Explained with ayahs 108–111
ناکام آرزو
کافر جب جہنم سے نکلنے کی آرزو کریں گے تو انہیں جواب ملے گا کہ اب تو تم اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہوگے خبردار اب یہ سوال مجھ سے نہ کرنا آہ یہ کلام رحمان ہوگا جو دوزخیوں کو ہر کھیل سے مایوس کردے گا اللہ ہمیں بچائے اے رحمتوں والے اللہ ہمیں اپنے رحم کے دامن میں چھپالے اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے بچالے آمین حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جہنمی پہلے تو داروغہ جہنم کو بلائیں گے چالیس سال تک اسے پکارتے رہیں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے چالیس برس کے بعد جواب ملے گا کہ تم یہیں پڑے رہو۔ ان کی پکار کی کوئی وقعت اور داروغہ جہنم کے پاس ہوگی نہ اللہ جل وعلا کے پاس۔ پھر براہ راست اللہ تعالیٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
سورة الْمُؤْمِنُوْن 98
یعنی اپنی رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرو۔ اپنی معذرتیں پیش نہ کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے ہمیشہ کے لیے بالکل چپ ہوجاؤ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ ان کا آخری کلام ہوگا جس کے بعد ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی۔ مگر یہ بات بظاہر قرآن کے خلاف پڑتی ہے کیونکہ آگے خود قرآن ہی ان کی اور اللہ تعالیٰ کی گفتگو نقل کر رہا ہے۔ لہٰذا یا تو یہ روایات غلط ہیں، یا پھر ان کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
لَا تُكَلِّمُوْنِ ، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اہل جہنم کا یہ آخری کلام ہوگا جس کے جواب میں حکم ہوجائے گا کہ ہم سے کلام نہ کرو پھر وہ کسی سے کچھ کلام نہ کرسکیں گے جانوروں کی طرح ایک دوسرے کی طرف بھونکیں گے۔ اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن کعب سے نقل کیا ہے کہ قرآن میں اہل جہنم کی پانچ درخواستیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے چار کا جواب دیا گیا اور پانچویں کے جواب میں حکم ہوگیا لَا تُكَلِّمُوْنِ بس یہ ان کا آخری کلام ہوگا اس کے بعد کچھ نہ بول سکیں گے۔ (مظھری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
111-109
غربائے مسلمین کی دلداری
یہ اس غیرت کا بیان ہے جس کے سبب سے خدائے غیور ان اشتقیار کو بات کرنے سے روک دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تم میرے آگے زبان نہ کھولو، تم وہ شقی اور بدبخت لوگ ہو کہ جب میرے بندوں کی ایک جماعت میرے آگے ربنا امنافا غفرلنا دارھمنا وانت خیر الرحمین کی دعا کرتی تھی تو تم نے ان کو مذاق بنا رکھا تھا اور اس شغل مذاق میں اس طرح تم منہمک رہے کہ تمہیں یہ بات یاد بھی نہیں رہی کہ کبھی مجھ سے بھی تمہیں سابقہ پڑنے الا ہے اور تم پوری جسارت کے ساتھ ان کی ہنسی اڑاتے رہے تو آج میں نے ان کی صبر و استقامت کا ان کو صلہ دیا اب وہ فائز المرام ہیں اور تم یہ بھاڑ جھونکو اور اسی میں جلو !
فریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
14-1چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ انسانی وجود کا سب سے اہم اور اشرف حصہ ہے، ورنہ جہنم تو پورے جسم کو ہی محیط ہوگی۔
14-2کَلَحً کے معنی ہوتے ہیں ہونٹ سکڑ کر دانت ظاہر ہوجائیں۔ ہونٹ گویا دانتوں کا لباس ہیں، جب یہ جہنم کی آگ سے سمٹ اور سکڑ جائیں گے تو دانت ظاہر ہوجائیں گے، جس سے انسان کی صورت بدشکل اور ڈراؤنی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
33: یعنی تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حقوق پامال کیے۔ بلکہ نیک بندوں پر ظلم کر کے حقوق العباد بھی پامال کیے۔ اس دن کی ہولناک سزا سے تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا، مگر تم اس کا مذاق اڑاتے رہے، اس لیے اب تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
انہ کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تضحکون ” ‘ تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے کفر کیا اور خود اپنی ذات کو کفر میں رکھا۔ اگر چہ یہ بھی جرم عظیم تھا مگر تم نے اس سے بھی عظیم تر جرم کیا ہے۔ وہ یہ کہ تم نے ایمان لانے والوں کے ساتھ مزاح کیا۔ جو ایمان لائے تھے اور رحمت رب کے طلبگار تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور اس طرح اپنے آپ کو ذکر الہی اور نصیحت آموزی سے محروم کرتے تھے حالانکہ اس کائنات میں دلائل ایمان موجود تھے۔ آج دیکھو ‘ تمہارا مقام کیا ہے اور ان لوگوں کا مقام و مرتبہ کیا ہے جن سے تم مذاق کرتے تھے۔
Read the full tafseer →1 یعنی دنیا میں مسلمان جب اپنے رب کے آگے دعاء و استغفار کرتے تو تم کو ہنسی سوجھتی تھی۔ اس قدر ٹھٹھا کرتے اور ان کی نیک خصلتوں کا اتنا مذاق اڑاتے تھے کہ ان کے پیچھے پڑ کر تم نے مجھے بھی یاد نہ رکھا، گویا تمہارے سر پر کوئی حاکم ہی نہ تھا جو کسی وقت ان حرکتوں پر نوٹس لے اور ایسی سخت شرارتوں کی سزا دے سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
آیت 110 فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا ”
میرے وہ بندے جب مجھ سے گڑ گڑا کر دعا کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔
وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ ”
تم لوگ میرے بندوں کی تضحیک کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں ایسے مگن رہے کہ میں تمہیں بالکل ہی یاد نہ رہا۔
Read the full tafseer →103 کیونکہ دنیا میں تمہاری حالت یہ تھی کہ جب میرے مخلص بندے تیرے آگے دعاء استغفار کرتے تھے یا میری عبادت کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔ اس قدر ٹھٹھا کرتے اور ان کی نیک خصلتوں کی اتنا مذاق اڑاتے تھے کہ ان کے پیچھے پڑے رہنے کی وجہ سے تم نے میری یاد بھی بھلا دی۔ اور تمہیں اس بات کا احساس ہی نہ رہا تھا کہ تمہارے سر پر کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو ہر وقت تمہاری ان کرتوتوں کو دیکھ رہی ہے۔ اور وہ تمہیں شرارتوں کی سزا دینے پر قادر بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
95۔ کتنی صحیح، موثر وعبرتناک تصویر ہے ! آج کتنے ہی منکر و کافر ہی نہیں، نام کے مسلمان بھی اپنی ” روشن خیالی “ کے زعم میں اسی طرح کا مضحکہ بیچارے سیدھے سادھے دیندار مسلمانوں سے برابر کرتے رہتے ہیں ! (آیت) ” انہ “۔ کلمہ تعلیل کا ہے۔ اس سے محققین صوفیہ نے یہ نکالا ہے کہ اولیاء اللہ کی بڑی شان ہوتی ہے۔ اور مقبولین سے گستاخی و تمسخر کا انجام نار ہے۔ (آیت) ” اخسؤا فیھا “۔ اخساء کا ترجمہ اردو کے کسی ایک لفظ سے دشوار ہے۔ عربی میں یہ لفظ کتے کے دھتکار نے کے موقع پر آتا ہے۔ اے ابعدوا فیھا کما یقال للکلب اذا طرد اخساء (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →فاتخذ تموہم سخریا سو تم نے ان کو مسخرہ بنایا۔
سِخْرِیًّاکسائی اور فراء نے کہا سخریا بہ کسر سین کسی کا باتوں میں مذاق اڑانا ‘ استہزاء کرنا اور سخریا بضم سین ‘ کسی کو عملاً غلام بنا لینا تحقیر کرنا۔ سورة زخرف میں باتفاق اہل قراءت بضم سین ہے استہزاء قولی کا احتمال ہی وہاں نہیں ہے۔ خلیل نے کہا دونوں لفظ ہم معنی ہیں جیسے بحر ولحی اور بحر رلحی ‘ اور کَوْکَبٌ دُرِّی اور کوکب دِرِی۔ قاموس میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے سَخِرُوْا مِنْہُ اور سَخِرُوْا بِہٖاس سے مذاق کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ اسم سخریتہ اور سخری بالضم وبالکسر آتا ہے۔ سَخَرَۃ سِخْرِیًّا وَسُخْرِیًّا اس کو روک دے یا مجبور…
Read the full tafseer →(110) سو تم نے ان کا مذاق مقرر کیا تھا یہاں تک کہ اس کا مشغلہ کیا کہ ان کے مشغلہ نے تمہیں ہماری توحید اور ہماری یاد بھی بھلا دی اور تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيًّا۔۔ : ”حَتّٰٓي اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ“ کا لفظی معنی یہ ہے کہ انھوں نے تمہیں میری یاد بھلا دی۔ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلانے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)
وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ : دیکھیے سورة مطففین (29 تا 36)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
آیت نمبر 109 تا 111 ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا مجاہد نے کہا : اس سے مراد حضرت بلا، حضرت کباب، حضرت صہیب اورع فلاں اور فلاں کمزور مسلمان ہیں۔ ابو جہل اور اس کے ساتھی، مسلمانوں سے مذاق کرتے تھے۔ فاتخذ تموھم سخر یا نافع، حمزہ اور کسائی نے یہاں اور سورة جن میں ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عمرونے ان کے درمیان فرق کیا ہے۔ انہوں نے سین کے کسرہ کے ساتھ استہزء کی جہت سے بنایا ہے اور سین کے ضمہ کے ساتھ سخرۃ کی جہت سے بنایا ہے، خلیل، سیبویہ، کسائی اور فراء نے اس تفریق کو نہیں جانا کسائی نے کہا یہ ہم معنی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” فاتخذتموہم سخریا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ دونوں مختلف لفظ ہیں (یعنی) ” سخریا “ اور ” سُخریا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آیت آیت ” لیتخذ بعضہم بعضا سخریا “ (الزخرف آیت 32) پھر فرمایا کہ وہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور دوسرے جو ان کا مذاق اڑاتے ہیں وہ ” سِخریا “ ہے۔
Read the full tafseer →[ فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ (تو تم نے بنایا ان کو ][ سِخْرِيًّا (مذاق ][ حَتّٰى (یہاں تک کہ ][ اَنْسَوْكُمْ (ان سب نے بھلا دی تمہیں ][ ذِكْرِيْ ( میری یاد ][ وَكُنْتُمْ (حالانکہ تم تھے ][ مِّنْهُمْ (ان میں سے ][ تَضْحَكُوْنَ (تم سب ہنسی کرتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان ہوگا (اِِنَّہٗ کَانَ فَرِیقٌ مِّنْ عِبٰدِیْ ) (بلاشبہ میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو یوں دعا کرتے تھے) کہ اے ہمارے اللہ ہم ایمان لائے سو ہماری مغفرت فرما دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے اور آپ رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم فرمانے والے ہیں اس جماعت کو تم نے مذاق اور ٹھٹہ اور مسخرہ پن کا نشانہ بنا لیا تھا اور تم اس درجہ ان کے پیچھے پڑے کہ انھوں نے تمہیں میری یاد بھلا دی یعنی تم ان کو مذاق بنانے میں ایسے لگے کہ میری یاد کی تمہیں فرصت ہی نہیں رہی۔ تم ان کا مذاق بھی بناتے تھے اور ان سے ہنستے بھی تھے تم نے اپنے کیے کا نتیجہ بھگت لیا اور ہمیشہ کے لیے دوزخ میں چلے گئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
80:۔ ” انہ کان الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے اور جملہ ماقبل کے لیے علت تمہیں یہ سزا اس لیے دی جارہی ہے کہ تم عناد اور سرکشی میں انتہا کو پہنچ چکے تھے دین حق استہزاء کرتے تھے یہاں تک کہ جو لوگ ایمان لا چکے تھے تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے جو ضعاء مومنین مثلاً حضرت بلال، صہیب اور خبیب وغیرہم ؓ اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگتے تھے یہ صنادید قریش ابو جہل وغیرہ ان کی ہنسی اڑاتے۔ فرمایا حق کے انکار اور حق ماننے والے سے تمسخر ہی نے تمہیں عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ ” حتی انسوکم الخ “ یعنی ان ایمان والوں عداوت و تمسخر میں تم اس قدر منہمک تھے کہ یہی چیز تمہارے لیے میرے زکر اور میری توحید کو ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِيًّا حَتّٰٓي اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ وَكُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَكُوْنَ 110
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ
تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا
ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
اِنَّہٰ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ ۔ فَاتَّخَذْتُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰیٓ اَنْسَوْکُمْ ذِکْرِیْ وَکُنْتُمْ مِّنْھُمْ تَضْحَکُوْنَ ۔ اِنِّیْ جَزَیْتُھُُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْٓا لا اَنَّھُمْ ھُمُ الْفَاْئِزُوْنَ ۔
(المومنون : 109 تا 111)
(بیشک میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو دعا کرتے تھے کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے تو، تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔ تو تم نے ان کو مذاق بنا لیا، یہاں تک کہ ان کے ساتھ تمہارے اس شغل نے تم کو میری یاد سے غافل کردیا اور تم ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
فہم القرآن
ربط کلام : رب ذوالجلال کا جہنمیوں کو دوسرا جواب۔
جہنمیوں کو جہنم میں دھتکارتے وقت اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرمائیں گے کہ کیا تم وہ لوگ نہیں ہو ؟ جنہوں نے میرے بندوں کو اس وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان رکھتے تھے، مجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے اور مجھ سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اے رب تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ انہیں مذاق کرنے کی وجہ سے تم نے میری نصیحت کو فراموش کردیا۔ اپنے بندوں کے ایمان، صبر اور دعاؤں کی وجہ سے انہیں بہترین اجر سے سرفراز کرتا ہوں۔ ان کے مقابلے میں آج تمہاری سزا یہ ہے کہ تم ہمیشہ ہمیش جہنم کی آگ میں جلتے اور چلاّتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
نیکوں سے تمسخر کا نتیجہ :
109، 110: اِنَّہٗ (بیشک معاملہ اور شان یہ ہے) یہ ضمیر شان ہے : کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحمِیْنَ فَاتَّخَذْ تُمُوْھُمْ سِخْرِیًّا (کہ میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو کہا کرتے تھے اے ہمارے رب ہم ایمان لائے پس تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے پس تم نے انکامذاق اڑایا)
نحو : سِخْرِیًّا یہ مفعول ثانی ہے ( باتوں میں مذاق اڑانا، استہزاء کرنا جب سین کے کسرہ سے ہو کذا قال الفراء)
قراءت : سِخْرِیًّا مدنی، حمزہ، علی نے پڑھا ( کسی کو غلام بنانا اور تحقیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
تفسیر۔
109۔ انہ کان فریقا من عبادی، اس سے مراد مومنین ہیں۔ یقولون ربناآمنا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیرالراحمین۔ فاتخذتموھم سخریا، قراء اہل مدینہ حمزہ وکسائی نے سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح سور ہ ص میں بھی پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور سو رہ زخرف میں سب نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ خلیل نحوی کا قول ہے کہ اس میں دونوں لغات ہیں۔ جیسے کہ لجی، لام کے ضمہ کے اور، لجی، لام کے کسرہ کے ساتھ ۔ جیسے ، کوکب دری، اور دری، دونوں طرح پڑھا جاسکتا ہے۔ فراء اور کسائی کے نزدیک کسرہ کی صورت میں استہزاء بالقول والا معنی ہوگا اور ضمہ کی صورت میں اس کا معنی ہوگا اس کو روک دیایا مجبور کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
109۔ 111:۔ مشرکین مکہ کا یہ خیال تھا کہ ان میں کے جو لوگ مالداری یا قوم کے سر کردہ ہونے کے سبب سے دنیا میں عزت وآبرو رکھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی عزت دار ہیں ‘ اسی واسطے بلال ؓ ‘ عمار ؓ ‘ صہیب ؓ اور خباب ؓ جیسے غریب صحابہ ؓ کو یہ مالدار مشرک چھیڑا کرتے تھے اور طرح طرح کی مسخراپن کی باتیں کیا کرتے تھے ‘ کبھی کہتے کہ اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے چناچہ یہ ذکر سورة الاحقاف میں تفصیل سے آوے گا کبھی اس طرح کی اور باتیں کرتے تھے جن کا ذکر مناسب موقعوں پر آیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے خباب بن الارت کی روایت گزر چکی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →123 اللہ کے نیک بندوں کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو دوزخیوں کی تذلیل مزید کے لیے اور ان کی محرومی کے ایک اہم اور بنیادی سبب کو واضح کرتے ہوئے ان سے مزید کہا جائے گا کہ تم وہی تو ہو جو میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں کہ َان دیکھی آخرت اور خیالی جنت و دوزخ کے اعتقاد سے خواہ مخواہ دنیا کی ان لذتوں اور عیاشیوں سے محروم ہو رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح یہ جواب اس خدائے غیور۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی اس عبرت کا مظہر ہوگا جس کا اظہار وہ اپنے نیک بندوں کیلئے فرمائے گا۔ اور اس کی بناء پر وہ ان اتقیاء کو دھکتار کر ان سے فرمائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–118
اللہ کے مقبول بندے
تشریح : آیت 109 میں ایک اور بہترین دعا ہے جو اکثر و بیشتر نیک لوگ اٹھتے بیٹھتے اللہ سے کرتے رہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے مقبول، نیک صالح اور عبادت گزار بندوں کا مذاق اڑانا بھی جہنم میں ڈالے جانے کا سبب ہے۔ کیونکہ مذاق وہی اڑاتا ہے جو کافر ہو۔ ایک گناہ تو کفر کا اور دوسرا مومنین کی عبادات کا مذاق اڑانا ہے۔
آیت 112 میں زمینی وقت کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ اسی طرح کی کئی آیات قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر ملتی ہیں جن کو وضاحت سے سمجھنا موجودہ علم فزکس کی رو سے بھی کافی مشکل ہے۔ کہیں یہاں کے ہزار دنوں کے برابر وہاں یعنی عالم بالا کا ایک دن کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
6 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” انہوں نے تم کو میری یاد بھلا دی “ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلا دینے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
(23:109) انہ۔ ضمیر شان ہے انہ کان فریق من عبادی۔ شان یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو۔۔
فاتخذتموہم۔ اتخذتموا۔ اصل میں اتخذتم تھا۔ ضمیر ہم کے اتصال کی بنا پر وائو جمع لایا گیا ہے۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تم نے ان کو ٹھہرایا۔ ہم ضمیر فریق کے لئے ہے جس سے مراد عام مؤمنین یا اصحاب رسول اللہ علیہ وسلم یا اصحاب الصفہ ہیں۔
سخریا۔ سخر یسخر (سمع۔ فتح) سخر وسخر وسخر وسخر وسخرۃ مصدر۔ سخر یسخر ٹھٹھا کرنا۔ مذاق اڑانا۔ حقارت کے ساتھ کسی سے مخول کرنا۔ استہزا کرنا۔ قرآن مجید میں ہے : قال ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون (11:38) اس نے (حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
صبر کے نتیجہ کا ذکر اور مالدار کفار کا غریب صحابہ کرام سے تمسخر۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیتیں کفار قریش کے حق میں نازل ہوئیں جو حضرت بلال وحضرت عمار وحضرت صہیب وحضرت خباب وغیرہ اجمعین اصحاب رسول اللہ سے مالدار مشرک چھیڑا کرتے تھے اور طرح طرح کی مسخراپن کی باتیں کیا کرتے تھے کبھی کہتے تھے کہ اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی قدم آگے نہ بڑھاتے ۔ چناچہ یہ ذکر سورة الاحقاف میں تفصیل سے آوے گا صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت خباب الارت کی روایت گذرچ کی ہے جس میں حضرت خباب کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول سے یہ شکایت کی کہ اب تو مشرکین ہم کو بہت ستاتے ہیں آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–113
[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔
[43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
منکرین کی محرومی وبدبختی :
حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…
Read the full tafseer →(110) سو تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور تم نے ان کا مذاق بنایا یہاں تک کہ اس مذاق کے مشغلے نے تم کو میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان کی ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا خاص طور پر اصحاب صفہ مراد ہیں کہ یہ کافر ان کا مذاق بناتے اور ان کی ہنسی اڑایا کرتے تھے یہاں تک کہ اس شغل نے تم کو میری یاد بھلا دی اور آج تم اس عذاب میں مبتلا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–110
ف 4۔ یعنی وہ مومن ہوگا۔
Read the full tafseer →تم نے دنیا میں ان کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور میری یاد کو بلا دیا :
110۔ دنیا میں تم نے ان کو اپنے مذاق کا نشانہ بنایا اور ان کی تضحک میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور آج میں نے ان کو ان کے صبر و استقامت کا صلہ دیا اب وہ فائزالمرام ہیں اس کے لئے انہیں کو زبۃ المرام میں ہونا ہے اور رہے تم تو اب یہ پہاڑ جھونکو اور اس میں پڑے منہ بسورتے اور چڑھاتے رہو تاکہ تمہاری اس حالت کو دیکھ کر ان کا دل سکون پکڑے اور تم انکی اس حالت کو دیکھ کر جل بھن کر رہ جاہ اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا وہ چیز تمہارے سامنے موجود ہے یا نہیں جس کو تم نے بھلائے رکھا ؟ غریب و مساکین پر جو مظالم اس سبب سے ڈھائے گئے کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
وَلَا تُكَلِّمُونِ (Do not speak to Me - 23:108). According to Hasan al-Basri (رح) these will be the last words of the people who are cast in hell and in reply Allah will say, "Do not speak to Me." After this they will not be able to speak like human beings, but will make animal sounds to each other. Baihaqi and others have quoted Muhammad Ibn Ka` b as saying that the Qur'an mentions five requests made by the people condemned to hell. Out of the five, replies were furnished to four, but in reply to the fifth Allah commanded them not to speak to Him. Thus these are the last words to be uttered…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
98.“Do not speak to Me”: Do not plead your case with Me. According to some traditions, these will be their last words and they shall never be allowed to speak again, but this is contradicted by the Quran itself in the succeeding verses. Therefore, it only means this that they will not be able to plead their case again.
Read the full tafseer →