Explained with ayahs 18–22
آسمان سے نزول بارش
اللہ تعالیٰ کی یوں تو بیشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت و ضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہوجائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 17
اس سے مراد اگرچہ موسمی بارش بھی ہو سکتی ہے، لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے ایک دوسرا مطلب بھی سمجھ میں آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ آغاز آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اتنی مقدار میں زمین پر پانی نازل فرما دیا تھا جو قیامت تک اس کرے کی ضروریات کے لیے اس کے علم میں کافی تھا۔ وہ پانی زمین ہی کے نشیبی حصوں میں ٹھہر گیا جس سے سمندر اور بحیرے وجود میں آئے اور آپ زیر زمین (Sub-soil water) پیدا ہوا اب یہ اسی پانی کا الٹ پھیر ہے جو گرمی، سردی اور ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا رہتا ہے، اسی کو بارشیں، برف پوش پہاڑ، دریا، چشمے اور کنوئیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلاتے رہتے ہیں، اور وہی…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ ڰ وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ
انسانوں کو آب رسانی کا قدرتی عجیب و غریب نظام
اس آیت میں آسمان سے پانی برسانے کے ذکر کے ساتھ ایک قید بقدر کی بڑھا کر اس طرف اشارہ کردیا کہ انسان ایسا ضعیف الخلقت ہے کہ جو چیزیں اس کے لئے مدار زندگی ہیں اگر وہ مقدار مقدر سے زائد ہوجاویں تو وہی اس کیلئے وبال جان اور عذاب بن جاتی ہیں۔ پانی جیسی چیز جس کے بغیر کوئی انسان و حیوان زندہ نہیں رہ سکتا اگر ضرورت سے زیادہ برس جائے تو طوفان آجاتا ہے اور انسان اور اس کے سامان کے لئے وبال و عذاب بن جاتا ہے۔ اس لئے آسمان سے پانی برسانا بھی…
Read the full tafseer →پانی ہی سے تمام زمین کی زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرماتا ہے اور یہ اس کی رحمت و برادیت ہی ہے کہ وہ اس کو ایک خاص اندازہ اور مقدار کے ساتھ اتارتا ہے ورنہ اگر وہ اس کے دہانے ایک مرتبہ کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے پر قادر نہیں اور یہی پانی رحمت و برکت ہونے کے بجائے طوفان نوح کی طرف عذاب و نقمت بن جائے۔ پھر یہ اس کی رحمت و ربوبیت ہی ہے کہ وہ اس پانی کو زمین میں ٹکا دیتا ہے، جو ایک ذخیرے اور محفوظ خزانے کی طرح تمام مخلوقات کے کام آتا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو وہ اس سارے پانی کو غائب کردیتا۔ اس کی ایک بوند بھی اس زمین میں نہ ٹک سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی ارادہ ہے جو آسمانوں اور زمین…
Read the full tafseer →18-1یعنی نہ زیادہ کہ جس سے تباہی پھیل جائے اور نہ اتنا کم کہ پیداوار اور دیگر ضروریات کے لئے کافی نہ ہو۔
18-2یعنی یہ انتطام بھی کیا کہ سارا پانی برس کر فوراً بہہ نہ جائے اور ختم نہ ہوجائے بلکہ ہم نے چشموں، نہروں، دریاؤں اور تالابوں اور کنوؤں کی شکل میں اسے محفوظ بھی کیا، تاکہ ان ایام میں جب بارشیں نہ ہوں، یا ایسے علاقے میں جہاں بارش کم ہوتی ہے اور پانی کی ضرورت زیادہ ہے، ان سے پانی حاصل کرلیا جائے۔
18-3یعنی جس طرح ہم اپنے فضل و کرم سے پانی کا ایسا وسیع انتظام کیا ہے، وہیں ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ تمہارے لئے پانی کا حصول ناممکن ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
12: یعنی اگر آسمان سے پانی برسا کر تمہیں ذمہ داری دی جاتی کہ تم خود اس کا ذخیرہ کرو، تو یہ تمہارے بس میں نہیں تھا۔ ہم نے یہ پانی پہاڑوں پر برسا کر اسے برف کی شکل میں جما دیا، جو رفتہ رفتہ پگھل کر دریاؤں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور اس کی جڑیں زمین بھر میں پھیلی ہوئی ہیں، جن سے کنویں بنتے ہیں، اور اس طرح زمین کی تہ میں وہ پانی محفوظ رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22)
سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق…
Read the full tafseer →8 نہ اس قدر زیادہ کہ دنیا بےوقت اور بےموقع تباہ ہوجائے۔ اور نہ اتنا کم کہ ضروریات کو کافی نہ ہو۔
9 یعنی بارش کا پانی زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے جس کو ہم کنواں وغیرہ کھود کر نکالتے ہیں۔
10 یعنی نہ اتارنا چاہیں تو نہ اتاریں اور اتارنے کے بعد تم کو اس سے منتفع ہونے کی دسترس نہ دیں مثلاً اس قدر گہرا کردیں کہ تم نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکو، یا خشک کر کے ہوا میں اڑا دیں، یا کھاری اور کڑوا کردیں، تو ہم سب کچھ کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 18 وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًم بِقَدَرٍ ”
زمین پر پانی اسی مقدار میں رکھا گیا ہے جس قدر واقعتا یہاں اس کی ضروت ہے۔ اگر اس مقدار سے پانی زیادہ ہوجائے تو روئے زمین سیلاب میں ڈوب جائے اور پوری نوع انسانی اس میں غرق ہوجائے۔ اور اگر اس مقدار سے کم ہو تو زمین پر زندگی کا وجود ہی ممکن نہ رہے۔
فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِ ق وَاِنَّا عَلٰی ذَہَابٍمبِہٖ لَقٰدِرُوْنَ ”
اگر ہم چاہیں تو روئے ارضی سے پانی کا وجود ختم کردیں اور یوں دنیا میں زندگی کی بنیاد ہی ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →20 سوال یہ ہے کہ یہ ایک خاص مقدار میں پانی اللہ تعالیٰ نے کب اتارا تھا ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس وقت ہی ایک خاص اور کثیر مقدار میں پانی اتار دیا تھا۔ اتنا کثیر مقادر میں جو قیامت تک زمین پر پیدا ہونے والی مخلوق، خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو، کی ضروریات کے لئے کافی ہو۔ اس کثیر مقدار کے ایک کثیر حصہ نے زمین کی تین چوتھائی سطح کو سمندروں کی شکل میں تدیل کر رکھا ہے۔ پھر اس کثیر مقدار کا کثیر حصہ زمین کی سطح کے نیچے چلا گیا جیسے زمین کے نیچے بھی پانی کے دریا بہہ رہے ہیں اور سطح زمین کا کثیر حصہ ایسا ہے کہ جہاں سے کھودیں نیچے سے پانی نکل آتا ہے۔ جو انسان…
Read the full tafseer →15۔ ان سب افعال تکوینی کی خالق تنہا وہی ذات واحد ہے۔ اندر دیوتا یا کوئی اور دیوی دیوتا اس کے شریک نہیں۔ (آیت) ” بقدر “ یعنی مقدار معین ومناسب میں اور وقت مناسب پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 22
ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…
Read the full tafseer →وانزلنا من السمآء مآء بقدر فاسکنہ فی الارض وانا علی ذہاب بہ لقدرون۔
اور ہم نے (مناسب) مقدار میں اوپر سے پانی برسایا پھر اس کو زمین میں ٹھہرایا اور اس کو (بالکل) معدوم کردینے پر بھی بلاشبہ قدرت رکھنے والے ہیں۔
پانی سے مراد بارش کا پانی۔ بِقَدَرٍیعنی مناسب مقدار کے ساتھ جتنا تقاضائے مصلحت تھا۔ زمین میں ٹھہرانے کا مطلب بعض اہل علم نے یہ بیان کیا کہ تالابوں اور حوضوں اور گڑھوں میں ہم نے پانی کو جمع کردیا تاکہ بارش نہ ہو تو لوگ اس سے کام چلائیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ اس سے زمین کا پانی پینامراد ہے پانی کو زمین چوس لیتی ہے۔ زمین کے مسامات میں پانی گھس جاتا ہے پھر اس سے چشمے اور سوت پھوٹ نکلتے…
Read the full tafseer →(18) اور ہم نے معاشی ضرورت کے مطابق بارش برسائی یا یہ کہ اتنا پانی برسایا جو تمہاری کفایت کرجائے اور پھر ہم نے اس پانی کو زمین میں داخل کردیا اور اس پانی سے ہم نے چشمے، جھیلیں، تالاب اور نہریں بنائیں اور پانی کو زمین میں سے بالکل خشک کردینے پر بھی قادر ہیں۔
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ : آسمان کی پیدائش کے بعد اپنی مزید نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پانی بذات خود بہت بڑی نعمت ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ) [ الأنبیاء : 30 ] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اس آیت میں پانی اتارنے کی عظیم نعمت کے ذکر کے بعد اس کے متعلق تین باتیں فرمائیں، چناچہ فرمایا کہ ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، جس سے انسان، حیوان، کھیت اور درخت سیراب ہو سکیں۔ میدانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں زندگی باقی رہ سکے اور سمندروں اور ندی نالوں کی ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ اگر اس مخصوص مقدار سے زیادہ بارش برستی تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 18
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر جو نعمتیں فرمائیں اور جو ان پر احسانات فرمائے ان میں سے ایک یہ آیت بھی ہے اس کے احسانات میں سے بڑا احسان پانی ہے جو انسانی بدن کی زندگی اور حیوان کی نمو کا باعث ہے۔ آسمان سے نازل ہونے والے پانی کی دو قسمیں ہیں۔ یہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا اور جس کے بارے خبر دی کہ اسے اس نے زمین کے اندر رکھا ہے اور اسے انسانوں کے پینے کے لئے خزانہ کیا ہے جس کو لوگ ضرورت کے وقت حاصل کرتے ہیں اور وہ نہروں، چشموں اور کنوئوں کا پانی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ یہاں چار پانیوں کا ارادہ فرمایا ہے۔ سیحان، جیحان، نیل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
1۔ ابن مردویہ والخطیب نے بسند ضعیف ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جنت میں سے پانچ نہریں اتاریں ایک سیحون ہے جو ہندوستان کی نہر ہے اور جیحوں ہے جو بلخ کی نہر ہے۔ دجلہ اور فرات عراق کی نہریں ہیں اور نیل مصر کی نہر ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ جاری کیا جنت کے درجات میں سے سب سے نچلے درجے میں سے جبرئیل کے پروں پر تارا جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو پہاڑوں کے سپرد کردیا اور ان کو زمین میں جاری کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو لوگوں کی زندگیوں کے لیے نفع دینے والی چیز بنادیا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکنہ…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَا [ اور ہم نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءًۢ [ کچھ پانی ] بِقَدَرٍ [ ایک اندازے سے ] فَاَسْكَنّٰهُ [ پھر ہم نے ٹھہرایا اس کو ] فِي الْاَرْضِ ڰ [ زمین میں ] وَ [ حالانکہ ] اِنَّا [ بیشک ہم ] عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ [ اس کو لے جانے پر ] لَقٰدِرُوْنَ [ یقینا قدرت رکھنے والے ہیں ]
نوٹ ۔ 2: آسمان سے پانی اتارنے سے مراد اگرچہ موسمی بارش بھی ہوسکتی ہے لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے ایک دوسرا مطلب بھی سمجھ میں آتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ آغاز آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اتنی مقدار میں پانی زمین پر نازل فرما دیا تھا جو قیامت تک اس کرہ ارض کی ضروریات کے لئے اس کے علم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آسمانوں کی تخلیق، خاص مقدار کے موافق بارش ہونا اور اس کے ذریعہ باغیچوں میں پیداوار ہونا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے آسمانوں کو پیدا فرمانے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعہ درخت اگانے کا تذکرہ فرمایا یہ سب انسانوں کے لیے بڑی نعمتیں ہیں۔
اول یوں فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر (سَبْعَ طَرَاءِقَ ) سات راستے بنائے ہیں مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے سات آسمان مراد ہیں ان کو سبع طرائق یا تو اس لیے فرمایا ہے کہ سات آسمان اوپر نیچے بنائے ہیں اور یا اس اعتبار سے سبع طرائق فرمایا کہ ان میں فرشتوں کے آنے جانے کے راستے ہیں مزید فرمایا (وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِیْنَ ) (اور ہم مخلوق سے غافل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–30
ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…
Read the full tafseer →17:۔ ” وَاَنْزَلْنَا الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے یعنی ہم پورے اندازے سے بارش برساتے ہیں جس سے زمین میں غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ” فَاَسْکَنّٰهُ فِیْ الْاَرْضِ “ ضرورت سے زائد پانی کو ہم زمین میں جذب کر کے یا وادیوں میں جمع کر کے محفوظ کردیتے ہیں جسے چشموں اور ندیوں کی صورت میں بہاتے ہیں یا تم کنوئیں اور نہریں کھود کر اسے حاصل کرتے اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔ ھذا الذی ذکر اللہ سبحانہ وتعالی واخبر بانہ استودعہ فی الارض و جعلہ مخزونا لسقی الناس یجدونہ عند الحاجۃ الیہ ھو ماء الانھار والعیون وما یستخرج من الابار (قرطبی ج 12 ص 112) ۔ ” وَ اِنَّا عَلے ٰ ذَھَابٍ الخ “ یہ ایک قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے درس توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کے کچھ نمونے بیان فرمائے ہیں۔ پہلے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کیا اور پھر انتہائے عمر تک کے حالات بیان کیے۔ درمیان میں اپنی کبریائی کا ذکر بھی کیا فتبرک اللہ احسن الخالقین یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی برکتوں والی اور بہترین خالق ہے وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
اس زندگی کے بعد اللہ نے انسان کی موت کا ذکر بھی کیا اور پھر قیامت کو دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہوئی۔ اللہ نے آسمان کے ساتھ طبقات کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی کہ اللہ کے فرشتے آسمانوں کے مختلف مقامات پرچلتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے راستے…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰہُ فِي الْاَرْضِ 0ۤ ۖ وَاِنَّا عَلٰي ذَہَابٍؚبِہٖ لَقٰدِرُوْنَ 18ۚ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ان میں غور کر کے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے اس کے بعد دلائلِ آفاق یعنی انسان سے جو باہر شواہد ہیں ان کو شروع کرتا ہے اور سب میں آسمان کا پہلے ذکر فرماتا ہے فقال ولقد خلقنا قوقکم سبع طرائق یعنی ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق جمع طریقہ۔ آسمانوں کو طرائق یا تو اس لیے کہا کہ یہ ملائکہ کے آنے جانے کے رستے ہیں یا سبع سیارہ کی چال کے رستے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو طرائق ان کے تطارق کی وجہ سے کہا ہو۔ جس کے معنی تہ بہ تہ یعنی اوپر تلے ہونے کے ہیں۔ یقال طارق الرجل فعلیہ اذا اطبق نعلاعلی نعلٍ و طارق بین الثوبین اذالبس ثوبافوق ثوبٍ ۔ یہ خلیل اور…
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً م بِقَدَرٍ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِصلے ق وَاِنَّا عَلٰی ذَھَابٍم بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ ۔ (المومنون : 18)
( اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا ایک اندازہ کے مطابق اور پھر ہم نے اس کو زمین میں ٹھہرادیا۔ اور یقینا ہم اسے لے جانے پر بھی پوری طرح قادر ہیں۔ )
اہتمامِ ربوبیت کی ایک مثال
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد بھی لیے جاسکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہم نے آغاز آفرینش میں آسمان سے پانی برسایا اور اس اندازے سے برسایا کہ زمین پر بسنے والی مخلوقات کے لیے قیامت تک کمی نہ آنے پائے۔ اللہ کا بےپایاں علم ہی جان سکتا تھا کہ قیامت تک زمین پر بسنے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو دوبارہ زندہ ہونے پر اس لیے بھی یقین کرنا چاہیے کہ جس خالق نے اوپر، نیچے سات آسمان بنائے اور انہیں بغیر سہارے کے کھڑا کر رکھا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرما کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے اس سے غافل نہیں ہیں اس فرمان میں آسمانوں کی بجائے ” طرائق “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے بارے میں اہل علم نے تین آراء کا اظہار فرمایا ہے۔ 1 ” سبع طرائق “ کا معنٰی ہے اوپر نیچے سات آسمان 2” سبع طرائق “ سے مراد سات قرأتیں ہیں۔ 3” سبع طرائق “ سے مراد آسمان کے وہ دروازے ہیں جن کے…
Read the full tafseer →18: وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا) یعنی بارش بِقَدَرٍ (ایک مقدار سے) ایک اندازے سے تاکہ اس کے ساتھ مضرت سے محفوظ رہیں۔ اور منفعت کو پالیں یا اتنی مقدار سے جتنی ان کی ضروریات کے مطابق ہم نے جانی۔ فَاَسْکَنّٰہُ فِی الْاَرْضِ (پس اس کو ہم نے زمین میں ٹھہرا دیا) جیسا دوسرے ارشاد میں فرمایا : فسل کہ ینابیع فی الارض ] الزمر : 21[ ایک اور قول یہ ہے ہم نے اس کو زمین میں قائم رکھا زمین کا تمام پانی بارش ہی کا ہے۔ پھر ان سے شکریہ کا اس انداز سے مطالبہ کیا۔ وَاِنَّا عَلٰی ذَھَابٍ بِہٖ لَقٰدِرُوْنَ (اور بیشک ہم اس کو معدوم کرنے پر قدرت رکھتے ہیں) یعنی جس طرح ہم…
Read the full tafseer →18۔ وانزلنا من السماء ماء بقدر، ، اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا اندازہ ہے کہ کتنی بارش ہماری معیشت کے لیے کافی ہے ۔ فاسکناہ فی الارض۔ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تالابوں اور حوضوں اور گڑھوں میں پانی کو جمع کردیاتا کہ بارش نہ ہوتولوگ اس سے کام چلاسکیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ زمین کا پانی پینامراد ہے۔ پانی کو زمین چوس لیتی ہے زمین کے مسامات میں پانی گھس جاتا ہے پھر اس سے چشمے اور سوت پھوٹ نکلتے ہیں زمین سے جتناپانی برآمد ہوتا ہے وہ آسمان سے برسا ہوا ہی ہوتا ہے۔
” واناعلی ذھاب لقادرون۔ یہاں تک کہ تم پیاسے ہلاک ہوجاتے اور تمہارے مویشی ہلاک ہوجاتے اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
18۔ 22:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب مرے ہوئے لوگوں کی مٹی سے ان کے جسم اسی طرح تیار ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ برس کی بیج سے کھیتی تیار ہوجاتی ہے ‘ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حشر کے دن ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جسم کے تیار ہوجانے میں ایسا ہی کام دے گا جیسے اب اناج کا بیج کھیتی کی تیاری میں کام دیتا ہے ‘ اس حدیث کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں اس تفسیر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قرآن میں حشر کے ذکر کے ساتھ مینہ کا ذکر جو آیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے ‘ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 )
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بےپایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولقد خلقنا فوقکم) ، ، اور بنائے ہم نے تمہارے اوپر ، ، یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر (سبع طرائق) ہم نے سات آسمان طبق برطبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد و دیعت کئے گئے۔
(وما کنا عن الخلق غفلین) ، ، اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ ، ، پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لئے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–59
نمازوں کی محافظت
قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…
Read the full tafseer →21 نعمت تخلیق کے بعد نعمت تربیت کا ذکر وبیان : سو اوپر کی آیات کریمات میں انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کے بیان کے بعد اب اس کے سامان معیشت و تربیت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ "۔ تاکہ اس سے مخلوق کی طرح طرح کی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے۔ اور اس اندازے اور مقدار سے کہ نہ تو پانی کا یہ جوہر حیات اتنا کم ہو کہ ان کی ضرورتوں کی تکمیل نہ ہو سکے اور نہ اتنا زیادہ کہ طوفان نوح بن کر ان کو غرق کر دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی مخلوق کی ضرورتوں کی تکمیل کا کس کس طرح انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں
تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں :
” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “
مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–22
سورة المؤمنون :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…
Read the full tafseer →4 ۔ اندازہ سے مراد وہ اندازہ ہے جو جانداروں، کھیتوں اور پھلوں وغیرہ کے لئے سازگار ہے نہ ان کی ضرورت سے زیادہ اور نہ کم اور پھر برساتی نالوں اور دریائوں کے اندر زرخیز مٹی بہ کر آجاتی ہے جو زراعت کے لئے مفید ہوتی ہے۔ (ابن کثیر) 5 ۔ مراد وہ پانی ہے جو تالابوں اور جوہڑوں کی شکل میں زمین کی سطح پر ٹھہر جاتا ہے اور اسے لوگ آبپاشی، اپنے پینے، جانوروں کو پلانے اور دیگر ضرورتوں کے لئے استعمال میں لاتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ (ابن کثیر) 6 ۔ بخارات بن کر اڑ جائے یا زمین میں جذب ہوجائے۔ جیسے دوسری آیت میں فرمایا : قل ارأیتم ان اصبح ماء کم غورا فمن یاتیکم بماء معین۔ کہہ…
Read the full tafseer →(23:18) فاسکنہ۔تعقیب کا ہے اسکنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ اسکان (افعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء ہے پھر ہم نے اس پانی کو ٹھہرا دیا (چشموں۔ جھیلوں۔ یا زیر زمین آبی ذخیروں کی شکل میں) ۔
ذھاب۔ ذھب یذھب کا مصدر سے۔ جانا۔ چلنا۔ چھوڑنا۔ علی ذھاب بہ۔ اس کو (اڑا) لے جانے پر۔ اس کو ختم کرنے پر یا ناپید کرنے پر۔ اس کو معدوم کرنے پر یعنی اس کو تمہاری دسترس سے باہر کردیں۔ مثلاً گہرا زمین میں چلاجائے کہ اس کو سطح تک لانا ناممکن ہوجائے یا اس کو بخارات کی صورت میں تمازت آفتاب سے اڑا ہی لے جائیں۔
قادرون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قدرت رکھنے والے۔ طاقت رکھنے والے۔ قابو پانے والے غالب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 :
فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برستا ہے نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عماروتوں کو نقصان پہنچ جاوے اور نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو، زمین ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گھٹلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہرجاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے پھر فرمایا یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر پانی سکھادیاجائے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[13] غالباً اس سے مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں۔ اور کیونکہ اس زمانے کا انسان سات سیاروں ہی سے واقف
تھا اس لئے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے راستے نہیں ہیں۔
[14] یعنی ہم نے ہر چیز پورے انتظام اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ایک تشریحی نکتہ :
(ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟
یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔
قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس…
Read the full tafseer →(18) اور ہم ہی نے ایک خاص اندازے اور مناسب مقدار کے ساتھ آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی کو زمین میں ٹھہرادیا اور بلاشبہ ہم اس پانی کے لے جانے اور معدوم کردینے پر بھی قادر ہیں۔ یعنی باوجود پانی کے خزانوں کے پھر بھی حسب ضرورت ایک اندازے سے برساتے ہیں پیچھے گزر چکا ہے۔
وان من شئی الاعندنا خزآئنہ وما ننزلہ الابقدر معلوم۔
یعنی ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے کے خزانے بھرے پڑے ہیں لیکن ہم ہر چیز کو ایک خاص اندازے کے ساتھ اتارتے ہیں۔ زمین میں ٹھہرانے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ زمین میں جذب ہوجاتا ہے کچھ دریا اور ندیاں بن کر بہتا رہتا ہے جو پورے سال انسانوں اور چوپایوں بلکہ تمام مخلوقات کو کام دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔
Read the full tafseer →ایک خاص اندازہ سے پانی کا نازل کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی ربوبیت پر دال ہے :
18۔ عالم آفاق کے دلائل کونیہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو آسمانوں یعنی بادلوں سے بارش کو برسانے والا ہے یہ گویا اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے جس پر ہرچیز کی زندگی کا انحصار ہے وہ انسانوں کی ضرورت کے مطابق بارش برساتا ہے جس سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور پینے کے لئے ہمارے تالابوں اور نشیب جگہوں میں پانی ٹھہر جاتا ہے اور ہم لوگ ہر وقت اس سے اپنی ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں یہ کنوئیں ‘ یہ ٹیوب ویل ‘ یہ دریا ‘ یہ چشمے جن سے ہم اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →The addition of the phrase بقدر (In due measure) shows how feeble and utterly powerless man is, because if the very things without which no life can exist exceed a certain limit, they become the cause of death and destruction. Water is a case in point without which no living thing - man or beast - can survive. Torrential rains coming down from the sky cause a deluge which becomes a source of misery for human beings. But Allah is kind and merciful and He sends rains which, while fulfilling man's needs, do not turn into flood except at those places where it is His will that they should be…
Read the full tafseer →17. The water may refer to the rainfall, which comes down every now and then. It may also refer to the great store of water which Allah sent down at the time of the creation of the earth to fulfill its various needs till the Last Day, and which still exists in the shape of seas, lakes, sub-soil water, etc. It is the same water which evaporates in summer and freezes in winter and is carried by winds from place to place and spread over the earth by rivers, springs and wells to cause the growth of multitudes of things, and then is again restored to the seas, lakes, etc. Neither has this store of…
Read the full tafseer →