زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زنا کاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔ ابن عباس ؓ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة النُّوْر 5
یعنی زانی غیر تائب کے لیے اگر موزوں ہے تو زانیہ ہی موزوں ہے، یا پھر مشرکہ۔ کسی مومنہ صالحہ کے لیے وہ موزوں نہیں ہے، اور حرام ہے اہل ایمان کے لیے کہ وہ جانتے بوجھتے اپنی لڑکیاں ایسے فاجروں کو دیں۔ اسی طرح زانیہ (غیر تائبہ) عورتوں کے لیے اگر موزوں ہیں تو ان ہی جیسے زانی یا پھر مشرک۔ کسی مومن صالح کے لیے وہ موزوں نہیں ہیں، اور حرام ہے مومنوں کے لیے کہ جن عورتوں کی بد چلنی کا حال انہیں معلوم ہو ان سے وہ دانستہ نکاح کریں۔ اس حکم کا اطلاق صرف ان ہی مردوں اور عورتوں پر ہوتا ہے جو اپنی بری روش پر قائم ہوں۔ جو لوگ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں ان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، کیونکہ توبہ و…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(زنا ایسی گندی چیز ہے کہ اس سے انسان کی طبیعت کا مزاج ہی بگڑ جاتا ہے اس کی رغبت بری ہی چیزوں کی طرف ہوجاتی ہے ایسے آدمی کی طرف رغبت بھی کسی ایسے ہی خبیث النفس کی ہو سکتی ہے جس کا اخلاقی مزاج بگڑ چکا ہو چناچہ زانی (اپنے زانی اور راغب الی الزنا ہونے کی حیثیت سے) نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور (اسی) طرح زانیہ کے ساتھ بھی (اس کے زانیہ اور راغب الی الزنا ہونے کی حیثیت سے) اور کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی یا مشرک کے اور یہ (ایسا نکاح جو زانیہ کے زانیہ ہونے کی حیثیت کے ساتھ ہو جس کا نتیجہ آئندہ بھی اس کا مبتلائے زنا رہنا ہے یا کسی مشرک عورت کے ساتھ ہو)…
Read the full tafseer →خبر نہی کے مفہوم میں : کے لاینکح یہاں خبر کے مفہوم میں نہیں بلکہ نہی کے مفہوم میں ہے۔ نبی کے اندر جب نہی کے ساتھ ارشاد و موعظت کا مفہوم بھی ہو تو وہ خبر کی صورت میں آتی ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت بقرہ 272 کے تحت ہوچکی ہے۔ یہاں مقصود مسلم معاشرہ کی حس ایمانی کو بیدار کرنا ہے کہ تمہارے اندر زنا سے وہ نفرت و بیزاری ہونی چاہئے کہ کوئی زانی اگر تمہارے اندر ناح کرنا چاہے تو کوئی صاحب ایمان اس کو اپنی بٹی دینے کے لئے تیار نہ ہو۔ اس کو اگر نکاح کے لئے ملے تو کوئی زانیہ یا مشرکہ ہی ملے، کوئی مومنہ اپنے آپ کو اس کے حبالہ عقد میں دینے پر راضی نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی زانیہ ہو تو کوئی باایمان اس سے نکاح نہ…
Read the full tafseer →3-1اس کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
Read the full tafseer →2: یعنی جو شخص بدکاری کا عادی ہو، اور اس پر نہ شرمندہ ہو، نہ توبہ کرتا ہو، اس کا مزاج ایسی ہی عورت سے ملتا ہے جو بدکار ہو، اس لیے اول تو وہ بدکاری ہی کی کوشش میں رہتا ہے، اور اگر نکاح کرنا پڑجائے تو وہ نکاح بھی ایسی ہی بدکار عورت سے کرنا چاہتا ہے، چاہے وہ مشرک ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح جو عورت اسی طرح کی عادی بدکار ہو اس کا مزاج بھی بدکار مرد ہی سے ملتا ہے، اس لیے اس سے نکاح وہی کرتا ہے جو خود بدکاری کا عادی رہا ہو، اور اسے اس بات سے کوئی شرم محسوس نہ ہوتی ہو کہ اس کی بیوی بدکاری میں ملوث ہے، اور وہ خود بھی ایسے ہی مرد کو پسند کرتی ہے، چاہے وہ مشرک ہی کیوں نہ ہو۔
3: یعنی بدکار مرد یا عورت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(الزانی۔۔۔۔۔۔ علی المئو منین) (3)
اسلام کے ابتدائی ایام میں حد زنا وہ تھی جو جس کا تذکرہ سورة نساء کی آیت میں ہوا۔
(والتی یا تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا) (4 : 15) ” اور وہ تمہاری عورتیں جنہوں نے فحاشی کا ارتکاب کرلیا تو ان پر چار گواہ گزارو ‘ اگر چار گواہ شہادت دے دیں تو انہیں گھروں میں روک رکھو ‘ یہاں تک کہ انہیں موت آلے یا ان کے لیے اللہ کوئی راستہ نکال دے “۔ عورت کے لیے سزا یہ تھی کہ اسے گھر میں بند کردیا جائے اور ملامت کر کے اذیت دی جائے۔ اور مرد کو بھی لعنت و ملامت کی جاتی تھی۔
اس کے بعد پھر سورة نور میں حکم آگیا اور یہ تھا وہ راستہ جو زنا کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے نکال دیا گیا جس کے بارے میں…
Read the full tafseer →5 زنا کی سزا ذکر کرنے کے بعد اس فعل کی غایت شناعت بیان فرماتے ہیں۔ یعنی جو مرد یا عورت اس عادت شنیع میں مبتلا ہیں حقیقت میں وہ اس لائق نہیں رہتے کہ کسی عفیف مسلمان سے ان کا تعلق ازدواج و ہمبستری قائم کی جائے ان کی پلید طبیعت اور میلان کے مناسب تو یہ ہے کہ ایسے ہی کسی بدکار و تباہ حال مرد عورت سے یا ان سے بھی بدتر کسی مشرک و مشرکہ سے ان کا تعلق ہو۔ کما قال تعالیٰ ۔ (اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ ۚ وَالطَّيِّبٰتُ للطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ للطَّيِّبٰتِ ) 24 ۔ النور :26) کندہم جنس باہم جنس پرواز۔ کبوتر با کبوتر باز با باز۔ ان کی حرکت کا اصلی اقتضاء تو یہ…
Read the full tafseer →آیت 3 اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃًز ”
یہ حکم قانون کے درجے میں نہیں بلکہ اخلاق کے درجے میں ہے۔ یعنی اس شرمناک اور گھناؤنے جرم کا ارتکاب کر کے اس شخص نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی پاک دامن ‘ عفتّ مآب مؤمنہ کے لائق ہے ہی نہیں۔ چناچہ اسے چاہیے کہ وہ اس قانونی بندھن کے لیے بھی اپنے جیسی ہی کسی بدکار عورت یا پھر مشرکہ عورت کا انتخاب کرلے۔
Read the full tafseer →6 اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ سو کوڑے کی سزا صرف کنوارے مرد اور عورت کے لوے ہے۔ جیسا کہ پہلے اس سورة کے حاشیہ نمبر 3 کے ابتدا میں اس کی وضاحت کی جاچکی ہے اسی آیت کی تشریح میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔
عمرو بن شعیب کے دادا نے کہا کہ مرثد بن ابی مرثد (عنصری) نامی ایک شخص قیدیوں کو مکہ سے مدینہ لے جایا کرتا تھا۔ مکہ میں ایک فاحشہ عورت تھی جس کا نام عناق تھا اور وہ مرثد کی (اسلام لانے سے پہلے) دوست تھی۔ مرثد نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے (مدینہ) لے جائے گا۔ مرثد کہتے ہیں کہ میں ایک چاندنی رات دیواروں کے سایہ میں چھپتے چھپاتے مکہ آیا۔ عناق آئی…
Read the full tafseer →5۔ (آیت) ” مشرکۃ۔ زانیۃ “۔ مشرکہ سے مراد وہ مشرک عورت ہے جو حالت شرک میں ہو نہ کہ وہ جو کسی زمانہ میں مشرک رہ چکی ہو، اور اب تائب ہو کر مسلمان ہوچکی ہو۔ ایسی کے ساتھ نکاح بالکل درست ہے۔ اسی طرح زانیہ بھی وہ ہے جو فی الحال زنا میں مبتلا ہو نہ کہ وہ جس سے کسی زمانہ میں یہ معصیت صادر ہوئی اور اب وہ تائب ہوکرپاکبازی کی زندگی بسر کررہی ہو۔ تائبہ سے نکاح کے عدم جواز کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہاں ممانعت تو صرف ان سے نکاح کی ہورہی ہے جو فی الحال مشرکہ یا زانیہ ہیں۔ اس ایک حقیقت کو مستحضر رکھنے سے آیت پر عاید ہونے والے اعتراضات از خود ختم ہوتے جاتے ہیں۔
6۔ بہت سی جاہلی قوموں میں یہ دستور بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا…
Read the full tafseer →(بقیہ حاشیہ آیت نمبر 2)
مسئلہ جس عورت سے نکاح حرام ہے اور کسی نے اس سے نکاح کرلیا اور صحبت کرلی تو امام ابوحنیفہ (رح) امام زفر (رح) اور سفیان ثوری کے نزدیک زنا کی حد اس پر جاری نہ ہوگی لیکن اس جرم کی سزا اس کو بہت ہی شدید دی جائے گی (جو حد زنا سے بھی زیادہ سخت ہوگی) ۔ میں کہتا ہوں اس کو قتل کردینے کا فیصلہ زیادہ مناسب ہے تاکہ حدیث کا اتباع ہوجائے۔
امام شافعی (رح) ‘ امام ابو یوسف ‘ امام محمد ‘ امام احمد اور امام مالک کا قول ہے کہ اگر حرمت نکاح کا علم رکھتے ہوئے نکاح کیا ہو تو حد زنا جاری کی جائے گی کیونکہ اس نے ایسی عورت سے صحبت کی جس کی حرمت اجماعی ہے کسی کو اس کی حرمت میں اختلاف نہیں نہ ملک…
Read the full tafseer →(3) اور اہل کتاب میں سے علانیہ طور پر زنا کرنے والا مرد نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا سوائے اہل کتاب یا مشرکین میں سے کسی زانیہ کے اور اہل کتاب یا مشرکین کی زانیہ کے ساتھ بھی کوئی نکاح نہیں کرتا سوائے اہل کتاب میں سے کسی زانی یا مشرک کے اور یہ اس قسم کا نکاح جو اہل کتاب میں سے کسی زانیہ کے ساتھ من حیث الزانیہ ہو مشرکہ کے ساتھ ہو مسلمانوں پر حرام کردیا گیا ہے۔
یہ آیت کریمہ چند اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ اہل کتاب اور مشرکین عرب کی کنیزوں سے نکاح کرنا چاہتے تھے جو کہ کھلم کھلا زنا کاری میں مبتلا تھیں جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، انہوں نے اپنے ارادہ کو ترک کردیا۔
اور آیت کریمہ کی اس…
Read the full tafseer →اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً : یہاں ایک سوال ہے کہ کئی زانی مرد عفیف اور پاک دامن عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اور کئی زانیہ عورتوں سے عفیف اور پاک دامن مرد نکاح کرلیتے ہیں، تو اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ یہاں نکاح سے مراد معروف نکاح نہیں ہے، بلکہ یہ جماع کے معنی میں ہے اور مقصد زنا کی قباحت اور شناعت بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زانی مرد اپنی ناجائز ہوس کسی زانیہ ہی سے پوری کرے گا جو اس جیسی بدکار ہے، یا کسی مشرکہ سے جو زنا کو حرام نہیں سمجھتی، اسی طرح زانیہ عورت کی ناجائز ہوس وہی مرد پوری کرے گا جو اس جیسا بدکار ہے، یا کوئی مشرک…
Read the full tafseer →آیت نمبر 3
مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت کے معنی میں علماء تفسیر کے چھ اقوال ہیں : (1) اس آیت کا مقصد زنا کی برائی بیان کرنا اور اس کی خرابی بیان کرنا ہے۔ اور یہ کہ مومنین پر یہ حرام کیا گیا ہے۔ ما قبل سے اس معنی کا اتصال بہت عمدہ ہے۔ لا ینکح سے مراد لا بطاء ہے یعنی وطنی نہیں کرتا ہے۔ پس نکا بمعنی جامع ہوگا۔ مبالغہ کے لیے اور ہر طرف کو لینے کے لیے واقعہ کو دوہرایا پھر مشرک اور مشرکہ کی تقسیم زائد فرمائی اس حیثیت سے کہ گناہ میں شرک زنا سے اعم ہے معنی یہ ہے کہ زرانی اپنے زنا کے وقت جماع نہیں کرتا اور مشرکہ کی تقسیم زائد فرمائی اس حیثیت سے کہ گناہ میں شرک زنا سے اعم ہے معنی یہ ہے کہ زانی اپنے زنا کے وقت…
Read the full tafseer →1۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوداوٗد فی ناس کہ والبیہقی فی سننہ والضیاء والمقدس فی مختارہ من طریق سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے آیت ” الزانی لا ینکح الا زانیۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہاں نکاح سے مراد عقد نکاح نہیں لیکن جماع کرنا ہے لیکن مطلب یہ ہے کہ بدکارہ کے ساتھ بدکاری ہے بدکار مرد یا مشرک ہی کرتا ہے ایمان والوں پر بدکاری حرام کردی گئی۔
زانیہ اور مشرک کا نکاح
2۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ جب مہاجر مدینہ منورہ آئے تو ان میں سے اکثر تنگدستی کا شکار تھے مگر چند افراد مالدار تھے اور مدینہ منورہ میں قیمت مہنگی تھی…
Read the full tafseer →[ اَلزَّانِيْ : زنا کرنے والا ][ لَا يَنْكِحُ : جماع نہیں کرتا ][ اِلَّا : مگر ][ زَانِيَةً : کسی زنا کرنے والی سے ][ اَوْ مُشْرِكَةً ۡ : یا کسی شرک کرنے والی سے ][ وَّالزَّانِيَةُ : اور زنا کرنے والی ][ لَا يَنْكِحُهَآ : جماع نہیں کرتا اس سے ][ اِلَّا : مگر ][ زَانٍ : کوئی زنا کرنے والا ] اَوْ مُشْرِكٌ ۚ: یا کوئی شرک کرنے والا ][ وَحُرِّمَ : اور حرام کیا گیا ][ ذٰلِكَ : یہ ][ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : (3) [ مومنوں پر ]
نوٹ۔ 3: زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔ 5 ۔ میں تہمت لگانے کی سزا کا ذکر ہے۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کے ناجائز تعلقات کے چرچے بند کر دئیے جائیں کیونکہ اس سے معاشرے میں…
Read the full tafseer →اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں اوپر ترجمہ سے جو مطلب ظاہر ہو رہا ہے صاحب بیان القرآن نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ و نقلہ صاحب الروح عن النسیابوری فقال قال النسیابوری انہ احسن الوجوہ فی الایۃ سبحانہ (الزانی لا ینکح) حکم مؤسس علی الغالب المعتاد جئی بہ لزجر المومنین عن نکاح الزوانی بعد زجر ھم عن الزنا و ذلک ان الفاسق الخبیث الذی من شانہ الزنا و القبح لا یرغب غالبا فی نکاح الصوالح من النساء اللاتی علی خلاف صفتہ وانما یرغب فی فاسقۃ خبیثۃ من شکلہ اوفی مشرکۃ و الفاسقۃ الخبیثۃ المسافحۃ کذالک لا یرغب فی نکاحھا الصلحاء من الرجال و ینفرون عنھا وانما یرغب فیھا من ھو من شکلھا من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
حکم اول حد زنا
قال اللہ تعالیٰ ۔ الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ .... الیٰ .... طائفۃ من ال مومن ین۔
زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد سو ان دونوں کا حکم یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو درے مارو۔ اور اے مسلمانو ! تم کو اللہ کے حکم کی تعمیل میں ان دونوں پر رحم اور ترس نہ آنا چاہئے کہ رحم کھا کر ان کو چھوڑ دو یا ان کی سزا میں کچھ کمی کر دو دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔
اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوئے ہو تو حکم الٰہی کو پوری طرح جاری کرو اور اس میں نرمی اور سستی نہ کرو ورنہ خدا تعالیٰ آخرت میں تم سے سوال کرے گا کہ تم نے ہمارے قانون کے جاری کرنے میں…
Read the full tafseer →4:۔ ” الزانی لا ینکح الخ “ یہ دوسرا حکم یہ زنا کی سزا کے بعد زانی اور زانیہ کی عادت بد کا ذکر کیا گیا ہے یعنی جو مرد اور عورت زنا کی عادت بد میں مبتلا ہوجائیں اور زنا کو عیب نہ سمجھیں وہ اس لائق نہیں رہتے کہ کسی پاک دامن مومن مرد یا عورت سے ان کا تعلق ازدواج قائم کیا جاسکے ان کی ناپاک اور ذلیل طبیعت کا تقاضا تو یہ ہے کہ کسی ایسے ہی بدکار مرد و عورت یا ان سے بھی بدتر کسی مشرک و مشرکہ کے ساتھ نکاح ناجائز قرار دیا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بدکار مسلمان مرد و عورت کا کسی پارسا عورت و مرد سے عقد ہوجائے تو اسے باطل نہیں قرار دیا۔ اس آیت سے زنا کی عادت شنیعہ کی برائی اور قباحت کو واضح کرنا مقصود ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قانون انسداد زنا :
سورۃ ہذا کی پہلی آیات میں اللہ نے بڑے زور دار طریقے سے اس کی اہمیت بیان فرمائی تاکہ اس سے نصیحت حاصل کی جاسکے ، اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسداد زنا کا قانون بتلایا ہے اور اس کی بعض ذیلی دفعات کا ذکر کیا۔ بدکار مردوزن کی سزا کا ایک حصہ اس آیت میں ہے۔ جب کہ دوسرا حصہ اور مزید تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ اس ضمن میں فقہائے کرام کی وضاحتیں بھی موجود ہیں۔
مفسرین کرام اور علماء عظام یہ بنیادی بات بیان کرتے ہیں کہ قانون خواہ کتنا اچھا ہو جب تک اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر مریض کے لئے نسخہ تجویز کرتا ہے تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰہَا وَفَرَضْنٰہَا وَاَنْزَلْنَا فِيْہَآ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 1
زنا
الزِّنَاءُ : وطء المرأة من غير عقد شرعيّ ، وقد يقصر، وإذا مدّ يصحّ أن يكون مصدر المفاعلة، والنّسبة إليه زَنَوِيٌّ ، وفلان لِزِنْيَةٍ وزَنْيَةٍ قال اللہ تعالی: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلَّا زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُها إِلَّا زانٍ [ النور/ 3] ، الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي [ النور/ 2] ، وزنأ في الجبل بالهمز زنأ وزنوءا، والزّناء : الحاقن بوله، و «نهي الرّجل أن يصلّي وهو زناء» «3» .
( ز ن ی ) الزنا
عقد شرعی کے بغیر کسی عورت سے ہم بستری کرنے کا نام زنا ہے یہ اسم مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : سورة مبتداء محذوف کی خبر اے ھذہ انزلناھا سورة کی صفت فا جلدوا الزانیۃ و الزانی کی خبر مائۃ منصوب ہے مفعول مطلق کی صفت ہو کر وکذا ثمانین۔
تفسیر : ابن مردویہ نے روایت ابن عباس و ابن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے۔ سورة مومنون کے خاتمہ میں اس دعا کرنے کا حکم دیا تھا کہ اے رب ! ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر کیونکہ تو بڑارحم والا ہے۔ رحمتِ الٰہی اس کی مخلوق بالخصوص انسان پر ہمہ وقت سایہ افگن ہے مگر اس رحمت سے محروم کرنے والی یا یوں کہو اس نور کا حجاب دو ہی چیزیں ہیں : اول خالق سے سرکشی اس سے غفلت ‘ دوسرے معبودوں کی طرف التفات۔ اس کا…
Read the full tafseer →اَلزَّانِیْ لاَ یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً ز وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُھَـآ اِلاَّ زَانٍ اَوْمُشْرِکٌ ج وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (النور : 3)
(زانی نہ نکاح کرنے پائے مگر زانیہ یا مشرکہ سے، اور کسی زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر کوئی زانی یا مشرک اور حرام کردیا گیا ہے یہ اہل ایمان پر۔
آیت کے الفاظ میں دو احتمالات
اس آیت کریمہ کے الفاظ میں دو احتمالات ممکن ہیں اور ہمارے مفسرین نے دونوں میں سے کسی نہ کسی احتمال کو اختیار کیا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ لاَ یَنْکِحُخبر کے مفہوم میں نہیں بلکہ نہی کے مفہوم میں ہے۔ بظاہر یہ صیغہ نفی کا ہے لیکن معنی نہی کا ہے۔ فَلاَ یَنْکِحُ کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بدکار آدمی اور عورت کے لیے اخلاقی اور معاشرتی سزا۔
بدکاری میں شہرت رکھنے والے شخص کا نکاح کسی پاکدامن عورت سے کرنے کی بجائے زانیہ عورت یا کسی مشرکہ سے ہوسکتا ہے اسی طرح اگر کوئی عورت بدکاری کی شہرت رکھتی ہو تو اس کا نکاح کسی زانی یا مشرک آدمی سے ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو مومنوں پر حرام قرار دیا ہے۔
مفسرین نے اس آیت کا شان نزول اس طرح نقل کیا ہے۔ مرثد (رح) بن ابی مرثد غنوی مسلمان قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضرت مرثد ایک قیدی کو مکہ والوں کی قید سے نکالنے کے لیے مکہ پہنچے۔ رات کے وقت ایک دیوار کے سایہ میں چھپے بیٹھے تھے کہ…
Read the full tafseer →شفاعت میں اضافہ کے لئے قرین مشرک بنانا :
3: اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً وَّ الزَّانِیَۃُ لَایَنْکِحُھَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ (زنا کرنے والا نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والی سے یا شرک کرنیوالی سے اور زانیہ سے نکاح نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک) یعنی وہ خبیث شخص جس کا کام زنا والا ہے وہ صالحہ عورتوں سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتا وہ تو اپنے جیسی خبیثہ کی طرف ہی رغبت رکھتا ہے۔ یا مشرکہ کی طرف راغب ہے۔
الخبیثۃ یعنی زانیہ وغیرہ اسی طرح اپنے نکاح کیلئے نیک لوگوں کی طرف رغبت نہیں رکھتی وہ نکاح کی رغبت فساق و فجار اور مشرکین سے رکھتی ہے جو اسی طرز و طریق والے ہوتے…
Read the full tafseer →زانی کی سزا۔
3۔ الزانی لاینکح، ،، تا۔۔۔ علی المومنین۔ علماء نے اس آیت کے معنی میں اور حکم میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ جب مہاجر مدینہ میں آئے تو ان میں کچھ لوگ بالکل نادار تھے کچھ مال ومتاع نہ تھا اور قبیلہ والے موجود نہ تھے۔ مدینہ میں کچھ پیشہ ور عورتیں رہتی تھں جو خود فروش تھیں او اس زمانے مین مدینہ کے اندر سب سے زیادہ مالدار تھیں۔ کچھ نادار مہاجروں نے ان سے نکاح کرنا چاہا ان کے بےسرمایہ لوگوں کے خرچ کی کفالت وہ عورتیں کرلیں۔ انہوں نے رسول اللہ سے اس کی اجازت طلب کی۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان پیشہ ورعوروتوں سے نکاح کرنا مومنوں کے لیے حرام ہے۔ کیونکہ وہ مشرک ہیں۔…
Read the full tafseer →3:۔ ترجمہ میں لاَیَنْکِحُ کے معنی بیاہ نہ کرنے کے جو لیے ہیں ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس کے علاوہ اور بعضے سلف کے قول کے موافق ہیں ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آیت کی تفسیر یہ ہے کہ بدکار مرد سے بدکار یا مشرکہ عورت بدکاری کرتی ہے ایماندار مرد عورت بدکاری کو حرام جان کر ہمیشہ بدکاری سے بچتے ہیں ‘ ابوداؤد ‘ نسائی اور ترمذی میں معتبر 2 ؎ سند سے مرثد بن ابی مرثد کا قصہ جو شان نزول کے طور پر ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے مرثد بن ابی مرثد کی ایک عورت سے آشنائی تھی جس کا نام عناق تھا ‘ مرثد بن ابی مرثد کے اسلام لانے کے بعد عناق نے مرثد سے نکاح کرنے کی خواہش کی اور مرثد نے اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر (3
اس آیت کریمہ میں زنا کی رذالت اور قباحت کا بیان ہے کہ یہ فعل بد ‘ فاعل اور اس کے ساتھ میل جول رکھنے والے لوگوں کی عزت پر ایسا دھبہ لگا دیتا ہے جو دیگر گناہوں سے نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ زانی مرد صرف زنا کار عورت ہی سے نکاح کرے۔ اس کا حال ایسی ہی عورت کے حال سے مناسبت رکھتا ہے یا مشرک عورت اس کے مناسب حال ہے جو یوم آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھتی ہے نہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرتی ہے۔
اسی طرح زانیہ عورت سے صرف زانی مرد یا مشرک ہی نکاح کرے۔ (وحرم ذلک علی المومینین) ” اور اور اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں پر حرام ٹھہرا دیا ہے “ یعنی یہ کہ وہ کسی عفت مآب عورت کا…
Read the full tafseer →زانیہ عورت سے نکاح کا بیان
قول باری ہے (الزانی لا یکنح الا زانیۃ او مشرکۃ والزانیۃ لا ینکحھا الا زان او مشرک وحرم ذلک علی المومنین۔ زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک اور اہل ایمان پر حرام کردیا گیا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ عمر وبن شعیب نے اپنے والد سے ، انہوں نے عمرو کے دادا سے روایت کی ہے کہ مرثد بن ابی مرثد نامی ایک شخص تھا جو مکہ میں کافروں کے ہاں گرفتار شدہ مسلمانوں کو سواریوں پر بٹھا کر مدینے لایا کرتا تھا۔
مکہ میں عتاق نامی ایک ہیسوار رہتی تھی۔ جس کے اس شخص کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ مرثد نے مکہ میں پھنسے ہوئے ایک شخص…
Read the full tafseer →9 زناکاری کے ایک طبعی میلان کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ زناکار کا طبعی میلان زناکار ہی کی طرف ہوتا ہے۔ یعنی یہ زنا و بدکاری کا طبعی نتیجہ و اثر بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اس منحوس عمل کا طبعی نتیجہ و اثر یہی ہوتا ہے کہ اس کا مرتکب شخص اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی پاک دامن ایماندار عورت سے نکاح کرے اور نہ اس کو اس کی رغبت ہی ہوتی ہے۔ بلکہ وہ اس قابل ہے کہ اپنے ہی جیسے کسی بدکار یا اس سے بھی بڑھ کر کسی مشرک عورت سے شادی کرے کہ اس نے اپنے آپ کو مقام عز و شرف سے گرا دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہتے ہیں " اَلْمَلِکُ لا یَکْذِبُ " ۔ " بادشاہ جھوٹ نہیں بولتا " یعنی یہ بات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
زنا، اس کی سزا اور لعان کا حکم
تشریح : سب سے پہلے تو زنا کی تعریف کردی گئی۔ کئی گناہ انسان زندگی میں کرتا ہے مگر یہ گناہ اس قدر بڑا اورا نسانی سوسائٹی کے لیے مضر اور نقصان دہ ہے کہ اس کو شرک کے برابر کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام حدود کو توڑ دیتا ہے جو تہذیب و تمدن ‘ مذہب اور اخلاقیات اور انسانیت کی عظمت کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں مقرر کی گئی ہیں۔ البتہ موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ان حدود کو توڑ رہا ہے تو ان کے اندر جو انتشار ‘ بےچینی ‘ بےراہروی ‘ بد نظمی اور بےقاعدگی پیدا ہو رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ لوگ جب بھی اسلامی نظام کی اس خوبی سے بندھے ہوئے خاندانی ربط ‘ ضبط اور سکون کو دیکھتے ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة النور :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر…
Read the full tafseer →12 ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہاں نکاح بمعنی جماع لیا ہے یعنی زانی مرد یا عورت کی ہوس کو ان کے مثل کوئی مرد یا عورت ہی پورا کریگی یا کوئی مشرک مرد یا عورت جو زنا کو حرام نہیں سمجھتے۔ بعض نے یہاں نکاح کے معنی عقد یعنی معروف نکاح لئے ہیں۔ چناچہ امام احمد (رح) نے توبہ کے بغیر زانی مرد کا پاکدامن عورت سے اور پاکدامن مرد کا زانیہ عورت سے نکاح حرام قرار دیا ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) نے اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے ان لوگوں کی پرزور تردید کی ہے جو اس نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (تفسیر سورة نور)
Read the full tafseer →(24:3) ذلک۔ سے مراد یا زنا ہے ۔ یا ایک نیک مومن مرد کا پیشہ ورزانیہ سے یا عفیفہ مومنہ کا عادی زانی سے نکاح مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :
انزلنا (ہم نے اتارا۔ نازل کیا) ‘ فرضنا (ہم نے لازمی کیا۔ ہم نے فرض کیا) ‘ اجلدوا ( مارو) ‘ مائۃ (ایک سو) ‘ جلدۃ (کوڑے) ‘ لاتأ خذ (نہ پکڑے) ‘ رأفۃ ( ترس اور رحم) ‘ یشھد (دیکھے۔ موجود رہے) ‘ طائفۃ (ایک جماعت) حرم (حرام کردیا گیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
قرآن کریم ہر آیت اور سورت کی اپنی اہمیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سورة نور کو جس شان و شوکت ‘ اہتمام اور انوکھے انداز سے شروع کیا ہے وہ اس میں بیان کئے گئے احکامات کی اہمیت کو بہت واضح کردیتی ہے تاکہ معاشرہ کا ہر فرد اس سورت میں بیان کئے گئے احکامات کی پوری طرح پابندی کرسکے۔ سنگین گناہوں اور معاشرہ کی بد ترین…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول :
جس کا مطلب یہ ہے مہاجرین میں بعض بالکل نادار تھے نہ ان کے پاس کچھ مال تھا نہ ان کا کوئی عزیز قریب تھا اور بدکار مشرکہ عورتیں مالدار تھیں یہ دیکھ کر کسی مہاجر کو خیال آیا کہ اگر ان سے نکاح کرلیاجائے تو ان کی دولت کام آئے گی نبی ﷺ نے انہوں نے اس کی اجازت چاہی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اس سے روک دیا گیا ، ابتدائے اسلام میں زانیہ سے نکاح کرنا حرام تھا، بعد میں آیت وانکحوالایامی منکم، سے منسوخ ہوگیا کہ بیوہ میں زنا کار عورت اور سوائے اس کے سب داخل ہیں اور نکاح بموجب شریعت کے ہو۔
Read the full tafseer →[3] یعنی بدکار مرد کے لئے موزوں ہے تو بدکار یا مشرک عورت۔ اسی طرح بدکار عورت کے لئے بدکار یا مشرک مرد موزوں ہے۔ چناچہ اس سورت کی آیت 62 میں فرمایا '' خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ''۔
[4] یعنی مومنوں کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ جانتے بوجھتے اپنی لڑکیوں کا نکاح بدکار یا مشرک مردوں سے کریں۔ اسی طرح ان پر یہ بھی حرام ہے کہ وہ دانستہ ایسی عورت سے نکاح کریں جو زانیہ یا مشرکہ ہوں۔ لیکن جو عورت یا مرد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے تو اس کے ساتھ نکاح درست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ف 1) تمام مذاہب نے زنا کو انسانیت کیلئے بہت بڑی لعنت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو وجود قوموں کیلئے اخلاقی تباہی کے مترادف ہے قرآن حکیم نے خصوصیت کیساتھ اس مسئلے کی متعلقہ تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کے ذرائع و وسائل تک کا استقصاد و احوا کیا ہے قرآن کی نگاہیں دوسری مذہبی کتابوں سے کہیں دیادہ عمیق ہیں اس نے تمام انسانی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر ایسے قوانین اور ضابطے مقرر فرمائے ہیں کہ ان کو ملحوظ رکھنے کے بعد زنا کا احتمال قطعا پسند نہیں ہوتا ۔
اس آیت میں زنا کی حد شرعی سے بحث فرمائی ہے ارشاد ہے کہ زانی کے سودرے لگائے جائیں اور اس معاملہ میں سوسائٹی جذبات رحم ورافت سے بالکل متاثر نہ ہو ، یہ…
Read the full tafseer →(3) زنا کار مرد نکاح کی خواہش نہیں کرتا مگر بدکار عورت سے یا شرک کرنے والی عورت سے اور زناکار عورت سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں کرتا مگر زناکار مرد یا شرک کرنے والا مرد۔ عام طور سے طبعاً بدکار آدمی بدکار عورت سے ہی نکاح کی رغبت کرتا ہے کسی عفیفہ اور پاک دامن عورت سے نکاح کرنے پر مائل نہیں ہوتا یا مشرکہ عورت سے نکاح کرنے کی خواہش کرتا ہے کہ وہ بھی ایک قسم کا زنا ہی ہے اسی طرح بدکار اور زانیہ عورت سے نکاح کی خواہش اور رغبت نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک اور یہ بات مسلمانوں پر ممنوع کی گئی ہے۔
مراد یہ ہے کہ طبعاً برے بروں کو پسند کرتے ہیں اور صالح مردوں کو صالحہ عورتوں کو یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی…
Read the full tafseer →ف 5۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جو لوگ زنا کے خوگر ہوجاتے ہیں، اور ہنوز انہوں نے توبہ نہ کی ہو، ان کی اصلی رغبت زنا کی طرف ہوتی ہے اور اس میں انکو زیادہ لذت ہوتی ہے، حتی کہ ان کو جو عورت پسند آتی ہے اصل ان کا مقصود یہی ہوتا ہے کہ اس سے زنا میسر ہوجاوے اور یہ ہمارے ساتھ زانیہ ہونا گوارا کرلے۔
Read the full tafseer →بکروثیب کی تفریق یعنی دونوں کی سزا میں جو فرق روا رکھا گیا ہے :
سورة النساء کی آیت 15 میں بیان کیا گیا تھا کہ ” تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بدچلنی کی مرتکب ہوں تو چاہئے کہ اپنے آدمیوں میں سے چار آدمیوں کی اس پر گواہی لو اور اگر چار گواہ گواہی دے دیں تو پھر ایسی عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمر پوری کر دے یا ان کے لئے کوئی دوسری راہ پیدا کر دے ۔ “ پھر اس معاملہ میں جو راہ پیدا کردی گئی وہ یہی ہے کہ ” زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو “۔ (النور 24 : 2) ظاہر ہے کہ اس میں بکروثیب کی کوئی تفریق نہیں کی گئی لیکن بعض احادیث کی روشنی میں یہ بیان کیا…
Read the full tafseer →Commentary
The second injunction about fornication
The first injunction was regarding the punishment of fornication, which has been described in the previous verse. The second injunction is about marrying the men or women who have committed adultery. Alongside the marriage with polytheist man and woman is also described. The commentators have given different views while explaining this verse, but the simplest and safe meaning is that fornication is an obnoxious act, and as such whoever indulges in this act loses his character and taste, and is attracted towards persons of the same character,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5. That is, only an adulterous woman is a fit match for an adulterous man who has not repented or an idolatrous woman. No believing, virtuous woman can be a match for him. It is forbidden for the believers that they should give their daughters in marriage to such wicked people knowing them to be so. Similarly the fit match for adulterous women (who have not repented) can only be adulterous or idolatrous men; they are not fit for any righteous believer. It is forbidden for the believers that they should marry women who are known to possess immoral character. This thing applies to those men and…
Read the full tafseer →