Al-Muminoon 23:115

Al-Muminoon · from ayah 115

23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ۟اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا وَّاَنَّكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then did you think that We created you uselessly and that to Us you would not be returned?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:115

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بےمقصد پیدا کردیا، ، اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایا جائے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (و بے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا تم نے گمان کرلیا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ بیشک تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بےکار ہی پیدا کردیا اور تم ہمارے ہاں لوٹ کر نہ آؤ گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بس یوں ہی بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی بےکار پیدا کیا ہے ؟ اور تمہیں ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آنا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں تو کیا تمہارا خیال تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بلامقصد پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے پاس لوٹا کر لائے نہ جاؤ گے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Did you imagine that We created you without any purpose, and that you will not be brought back to Us?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So did you think that We created you for nothing, and that you will not be brought back to Us?

— Muhammad Taqi Usmani

So did you think that We created you for nothing, and that you will not be brought back to Us?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Did you think that We had created you in play, and that you would not be brought back to Us"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Deemed ye then that We had created you for naught, and that ye would not be returned unto Us?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then did you think that We created you uselessly and that to Us you would not be returned?"

— Saheeh International

Did you think that We had created you for a playful purpose and that you were not to return to Us?"

— Muhammad Sarwar

What! did you then think that We had created you in vain and that you shall not be returned to Us?

— Muhammad Habib Shakir

Deem ye that We have created youl in vain and that unto Us ye are not to be returned?

— Abdul Majid Daryabadi

"Did ye then think that We had created you in jest, and that ye would not be brought back to Us (for account)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:115

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 112–116

مختصر زندگی طویل گناہ بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہوگئے اگر نیکوں کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کرلیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کرکے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کردیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الہٰی میں بسر کردیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِنُوْن 102 اصل میں لفظ عَبَثاً کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا ایک مطلب تو ہے " کھیل کے طور پر "۔ اور دوسرا مطلب ہے " کھیل کے لیے " پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے۔ " کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بطور تفریح بنادیا ہے، تمہاری تخلیق کی کوئی غرض وغایت نہیں ہے، محض ایک بےمقصد مخلوق بنا کر پھیلا دی گئی ہے۔ " دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا " کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ تم بس کھیل کود اور تفریح اور ایسی لاحاصل مصروفیتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو جن کا کبھی کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 108–115

لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انجسبتم انما خلقنکم بعثاً و انکم الینا لاترجعون 115 جزا و سزا صفات الٰہی کا لازمی تقاضا ہے یعنی اگر تم جزاء و سزا سے بےپردا بیٹھے ہو تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو یوں ہی بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم اسی طرح شتر بےمہار چھوٹے پھرو گے اور ایک دن مر جائو گے اور تمہاری واپسی ہماری طرف نہیں ہونی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے یہ سمجھا ہے تو ہمیں تم نے بہت ہی غلط سمجھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 114–115

114-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی کے مقابلے میں یقینا دنیا کی زندگی بہت ہی قلیل ہے۔ لیکن اس نکتے کو دنیا میں تم نے نہیں جانا کاش تم دنیا میں اس کی حقیقت سے دنیا کی بےثباتی سے آگاہ ہوجاتے، تو آج تم بھی اہل ایمان کی طرح کامیاب و کامران ہوتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 115–118

36: جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، ان کے موقف کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بےمقصد پیدا کردی ہے۔ یہاں جس کے جو جی میں آئے کرتا رہے۔ اس کا کوئی بدلہ کسی اور زندگی میں ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی غلط بات منسوب کرے، لہذا آخرت پر ایمان اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا منطقی تقاضا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افحسبتم۔۔۔۔۔۔۔۔ لاترجعون ” معلوم ہونا چاہیے۔ حکمت تخلیق کا لازمی تقاضا ہے کہ بعث بعد الموت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا قیام مقدر کردیا ہے۔ اس کے مقاصد تدبیر کائنات کا حصہ ہیں۔ قیامت تخلیق کا منطقی نتیجہ ہے۔ بعث کے ساتھ تخلیق کائنات اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے اور مقصد تخلیق پورا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت سے وہی لوگ غفلت کرسکتے ہیں جن کے دلوں پر پردے آگئے ہوں اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ‘ جو حکمت الہیہ پر کبھی غورو فکر کرنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے حالانکہ یہ حکمت اس کائنات کے اندر بکھری پڑی ہے۔ سورة کا خاتمہ عقیدہ توحید کے اعلان پر ہوتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے شرک کیا وہ عظیم خسارے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی دنیا میں تو نیکی بدی کا پورا نتیجہ نہیں ملتا۔ اگر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی نہ ہو تو گویا یہ سب کارخانہ محض کھیل تماشہ اور بےنتیجہ تھا۔ سو حق تعالیٰ کی جناب اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی نسبت ایسا رکیک خیال کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 115 اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ” گزشتہ آیات کے سیاق وسباق میں اس آیت کا ترجمہ صیغہ ماضی میں ہوگا اور اس مفہوم میں اس کے مخاطب وہی جہنمی لوگ ہوں گے جن کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے۔ اور اگر اسے گزشتہ سلسلہ کلام سے علیحدہ پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ صیغہ حال میں کیا جائے گا اور پھر اس کا مخاطب ہر پڑھنے سننے والا اور دنیا کے ہر زمانے کا ہر انسان ہوگا کہ اے لوگو ! کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بےمقصد اور بیکار پیدا کیا ہے اور تمہیں ہمارے پاس واپس آکر اپنے ایک ایک عمل کا حساب نہیں دینا ہے ؟ عقلی اور منطقی طور پر یہ نکتہ اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

107 یعنی تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم اس دنیا میں عیش و آرام کرنے اور مزے لوٹنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اسی دنیا میں نہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملتا ہے نہ اپنے خیال کے مطابق نیک اعمال کرنے والوں کو ان کی نیکی کا بدلہ ملتا ہے اور نہ ہی کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو کر واپس آیا ہے۔ جو یہ خبر دے کہ ظالموں کو اس کے ظلم کی سزا ملی ہے۔ لہذا تم نے یقین کرلیا کہ یہی دنیا ہی دنیا ہے جیسے ہی بن پڑے یہاں عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کرلو حالانکہ اگر تم اس کائنات کے نظام عدل میں ذرا بھی غور کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ یہ کائنات اور اس میں انسان کو محض ایک کھیل تماشہ کے طور پر نہیں بنایا گیا لیکن ہر سبب ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99۔ تمہاری کیسی شدید حماقت تھی کہ تم اپنی تخلیق ہی کا مقصد نہ سمجھے اور اسی کے دلائل کو جھٹلاتے رہے ! گویا جس طرح شمع یا چراغ گل ہوجاتا ہے، ایسے ہی انسانی روح بھی معدوم محض ہوجاتی ہے۔ قرآن اسی خیال باطل کی تردید کرتا ہے۔ اور انسان کی حیات دنیوی کا انجام پیش گاہ الہی میں حاضری بتاتا ہے۔ اسی میں رد آگیا ان باطل مذہبوں کا جو انسان کا انجام فنائے محض سمجھے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون۔ سو کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو محض بیکار پیدا کیا ہے اور (کیا تم گمان کرتے تھے کہ) تم ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لائے جاؤ گے۔ اَفَحَسِبْتُمْہمزہ انکاریہ توبیخیہ ہے ‘ عبثا بیکار بغیر کسی حکمت کے یا محض کھیل کے طور پر یا صرف اس لئے کہ تم کھیلو کودو ‘ بیکار زندگی گزارو ایسا نہیں ہے بلکہ تم کو اس لئے پیدا کیا کہ تم اللہ کو پہچانو اس کی عبادت کرو۔ اس کے فرماں بردار بنو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(115) یا یہ کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا خوب ہوتا اگر تم دنیان میں اس چیز کو سمجھتے اور میرے انبیاء کرام ؑ کی تصدیق کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ تم قبروں میں کم ہی رہے ہو۔ مکہ والو خصوصا کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی مہمل پیدا کردیا ہے کہ اوامرو نواہی اور ثواب و عذاب کا تم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ تم مرنے کے بعد ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا۔۔ : یعنی پھر کیا تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم اس دنیا میں عیش کرنے اور مزے لوٹنے ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ (دیکھیے قیامہ : 36) تم نے دیکھا کہ اس دنیا میں نہ ظالموں کو ان کے ظلم کا پورا بدلا ملتا ہے، نہ اپنے خیال میں نیک اعمال کرنے والوں کو ان کی نیکی کا بدلا ملتا ہے اور نہ کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو کر آیا جو تمہیں بتاتا کہ اچھے اعمال والوں کو ان کی جزا اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ملی ہے۔ لہٰذا تم نے یقین کرلیا کہ یہی دنیا ہی دنیا ہے، جس قدر ہو سکے یہاں عیش و عشرت کا سامان جمع کرلو۔ اس کے سوا زندگی کا کوئی مقصد نہیں، نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 115 ۔ ” کیا تم نے یہ گمان رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے طرف نہیں لوٹائے جائو گے “۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افحسبتم انما خلقتکم عبثا کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہمنے تمہیں مہمل پیدا کیا ہے جیسے جانور پیدا کیے گئے پس جنکے لیے نہ ثواب ہے اور نہ عقاب یہ اس قول کی مثل ہے۔ ایحسب الانسان ان یترک سدًی۔ (القامیہ) یعنی جانور کی طرح مہمل بغیر فائدہ کے چھوڑ دیا جائے گا۔ ترمذی حکیم ابو عبداللہ محمد بن علی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو غلام پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کریں۔ پس وہ عبادت پر ثواب دے گا اور عبادت کے ترک پر عذاب دے گا اگر وہ اس کی عبادت کریں گے تو آج…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 115–116

1۔ الحکیم الترمذی وابویعلی وابن ابی حاتم وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ ابونعیم فی الھلیہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک بیمار کے کان میں آیت ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا پڑھا یہاں تک کہ سورة کو ختم فرمایا تو وہ تندرست ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا انہوں نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی یقین والا یہ آیت کسی پہاڑ پر پڑھے تو البتہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائے۔ 2۔ ابن السنی وابن المنذر و ابونعیم فی المعرفہ بسند حسن من طریق محمد بن ابراہیم بن حارث التیمی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَ (کیا ][ فَحَسِبْتُمْ ( پس تم نے سمجھ لیا ][ اَنَّمَا (کہ بیشک محض ][ خَلَقْنٰكُمْ (ہم نے پیدا کیا تمہیں ][ عَبَثًا (بےمقصد ][ وَّ (اور ][ اَنَّكُمْ ( بیشک تم ][ اِلَيْنَا (ہماری طرف ][ لَا (نہیں ][ تُرْجَعُوْنَ (تم سب لوٹائے جاؤ گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 112–117

اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–118

خاتمہ سورت بر تہدید اہل غفلت از حساب آخرت قال اللہ تعالیٰ افحسبتم انما خلقنکم عبثا .... الیٰ .... وقل رب اغفرو ارحم وانت خیر الرحمین۔ (ربط) اب سورت کو اہل غفلت کی تنبیہ اور تہدید پر ختم کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو کوئی جزاء اور سزا نہیں ملے گی یہ گمان بالکل غلط ہے اور انہ لا یفلح الکافرون سے بتلا دیا کہ قیامت کے دن کافروں کو کوئی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس روز فلاح ان اہل ایمان کو نصیب ہوگی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس سورت کی ابتداء قد افلح ال مومن ون سے فرمائی اور انہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 84:۔ ” افحسبتم الخ “ یہ زجر ہے دنیا میں تم اس طرح غافل رہے اور سرکشی کرتے رہے گویا تم ہمیشہ ہی دنیا میں رہو گے اور کبھی ہمارے سامنے حاضر نہیں ہوگے تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بس یونہی بغیر کسی حکمت کے پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے احکام اور اوامرو نواہی سے بالکل آزاد ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 115–118

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی ضد ، ہٹ دھرمی اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا۔ اس سورة کی ابتداء بھی توحید اور معاد کے مضمون سے ہوئی تھی۔ اور اب اختتام بھی اسی پر ہورہا ہے۔ درمیان میں اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ اور کفار ومشرکین کی بدسلوکی کا ذکر فرمایا ، اور توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ قیامت اور محاسبہ کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔ اب آخر میں پھر قیامت اور جزائے عمل کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ انسان مکلف ہے : ارشاد ہوتا ہے افحسبتم انما خلقنکم عبثا ، کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے ؟ عبث کا معنی باطل ، مہمل ، بےکار ، بےسودبافضول ہے۔ سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ۝ 115 حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 115–118

افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ یہاں سے ایک تحدید آمیز کلام شروع فرماتا ہے اور اس میں قیامت قائم ہونے پر دلائل بھی ذکر کرتا ہے کہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو نیک و بد کو کامل سزاء وجزا نہ ملے۔ پھر نہ نیکی مطلوب ہو اور نہ بدی سے نفرت ہو جس سے لازم آوے کہ انسان عبث پیدا کیا گیا ہے اس پر کوئی مطالبہ الٰہی نہیں اس لیے فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم پھر ہمارے پاس نہ آئوگے فتعالی اللہ الخ اللہ اس بات سے پاک ہے کہ وہ عبث پیدا کرے مگر اس سے یہ بھی نہ سمجھ لو کہ وہ ہمارا حاجت مند ہے کیونکہ الملک الحق وہ بادشاہِ بےنیاز ہے ‘ اس کی بادشاہی ثابت اور قائم ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّـکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ ۔ (المومنون : 115) (تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تم کو بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ ) عَبَثًا … عبث کا معنی ہوتا ہے، فضول یعنی بےمقصد۔ (2) کھیل۔ انسان کی کو تاہی فکر اور اس کا نتیجہ چونکہ عَبَثًا استعمال ہوا ہے۔ ترکیب کے اعتبار سے ہم اس کا ترجمہ کھیل کے طور پر بھی کرسکتے ہیں اور کھیل کے لیے بھی۔ پہلے ترجمہ کے اعتبار سے مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمہیں یونہی بطور تفریح پیدا کردیا تھا، تمہاری تخلیق کا کوئی مقصد اور کوئی غرض وغایت نہیں تھی اور دوسرے ترجمے کے اعتبار سے مطلب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 112–115

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں سے ایک اور سوال :۔ انسان کی بغاوت اور نافرمانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ سمجھتا ہے مرنے کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش نہیں ہونا۔ جہنمیوں کی حسرتوں میں اضافہ کرنے اور دنیا میں دی جانے والی مہلت کا احساس دلانے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے استفسار فرمائیں گے۔ بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے تھے ؟ جہنمی جہنم کی ہولناکیوں سے گھبرا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی فریاد کریں گے کہ الٰہی ہمیں کچھ یاد نہیں کہ ہم کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ آپ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اپنے کو بیکار سمجھنا : 115: اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا (پس کیا تم نے یہ خیال کرلیا تھا کہ ہم نے تم کو محض بیکار پیدا کیا ہے) نحو : عبثا یہ حال ہے اس حال میں کہ تم بیکار قرار دینے والے تھے۔ نمبر 2۔ مفعول لہ یعنی للبعث ہم نے تم کو بیکاری کیلئے پیدا کیا ہے۔ وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَاتُرْجَعْوْنَ (اور تم ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لائے جائو گے) قرات : حمز ہ وعلی و یعقوب نے تائؔ کے فتحہ اور جیم کے کسرہ سے پڑھا ہے اور اس صورت میں اس کا عطف انما خلقنا کم پر ہے یا عبثًا پر ہے۔ یعنی بیکاری کیلئے اور اس لئے تاکہ ہم تمہیں بغیر لوٹائے چھوڑ دیں گے ؟ بلکہ ہم نے تمہیں مکلف بنایا تاکہ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

115۔ افحسبتم انماخلقناکم عبثا۔ لہو ولعب کے لیے نہ کہ اس کی حکمت کے لیے منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ بعض نے کہا کہ اس کو عبث پیدا نہیں کیا تاکہ تم اسمیں کھیلو کودو، بیکار زندگی گزاروجیسا کہ چوپایوں کو پیدا کیا گیا نہ ان کے لیے ثواب ہے اور نہ ہی عقاب۔ یہ اس قول کے مثل ہے، ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ بلکہ اللہ نے تمہیں عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے بچنے کے لیے ۔ ونکم الینالاترجعون۔ کیا تم گمان کرتے ہو کہ آخرت میں تم کو ہماری طرف نہیں لوٹایاجائے گا، بدلہ لینے کے لیے ۔ حمزہ کسائی ، یعقوب نے لاترجعون پڑھا ہے۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ اور جیم کے کسرہ کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

115:۔ منکرین حشر کا یہ بھی جواب ہے کہ دنیا کے نیک وید کی جزاو سزا کے لیے پھر دوبارہ جینا نہ ہوتا تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ہوتا جس سے اللہ کی شان پاک ہے ‘ اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں عقل مند لوگ اس طرح کے بےفائدہ کام سے پرہیز کرتے ہیں جس طرح کا بےفائدہ کام یہ لوگ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مثلا کیھتی کرتے ہیں تو اناج پیدا ہونے کی نیت سے ‘ باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کے ارادہ سے ‘ پھر تمام مخلوقات کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ‘ بغیر سزاوجزا کے اس کو بلا نتیجہ ٹھہرانا ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے ‘ ایک بیمار شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آیا ‘ حضرت عبد اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 115–116

(آیت نمبر (115) (افحسبتم) یعنی اے مخلوق !” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے “ کہ (انما خلقنکم عبثا) ” بلاشبہ ہم نے تمہیں بےفائدہ اور باطل پیدا کیا ہے “ کہ تم کھاؤ ‘ پیو ‘ زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لزتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمہیں یوں نہیں چھوڑ دیں گے۔ ہم تمہیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمہیں منع کریں گے ‘ تمہیں ثواب عطا کریں گے نہ تمہیں عذاب دیں گے ؟ اس لیے فرمایا : (وانکم الینا لترجعون ) ” اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟ “ یہ بات تمہارے دل ہی میں نہ آئے۔ (فتعلی اللہ) یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلند تر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ (الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

130 انسان کی تخلیق بےمقصد و بےکار نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تنبیہ و تحضیض کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے ؟۔ اے غافل و بیخبر لوگو ! استفہام زجر و توبیخ اور تنبیہ و تذکیر کے لئے ہے۔ یعنی ایسا سمجھنا کہ ہم یونہی بےکار اور بےمقصد پیدا کئے گئے ہیں۔ سو ایسا سمجھنا بہت سنگین غلط فہمی اور ہولناک گمراہی ہے کہ اس سے پوری متاع زندگی ہی بےکار اور بےمقصد قرار پاتی ہے۔ اور اس کا انجام بڑا ہی بھیانک سخت اور انتہائی ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کائنات کی ایک ایک چیز تو بامقصد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 109–118

اللہ کے مقبول بندے تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔ آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 115–116

2 ۔ یعنی اللہ جو سچا بادشاہ ہے اس کی شان اس سے بلند ہے کہ وہ تمہیں بیکار اور بےمقصد پیدا کرے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:115) افحسبتم۔ میں ہمزہ استفہام کے لئے ہے حسبتم ماضی جمع مذکر حاضر حسبان مصدر۔ کیا تم نے گمان کیا۔ کیا تم نے جانا عبثا۔ خلقنکم سے حال ہے بمعنی عابثین۔ بےمقصد۔ بےفائدہ۔ یا یہ خلقنکم کا مفعول لہ ہے۔ فضول۔ لغو۔ عبث۔ انکم۔ معطوف ہے۔ اور انما معطوف علیہ۔ انما خلقنکم عبثا معطوف علیہ و حرف عطف انکم الینا لا ترجعون معطوف۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حشر کا ثبوت۔ (ف 1) ان آیتوں میں منکرین حشر کا یہ بھی جواب ہے کہ دنیا کے نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے پھر بھی دوبارہ جینا نہ ہوتا تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ہوتا جس سے اللہ کی شان پاک ہے اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں بھی عقل مند لوگ اس طرح کے بےفائدہ کام سے پرہیز کرتے ہیں ، جس طرح کا بےفائدہ کام یہ لوگ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مثلا کھیتی کرتے ہیں تواناج پیدا ہونے کی نیت سے ، باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کا ارادہ سے، پھر تمام مخلوقات کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا بغیر سزا وجزا کے اس کو بلانتیجہ ٹھہرانا ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 114–118

[44] یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی لیکن اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی فانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 106–116

منکرین کی محرومی وبدبختی : حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(115) کیا تم لوگوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے تم کو مہمل اور بےفائدہ اور کھیلنے کو پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جائوگے۔ اور واپس نہیں کئے جائوگے یعنی تمہارا پیدا کرنا حکمت سے خالی ہے۔ عبثا کے دو مطلب ہوسکتے ہیں یعنی تمہارا پیدا کرنا یہ ہم نے کوئی عبث اور محض بیکار کام کیا ہے۔ معاذ اللہ یا تم کو کھیل تماشے کے لئے پیدا کیا ہے ہم نے تو تم کو اس دارلتکلیف میں تکلیف کے لئے پیدا کیا ہے پھر دارالتکلیف سے دارالجزا کی طرف واپسی لازمی ہے جہاں محسن کو ثواب دیا جائے گا اور مجرم پر عتاب ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں تو نیکی اور بدی کا اثر نہیں ملتا اگر دوسرا دن نہ ہو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 115–117

ف 7۔ مطلب یہ کہ جب ہم نے آیات میں جن کا صدق دلائل صحیحہ سے ثابت ہے بعث و مجازاة کی خبر دی تھی تو معلوم ہوگیا تھا کہ مکلفین کی تخلیق کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے، اس کا منکر ہونا کتنا بڑا امر منکر تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سوچ کا وقت تو اب ہے کیا ہم نے تم کو عبث پیدا کردیا ؟ : 115۔ زیر نظر آیت میں مضمون کی اتنی وسعت پائی جاتی ہے کہ اگر اس کو کھولنا شروع کردیا جائے تو یہ بیسیوں صفحات سے بھی متجاوز ہوجائے اس کو کہتے ہیں کہ دریا کو کو زہ میں بند کردیا گیا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اے انسان اس دنیا میں اللہ نے جو کچھ پیدا کیا وہ صرف اور صرف تیرے لئے پیدا کیا کسی چیز کو اس کے ہونے سے اس کو کوئی فائدہ ؟ سورج کو ہونے سے سورج کا کوئی فائدہ ؟ چاند کے ہونے سے چاند کا کوئی فائدہ ؟ ان گنت تاروں اور سیاروں کے ہونے سے ان میں سے کسی ایک کا کوئی فائدہ ہے اپنے اردگرد چوطرفہ غور کرتے جاؤ ان سارے حیوانات پر غور کرو ‘ ان ساری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 108–115

وَلَا تُكَلِّمُونِ (Do not speak to Me - 23:108). According to Hasan al-Basri (رح) these will be the last words of the people who are cast in hell and in reply Allah will say, "Do not speak to Me." After this they will not be able to speak like human beings, but will make animal sounds to each other. Baihaqi and others have quoted Muhammad Ibn Ka` b as saying that the Qur'an mentions five requests made by the people condemned to hell. Out of the five, replies were furnished to four, but in reply to the fifth Allah commanded them not to speak to Him. Thus these are the last words to be uttered…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

102. The Arabic word abathan in the text also means“for the sake of sport”. Then the verse will mean: Did you think that We had created you merely for the sake of sport and there was no purpose behind your creation? Therefore you may eat, drink, be merry and enjoy yourself as you please.

Read the full tafseer →