Al-Muminoon 23:105

Al-Muminoon · from ayah 105

23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ۟اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِىۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ‏

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتیں تھیں (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It will be said]. "Were not My verses recited to you and you used to deny them?"

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muminoon

All translations of 23:105

"کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتیں تھیں (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں؟ پھر بھی تم انہیں جھٹلاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان سے کہا جائے گا کہ) کیا میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم پر میری آیتیں نہ پڑھی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان سے کہا جائے گا:) کیا تم پر میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا میری آیتیں تم پر پڑھی نہ جاتی تھیں، تو تم انھیں جھٹلایا کرتے تھے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(انہیں کہا جائے گا) کیا تم پر میری آیات نہیں پڑھی جاتی تھیں تو تم انھیں جھٹلا دیا کرتے تھے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں تو تم کو جھٹلاتے تھے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم وہی نہیں وہ کہ میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں، پر تم لوگ ان کو جھٹلاتے ہی چلے جا رہے تھے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیوں کیا میری آیتیں تم کر پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں جنہیں جھٹلایا کرتے تھے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان سے کہا جائے گا) کیا میری آیات تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں تو تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں ؟ نہیں تم ان کو (سن کر) جھٹلاتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

"Are you not those to whom My revelations were recited, and you dubbed them as lies?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be said to such people), :Were My verses not used to be recited to you and you used to reject them?

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be said to such people), :Were My verses not used to be recited to you and you used to reject them?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Were not My Ayat recited to you, and then you used to deny them"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(It will be said): Were not My revelations recited unto you, and then ye used to deny them?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It will be said]. "Were not My verses recited to you and you used to deny them?"

— Saheeh International

(They will be told), "Were Our revelations not recited to you and did you not call them lies?"

— Muhammad Sarwar

Were not My communications recited to you? But you used to reject them.

— Muhammad Habib Shakir

Have not My revelations been rehearsed unto you, and them ye have been belying?

— Abdul Majid Daryabadi

"Were not My Signs rehearsed to you, and ye did but treat them as falsehood?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 23:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–107

مکمل آگاہی کے بعد بھی محروم ہدایت کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہوگی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کردئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی جیسے فرمان ہے کہ " تاکہ لوگوں کا عذر رسولوں کے آنے کے بعد باقی نہ رہے "۔ اور فرمایا " ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے " ایک اور روایت میں ہے " جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی اس سے وہاں کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے نہ تھے " ؟ اس وقت یہ حرماں نصیب لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 104–107

سورة الْمُؤْمِنُوْن 97 اصل میں لفظ کالِحُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ کالح عربی زبان میں اس چہرے کو کہتے ہیں جس کی کھال الگ ہوگئی ہو اور دانت باہر آگئے ہوں جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا اَلَمْ تَرَ اِلَی الرأس المشیط ؟ " کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی " ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 104–107

وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ ، کالح لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے دونوں ہونٹ اس کے دانتوں کو نہ چھپائیں ایک اوپر رہے دوسرا نیچے دانت نکلے ہوئے نظر آئیں جو نہایت بدصورت ہے جہنم میں جہنمی کا اوپر کا ہونٹ اوپر چڑھ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ نیچے لٹک جائے گا دانت کھلے نکلے نظر آویں گے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 105–107

آیت 107-105 کفار کی فریاد اور اس کا جواب یعنی جب وہ چیخیں چلائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا کہ اب کیوں روتے ہو، اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے جب تم کو ہماری آیتیں سنائی جاتی تھیں تب تو تم ان کی تکذیب کرتے تھے ! وہ اعتراض کریں گے کہ اے رب ! یہ ہماری بدبختی اور شقاوت تھی جو ہم پر چھائی ہے کہ ہم نے اس دن کی تکذیب کی، بلاشبریم خود اپنی جانوں پر ڈھانے والے بنے ہیں لیکن اے ہمارے رب، ایک بار اور ہمیں موقع دے۔ اگر پھر ہم یہی کچھ کریں تو (ریب ہم اسی کے سزا وار ہیں۔)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 104–110

14-1چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ انسانی وجود کا سب سے اہم اور اشرف حصہ ہے، ورنہ جہنم تو پورے جسم کو ہی محیط ہوگی۔ 14-2کَلَحً کے معنی ہوتے ہیں ہونٹ سکڑ کر دانت ظاہر ہوجائیں۔ ہونٹ گویا دانتوں کا لباس ہیں، جب یہ جہنم کی آگ سے سمٹ اور سکڑ جائیں گے تو دانت ظاہر ہوجائیں گے، جس سے انسان کی صورت بدشکل اور ڈراؤنی ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–109

32: دنیا میں رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے بارے میں یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑی ہوگی، اور اسے اتنی فرصت نہیں ہوگی کہ وہ رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کا حال معلوم کرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم تکن۔۔۔۔۔۔۔ تکذبون (105) ” جب انہوں نے یہ سوال سنا توانکو یہ خیال آیا کہ شاید ان کو بات کرنے کی اجازت ہے اور وہ جواب دے سکتے ہیں اور شاید اپنے گناہوں کا اعتراف انہیں کوئی فائدہ دے دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اس وقت ان سے یوں کہیں گے۔ گویا جن باتوں کو دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے، اب آنکھوں سے دیکھ لو سچی تھیں یا جھوٹی ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 104–109

آیت 104 تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ ” چہروں کے جھلس جانے کے باعث ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 104–106

100 کلح کا لغوی معنی بدشکل ہونا یا حلیہ کا اس طرح بگڑ جانا ہے جس سے انسان بدصورت اور ڈراؤنا معلوم ہو۔ وہ یوں کہ اوپر کا ہونٹ اوپر کو اٹھ جائے اور نیچے کا نیچے کو اور بڑے بڑے دانت سامنے نظر آئیں جیسے ابھی کسی کو پھاڑ کھائے گا۔ یعنی جہنم کی آگ ان کے چہروں کا اس طرح حلیہ بگاڑ کے رکھ دے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 103–105

93۔ یہ ان دوزخیوں سے اللہ تعالیٰ بلاواسطہ یا بہ واسطہ ارشاد کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–118

آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تکن ایتی تتلی علیکم فکنتم بہا تکذبون۔ کیا میری آیات تم کو پڑھ کر نہیں سنائی گئی پھر تم ان کو جھوٹا قرار دیتے ہو۔ یعنی بطور زجر اور استحقاق عذاب کے باعث کو یاد دلانے کے لئے ان سے کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(105) اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیوں کیا میری آیات یعنی قرآن کریم دنیا میں تمہیں پڑھ کر سنایا نہیں جایا کرتا تھا اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 104–105

ۚتَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ : چہرے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ انسان کا سب سے اہم اور باشرف حصہ ہے اور انسان سب سے زیادہ اسی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، جب آگ اسے بھی جلا رہی ہوگی تو جسم کے دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔ وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ : ”کَلَحَ“ کا معنی ہے کہ اوپر کا ہونٹ اوپر اٹھ جائے اور نیچے کا مزید نیچے ہوجائے اور دانت باہر نکل آئیں، جس سے چہرہ شدید تیوری والا، نہایت بدشکل اور ڈراؤنا ہوجائے، جیسے بکرے کی جلی ہوئی سری ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 104–105

آیت نمبر 104 تا 105 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تلفح وجو ھہم النار۔ کہا جاتا ہے : تنفخ دونوں کا ایک معنی ہے اس سے ہے ولئن مستھم نفحہ من عذاب ربک (الانبیاء : 46) مگر تلفخ تکلیف کے اعتبار سے زیادہ ہے کہا جاتا ہے : الفحتہ النا والسموم بحرھا یعنی آگ نے اسے جلا دیا اور گرم ہوا نے اپنی گرمی سے جلا دیا۔ لفحتہ یا لسیف لفحۃ جب کوئی آہستہ سے کسی کو تلوار مارے و ھم فیھا کلحون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے منہ بسورنے والے۔ اہل نعت نے کہا یبوست میں دانت نکالنے کو الکلوح کہتے ہیں۔ الکالح جس کے ہونٹ سکڑ گئے ہوں اور دانت باہر نکل آئے ہوں۔ اعشی نے کہا : ولہ المقدم لا مثل لہ ساعۃ الشدق عن الناب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 104–105

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” تلفح وجوہہم النار “ سے مراد ہے تنفح یعنی آگ ان کی ہڈیوں سے گودا پگھلادے گی۔ 2۔ ابن مردویہ نے والضیاء فی صفۃ النار ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” تلفح وجوہہم النار “ کے بارے میں فرمایا کہ (آگ) ان کو جلادے گی تو ان کے گوشت ان کے پٹھوں پر بہہ جائیں گے۔ 3۔ ابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب جہنم کے رہنے والوں کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا تو گردن کے ساتھ ان کو جہنم پکڑ لے گی اور ان کو جلا ڈالے گی۔ ہڈی پر گوشت کو نہ چھوڑے گی مگر اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَ (کیا ][ لَمْ (نہیں ][ تَكُنْ (ہونا ][ اٰيٰتِيْ (میری آیتیں ][ تُتْلٰى (تلاوت کی جاتی ہیں ][ عَلَيْكُمْ (تم پر ][ فَكُنْتُمْ (تو تھے تم ][ بِهَا (اس کے ][ تُكَذِّبُوْنَ (تم سب جھٹلاتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 105–106

اس کے بعد ایک سوال کے جواب کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا (اَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ ) (کیا تمہارے پاس میری آیات نہیں آئی تھیں جو تم پر پڑھی جاتی تھیں سو تم انہیں جھٹلاتے تھے) (قَالُوْا رَبَّنَآ غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ ) (وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے رب ہم پر بد بختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 93–114

تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 105–108

79:۔ ” الم تکن الخ “ یہ زجر ہے اور اس سے پہلے یقال لھم مقدر ہے جب انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتے ان سے کہیں گے کیا دنیا میں میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کا انکار کرتے تھے۔ ” قالوا ربنا الخ “ جواب میں وہ کہیں گے۔ ہمارے پروردگار ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے ہمارے پروردگار ایک بار ہمیں دوزخ سے نکال کر عمل کرنے کا موقع عطا فرما۔ اب بھی اگر ہم نے ویسے ہی برے کام کیے تو واقعی ہم ظالم ہوں گے پھر جس طرح تو چاہے ہمیں عذاب دے لینا۔ ” قال اخسئوا الخ “ اللہ کی طرف سے آواز آئے گی دور ہوجاؤ اور مت بولو۔ یہ کلمہ تحقیر ہے جس طرح کتے کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–114

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَكُنْ اٰيٰـتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ بِہَا تُكَذِّبُوْنَ۝ 105 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–111

1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 105–107

اَلَمْ تَکُنْ اٰیٰـتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ ۔ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ ۔ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ ۔ (المومنون : 105 تا 107) (کیا تمہیں میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں تو تم ان کو جھٹلاتے تھے۔ تو وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم سے (ایک مرتبہ) نکال، اگر ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ہم ہی ظالم ہوں گے۔ ) کفار کی آہ وزاری اور اس کا جواب جب کفار جہنم میں بہت زیادہ چیخیں چلائیں گے اور بار بار رحم کی درخواست کریں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 105–108

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں واویلا اور فریادیں کرنا ان کی فریادیوں کے جواب میں ملائکہ اور رب ذوالجلال کا فرمان۔ جہنمی جہنم کے عذاب سے تنگ آکر واویلا اور آہ وزاریاں کریں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کیا تمہارے پاس میرے فرامین نہیں پہنچے تھے ؟ جہنمی زاروقطار روتے ہوئے عرض کریں گے ہمارے پروردگار کیوں نہیں ہمیں تیرے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہوں میں شامل ہوگئے۔ اے ہمارے رب ہماری فریادیں قبول فرما اور ہمیں جہنم سے نجات عطا فرما۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے اگر ہم پھر نافرمانی کریں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

105: اَلَمْ تَکُنْ ٰایٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ (کیا تم کو میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی گئیں یعنی قرآن) دنیا میں : فَکُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ (پھر تم ان کو جھوٹا قرار دیتے تھے) اور یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

105۔ الم تکن آیاتی تتلی علیکم، اس قرآن کے ذریعے ہم تمہیں ڈراتے ہیں۔ فکنتم بھاتکذبون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–107

105۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ جلتے جلتے دوزخیوں کا تمام بدن سوج کر نیچے کا ہونٹ ناف تک لٹک پڑے گا اور اوپر کا ہونٹ سر کے اوپر چلا جاوے گا ‘ یہ تو ان لوگوں کی بدصورتی کا حال ہوا ‘ سینڈھ کا پھل جو ان لوگوں کو کھانے کو ملے گا جس کا ذکر سورة والصافات میں آوے گا ‘ اس پھل کی مذمت ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں یوں آئی ہے کہ اس پھل کے عرق کا ایک قطرہ زمین پر اگر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام دنیا کے لوگ گھبرا جاویں ‘ سورة محمد میں آوے گا کہ دوزخیوں کو سینڈھ کا پھل کھلایا جاوے گا ‘ جب وہ پھل ان کے حلق میں پھنسے گا تو ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جاوے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–114

(آیت نمبر (101 اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–118

قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

120 تکذیبِ حق جرموں کا جرم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آیات ِ خداوندی کی تکذیب جرموں کا جرم اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب دوزخ میں پڑے یہ بدبخت چیخیں اور چلائیں گے تو ان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جن کے سامنے میری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ سو اب ہمیشہ کے لئے چکھتے رہو مزہ اپنے اس کفر و استہزاء اور تکذیب و انکار کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی کیے کرائے کا بدلہ و نتیجہ ہے ۔ { اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–108

کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟ تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 ) یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–118

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔ (کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے) یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 105–110

6 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” انہوں نے تم کو میری یاد بھلا دی “ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلا دینے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 104–105

(23:104) تلفح۔ مضارع واحد مؤنث غائب لفح مصدر (باب فتح) لفح فلانا بالسیف اس نے فلاں کو تلوار سے مارا۔ یا تلوار سے سرقلم کیا۔ یا لفحت النار والسموم بحرھا۔ آگ یا باد سموم نے چہرے کو اپنی تپش سے جھلس دیا۔ تلفح وہ جھلس دے گی یہ جملہ حالیہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے۔ کالحون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ کالح واحد کلح یکلح (فتح) سے کلوح وکلاح مصدر ۔ منہ بنا کر دانت نکالنا۔ تیوری چڑھانا۔ کلح وجھہ تیوری چڑھا ہوا ہونا کالح منہ بنا کر دانت نکالنے والا۔ کلحۃ منہ کے گول حلقہ کو کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا۔ الم تر الی الرأس المشیط۔ (کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی ؟…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–118

لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–107

کفار پر اللہ تعالیٰ کا غصہ۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کے عذاب کے وقت ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہا جاوے گا کہ دوزخ کے عذاب کی قرآن کی آیتیں دنیا میں تم لوگوں کو سنائی جاتی تھیں اور تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اب یہ وہی عذاب ہے جس میں تم گرفتار ہو اس کے جواب میں یہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار دراصل ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی اس لیے ہماری ساری زندگی گمراہی میں گذری اب اگر تو ہم کو اس آگ سے نکال کردینا میں دوبارہ بھیج دے تو ضرور ہم نیک کام کریں گے اور اگر دوسری دفعہ بھی ہم اپنی زندگی گمراہی میں گزاریں تو ہم کو سخت مجرم قرار دیاجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–113

[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔ [43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–105

(ف 3) یعنی جس قدر یہ امتیازات ہیں سب دنیا تک کے لئے ہیں ، آخرت میں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے اور کن لوگوں سے انتساب رکھتے ہو وہاں تو اعمال تلیں گے اور افعال جانچے جائیں گے وہ لوگ کامیاب وکامران رہیں گے جن کے کردار وزنی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں کارہائے مستحسن سرانجام دیں گے اور جن کے پاس زاد عقبے کا وافر ذخیرہ ہوگا ، اور جن کا دامن تہی ہوگا دنیا میں غفلت اور گمراہی میں زندگی بسر کی ہوگی اس دن پچھتائیں گے اور جہنم کے عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ حل لغات : ہمزات : ہمزہ کی جمع ہے معنی وسوسہ انداز اور دل میں بڑائی کے لئے تحریک پیدا کرنا ، وساوس شیطانی ، برزخ : حائل ہونے والی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(105) کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کی تکذیب نہیں کیا کرتے تھے۔ یعنی تم کو قرآن کریم سنایا جاتا تھا اور تم اس کی تکذیب کیا کرتے تھے اور جھوٹا بتاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انکی حالت کے پیش نظر ان سے کہا جائے گا کہ تم وہی ہو جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے : 105۔ ان کے چہروں کی حالت کو دیکھ کر یا ان کی آہ وبکا کے پیش نظر ان سے کہا جائے گا کہ اب تمہاری حالت ایسی کیوں ہے ؟ کیا تم وہی نہیں ہو جن کے سامنے میری آیات پڑھی جاتی تھیں اور تم ان کی تکذیب کرنے میں ذرا بھی توقف نہی کرتے تھے اور جو کچھ تمہارے منہ میں آجاتا بک دیا کرتے تھے ، اگر بات ایسی ہی ہے تو اب تمہارا یہ چیخنا اور چلانا اور منہ بگاڑنا چہ معنی دارد ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–107

وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ And they will be disfigured therein - 23:104). The word is used for a person whose lips do not meet and leave his teeth fully exposed, which looks very ugly. It is said that the upper lip of a person consigned to Hell will be drawn up and his lower lip will be drawn down so that his teeth will remain visible at all times.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–107

97. The word kalih means a face whose skin has been removed so as to expose the jaws. When somebody asked Abdullah bin Masud the meaning of kalih, he said: Haven’t you seen the scorched head of a slaughtered animal?

Read the full tafseer →