Explained with ayahs 1–2
مسئلہ رجم
اس بیان سے کہ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔ فرضناھا کے معنی مجاہد و قتادہ ؒ نے یہ بیان کئے ہیں کہ حلال و حرام، امرو نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔ امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کردیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔ پھر زنا کاری کی شرعی سزا فرمائی۔ زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 1
ان سب فقروں میں " ہم نے " پر زور ہے۔ یعنی اس کا نازل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ " ہم " ہیں، اس لیے اسے کسی بےزور ناصح کے کلام کی طرح ایک ہلکی چیز نہ سمجھ بیٹھنا۔ خوب جان لو کہ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس کے قبضے میں تمہاری جانیں اور قسمتیں ہیں، اور جس کی گرفت سے تم مر کر بھی نہیں چھوٹ سکتے۔ دوسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو باتیں اس سورے میں کہی گئی ہیں وہ " سفارشات " نہیں ہیں کہ آپ کا جی چاہے تو مانیں ورنہ جو کچھ چاہیں کرتے رہیں، بلکہ یہ قطعی احکام ہیں جن کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اگر مومن اور مسلم ہو تو تمہارا فرض ہے کہ ان کے مطابق عمل کرو۔
تیسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو…
Read the full tafseer →سورة نور مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی چونسٹھ آیتیں اور نو رکوع ہیں
سورة نور کی بعض خصوصیات
اس سورت میں زیادہ تر احکام عفت کی حفاظت اور ستر و حجاب کے متعلق ہیں اور اسی کی تکمیل کے لئے حد زنا کا بیان آیا۔ پچھلی سورت یعنی مومنون میں مسلمانوں کی فلاح دنیا و آخرت کو جن اوصاف پر موقوف رکھا گیا ہے ان میں ایک اہم وصف شرمگاہوں کی حفاظت تھی جو خلاصہ ہے ابواب عفت کا۔ اس سورت میں عفت کے اہتمام کے لئے متعلقہ احکام ذکر کئے گئے ہیں، اسی لئے عورتوں کو اس سورت کی تعلیم کی خصوصی ہدایات آئی ہیں۔
حضرت فاروق اعظم نے اہل کوفہ کے نام اپنے ایک فرمان میں تحریر فرمایا علموا نساء کم سورة النور، یعنی اپنی عورتوں کو…
Read the full tafseer →سورة کی اہمیت کا اظہار
یہ سورة ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورة مئومنون کے تکملہ و تتمہ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے بغیر کسی خاص تمہید کے محض ایک تنبیہ سے شروع ہوگئی ہے۔ حذف مبتداء جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں اس بات کا قرینہ ہے کہ مقصود و مخاطب کی ساری توجہ کو خبر پر مرکوز کرانا ہے جس سے اس سورة کی اہمیت و عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایک عظیم سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ ہم نے نازل کیا ہے ‘ یعنی اس کو کوئی معمولی چیز اور ہوائی بات نہ سمجھو بلکہ یہ ہمارا اتارا ہوا کلام اور ہمارا نازل کردہ فرمان ہے اس وجہ سے اس کی ہر بات کی تعمیل ہمارے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے کی جائے۔ ’ و…
Read the full tafseer →1-1قرآن کریم کی ساری ہی سورتیں اللہ کی نازل کردہ ہیں، لیکن اس سورت کی بابت جو یہ کہا تو اس سے اس سورت میں بیان اہم تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →سورة انزلنھا۔۔۔۔۔۔۔ تذکرون
یہ پورے قرآن مجید میں اپنی نوعیت کا واحد مطلع کلام ہے۔ اس میں جو نیا لفظ ہے وہ فرضنھا کا ہے ‘ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورة میں جو کچھ ہے اس کا اخذ کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ یعنی اس کے اندر مذکور آداب پر عمل کرنا بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح حدود پر عمل کرنا لازمی ہے۔ یہ اخلاق و عادات نہایت ہی فطری ہیں۔ ان آداب اور اخلاق کو لوگ بعض ایسے عارضی حالات کی وجہ سے بھول جاتے ہیں جو انسان کو دھوکہ دے کر بدراہ کردیتے ہیں ‘ یہ آیات ایسے لوگوں کو یاد دہانی کرا کے راہ راست دکھاتی ہیں اور پھر ان کو راہ فطرت پر واپس لاتی ہیں جو بالکل واضح ہے۔
اس دو ٹوک…
Read the full tafseer →1 یہ سورت بعض نہایت ضروری احکام و حدود، امثال و مواعظ، حقائق توحید اور بہت ہی اہم تنبیہات و اصلاحات پر مشتمل ہے اس کا سب سے زیادہ ممتاز اور سبق آموز حصہ وہ ہے جس کا تعلق قصہ " افک " سے ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر منافقین نے جو جھوٹی تہمت لگائی تھی اس میں بعض سادہ دل اور مخلص مسلمانوں کے پائے استقامت کو بھی قدرے لغزش ہوگئی تھی۔ جس کا خطرناک اثر نہ صرف عائشہ صدیقہ کی پوزیشن پر پڑتا تھا، بلکہ ایک حیثیت سے خود پیغمبر (علیہ السلام) کی بارگاہ مجدد شرف تک پہنچتا تھا، اس لیے ضروری ہوا کہ قرآن کریم پورے اہتمام اور قوت سے ایسی خوفناک غلط کاری یا غلط فہمی کی اصلاح کرے اور ہمیشہ کے لیے…
Read the full tafseer →آیت 1 سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا ”
سورت کے آغاز کا یہ انداز تمام سورتوں میں منفرد ہے۔ ”سُوْرَۃٌ“ کا لفظ یہاں پر بطور اسم نکرہ استعمال ہوا ہے۔ اس کو اگر تفخیم کے لیے مانا جائے تو اس کے معنی یوں ہوں گے کہ یہ ایک عظیم سورت ہے۔
Read the full tafseer →2 اس سورة کی پہلی آیت بطور تمہید ہے۔ جس میں صیغہ جمع متکلم کا تین بار تکرار کرکے اس سورة میں نازل کردہ احکام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز فرمایا کہ ان احکام کی حیثیت بعض سفارشات کی نہیں بلکہ ان پر عمل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ احکام ہیں بھی ایسے جس میں کسی قسم کا الجھاؤ یا ابہام نہیں تاکہ ہر کوئی حکم تم پر مشتبہ ہوجائے۔ اور ان احکام کو تمہیں ہر وقت یاد رکھنا چاہئے بھولنا نہیں چاہئے۔
Read the full tafseer →1۔ (اور ان احکام پر عمل کرو) (آیت) ” انزلنھا “۔ یعنی اس کے الفاظ کو نازل کیا ہے۔ (آیت) ” فرضنھا “۔ یعنی اس کے مضامین ومطالب ہم نے مقرر کیے ہیں، مراد احکام سے ہے۔ (آیت) ” ایت بینت “۔ یعنی ان احکام پر کھلی ہوئی دلالت کرنے والی آیتیں۔ قرآن مجید تو ظاہر ہے کہ سارے کا سارا حق تعالیٰ ہی کا نازل کیا ہوا اور اس کے احکام اسی کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ پھر یہاں خصوصیت کے ساتھ ان چیزوں کو اپنی جانب منسوب کرنے کے معنی بجز اس کے اور کیا ہوسکتے ہیں کہ اس سورت اور اس کے مندرج احکام کی اہمیت خاص طور پر ذہن نشین کرائی جائے۔۔ حدیث صحیح میں بھی حکم آیا ہے کہ اپنی عورتوں کو سورة النور کی تعلیم دو ، سورت کے مرکزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا…
Read the full tafseer →سورة انزلنہا یہ ایسی سورة ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔
اَنْزَلْنٰہَا۔ سُورَۃٌکی صفت ہے۔
وفرضنہا یعنی جو احکام ہم نے بذریعۂ وحی بھیجے ہیں ان پر عمل کرنا تمہارے لئے لازمی کردیا ہے ‘ بعض نے کہا
فَرَضْنٰہَا کا یہ معنی ہے کہ ہم نے تفصیل کے ساتھ الگ الگ کھول کھول کر اس کو بیان کردیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے فَرَضْنٰہَا کا ترجمہ کیا قَدَّرْنَاہَا یعنی اس کے اندر حدود ہم نے مقرر کردی ہیں۔
وانزلنا فیہا ایت بینت لعلکم تذکرون۔ اور ہم نے اس کے اندر کھلی آیات نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو 1 ۔[ 1 گو معاشرہ کی خشت اوّل ہے۔ گھر کے ماحول کو پاکیزہ اور مسرت بخش بنائے بغیر ایک پاکیزہ اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل…
Read the full tafseer →(1) یہ سورت ہے جس کے الفاظ کو ہم نے بذریعہ جبریل امین ؑ نازل کیا ہے اور اس کے حلال و حرام کو بھی ہم ہی نے مقرر کیا ہے اور اس صورت میں ہم نے واضح طور پر اوامرو نواہی اور فرائض و حدود کو بیان کیا ہے تاکہ تم اوامرو نواہی کو سمجھو اور حدود کو معطل نہ کرو۔
Read the full tafseer →سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا :”سُوْرَةٌ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے اور یہ مبتدا محذوف ”ھٰذِہِ“ کی خبر ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”(یہ) ایک عظیم سورت ہے۔“
”اَنْزَلْنٰهَا“ (ہم نے اسے نازل کیا) یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے (ہم نے) کے ساتھ فرمایا ہے، بلکہ ”اَنْزَلْنٰهَا“ ”فَرَضْنٰهَا“ اور ”َاَنْزَلْنَا فِيْهَآ“ تینوں میں زور جمع متکلم کے صیغہ ”ہم نے“ پر ہے، یعنی اس کا نازل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ”ہم“ ہیں۔ اس لیے اسے کسی بےاختیار واعظ کی بات سمجھ کر ہلکا نہ سمجھ بیٹھنا، بلکہ خوب جان لو کہ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس کی مٹھی میں ساری کائنات ہے، جو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ الزانیۃ و الزانی زنا لغت میں شریعت سے پہلے بھی معروف تھا جیسے سرقہ (چوری) اور قتل کے اسم پہلے موجود تھے۔ زنا کا مطلب ہے مرد کا عورت کی فرج (شرمگاہ) میں بغیر نکاح اور بغیر شبہ نکاح کے عورت کی رضا کے ساتھ جماع کرنا۔ اگر تو چاہے تو یوں بھی کہہ سکتا ہے فرج کا طبعا مشتبی فرج میں داخل کرنا جو شرعاً حرام ہو۔ جب ایسی صورت ہو تو حد واجب ہوتی ہے۔ زنا کی حد اور اس کی حقیقت اور اس کے متعلق علماء کے اقوال گزر چکے ہیں یہ آیت حبس کی آیت اور اذیت والی آیت جو سورة نساء میں ہے ان کے لیے بالا تفاق ناسخ ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مائۃ جلدۃ۔ یہ آزاد، بالغ،…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حارثہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” سورة انزلنہا وفرضناہا “ یعنی ہم نے اس کو بیان کیا
2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وفرضناہا “ یعنی ہم نے اس کی تفسیر کی کہ حلال کا حکم دیا ور حرام سے روکا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وفرضناہا “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنے فرائض کو فرض فرمایا اس کے حلال کو حلال فرمایا اور اس کے حرام کو حرام فرمایا اور اس کی حدود کو معین فرمایا ور اپنی اطاعت کا حکم فرمایا اور اپنی نافرمانی سے…
Read the full tafseer →[ سُوْرَةٌ: (یہ) ایک ایسی سورت ہے ] [ اَنْزَلْنٰهَا : ہم نے اتارہ جس کو ] [ وَفَرَضْنٰهَا : اور ہم نے فرض کیا جس کو ] [ وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [ فِيْهَآ : جس میں ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح آیات ] [ لَّعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ][ تَذَكَّرُوْنَ : (1) نصیحت حاصل کرو ]
نوٹ ۔ 1: زیر مطالعہ آیت ۔ 2 ۔ کا حوالہ اس سے پہلے سورة النساء کی آیت 15 ۔ کے نوٹ۔ 2 میں آچکا ہے اور وہیں پر رجم کی سزا کی بات بھی ہوچکی ہے۔ اب اس ضمن میں وہ ضروری باتیں ذہن نشین کرلیں۔ اولاً یہ کہ ” اسلامی قانون حکومت کے سوا کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ زنی اور زانیہ کے خلاف کاروائی کرے۔ اور عدالت کے سوا کسی کو…
Read the full tafseer →احکام شرعیہ پر عمل کرنا لازمی ہے زانیہ اور زانی کی سزا سو کوڑے ہیں
اس سورت کا پانچواں رکوع (اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ ) سے شروع ہے اس لیے یہ سورت سورة النور کے نام سے موسوم اور معروف ہے اس کے شروع میں عفت اور عصمت کی حفاظت کا بیان ہے اور زنا کرنے والوں اور تہمت لگانے والوں کی سزا مذکور ہے اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے یہ سورة نازل کی اور اس میں جو احکام ہیں ان پر عمل کرنے کی ذمہ داری ڈالی ہے (قَرَضْنٰھَا) کا یہ ترجمہ اس لیے کیا گیا کہ اس سورت میں جو احکام مذکور ہیں وہ سب فرض نہیں ہیں البتہ مومن بندوں کو سب پر عمل کرنا چاہئے ان میں فرائض بھی ہیں اور غیر فرائض بھی ہیں) پھر فرمایا…
Read the full tafseer →تمہید اجمال احکام سورت دربارہ عفت و عصمت
قال اللہ تعالیٰ ۔ سورة انزلنھا وفرضنھا وانزلنا فیہا آیات بینت لعلکم تذکرون۔
یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے اتارا ہے۔ جو عفت اور عصمت کے احکام پر مشتمل ہے، جیسے حد زنا اور حد قذف اور حکم لعان اور حکم استیذان اور حکم غض بصر۔ یعنی نظر اور بصر کو نامحروموں کو دیکھنے سے محفوظ رکھنے کا حکم وغیرہ وغیرہ۔ اور ہم نے ان احکام کو مقرر کیا ہے۔ یعنی یہ احکام ہمارے نازل کردہ اور مقرر کردہ ہیں ان میں کوتاہی نہ کرنا، یا یہ معنی ہیں کہ ان احکام کو ہم نے فرض اور لازم کیا ہے۔ تم پر ان احکام کی تعمیل لازم ہے اور ہم نے اس سورت میں تمہارے لیے واضح اور روشن آیتیں نازل کیں جو ایسی…
Read the full tafseer →2:۔ پہلا حصہ : تمہید، ترغیب الی القرآن، اصلاح معاشرہ کے لیے چار احکام، تہمت لگانے والوں پر زجریں، پھر اصلاح و تطہیر معاشرہ کے لیے چھ قوانین، دعوی توحید جس کی وجہ سے منافقوں نے تہمت لگائی، دعوی توحید پر ایک نقلی اور تین عقلی دلیلیں۔
” سورة انزلنھا الخ “: ” سورة “ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھذہ سورة اور انزلنھا مع معطوفات، سورة کی صفت ہے (مدارک) یہ سورت میں بیان کردہ احکام کی تمہید اور ان کی تعمیل کی ترغیب ہے یعنی اس عظیم القدر سورت میں مسئلہ توحید اور ستر و عفاف کے بارے میں احکام بیان کیے گئے ہیں ان کو ماننا اور ان پر عمل کرنا ہم نے تم پر فرض کردیا ہے۔ ” انزلنا “ ماضی بمعنی حال ہے یعنی یہ سورت…
Read the full tafseer →نام اور کوائف :
اس سورة کا نام سورة نور ہے جو اس کی آیت اللہ نور السموت والارض سے ماخوذ ہے۔ اس سورة مبارکہ کی دوسری وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں ایسے احکام وقوانین بیان کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چونسٹھ آیات ، نورکوع ، 1316 الفاظ اور 5980 حروف ہیں۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔
زمانہ نزول :
اس سورة میں واقعہ افک بیان ہوا ہے جو کہ 6 ھ میں پیش آیا۔ قبیلہ بنی مصطلقی کے لوگ اکثر اسلام دشمن کاروائیوں میں ملوث رہتے تھے۔ جب ان کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں ، تو حضور ﷺ نے ان کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور خود مجاہدین کی قیادت فرمائی۔ اس سفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا وَاَنْزَلْنَا فِيْہَآ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 1
زنا
الزِّنَاءُ : وطء المرأة من غير عقد شرعيّ ، وقد يقصر، وإذا مدّ يصحّ أن يكون مصدر المفاعلة، والنّسبة إليه زَنَوِيٌّ ، وفلان لِزِنْيَةٍ وزَنْيَةٍ قال اللہ تعالی: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلَّا زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُها إِلَّا زانٍ [ النور/ 3] ، الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي [ النور/ 2] ، وزنأ في الجبل بالهمز زنأ وزنوءا، والزّناء : الحاقن بوله، و «نهي الرّجل أن يصلّي وهو زناء» «3» .
( ز ن ی ) الزنا
عقد شرعی کے بغیر کسی عورت سے ہم بستری کرنے کا نام زنا ہے یہ اسم مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : سورة مبتداء محذوف کی خبر اے ھذہ انزلناھا سورة کی صفت فا جلدوا الزانیۃ و الزانی کی خبر مائۃ منصوب ہے مفعول مطلق کی صفت ہو کر وکذا ثمانین۔
تفسیر : ابن مردویہ نے روایت ابن عباس و ابن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے۔ سورة مومنون کے خاتمہ میں اس دعا کرنے کا حکم دیا تھا کہ اے رب ! ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر کیونکہ تو بڑارحم والا ہے۔ رحمتِ الٰہی اس کی مخلوق بالخصوص انسان پر ہمہ وقت سایہ افگن ہے مگر اس رحمت سے محروم کرنے والی یا یوں کہو اس نور کا حجاب دو ہی چیزیں ہیں : اول خالق سے سرکشی اس سے غفلت ‘ دوسرے معبودوں کی طرف التفات۔ اس کا…
Read the full tafseer →سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰـھَا وَفَرَضْنٰـھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْھَـآ اٰیٰتٍ م بَـیِّنٰتٍ لَّعَلَّـکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔
(النور : 1)
(یہ ایک اہم سورة ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکامات ہم نے فرض ٹھہرائے ہیں اور ہم نے اس میں نہایت واضح آیات اتاری ہیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو)
آغاز میں تین اہم نکات
اس سورة کا آغاز بغیر کسی تمہید کے غیرمعمولی طریقے سے کیا جارہا ہے۔ اس کا اندازِ بیان وہ ہے جو کسی آئین اور دستور کا ہوتا ہے۔ اَنْزَلْنٰـھَا کا لفظ اپنے اندر ایک خاص تمکنت اور جلال رکھتا ہے۔ قرآن کریم کا ایک ایک حرف اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے لیکن کسی سورة کے آغاز میں یہ اسلوب اختیار نہیں فرمایا۔ اس سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة المؤمنوں کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو پکارتے ہیں ان کے پاس اس باطل عقیدہ کی کوئی دلیل نہ ہے۔ ان کا حساب ” اللہ “ کے ذمہ ہے ” اللہ “ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کرنے والے کامیاب نہیں ہونگے۔ اے رسول آپ اپنے رب سے مغفرت اور اس کا رحم مانگئے۔ سورة النور کا آغاز ان الفاظ سے ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا فرض ہے۔ گویا کہ جو شخص اپنے رب کی بخشش اور مہربانی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے ” اللہ “ کی توحید کا اقرار اور اس کے احکام پر عمل کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کا نام النّور رکھ کر یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اگر مسلمان…
Read the full tafseer →1: سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْہَآ ٰایٰتٍ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (یہ ایسی سورة ہے کہ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کو فرض کیا اور اس کے اندر کھلی آیات نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو) ۔
سُوْرَۃٌ: یہ مبتدأمحذوف ھذہٖ کی خبر ہے۔
اَنْزَلْنٰھَا (ہم نے اس کو اتارا ہے) یہ سورة کی صفت ہے۔
قراءت : طلحہ کی قراءت میں سورة پڑھا گیا ہے اس صورت میں ترکیب زیدا ضربتہُ کے انداز سے ہوگی : ای انزل سورة انزلنھا نمبر 2۔ اتل سورة ۔ فعل محذوف کا مفعول بنے گی۔ السورۃؔ ایسا مجموعہ کلام جو کئی جملوں پر مشتمل ہو جس کی ابتداء بھی ہو اور اختتام بھی۔ یہ سورة المدینہؔ کے محاورہ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
1۔ سورہ، یہ سورت ، انزلناھا وفرضناھا ، ابن کثیر ابوعمرو ، وفرضناھا ، راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
ہم نے وحی کے ذریعے سے تم پر جو احکام لاگو کیے ہیں ان پر عمل کرنا تمہارے لیے لازمی اور ضروری ہے بعض اہل تفاسیر کا قول ہے کہ ہم نے اس کے اندر حد مقرر کردی ہیں اللہ کا فرمان ، فنصف مافرضتم، ہم نے تمہارے لیے یہ حد مقرر کردی ہے اور تخفیف کی دلیل اللہ کافرمان، ان الذی فرض علیک، القرآن۔ تشدید کی صورت ہو تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ کہ ہم نے اس کو تمہارے لیے کھول کھول کر بیان کردیا اور بعض نے کہا کہ ھوبمعنی فرض کے ہے جو ایجاب کے معنی میں ہے تشدید تکثیر کے…
Read the full tafseer →1:۔ یوں تو سارا قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل فرمایا ہوا ہے لیکن اس سورت میں بدکاری کی شہادت ‘ اس کی سزا کے اسی طرح اور خاص خاص حکم تھے ‘ اس لیے تاکید کے طور پر فرمایا کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے ‘ اس میں جو احکام صاف لفظوں میں نازل کئے گئے ہیں ‘ ان کی پابندی ہر ایماندار شخص پر لازم ہے اور ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی اور یاد رکھنی چاہیے کہ آیٔندہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے یہ احکام اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق نازل فرمائے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے مخزومیہ عورت کے چوری کے معاملے میں خطبہ پڑھا اور اس خطبہ میں فرمایا کہ…
Read the full tafseer →تفسیر سورة النور آیت نمبر (1
(سورۃ) یعنی یہ عظیم القدر سورت (انزلنھا) ” ہم نے اسے (بندوں پر رحمت کے طور پر) نازل کیا “ اور ہر شیطان سے اس کو محفوظ رکھا (وفرضنھا) یعنی ہم نے اس میں حدود اور شہادات کا ضابطہ وغیرہ مقرر کیا (وانزلنا فیھا ایت بینت) اور ہم نے اس میں جلیل القدر احکام ‘ اور امر و نواہی اور عظیم الشان حکمتیں نازل کیں (لعلکم تذکرون) یعنی جس وقت ہم تمہارے سامنے یہ احکام بیان کریں اور ہم تمہیں ان امور کی تعلیم دیں جن کا تمہیں علم نہیں تھا تب شاید تم نصیحت پکڑو۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ احکام بیان کرنا شروع کئے جن کی طرف گزشتہ آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے ‘ چناچہ فرمایا :
Read the full tafseer →1 سورة نور ایک عظیم الشان سورة : سو اس سورة کریمہ کے آغاز ہی میں واضح فرما دیا کہ یہ ایک عظیم الشان سورت ہے۔ یعنی سورة کی تنوین تفخیم و تعظیم کے لیے ہے۔ اور ترکیب میں یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی۔ اور اس کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت مجاہد (رح) کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مردوں کو سورة مائدہ سکھاؤ اور عورتوں کو سورة نور۔ اور حضرت حارث بن مضرب کہتے ہیں کہ حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے ہماری طرف لکھ بھیجا کہ اپنی عورتوں کو سورة نساء، سورة نور اور سورة احزاب کی تعلیم دو ۔ (روح، فتح، قرطبی، مراغی، جمل اور معارف وغیرہ) ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ سورة کریمہ بطور خاص ایسی تعلیمات پر…
Read the full tafseer →سورة نور کی فضیلت
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی رشدو ہدایت اور حق و صداقت کی باتوں سے بھرا ہوا ہے کیونکہ یہ اس جلیل القدر عظیم و حکیم کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو حق اور سچ ہے۔ مگر اس سورت کا دیباچہ اللہ رب العزت نے کچھ تھوڑا مختلف دیا ہے۔ سب سے پہلے تو ” ہم “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو بات کہنے والے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے فقرے میں ان احکامات کا ماننا ہر مسلمان کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کو مانتے ہو تو اس کے احکامات کو بھی ماننا لازمی ہے۔ یہ نہیں کہ چاہو تو مانو چاہو تو نہ مانو۔ اس کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔
تیسری بات جو واضح کر کے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس سورت میں جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة النور :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی اس میں حلال و حرام اور حدود سے متعلق جو احکام دیئے گئے ہیں ان کی حیثیت ہمارے عائد کردہ فرض کی ہے۔ لہٰذا ان کا بجا لانا ناگزیر ہے۔
Read the full tafseer →24:1) سورۃ۔ خبر۔ جس کا مبتدا محذوف ہے ای ھذہ سورۃ۔ فرضنھا۔ ماضی جمع متکلم۔ فرض مصدر ھاضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع لفظا سورة ہے لیکن اس سے مراد وہ احکام ہیں جو اس سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ ای فرضنا احکامھا۔ ہم نے (ان احکام کو جو) اس میں ہیں (ان کا بجا لانا سلف وخلف پر) فرض کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :
انزلنا (ہم نے اتارا۔ نازل کیا) ‘ فرضنا (ہم نے لازمی کیا۔ ہم نے فرض کیا) ‘ اجلدوا ( مارو) ‘ مائۃ (ایک سو) ‘ جلدۃ (کوڑے) ‘ لاتأ خذ (نہ پکڑے) ‘ رأفۃ ( ترس اور رحم) ‘ یشھد (دیکھے۔ موجود رہے) ‘ طائفۃ (ایک جماعت) حرم (حرام کردیا گیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
قرآن کریم ہر آیت اور سورت کی اپنی اہمیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سورة نور کو جس شان و شوکت ‘ اہتمام اور انوکھے انداز سے شروع کیا ہے وہ اس میں بیان کئے گئے احکامات کی اہمیت کو بہت واضح کردیتی ہے تاکہ معاشرہ کا ہر فرد اس سورت میں بیان کئے گئے احکامات کی پوری طرح پابندی کرسکے۔ سنگین گناہوں اور معاشرہ کی بد ترین…
Read the full tafseer →زنا کی سزا کے احکام۔
(ف 1) یوں تو سارا قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل فرمایا ہوا ہے ، لیکن اس سورت میں بدکاری کی شہادت، اس کی سزا کے، اسی طرح اور خاص خاص حکم ہیں لیکن تاکید کے طور پر فرمایا کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اس میں جو احکام صاف لفظوں میں نازل کیے گئے ہیں ان کی پابندی ہر ایماندار شخص پر لازم ہے اور پہلو تہی کرنا بڑے وبال کی بات ہے۔
Read the full tafseer →رجم کی سزا :
(ف 2) قرآن حکیم کی یہ پہلی صورت ہے ، جسے اس اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے گو پورا قرآن اللہ کی جانب سے رہے ، اور مسلمانوں کے لئے اس کا ماننا اور تسلیم کرنا لازم اور ضروری ہے نیز قرآن کی ہر سورت میں آیات بینات کا ذخیرہ ہے مگر اس سورت کو ان خصوصیات کے ساتھ مختص کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمدن اور کلچر کے مسائل مہہ کو بیان کیا گیا ہے ، اور ان معاشرتی گھتیوں کو سلجھایا گیا ہے جن کی وجہ سے قومیں ترقی اور برتری کی منزلیں طے کرتی ہیں ، اور انہیں فراموش کردینے کا نتیجہ لازما ذلت اور ہلاکت ہوتا ہے ۔
حل لغات :
فرضنھا : لازم ٹھہرایا ہے متعین کیا ہے ۔
Read the full tafseer →(1) یہ سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور … ہم نے ہی اس کے احکام کی بجاآوری کو مقرر اور لازم کیا ہے اور ہم نے اس سورت میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو اور یاد رکھو یعنی سورة نور ایک سورت ہے اس کو بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام کو بھی ہم ہی نے فرض کیا ہے اور مقرر فرمایا ہے اگرچہ بعض احکام اس میں مستحب اور مندوب بھی ہیں لیکن چونکہ احکام واجبہ اور فرض زیادہ ہیں۔ اس لئے فرضنناھا فرمایا اور ان احکام مقررہ پر دلالت کرنے کے لئے صاف صاف آیتیں نازل فرمائیں جو ان احکام پر دلالت کرتی ہیں یعنی سورت کا بیشتر حصہ احکام ہیں پھر ہم نے ان معانی پر دلالت کرنے والی واضح آیات نازل کیں…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس تمہید میں اپنی طرف منسوب فرماکر الفاظ سورت کی جزالت اور معانی کی جلالت اور معانی پر الفاظ کی وضوح دلالت اور پھر اس مجموعہ کی غایت بیان فرمانے سے ان احکام پر عمل کرنے کا غایت اعتناء شان ہوگیا۔
Read the full tafseer →اس سورت کے نزول کی خاص کرکے اپنی طرف نسبت دینے کی وجہ :
1۔ قرآن کریم کا ایک نام فرقان بھی ہے جس کے معنی ہیں دو چیزوں کو الگ الگ کردینا یا ایک ہی چیز کے اجزاء کا الگ الگ ہونا۔ کسوٹی کیا ہے ؟ وہی جو کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کر دے اور بلاشبہ پورا قرآن کریم حق و باطل کی کسوٹی ہے یعنی حق و باطل کو الگ الگ کردینے والا ہے اور پورا قرآن کریم اللہ تعالیٰ ہی کا نازل کردہ ہے اور اس کے احکام اللہ تعالیٰ ہی کے مقرر کردہ ہیں لیکن اس کے باوجود اس سورت یعنی سورت ” النور “ کو مخصوص کر کے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ سورة یعنی ھذہ سورة یہ سورت جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے مضامین کو فرض ٹھہرایا ہے ، معلوم…
Read the full tafseer →1. In all these sentences the emphasis is on We, which implies that it is Allah Who has revealed this and none else; therefore: You should not treat these instructions lightly like the word of an ordinary preacher. You should note it well that these have been sent down by One Who controls your lives and destinies and from Whom you can never escape even after your death.
The second sentence emphasizes that the instructions sent down in this Surah are not of the nature of advice which you may accept or reject at will. These are mandatory commandments which must be obeyed. If you are a believer…
Read the full tafseer →