Al-Muminoon 23:22

Al-Muminoon · from ayah 22

23:22

وَعَلَیْهَا وَعَلَی الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ ۟۠وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡـفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And upon them and on ships you are carried.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:22

اُن کو تم کھاتے ہو اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہی پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار بھی کیا جاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان پر اور کشتی پر سوار کیے جاتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار (بھی) کئے جاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھی پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ان پر کشتیوں پر سوار بھی ہوا کرتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان پر اور کشتیوں پر سواری بھی کرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان پر اور ان کشتیوں پر تم لوگ لدے پھرتے بھی ہوف

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان پر اور کشتی پر سوار پھرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان (چوپایوں) پر اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and are carried on them and also on ships.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and on them and on the boats you are transported.

— Muhammad Taqi Usmani

and on them and on the boats you are transported.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on them, and on ships you are carried.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And on them and on the ship ye are carried.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And upon them and on ships you are carried.

— Saheeh International

You are carried by the animals on land and by the ships in the sea.

— Muhammad Sarwar

And on them and on the ships you are borne.

— Muhammad Habib Shakir

And on them and on the ship ye are borne.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 23:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–22

آسمان سے نزول بارش اللہ تعالیٰ کی یوں تو بیشمار اور ان گنت نعمتیں ہیں۔ لیکن چند بڑی بڑی نعمتوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آسمان سے بقدر حاجت و ضرورت بارش برساتا ہے۔ نہ تو بہت زیادہ کہ زمین خراب ہوجائے اور پیداوار گل سڑ جائے۔ نہ بہت کم کہ پھل اناج وغیرہ پیدا ہی نہ ہو۔ بلکہ اس اندازے سے کہ کھیتی سرسبز رہے، باغات ہرے بھرے رہیں۔ حوض، تالاب، نہریں ندیاں، نالے، دریا بہہ نکلیں نہ پینے کی کمی ہو نہ پلانے کی۔ یہاں تک کہ جس جگہ زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہوتی ہے کم ہوتی ہے اور جہاں کی زمین اس قابل ہی نہیں ہوتی وہاں پانی نہیں برستا لیکن ندیوں اور نالوں کے ذریعہ وہاں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 23 مویشیوں اور کشتیوں کا ایک ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اونٹ استعمال کرتے تھے، اور اونٹوں کے لیے " خشکی کے جہاز " کا استعارہ بہت پرانا ہے۔ جاہلیت کا شاعر ذوالرُّمَّہ کہتا ہے ؏ سفینۃ برٍّ تحت خدی زمامھا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ ، فلک یعنی کشتیوں ہی کے حکم میں وہ تمام سواریاں بھی ہیں جو پہیوں کے ذریعہ چلنے والی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وعلیھا وعلی الفلک تحملون 22 تحملون کے اندر سواری اور باربرداری دونوں چیزیں شامل ہیں اور اہل عرب کی زندگی چونکہ عام طور پر خانہ بدو کی تھی، موسموں کے ساتھ برابر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے اس وجہ سے ان کے لئے یہ دونوں ہی مسئلے بڑی اہمیت رکھنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ضرورت کے لئے اونٹ پیدا کیا جو ان کے صحرا کا سفینہ ہے۔ چناچہ اس کا ذکر اور کشتی کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا کہ ہم نے تمہارے صحرا کے لئے بھی کشتی کا انتظام کیا اور سمندر کے لئے بھی۔ اصل حقیقت کی طرف اشارہ یہاں اصل حقیقت پر نگاہ رہے کہ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے درس عبرت ہے کہ کیا جس رب نے ہماری ایک ایک ضرورت کا اس جز رسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–23

22-1یعنی رب کی ان نعمتوں سے تم فیض یاب ہوتے ہو، کیا وہ اس لائق کہ تم اس کا شکر ادا کرو اور صرف اسی ایک کی عبادت اور اطاعت کرو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–26

13: اس سے مراد زیتون کا درخت ہے جو طور سینا کے علاقے میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔ اس سے جو تیل نکلتا ہے، اس سے روغن کا کام بھی لیا جاتا ہے، اور عرب میں اسے روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس درخت کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے فوائد بہت ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–22

ولقد تحملون (آیت نمبر 17 تا 22) سیاق کلام ان دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان تمام دلائل کو باہم مربوط کرتا ہے کہ یہ تمام دلائل قدرت الہیہ کے نشانات ہیں۔ پھر یہ سب نشانات یہ بھی دکھاتے ہیں کہ اس کائنات کو کس شان اور تدبیر کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ قدرت کے یہ تمام مظاہر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان نشا نات کے کام اور فرائض منصبی بھی باہم مربوط ہیں اور جس سمت کی یہ نشاہدہی کرتے ہیں وہ بھی ایک ہے یعنی ایک خالق۔ سب کے سب ایک ہی ناموس فطرت کے مطیع ہیں ، اپنے فرائض تکوینی میں باہم متعاون ہیں اور ان کی خدمات سب کی سب اس حضرت انسان کے لیے ہیں جسے اللہ نے معزز اور مکرم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تخلیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور دریا میں جہازوں اور کشتیوں پر سوار ہو کر کہیں سے کہیں نکل جاتے ہو اور بڑے بڑے وزنی سامان ان پر بار کرتے ہو۔ کشتی کی مناسبت سے آگے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے کشتی بنوائی جو طوفان عظیم کے وقت مومنین کی نجات کا ذریعہ بنی۔ پھر نوح (علیہ السلام) کی مناسبت سے بعض دوسرے انبیاء کے واقعات بھی ذکر فرما دیئے۔ شاید یہاں ان قصص کے بیان میں یہ بھی اشارہ ہوگا کہ جس طرح اوپر کی آیات میں تمہاری جسمانی ضروریات کا انتظام مذکور تھا اسی طرح خداوند رحمان نے تمہاری روحانی حوائج و ضروریات کا سرا نجام کرنے کے لیے ابتدائے دنیا سے وحی و…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22 وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ” چنانچہ ان سب چیزوں اور نعمتوں میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

24 چوپایوں میں عبرت یا حیران کن بات یہ ہے کہ گھاس پھوس کھانے والے اور چرنے والے مویشی (ماداؤں) کے جسم میں جب غذا جاتی ہے تو اس سے خون اور فضلہ یا گوبر کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی بنتی ہے۔ جو اوصاف میں ان دونوں چیزوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ خون اور گوبر دونوں نجس اور حرام چیزیں ہیں۔ جبکہ دودھ نہایت پاکیزہ، حلال، طیب، انتہائی سفید رنگ، مزہ میں شیریں اور پینے میں خوشگوار ہوتا ہے اور مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔ اس سے بھوک بھی دور ہوجاتی ہے اور پیاس بھی۔ اس میں اللہ تعالیٰ محیرالعقول کارنامہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماداؤں کے جسم میں ایسی مشینری فٹ کردی ہے جو گھاس پھوس سی چیز کو ایک نہایت اعلیٰ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ جمادات ونباتات کی طرح چوپائے جانور اور مویشی بھی انسان کی خدمت ہی کے لئے ہیں۔ انہیں اپنا معبود یا مخدوم سمجھ لینا انسان کی انتہائی پستی اور نافہمی ہے۔ (آیت) ” الانعام “۔ پر حاشیے سورة انعام پ 7 اور سورة النحل پ 14 میں گزر چکے۔ (آیت) ” نسقیکم مما فی بطونھا “۔ مراد دودھ کا ہونا ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” ولکم فیھا منافع کثیرۃ “۔ علاوہ غذائی مصرف کے۔ گائے بیل کی کھال۔ بھیڑی کی اون، بعض جانوروں کے سینگ وغیرہ یہ سب انسانوں کے کام کی چیزیں ہیں اور جانوروں کی تجارت ایک بڑی نفع بخش تجارت۔ (آیت) ” وعلی الفلک “۔ بحری سواریاں جتنی بھی ایجاد ہوں سب فلک کے تحت میں آجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–22

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 22 ترجمہ : بلاشبہ مومنین کامیاب ہوئے جو اپنی نمازوں میں تواضع اختیار کرنے والے ہیں، قَدْ تحقیق کیلئے ہے اور جو لغو باتوں وغیرہ سے اعراض کرنے والے ہیں اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور جو حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا ان عورتوں سے جن کے وہ مالک ہیں یعنی باندیوں سے کیونکہ ان کے پاس آنے میں (جماع کرنے میں) ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو ان کے علاوہ یعنی بیبیوں اور باندیوں کے علاوہ مثلاً استمنا بالید کا طالب ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی ایسی چیز کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں جو ان کیلئے حلال نہیں ہے اور جو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وعلیہا وعلی الفلک تحملون۔ اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔ مِّمَّا فِِیْ بُطُوْنِہَاسے مراد ہے دودھ ‘ یا چارہ۔ اوّل صورت میں مِن (بمعنی کچھ) تبعیضیہ ہے اور دوسری صورت میں ابتدائیہ کیونکہ دودھ چارے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ فِیْہَا یعنی چوپایوں کی پشت اور بال واؤن وغیرہ میں بکثرت فوائد ہیں۔ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو (یعنی گوشت چربی وغیرہ) وَعَلَیْہَا اور بعض چوپایوں پر سوار ہوتے ہو جیسے اونٹ اور بیل۔ بعض اہل علم نے کہا صرف اونٹ مراد ہیں عرب اونٹوں پر ہی سوار ہوتے تھے اور لفظ فلک کے ساتھ بھی اونٹ مناسبت رکھتے ہیں۔ اونٹ خشکی کے جہاز مشہور ہیں۔ ذوالترمۃ شاعر نے کہا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور تمہارے لیے مویشی بالخصوصا اونٹ میں بھی غور کرنے کا مقام ہے ہم تمہیں کو ان میں سے خالص شیریں دودھ پینے کو دیتے ہیں، جو خون اور نجاست کے درمیان سے نکلتا ہے اور تمہارے لیے ان میں اور بھی کئی سواری اور بار برداری کے بہت سے فوائد ہیں اور ان کے گوشت، دودھ اور بچوں کو کاٹ کر کھاتے پیتے بھی ہو اور اونٹوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر سمندر میں سفر کرتے رہتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ : ”ۙ وَعَلَيْهَا“ (ان پر) سے مراد اونٹ ہیں، جو صحرا کے جہاز ہیں۔ عرب میں سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اونٹ ہی استعمال ہوتے تھے اور اونٹوں کے لیے ”خشکی کے جہاز“ کا استعارہ قدیم زمانے سے معروف ہے۔ ذو الرُّمّہ شاعر اپنی اونٹنی کے متعلق کہتا ہے ؂ طُرُوْقًا وَجُلْبُ الرَّحْلِ مَشْدُوْدَۃٌ بِھَا سَفِیْنَۃُ بَرٍّ تَحْتَ خَدِّيْ زِمَامُھَا ”رات کا وقت تھا اور ”جُلْبُ الرَّحْلِ“ (پالان کی لکڑیوں) کے ساتھ خشکی کا جہاز بندھا ہوا تھا، جس کی مہار میرے رخسار کے نیچے تھی۔“ (اضواء البیان) خشکی کے جہازوں کی مناسبت سے بحری جہازوں کی نعمت کا ذکر بھی فرما دیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21-27 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم مما فی بطونھا ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ سورة النحل میں ان پر گفتگو ہوچکی ہے۔ سورة ہود میں کشتی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا سمندر پر سوار ہونا کئی مقامات پر گزرچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و علیھا یعنی خشکی میں جانوروں پر۔ وعلی الفلک اور دریا میں کشتی پر۔ تحملون خشکی میں اونٹوں پر سوار کیے جاتے ہو۔ پس ضمیر کا بعض انعام کی طرف لوٹانا جائز ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک شخص پہلے زمانہ میں گائے پر سوار ہوا توا للہ تعالیٰ نے اسے سوار سے بولنے کی طاقت عطا فرمائی۔ وہ بولی۔ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–26

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے انعام سے مراد ہے اونٹ گائے، بھیڑ اور دنبہ آیت ” ولکم فیہا منافع “ یعنی جو وہ بچے جنتے ہیں اور اس میں سے (تمہارے لیے) سوار ہے اور دودھ ہے اور گوشت ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وعلی الفلک “ سے مراد کشتیاں ( کہ جس پر تم سواری کرتے ہو)

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعَلَيْهَا [ اور ان پر ] وَعَلَي الْفُلْكِ [ اور کشتیوں پر ] تُحْمَلُوْنَ [ تم لوگ سوار کئے جاتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–22

جانوروں کے منافع، کشتیوں پر بار برداری کا نظام درختوں کے فوائد بتانے کے بعد چوپاؤں کے منافع بیان فرمائے، انسانوں کو ان سے بڑے بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں ان کا دودھ بھی پیتے ہیں گوشت بھی کھاتے ہیں ان کے بالوں کو کاٹ کر کپڑے اور اوڑھنے بچھونے کی چیزیں بنا لیتے ہیں اور ان پر سوار ہوتے ہیں۔ جیسے بنی آدم کی نسلیں چل رہیں ہے اسی طرح چوپایوں میں بھی تناسل کا سلسلہ چل رہا ہے اللہ تعالیٰ نے جانروں کو انسانوں کے لیے مسخر فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے۔ آخر میں کشتیوں کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کشتیوں پر بھی سوار ہوتے ہیں سامان لادتے ہیں اور دور دراز کا سفر کرتے ہیں۔ کشتیاں بنانے کا الہام فرمانا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–30

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

21:۔ ” وَ اِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً الخ “۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ فرمایا ان چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت اور توحید کے دلائل ہیں۔ ” مِمَّا فِی بُطُونِھَا “” مَا “ سے دودھ مراد ہے یہ ہماری قدرت کی ایک نشانی ہے کہ ہم چوپایوں کے پیٹ سے گوبر اور خون سے بالکل پاک صاف دودھ پیدا کرتے ہیں جو تمہیں لذیذ اور خوشگوار غذا کا کام دیتا ہے۔ ” وَلَکُمْ فِیھَا مَنَافِع الخ “ اس کے علاوہ ان چوپایوں میں تمہارے لیے اور بہت فائدے ہیں مثلاً ان کی تجارت کے ذریعے دولت کماتے ہو۔ ” وَ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ “ چوپائے زندہ وہ تو بھی تمہارے لیے ان میں منافع ہیں اور اگر ان کو ذبح کرلو تو بھی ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے درس توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کے کچھ نمونے بیان فرمائے ہیں۔ پہلے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کیا اور پھر انتہائے عمر تک کے حالات بیان کیے۔ درمیان میں اپنی کبریائی کا ذکر بھی کیا فتبرک اللہ احسن الخالقین یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی برکتوں والی اور بہترین خالق ہے وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس زندگی کے بعد اللہ نے انسان کی موت کا ذکر بھی کیا اور پھر قیامت کو دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہوئی۔ اللہ نے آسمان کے ساتھ طبقات کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی کہ اللہ کے فرشتے آسمانوں کے مختلف مقامات پرچلتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے راستے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعَلَيْہَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۝ 22ۧ فلك الْفُلْكُ : السّفينة، ويستعمل ذلک للواحد والجمع، وتقدیراهما مختلفان، فإنّ الفُلْكَ إن کان واحدا کان کبناء قفل، وإن کان جمعا فکبناء حمر . قال تعالی: حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] ، وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ [ البقرة/ 164] ، وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَواخِرَ [ فاطر/ 12] ، وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] . والفَلَكُ : مجری الکواكب، وتسمیته بذلک لکونه کالفلک، قال : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [يس/ 40] . وفَلْكَةُ المِغْزَلِ ، ومنه اشتقّ : فَلَّكَ ثديُ المرأة «1» ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ وماکنا عن الخلق غافلین کی یہ دلیل ہے جس میں بعض چیزوں کے چند فوائد بیان ہوئے ہیں اور اس میں طبیعت کے خالق و فاعل ہونے کا رد ہے جس کے دہریے قائل ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–22

وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِھَا وَلَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ وَّمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ وَعَلَیْھَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ ۔ (المومنون : 21، 22) اور بیشک تمہارے لیے جانوروں میں بھی درس آموزی کا سامان ہے۔ ہم ان چیزوں کے اندر سے جو ان کے پیٹوں میں ہے تمہیں (خوشذائقہ دودھ) پلاتے ہیں۔ اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان سے تم اپنی غذا کا سامان بھی حاصل کرتے ہو۔ اور ان پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار کیا جاتا ہے (تم سواری کرتے ہو) ۔ عبرت کا مفہوم اس آیت کریمہ میں ” عبرت “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–22

فہم القرآن ربط کلام : پانی اور نباتات سے چوپائے زندہ رہتے ہیں اور چوپاؤں میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بڑے فائدے رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کو اپنی قدرت کی نشانی بتلا کر اس سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ چوپاؤں کی دس قسمیں ہیں۔ ان میں اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ ایسے چوپائے ہیں جن سے انسان بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ ان کا دودھ پینے کے علاوہ مکھن، گھی، دہی اور بہت سی دوسری چیزیں بنانے کے کام آتا ہے۔ ان چوپاؤں کا گوشت کھایا جاتا ہے بکری اور بھیڑ کے سوا حلال چوپاؤں اور گدھے اور گھوڑے پر سواری کی جاتی ہے۔ جہاں تک ان چوپاؤں اور گھوڑوں کا تعلق ہے ان سے کھیتی باڑی اور سواری کا کام لیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22: وَعَلَیْھَا (اور ان پر) چوپایوں پر خشکی میں۔ وَعَلَی الْفُلْکِ (اور کشتیوں پر) سمندروں میں تُحْمَلُوْنَ (لدے پھرتے ہو اپنے سفروں میں) اور اس میں اشارہ ہے کہ انعام سے مراد اونٹ ہے کیونکہ عادۃً انہی پر بوجھ لادا جاتا ہے اسی وجہ سے فلکؔ کے ساتھ ملا کر ذکر کیا۔ کیونکہ اونٹوں کو بھی سفائن البّر یعنی خشکی کے جہاز نام دیا جاتا ہے جیسا ذوالرمہ شاعر کا قول ہے۔ سفینۃ برٍّ تحت خَدّی زمامُھا۔ خشکی کی کشتی کہ جس کی نکیل میری رخسار کے نیچے ہے۔ سفینہ سے یہاں اپنی اونٹنی مراد لے رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 22۔ وعلیھا وعلی الفلک تحملون۔ خشکی میں اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں اور سمندر میں کشتی پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–22

18۔ 22:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب مرے ہوئے لوگوں کی مٹی سے ان کے جسم اسی طرح تیار ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ برس کی بیج سے کھیتی تیار ہوجاتی ہے ‘ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حشر کے دن ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جسم کے تیار ہوجانے میں ایسا ہی کام دے گا جیسے اب اناج کا بیج کھیتی کی تیاری میں کام دیتا ہے ‘ اس حدیث کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں اس تفسیر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قرآن میں حشر کے ذکر کے ساتھ مینہ کا ذکر جو آیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے ‘ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–22

(آیت نمبر 21) (وان لکم فی الانعام لعبرۃ) یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے مویشوں، یعنی اونٹوں، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لئے فوائد ہیں۔ (نسقیکم مما فی بطونھا) ، ، پلاتے ہیں ہم تمہیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔ ، ، یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے۔ (ولکم فیھا منافع کثیرۃ) یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمہارے لئے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمہارے لئے خیمے بنائے جنہیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 9–59

نمازوں کی محافظت قول باری ہے (والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں) قول باری (یحافظون) کی تفسیر میں سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ نمازیں ان کے اوقات میں ادا کی جائیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (لیس التفریط فی النوم انما) التفریط ان یترک الصلوۃ حتی یدخل وقت الاخری نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نیند کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ کوتاہی کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نماز ادا نہ کرے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے) مسروق کا قول ہے کہ نماز کی محافظت کا مفہوم یہ ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ نمازوں پر دوام کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 سواری اور بوجھ برداری کے ذرائع و وسائل میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان پر اور ان طرح طرح کی کشتیوں اور بحری جہازوں پر تم لوگ لدے لدے پھرتے ہو "۔ اور اس طرح تم دور و نزدیک کی مختلف مسافتیں طے کرتے اور طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ اور ان سواریوں کے ذریعے تم لوگ وہاں وہاں پہنچتے ہو جہاں انکے بغیر پہنچنا تمہارے بس میں نہیں ہوتا، بجز جان توڑ مشقت کے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُوْنُوْا بَالِغِیْہِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ } ۔ (النحل : 7) ۔ سو اس سب میں کس قدر عظیم الشان دلائل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–22

اللہ کے رب ہونے کی نشانیاں تشریح : یہ آیات اللہ کی بےپناہ قدرت ناقابل فہم سائنسی حقائق سے بھری پڑی ہیں۔ جیسا کہ شروع میں فرمایا ” تمہارے اوپر سات راستے بنا دیے۔ بیشمار آیات میں سات آسمانوں کا ذکر آچکا ہے۔ سائنس دان اس کی پوری طرح وضاحت تا حال نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر ہلوک باقی صاحب کچھ اس طرح لکھتے ہیں : ” یہاں باریکی یہ ہے کہ سات آسمانوں کو سات راستے اس لیے کہا گیا ہے تاکہ ہم سات میدانوں کو باآسانی سمجھ سکیں ‘ چناچہ قرآن میں راستوں کے ذکر کے ذریعے پیمائش ‘ جسامت ‘ آسمانی فاصلے اور لامحدود رفتاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ “ مزید لکھتے ہیں : ” ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کوئی مادی سواری نہیں پہنچ سکتی اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–22

سورة المؤمنون : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مومنون بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور اسی سابق مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ایمان لانے والوں کے اوصاف کا تذکرہ فرماتے ہوئے شروع ہوتی ہے کہ جنہیں ایمان نصیب ہوا وہ فلاح پاگئے کامیاب ہوگئے فلاح کا ترجمہ اردو میں تو کامیابی ہی ہے مگر عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی بہت وسیع ہے فلاح سے مکمل کامیابی مراد ہے ہر کام میں ہر وقت اور ہر عالم میں ، دنیا ہو دنیا کی تجارت ، سیاست یا امور ذاتی ہر جگہ کامیاب موت کے لمحات ہوں یا برزخ کا عرصہ کامیاب ، میدان حشر ہو یا آخرت کی زندگی کامیاب اور یہ کامیابی ایمان کا پھل ہے رہا یہ سوال کہ دنیا میں کون ہے جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

12 ۔ یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور تری میں جہازوں اور کشتیوں پر سوار ہو کر، جہاں کا چاہتے ہو سفر کرتے ہو۔ انعامات اور دلائل توحید بیان کرنے کے بعد آگے انبیا اور ان قوموں کے حالات بیان فرمائے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں غور و فکر کی بجائے اعراض سے کام لیا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ اس میں دوسرے لوگوں خصوصاً قریش کیلئے تخویف ہے۔ قرآن میں عموماً الاء اللہ کے بعد ایام اللہ کا بیان ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (کبیر۔ روح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(23:21) الانعام۔ مویشی، بھیڑ۔ بکری۔ اونٹ ۔ گائے۔ بھینس۔ یہ نعم کی جمع ہے نعم کے معنی اونٹ کے۔ انعام میں گودوسرے مویشی کو بھی شامل کرلیتے ہیں لیکن جب تک ان میں اونٹ شامل نہ ہو ان کو انعام نہیں کہا جاسکتا۔ عبرۃ۔ عبرت۔ نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنا حال قیاس کرنا۔ دھیان کرنا۔ نسقیکم۔ نسقی مضارع جمع متکلم۔ اسقی یسقی اسقاء (افعال) سے ہم پلاتے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ بطونھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب انعام کی طرف راجع ہے اور اس آیت میں اور اگلی آیت 22 میں ھا اسی معنی میں ہے۔ تحملون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر حاضر۔ حمل مصدر (باب ضرب) تم اٹھائے جاتے ہو۔ تم سوار کئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 : فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–22

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برستا ہے نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عماروتوں کو نقصان پہنچ جاوے اور نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو، زمین ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گھٹلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہرجاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے پھر فرمایا یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر پانی سکھادیاجائے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–22

[15] مراد ہے زیتون کا درخت جس سے روغن نکلتا ہے جو بطور دوا بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت سے ملکوں کے لوگ سالن کی جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ زیتون خاص پیداوار ہے فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نما سینا کی۔ طورسینا کی طرف اس کو منسوب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں مقام طورسینا ہے اس درخت کا اصلی وطن ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–24

حیوانات سے عبرت پذیری ! (ف 1) قرآن حکیم کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر نوع کے حالات و کیفیات بیان کرتا ہے اور معمولی باتوں سے حقائق وعبر کے موتی نکال لاتا ہے ، وہ کہتا ہے تمہاری نظریں عمیق اور گہری ہونی چاہئیں تم ہر واقعہ اور ہر چیز پر مبصرانہ غور کرو ، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ قدرت کا نظام کس قدر حکیمانہ اور جامع ہے ارشاد ہوتا ہے کہ حیوانات اور جانوروں کو دیکھو ، تم روزانہ دودھ پیتے ہو ، مگر کبھی اس بات پر بھی غور کرنے کی توفیق ہوئی ہے کہ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ، وہ چارہ جو گائے اور بھینس کھاتی ہے ایک کیمیاوی عمل میں پہنچتا ہے اور وہاں کئی تبدیلیوں کے بعد دودھ کی شکل میں تھنوں میں آجاتا ہے ، پھر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) چوپایوں کے منجملہ فوائد کے یہ بھی فائدہ ہے کہ تم ان چوپایوں پر اور نیز کشتیوں پر لدے لدے پھرتے ہو۔ یعنی جو سواری کے قابل ہیں ان پر سوار بھی ہوتے ہو۔ اور اسی طرح کشتیوں کو بھی بطور سواری کے استعمال کرتے ہو۔ حضرت حق تعالیٰ کے یہ تمام احسانات ہیں کہ اس نے اپنی مخلوقات کو تمہارے بس میں دے رکھا ہے اور تمہارے کام میں لگا رکھا ہے لیکن انسان بایں ہمہ احسانات کے پھر حق تعالیٰ کا نافرمان اور شرک کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جانوروں اور کشتیوں پر سوار ہونے اور سامان لادنے کا ذکر : 22۔ انعامات الہی میں سے بلاشبہ یہ بھی انعام ہے کہ اس نے جانوروں کو بار برداری کے لئے پیدا فرما دیا اور وہ بہت بڑا بڑا سامان اٹھا کر دوسری جگہ پہنچانے کے کام آتے ہیں اور ان سب جانوروں میں سے زیادہ بوجھ کے کام آنے والا جانور اونٹ ہے جو ریگستانوں میں زیادہ کام آتا ہے اور لوگ اس سبب سے اس کو ریگستانی جہاز کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کشتیاں یہی کام سمندر میں دیتی ہیں جو اونٹ خشکی میں اس لئے اس لئے دنوں طرح کی سواریوں کا تقریبا اکٹھا ہی ذکر کیا جاتا ہے قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا بار بار ذکر کیا ہے اور طرح طرح کی مثالیں دے کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–26

In the last benefit, ships and boats are also included, because they are also used in transportation وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ (And on them and on the boats you are transported - 23:22). All types of mounts which are run with wheels may also be added to fulk (boats) because they render the same service.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23. The benefits of cattle as means of conveyance have been mentioned here along with the ships, because in Arabia, camel was used mainly for this purpose, and has been called the ship of the desert for the same reason.

Read the full tafseer →