Explained with ayahs 112–116
مختصر زندگی طویل گناہ
بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہوگئے اگر نیکوں کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کرلیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کرکے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کردیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الہٰی میں بسر کردیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِنُوْن 101
یعنی دنیا میں ہمارے نبی تم کو بتاتے رہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض امتحان کی چند گنی چنی ساعتیں ہیں، ان ہی کو اصل زندگی اور بس ایک ہی زندگی نہ سمجھ بیٹھو۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہاں کے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں کی خاطر وہ کام نہ کرو جو آخرت کی ابدی زندگی میں تمہارے مستقبل کو برباد کردینے والے ہوں۔ مگر اس وقت تم نے ان کی بات سنی ان سنی کردی۔ تم اس عالم آخرت کا انکار کرتے رہے۔ تم نے زندگی بعد موت کو ایک من گھڑت افسانہ سمجھا۔ تم اپنے اس خیال پر بضد رہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے، اور جو کچھ مزے لوٹنے ہیں یہیں لوٹ لینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
آیت 114-112
طول حیات کا مغالطہ
اب یہ واضح فرمایا کہ ظہور قیامت کو یہ جو بہت بعید چیز سمجھے ہوئے اس مغالطہ میں ہیں کہ اگر وہ آئی بھی تو اس کے آنے میں اتنی دیر ہے کہ ابیھ سے اس کی فکر میں اپنا عیش مکدر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ مغالطہ بہت جلد دور ہوجائے گا۔ فضخ صور کے بعد جب یہ اٹھیں گے تو ان کو محسوس ہوگا کہ جس زندگی کو بہت طویل سمجھے ہوئے تھے وہ پلک جھپکتے ختم ہوگئی۔
قال کا فاعل یہاں اللہ تعالیٰ یا کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ قال قآئل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی قیامت کو جب یہ اٹھیں گیت و انہیں میں سے کوئی پوچھنے والا پوچھے گا کہ بھلا بتائو، دنیا میں ہم کتنی مدت رہے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
114-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی کے مقابلے میں یقینا دنیا کی زندگی بہت ہی قلیل ہے۔ لیکن اس نکتے کو دنیا میں تم نے نہیں جانا کاش تم دنیا میں اس کی حقیقت سے دنیا کی بےثباتی سے آگاہ ہوجاتے، تو آج تم بھی اہل ایمان کی طرح کامیاب و کامران ہوتے۔
Read the full tafseer →35: یعنی اب تو تم نے خود دیکھا لیا کہ دنیا کا عیش ایک دن کا نہ سہی، مگر آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا سا تھا۔ یہی بات تم سے دنیا میں کہی جاتی تھی تو تم اسے ماننے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ کاش یہ حقیقت تم نے اس وقت سمجھ لی ہوتی تو آج تمہارا یہ حشر نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →قل ان لبثتم۔۔۔۔ تعلمون۔ اب دوبارہ ان کی سرزنش کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی۔ لیکن اگر اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی زائل وفانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔
Read the full tafseer →آیت 114 قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ”
آیت 84 سے شروع ہونے والے سلسلۂ کلام میں یہ آخری چار آیات خصوصی طور پر بہت جامع اور پرجلال ہیں۔ جیسا کہ آیت 84 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سورت کے اس حصے کی تلاوت قاری محمد صدیق المنشاوی نے بہت پر تاثیر انداز میں کی ہے۔ ان کی یہ تلاوت سننے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے سننے سے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے :
Read the full tafseer →106 یعنی یہی بات تو اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ اور ناپائیدار ہے۔ لہذا دنیا اور اس کے ساز و سامان پر مست نہ ہوجاؤ بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ لیکن اس وقت تو تم ہماری اس بات کا بھی مذاق اڑایا کرتے تھے اور یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بس یہ دنیا ہی دنیا اصل حقیقت ہے۔ لہذا ہم جتنے مزے اڑاسکتے ہیں اڑا لیں۔ پھر کب ایسا موقع ملے گا ؟ اور آج تم خود اس بات کا اقرار کر رہے ہو۔ کاش یہی بات تمہیں دنیا کی زندگی میں معلوم ہوجاتی۔
Read the full tafseer →98۔ ارشاد ہوگا کہ یہاں کے طول و دوام کے مقابلہ میں تم دنیا میں بیشک بہت ہی قلیل مدت کے لیے رہے، لیکن کاش تم نے دنیا ہی میں دنیا کے بےثبات اور زودفنا ہونے کا احساس کرلیا ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →قل ان لبثتم الا قلیلاً لو انکم کنتم تعلمون۔ ارشاد ہوگا تم (دنیا میں) تھوڑے ہی وقت رہے لیکن
کیا خوب ہوتا کہ (یہ بات دنیا میں) تم سمجھتے ہوتے۔
قَلِیْلاً یعنی پیش آنے والے عذاب کے مقابلہ میں تم تھوڑے وقت ہی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخرت میں یہ دنیا ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص اپنی انگلی (ذرا) سمندر میں ڈال (کر نکال لے) پھر دیکھے کہ انگلی (سمندر کے پانی سے) کیا لے کر لوٹی۔ رواہ احمد و ابن ماجۃ و مسلم عن المستورد۔
لَوْ اَنَّکُمْ لو تمنائی ہے جس کے اندر توبیخ و ملامت بھی ہے۔ یعنی کاش تم دنیا میں جان لیتے کہ وہاں تمہاری مدت قیام تھوڑی ہے پھر اس زندگی کو کھیل کود۔ تکمیل خواہشات اور نفس پرستی میں…
Read the full tafseer →(114) ارشاد خداوندی ہوگا خیر بہ نسبت دوزخ کے قیام کے تم قبروں میں تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا خوب ہوتا اگر تم میرے حکم کی تصدیق کرتے۔
Read the full tafseer →قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا۔۔ : اللہ تعالیٰ ان کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ واقعی تم دنیا میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کیونکہ دنیا اور اس کا سازو سامان فانی ہونے کی وجہ سے ہے ہی بہت تھوڑا، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۣ) [ النساء : 77 ] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت اس کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے۔“ مگر اب اس اعتراف کا کچھ فائدہ نہیں، کاش ! تم اس وقت یہ جانتے ہوتے تو اس مختصر سے وقت میں اپنے مالک کی فرماں برداری کر کے ہمیشہ کی جنتوں کے وارث بن جاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
آیت نمبر 112 تا 114 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل کم لبثتم فی الارض۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ قبور میں رہنے کے متعلق سوال ہوگا۔ بعض نے کہا : دنیا میں مدت حیات کے بارے میں سوال ہو گا یہ سوال مشرکین کیلئے قیامت کے عرصات میں یا دوزخ میں ہوگا۔ عدد سنین۔ نون کے فتحہ کے ساتھ کہ یہ جمع سالم ہے اور بعض عرب اسے جر دیتے ہیں اور تنوین دیتے ہیں۔ قالو لمثنا یو ما او یعض یوم عذاب کی شدت انہیں قبور میں ٹھرنے کی مدت بھلا دے گی۔ بعض نے کہا : چونکہ ان سے دونوں نفخوں کے درمیان عذاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ قبور میں عذاب کو بھول جائیں گے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس عذاب میں وہ تھے نفخہ اولی سے نفخہ ثانیہ تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
1۔ ابن ابی حاتم نے ایفع بن عبدالکلاعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل فرمادیں گے اور دوزخ والوں کو دوزخ میں تو جنت والوں سے فرمائیں گے آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنے سال رہے) تو وہ کہیں گے آیت ” لبثنا یوما او بعض یوم “ (یعنی ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے) پھر فرمایا وہ کتنی اچھی ہے جو تم نے تجارت کی ہے ایک پورے دن میں یا ایک دن سے کم میں میری رحمت میری رضا مندی اور میری جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو۔ پھر فرمائیں گے اے دوزخ والو ! آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنا رہے) وہ کہیں گے آیت ” لبثنا…
Read the full tafseer →[ قٰلَ ( اس نے فرمایا ][ اِنْ ( نہیں ][ لَّبِثْتُمْ ( تم ٹھہرے ][ اِلَّا ( مگر ][ قَلِيْلًا (بہت کم ][ لَوْ (کاش کہ ][ اَنَّكُمْ (کہ بیشک تم ][ كُنْتُمْ (ہو تم ][ تَعْلَمُوْنَ (تم سب جانتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے
کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →83:۔ ” قال ان لبثتم الخ “ اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا بیشک تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا میں بہت کم عرصہ رہے ہو ” لوانکم کنتم تعلمون “ مگر افسوس کہ تم نے اس قلیل وقت کی قدر نہ کی اور اس سے فائدہ نہ اٹھایا اب دوبارہ دنیا میں جا کر تم کیا کرلو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 114
لبث
لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ،
( ل ب ث ) لبث بالمکان
کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔
قل
القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60]
( ق ل ل )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
ترکیب : : قال یقر علی لفظ الماضی عنداہل الکوفۃ وبلفظ الامرعنداہل الحرمین والبصرۃ والشام کم ظرف ہے لبثتم کا اے کم سنۃ لبثتم فی الدنیا و فی قبورکم۔ عدد بدل ہے کم سے اور سنین اس سے عددسنین تمیز بھی ہوسکتا ہے۔ عادین بالتشدید من العددای شمار کرنے والے۔ وبالتخفیف علی معنی العادین اے المتقدمین کقولک ھذہ برعاویۃ ای سل من تقدمنا لو کا جواب محذوف ای ماا اجبتم بھذہ المدۃ عبثا مصدر فی موضع الحال او مفعول لہ و انکم معطوف ہے انما پر انہ بالکسر علی الاستیناف۔
تفسیر :۔ منکرین قیامت سے بطور توبیخ کے وہاں یہ بھی سوال ہوگا کم لبثتم فی الارض الخ کہ جو تم کہتے تھے مر کر جینا نہیں اور زندگی ہے تو دنیا ہی کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
قٰـلَ کَمْ لَبِثْـتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ ۔ قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ ۔ قٰـلَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْاَنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
(المومنون : 112 تا 114)
(اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا سالوں کے حساب سے تم زمین میں کتنا عرصہ رہے ہو۔ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔ ارشاد ہوگا تم تو بس تھوڑی ہی مدت رہے ہو، کاش تم نے یہ اس وقت جانا ہوتا۔ )
طولِ حیات کا مغالطہ
قریش کے عقیدے کی سب سے بڑی خرابی کا سبب شرک ہے جس نے ان کے انفرادی اور اجتماعی تشخص کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں سے ایک اور سوال :۔
انسان کی بغاوت اور نافرمانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ سمجھتا ہے مرنے کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش نہیں ہونا۔ جہنمیوں کی حسرتوں میں اضافہ کرنے اور دنیا میں دی جانے والی مہلت کا احساس دلانے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے استفسار فرمائیں گے۔ بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے تھے ؟ جہنمی جہنم کی ہولناکیوں سے گھبرا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی فریاد کریں گے کہ الٰہی ہمیں کچھ یاد نہیں کہ ہم کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ آپ…
Read the full tafseer →قراءت : مکی و علی نے فَسَلْ بلا ہمزہ پڑھا ہے۔
114: قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا (ارشاد ہوگا تم دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر تھوڑا تھوڑا۔ لَّوَاَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (لیکن کیا خوب ہوتا ہے کہ تم سمجھتے ہوتے) دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کے قلیل ہونے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق فرمائی اور ان کی غفلت پر ان کو متنبہ کیا۔
قراءت : حمزہ و علی نے قُلْ اِنْ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →114۔ قال ان لبثتم، جتنی مدت تم دنیا میں ٹھہرے ہو ۔ الاقلیلا ، اس کو قلیل اس وجہ سے کہا گیا کہ اگرچہ دنیا میں کتنی مدت ہی وہ ٹھہرے ہوں تو وہ قیامت وآخرت کے مقابلے میں دنیا کی مدت کو قلیل ہی سمجھیں گے اور قبراس کامنتہی ہے۔ لوانکم کنتم تعلمون جتنی مقدرا میں تم دنیا میں ٹھہرے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
112۔ 114:۔ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے جس طرح ان سے یہ پوچھا جاوے گا کہ کیا تم کو قرآن کی آیتیں نہیں سنائی گئیں اور تم نے ان کو نہیں جھٹلایا ‘ اسی طرح یہ بھی ان سے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبیٰ کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا ‘ آخر تم کو کچھ یہ بھی یاد ہے کہ دنیا میں تم کتنے برس رہے ‘ عذاب کی سختی کے سبب سے یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے ‘ اس لیے بدحواسی کا جواب دیویں گے کہ جن کی صحیح گنتی یاد ہو ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے۔ اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن یا اس سے بھی کچھ کم رہے ‘ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →128 دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر : سو ان کو جواب ملے گا واقعی تم لوگ دنیا میں بہت ٹھہرے تھے کہ دنیا کی زندگی بہرحال فانی اور محدود تھی جو کہ گزر چکی۔ جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور لامحدود ہے۔ اور محدود کی لامحدود کے مقابلے میں بہرحال کوئی نسبت ہی نہیں۔ مگر دنیا کے اس دارالامتحان میں جہاں کہ اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے ان غفلت شعاروں کو نہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی یہ اس کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل چیز مادہ و معدہ کے تقاضوں کی تکمیل ہی ہے اور بس۔ اور اسی کو یہ لوگ مقصد حیات بنائے ہوئے اور خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–118
اللہ کے مقبول بندے
تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔
آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →1 ۔ یعنی واقعی تمہاری موجودہ زندگی کے مقابلے میں تمہاری دنیوی زندگی کی مقدار کچھ بھی نہ تھی۔ کاش تم نے یہ دنیا میں رہتے ہوئے جانا ہوتا۔ تمہیں یہی چیز ہمارے پیغمبر ﷺ سمجھاتے رہے مگر تم نے ان کی ایک نہ سنی اور الٹا ان کا مذاق اڑاتے رہے۔
Read the full tafseer →(23:114) ان البثتم میں ان نافیہ ہے۔ ای ما لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ لو۔ اگر شرطیہ ہے تو اس کا جواب محذوف ہے۔ یعنی اگر تم دنیاوی زندگی کی مدت قلیل کو جانتے ہوتے اور اخروی زندگی کی نہ ختم ہونے والی مدت کو بھی جانتے ہوتے تو تم دنیاوی زندگی کو گناہ وعصیان میں نہ گذارتے اور آج ذلیل و خوار نہ ہوتے۔ اور جہنم کے عذاب میں بھی ہمیشہ کے لئے مبتلا نہ ہوتے۔
اور اگر لوحرف تمنا ہے تو جواب کی ضرورت نہیں صرف ان کے انجام پر حسرت کا اظہار ہے۔ یعنی کاش تم دنیاوی زندگی کی قلت زمانی کو جانتے ۔ اور برے کاموں سے بچے رہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
(ف 1) مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبی کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا، آخر تم کو کچھ بھی یاد ہے دنیا میں تم کتنے برس رہے عذاب کی سختی کے سبب یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے اس لیے بدحواسی کا جواب دیں گے کہ جو فرشتے ہم پر مامور تھے ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے، اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن، یا اس سے بھی کچھ کم رہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب تم کو دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہیں، لیکن اگر یاد کرکے تم اس مدت کو اس وقت جان بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
[44] یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی لیکن اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی فانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
منکرین کی محرومی وبدبختی :
حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…
Read the full tafseer →(114) ارشاد ہوگا تم زمین پر تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا خوب ہوتا اگر تم بھی اس کو جانتے۔ یعنی صحیح مدت معلوم ہو یا نہ ہو مگر اتنا تو جانتے ہو کہ بہت تھوڑے دن رہے ہو اگر اس کو زندگی میں سمجھ لیتے اور دنیا کی فنا اور آخرت کی بقا سمجھ کر ایمان لے آتے تو آج کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا اور عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔ آگے اور اسی کافرانہ روش پر تنبیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
ف 6۔ یعنی فرشتوں سے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ تم تھوڑی ہی مدت رہے لیکن کاش کہ یہ بات تم اس وقت سمجھ جاتے :
114۔ ان سے کہا جائے گا کہ بلاشبہ تم دنیا میں رہے تو بہت کم لیکن وہ کمی اس آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلہ میں بہت کم کہی جاسکتی ہے ورنہ تم غور کرو کہ اس دنیا مین تم پیدا ہوئے اس میں تمہارا بچپن گزرا ‘ تم جوان ہوئے ‘ تم نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کی مخالفت میں کمر کسی اور اللہ کے دین کے ماننے والوں کو طرح طرح سے تنگ گیا ‘ ان کا مذاق اڑایا ‘ ان سے استہزا کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے مستفید ہوئے اور اس کی ذات کا انکار بھی کیا اور اس طرح کرتے کرتے جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو اب تم کو وقت گزر جانے کے بعد پچھتاوا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
وَلَا تُكَلِّمُونِ (Do not speak to Me - 23:108). According to Hasan al-Basri (رح) these will be the last words of the people who are cast in hell and in reply Allah will say, "Do not speak to Me." After this they will not be able to speak like human beings, but will make animal sounds to each other. Baihaqi and others have quoted Muhammad Ibn Ka` b as saying that the Qur'an mentions five requests made by the people condemned to hell. Out of the five, replies were furnished to four, but in reply to the fifth Allah commanded them not to speak to Him. Thus these are the last words to be uttered…
Read the full tafseer →101. That is, Our Messengers warned you that the life in this world is transitory and is for test and trial, but you did not realize it then and denied that there was any life in the Hereafter and behaved in accordance with that belief.
Read the full tafseer →