْكُلُوْنَ [ تم لوگ کھاتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آسمانوں کی تخلیق، خاص مقدار کے موافق بارش ہونا اور اس کے ذریعہ باغیچوں میں پیداوار ہونا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے آسمانوں کو پیدا فرمانے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعہ درخت اگانے کا تذکرہ فرمایا یہ سب انسانوں کے لیے بڑی نعمتیں ہیں۔
اول یوں فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر (سَبْعَ طَرَاءِقَ ) سات راستے بنائے ہیں مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے سات آسمان مراد ہیں ان کو سبع طرائق یا تو اس لیے فرمایا ہے کہ سات آسمان اوپر نیچے بنائے ہیں اور یا اس اعتبار سے سبع طرائق فرمایا کہ ان میں فرشتوں کے آنے جانے کے راستے ہیں مزید فرمایا (وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِیْنَ ) (اور ہم مخلوق سے غافل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →18:۔ ” فَاَنْشَانَا لَکُمْ الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل کا تیسرا حصہ ہے یہ کھجور اور انگور کے باغات ہم ہی نے پیدا کیے اس کے علاوہ اور بہت سے میوے پیدا کیے۔ ” وَ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ “ من تبعیضیہ ہے ای بعضھا یعنی ان پھلوں اور میووں کی تجارت سے بھی فائدہ اٹھاتے ہو اور ان میں سے کچھ خود کھاتے بھی ہو یا من ابتدائیہ ہے اور اَکَلَ سے مجازا روزی کمانا مراد ہے یعنی ان پھلوں اور میووں کی تجارت سے تم روزی کماتے ہو۔ ومن ابتدائیۃ وقیل انھا تبعیضیۃ ومضمونھا مفعول (تاکلون) والمراد بالاکل معناہ الحقیقی (روح ج 18 ص 21) ۔ ومنھا تاکلون من قولھم فلان یا کل من حرفۃ یحترفھا و من صنعۃ یعلھا و من تجارۃ یتربح بھا یعنون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے درس توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کے کچھ نمونے بیان فرمائے ہیں۔ پہلے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کیا اور پھر انتہائے عمر تک کے حالات بیان کیے۔ درمیان میں اپنی کبریائی کا ذکر بھی کیا فتبرک اللہ احسن الخالقین یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی برکتوں والی اور بہترین خالق ہے وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
اس زندگی کے بعد اللہ نے انسان کی موت کا ذکر بھی کیا اور پھر قیامت کو دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہوئی۔ اللہ نے آسمان کے ساتھ طبقات کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی کہ اللہ کے فرشتے آسمانوں کے مختلف مقامات پرچلتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے راستے…
Read the full tafseer →فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ 0ۘ لَكُمْ فِيْہَا فَوَاكِہُ كَثِيْرَۃٌ وَّمِنْہَا تَاْكُلُوْنَ 19ۙ
نشأ
النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی
[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ان میں غور کر کے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے اس کے بعد دلائلِ آفاق یعنی انسان سے جو باہر شواہد ہیں ان کو شروع کرتا ہے اور سب میں آسمان کا پہلے ذکر فرماتا ہے فقال ولقد خلقنا قوقکم سبع طرائق یعنی ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق جمع طریقہ۔ آسمانوں کو طرائق یا تو اس لیے کہا کہ یہ ملائکہ کے آنے جانے کے رستے ہیں یا سبع سیارہ کی چال کے رستے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو طرائق ان کے تطارق کی وجہ سے کہا ہو۔ جس کے معنی تہ بہ تہ یعنی اوپر تلے ہونے کے ہیں۔ یقال طارق الرجل فعلیہ اذا اطبق نعلاعلی نعلٍ و طارق بین الثوبین اذالبس ثوبافوق ثوبٍ ۔ یہ خلیل اور…
Read the full tafseer →فَاَنْشَاْنَالَکُمْ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ م لَکُمْ فِیْھَا فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (المومنون : 19)
(پس ہم نے اس پانی سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں (جن سے تم لطف اندوزہوتے ہو) اور انھیں باغوں سے تم روزی بھی حاصل کرتے ہو۔ )
اہتمامِ ربوبیت کی مزید مثالیں
اللہ کے بیشمار احسانات میں سے چند احسانات یہ ہیں کہ اس نے تمہارے لیے زمین پر ایسے باغات پیدا فرمائے، جن میں پیٹ کی آگ بجھانے اور کام ودہن کی لذتوں کو پورا کرنے کے لیے قسم قسم کے پھل اور غلے پیدا کیے۔ عرب میں پھلوں کی اصل حیثیت تو کھجور اور انگور کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو دوبارہ زندہ ہونے پر اس لیے بھی یقین کرنا چاہیے کہ جس خالق نے اوپر، نیچے سات آسمان بنائے اور انہیں بغیر سہارے کے کھڑا کر رکھا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرما کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے اس سے غافل نہیں ہیں اس فرمان میں آسمانوں کی بجائے ” طرائق “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے بارے میں اہل علم نے تین آراء کا اظہار فرمایا ہے۔ 1 ” سبع طرائق “ کا معنٰی ہے اوپر نیچے سات آسمان 2” سبع طرائق “ سے مراد سات قرأتیں ہیں۔ 3” سبع طرائق “ سے مراد آسمان کے وہ دروازے ہیں جن کے…
Read the full tafseer →19: فَاَنْشَاْنَا لَکُمْ بِہٖ (پس ہم نے تمہارے لئے اس سے پیدا کردیا) یعنی پانی سی۔ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ لَکُمْ فِیْھَا (کھجور اور انگور کے باغات تمہارے فائدہ کے لئے ان میں) یعنی باغات میں۔ فَوَاکِہُ کَثِیْرَۃٌ (بہت سے میوہ جات) کھجور انگور کے علاوہ بھی ہیں۔ وَّ مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ (اور انہی میں سے تم کھاتے ہو) ان باغات یعنی ان کے پھلوں سے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ اس قول سے ماخوذ ہو۔ فلان یا کل من حرفۃ یحترفھا ومن صنعۃ یغتلّھا یعنی اس کا وہ رزق ہے اور وہ ذریعہ ہے جس سے رزق کماتا ہے گویا اس طرح فرمایا کہ یہ باغات تمہارے ارزاق و معیشت کے اسباب و ذرائع ہیں انہی سے تمہیں رزق دیا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
19۔ فانشانالکلم بہ۔ اس سے مراد پانی ہے ۔ جنات من نخیل واعناب لکم فیھا، ان باغات میں ، فواکہ کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ تم گرمیوں اور سردیوں میں اس کو کھاتے ہو۔ نخیل اور اعناب کو ذکر کیا، کیونکہ عرب کے اندر یہی کثیر پھل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
18۔ 22:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب مرے ہوئے لوگوں کی مٹی سے ان کے جسم اسی طرح تیار ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ برس کی بیج سے کھیتی تیار ہوجاتی ہے ‘ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حشر کے دن ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جسم کے تیار ہوجانے میں ایسا ہی کام دے گا جیسے اب اناج کا بیج کھیتی کی تیاری میں کام دیتا ہے ‘ اس حدیث کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں اس تفسیر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قرآن میں حشر کے ذکر کے ساتھ مینہ کا ذکر جو آیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے ‘ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 )
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بےپایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولقد خلقنا فوقکم) ، ، اور بنائے ہم نے تمہارے اوپر ، ، یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر (سبع طرائق) ہم نے سات آسمان طبق برطبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد و دیعت کئے گئے۔
(وما کنا عن الخلق غفلین) ، ، اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ ، ، پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لئے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →25 انسان کی خوراک کے انتظام کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور انہی سے تم لوگ کھاتے بھی ہو۔ اپنی ضرورت اور طبیعت کے مطابق۔ نیز انہی کو بیچ کر اور ان کی تجارت کے ذریعے تم لوگ اپنی روزی کا سامان بھی کرتے ہو۔ سو ان چیزوں میں تمہارے لئے فائدے ہی فائدے اور منافع ہی منافع ہیں۔ پھر بھی اس واہب مطلق اور منعم حقیقی سے اعراض و روگردانی ؟ کس قدر ناشکری اور کتنی احسان فراموشی ہے یہ ؟ جس کا ارتکاب منکر اور باغی انسان کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پھر بھی اس کی طرف سے چھوٹ ملنا اور مہلت پر مہلت اور ڈھیل پر ڈھیل دیئے جانا کس قدر کرم و احسان ہے اس رب ذوالجلال کا۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں
تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “
مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی کھجور اور انگور بھی اور بہت سے دوسرے میوے بھی جو غذا اصلی کے علاوہ ہیں۔ 8 ۔ یعنی ان باغوں میں سے جو پھل اور غلے تمہیں حاصل ہوتے ہیں تم انہی کو کھاکر زندگی بسر کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(23:19) بہ۔ میں ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع ماء ہے۔ فواکہ۔ میوہ ۔ پھل ۔ واحد فاکھۃ۔ بعض نے کہا ہے کہ فاکھا کا لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک انگور اور انار کے علاوہ باقی میوہ جات کو فاکھۃ کہتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنیٰ کیا ہے کہ قرآن مجید میں ان دونوں کو فاکھہ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فاکھہ کے غیر ہیں۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے (تانیث جمع) اس پر تنوین نہیں آتی۔
منھا۔ میں اگر ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع جنت ہے تو یہ ابتدائیہ ہے بمعنی ” سے “ جیسے من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) اور اگر اس ضمیر کا مرجع فواکہ ہے تو من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 :
فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برستا ہے نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عماروتوں کو نقصان پہنچ جاوے اور نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو، زمین ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گھٹلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہرجاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے پھر فرمایا یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر پانی سکھادیاجائے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[13] غالباً اس سے مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں۔ اور کیونکہ اس زمانے کا انسان سات سیاروں ہی سے واقف
تھا اس لئے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے راستے نہیں ہیں۔
[14] یعنی ہم نے ہر چیز پورے انتظام اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ایک تشریحی نکتہ :
(ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟
یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔
قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس…
Read the full tafseer →(19) پھر اسی پانی سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے ان باغوں میں تمہارے لئے بکثرت تازہ میوے بھی ہیں اور ان میں سے بعض کو تم خشک کرکے کھاتے بھی ہو یعنی پانی برسانے اور اس کا ذخیرہ رکھنے کے بعد نباتات کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ کھجوروں اور انگوروں کے باغ اس پانی سے لہلہاتے ہیں بکثرت پھل پیدا ہوتے ہیں جو کھانا کھانے کے بعد بطور تفکہ بھی استعمال ہوتے ہیں اور خشک کرکے رکھ لو تو کھانے کی بجائے بھی کھائے جاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔
Read the full tafseer →تمہارے باغات کا پیدا کرنے والا اور ان پر پھل لگانے والا بھی وہی ہے :
19۔ اچھا بتاؤ کہ اس پانی کو کس نے بنایا اور پھر کس نے اس کو بادلوں سے نازل کیا ؟ اب تو تم کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے تو اب اچھی طرح سمجھ لو کہ اس پانی سے اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے کھجوروں اور دوسرے سارے پھل دار درختوں ‘ انگوروں اور ساری پھل دار بیلوں کو پیدا کیا ہے اور انہی پھلوں میں سے ایسے پھل بھی ہیں جو تم کچے توڑ کر بطور سالن پکا کر کھاتے ہو اور ایسے بھی ہیں جو بغیر پکائے کچے ہی کھا جاتے ہو اور پھر ایسے بھی ہیں جو درختوں پہ تیار ہوجانے کے بعد تم اتارتے ہو اور طرح طرح کے ان…
Read the full tafseer →The Qur'an then goes on to say that it is from an assured and regular supply of water only that Allah created fruit gardens which produce dates and grapes and many other kinds of fruits. People eat these fruit for their taste and flavour and also preserve some of them for future use as articles of food as is evident from the sentence وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ (And of them you eat -, 23:19). Then special mention is made of olives and the oil extracted from it because it has many uses and offers many benefits. And since the Mount Sinai produces an abundant crop of olives therefore a reference has…
Read the full tafseer →19. That is, other kinds of fruits than dates and grapes.
20. That is, you sustain yourselves by the produce that you get from these gardens in the shape of fruit, corn, wood, etc.
Read the full tafseer →