Explained with ayahs 117–118
دلائل کے ساتھ مشرک کا موحد ہونا
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط فانما والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہوسکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے ؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ ﷺ نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہوگا ؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 104
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اس کے لئے اپنے اس فعل کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے "۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 105
یعنی وہ محاسبے اور باز پرس سے بچ نہیں سکتا۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 106
یہ پھر اسی مضمون کا اعادہ ہے کہ اصل میں فلاح پانے والے کون ہیں اور اس سے محروم رہنے والے کون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
خلاصہ تفسیر
(اور یہ سب مضامین جب معلوم ہوچکے) سو (اس سے یہ کامل طور پر ثابت ہوگیا کہ) اللہ تعالیٰ بہت ہی عالیشان ہے جو کہ بادشاہ (ہے اور بادشاہ بھی) حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں (اور وہ) عرش عظیم کا مالک ہے اور جو شخص (اس امر پر دلائل قائم ہونے کے بعد) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں سو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہوگا (جس کا نتیجہ لازمی یہ ہے کہ) یقینا کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ابد الآباد معذب رہیں گے) اور (جب حق تعالیٰ کی یہ شان ہے تو آپ (اور دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ) یوں کہا کریں کہ اے میرے رب (میری…
Read the full tafseer →آیت 117
یہ اوپر والے توحید کے مضمون کی مزید وضاحت فرما دی کہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی اس کی عبادت میں شریک کرے گا۔ جب کہ کسی شریک کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے، تو وہ یاد رکھے کہ خدا کے آگے اس کو ایک دن اس کا حساب دینا ہوگا اور یہ امر بھی وہ یاد رکھے کہ جو لوگ خدا کا کسی کو شریک ٹھہرائیں گے وہ کافر ہیں اور کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ قد افلح المومنون سے یہ سورة شروع ہوئی تھی اور لایفلح الکفرون پر ختم ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
117-1اس سے معلوم ہوا کہ فلاح اور کامیابی آخرت میں عذاب الٰہی سے بچ جانا ہے، محض دنیا کی دولت اور آسائشوں کی فروانی، کامیابی نہیں، یہ دنیا میں کافروں کو بھی حاصل ہے، لیکن اللہ تعالیٰ ان سے فلاح کی نفی فرما رہا ہے، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اصل فلاح آخرت سے فلاح ہے جو اہل ایمان کے حصے آئے گی، نہ کہ دنیاوی مال و اسباب کی کثرت، جو کہ بلا تفریق مومن اور کافر، سب کو ہی حاصل ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
36: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، ان کے موقف کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بےمقصد پیدا کردی ہے۔ یہاں جس کے جو جی میں آئے کرتا رہے۔ اس کا کوئی بدلہ کسی اور زندگی میں ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی غلط بات منسوب کرے، لہذا آخرت پر ایمان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا منطقی تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔
اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں…
Read the full tafseer →7 یعنی وہاں حساب ہو کر مقدار جرم کے موافق سزا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
آیت 117 وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَلا ”
یعنی اللہ کو بھی معبود مانتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کسی اور کو بھی پکارتا ہے۔
Read the full tafseer →109 یعنی جو لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی پکار کر شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں اور انہوں نے انھیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا ہے۔ تو ان کے پاس اس کے جواز میں نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ نقلی۔ ایسے من گھڑت قصوں کی بنیاد محض وہم و گمان پر ہوتی ہے پھر تقلید آباء کی وجہ سے یہ نظریے لوگوں میں رواج پا جاتے ہیں۔ ایسے مشرکوں سے اللہ تعالیٰ پورا پورا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے مقدار جرم کے مطابق سزا دی جائے گی۔ اور ایسے ہٹ دھرم اور منکر لوگ جو سمجھانے پر باز نہیں آتے۔ آخرت میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →101۔ (بلکہ وہ ابد الآباد تک عذاب میں مبتلا رہیں گے) (آیت) ” فانما حسابہ عند ربہ “۔ یہاں غافل انسان کے احساس ذمہ داری کو ایک بار پھر بیدار کیا ہے۔ اور یاد دلایا ہے کہ غیر اللہ سے لو لگانا کچھ بھی کام نہ آئے گا، پوری جوابدہی کرنی پڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →ومن یدع مع اللہ الہا اخر لا برہان لہ بہ فانما حسابہ عند ربہ انہ لا یفلح الکفرون۔
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہی (جا کر) ہوگا (جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ) یقیناً کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ہمیشہ ہمیشح عذاب میں پڑے رہیں گے) ۔
پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا۔ لاَ بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖیہ دوسری صفت ہے اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت باطل ہے اور باطل کی کوئی دلیل نہیں یہ دوسری صفت یا تو محض تاکیدی ہے یا اسلئے ذکر کی گئی ہے کہ حکم توحید کی بنا اسی پر ہے۔ اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ کوئی ایسا دین…
Read the full tafseer →(117) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بتوں کی عبادت کرے جس کے معبود ہونے پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کو آخرت میں عذاب ملے گا، یقینا کافروں کو عذاب الہی سے نجات اور فلاح نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ۔۔ :”جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے“ کے بعد ”جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں“ کا یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے ایسے معبود کو پکارنا جائز ہے جس کی کوئی دلیل کسی کے پاس موجود ہو۔ بلکہ یہ جملہ معترضہ ہے، جس کا مقصد اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنے کی کوئی دلیل ہے ہی نہیں، نہ عقلی، نہ نقلی۔ (دیکھیے احقاف : 4) یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ جو شخص کسی پر ظلم کرے، جس کا اسے کوئی حق نہیں تو وہ اس کا بدلا پائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ایسا ظلم بھی ہوتا ہے جس کا کسی کو حق حاصل ہے، بلکہ مقصد ظلم کی برائی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
آیت نمبر 117 تا 118 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یدع مع اللہ الھا اخرلا برھان لہ بہ یعنی اسکے لیے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ فانما حسابہ عندربہ وہ اسے سزا دے گا اور محاسبہ کرے گا۔ انہ ضمیر شان ہے۔ لا یفلح الکفرون۔ حسن اور قتاداہ نے لا یفلح فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جس نے تکذیب کی اور انکار کیا اس کا جو میں نے بھیجا ہے اور جس نے میری نعمتوں کی نا شکری کی وہ کامیاب نہ ہوگا۔ پھر اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ استغفار کرو تاکہ آپ کی اقتدار کرے۔ بعض علماء نے فرمایا : استغفار کا حکم آپ کی امت کیلئے ہے۔ ثعلبی نے ابن لبیعہ کی حدیث مسند روایت کی ہے ابن لہیعتہ نے عبداللہ بن ہیرو سے انہوں نے حنش بن عبداللہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی گواہ نہیں۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی گواہ نہیں۔
3۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی دلیل نہیں۔
4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” انہ لا یفلح الکفرون “ انہ میں الف کے کسرہ کے ساتھ۔
5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا آیت ” اَ نہ لایفلح الکفرون “ انہ ہمزہ کے نصب کے ساتھ۔
6۔…
Read the full tafseer →[ وَ (اور ][ مَنْ (جو ][ يَّدْعُ ( وہ پکارے ][ مَعَ اللّٰهِ (اللہ کے ساتھ ][ اِلٰــهًا (کوئی معبود ][ اٰخَرَ ( دوسرا ][ لَا بُرْهَانَ ( کوئی دلیل نہیں ][ لَهٗ (اس کے لیے ][ بِهٖ (اس (بات) کی ][ فَاِنَّمَا (تو بیشک بس ][ حِسَابُهٗ ( اس کا حساب ][ عِنْدَ (نزدیک ][ رَبِّهٖ (اس کے رب ][ اِنَّهٗ (بیشک یہ حقیقت ہے ][ لَا (نہیں ][ يُفْلِحُ (فلاح پاتے ][ الْكٰفِرُوْنَ (سب کافر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے
کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
خاتمہ سورت بر تہدید اہل غفلت از حساب آخرت
قال اللہ تعالیٰ افحسبتم انما خلقنکم عبثا .... الیٰ .... وقل رب اغفرو ارحم وانت خیر الرحمین۔
(ربط) اب سورت کو اہل غفلت کی تنبیہ اور تہدید پر ختم کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو کوئی جزاء اور سزا نہیں ملے گی یہ گمان بالکل غلط ہے اور انہ لا یفلح الکافرون سے بتلا دیا کہ قیامت کے دن کافروں کو کوئی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس روز فلاح ان اہل ایمان کو نصیب ہوگی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
اس سورت کی ابتداء قد افلح ال مومن ون سے فرمائی اور انہ…
Read the full tafseer →86:۔ ” ومن یدع الخ “ یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں حالانکہ غیر اللہ کی الوہیت کسی دلیل اور برہان سے ثابت نہیں ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ فرمائے گا اور انہیں سخت سزا دے گا۔ اور ایسے کافر و مشرک ہرگز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ ثم زکر ان من کان بذالک فجزاءہ العقاب العظیم بقولہ فانما حسابہ عند رب ؟ ؟ قال ان عقابلہ ابلغ الی حیث لا یقدر احد علی حسابہ الا اللہ تعالیٰ (کبیر ج 6 ص 309) ۔ اس سورت کی ابتدا میں فرمایا ” قد افلح المومنون “ اور آخر میں فرمایا ” انہ لا یفلح الکفرون “ ایمان والے کامیاب ہوں گے اور کافر و مشرک ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی ضد ، ہٹ دھرمی اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا۔ اس سورة کی ابتداء بھی توحید اور معاد کے مضمون سے ہوئی تھی۔ اور اب اختتام بھی اسی پر ہورہا ہے۔ درمیان میں اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ اور کفار ومشرکین کی بدسلوکی کا ذکر فرمایا ، اور توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ قیامت اور محاسبہ کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔ اب آخر میں پھر قیامت اور جزائے عمل کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔
انسان مکلف ہے :
ارشاد ہوتا ہے افحسبتم انما خلقنکم عبثا ، کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے ؟ عبث کا معنی باطل ، مہمل ، بےکار ، بےسودبافضول ہے۔ سورة…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ 0ۙ لَا بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ 0ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ 0ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ 117
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ یہاں سے ایک تحدید آمیز کلام شروع فرماتا ہے اور اس میں قیامت قائم ہونے پر دلائل بھی ذکر کرتا ہے کہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو نیک و بد کو کامل سزاء وجزا نہ ملے۔ پھر نہ نیکی مطلوب ہو اور نہ بدی سے نفرت ہو جس سے لازم آوے کہ انسان عبث پیدا کیا گیا ہے اس پر کوئی مطالبہ الٰہی نہیں اس لیے فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم پھر ہمارے پاس نہ آئوگے فتعالی اللہ الخ اللہ اس بات سے پاک ہے کہ وہ عبث پیدا کرے مگر اس سے یہ بھی نہ سمجھ لو کہ وہ ہمارا حاجت مند ہے کیونکہ الملک الحق وہ بادشاہِ بےنیاز ہے ‘ اس کی بادشاہی ثابت اور قائم ہے…
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ لا لاَ بُرْھَانَ لَـہٗ بِہٖ لا فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط اِنَّـہٗ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (المومنون : 117)
(اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور اِلٰہ کو پکارے گا جس کے حق میں اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے اور کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ )
آغاز و اختتام میں یکسانی
گزشتہ آیت کریمہ میں توحید کے مضمون کو اس قدر مکمل اور مبرہن کردیا گیا ہے کہ کسی دماغ میں شرک کے غبار کی بھی امید نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کے باوجود بھی کوئی شخص اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور اِلٰہ کو پکارتا ہے جبکہ کسی اور کی الوہیت کی دلیل کا وجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلندوبالا، پوری کائنات کا بادشاہ، عرش کریم کا رب ہونے کی بناء پر اکیلا ہی معبودِ برحق ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو الٰہ بناتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کی بجائے مشرک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے کی اس کے بعد کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، شان اور صفات کے حوالے سے اکیلا اور سب سے اعلیٰ ہے۔ اس کی ذات اور صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ مشرک دلیل نہ ہونے کے باوجود نہ صرف شرک جیسے سنگین جرم میں ملّوث ہوتا ہے بلکہ شرک کی حمایت میں بحث…
Read the full tafseer →باطل کی سرے سے دلیل ہی نہیں :
117: وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہَ اِلٰھًا اٰخَرَ لَا بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ ۔ (واللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت کرتا ہے کہ جس کے معبود ہونے پر کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہیں)
برھان کا معنی حجت ہے لَہٗ بِہٖ یہ جملہ معترضہ ہے جو شرط و جزاء کے درمیان واقع ہے جیسا کہتے ہیں : من احسن الی زید۔ لاأحق بالا حسان منہ فان اللہ مثیبہ۔ جو زید پر احسان کرے پس اللہ تعالیٰ اس کو بدلہ دینے والے ہیں کیونکہ زید سے بڑھ کر احسان کا کوئی حقدار نہیں۔ نمبر 2۔ یہ صفت لازمہ ہے جس کو تاکید کیلئے لایا گیا ہے مثلاً فرمایا گیا : یطیر بجنا حیہ ] الانعام : 38[ پر ندے نے تو اڑ نا ہی پروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
117۔ ومن یدع مع اللہ ، ، نہ اس کے پاس کوئی حجت ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی دلیل ہے اس شرک کے دعوی میں۔ فانما حسابہ، اس کا بدلہ ، عندربہ، اس کے عمل کا بدلہ اس کو دے گا۔ ثم ان علینا حسابھم ، انہ لایفلح الکافرون۔ نہ تو وہ کوئی دلیل وحجت ان کے کام آئے گی اور نہ ہی ان کا جھوٹ ۔
الحمدللہ سورة مومنون مکمل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
117۔ 118:۔ سورة الاحقاف میں آوے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تو زمین و آسمان اور ان بت پرستوں کو پیدا کیا ‘ ان بت پرستوں کے بتوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو تو یہ لوگ اس کی سند پیش کریں اور اس طرح کو کوئی سند یہ لوگ پیش نہیں کرسکتے تو ان سے پوچھا جاوے کہ پھر آخر کس سبب سے یہ لوگ بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں کیونکہ دنیا میں تو ان بتوں کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کا یہ لوگ کچھ پتا اور نشان نہیں بتلا سکتے اور عقبیٰ کا یہ حال ان لوگوں کو قرآن میں کئی جگہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ‘ قیامت کے دن وہ فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
(آیت نمبر (117
یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلات کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل وبراہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں ‘ مگر اس نے ظلم اور عناد کی بناء پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ‘ کیونکہ وہ کافر ہے۔ (انہ لا جفلع الکفرون ) ” بلاشبہ ‘ کافر فلاح نہیں پاتے۔ “ پس ان کے کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →135 مشرک کا حساب اللہ تعالیٰ کے یہاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اس سب کے باوجود اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارا۔ یعنی جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ اللہ کے سوا کسی بھی اور معبود کے لیے نہ کوئی دلیل ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو جس نے اس سب کے باوجود اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پوجا پکارا اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے یہاں ہی ہے۔ کہ یہ اتنا بڑا اور اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کی سزا وہی وحدہ لاشریک دے سکتا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُہ ۔ بہرکیف اس میں مشرکوں کیلئے سخت تنبیہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–118
اللہ کے مقبول بندے
تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔
آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →3 ۔ تو وہ بقیہ تمام مخلوقات کا صاحب (مالک) کیوں نہ ہوگا جبکہ عرش ہر مخلوق سے بلند ہے عرش کو کریم (عزت والا) یا تو اس لئے کہا گیا ہے کہ اس سے خیر و رحمت کا نزول ہوتا ہے یا اس لئے کہ اس پر مستوی ہونے والی ذات مقدس کریم ہے۔ واللہ اعلم۔ (شوکانی) 4 ۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ پکارنے سے مراد حاجت روائی کے لئے پکارنا ہے یا عبادت کرنا۔ 5 ۔ اور شر ک کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ جس کا چاہے گا ہر گناہ معاف کر دیگا لیکن شرک کو بغیر توبہ کے معاف نہیں کریگا۔ (نساء :48، 116)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
(23:117) یدع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب دعاء ودعوۃ مصدر (باب نصر) مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ کے ہے اصل میں یدعوا تھا۔ من یدع جو پکارے گا (مدد کے لئے یا عبادت کے لئے)
لا برھان لہ بہ۔ میں لہ یعنی پکارنے والے نزدیک۔ بہ جس کو پکارا گیا ہو اس کے حق میں۔ یعنی اس (غیر اللہ کو معبود) پکارنے والے کے پاس (اس غیر اللہ کی بابت معبود پکارنے کی) کوئی دلیل نہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہیولا تقف ما لیس لک بہ علم (17:36) اور اس چیز کے پیچھے مت ہو لیا کر جس کی بابت تجھے (صحیح) علم نہ ہو۔ لا برھان لہ بہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ جملہ شرطیہ اور جملہ جزا کے درمیان ۔ یا جملہ اول کی تاکید میں لایا گیا ہے۔
فانما حسابہ عند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
(ف 3) توحید کا ذکر :
ان آیتوں میں فرمایا کہ جو خدا کے سوا کسی اور چیز کو پوجے گا تو وہ بالکل باطل ہے ۔ اس کے پاس عبادت غیر کی کوئی دلیل نہیں ہے اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے ، وہ آخرت میں اس کو عذاب دے گا، بیشک کافر ہرگز آخرت میں نجات و فلاح نہیں پاویں گے اے محبوب تم دعا کرو۔ اے پروردگار میرے ، بخش دے امت کے گناہ اور رحم فرما امت پر ، اور ان کو عذاب نہ دے، تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
[44] یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی لیکن اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی فانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
(ف 1) لا برھان لہ : سے مراد یہ ہے کہ شرک ایک ایسا مذموم اور خلاف عقل فعل ہے جس کے جواز میں کوئی دلیل نہیں پیش کی جاسکتی ۔
Read the full tafseer →(117) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اور اس کی عبادت کرے کہ جس کی عبادت کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل اور سند نہیں تو بس اس کا حساب اس کے پروردگار ہی کے ہاں ہوگا بلاشبہ کافروں کو فلاح نصیب نہ ہوگی۔ یعنی باوجود دلیل نہ ہونے کے پھر بھی کسی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارے گا اور عبادت کرے گا تو ایسے نالائق کا حساب پروردگار کے پاس ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے منکروں کو کامیابی اور فلاح میسر نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
ف 7۔ مطلب یہ کہ جب ہم نے آیات میں جن کا صدق دلائل صحیحہ سے ثابت ہے بعث و مجازاة کی خبر دی تھی تو معلوم ہوگیا تھا کہ مکلفین کی تخلیق کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے، اس کا منکر ہونا کتنا بڑا امر منکر تھا۔
Read the full tafseer →جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود مانتا ہے وہ جاہل ہے :
117۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے اور کسی دوسرے کو اپنا حاجت روا ‘ مشکل کشا اور بگڑی بنانے والا خیال کرتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے اور سمجھنے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں بلاشبہ وہ عقل وفکر کا اندھا ہے اور اس کا حساب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے پاس ہے اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کے اس فیصلہ کا اعلان کردیا گیا ہے کہ وہ ایسے کافروں کو کبھی فلاح نہیں دے گا ۔ توحید الہی کی مکمل وضاحت ان چند الفاظ میں کردی گئی اور اسی وضاحت کو جگہ جگہ مزید مثالیں دے کر سمجھایا گیا اور انہی اشارات واستعارات اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
Commentary
The last few verses of this Surah Al-Mu'minun from verse 115 to verse 118 have special merit. Baghawi and Thalabi have related from Sayyidna Ibn Masud ؓ that he came across a person who was very ill. He recited the above verses into the sick man's ears and he was cured immediately. The Holy Prophet ﷺ asked him what he had whispered in the sick man's ears to which Sayyidna 'Abdullah Ibn Masud ؓ replied that he had recited these verses (115 to 118) in his ears. Thereupon the Holy Prophet ﷺ said, "I swear by Him Who has power over my life that if a person with genuine faith were to…
Read the full tafseer →104. It may also be translated as: The one who invokes any other deity along with Allah, has nothing to support him in this act.
105. That is, he cannot escape accountability.
106. Again, the reference is to those who will attain the success and to those who will be deprived of it.
Read the full tafseer →