Al-Muminoon 23:118 · Rabbighfir warham (dua)

Al-Muminoon · from ayah 118

23:118

وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ ۟۠وَقُلْ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ

اور خدا سے دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And, [O Muhammad], say, "My Lord, forgive and have mercy, and You are the best of the merciful."

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:118

اے محمدؐ، کہو، "میرے رب درگزر فرما، اور رحم کر، اور تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا سے دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم (اے پیغمبر) یہ کہو کہ : میرے پروردگار ! ہماری خطائیں بخش دے، اور رحم فرمادے، تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم عرض کرو، اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے برتر رحم کرنے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ عرض کیجئے: اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرما اور تو (ہی) سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو کہہ اے میرے رب ! بخش دے اور رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ : اے میرے پروردگار ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور تو ہی سب رحم کرنے والوں سے اچھا رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دعا کرو کہ اے رب ! مجھے بخش اور مجھ پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اے پیغمبر آپ یوں کہا کریں کہ اے میرے رب، بخشش فرما، اور رحم فرما کہ تو ہی ہے سب سے بڑا رحم کرنے والا۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کہیے کہ اے میرے پروردگار میری مغفرت کر اور میرے اوپر رحم کر اور تو تور سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور دعا کیجیے کہ پروردگار ! ُ تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اورُ تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ سے دعا کیا کرو کہ میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And say, (O Muhammad): "My Lord, forgive us and have mercy on us, for You are the Best of those that are merciful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And say (O prophet) :My Lord, grant pardon and have mercy, for you are the best of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

And say (O prophet) :My Lord, grant pardon and have mercy, for you are the best of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And say: "My Lord! Forgive and have mercy, for You are the Best of those who show mercy!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (O Muhammad) say: My Lord! Forgive and have mercy, for Thou art Best of all who show mercy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And, [O Muhammad], say, "My Lord, forgive and have mercy, and You are the best of the merciful."

— Saheeh International

(Muhammad), say, "Lord, forgive me and grant me mercy; You are the best of the Merciful Ones.

— Muhammad Sarwar

And say: O my Lord! forgive and have mercy, and Thou art the best of the Merciful ones.

— Muhammad Habib Shakir

And say thou: my Lord! forgive and have mercy, and Thou art the Best of the merciful ones.

— Abdul Majid Daryabadi

So say: "O my Lord! grant Thou forgiveness and mercy for Thou art the Best of those who show mercy!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 117–118

دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط فانما والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے ؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ ﷺ نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہوگا ؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 107 یہاں اس دعا کی لطیف معنویت نگاہ میں رہے۔ ابھی چند سطر اوپر یہ ذکر آچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے دشمنوں کو معاف کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمائے گا کہ میرے جو بندے یہ دعا مانگتے تھے، تم ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کے بعد اب نبی ﷺ کو (اور ضمناً صحابہ کرام کو بھی) یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم ٹھیک وہی دعا مانگو جس کا ہم ابھی ذکر کر آئے ہیں۔ ہماری صاف تنبیہ کے باوجود اب اگر یہ تمہارا مذاق اڑائیں تو آخرت میں اپنے خلاف گویا خود ہی ایک مضبوط مقدمہ تیار کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ یہاں اغفر اور ارحم دونوں کا مفعول ذکر نہیں کیا گیا کہ کیا معاف کریں اور کس چیز پر رحم کریں اس سے اشارہ عموم کی طرف ہے کہ دعاء مغفرت شامل ہے ہر مضر اور تکلیف دہ چیز کے ازالہ کو اور دعا رحمت شامل ہے ہر مراد اور محبوب چیز کے حاصل ہونے کو۔ کیونکہ دفع مضرت اور جلب منفعت جو انسانی زندگی اور اس کے مقاصد کا خلاصہ ہیں دونوں اس میں شامل ہوگئے (مظھری) اور رسول اللہ ﷺ کو دعا مغفرت و رحمت کی تلقین باوجودیکہ آپ معصوم اور مرحوم ہی ہیں دراصل امت کو سکھانے کیلئے ہے کہ تمہیں اس دعا کا کتنا اہتمام کرنا چاہئے (قرطبی) اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ، سورة مومنون کی ابتدا قَدْ اَفْلَحَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقل رب اغفروا لحکم وانت خیر الرحمین 118 دعا کے پیرا یہ تین اہل ایمان منکب نصرت کی بشارت یہ آخر میں پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطہ سے آپ ﷺ کے ساتھیوں کو طلب مغفرت و رحمت کی دعا تلقین فرمائی گی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ دعا وہی ہے جس کا حوالہ 109 میں گزر چکا ہے اور جس کا متکبرین مذاق اڑاتے تھے۔ اس دعا کی تلقین سے یہ اشارہ نکلات ہے کہ اپنے اسی مئوقف پر ڈٹے رہو اور یہی دعا کرتے رہو۔ یہی تمہارے لئے مغفرت و رحمت کے دروازے کی کلید ہے۔ یہ دعا کے اسلوب میں اہل ایمان کے لئے فتح و نصرت کے ظہور کی بشارت ہے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللھم اغفروارحم و انت خیر الرحمین

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 117–118

117-1اس سے معلوم ہوا کہ فلاح اور کامیابی آخرت میں عذاب الٰہی سے بچ جانا ہے، محض دنیا کی دولت اور آسائشوں کی فروانی، کامیابی نہیں، یہ دنیا میں کافروں کو بھی حاصل ہے، لیکن اللہ تعالیٰ ان سے فلاح کی نفی فرما رہا ہے، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اصل فلاح آخرت سے فلاح ہے جو اہل ایمان کے حصے آئے گی، نہ کہ دنیاوی مال و اسباب کی کثرت، جو کہ بلا تفریق مومن اور کافر، سب کو ہی حاصل ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 115–118

36: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، ان کے موقف کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بےمقصد پیدا کردی ہے۔ یہاں جس کے جو جی میں آئے کرتا رہے۔ اس کا کوئی بدلہ کسی اور زندگی میں ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی غلط بات منسوب کرے، لہذا آخرت پر ایمان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا منطقی تقاضا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 116–118

فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ہماری تقصیرات سے درگزر فرما اور اپنی رحمت سے دنیا و آخرت میں سرفراز کر۔ تیری رحمت بےنہایت کے سامنے کوئی چیز مشکل نہیں۔9 " افحسبتم " سے ختم سورت تک کی یہ آیتیں بہت بڑی فضیلت اور تاثیر رکھتی ہیں، جس کا ثبوت بعض احادیث سے ہوا ہے اور مشائخ نے تجربہ کیا ہے۔ چاہیے کہ ان آیات کا ورد رکھا جائے، خاتمہ پر وہ دعاء تبرکاً " و تفاؤلاً نقل کرتا ہوں جو رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو تلقین فرمائی کیونکہ اس کے الفاظ ان آیات کے مناسب ہیں۔ " اَللّٰہُمَّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْراً وَاِنَّہ، لَایَغْفِرُ الذُّنُوبِ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِی اِنَّکَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 117–118

آیت 117 وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَلا ” یعنی اللہ کو بھی معبود مانتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کسی اور کو بھی پکارتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

110 اوپر اسی سورة کی آیت نمبر 109 میں ذکر ہوا ہے کہ جب میرے بندے مجھ سے مغفرت اور رحم کی دعا کرتے تو کافر ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان کا انجام بتلانے کے بعد پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ سے رحم اور مغفرت کی دعا مانگتے رہا کریں۔ اور اللہ چونکہ سب سے بڑھ کر اور سب سے رحم کرنے والا ہے لہذا تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ وہ تم پر رحم کرتے ہوئے تمہاری تقصیرات اور خطاؤں کو معاف فرما دے گا۔ سورۃ النور

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

102۔ اس الحاح و لجاجت کے ساتھ دعا کرنے کی تعلیم افضل البشر کو مل رہی ہے۔ تو دوسروں کا ذکر ! اللہ اللہ، کتنا زور عبدیت پر، اور کتنی تاکید توحید کی ہے ! (آیت) ’ رب اغفر “۔ رحمت، درجہ طاعات میں رحمت، مراتب نجات میں رحمت۔ وقس علی ہذا۔ غفر ورحمۃ کے درمیان یہ فرق بھی کیا گیا ہے کہ غفر تو گناہوں کو مٹا دیتا، اور خلق کی نگاہ سے انہیں اوجھل کردیتا ہے، اور رحمت اقوال و اعمال میں توفیق خیردیتا ہے۔ الغفر اذا اطلق معناہ محوالذنوب وسترہ عن الناس والرحمۃ معناھا ان یسدوہ ویوفقہ فی الاقوال والافعال (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین۔ اور آپ کہا کریں اے میرے رب (میری خطائیں) معاف کر دے اور (میرے حال پر) رحم فرما تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اِغْفِرْاور اِرْحَمْکا مفعول محذوف ہے تاکہ ہر طرح کی مضرتوں کو دفع کرنے اور ہر قسم کی فائدہ مند چیزوں کے حصول میں عموم پیدا ہوجائے یعنی دعا عام ہوجائے۔ یعنی اے اللہ تو میری تمام خطاؤں کو معاف فرما دے (خطاؤں کی معافی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر تکلیف دہ ضرر رساں چیز سے حفاظت ہوجائے گی) اور مجھ پر رحم فرما (ہر طرح کے رحم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ ہر فائدہ بخش چیز عنایت فرما دے گا۔ مغفرت کا لازمی نتیجہ دفع مضرت ہے اور رحمت کا لازمی نتیجہ حصول منفعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(118) اور اے نبی کریم ﷺ آپ تو یوں دعا کیا کیجیے کہ اے میرے پروردگار میری امت کی خطائیں معاف کر اور میری امت پر رحم فرما اور اس کو عذاب مت دے یقینا تو ہی ارحم الراحمین ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سورت کی ابتدا ان لوگوں کے ذکر سے ہوئی تھی جو فلاح پانے والے ہیں اور اختتام ان لوگوں کے ذکر سے ہو رہا ہے جو فلاح نہیں پائیں گے۔ وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ۔۔ : اس سے پہلے آیت (109) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کامیاب ہونے والے بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ دعا ”رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ“ کرتے ہیں اور سورت کے آخر میں انھی بندوں کی طرح کفار و مشرکین سے کٹ کر اپنے رب کی مغفرت اور رحمت کے دامن میں پناہ لینے کا حکم دیا۔ وہ تمام دعائیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لفظ ”قُلْ“ کے ساتھ حکم دیا ہے، نہایت جامع دعائیں ہیں اور عجیب و غریب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 117–118

آیت نمبر 117 تا 118 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یدع مع اللہ الھا اخرلا برھان لہ بہ یعنی اسکے لیے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ فانما حسابہ عندربہ وہ اسے سزا دے گا اور محاسبہ کرے گا۔ انہ ضمیر شان ہے۔ لا یفلح الکفرون۔ حسن اور قتاداہ نے لا یفلح فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جس نے تکذیب کی اور انکار کیا اس کا جو میں نے بھیجا ہے اور جس نے میری نعمتوں کی نا شکری کی وہ کامیاب نہ ہوگا۔ پھر اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ استغفار کرو تاکہ آپ کی اقتدار کرے۔ بعض علماء نے فرمایا : استغفار کا حکم آپ کی امت کیلئے ہے۔ ثعلبی نے ابن لبیعہ کی حدیث مسند روایت کی ہے ابن لہیعتہ نے عبداللہ بن ہیرو سے انہوں نے حنش بن عبداللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن خزیمہ وابن ابی حاتم وابن حبان والبیہقی نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی دعا سکھائیے کہ جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کرتا رہوں آپ نے فرمایا یوں کہو۔ اللہم انی ظلمت نفسی ظلم کثیر وانہ لا یغفر الذنوب الا انت فاغفر لی مغفرۃ من عندہ وارحمنی انک انت الغفور الرحیم۔ اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور بلاشبہ آپ کے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا مجھے بخش دیجئے اپنے پاس سے مغفرت کرتے ہوئے اور مجھ پر رحم فرمائیے بلاشبہ آپ ہی بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔ الحمد للہ سورة المومنون ختم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَ (اور ][ قُلْ ( آپ کہیں)][ رَبِّ (" اے " میرے رب ][ اغْفِرْ (تو بخش دے ][ وَ : اور ][ ارْحَمْ ( تو رحم فرما ][ وَ (اور ][ اَنْتَ (تو ][ خَيْرُ (بہتر ][ الرّٰحِمِيْنَ : سب رحم کرنے والوں (سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں دعا کی تلقین فرمائی (وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ ) (اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب بخش دیجیے اور رحم فرمائیے اور آپ رحم فرمانے والوں میں سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں) اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے امت آپ کی تابع ہے ساری امت اس فرمان پر عمل کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت طلب کیا کریں۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ ولقد حصل الفراغ من تفسیر سورة المومنون فی الیلۃ الحادیۃ عشر من ربیع الاخر سنۃ 1415 ھ الحمد للہ اولاً و آخراً و ظاھراً و باطنا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–118

خاتمہ سورت بر تہدید اہل غفلت از حساب آخرت قال اللہ تعالیٰ افحسبتم انما خلقنکم عبثا .... الیٰ .... وقل رب اغفرو ارحم وانت خیر الرحمین۔ (ربط) اب سورت کو اہل غفلت کی تنبیہ اور تہدید پر ختم کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو کوئی جزاء اور سزا نہیں ملے گی یہ گمان بالکل غلط ہے اور انہ لا یفلح الکافرون سے بتلا دیا کہ قیامت کے دن کافروں کو کوئی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس روز فلاح ان اہل ایمان کو نصیب ہوگی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس سورت کی ابتداء قد افلح ال مومن ون سے فرمائی اور انہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

87:۔ ” وقل رب اغفر الخ “ آخر میں حضرت پیغمبر خدا ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت طلب کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ عفو و رحمت سے کوئی بھی بےنیاز نہیں ہوسکتا اور یہی دو چیزیں ہیں جن کے ذریعہ انسان اللہ کے عذاب و عقاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ لان رحمہ اذا ادرکت احدا اغنت عن رحمۃ غیرہ ورحمۃ غیرہ لا تغنیہ عن رحمتہ (مدارک ج 3 ص 100) سورة مومنون میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” قد افلح المومنون “ تا ” ھم فیھا خالدون “ عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے امور ثلاثہ کا بیان۔ 2 ۔ ” ولقد خلقنا الانسان “ تا ” وعلیھا وعلی الفلک تحملون “ (رکوع 1) نفی شرک فی التصرف پر دلائل عقلیہ۔ 3 ۔ ” ولقد ارسلنا نوحا “ تا ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 115–118

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی ضد ، ہٹ دھرمی اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا۔ اس سورة کی ابتداء بھی توحید اور معاد کے مضمون سے ہوئی تھی۔ اور اب اختتام بھی اسی پر ہورہا ہے۔ درمیان میں اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ اور کفار ومشرکین کی بدسلوکی کا ذکر فرمایا ، اور توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ قیامت اور محاسبہ کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔ اب آخر میں پھر قیامت اور جزائے عمل کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ انسان مکلف ہے : ارشاد ہوتا ہے افحسبتم انما خلقنکم عبثا ، کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے ؟ عبث کا معنی باطل ، مہمل ، بےکار ، بےسودبافضول ہے۔ سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ۝ 118ۧ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 115–118

افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ یہاں سے ایک تحدید آمیز کلام شروع فرماتا ہے اور اس میں قیامت قائم ہونے پر دلائل بھی ذکر کرتا ہے کہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو نیک و بد کو کامل سزاء وجزا نہ ملے۔ پھر نہ نیکی مطلوب ہو اور نہ بدی سے نفرت ہو جس سے لازم آوے کہ انسان عبث پیدا کیا گیا ہے اس پر کوئی مطالبہ الٰہی نہیں اس لیے فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم پھر ہمارے پاس نہ آئوگے فتعالی اللہ الخ اللہ اس بات سے پاک ہے کہ وہ عبث پیدا کرے مگر اس سے یہ بھی نہ سمجھ لو کہ وہ ہمارا حاجت مند ہے کیونکہ الملک الحق وہ بادشاہِ بےنیاز ہے ‘ اس کی بادشاہی ثابت اور قائم ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ ۔ (المومنون : 118) (اور دعا کیجیے کہ اے رب ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ معصوم ہیں تو پھر استغفار کا مفہوم کیا ہے ؟ سورت کے آخر میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطہ سے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو طلب مغفرت و رحمت کی دعا تلقین کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں تک رحم کا تعلق ہے یہ تو ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ ایک عام آدمی بھی اللہ تعالیٰ سے رحم کا طلبگار ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب ہیں وہ بھی اس سے ہمیشہ رحم کے خواستگار رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر جگہ اس لفظ کی معنویت میں گہرائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 117–118

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلندوبالا، پوری کائنات کا بادشاہ، عرش کریم کا رب ہونے کی بناء پر اکیلا ہی معبودِ برحق ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو الٰہ بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کی بجائے مشرک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے کی اس کے بعد کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، شان اور صفات کے حوالے سے اکیلا اور سب سے اعلیٰ ہے۔ اس کی ذات اور صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ مشرک دلیل نہ ہونے کے باوجود نہ صرف شرک جیسے سنگین جرم میں ملّوث ہوتا ہے بلکہ شرک کی حمایت میں بحث…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انجام بد سے بچانے کے لئے رحمت و مغفرت کا سوال : 118: وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ (کہہ دیں اے میرے رب تو بخشش فرما اور رحم فرما اور تو ہی سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے) بخشش و رحمت طلب کرنے کے بعد پھر فرمایا آپ تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں کیونکہ اس کی رحمت جب بندے کو پالے تو کسی دوسرے کی رحمت کی ضرورت نہیں رہتی اور دوسروں کی رحمت و مہربانی اس کی رحمت سے مستغنی نہیں کرسکتی۔ اللھم اغننی برحمتک یا أرحم الرحمین۔ الحمد للہ حمدًا لاغناء عن رحمتہ سورة المؤمنون کا تفسیری ترجمہ آج نماز عشاء کے بعد بروز منگل 1423؁ھ 13 شوال مکمل ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 117–118

117۔ ومن یدع مع اللہ ، ، نہ اس کے پاس کوئی حجت ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی دلیل ہے اس شرک کے دعوی میں۔ فانما حسابہ، اس کا بدلہ ، عندربہ، اس کے عمل کا بدلہ اس کو دے گا۔ ثم ان علینا حسابھم ، انہ لایفلح الکافرون۔ نہ تو وہ کوئی دلیل وحجت ان کے کام آئے گی اور نہ ہی ان کا جھوٹ ۔ الحمدللہ سورة مومنون مکمل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 117–118

117۔ 118:۔ سورة الاحقاف میں آوے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تو زمین و آسمان اور ان بت پرستوں کو پیدا کیا ‘ ان بت پرستوں کے بتوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو تو یہ لوگ اس کی سند پیش کریں اور اس طرح کو کوئی سند یہ لوگ پیش نہیں کرسکتے تو ان سے پوچھا جاوے کہ پھر آخر کس سبب سے یہ لوگ بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں کیونکہ دنیا میں تو ان بتوں کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کا یہ لوگ کچھ پتا اور نشان نہیں بتلا سکتے اور عقبیٰ کا یہ حال ان لوگوں کو قرآن میں کئی جگہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ‘ قیامت کے دن وہ فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 117–118

(آیت نمبر (117 یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلات کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل وبراہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں ‘ مگر اس نے ظلم اور عناد کی بناء پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ‘ کیونکہ وہ کافر ہے۔ (انہ لا جفلع الکفرون ) ” بلاشبہ ‘ کافر فلاح نہیں پاتے۔ “ پس ان کے کفر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

137 ایک عظیم الشان دعا کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کہو اے میرے رب میری بخشش فرما اور مجھ پر رحم فرما "۔ ان غلطیوں، کوتاہیوں اور خطاؤں کی جو راہ حق میں ہم سے سرزد ہوجاتی ہیں۔ اور رحم فرما ہم پر۔ ہمیں صحیح اقوال اور صالح اعمال کی توفیق و عنایت سے نواز کر۔ سو مغفرت اور رحمت حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی دو ایسی عظیم الشان عنایتیں ہیں جو درحقیقت دارین کی سعادت اور فوز و فلاح کی شاہ کلید اور اس کی کفیل وضامن ہیں۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو ان دونوں کے مانگنے اور سوال کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ مغفرت و بخشش کا مقتضیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 109–118

اللہ کے مقبول بندے تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔ آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ نبی ﷺ کو استغفار کا حکم دے کر دراصل امت کو تعلیم دی ہے کہ آپ ﷺ کی اقتدا میں وہ استغفار کیا کرے۔ اس آیت کا تعلق اوپر کے مضمون سے یہ ہے کہ پہلے کفار و مشرکین کا حال بیان کیا گیا ہے اور اب آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان سے کٹ کر صرف اللہ کے ہو رہیں اور اسی کی رحمت و مغفرت کے دامن میں پناہ لیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 117–118

(23:117) یدع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب دعاء ودعوۃ مصدر (باب نصر) مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ کے ہے اصل میں یدعوا تھا۔ من یدع جو پکارے گا (مدد کے لئے یا عبادت کے لئے) لا برھان لہ بہ۔ میں لہ یعنی پکارنے والے نزدیک۔ بہ جس کو پکارا گیا ہو اس کے حق میں۔ یعنی اس (غیر اللہ کو معبود) پکارنے والے کے پاس (اس غیر اللہ کی بابت معبود پکارنے کی) کوئی دلیل نہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہیولا تقف ما لیس لک بہ علم (17:36) اور اس چیز کے پیچھے مت ہو لیا کر جس کی بابت تجھے (صحیح) علم نہ ہو۔ لا برھان لہ بہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ جملہ شرطیہ اور جملہ جزا کے درمیان ۔ یا جملہ اول کی تاکید میں لایا گیا ہے۔ فانما حسابہ عند…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 117–118

(ف 3) توحید کا ذکر : ان آیتوں میں فرمایا کہ جو خدا کے سوا کسی اور چیز کو پوجے گا تو وہ بالکل باطل ہے ۔ اس کے پاس عبادت غیر کی کوئی دلیل نہیں ہے اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے ، وہ آخرت میں اس کو عذاب دے گا، بیشک کافر ہرگز آخرت میں نجات و فلاح نہیں پاویں گے اے محبوب تم دعا کرو۔ اے پروردگار میرے ، بخش دے امت کے گناہ اور رحم فرما امت پر ، اور ان کو عذاب نہ دے، تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 114–118

[44] یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی لیکن اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی فانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 117–118

(ف 1) لا برھان لہ : سے مراد یہ ہے کہ شرک ایک ایسا مذموم اور خلاف عقل فعل ہے جس کے جواز میں کوئی دلیل نہیں پیش کی جاسکتی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(118) اور آپ یوں دعا کیجئے اے میرے پروردگار میری کوتاہیوں کو معاف فرما اور بخش دے اور میرے حال پر رحم فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ یہ دعا مسلمانوں کو تعلیم فرمائی اور نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا یعنی آپ کے واسطہ سے امت کو تعلیم دی گئی۔ شروع سورت میں فرمایا تھا قد افلح المؤمنون آخر سورت میں فرمایا انہ لایفلح الکفرون۔ تم سورة المؤمنون

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ آپ کا مغفرت و رحمت مانگنا اپنے درجہ کے موافق ہے، پس اس سے شبہ معصیت کا نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل ایمان کے لئے دعا کے رنگ میں مدد ونصرت کی بشارت : 118۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے عزم وجزم کے ساتھ توحید پر قائم رہئے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش ومغفرت طلب کرتے رہئے یہی وہ ہتھیار ہے جو نہتوں کے کام آنے والا ہے اور مخالفین میں سے ہاتھوں والوں کے ہاتھ شل کر کے رکھ دیتا ہے اور مذاق اڑانے والوں کو آن کی آن میں مذاق و استہزاء بنا دیتا ہے جس سے وہ حیران و ششدر رہ جاتے ہیں اور اس طرح دیکھنے والوں کو وہ مذاق ہی مذاق نظر آنے لگتے ہیں فرمایا آپ اس دعا کو جاری رکھیں تمہاری زبان اس ورد پر لگی رہے اور تمہارے ہاتھ اس کے قانون کے مطابق حرکت کریں یہی مغفرت ورحمت الہی کی کلید ہے اور وہ دن عنقریب آنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

رَّ‌بِّ اغْفِرْ‌ وَارْ‌حَمْ (My Lord, forgive and have mercy - 23:118). Here the object of the forgiveness and having mercy has not been mentioned. What is there to be forgiven and to whom is mercy to be shown? And this seems to suggest a general prayer for forgiveness which would include deliverance from harm and suffering, and a general prayer for mercy which would include the grant of every wish. Since protection from bodily harm and acquisition of legitimate gains is the object of all human activity, this prayer covers both these aspects. (Mazhari) And the reason why the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

107. Compare and contrast this prayer with (verse 109). Here the Prophet (peace be upon him) has been told to make the same prayer as contained in (verse 109), as if to say, You (and your followers) should supplicate Allah with the same prayer so that, if the people scoff at you, they themselves might provide a proof of a strong case against themselves.

Read the full tafseer →