Al-Muminoon 23:112

Al-Muminoon · from ayah 112

23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ ۟قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ‏

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] will say, "How long did you remain on earth in number of years?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:112

پھر اللہ تعالی ان سے پوچھے گا "بتاؤ، زمین میں تم کتنے سال رہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ تم زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(پھر) اللہ (ان دوزخیوں سے) فرمائے گا : تم زمین میں گنتی کے کتنے سال رہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا تم زمین میں کتنا ٹھہرے برسوں کی گنتی سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہو گا کہ تم زمین میں برسوں کے شمار سے کتنی مدت ٹھہرے رہے (ہو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : بتاؤ تم کتنے سال زمین میں رہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہنے والا کہے گا، سالوں کے حساب سے زمین میں کتنی مدت رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اللہ ان سے پوچھے گا کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ تم لوگ زمین میں کتنے برس رہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ارشاد ہوگا کہ (اچھا) تم برسوں کے حساب سے کتنی مدت زمین پر رہے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(پھر) وہ ان سے پوچھے گا کہ تم لوگ کتنا عرصہ زمین میں رہے ہو سالوں کی گنتی میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) اللہ پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Then Allah will ask them: "For how many years did you stay on earth?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) will say (to unbelievers), :How long did you stay on the earth by number of years?

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) will say (to unbelievers), :How long did you stay on the earth by number of years?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will say: "What number of years did you stay on earth"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will say: How long tarried ye in the earth, counting by years?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] will say, "How long did you remain on earth in number of years?"

— Saheeh International

God will ask them, "How many years did you live in your graves?"

— Muhammad Sarwar

He will say: How many years did you tarry in the earth?

— Muhammad Habib Shakir

He will say: how long tarried ye on the earth in number of year?

— Abdul Majid Daryabadi

He will say: "What number of years did ye stay on earth?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:112

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 112–116

مختصر زندگی طویل گناہ بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہوگئے اگر نیکوں کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کرلیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کرکے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کردیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الہٰی میں بسر کردیتے تو آج راج تھا۔ خوشی ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 111–112

سورة الْمُؤْمِنُوْن 99 پھر اسی مضمون کا اعادہ ہے کہ فلاح کا مستحق کون ہے اور خسران کا مستحق کون۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 108–115

لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 112–114

آیت 114-112 طول حیات کا مغالطہ اب یہ واضح فرمایا کہ ظہور قیامت کو یہ جو بہت بعید چیز سمجھے ہوئے اس مغالطہ میں ہیں کہ اگر وہ آئی بھی تو اس کے آنے میں اتنی دیر ہے کہ ابیھ سے اس کی فکر میں اپنا عیش مکدر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ مغالطہ بہت جلد دور ہوجائے گا۔ فضخ صور کے بعد جب یہ اٹھیں گے تو ان کو محسوس ہوگا کہ جس زندگی کو بہت طویل سمجھے ہوئے تھے وہ پلک جھپکتے ختم ہوگئی۔ قال کا فاعل یہاں اللہ تعالیٰ یا کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ قال قآئل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی قیامت کو جب یہ اٹھیں گیت و انہیں میں سے کوئی پوچھنے والا پوچھے گا کہ بھلا بتائو، دنیا میں ہم کتنی مدت رہے ہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 111–112

111-1دنیا میں اہل ایمان کے لئے ایک صبر آزما مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب دین و ایمان پر عمل کرتے ہیں تو دین سے ناآشنا اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق و ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں کہ وہ ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام اللہ پر عمل کرنے سے کرتے ہیں، جیسے ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ کی ہندوانہ رسومات سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ و رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھیں کامیابی سے سرفراز کرے گا۔ جیسا کہ اس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 110–112

33: یعنی تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حقوق پامال کیے۔ بلکہ نیک بندوں پر ظلم کر کے حقوق العباد بھی پامال کیے۔ اس دن کی ہولناک سزا سے تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا، مگر تم اس کا مذاق اڑاتے رہے، اس لیے اب تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل کم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدد سنین۔ اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا عرصہ دنیا میں گزارا سے لیکن مقصد یہ بتانا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی کس قدر مختصر ہے ‘ کس قدر حقیر ہے اور دنیا کے دن کس قدر چھوٹے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی اس مختصر زندگی کے لیے آخرت کی دائمی زندگی کو خراب کیا۔ وہ تو آج محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا کس قدر مختصر ہے۔ کس قدر معتبر ہے لیکن وہ مایوس ہیں اور ان کے سینے تنگ ہیں۔ اب ان کو کیا پڑی ہے کہ حساب کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 112–113

3 یعنی فرشتوں سے۔ جنہوں نے ہر نیکی بدی گن رکھی ہے یہ بھی گنا ہوگا۔ " زمین میں رہنا " یعنی قبر میں رہنا یا دنیا کی عمر، یہ بھی وہاں تھوڑی نظر آئے گی۔ یہ پوچھنا اس واسطے کہ دنیا میں عذاب کی شتابی کیا کرتے تھے، اب جانا کہ شتاب ہی آیا۔ (کذافی موضح القرآن)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 110–113

آیت 110 فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا ” میرے وہ بندے جب مجھ سے گڑ گڑا کر دعا کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔ وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ ” تم لوگ میرے بندوں کی تضحیک کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں ایسے مگن رہے کہ میں تمہیں بالکل ہی یاد نہ رہا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 111–112

104 لیکن تمہارے اس تمسخر اور مذاق کے مقابلہ میں میرے مخلص بندے دنیا میں صبر ہی کرتے رہے۔ آج میں تمہیں تمہاری کرتوتوں کی پوری سزا دوں گا اور انھیں ان کے صبر کی پوری پوری جزاء دے رہا ہوں۔ میں انھیں ایسا مقام عطا کر رہا ہوں جہاں وہ ہر طرح کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہوں گے اور یہی صبر کرنے والے لوگ ہیں جو ہر طرح سے کامیاب رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 112–113

97۔ (ہمیں اب کچھ یاد دواد نہیں) یہ جوا اب ان کی زبان سے شدت سراسیمگی اور حواس کی گمشدگی میں ادا ہوگا۔ (آیت) ” العآدین “۔ گننے والوں سے مراد فرشتے لیے گئے ہیں، کہ ان کے پاس بندوں کی ہر چیز کا حساب و کتاب رہتا ہے۔ الملئکۃ الذین یحفظون اعمال بنی ادم ویحصونھا علیھم (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال کم لبثتم فی الارض عدد سنین۔ ارشاد ہوگا (آج یہ بتاؤ کہ) سالوں کی گنتی کے اعتبار سے تم زمین پر کتنی مدت رہے۔ قَالَیعنی قیامت کے دن اللہ کافروں سے فرمائے گا۔ کَمْ لَبِثْتُمْتم زمین میں کتنی مدت رہے یعنی زندگی کی حالت میں اور مرنے کے بعد قبروں میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(112) ارشاد خداوندی ہوگا کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ تم مہینوں اور دنوں کے اعتبار سے کتنی مدت قبروں میں رہے ہو گے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ : کفار قیامت کا انکار کرتے تھے اور دنیا کی زندگی کے علاوہ کسی زندگی کو نہیں مانتے تھے۔ ان کے خیال میں مٹی اور ہڈیاں ہوجانے کے بعد زندہ ہونا ممکن نہ تھا، اس لیے انھوں نے دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھا، اسے آخرت پر ترجیح دی اور اسے اس طرح گزارا جیسے انھیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، حالانکہ یہ تھوڑا سا وقت غنیمت جان کر اگر آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے اور اسے اللہ کی فرماں برداری میں گزارتے تو اس کے صلے میں ہمیشہ ہمیشہ جنت کی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کے مالک بنتے۔ لیکن انھوں نے یہ تھوڑا سا وقت بہت لمبا زمانہ سمجھ کر اللہ کی نافرمانی میں گزارا تو اس کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 112–114

آیت نمبر 112 تا 114 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل کم لبثتم فی الارض۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ قبور میں رہنے کے متعلق سوال ہوگا۔ بعض نے کہا : دنیا میں مدت حیات کے بارے میں سوال ہو گا یہ سوال مشرکین کیلئے قیامت کے عرصات میں یا دوزخ میں ہوگا۔ عدد سنین۔ نون کے فتحہ کے ساتھ کہ یہ جمع سالم ہے اور بعض عرب اسے جر دیتے ہیں اور تنوین دیتے ہیں۔ قالو لمثنا یو ما او یعض یوم عذاب کی شدت انہیں قبور میں ٹھرنے کی مدت بھلا دے گی۔ بعض نے کہا : چونکہ ان سے دونوں نفخوں کے درمیان عذاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ قبور میں عذاب کو بھول جائیں گے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس عذاب میں وہ تھے نفخہ اولی سے نفخہ ثانیہ تک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 112–114

1۔ ابن ابی حاتم نے ایفع بن عبدالکلاعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل فرمادیں گے اور دوزخ والوں کو دوزخ میں تو جنت والوں سے فرمائیں گے آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنے سال رہے) تو وہ کہیں گے آیت ” لبثنا یوما او بعض یوم “ (یعنی ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے) پھر فرمایا وہ کتنی اچھی ہے جو تم نے تجارت کی ہے ایک پورے دن میں یا ایک دن سے کم میں میری رحمت میری رضا مندی اور میری جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو۔ پھر فرمائیں گے اے دوزخ والو ! آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنا رہے) وہ کہیں گے آیت ” لبثنا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قٰلَ (اس نے کہا ][ كَمْ (کتنی ][ لَبِثْتُمْ (تم ٹھہرے ][ فِي الْاَرْضِ (زمین میں ہے ][ عَدَدَ (گنتی ][ سِنِيْنَ (سالوں کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 112–117

اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–114

تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 112–113

82:۔ ” قال کم لبثتم الخ “ جو کافر دنیا میں واپس جانے کی تمنا ظاہر کریں گے ان سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ بتاؤ تم دنیا میں کتنے سال رہے۔ ” قالوا لبثنا یوما الخ “ وہ کہیں گے ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن یا اسے بھی کم رہے ہیں اے ہمارے پروردگار شدت ہول و عذاب سے ہم سب کچھ بھول چکے ہیں ہمیں کچھ یاد نہیں فرشتوں سے پوچھ جو انسانوں کی عمریں لکھتے تھے انہیں اچھی طرح معلوم ہوگا۔ الملئکۃ العادین لا عماد العباد واعمالھم (روح ج 18 ص 70) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–114

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ۝ 112 كم كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو : كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال : وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما يغطّي الرأس کالقلنسوة . کم یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 112–114

ترکیب : : قال یقر علی لفظ الماضی عنداہل الکوفۃ وبلفظ الامرعنداہل الحرمین والبصرۃ والشام کم ظرف ہے لبثتم کا اے کم سنۃ لبثتم فی الدنیا و فی قبورکم۔ عدد بدل ہے کم سے اور سنین اس سے عددسنین تمیز بھی ہوسکتا ہے۔ عادین بالتشدید من العددای شمار کرنے والے۔ وبالتخفیف علی معنی العادین اے المتقدمین کقولک ھذہ برعاویۃ ای سل من تقدمنا لو کا جواب محذوف ای ماا اجبتم بھذہ المدۃ عبثا مصدر فی موضع الحال او مفعول لہ و انکم معطوف ہے انما پر انہ بالکسر علی الاستیناف۔ تفسیر :۔ منکرین قیامت سے بطور توبیخ کے وہاں یہ بھی سوال ہوگا کم لبثتم فی الارض الخ کہ جو تم کہتے تھے مر کر جینا نہیں اور زندگی ہے تو دنیا ہی کی زندگی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 112–114

قٰـلَ کَمْ لَبِثْـتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ ۔ قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ ۔ قٰـلَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْاَنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (المومنون : 112 تا 114) (اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا سالوں کے حساب سے تم زمین میں کتنا عرصہ رہے ہو۔ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔ ارشاد ہوگا تم تو بس تھوڑی ہی مدت رہے ہو، کاش تم نے یہ اس وقت جانا ہوتا۔ ) طولِ حیات کا مغالطہ قریش کے عقیدے کی سب سے بڑی خرابی کا سبب شرک ہے جس نے ان کے انفرادی اور اجتماعی تشخص کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 112–115

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں سے ایک اور سوال :۔ انسان کی بغاوت اور نافرمانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ سمجھتا ہے مرنے کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش نہیں ہونا۔ جہنمیوں کی حسرتوں میں اضافہ کرنے اور دنیا میں دی جانے والی مہلت کا احساس دلانے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے استفسار فرمائیں گے۔ بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے تھے ؟ جہنمی جہنم کی ہولناکیوں سے گھبرا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی فریاد کریں گے کہ الٰہی ہمیں کچھ یاد نہیں کہ ہم کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ آپ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

112: قٰلَ (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) یا جو فرشتہ ان کے سوال و جواب پر مقرر کیا گیا ہوگا۔ قراءت : قلؔ مکی، حمزہ، علی نے پڑھا ہے مالک فرشتہ کو حکم ہوگا کہ ان سے سوال کرے۔ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ (تم زمین یعنی دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے) عَدَدَ سِنِیْنَ (گنتی کے سال) یعنی تمہارے ٹھہرنے کے سالوں کی گنتی کتنی ہے۔ نحو : کمؔ یہ لبثتم کی وجہ سے منصوب ہے اور عدد یہ تمیز ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

112۔ قال کم لبثتم۔ حمزہ اور کسائی کا قول ہے۔ کہ یہ قل ان، ہے اور امرونہی کے معنی میں ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ آپ کہیے اے کافرو، یہاں پر کلام کو واحد کے قائم مقام قرار دیتے ہیں مراد اس سے جماعت ہے ۔ جب اس کا معنی مفہوم ہو اوریہ بھی جائز ہے ک ہخطاب ان میں سے ہر ایک کو ہو۔ ای قل یا ایھا الکافرون۔ ابن کثیر نے پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ خبر ہے کیونکہ دوسرا جملہ اس کا جواب ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کو ای سے ہی پڑھا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے کہیں گے کہ تم کتناعرصہ دنیا میں ٹھہرے ہو۔ فی الارض، دنیا اور قبر میں۔ عدد سنین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 112–114

112۔ 114:۔ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے جس طرح ان سے یہ پوچھا جاوے گا کہ کیا تم کو قرآن کی آیتیں نہیں سنائی گئیں اور تم نے ان کو نہیں جھٹلایا ‘ اسی طرح یہ بھی ان سے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبیٰ کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا ‘ آخر تم کو کچھ یہ بھی یاد ہے کہ دنیا میں تم کتنے برس رہے ‘ عذاب کی سختی کے سبب سے یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے ‘ اس لیے بدحواسی کا جواب دیویں گے کہ جن کی صحیح گنتی یاد ہو ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے۔ اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن یا اس سے بھی کچھ کم رہے ‘ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–114

(آیت نمبر (101 اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 112–113

125 منکرین سے ان کی تذلیل کے لیے ایک اور سوال : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ جو لوگ دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود کو بہت بڑی چیز اور لمبی فرصت سمجھتے تھے اس روز وہ ان سے پوچھے گا کہ تم لوگ کتنے برس رہے ہو زمین میں ؟۔ کیونکہ تم دنیا کی اس زندگی کو بہت بڑی چیز سمجھتے تھے اور تمہارا خیال تھا کہ ہم اسی میں ہمیشہ رہیں گے اور اسی طرح مزے لوٹتے اور عیش کرتے رہیں گے۔ اور جو لوگ تمہیں دنیا کی بےحقیقتی اور بےثباتی اور اس کے فنا وزوال کے بارے میں بتاتے تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اتنی دیر کے بعد آنے والی چیز کی بنا پر ہم اپنا عیش مکدر کیوں کریں۔ سو اب بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنے برس رہے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 109–118

اللہ کے مقبول بندے تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔ آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 112–113

8 ۔ یعنی وہ اس قدر سخت عذاب میں مبتلا ہونگے کہ انہیں اپنی دنیوی زندگی جو انہوں نے عیش و آرام سے گزاری، ایک خواب نظر آئے گی۔ اس لئے وہ کہیں گے کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہونگے “۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(23:112) قال ای قال اللہ تعالیٰ شانہ۔ کم۔ اگر استفہامیہ ہو تو سوال کے لئے آتا ہے۔ کتنی مقدار ۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے ۔ جیسے کم درھما عند تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی تمیز محذوف ہوتی ہے جیسے آیۃ ہذا میں۔ کم لبثتم ای کم زمانا لبثتم۔ تم کتنی مدت ٹھہرے۔ یا اس کی تمیز عدد سنین ہے۔ ای کم عدد سنین لبثتم۔ (2) اگر خبر یہ ہو تو تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اور تمیز مجرور ہوتی ہے ۔ جیسے کم قریۃ اھلکناھا۔ ہم نے کتنی ہی بستیوں کو برباد کردیا۔ تمیز سے پہلے اکثر من آتا ہے جیسے کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ (2:249) کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 112–114

(ف 1) مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبی کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا، آخر تم کو کچھ بھی یاد ہے دنیا میں تم کتنے برس رہے عذاب کی سختی کے سبب یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے اس لیے بدحواسی کا جواب دیں گے کہ جو فرشتے ہم پر مامور تھے ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے، اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن، یا اس سے بھی کچھ کم رہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب تم کو دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہیں، لیکن اگر یاد کرکے تم اس مدت کو اس وقت جان بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–113

[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔ [43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 106–116

منکرین کی محرومی وبدبختی : حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(112) اللہ تعالیٰ فرمائے گا بھلا تو زمین پر برسوں کی گنتی سے کتنے عرصے رہے ہوگے یعنی زمین میں تمہارے رہنے کی مدت کیا ہوگی اس کا جواب بھلا گھبراہٹ اور پریشانی میں کیا بنتا گھبرا کر کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 111–112

ف 5۔ مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیا جاوے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا۔ اور حقوق العباد کا بھی، اور عباد بھی کیسے ؟ ہمارے مقبول اور محبوب جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے، پس اس کی سزا کے لئے دوام اور تمام مناسب ہے، اور مومنین کو جزائے فوز دینا منجملہ تمام سزا ہے، کفار کے لئے، کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی تادیبی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ سوال قوم کے انہیں وڈیروں اور مخالفین انبیاء کرام سے کیا جا رہا ہے : 112۔ اس سوال میں ایک قسم کی تلمیح پائی جاتی ہے اور قرآن کریم میں اس طرح کی تلمیحات بہت پائی جاتی ہیں کہ کچھ کہا بھی نہ جائے اور ایک طرح سے سب ہی کچھ کہہ دیا جائے جو دائرہ ادب کلام میں رہ کر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سوال انہیں قوم کے وڈیروں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کے مخالفین سے کیا جا رہا ہے کہ تم تو ظہور قیامت کو بعید از عقل وسمجھ کہتے تھے اور خیال کرتے تھے پہلے تو قیامت ویامت کچھ ہے ہی نہیں لیکن اگر ہوئی بھی تو آخر اتنی جلدی کب ہوگی کیا ابھی سے اس کی فکر دامن گیر کرلیں اور گھلنا شروع ہوجائیں ۔ فرمایا یہ اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 108–115

وَلَا تُكَلِّمُونِ (Do not speak to Me - 23:108). According to Hasan al-Basri (رح) these will be the last words of the people who are cast in hell and in reply Allah will say, "Do not speak to Me." After this they will not be able to speak like human beings, but will make animal sounds to each other. Baihaqi and others have quoted Muhammad Ibn Ka` b as saying that the Qur'an mentions five requests made by the people condemned to hell. Out of the five, replies were furnished to four, but in reply to the fifth Allah commanded them not to speak to Him. Thus these are the last words to be uttered…

Read the full tafseer →