Explained with ayahs 112–116
مختصر زندگی طویل گناہ
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہوگئے اگر نیکوں کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کرلیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کرکے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کردیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الہٰی میں بسر کردیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 103
یعنی بالا و برتر ہے اس سے کہ فعل عبث کا ارتکاب اس سے ہو، اور بالا و برتر ہے اس سے کہ اس کے بندے اور مملوک اس کی خدائی میں اس کے شریک ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
خلاصہ تفسیر
(اور یہ سب مضامین جب معلوم ہوچکے) سو (اس سے یہ کامل طور پر ثابت ہوگیا کہ) اللہ تعالیٰ بہت ہی عالیشان ہے جو کہ بادشاہ (ہے اور بادشاہ بھی) حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں (اور وہ) عرش عظیم کا مالک ہے اور جو شخص (اس امر پر دلائل قائم ہونے کے بعد) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں سو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہوگا (جس کا نتیجہ لازمی یہ ہے کہ) یقینا کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ابد الآباد معذب رہیں گے) اور (جب حق تعالیٰ کی یہ شان ہے تو آپ (اور دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ) یوں کہا کریں کہ اے میرے رب (میری…
Read the full tafseer →آیت 116
یہ اپنی صفات کی یاد دہانی فرمائی ہے جس سے مقصود اسی مغالطہ کی تردید ہے جس میں جزا و سزا کے یہ منکرین مبتلا تھے۔ فرمایا کہ خدا کی ذات بہت ہی بلندو برتر ہے۔ اس بلندو برتر ہستی کی شان سے یہ بات نہایت بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے اور محض کھیل تماشا کے طور پر ایک پورا جہان پیدا کر ڈالے۔ وہ الملک الحق یعنی اس کائنات کا بادشاہ حقیقی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنی رعیت کے درمیان عدل و انصاف نہ کرے اور ظالم و مظلوم دونوں کو یکساں کر دے۔ لا الہ الا ھو یعنی اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے تو کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ اس کی پکڑ سے وہ کسی دوسرے کی سعی و سفارش سے اپنے کو بچا لے جائے گا۔ رب…
Read the full tafseer →116-1یعنی وہ اس سے بہت بلند کہ وہ تمہیں بغیر کسی مقصد کے یوں ہی ایک کھیل کے طور پر بےکار پیدا کیا اور وہ ہے اس کی عبادت کرنا۔ اسی لئے آگے فرمایا وہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
116-2عرش کی صفت کریم بیان فرمائی کہ وہاں سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
36: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، ان کے موقف کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بےمقصد پیدا کردی ہے۔ یہاں جس کے جو جی میں آئے کرتا رہے۔ اس کا کوئی بدلہ کسی اور زندگی میں ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی غلط بات منسوب کرے، لہذا آخرت پر ایمان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا منطقی تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔
اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں…
Read the full tafseer →6 جب وہ بالا و برتر، شنہشاہ مالک علی الاطلاق ہے تو ہو نہیں سکتا کہ وفاداروں اور مجرموں کو یوں کس مپرسی کی حالت میں چھوڑ دے۔
Read the full tafseer →آیت 116 فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ج ”
اللہ اس کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے۔ وہ کلی اختیارات کا مالک ہے اور اس کی یہ حیثیت بھی سزا و جزا کے نظام کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کے بادشاہوں میں کوئی بادشاہ ایسا نہیں جو اپنے غداروں اور باغیوں کو سزا نہ دے اور وفاداروں کو انعام و اکرام اور خلعتوں سے نہ نوازے۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ بادشاہ حقیقی اپنے جاں نثاروں کی قدر افزائی نہ کرے ‘ ان کی قربانیوں کا انہیں کوئی صلہ نہ دے اور اپنے نافرمانوں اور باغیوں کو سزانہ دے ؟
Read the full tafseer →108 یعنی اللہ تعالیٰ ہی حقیقی خالق ومالک اور بادشاہ ہے۔ اس کی شان اس بات سے بہت بلند ہے کہ وہ کوئی چیز بےکار و بےفائدہ پیدا کرے۔ اس نے جس چیز کو بھی پیدا کیا ہے۔ متعدد اغراض و مصالح کے تحت پیدا کیا ہے۔ اور جو نتائج اس سے مطلوب ہیں وہ حاصل ہو رہے ہیں اور ہو کے رہیں گے اس کی ذات اس چیز سے بھی بلند ہے کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا نہ دے۔ یا مخلص بندوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ نہ دے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا حاکم نہیں جو اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکے یا سفارش کرکے اس کے فیصلوں میں رد و بدل کروا سکے۔ وجہ یہ ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی چیز یعنی عرش عظیم کا بھی وہی مالک ہے پھر کوئی دوسری چیز کس…
Read the full tafseer →100۔ عرش جو مخلوقات میں سب سے بڑی چیز ہے، یاد رہے کہ اللہ اس کا بھی مالک ہے، پروردگار ہے۔ نعوذ باللہ وہ خود کسی آسمان کے ساتھ متحد یا اس کا مترادف نہیں، جیسا کہ بعض ” دانشمندوں “ نے سمجھ رکھا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →فتعلی اللہ الملک الحق لا الہ الا ہو رب العرش الکریم۔ پس بہت ہی عالی شان ہے
اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ‘ وہی بزرگی والے عرش کا مالک ہے۔
اَلْمَلِکُ الْحَقُّ حقیقی بادشاہ جس کو حکومت کا حق ہے (اور جس کی حکومت واقعی ہے) دوسر مخلوق بالذات مالک نہیں مملوک ہے ‘ (حاکم نہیں محکوم ہے) اس کی مالکیت (اور شاہیت) بالعرض ہے یعنی جب اللہ ہی بادشاہ حقیقی ہے تو اس کا فعل عبث نہیں ہوسکتا۔
اَلْعَرْشِ الْکَرِیْمِعرش بزرگ۔ اللہ کی پُر عظمت تجلیات خصوصی طور پر عرش پر پڑتی ہیں اسی لئے اس کی صفت کریم قرار دی۔
Read the full tafseer →(116) سو اللہ تعالیٰ بہت ہی عالی شان ہے اور جو اولاد اور شریک سے منزہ اور بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →فَتَعٰلَى اللّٰهُ۔۔ : ”تَعَالٰی“ ”عَلَا یَعْلُوْ“ (ن) سے باب تفاعل ہے، جس میں مبالغہ ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس بہت بلند ہے اللہ“ یعنی اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ تمہیں بےکار اور بےمقصد پیدا کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان فرمائیں، جن میں سے ہر صفت کا تقاضا ہے کہ وہ کوئی کام عبث اور بےمقصد نہ کرے۔
الْمَلِكُ الْحَقُّ : پہلی صفت یہ ہے کہ وہ سچا بادشاہ ہے، اس کی بادشاہی حق اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ دوسرے بادشاہ نہ اپنی بادشاہی کے حقیقی مالک ہیں اور نہ ان کی بادشاہی حق اور باقی رہنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 116 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتعلی اللہ الملک الحق اللہ تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے وہ پاک ہے اولاد، شرکاء اور مد مقابل سے اور کسی چیز کو بےمقصد اور بےحکمت پیدا کرنے سے کیونکہ وہ حکیم ہے۔ لا الہ الا ھو رب العرش الکریم۔ قرآن میں اس کے علاوہ کسی جگہ اس طرح نہیں ہے۔ ابن محیص اور ابن کثیر سے الکریم رفع کے ساتھ مروی ہے اور اسے اللہ کی صفت بنایا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
1۔ الحکیم الترمذی وابویعلی وابن ابی حاتم وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ ابونعیم فی الھلیہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک بیمار کے کان میں آیت ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا پڑھا یہاں تک کہ سورة کو ختم فرمایا تو وہ تندرست ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا انہوں نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی یقین والا یہ آیت کسی پہاڑ پر پڑھے تو البتہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائے۔
2۔ ابن السنی وابن المنذر و ابونعیم فی المعرفہ بسند حسن من طریق محمد بن ابراہیم بن حارث التیمی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے…
Read the full tafseer →[ فَتَعٰلَى (پس بہت بلند ][ اللّٰهُ (اللہ ][ الْمَلِكُ ( بادشاہ ][ الْحَقُّ (حقیقی ][ لَآ اِلٰهَ (کوئی معبود نہیں ][ اِلَّا ( مگر ][ هُوَ (وہ ][ رَبُّ (رب ][ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ (عزت والے عرش کا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے
کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
خاتمہ سورت بر تہدید اہل غفلت از حساب آخرت
قال اللہ تعالیٰ افحسبتم انما خلقنکم عبثا .... الیٰ .... وقل رب اغفرو ارحم وانت خیر الرحمین۔
(ربط) اب سورت کو اہل غفلت کی تنبیہ اور تہدید پر ختم کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو کوئی جزاء اور سزا نہیں ملے گی یہ گمان بالکل غلط ہے اور انہ لا یفلح الکافرون سے بتلا دیا کہ قیامت کے دن کافروں کو کوئی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس روز فلاح ان اہل ایمان کو نصیب ہوگی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
اس سورت کی ابتداء قد افلح ال مومن ون سے فرمائی اور انہ…
Read the full tafseer →85:۔ ” فتعالی اللہ الخ “ یہ سورت کا خلاصہ ہے اور سورت میں بیان کردہ تمام دلائل عقلیہ ونقلیہ کا ثمرہ و نتیجہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو ساری کائنات کا مالک اور حقیقی بادشاہ ہے وہ تمام شریکوں سے پاک ہے، عیب سے منزہ اور عبث کام کرنے سے اس کی شان بلند ہے وہ سارے عالم کا کارساز اور سارے جہان میں متصرف و مختار ہے اس کے سوائے کوئی کارساز اور حاجت روا نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی دعا، پکار اور نذر و نیاز کا مستحق ہے۔ ای تنزہ و تقدس اللہ الملک الحق عن الاولاد والشرکاء والانداد الخ (قرطبی ج 12 ص 157) ۔ ” لا الہ الا ھو الخ “ اس کے سوا کوئی کارساز اور مشکل کشا نہیں اور وہ عزت والے عرش کا مالک ہے جو سارے جہان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی ضد ، ہٹ دھرمی اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا۔ اس سورة کی ابتداء بھی توحید اور معاد کے مضمون سے ہوئی تھی۔ اور اب اختتام بھی اسی پر ہورہا ہے۔ درمیان میں اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ اور کفار ومشرکین کی بدسلوکی کا ذکر فرمایا ، اور توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ قیامت اور محاسبہ کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔ اب آخر میں پھر قیامت اور جزائے عمل کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔
انسان مکلف ہے :
ارشاد ہوتا ہے افحسبتم انما خلقنکم عبثا ، کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے ؟ عبث کا معنی باطل ، مہمل ، بےکار ، بےسودبافضول ہے۔ سورة…
Read the full tafseer →فَتَعٰلَى اللہُ الْمَلِكُ الْحَقُّ 0ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ 116
علي
العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من : عَلِيَ ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به في قوله : أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] ، إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] ، فمعناه : يعلو أن يحيط به وصف الواصفین بل علم العارفین . وعلی ذلك يقال : تَعَالَى، نحو : تَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ النمل/ 63]
( ع ل و ) العلو
العلی کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں یہ علی ( مکسر اللام سے مشتق ہے جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت
واقع ہو جیسے : ۔ أَنَّ اللَّهَ هُوَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ یہاں سے ایک تحدید آمیز کلام شروع فرماتا ہے اور اس میں قیامت قائم ہونے پر دلائل بھی ذکر کرتا ہے کہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو نیک و بد کو کامل سزاء وجزا نہ ملے۔ پھر نہ نیکی مطلوب ہو اور نہ بدی سے نفرت ہو جس سے لازم آوے کہ انسان عبث پیدا کیا گیا ہے اس پر کوئی مطالبہ الٰہی نہیں اس لیے فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم پھر ہمارے پاس نہ آئوگے فتعالی اللہ الخ اللہ اس بات سے پاک ہے کہ وہ عبث پیدا کرے مگر اس سے یہ بھی نہ سمجھ لو کہ وہ ہمارا حاجت مند ہے کیونکہ الملک الحق وہ بادشاہِ بےنیاز ہے ‘ اس کی بادشاہی ثابت اور قائم ہے…
Read the full tafseer →فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ج لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ج رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ۔ (المومنون : 116)
(پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہِ حقیقی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عرشِ کریم کا مالک۔ )
انسان کی فکری گمراہیوں کی تردید
جن تصورات نے انسان کی عاقبت برباد کی اور زندگی کے حقیقی مقاصد سے غافل کردیا اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عبث اور بےمقصد پیدا کیا ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہایت گستاخی اور گمراہی کی بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت ہی بلندو برتر ہے۔ اس بلندو برتر ہستی کی شان سے یہ بات نہایت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کو دائمی سمجھنا اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والا شخص اپنی اور کائنات کی تخلیق کو بےمقصد سمجھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بلندو بالا اور بلا شرکت غیرے زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔ اس کی ذات اور فرمان برحق اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہے وہ عرش کریم کا مالک ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پانچ صفات کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں ہم اس فرمان کے سیاق کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی تین صفات کی مختصر تشریح کریں گے اللہ تعالیٰ نے اپنے اعلیٰ ہونے کی صفت بیان فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی یہ شان نہیں کہ وہ کوئی چیز عبث اور بےمقصد پیدا کرے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →وہ جس کی مملکت کو زوال نہیں :
116: فَتَعٰلَی اللّٰہُ (پس بہت عالی شان ہے) اس سے کہ بےکار پیدا کرے۔ الْمَلِکُ الْحَقُّ (سچا بادشاہ) وہ ذات جس کو بادشاہی لائق ہے کیونکہ ہر چیز اسی نے بنائی اور اسی کی طرف لوٹ کر جائے گی۔ نمبر 3۔ وہ قائم رہنے والی ذات ہے کہ جس پر زوال نہیں اور نہ اس کی مملکت کو زوال ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی بزرگی والے عرش کا مالک ہے) عرش کی صفت کرم سے فرمائی گئی ہے کیونکہ رحمت الٰہی اسی سے زمین پر اترتی ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ اس عرش کی نسبت اس ذات کی طرف ہے جو اکرم الاکرمین ہے۔
قراءت : شاذہ میں الکریم کو ضمہ سے پڑھا…
Read the full tafseer →116۔ فتعالی اللہ الملک۔۔۔ تا۔ الکریم۔ اچھاٹھکانا۔ بعض نے کہا بلندمقام۔
Read the full tafseer →116:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو بغیر کسی سند کے اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور سزا وجزا کے لیے حشر کے قائم ہونے کا انکار کر کے دنیا کی پیدائش کو بلا نتیجہ ٹھہراتے تھے ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ جب دنیا کے عارضی بادشاہ اپنی بادشاہت میں کسی کا شریک ہونا پسند نہیں کرتے ‘ اسی طرح نافرمان نوکروں اور رعایا کو مناسب سزا دیتے ہیں ‘ فرمانبرداروں سے طرح طرح کے سلوک کرتے ہیں تو اس صاحب عرش حقیقی بادشاہ کی شان میں یہ منکر شریعت لوگ جو باتیں منہ سے نکالتے ہیں وہ بادشاہ حقیقی ان باتوں سے بہت بالاتر ہے اور جب اس صاحب قدرت نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو ہر شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
(آیت نمبر (115)
(افحسبتم) یعنی اے مخلوق !” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے “ کہ (انما خلقنکم عبثا) ” بلاشبہ ہم نے تمہیں بےفائدہ اور باطل پیدا کیا ہے “ کہ تم کھاؤ ‘ پیو ‘ زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لزتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمہیں یوں نہیں چھوڑ دیں گے۔ ہم تمہیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمہیں منع کریں گے ‘ تمہیں ثواب عطا کریں گے نہ تمہیں عذاب دیں گے ؟ اس لیے فرمایا : (وانکم الینا لترجعون ) ” اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟ “ یہ بات تمہارے دل ہی میں نہ آئے۔
(فتعلی اللہ) یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلند تر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ (الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →132 عظمت خداوندی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی بلند ہے اللہ یعنی ایسے تمام تصورات سے۔ یعنی اس سے کہ وہ اس کائنات کو یونہی بےمقصد و بیکار پیدا فرما دے اور انسان جیسی اشرف المخلوقات کو جو کہ اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع ہے اس کو یونہی بےمقصد اور بےکار چھوڑ دے۔ نہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہو نہ کوئی مشن اور نصب العین۔ بلکہ یہ پوری کائنات سے زندگی بھر طرح طرح کے فائدے اٹھاتے رہنے کے بعد یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے۔ سو ایسا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے کہ وہ کوئی ایسا کار عبث کرے اور حکمتوں بھری اس کائنات اور اس کے مخدوم ومطاع اس انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–118
اللہ کے مقبول بندے
تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔
آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
2 ۔ یعنی اللہ جو سچا بادشاہ ہے اس کی شان اس سے بلند ہے کہ وہ تمہیں بیکار اور بےمقصد پیدا کرے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(23:116) تعلی۔ تعالیٰ سے (باب تفاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ برتر ہے وہ بلند ہے۔ باب تفاعل سے مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ العرش الکریم۔ موصوف وصفت ہوکر رب کا مضاف الیہ ہے۔
عرش سے مراد عام اصطلاح میں تخت شاہی ہے ۔ قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں آیا ہے۔ مثلاً ورفع ابویہ علی العرش (12:100) اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔ اور اھکذا عرشک (27:42) کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ایسا عرش ہے جو کہ بجز نام کے بشر کے فہم و ادراک سے بالاتر ہے۔ قرآن میں عرش کے وصف میں تین نام آئے ہیں۔
(1) العظیم۔ جیسے اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اس حقیقی بادشاہ کی شان میں یہ منکر شریعت لوگ جو جوباتیں منہ سے نکالتے ہیں اور وہ بادشاہ حقیقی ان باتوں سے بری ہے ، اور جب انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو ہر شخص کو خالص اس کی عبادت لازم ہے جو لوگ اپنے اس لازم حق کو ادا نہیں کرتے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے ، اپنی عاقبت خراب اور برباد کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
[44] یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی لیکن اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی فانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
منکرین کی محرومی وبدبختی :
حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…
Read the full tafseer →(116) سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے بہت بلند وبالا تر ہے اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش کریم یعنی بڑے تخت کا مالک ہے کریم فرمایا عرش کو یا تو اس لئے کہ وہاں سے مخلوق پر رحمت نازل ہوتی ہے یا اس لئے کہ اکرم الاکرمین کا تخت ہے۔ بعض نے کریم کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس تقدیر پر کریم رب کی صفت ہوگی مگر یہ قرات شاذ ہے۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
ف 7۔ مطلب یہ کہ جب ہم نے آیات میں جن کا صدق دلائل صحیحہ سے ثابت ہے بعث و مجازاة کی خبر دی تھی تو معلوم ہوگیا تھا کہ مکلفین کی تخلیق کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے، اس کا منکر ہونا کتنا بڑا امر منکر تھا۔
Read the full tafseer →اللہ کی ذات بہت بلند واعلی ہے اس نے کوئی کام عبث نہیں کیا :
116۔ ذات الہی کی پہچان اس کی صفات ہی سے ممکن ہے اس ان دیکھی اور ان سمجھی ذات کو صفات ہی کے ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے بلاشبہ اس کی ذات اس کی صفات کے پردہ میں مستور ہے اور وہ مستور رہ کر دکھائی دیا جاسکتا ہے اور وہی اس کو دیکھ سکتا ہے جس کی عقل کی آنکھیں کھلی ہیں وہ ان ظاہری آنکھوں سے نہ کسی کو نظر آیا اور نہ ہی آسکتا ہے اور جو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکے وہ اللہ نہیں ہو سکتا لیکن یہ بات اس دنیوی زندگی کے لئے خاص ہے آخرت کی زندگی نہ اس طرح کی زندگی ہوگی اور نہ ہی اس طرح کی خواہشات ہوں گی گویا اس طرح جب اس زندگی کی آنکھیں بند ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
Commentary
The last few verses of this Surah Al-Mu'minun from verse 115 to verse 118 have special merit. Baghawi and Thalabi have related from Sayyidna Ibn Masud ؓ that he came across a person who was very ill. He recited the above verses into the sick man's ears and he was cured immediately. The Holy Prophet ﷺ asked him what he had whispered in the sick man's ears to which Sayyidna 'Abdullah Ibn Masud ؓ replied that he had recited these verses (115 to 118) in his ears. Thereupon the Holy Prophet ﷺ said, "I swear by Him Who has power over my life that if a person with genuine faith were to…
Read the full tafseer →103. Allah is above this that He should create you without any purpose and that you may associate partners with Him with impunity.
Read the full tafseer →