Explained with ayahs 108–111
ناکام آرزو
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہوگے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہوگا جو دوزخیوں کو ہر کھیل سے مایوس کردے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہوگی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة الْمُؤْمِنُوْن 99
پھر اسی مضمون کا اعادہ ہے کہ فلاح کا مستحق کون ہے اور خسران کا مستحق کون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
111-109
غربائے مسلمین کی دلداری
یہ اس غیرت کا بیان ہے جس کے سبب سے خدائے غیور ان اشتقیار کو بات کرنے سے روک دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تم میرے آگے زبان نہ کھولو، تم وہ شقی اور بدبخت لوگ ہو کہ جب میرے بندوں کی ایک جماعت میرے آگے ربنا امنافا غفرلنا دارھمنا وانت خیر الرحمین کی دعا کرتی تھی تو تم نے ان کو مذاق بنا رکھا تھا اور اس شغل مذاق میں اس طرح تم منہمک رہے کہ تمہیں یہ بات یاد بھی نہیں رہی کہ کبھی مجھ سے بھی تمہیں سابقہ پڑنے الا ہے اور تم پوری جسارت کے ساتھ ان کی ہنسی اڑاتے رہے تو آج میں نے ان کی صبر و استقامت کا ان کو صلہ دیا اب وہ فائز المرام ہیں اور تم یہ بھاڑ جھونکو اور اسی میں جلو !
فریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
111-1دنیا میں اہل ایمان کے لئے ایک صبر آزما مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب دین و ایمان پر عمل کرتے ہیں تو دین سے ناآشنا اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق و ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں کہ وہ ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام اللہ پر عمل کرنے سے کرتے ہیں، جیسے ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ کی ہندوانہ رسومات سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ و رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھیں کامیابی سے سرفراز کرے گا۔ جیسا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
33: یعنی تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حقوق پامال کیے۔ بلکہ نیک بندوں پر ظلم کر کے حقوق العباد بھی پامال کیے۔ اس دن کی ہولناک سزا سے تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا، مگر تم اس کا مذاق اڑاتے رہے، اس لیے اب تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔
Read the full tafseer →انی جزیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم لفآئزون ” اس سخت اور توہین آمیز جواب کے بعد ایک نئے سوال و جواب کا سلسہ شروع ہوتا ہے جبکہ اس سوال و جواب میں ان کے ساتھ نہایت ہی توہین آمیز سلوک کیا گیا اور ان کو لاجواب کردیا گیا ہے۔ اب نیا سوال یہ آتا ہے۔
Read the full tafseer →2 بیچارے مسلمانوں نے تمہاری زبانی اور عملی ایذاؤں پر صبر کیا تھا، آج دیکھتے ہو تمہارے بالمقابل ان کو کیا پھل ملا۔ ان کو ایسے مقام پر پہنچا دیا گیا جہاں وہ ہر طرح کامیاب اور ہر قسم کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
آیت 110 فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا ”
میرے وہ بندے جب مجھ سے گڑ گڑا کر دعا کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔
وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ ”
تم لوگ میرے بندوں کی تضحیک کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں ایسے مگن رہے کہ میں تمہیں بالکل ہی یاد نہ رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
104 لیکن تمہارے اس تمسخر اور مذاق کے مقابلہ میں میرے مخلص بندے دنیا میں صبر ہی کرتے رہے۔ آج میں تمہیں تمہاری کرتوتوں کی پوری سزا دوں گا اور انھیں ان کے صبر کی پوری پوری جزاء دے رہا ہوں۔ میں انھیں ایسا مقام عطا کر رہا ہوں جہاں وہ ہر طرح کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہوں گے اور یہی صبر کرنے والے لوگ ہیں جو ہر طرح سے کامیاب رہے۔
Read the full tafseer →96۔ (اور تم اپنی روشن خیالی پر گھمنڈ رکھنے والے اس ناکامی کے عذاب میں گرفتار نکلے۔ ان غریبوں کا کیا بگڑا جو تمہارے تختہ مشق تھے۔ چند روزہ کلفت کو صبر کے ساتھ برداشت کرلے گئے۔ مصیبت تو تمہارے ہی حصہ میں آئی) ” مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیاجائے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا اور حقوق العباد کا بھی۔ اور عباد بھی کیسے، ہمارے مقبول ومحبوب، جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کو سخر یہ بنانے میں ان کی ایذاء کہ اضاعۃ حق العبد ہے اور تکذیب حق جو منشا سخریہ کا ہے کہ اضاعۃ حق اللہ ہے دونوں لازم آئے، بس اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →انی جزیتہم الیوم بما صبروا انہم ہم الفآئزون۔ آج ان کے صبر کا بدلہ میں نے یہ دیا کہ بس
وہی کامیاب ہوئے۔
Read the full tafseer →(111) میں نے انھیں آج ان کے صبر کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا کیوں کہ وہ میری اطاعت پر ثابت قدم رہے اور تمہاری تکالیف پر انہوں نے صبر کیا اور یہی حضرات جنت کے ملنے اور دوزخ سے نجات حاصل ہونے کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔
یہ آیت مبارکہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ لوگ حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان کے ساتھیوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اِنِّىْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ۔۔ : دنیا میں اہل ایمان کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ دین پر عمل کرتے ہیں تو دین سے جاہل اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق اور ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں جو ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام الٰہی پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جیسے مشرکانہ رسوم سے کنارہ کشی اور ان کا رد ہے، ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ اور موت وغیرہ کی ہندوانہ رسوم سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
آیت نمبر 109 تا 111 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا مجاہد نے کہا : اس سے مراد حضرت بلا، حضرت کباب، حضرت صہیب اورع فلاں اور فلاں کمزور مسلمان ہیں۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی، مسلمانوں سے مذاق کرتے تھے۔ فاتخذ تموھم سخر یا نافع، حمزہ اور کسائی نے یہاں اور سورة جن میں ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عمرونے ان کے درمیان فرق کیا ہے۔ انہوں نے سین کے کسرہ کے ساتھ استہزء کی جہت سے بنایا ہے اور سین کے ضمہ کے ساتھ سخرۃ کی جہت سے بنایا ہے، خلیل، سیبویہ، کسائی اور فراء نے اس تفریق کو نہیں جانا کسائی نے کہا یہ ہم معنی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” فاتخذتموہم سخریا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ دونوں مختلف لفظ ہیں (یعنی) ” سخریا “ اور ” سُخریا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آیت آیت ” لیتخذ بعضہم بعضا سخریا “ (الزخرف آیت 32) پھر فرمایا کہ وہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور دوسرے جو ان کا مذاق اڑاتے ہیں وہ ” سِخریا “ ہے۔
Read the full tafseer →[ اِنِّىْ (بیشک میں نے ][ جَزَيْتُهُمُ (میں نے بدلہ دیا انہیں ][ الْيَوْمَ (آج ][ بِمَا (اس وجہ سے جو ][ صَبَرُوْٓا (ان سب نے صبر کیا ][ اَنَّهُمْ (بیشک وہ) هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ (ہی سب کامیاب ہونے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان ہوگا (اِِنَّہٗ کَانَ فَرِیقٌ مِّنْ عِبٰدِیْ ) (بلاشبہ میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو یوں دعا کرتے تھے) کہ اے ہمارے اللہ ہم ایمان لائے سو ہماری مغفرت فرما دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں اس جماعت کو تم نے مذاق اور ٹھٹہ اور مسخرہ پن کا نشانہ بنا لیا تھا اور تم اس درجہ ان کے پیچھے پڑے کہ انھوں نے تمہیں میری یاد بھلا دی یعنی تم ان کو مذاق بنانے میں ایسے لگے کہ میری یاد کی تمہیں فرصت ہی نہیں رہی۔ تم ان کا مذاق بھی بناتے تھے اور ان سے ہنستے بھی تھے تم نے اپنے کیے کا نتیجہ بھگت لیا اور ہمیشہ کے لیے دوزخ میں چلے گئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →81:۔ ” انی جزیتھم الیوم بما صبروا ا الخ “ تم نے اپنا حال تو دیکھ ہی لیا کہ کس عذاب میں مبتلا ہو۔ ان غریب مسلمانوں کا حال بھی سن لو جن سے تم تمسخر کرتے تھے اور جن کے بارے میں تمہاری خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں کوئی مرتبہ نہیں دے گا آج میں نے ان کو ان کے صبر و تحمل کی پوری پوری جزا دی ہے اور آج وہ خوش و خرم ہیں اور کامیاب و کامران ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →اِنِّىْ جَزَيْتُہُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْٓا 0ۙ اَنَّہُمْ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 111
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ
تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا
ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
اِنَّہٰ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ ۔ فَاتَّخَذْتُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰیٓ اَنْسَوْکُمْ ذِکْرِیْ وَکُنْتُمْ مِّنْھُمْ تَضْحَکُوْنَ ۔ اِنِّیْ جَزَیْتُھُُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْٓا لا اَنَّھُمْ ھُمُ الْفَاْئِزُوْنَ ۔
(المومنون : 109 تا 111)
(بیشک میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو دعا کرتے تھے کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے تو، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔ تو تم نے ان کو مذاق بنا لیا، یہاں تک کہ ان کے ساتھ تمہارے اس شغل نے تم کو میری یاد سے غافل کردیا اور تم ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
فہم القرآن
ربط کلام : رب ذوالجلال کا جہنمیوں کو دوسرا جواب۔
جہنمیوں کو جہنم میں دھتکارتے وقت اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرمائیں گے کہ کیا تم وہ لوگ نہیں ہو ؟ جنہوں نے میرے بندوں کو اس وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان رکھتے تھے، مجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے اور مجھ سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اے رب تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ انہیں مذاق کرنے کی وجہ سے تم نے میری نصیحت کو فراموش کردیا۔ اپنے بندوں کے ایمان، صبر اور دعاؤں کی وجہ سے انہیں بہترین اجر سے سرفراز کرتا ہوں۔ ان کے مقابلے میں آج تمہاری سزا یہ ہے کہ تم ہمیشہ ہمیش جہنم کی آگ میں جلتے اور چلاّتے…
Read the full tafseer →111: اِنِّیْ جَزَیْتُھُمْ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْا (میں نے آج ان کو ان کے صبر کے باعث بدلہ دیا) ان کے صبر کے سبب۔ اَنَّھُمْ اس
لئے کہ وہ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ (وہی ہیں کامیاب )
نحو : جائز ہے کہ یہ مفعول ثانی ہو۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی جزیتھم الیوم فوزھم میں نے ان کو کامیابی کا بدلہ دیا۔ کیونکہ جزاء کا لفظ دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : وجزٰٹھم بما صبرواجنۃ ] الانسان : 12[
قراءت : انہم کسرہ کے ساتھ حمزہ، علی نے پڑھا اور جملہ مستانفہ قرار دیا ہے : ای انہم ھم الفائزون الا انتم بیشک وہ وہی کامیاب ہیں نہ کہ تم۔
Read the full tafseer →111۔ انی جزیتھم الیوم بماصبروا۔ تمہاری اذیتوں اور تمہاری استہزاء کی بنا پر جو انہوں نے دنیا پر کیا۔ انھم ھم الفائزون۔ حمزہ اور کسائی نے ، انھم، ہمزہ کے زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت مین یہ جملہ مستانفہ ہوگا۔ دوسرے قراء نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ اس صورت میں یہ مفعول ثانی ہوگا، یعنی آج کے دن ان کے صبر کے بسبب ان کو بدلہ دوں گا جو جنت کی صورت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
109۔ 111:۔ مشرکین مکہ کا یہ خیال تھا کہ ان میں کے جو لوگ مالداری یا قوم کے سر کردہ ہونے کے سبب سے دنیا میں عزت وآبرو رکھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی عزت دار ہیں ‘ اسی واسطے بلال ؓ ‘ عمار ؓ ‘ صہیب ؓ اور خباب ؓ جیسے غریب صحابہ ؓ کو یہ مالدار مشرک چھیڑا کرتے تھے اور طرح طرح کی مسخراپن کی باتیں کیا کرتے تھے ‘ کبھی کہتے کہ اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے چناچہ یہ ذکر سورة الاحقاف میں تفصیل سے آوے گا کبھی اس طرح کی اور باتیں کرتے تھے جن کا ذکر مناسب موقعوں پر آیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے خباب بن الارت کی روایت گزر چکی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →124 صبر کا پھل نہایت عمدہ اور بےمثال : سو ان بدبختوں سے اس موقع پر کہا جائے گا کہ تمہاری طرف سے تمام تر ظلم و ستم اور مذاق و استہزاء کے باوجود وہ سچے ایماندار راہ ِحق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رہے۔ سو آج میں نے ان کو ان کے اس صبر و استقامت کا یہ صلہ دیا کہ وہی ہیں حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے۔ اور اس کے مقابلے میں تم جو دنیا میں اپنی عقل مندی اور چالاکی کے زعم میں ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے آج ناکام و نامراد ہو۔ سو اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا و خوشنودی کا صلہ و بدلہ دائمی کامیابی کا بےمثال پھل اور ایسوں کا مذاق اڑانا ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–118
اللہ کے مقبول بندے
تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔
آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →7 ۔ بلکہ لفظی ترجمہ یوں ہے کہ وہی بامراد ہیں “۔
Read the full tafseer →(23:111) اس آیت شریف میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہی فریق (اللہ تعالیٰ کے بندوں کا) ہے جن کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یقولون ربنا امنا۔۔ خیر الراحمین۔ بما صبروا میں باء سببیہ ہے۔ ای بسبب صبرہم علی اذیتکم تمہاری تکلیف دہی پر صبر کرنے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
صبر کے نتیجہ کا ذکر اور مالدار کفار کا غریب صحابہ کرام سے تمسخر۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیتیں کفار قریش کے حق میں نازل ہوئیں جو حضرت بلال وحضرت عمار وحضرت صہیب وحضرت خباب وغیرہ اجمعین اصحاب رسول اللہ سے مالدار مشرک چھیڑا کرتے تھے اور طرح طرح کی مسخراپن کی باتیں کیا کرتے تھے کبھی کہتے تھے کہ اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی قدم آگے نہ بڑھاتے ۔ چناچہ یہ ذکر سورة الاحقاف میں تفصیل سے آوے گا صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت خباب الارت کی روایت گذرچ کی ہے جس میں حضرت خباب کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول سے یہ شکایت کی کہ اب تو مشرکین ہم کو بہت ستاتے ہیں آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–113
[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔
[43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
منکرین کی محرومی وبدبختی :
حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…
Read the full tafseer →(111) آج کے دن ہم نے اپنے ان بندوں کو اس صبر کا جو انہوں نے تمہاری یذا پر کیا تھا یہ صلا دیا کہ وہی ہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے یعنی تم تو عذاب میں مبتلا ہو اور وہ اپنے صبر کا پھل بھی پاچکے جو تمہاری تکالیف پر وہ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 5۔ مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیا جاوے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا۔ اور حقوق العباد کا بھی، اور عباد بھی کیسے ؟ ہمارے مقبول اور محبوب جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے، پس اس کی سزا کے لئے دوام اور تمام مناسب ہے، اور مومنین کو جزائے فوز دینا منجملہ تمام سزا ہے، کفار کے لئے، کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی تادیبی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →آج کے دن جزا کے مستحق کون لوگ ہیں ؟ وہی جو صبر کرتے رہے :
111۔ اسلام لانے کے بعد وہ کونسا دیکھ ہے جو تم نے ان کو نہیں پہنچایا تھا لیکن انھوں نے بھی رضائے الہی کے لیے ان کو خوب برداشت کیا چونکہ گذشتہ کل تک تم نے ان کا مذاق اڑیا اور آج کا دن میں نے ان کو جزا دینے کے لیے مقرر کیا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
وَلَا تُكَلِّمُونِ (Do not speak to Me - 23:108). According to Hasan al-Basri (رح) these will be the last words of the people who are cast in hell and in reply Allah will say, "Do not speak to Me." After this they will not be able to speak like human beings, but will make animal sounds to each other. Baihaqi and others have quoted Muhammad Ibn Ka` b as saying that the Qur'an mentions five requests made by the people condemned to hell. Out of the five, replies were furnished to four, but in reply to the fifth Allah commanded them not to speak to Him. Thus these are the last words to be uttered…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
99. This is again a reference to those who will deserve success or be doomed to failure in the Hereafter.
Read the full tafseer →