Explained with ayahs 1–2
مسئلہ رجم
اس بیان سے کہ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔ فرضناھا کے معنی مجاہد و قتادہ ؒ نے یہ بیان کئے ہیں کہ حلال و حرام، امرو نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔ امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کردیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔ پھر زنا کاری کی شرعی سزا فرمائی۔ زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 2
اس مسئلے کے بہت سے قانون، اخلاقی اور تاریخی پہلو تشریح طلب ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا جائے تو موجودہ زمانے میں ایک آدمی کے لیے اس تشریع الہی کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے ذیل میں ہم اس کے مختلف پہلوؤں پر سلسلہ وار روشنی ڈالیں گے
(1) زنا کا عام مفہوم جس سے ہر شخص واقف ہے، یہ ہے کہ " ایک مرد اور ایک عورت بغیر اس کے کہ ان کے درمیان جائز رشتہ زن و شوہر ہو، باہم مباشرت کا ارتکاب کریں "۔ اس فعل کا اخلاقا برا ہونا، یا مذہبا گناہ ہونا، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہونا، ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں۔ اور اس میں بجز…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
اس سورت کی پہلی آیت تو بطور تمہید کے ہے جس سے اس کے احکام کا خاص اہتمام بیان کرنا مقصود ہے اور احکام میں سب سے پہلے زنا کی سزا کا ذکر جو مقصود سورت، عفت اور اس کے لئے نگاہوں تک کی حفاظت، بغیر اجازت کسی کے گھر میں جانے اور نظر کرنے کی ممانعت کے احکام آگے آنے والے ہیں زنا کا ارتکاب ان تمام احتیاطوں کو توڑ کر عفت کے خلاف انتہائی حد پر پہنچنا اور احکام الٰہیہ کی کھلی بغاوت ہے۔ اسی لئے اسلام میں انسانی جرائم پر جو سزائیں (حدود) قرآن میں متعین کردی گئی ہیں زنا کی سزا بھی ان تمام جرائم کی سزا سے اشد اور زیادہ ہے زنا خود ایک بہت بڑا جرم ہونے کے علاوہ اپنے ساتھ سینکڑوں جرائم لے کر آتا ہے…
Read the full tafseer →معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل زنا کو ہے اس لئے کہ معاشرہ کے استحکام کا انحصار رحمی رشتہ کی پاکیزگی اور اس کے ہر قسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے اور زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کر کے معاشرے کو حنفی انتشار کی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کے بجائے ڈھوروں ڈنگروں کا ایک گلہ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو ایک مستوجب سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی بالکل پہلے ہی مرحلہ سے اس انتشار کو روکنے کے لئے احکام دیئے۔ چناچہ نساء کی آیات…
Read the full tafseer →2-1بدکاری کی ابتدائی سزا جو اسلام میں عبوری طور پر بتائی گئی تھی، وہ سورة النساء آیت۔15میں گزر چکی ہے، اس میں کہا گیا تھا کہ اس کے لئے جب تک مستقل سزا مقرر نہ کی جائے، ان بدکار عورتوں کو گھروں میں بند رکھو، پھر جب سورة نور کی یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا، اس کے مطابق بدکار مرد و عورت کی مستقل سزا مقرر کردی گئی ہے، وہ تم مجھ سے سیکھ لو، اور وہ ہے کنوارے (غیر شادی شدہ) مرد اور عورت کے لئے سو سو کوڑے اور شادی شدہ مرد اور عورت کو سو سو کوڑے اور سنگساری کے ذریعے مار دینا۔ (صحیح مسلم) پھر آپ نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا صرف رجم (سنگساری) ہے۔
2-2اس کا…
Read the full tafseer →1: یہ وہ سزا ہے جو مرد یا عورت کے زنا کرنے پر قرآن کریم نے مقرر فرمائی ہے، اور جسے اصطلاح میں حد زنا کہا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد اور اپنے عمل سے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اگر زنا کا ارتکاب کسی غیر شادی شدہ مرد یا عورت نے کیا ہو تب تو یہی سزا دی جائے گی، اور اگر اس جرم کا ارتکاب شادی شدہ مرد یا عورت نے کیا ہو، تو اس کی سزا رجم یعنی سنگساری ہے۔ اس مسئلے کی مکمل تحقیق میری کتاب عدالتی فیصلے میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(الزانی۔۔۔۔۔۔ علی المئو منین) (3)
اسلام کے ابتدائی ایام میں حد زنا وہ تھی جو جس کا تذکرہ سورة نساء کی آیت میں ہوا۔
(والتی یا تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (4 : 15) ” اور وہ تمہاری عورتیں جنہوں نے فحاشی کا ارتکاب کرلیا تو ان پر چار گواہ گزارو ‘ اگر چار گواہ شہادت دے دیں تو انہیں گھروں میں روک رکھو ‘ یہاں تک کہ انہیں موت آلے یا ان کے لیے اللہ کوئی راستہ نکال دے “۔ عورت کے لیے سزا یہ تھی کہ اسے گھر میں بند کردیا جائے اور ملامت کر کے اذیت دی جائے۔ اور مرد کو بھی لعنت و ملامت کی جاتی تھی۔
اس کے بعد پھر سورة نور میں حکم آگیا اور یہ تھا وہ راستہ جو زنا کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے نکال دیا گیا جس کے بارے میں…
Read the full tafseer →2 یہ سزا اس زانی اور زانیہ کی ہے جو آزاد، عاقل، بالغ اور نکاح کیے ہوئے نہ ہوں یا نکاح کرنے کے بعد ہم بستری نہ کرچکے ہوں اور جو آزاد نہ ہو اس کے پچاس درے لگتے ہیں، اس کا حکم پانچویں پارہ کے اول رکوع کے ختم پر مذکور ہے۔ اور جو عاقل یا بالغ نہ ہو وہ مکلف ہی نہیں اور جس مسلمان میں تمام صفتیں موجود ہوں (حریت، بلوغ، عقل، نکاح اور ہم بستری سے فراغ) ایسے شخص کو " محصن " کہتے ہیں۔ اس کی سزا " رجم " (سنگسار کرنا) ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں " تورات " کے حوالہ سے فرمایا (وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ) 5 ۔ المائدہ :43) اور وہ حکم اللہ رجم تھا جیسا کہ وہاں کے…
Read the full tafseer →وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ ”
یہ اللہ کے دین اور اس کی شریعت کا معاملہ ہے۔ ایسے معاملے میں حد جاری کرتے ہوئے کسی کے ساتھ کسی کا تعلق ‘ انسانی ہمدردی یا فطری نرم دلی وغیرہ کچھ بھی آڑے نہ آنے پائے۔
اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج ”
یہ غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے حد ہے جو نص قرآنی سے ثابت ہے۔ البتہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا رجم ہے جو سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے اور قرآن کے ساتھ ساتھ سنت رسول ﷺ بھی شریعت اسلامی کا ایک مستقل بالذاتّ ماخذ ہے۔ رجم کی سزا کا قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ شریعت موسوی علیہ السلام میں یہ سزا موجود تھی اور حضور ﷺ…
Read the full tafseer →3 زنا کی سزا سے متعلق پہلا حکم سورة نور کی آیت نمبر 15 اور 16 میں نازل ہوا تھا۔ جن کا ترجمہ یہ ہے تم میں سے جو عورتیں بدکاری کی مرتکب ہوں، ان پر چار مردوں کی گواہی لاؤ، پھر اگر وہ چاروں گواہی دے دیں تو تم ایسی عورتوں کو گھروں میں بند رکھو تاآنکہ وہ مرجائیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے دوسری راہ مقرر کردے۔ اور جو پھر دو مرد تم میں سے اسی جرم کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا دو (4: 15، 16)
ان آیات سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں :
1۔ مرد اور عورت دونوں کے لئے ابتدائی سزا ان کو ایذا پہنچانا تھا جس میں لعنت علامت اور مارپیٹ سب کچھ شامل ہے۔ البتہ عورتوں کے لئے یہ اضافی سزا تھی کہ تازیست انہینگھر…
Read the full tafseer →2۔ (اور اس جرم کو کوئی معمولی اور ہلکی بات ہرگز نہ خیال کرو) (آیت) ’ الزانیۃ والزانی “۔ زنالغت میں ہر اس ہمبستری کے لیے عام ہے جو قید نکاح سے باہر ہو، لیکن سنت رسول نے اس عموم کو یہاں سیاق میں مخصوص ومقید کردیا ہے۔ جیسا کہ اور بہت سے موقعوں پر کیا ہے۔ یہاں مراد وہ زانی اور زانیہ میں جو آزاد ہوں، عاقل ہوں، بالغ ہوں لیکن ہنوز ان کا نکاح نہ ہوا ہو۔ یا نکاح تو ہوچکا ہو، لیکن ہمبستری کی نوبت ابھی نہ آئی ہو۔ (آیت) ” ماءۃ جلدۃ “۔ یہ سو تازیانوں کی سزا ایسوں ہی کے لیے ہے۔ باقی جو آزاد نہیں ان کی سزا اس کی نصف ہے۔ (آیت) ” فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب (پ 5 سورة النساء) اور جو عاقل وبالغ نہیں، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا…
Read the full tafseer →الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منہما زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد (کا حکم
ہم بیان کرتے ہیں) پس تم ان میں سے ہر ایک کو کوڑے مارو۔
فَاجْلِدُوْاحکم زنا کا بیان ہے۔ یعنی جب دونوں کا فعل زنا ثابت ہوجائے تو کوڑے مارو۔ یہ مطلب بر قول سیبویہ بیان کیا گیا ہے۔ مبرد نے کہا الزَّانِی اور الزَّانِیَۃُمیں الف لام موصولہ ہے اور معنی شرط کو متضمن ہے اس لئے فَاجْلَدُوْا میںجزائیہ ہے۔ جو زنا کرنے والی اور زنا کرنے والا ہو تو کوڑے مارو۔
جَلْدٌجلد بدن پر مارنا۔ جَلَدَہٗاس کی جلد پر مارا ‘ جیسے رَأَسَہٗاس کے سر پر مارا۔ بَطنہٗاس کے پیٹ پر مارا۔
فَاجْلِدُوْاکہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ صرف جلد بدن پر…
Read the full tafseer →(2) غیر شادی شدہ زنا کرنے والی عورت اور غیر شادی شدہ زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو زنا کرنے پر سو سو درے مارو اور تم لوگوں کو ان دونوں پر حد قائم کرنے اور حکم الہی کو ان پر نافذ کرنے میں ذرا بھی رحم نہیں آنا چاہیے اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔
اور ان دونوں کو سزا دینے کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہیے تاکہ وہ حدود اللہ کو محفوظ کرلیں۔
Read the full tafseer →اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا۔۔ : سورة نساء کی آیات (15، 16) میں اللہ تعالیٰ نے زنا کرنے والی عورتوں کے متعلق چار مردوں کی گواہی کے بعد انھیں گھروں میں بند رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی سبیل پیدا فرما دے۔ اسی طرح زنا کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو توبہ کرنے تک ایذا و تکلیف دینے کا حکم دیا اور یہاں سورة نور کی زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے کنوارے مرد اور کنواری عورت کی سزا بیان فرمائی۔ جیسا کہ عبادہ ابن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خُذُوْا عَنِّيْ ، خُذُوْا عَنِّيْ ، قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ الزانیۃ و الزانی زنا لغت میں شریعت سے پہلے بھی معروف تھا جیسے سرقہ (چوری) اور قتل کے اسم پہلے موجود تھے۔ زنا کا مطلب ہے مرد کا عورت کی فرج (شرمگاہ) میں بغیر نکاح اور بغیر شبہ نکاح کے عورت کی رضا کے ساتھ جماع کرنا۔ اگر تو چاہے تو یوں بھی کہہ سکتا ہے فرج کا طبعا مشتبی فرج میں داخل کرنا جو شرعاً حرام ہو۔ جب ایسی صورت ہو تو حد واجب ہوتی ہے۔ زنا کی حد اور اس کی حقیقت اور اس کے متعلق علماء کے اقوال گزر چکے ہیں یہ آیت حبس کی آیت اور اذیت والی آیت جو سورة نساء میں ہے ان کے لیے بالا تفاق ناسخ ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مائۃ جلدۃ۔ یہ آزاد، بالغ،…
Read the full tafseer →زناکاری کی سزا
1۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ فی دین اللہ “ حد کے بارے میں ہے کہ ان پر قائم کی جائے اور ان کو معطل نہ کیا جائے اور اس کا یہ معنی نہیں کہ ان کو کوڑے مارے وقت سختی نہ کی جائے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ولا تاخذکم بہما رافۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ حد کے قائم کرنے میں تم کو نرمی نہ پکڑے۔
3۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت ” ولا تاخذکم بھما رافۃ “ یعنی کو نرمی لاحق نہ ہوجائے کہ تم حدود کو معطل کرنے لگ جاؤ۔
4۔ عبد بن حمید وابن…
Read the full tafseer →[ اَلزَّانِيَةُ : زنا کرنے والی ] [ وَالزَّانِيْ : اور زنا کرنے والا ] [ فَاجْلِدُوْا : پس تم لوگ کھال پر مارو ][ كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا : ان دونوں کے ہر ایک کو ][ مِائَةَ جَلْدَةٍ ۠ : ایک سو کوڑے ][ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ : اور نہ پکڑے تم لوگوں کو ][ بِهِمَا : ان دونوں کے بارے میں ] [ رَاْفَةٌ: کوئی نرم دلی ] [ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ : اللہ کے ضابطہ حیات میں ] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ][ تُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہو ][ بِاللّٰهِ : اللہ پر ][ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ : اور آخری دن پر ][ وَلْيَشْهَدْ : اور چاہیے کہ معائنہ کرے ][ عَذَابَهُمَا : ان دونوں کے عذاب کا ][ طَاۗىِٕفَةٌ: ایک گروہ ][…
Read the full tafseer →شرعی حدود میں سختی کیوں ہے
اس کے بعد زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورت کی سزا بیان فرمائی اور فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ سزا جاری کرنے میں تمہیں ان پر رحم نہ آئے۔
اللہ کے قانون کے سامنے کسی کی رو رعایت اور کسی پر کوئی رحم کرنا ترس کھانا درست نہیں ہے اللہ تعالیٰ ارحم الرحمین ہے جب اس نے سزا کا حکم دیدیا گو وہ سزا تمہاری نظروں میں سخت ہے تو اسے نافذ ہی کرنا ہے، اس نے انسان کو پیدا کیا وہ انسان کے مزاج عادت و خصلت کو پوری طرح جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ انسان اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے کون سی سزا سے زنا کاری کے جرم سے رک سکتا ہے چونکہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
حکم اول حد زنا
قال اللہ تعالیٰ ۔ الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ .... الیٰ .... طائفۃ من ال مومن ین۔
زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد سو ان دونوں کا حکم یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو درے مارو۔ اور اے مسلمانو ! تم کو اللہ کے حکم کی تعمیل میں ان دونوں پر رحم اور ترس نہ آنا چاہئے کہ رحم کھا کر ان کو چھوڑ دو یا ان کی سزا میں کچھ کمی کر دو دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔
اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوئے ہو تو حکم الٰہی کو پوری طرح جاری کرو اور اس میں نرمی اور سستی نہ کرو ورنہ خدا تعالیٰ آخرت میں تم سے سوال کرے گا کہ تم نے ہمارے قانون کے جاری کرنے میں…
Read the full tafseer →3:۔ ” الزانیۃ والزانی الخ “: یہ ستر و عفاف اور تطہیر معاشرہ سے متعلق احکام اربعہ میں سے پہلا حکم ہے یعنی زانی اور زنایہ کو سو سو درہ مارو۔ ان پر یہ شرعی حد قائم کرو تاکہ لوگ بدکاری سے باز آجائیں لیکن ان پر حد جاری کرتے وقت دو باتوں کا خاص خیال رکھو۔ اول : ” ولا تاخذکم بھما رافۃ الخ “۔ اگر واقعی تم اللہ پر اور آخرت پر یقین رکھتے تو زانی اور زانیہ پر حد قائم کرتے وقت کسی قسم کی نرمی نہ کرونہ ان پر ترس کھا کر حد کو روکو، نہ کوڑوں کی تعداد میں کمی کرو اور نہ اس قدر ہلکے کوڑے مارو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔ ان کے لیے معافی یا رعایت کی سفارش کرنا بھی اس نہی کے تحت داخل ہے۔ دوم : ” لیشھد عذابھما الخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قانون انسداد زنا :
سورۃ ہذا کی پہلی آیات میں اللہ نے بڑے زور دار طریقے سے اس کی اہمیت بیان فرمائی تاکہ اس سے نصیحت حاصل کی جاسکے ، اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسداد زنا کا قانون بتلایا ہے اور اس کی بعض ذیلی دفعات کا ذکر کیا۔ بدکار مردوزن کی سزا کا ایک حصہ اس آیت میں ہے۔ جب کہ دوسرا حصہ اور مزید تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ اس ضمن میں فقہائے کرام کی وضاحتیں بھی موجود ہیں۔
مفسرین کرام اور علماء عظام یہ بنیادی بات بیان کرتے ہیں کہ قانون خواہ کتنا اچھا ہو جب تک اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر مریض کے لئے نسخہ تجویز کرتا ہے تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا وَاَنْزَلْنَا فِيْہَآ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 1
زنا
الزِّنَاءُ : وطء المرأة من غير عقد شرعيّ ، وقد يقصر، وإذا مدّ يصحّ أن يكون مصدر المفاعلة، والنّسبة إليه زَنَوِيٌّ ، وفلان لِزِنْيَةٍ وزَنْيَةٍ قال اللہ تعالی: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلَّا زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُها إِلَّا زانٍ [ النور/ 3] ، الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي [ النور/ 2] ، وزنأ في الجبل بالهمز زنأ وزنوءا، والزّناء : الحاقن بوله، و «نهي الرّجل أن يصلّي وهو زناء» «3» .
( ز ن ی ) الزنا
عقد شرعی کے بغیر کسی عورت سے ہم بستری کرنے کا نام زنا ہے یہ اسم مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : سورة مبتداء محذوف کی خبر اے ھذہ انزلناھا سورة کی صفت فا جلدوا الزانیۃ و الزانی کی خبر مائۃ منصوب ہے مفعول مطلق کی صفت ہو کر وکذا ثمانین۔
تفسیر : ابن مردویہ نے روایت ابن عباس و ابن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے۔ سورة مومنون کے خاتمہ میں اس دعا کرنے کا حکم دیا تھا کہ اے رب ! ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر کیونکہ تو بڑارحم والا ہے۔ رحمتِ الٰہی اس کی مخلوق بالخصوص انسان پر ہمہ وقت سایہ افگن ہے مگر اس رحمت سے محروم کرنے والی یا یوں کہو اس نور کا حجاب دو ہی چیزیں ہیں : اول خالق سے سرکشی اس سے غفلت ‘ دوسرے معبودوں کی طرف التفات۔ اس کا…
Read the full tafseer →اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْـہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ص وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَـۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْـتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ج وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَـآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (النور : 2)
(زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہیے کہ ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ )
زنا کی سزا
اسلامی معاشرے کو ہر طرح کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : غیر شادی شدہ زانی عورت اور مرد کے لیے سو، سو کوڑوں کی سزا، شادی شدہ زانی مرد اور عورت کے لیے رجم کی سزا یک دم نازل نہیں ہوئی اس سے پہلے سورة النساء میں بدکار لوگوں کی سزا کا اشارہ ہوچکا ہے۔
” تمہاری عورتوں میں جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ ان کی موت واقع ہو یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے تم میں سے جو دو مرد ایسا کام کریں انہیں سزا دو اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی توبہ قبول فرماتا…
Read the full tafseer →زانی کی سزا :
2: اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ (زانی مرد، زانی عورت) ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہیں اور خبر محذوف ہے۔ یعنی زانیہ اور زانی کے سلسلہ میں تم پر فرض ہے یعنی ان دونوں کو کو ڑے لگانا۔ نمبر 2۔ خبر فاجلدوا ہے الف لام الذی کے معنی میں ہے جس میں شرط کا معنی متضمن ہے اس وجہ سے خبر پر فاء داخل کی گئی ہے تقدیر کلام یہ ہے وہ عورت جو زنا کرے اور وہ مرد جو زنا کا مرتکب ہو پس ان دونوں کو کوڑے لگائو اس کی مثال دوسرے ارشاد میں ہے : والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتوا باربعۃ شہداء فاجلدوھم ] النور : 4[
قراءت : عیسیٰ بن عمر نے نصب سے پڑھا ہے۔ اس فعل کو مضمر مانا ہے۔ جس کی ظاہر تفسیر کر رہا ہے اور یہ سورة…
Read the full tafseer →2۔ الزانیۃ والزانی، ،، مراد اس سے جب وہ ددونوں آزاد بالغ ہوں ، عاقل ہوں ، باکرہ ہوں اور شادی شدہ نہ ہوں توپھرہر ایک کو سوکوڑے مارے جائیں گے کہاجاتا ہے جلدہ جب اس کی جلد پر ماراجائے۔ جیسا کہ اس کو کہاجاتا ہے اس کا سر اور اس کاپیٹ اس کے سرورپیٹ پر ماراجائے۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، فاجلدواکہنے سے اشارہ ہے کہ صرف جلد بدن پر ماروایسانہ مارو جو کھال ادھیڑ کر گوشت تک پہنچ جائے۔
اسی بناء فقہاء کرام نے اس سے یہ مسئلہ معلوم کیا کہ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ غیر شادی شدہ کو سوکوڑے اور ایک سال شہر بدر کرنا ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے جس کا ذکر سورة نساء میں گزرچکا ہے۔
” ولاتاخذکم بھمارافۃ۔…
Read the full tafseer →2:۔ اس سورت میں جو احکام ہیں ‘ ان احکام میں کا یہ پہلا حکم ہے ‘ حاصل اس حکم کا یہ ہے کہ بدکار عورت یا مرد بن بیا ہے ہوئے ہیں اور چار گواہوں سے ‘ یاحمل سے یا اقرار سے ان کی بدکاری ثابت ہوجاوے تو ان کو سو کوڑے مارو ‘ اکثر علماء کے نزدیک علاوہ ان سو کوڑوں کی سزا کے ایسے لوگوں کو برس دن تک بموجب صحیح بخاری ومسلم کے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ کے شہر سے نکال دینے کا حکم بھی ہے ‘ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمتہ اس حکم کے خلاف ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ دیس سے نکالنا حاکم کی رائے پر موقوف ہے خواہ وہ نکالے یا نہ نکالے ‘ زیادہ تفصیل اس کی فقہ کی کتابوں میں 2 ؎ ہے۔ یہاں تک بن بیا ہے بدکار مرد و عورت کا حکم ہوا اگر بیا…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (2
آیت میں مذکوریہ حکم غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے ہے کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔ البتہ شادی شدہ زنا کار ہو تو سنت صحیحہ مشہورہ دلالت کرتی ہے کہ اس کی حد رجم (یعنی سنگسار کرنا) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ زنا کار مردوزن پر حد جاری کرتے وقت ہم میں رحم و شفقت کا ایسا جذبہ پیدا ہو جو ہمیں ان پر حد قائم کرنے سے روک دے۔ خواہ یہ رحم طبعی ہو یا قرابت یا دوستی وغیرہ کی وجہ سے ہو۔ ایمان اس رحم کی نفی کا موجب ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے سے مانع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حقیقی رحمت تو زانی پر حد نافز کرنے میں ہے۔
اگر زانی پر تقدیر کا فیصلہ جاری ہونے پر ہمیں…
Read the full tafseer →قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →5 حدِّ زنا کا ذکر وبیان : سو اس سے زناکار مرد اور زناکار عورت کیلئے سو کوڑوں کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ جب کہ وہ غیر محصن ہوں۔ کیونکہ زانی محصن کی سزا رجم ہے۔ جس کا ثبوت احادیث و روایات سے اس قدر واضح اور قطعی ہے کہ تواتر معنوی کو پہنچا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ تواتر ایسا قطعی اور واضح ہے جیسا کہ نماز کی رکعتوں کا ثبوت یا جیسا کہ حضرت علی ؓ کی شجاعت اور حاتم طائی کی سخاوت کا ثبوت وغیرہ۔ (روح وغیرہ) ۔ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اپنی حیات طیبہ میں خود حکم رجم پر عمل کروایا اور آپ ﷺ کے بعد حضرات خلفائے راشدین کے دور میں بھی اس پر عمل ہوا۔ اور اس کے بعد دیگر صحابہ کرام ؓ نے بھی اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
زنا، اس کی سزا اور لعان کا حکم
تشریح : سب سے پہلے تو زنا کی تعریف کردی گئی۔ کئی گناہ انسان زندگی میں کرتا ہے مگر یہ گناہ اس قدر بڑا اورا نسانی سوسائٹی کے لیے مضر اور نقصان دہ ہے کہ اس کو شرک کے برابر کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام حدود کو توڑ دیتا ہے جو تہذیب و تمدن ‘ مذہب اور اخلاقیات اور انسانیت کی عظمت کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں مقرر کی گئی ہیں۔ البتہ موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ان حدود کو توڑ رہا ہے تو ان کے اندر جو انتشار ‘ بےچینی ‘ بےراہروی ‘ بد نظمی اور بےقاعدگی پیدا ہو رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ لوگ جب بھی اسلامی نظام کی اس خوبی سے بندھے ہوئے خاندانی ربط ‘ ضبط اور سکون کو دیکھتے ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة النور :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر…
Read the full tafseer →9 ۔ شروع اسلام میں زنا کی کوئی باقاعدہ حد مقرر نہ تھی۔ بلکہ زانی اور زانیہ کو قید رکھنے یا ان کی پٹائی کرنے کا حکم تھا۔ یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے بارے میں کوئی دوسرا راستہ نکال دے یعنی شرعی حد مقرر کر دے۔ (دیکھئے نساء :16 ۔ 17) اس آیت میں اسی شرعی حد کا اعلان کیا گیا ہے۔ احادیث میں کوڑوں کی سزا کے علاوہ زانی کو ایک سال کے لئے شہر بدر کرنا بھی ثابت ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے اور اکثر علما اس کے قائل ہیں۔ اگر زانی مرد یا عورت شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا رجم یعنی سنگساری سے مار دینا ہے یہ حکم صحیح اور متواتر حدیث سے ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ اور پھر خلفا کے دور میں…
Read the full tafseer →(24:2) اجلدوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم کوڑے مارو، تم درے لگائو۔ جلدۃ جلد (باب ضرب) کوڑے مارنا۔ درہ لگانا۔ جلد (کھال) پر مارنا۔ رأفۃ۔ ترس۔ مہربانی ۔ شفقت۔ نرمی رأف یرأف (فتح) کا مصدر ہے۔ رؤف بروزن فعول صفت مشبہ۔ بہت شفقت کرنے والا۔ بہت مہربان۔ رء ف، حروف مادہ۔ ولا تاخذکم بھما رأفۃ۔ اور تم کو ان دونوں پر (ذرا بھی) رحم نہ آنے پائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :
انزلنا (ہم نے اتارا۔ نازل کیا) ‘ فرضنا (ہم نے لازمی کیا۔ ہم نے فرض کیا) ‘ اجلدوا ( مارو) ‘ مائۃ (ایک سو) ‘ جلدۃ (کوڑے) ‘ لاتأ خذ (نہ پکڑے) ‘ رأفۃ ( ترس اور رحم) ‘ یشھد (دیکھے۔ موجود رہے) ‘ طائفۃ (ایک جماعت) حرم (حرام کردیا گیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
قرآن کریم ہر آیت اور سورت کی اپنی اہمیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سورة نور کو جس شان و شوکت ‘ اہتمام اور انوکھے انداز سے شروع کیا ہے وہ اس میں بیان کئے گئے احکامات کی اہمیت کو بہت واضح کردیتی ہے تاکہ معاشرہ کا ہر فرد اس سورت میں بیان کئے گئے احکامات کی پوری طرح پابندی کرسکے۔ سنگین گناہوں اور معاشرہ کی بد ترین…
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بدکار عورت یا مرد بن بیا ہے ہوئے ہون اور چار گواہوں سے یا حمل سے ، یا اقرار سے ان کی بدکاری ثابت ہوجاوے تو اے حکام وقت ان کے سوکوڑے مارو۔
مسئلہ : مرد کو کوڑے لگاتے وقت کھڑا کیا جاوے اور اس کے تمام کپڑے اتاردیے جائیں سوائے تہبند کے۔ اور اس کے تمام بدن پر کوڑے لگائے جائیں سوائے سرچہرے اور شرمگاہ کے ، کوڑے اس طرح لگائے جائیں کہ الم گوشت تک نہ پہنچے اور کوڑا متوسط درجے کا ہو۔ اور عورت کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا نہ کیا جائے نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں البتہ اگر پوستین یاروئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اتار دیے جائیں یہ حکم آزاد مرد اور عورت کا ہے اور باندی غلام کی حد اس…
Read the full tafseer →[1] یہ سزا اس زانی اور زانیہ کے لئے ہے جو آزاد، عاقل اور غیرشادی شدہ ہوں یا نکاح کے بعد ہم بستری نہ کرچکے ہوں۔ باقی جو آزاد نہیں ان کی سزا اس کی نصف یعنی پچاس کوڑے ہیں جیسا کہ سورة نساء کی آیت 25 سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز مار ایسی ہونی چاہئے جس کا اثر جلد تک رہے گوشت تک نہ پہنچے۔ اس کے متعلق اشارہ خود قرآن کے لفظ فاجلدوا میں ملتا ہے۔ آزاد، عاقل، بالغ اور شادی شدہ مرد و عورت کے لئے زنا کی سزا رجم یا سنگسار کرنا ہے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ یہ سزا سنت رسول سے، تعامل صحابہ کرام سے اور مجہتدین امت کے اجماع سے متفقہ طور پر ثابت ہے۔ ثبوت زنا یا تو چار عینی شاہدوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زنا کرنے والا خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ف 1) تمام مذاہب نے زنا کو انسانیت کیلئے بہت بڑی لعنت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو وجود قوموں کیلئے اخلاقی تباہی کے مترادف ہے قرآن حکیم نے خصوصیت کیساتھ اس مسئلے کی متعلقہ تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کے ذرائع و وسائل تک کا استقصاد و احوا کیا ہے قرآن کی نگاہیں دوسری مذہبی کتابوں سے کہیں دیادہ عمیق ہیں اس نے تمام انسانی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر ایسے قوانین اور ضابطے مقرر فرمائے ہیں کہ ان کو ملحوظ رکھنے کے بعد زنا کا احتمال قطعا پسند نہیں ہوتا ۔
اس آیت میں زنا کی حد شرعی سے بحث فرمائی ہے ارشاد ہے کہ زانی کے سودرے لگائے جائیں اور اس معاملہ میں سوسائٹی جذبات رحم ورافت سے بالکل متاثر نہ ہو ، یہ…
Read the full tafseer →(2) زنا کی مرتکب عورت اور زنا کا مرتکب مرد سو ہر ایک کو ان دونوں میں سے سو سو کوڑے مارو اور تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حد جاری کرنے میں ان دونوں زنا کار عورت اور زناکار مرد پر کسی قسم کا ترس اور رحم نہ آئے بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت یعنی قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان دونوں زانیہ اور زانی کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہئے۔
زنا کی سزا سو درے فرمائی اس سورت میں یہ پہلا حکم بیان فرمایا پھر ارشاد ہوا کہ کوڑے اور درے مارتے وقت یعنی اللہ کی حد جاری کرنے میں کسی قسم کی مہربانی اور رحم دلی نہ آنے پائے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور قیامت کے دن کا یقین کرنے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ سزا اس زانی اور زانیہ کی ہے جو آزاد عاقل بالغ ہوں، اور نکاح کئے ہوئے نہ ہوں، یا نکاح کے بعد ہمبستری نہ کرچکے ہوں اور جو آزاد نہ ہو اس کے پچاس درے لگتے ہیں، اور جو عاقل یا بالغ نہ ہو وہ مکلف ہی نہیں، اور جس مسلمان میں تمام صفتیں ہوں، حریت، بلوغ، عقل، نکاح اور ہمبستری سے فراغ، ایسے شخص کو محصن کہتے ہیں، اس کی سزا رجم ہے، اور جو مرض کی وجہ سے دروں کا متحمل نہ ہو اس کی صحت کا انتظار کریں گے۔
4۔ تاکہ ان کے ذریعہ سے تشہیر ہو، اور سامعین کو عبرت ہو، اور دوسرے لوگ اس سے رکیں۔
Read the full tafseer →زانی اور زانیہ کو سو کوڑے لگانے کا حکم عام :
3۔ زنا کا لفظ عربی ‘ اردو اور فارسی میں ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ بغیر عقد شرعی کے عورت کے ساتھ مخصوص مقام پر دخول کرنا مفسرین اور خاص کر فقیہان امت نے اس پر بہت حاشیے چڑھائے ہیں اور فریقین کا آزاد اور عاقل وبالغ ہونا ضروری قرار دیا ہے ، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارنے کا حکم بیان ہوا ہے ۔ جلدہ درہ مارنا ‘ کوڑا مارنا ‘ کھال پر مارنا ‘ کوڑا یا درہ کیا ہے ؟ درہ عربی میں بھی استعمال ہوا ہے اور اردو میں بھی اور کوڑا ہندی کا لفظ ہے جو اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کو تازیانہ بھی کہا جاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Commentary
The first verse of this Surah is introductory preface to put extra emphasis to the commands given in it. The very first command after that is regarding punishment for adultery, which has a direct bearing on the intent of the Surah - that is to preserve chastity, even of the eyes. The subjects of control on casting eyes and not to enter houses without permission are to follow soon. Commitment of adultery is the ultimate outcome when one ignores all types of prudence against continence and is an open rebellion against Divine precepts. Therefore, the punishment for adultery in Islam…
Read the full tafseer →2. There are various legal, moral and historical aspects of this problem which need explanation, for if these are not clarified in detail, the modern man will find it difficult to understand the divine law concerning it. Accordingly, we shall discuss the various aspects of the problem below.
(1) The common meaning of zina which everyone knows is sexual intercourse between a man and a woman without the legal relationship of husband and wife existing between them. There has been complete unanimity of view among all the social systems from the earliest times to this day that this act is morally…
Read the full tafseer →