Al-Muminoon 23:17

Al-Muminoon · from ayah 17

23:17

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىِٕقَ ۖۗ— وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ ۟وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ ۖ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَـلۡقِ غٰفِلِيۡنَ

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے۔ اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have created above you seven layered heavens, and never have We been of [Our] creation unaware.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:17

اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے۔ اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بر تہہ راستے پیدا کیے ہیں اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں بنائیں اور ہم خلق سے بے خبر نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر (کرّۂ اَرضی کے گرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں، اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اس کی حفاطت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم کبھی مخلوق سے غافل نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے تمہارے اوپر سات طبقے (آسمانوں کے) پیدا کئے ہیں اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تمہایر اوپر سات تہہ بہ تہہ آسمان بنائے اور ہم مخلوق سے بےپروا نہیں ہوئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے بنائے تمہارے اوپر اے لوگوں سات عظیم الشان راستے اور ہم غافل و بیخبر نہیں تھے اپنی مخلوق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق کے باب میں بیخبر نہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے ہیں اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یقینا ہم نے تمہارے اوپر کی جانب سات آسمان بنا دیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have indeed fashioned above you seven paths. Never were We unaware of the task of creation.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We created above you seven paths (heavens), and We were never neglectful of the creation.

— Muhammad Taqi Usmani

And We created above you seven paths (heavens), and We were never neglectful of the creation.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We have created above you seven Tara'iq, and We are never unaware of the creation.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have created above you seven paths, and We are never unmindful of creation.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have created above you seven layered heavens, and never have We been of [Our] creation unaware.

— Saheeh International

We have created seven heavens above you and have never been neglectful to Our Creation.

— Muhammad Sarwar

And certainly We made above you seven heavens; and never are We heedless of creation.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We created above you seven paths, and of the creation We have not been neglectful.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have made, above you, seven tracts; and We are never unmindful of (our) Creation.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

آسمان کی پیدائش مرحلہ وار انسان کی پیدائش کا ذکر کرکے آسمانوں کی پیدائش کا بیان ہو رہا ہے جن کی بناوٹ انسانی بناوٹ سے بہت بڑی بہت بھاری اور بہت بڑی صنعت والی ہے۔ سورة الم سجدہ میں بھی اسی کا بیان ہے جیسے حضور ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز کی اول رکعت میں پڑھا کرتے تھے وہاں پہلے آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر ہے پھر انسانی پیدائش کا بیان ہے پھر قیامت کا اور سزا جزا کا ذکر ہے وغیرہ۔ سات آسمانوں کے بنانے کا ذکر کیا ہے جسے فرمان ہے آیت (تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ 44؀) 17۔ الإسراء :44) ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان کی سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 15 اصل میں لفظ طرائق استعمال ہوا ہے جس کے معنی راستوں کے بھی ہیں اور طبقوں کے بھی۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو غالباً اس سے مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں، اور چونکہ اس زمانے کا انسان سبع سیارہ ہی سے واقف تھا، اس لیے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اس کے معنی بہرحال یہ نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ اور دوسرے راستے نہیں ہیں اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو سَبْعَ طَرَآئِقَ کا وہی مفہوم ہوگا جو سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقاً (سات آسمان طبق بر طبق) کا مفہوم ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ " تمہارے اوپر " ہم نے سات راستے بنائے، تو اس کا ایک تو سیدھا سادھا مطلب وہی ہے جو ظاہر الفاظ سے ذہن میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ ، طرائق، طریقة کی جمع ہے اس کو بمعنی طبقہ بھی لیا جاسکتا ہے جس کے معنے یہ ہوں گے کہ تہ بہ تہ سات آسمان تمہارے اوپر بنائے گئے اور طریقہ کے معنے مشہور راستہ کے ہیں۔ یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ سب آسمان فرشتوں کی گزرگاہیں ہیں جو احکام لے کر زمین پر آتے جاتے ہیں۔ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ اس میں یہ بتلایا کہ ہم نے انسان کو صرف پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا اور اس سے غافل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے نشو و نما اور رہائش و آسائش کے سامان بھی مہیا کئے جس کی ابتداء آسمانوں کی تخلیق سے ہوئی پھر آسمان سے بارش برسا کر انسان کے لئے غذا اور اس کی آسائش…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 16-15 یہ وہ اصل نتیجہ ہے جس کو سامنے لانے کے لئے اوپر کے تمام مراحل خلقت بیان ہوئے ہیں کہ ان مراحل سے گزرنے کے بعد لازماً ایک دن آتا ہے کہ تم مرتے ہو اور کسی کے لئے بھی اس موت سے مفر نہیں ہے۔ پھر قیامت کا دن آئے گا اور اس دن تم لازماً اٹھائے جائو گے۔ اس اٹھائے جانے کو مستبعد سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جس خدا کی یہ شانیں تم خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو اس کے لئے مت ہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے ! ولقد خلقنا فوتکم سبع طرآئق وما کا عن الخق غصلین (17) طرایق کا مفہوم طرایق طریقۃ کی جمع ہے طرایق اسرۃ یعنی دھاریوں کے معنی میں آتا ہے، یہاں صفت بول کر موصوف کو مراد لیا ہے جو عربی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17-1طرائق، طریقۃ کی جمع ہے مراد آسمان ہیں عرب، اوپر تلے چیز کو بھی کہتے ہیں آسمان بھی اوپر تلے ہیں اس لئے انھیں طرائق کہا۔ یا طریقہ بمعنی راستہ ہے، آسمان ملائکہ کے آنے جانے یا ستاروں کی گزرگاہ ہے، اس لئے انھیں طرائق قرار ریا۔ 17-2خَلَق سے مراد مخلوق ہے۔ یعنی آسمانوں کو پیدا کر کے ہم اپنی زمینی مخلوق سے غافل نہیں ہوگئے بلکہ ہم نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا ہے تاکہ مخلوق ہلاک نہ ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ مخلوق کی مصلحتوں اور ان کی ضروریات زندگی سے غافل نہیں ہوگئے بلکہ ہم اس کے انتظام کرتے ہیں (فتح القدیر) اور بعض نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ زمین سے جو کچھ نکلتا یا داخل ہوتا، اسی طرح آسمان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: یہاں آسمانوں کو تہہ بر تہہ راستوں سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے انہی آسمانوں سے آتے جاتے ہیں۔ اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ہماری مخلوق کی ضروریات کیا ہیں، اور ان کی مصلحت کا کیا تقاضا ہے، اس لیے ہماری تمام تخلیقات میں ان مصالح کی پوری رعایت ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–22

ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22) سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 " طرائق " کے معنی بعض مفسرین و لغویین کے نزدیک طبقات کے ہیں۔ یعنی آسمان کے ساتھ طبقے اوپر نیچے بنائے۔ فہذا کما قال " کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقاً " (نوح، رکوع 1 ' آیت 15) اور بعض نے طرائق کو راستوں کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی سات آسمان بنائے جو فرشتوں کی گزرگاہیں ہیں۔ بعض معاصر مصنفین نے " سبع طرائق " سے سات سیاروں کے مدارات مراد لیے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 7 ہر چیز پورے انتظام و احکام اور خبرداری سے بنائی ہے اور اس کی حفاظت وبقاء کے طریقوں سے ہم پورے باخبر ہیں۔ اجرام سماویہ اور مخلوقات سفلیہ میں کوئی چیز نہیں جو ہمارے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہو۔ ورنہ سارا انتظام ہی درہم برہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآءِقَق ” عام طور پر ”سَبْعَ طَرَآءِقَ“ سے سات آسمان مراد لیے جاتے ہیں۔ ”طرائق“ کے معنی راستوں کے بھی ہیں اور طبقوں کے بھی۔ دوسرے معنی کے مطابق اس سے ”تہہ بر تہہ سات آسمان“ مراد ہیں۔ واللہ اعلم ! جب تک انسانی علم کی رسائی اس کی حقیقت تک نہ ہوجائے ‘ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ دلیل بیان فرمائی جو انفس سے تعلق رکھتی ہے اور جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 14؀ۭ ) 23 ۔ المؤمنون :14) اب آفاق سے چند دلائل پیش کئے جارہے ہیں۔ مبلع طرائق سے بعض علماء نے سات آسمان یا سات طبقات مراد لئے ہیں۔ جیسے ارشاد باری ہے : (اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15؀ۙ ) 71 ۔ نوح :15) اور بعض نے ان سے مراد سات راستے ہی لئے ہیں۔ جو فرشتوں کی آسمانوں میں آمدورفت کے راستے ہیں۔ اور آسمان چونکہ سات ہیں۔ اس لئے یہ راستے بھی سات ہیں۔ اور بعض علماء نے ان سے سات سیاروں کے راستے یا مدار مراد لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ (کہ اناڑیوں کی طرح مخلوق کی ضرورتوں اور حکمتوں مصلحتوں کو نظر انداز کرجائیں) (آیت) ” طرآئق “۔ طریقۃ کے لفظی معنی راستہ کے ہیں۔ مجازا مراد یہاں آسمانوں سے لی گئی ہے۔ یعنی السموت السبع (ابن کثیر عن مجاہد) الطرائق السموت (ابن جریر عن ابن زید) اور بعض نے براہ راست ہی اس کے معنی آسمانوں کے لئے ہیں اور کہا ہے کہ جو چیز کسی چیز کے اوپر ہوتی ہے وہ بھی عربی میں میں طریقۃ ہی کہلاتی ہے۔ الطرائق السموت لانہ طوارق والعرب تسمی کل شیء فوق شیء طریقۃ (ابن جریر) یا آسمانوں کو طرائق سے یہاں اس لئے تعبیر کیا گیا کہ ان میں فرشتوں کی آمد ورفت اور ستاروں کی گردش کے لئے راہیں اور راستے ہیں۔ بعضھا فوق بعض (کشاف)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد خلقنا فوقکم سبع طرآئق و ما کنا عن الخلق غفلین۔ اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق (کی مصلحتوں) سے بیخبر نہ تھے۔ طَرَآءِقَسے مراد آسمان ہیں کیونکہ ہر اوپر والا آسمان نیچے والے پر چڑھا ہوا ہے اگر نچلی چیز بالائی چیز کی طرح ہو تو نچلی کو بالائی چیز کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ طرائق کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آسمانوں کے اندر فرشتوں یا سیاروں کے چلنے کی گزرگاہیں ہیں۔ اَلْخَلْقِسے مراد ہے ‘ مخلوق کوئی ہو۔ غٰفِلِیْنَیعنی ان کے معاملہ سے بیخبر ‘ ان کو یوں ہی بےکار چھوڑ دینے والے نہیں ہیں بلکہ اختلال اور نظام کی ابتری سے ان کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کی نگرانی رکھتے ہیں اور حسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے کہ ان میں سے ایک ایک کے اوپر ہے اور ہم مخلوق کی مصلحتوں سے بیخبر نہ تھے کہ بغیر کسی حکم اور نہی کے ان کو ویسے ہی چھوڑ دیتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ : اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی اپنی پیدائش کا ذکر فرمایا، جو غور کرنے والے کے لیے کافی تھی، مگر اس کے بعد اس سے بھی کہیں بڑی مخلوق آسمانوں اور زمین کا اور ان میں رکھی ہوئی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ قیامت کی دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ اکثر انسان کی پیدائش کے ذکر کے بعد آسمانوں اور زمین کی پیدائش کا ذکر فرماتا ہے اور اس سے پہلے یا بعد قیامت کا ذکر فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا 28؀ۙوَاَغْطَشَ لَيْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 17 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق ابو عبیدہ نے کہا : سبع طرائق سے مراد سات آسمان ہیں اس سے حکایت کیا گیا ہے کہ کہا جاتا ہے : طارقت الشیء کسی چیز کو دوسری چیز کے اوپر رکھنا۔ بعض نے کہا آسمانوں کے لئے راستے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ عرب ہر وہ چیز جو کسی چیز کے اوپر ہو اسے طریقہ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : وہ ملائکہ کے راستے ہیں۔ وما کنا عن الخلق غفلین۔ بعض علماء نے فرمایا اس کا مطلب ہے آسمان کی تخلیق سے غافل نہیں۔ اکثر مفسرین نے کہا : تمام مخلوق سے بیخبر نہیں کہ آسمان ان پر گر پڑیں اور انہیں ہلاک کردیں۔ میں کہتا ہوں : اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ مخلوق کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق سے سات آسمان مراد ہیں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) آیت ” وما کنا عن الخلق غفلین “ کے بارے میں فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کو غفلت کے باعث چھوڑدیتے تو ان لوگوں کے آثار (یعنی قدموں کے نشانات) کو چھوڑدیتے جن پر ہوائیں چلتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا [ اور بیشک ہم نے پیدا کئے ہیں ] فَوْقَكُمْ [ تم لوگوں کے اوپر ] سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ ڰ [ سات راستے ] وَمَا كُنَّا [ اور ہم نہیں ہیں ] عَنِ الْخَلْقِ [ مخلوق سے ] غٰفِلِيْنَ [ غفلت برتنے والے ] نوٹ ۔ 1: سات راستوں سے غالبا مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں اور چونکہ اس زمانے میں انسان سبع سیارہ سے ہی واقف تھا ، اس لئے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا ، اس کے معنی بہر حال یہ نہیں ہیں کہ اس کے علاوہ اور دوسرے راستے نہیں ہیں ۔ اور مخلوق سے غافل نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی مخلوق کی کسی حاجت سے اور کسی کی حالت سے ہم کبھی بیخبر نہیں رہے کسی چیز کو ہم نے اپنے منصوبے کے خلاف بننے اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–19

آسمانوں کی تخلیق، خاص مقدار کے موافق بارش ہونا اور اس کے ذریعہ باغیچوں میں پیداوار ہونا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے آسمانوں کو پیدا فرمانے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعہ درخت اگانے کا تذکرہ فرمایا یہ سب انسانوں کے لیے بڑی نعمتیں ہیں۔ اول یوں فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر (سَبْعَ طَرَاءِقَ ) سات راستے بنائے ہیں مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان سے سات آسمان مراد ہیں ان کو سبع طرائق یا تو اس لیے فرمایا ہے کہ سات آسمان اوپر نیچے بنائے ہیں اور یا اس اعتبار سے سبع طرائق فرمایا کہ ان میں فرشتوں کے آنے جانے کے راستے ہیں مزید فرمایا (وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِیْنَ ) (اور ہم مخلوق سے غافل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ “ تا ” وَ صِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے پہلی دلیل میں انسان کی پیدائش کا ذکر دوسری اور تیسری دلیلوں میں انسان پر کیے گئے گوناگوں انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اس دلیل کے تین حصے ہیں پہلے حصے میں انسانوں کی پیدائش کا ذکر ہے دوسرے حصے میں آسمانوں سے بارش برسانے اور تیسرے حصے میں زمین انواع و اقسام رزق پیدا کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادر و متصرف، کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دوسری طرف یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تمام غلے، پھل اور میوے اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائے ہیں لہذا ان چیزوں سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–17

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں اور نوید سنائی ہے کہ جن لوگوں میں یہ اوصاف پائے جائیں گے ان کو کامیابی نصیب ہوگی اور وہ آخرت میں جنت الفردوس کے مالک بن جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسئلہ تخلیق انسانی بیان فرمایا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کن کن مراحل کے بعد کی۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان اپنی طبعی عمر پوری کرکے فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے گا اور پھر حساب کی منزل آئیگی اور جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ انسان کی اولین تخلیق مٹی سے : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ۝ 0ۤۖ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ۝ 17 فوق فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة، وذلک أضرب : الأول : باعتبار العلوّ. نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] ، مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] ، وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] ، ويقابله تحت . قال : قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] الثاني : باعتبار الصّعود والحدور . نحو قوله :إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–21

ان میں غور کر کے فی الفور کہہ سکتا ہے کہ وہ قادر باکمال ضرور مرنے کے بعد باردگر زندہ کرسکتا ہے اس کے بعد دلائلِ آفاق یعنی انسان سے جو باہر شواہد ہیں ان کو شروع کرتا ہے اور سب میں آسمان کا پہلے ذکر فرماتا ہے فقال ولقد خلقنا قوقکم سبع طرائق یعنی ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے طرائق جمع طریقہ۔ آسمانوں کو طرائق یا تو اس لیے کہا کہ یہ ملائکہ کے آنے جانے کے رستے ہیں یا سبع سیارہ کی چال کے رستے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو طرائق ان کے تطارق کی وجہ سے کہا ہو۔ جس کے معنی تہ بہ تہ یعنی اوپر تلے ہونے کے ہیں۔ یقال طارق الرجل فعلیہ اذا اطبق نعلاعلی نعلٍ و طارق بین الثوبین اذالبس ثوبافوق ثوبٍ ۔ یہ خلیل اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ صلے ق وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ ۔ (المومنون : 17) (اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بہ تہہ آسمان بنائے اور ہم اپنی مخلوق کی مصلحتوں سے بیخبر نہ تھے۔ ) انسان کے آغاز اور اس کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب یہاں سے اللہ تعالیٰ اپنے اس نظام ربوبیت کا ذکر فرمارہا ہے جس سے انسان کی بقا وابستہ ہے۔ اس میں انسانوں پر کیے جانے والے احسانات کا ذکر بھی ہے اور اس کی قدرت کا اظہار بھی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتے ہوئے یہ بات محض حماقت معلوم ہوتی ہے کہ جو پروردگار مٹی کے ست اور پانی کی ایک بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرسکتا ہے جس کے کمالات نے زمین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–19

فہم القرآن ربط کلام : انسان کو دوبارہ زندہ ہونے پر اس لیے بھی یقین کرنا چاہیے کہ جس خالق نے اوپر، نیچے سات آسمان بنائے اور انہیں بغیر سہارے کے کھڑا کر رکھا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرما کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے اس سے غافل نہیں ہیں اس فرمان میں آسمانوں کی بجائے ” طرائق “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے بارے میں اہل علم نے تین آراء کا اظہار فرمایا ہے۔ 1 ” سبع طرائق “ کا معنٰی ہے اوپر نیچے سات آسمان 2” سبع طرائق “ سے مراد سات قرأتیں ہیں۔ 3” سبع طرائق “ سے مراد آسمان کے وہ دروازے ہیں جن کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آسمانی مہد کے تخلیقی نمونے : 17: وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ (یقینا ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنا دیئے) طرائق جمع طریقۃ کی ہے اور مراد اس سے آسمان ہیں کیونکہ وہ ملائکہ کے راستے ہیں اور ان کے آنے جانے کی جگہیں ہیں۔ وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ (اور ہم مخلوق سے بیخبر نہ تھے) خلق سے السٰمٰوت مراد ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا : خلقنا ھا فوقھم۔ ہم نے ان کو اوپر بنایا اور ہم ان سے بیخبر اور ان کی حفاظت سے غافل نہیں۔ نمبر 2۔ الخلق سے لوگ مراد ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان آسمانوں کو انسانوں کے اوپر اس لئے بنایا ہے تاکہ ان پر ارزاق و برکات کھول دیے جائیں اور اللہ تعالیٰ نہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 17۔ ولقدخلقنا فوقکم سبع طرائق۔ اس سے مراد سات آسمان ہیں کیونکہ ہر اوپر والاآسمان نیچے والے پرچڑھا ہوا ہے کہ نچلی بالائی چیز کی طرح ہوتونچلی کو بالائی چیز کا طریقہ کہاجاتا ہے۔ اس سے طارق النعل ہے کہ جب کوئی دوسرے کے نشان قدم پر چلتا اور بعض نے کہا کہ طرائق کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آسمانوں کے اندر فرشتوں یاسیاروں کے گزرگاہیں ہیں۔ وماکنا عن الخلق غافلین۔ ہم ان کے ذریعے سے تمہاری حفاظت کرنے والے ہیں کہ وہ تم پر گریں گے نہیں کہ تم اس سے ہلاک ہوجاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہ۔ بعض نے کہا کہ ہم نے آپ کو بےکار نہیں چھوڑا بغیرامرونہی کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–17

12۔ 17:۔ ابوداود، ترمذی کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت جس روایت کو ابن حبان نے صحیح بتلایا 2 ؎ ہے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی ساری زمین سے ہر طرح کی اچھی بری ‘ سخت نرم سب سے لی تھی ‘ اسی تاثیر سے مختلف مزاج مختلف عادت کے انسان اولاد آدم میں پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوں گے ‘ غرض اب دیکھنے میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس کی پیدائش میں مٹی کا اثر بھی ہے جو حضرت آدم سے لے کر قیامت تک سلسلہ بہ سلسلہ چلا آتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی پیدائش کی اصل مٹی اور منی دونوں چیزیں فرمائی ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند بزار ‘ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–20

آیت 17 ) اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بےپایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولقد خلقنا فوقکم) ، ، اور بنائے ہم نے تمہارے اوپر ، ، یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر (سبع طرائق) ہم نے سات آسمان طبق برطبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد و دیعت کئے گئے۔ (وما کنا عن الخلق غفلین) ، ، اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ ، ، پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لئے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

18 بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر تم سب کو قیامت کے روز یقینا اٹھایا جائے گا "۔ تاکہ تم اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو جو قادر مطلق تمہیں عدم محض سے اس طرح وجود میں لے آیا اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو مستعد سمجھتے ہیں وہ بڑے ہی دھوکے اور خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ قدرت کی کارستانی کے یہ مختلف مراحل اس کے سامنے ہیں اور خود ان کی اپنی زندگیوں کے اندر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–22

اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں : ” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ آسمانوں کو راستے اس لئے کہا گیا کہ وہ فرشتوں یا سیاروں کی گزرگاہیں ہیں۔ بعض مفسرین (رح) نے طرائق کے معنی طبقات بھی کئے ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ” سبع سمت طباقا “ فرمایا ہے۔ (ملک :3) 3 ۔ یعنی اپنی کسی جاندار یا بےجان مخلوق کی حفاظت اور اس کی ضرورتوں سے بیخبر نہیں ہیں۔ یہی معنی ” الحی القیوم “ کے ہیں (قرطبی) ان سات آسمانوں کو زمین پر گرنے سے سنبھالے ہوئے ہیں ورنہ اگر یہ گرجائیں تو زمین پر بسنے والے سب ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:17) طرائق۔ طریقۃ کی جمع ہے راہیں۔ طریقے۔ یہاں مراد آسمان ہیں آسمانوں کو طریق سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ ان میں فرشتوں کی آمدورفت کے لئے اور ستاروں کی گردش کے لئے راہیں اور راستے ہیں۔ طرائق بمعنی آسمان اس لئے لیا گیا ہے کہ عربی میں جب ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر رکھتے ہیں تو کہتے ہیں طارقت الشیء میں نے چیزوں کو ایک دوسری کے اوپر رکھا۔ چونکہ آسمان بھی ایک دوسرے کے اوپر ہیں اس لئے انہیں بھی طرائق بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 : فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–17

انسان کی پیدائش کی کیفیت۔ دنیا کو پیدا کرنے کا نتیجہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے جوہر کو پانی یعنی نطفہ بنا کر ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام پر یعنی رحم میں رکھا، پھر ہم نے اس نطفہ کو جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا سابنایا، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچا بنایا، پھر ڈھانچے پر گوشت چڑھایا، رگیں پٹھے جوڑ وغیرہ سب بنائے اور پتلا تیار ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر، رزق، نیک وبد لکھنے کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کے موافق لکھ لیتا ہے پس کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–19

[13] غالباً اس سے مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں۔ اور کیونکہ اس زمانے کا انسان سات سیاروں ہی سے واقف تھا اس لئے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے راستے نہیں ہیں۔ [14] یعنی ہم نے ہر چیز پورے انتظام اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–19

ایک تشریحی نکتہ : (ف 1) ان آیات میں قرآن حکیم نے انسانی پیدائش اور اس کے مختلف مراحل کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کس حکمت و دانائی سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلعت وجود عطا فرما کر اس دنیائے عجائب میں بھیجا ہے اس روح وعقل کے مجرمجسمہ کا اٹھان اور درمیان کی حیرت نہ زار منزلیں کیا یہ سب کی سب چیزیں اللہ کی اعلی ترین قوت تخلیق پر دال نہیں ؟ یہاں لفظ علقہ : مگر قرآن حکیم نے جدید ترین جنسیاتی تشریح فرمائی ہے موجودہ حکماء کی رائے ہے کہ نطفہ میں زندگی کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہ جراثیم رحم میں پہنچ کر بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ جنس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ ہم اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور بلاشبہ ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے غافل اور بیخبر نہ تھے بعض مفسرین نے سبع طرائق سے اوپر تلے آسمان مراد لئے ہیں اور بعض نے راستے اور راہیں مراد لی ہیں شاید فرشتوں کے آنے جانے کے راستے مراد ہوں اور ہم مخلوق کی ضرورتوں سے غافل نہ تھے یعنی عالم علوی اور عالم سفلی خلق کی مصلحتوں کے لحاظ سے ترتیب دیئے گئے ہیں کوئی ایسی ضرورت جو انسان کو زندگی بسر کرنے کے لئے پیش آتی ہے ایسی نہیں ہے جس کی رعایت نہ رکھی گئی ہو۔ اسی کی آگے اور تفصیل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–19

ف 4۔ اس کے علاوہ طلبگار ہو اس میں زنا و لواطت و وطی بہائم و عاریت جواری اجماعا اور بعض کے نزدیک استمنا بالید بھی داخل ہے۔ اور اگر یہ آیت مدنی ہو تو حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

طرائق کا مفہوم اور آسمان کی رنگا رنگی وبو قلمونی کی طرف اشارہ : 17۔ انسان اگر ذرا غوروفکر سے کام لے تو وہ جان سکتا ہے کہ حقیقت کے دلائل و شواہد اسے تین راہوں سے گھیرے ہوئے ہیں خود اس کی ہستی کا ہر گوشہ سر تا سر دلیل حقیقت ہے اور یہ قرآن کریم کی اصطلاح میں ” عالم انفس “ کا ہے اس سے باہر جو کچھ ہے وہ بھی حقیقت کا پیام ہے یہ ” عالم آفاق “ ہے پھر عالم آفاق کے دلائل کی بھی دو قسمیں ہوئیں ۔ کائنات ہستی کی خلقت وقوانین کے مظاہر یہ آیات کونیہ ہیں۔ اقوام ماضیہ کے احوال وتجارب یہ براہین علمیہ ہیں ، قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ ان تمام اقسام سے استدلال کرتا اور ایک قسم کے دلائل کے بعد دوسری قسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَ‌ائِقَ And We created upon you seven paths (heavens) - 23:17 طَرَ‌ائِقَ is the plural of طَرِیقَۃ which may also be used as a synonym for طَبقَہ (tier) in which case the meaning would be that Allah created seven skies overhead row upon row in tiers. The other and more common meaning of the word طَرِیقَۃ is "road" or "passage" in which case the verse would mean that these skies provide a path for the angels who bring commands from Allah to the earth. وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ (And We were never neglectful of the creation - 23:17). The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15. The original Arabic word taraiq has more than one meaning. It may refer to the paths of the seven planets, with which the man of the time of the revelation of the Quran was familiar, or to the seven heavens. It should be noted that this word has not been used as a modern scientific term, but as a common word according to the Arabic usage of the period in order to invite the people’s attention to the wonders of the heavens, whose creation is certainly a greater thing than the creation of men. (Surah Al-Hijr, Ayat 57). 16. This may also be translated as: We were not nor are heedless of Our…

Read the full tafseer →