Explained with ayahs 105–107
مکمل آگاہی کے بعد بھی محروم ہدایت
کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہوگی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کردئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی جیسے فرمان ہے کہ " تاکہ لوگوں کا عذر رسولوں کے آنے کے بعد باقی نہ رہے "۔ اور فرمایا " ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے " ایک اور روایت میں ہے " جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی اس سے وہاں کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے نہ تھے " ؟ اس وقت یہ حرماں نصیب لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
سورة الْمُؤْمِنُوْن 97
اصل میں لفظ کالِحُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ کالح عربی زبان میں اس چہرے کو کہتے ہیں جس کی کھال الگ ہوگئی ہو اور دانت باہر آگئے ہوں جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا اَلَمْ تَرَ اِلَی الرأس المشیط ؟ " کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی " ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ ، کالح لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے دونوں ہونٹ اس کے دانتوں کو نہ چھپائیں ایک اوپر رہے دوسرا نیچے دانت نکلے ہوئے نظر آئیں جو نہایت بدصورت ہے جہنم میں جہنمی کا اوپر کا ہونٹ اوپر چڑھ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ نیچے لٹک جائے گا دانت کھلے نکلے نظر آویں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
آیت 107-105
کفار کی فریاد اور اس کا جواب
یعنی جب وہ چیخیں چلائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا کہ اب کیوں روتے ہو، اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے جب تم کو ہماری آیتیں سنائی جاتی تھیں تب تو تم ان کی تکذیب کرتے تھے ! وہ اعتراض کریں گے کہ اے رب ! یہ ہماری بدبختی اور شقاوت تھی جو ہم پر چھائی ہے کہ ہم نے اس دن کی تکذیب کی، بلاشبریم خود اپنی جانوں پر ڈھانے والے بنے ہیں لیکن اے ہمارے رب، ایک بار اور ہمیں موقع دے۔ اگر پھر ہم یہی کچھ کریں تو (ریب ہم اسی کے سزا وار ہیں۔)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
14-1چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ انسانی وجود کا سب سے اہم اور اشرف حصہ ہے، ورنہ جہنم تو پورے جسم کو ہی محیط ہوگی۔
14-2کَلَحً کے معنی ہوتے ہیں ہونٹ سکڑ کر دانت ظاہر ہوجائیں۔ ہونٹ گویا دانتوں کا لباس ہیں، جب یہ جہنم کی آگ سے سمٹ اور سکڑ جائیں گے تو دانت ظاہر ہوجائیں گے، جس سے انسان کی صورت بدشکل اور ڈراؤنی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
32: دنیا میں رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے بارے میں یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑی ہوگی، اور اسے اتنی فرصت نہیں ہوگی کہ وہ رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کا حال معلوم کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
قالوا ربنا۔۔۔۔۔۔۔ ظلمون (107) ” “ یہ نہایت ہی تلخ اعتراف ہے اور ان کی بدبختی اس میں عیاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا اور سوئے ادب کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کو صرف سوال کا جواب دینے کی اجازت تھی۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال ہی محض ذلیل کرنے کے لیے ہو۔ جواب مطلوب ہی نہ ہو۔ اس لیے ان کی اس درخواست کا جواب سختی سے دیا جاتا ہے کیونکہ درخواست ان سے طلب ہی نہ کی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
7 یعنی اعتراف کریں گے کہ بیشک ہماری بدبختی نے دھکا دیا جو سیدھے راستہ سے بہک کر اس ابدی ہلاکت کے گڑھے میں آپڑے۔ اب ہم نے سب کچھ دیکھ لیا۔ ازراہ کرم ایک دفعہ ہم کو یہاں سے نکال دیجئے۔ پھر کبھی ایسا کریں تو گنہگار، جو سزا چاہیے دیجئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیت 104 تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ ”
چہروں کے جھلس جانے کے باعث ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
100 کلح کا لغوی معنی بدشکل ہونا یا حلیہ کا اس طرح بگڑ جانا ہے جس سے انسان بدصورت اور ڈراؤنا معلوم ہو۔ وہ یوں کہ اوپر کا ہونٹ اوپر کو اٹھ جائے اور نیچے کا نیچے کو اور بڑے بڑے دانت سامنے نظر آئیں جیسے ابھی کسی کو پھاڑ کھائے گا۔ یعنی جہنم کی آگ ان کے چہروں کا اس طرح حلیہ بگاڑ کے رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
94۔ (اس وقت ہمیں سزا دے لینا، لیکن اب تو چھوڑ ہی دے) وہاں پہنچ کر بڑے سے بڑا منکر اور مکذب بھی اقرار و اعتراف و ندامت و حسرت پر اپنے کو مجبور پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →قالوا ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوما ضآلین۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب واقعی ہماری
بدبختی نے ہم کو گھیر لیا اور بیشک ہم گمراہ لوگ تھے۔ یعنی ہماری بدبختی نے ہم پر قابو پا لیا ‘ یہاں تک کہ ہمارے احوال نے ہم کو اس انجام بد تک پہنچا دیا ‘ ہم حق سے بھٹکے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →(106) کفار دوزخ ہی میں عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار واقعی ہماری بدبختی نے ہمیں گھیر لیا جو ہمارے بارے میں لکھی جا چکی تھی سو ہم اپنے ارادہ سے ایمان نہیں لائے اور واقعی ہم کافر تھے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا : ”شِقْوَۃٌ“ بدبختی۔ ”الصحیح المسبور“ میں ہے کہ آدم بن ابی ایاس نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد کا قول نقل فرمایا ہے کہ آیت : (غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا) کا معنی ہے : ”اَلَّتِيْ کَتَبْتَ عَلَیْنَا“ یعنی ہم پر ہماری وہ بدبختی غالب آگئی جو تو نے ہم پر لکھی تھی۔ طبری نے بھی یہ قول نقل فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ ظالم اپنا عذر پیش کرتے ہوئے بھی سارا الزام اللہ تعالیٰ پر رکھیں گے، جیسا کہ شیطان نے بھی اپنی گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ کو دیا تھا۔ دیکھیے سورة اعراف (16)۔
وَكُنَّا قَوْمًا ضَاۗلِّيْنَ : ابن کثیر نے فرمایا : ”یعنی ہم پر حجت قائم ہوئی (اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آیت نمبر 106 تا 108 ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قالو ربنا غلبت علینا شقو تنا اہل مدینہ، ابو عمرو اور عاصم کی قرات شقوتنا ہے اور عاصم کے سوا کو فیوں نے شقاوتنا پڑھا ہے ؛ یہ قرآت حضرت ابن مسعود اورع حسن سے مروی ہے۔ کہا جاتا ہے۔ شقاء وشقا مد اور قصر کے ساتھ اور اس کے معنی میں بہتر قول یہ ہے کہ ہم پر ہماری لذات و خواہشات نفسانی غالب آگئیں۔ لذات اور خواہشات کو شقوۃ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ شقاوت تک پہنچاتی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان الذین یا کلون اموال الیتمی ظلما انما یا کلون فی بطونھم نارا (النساء : 10) کیونکہ یہ عمل انہیں آگ کی طرف لے جاتا ہے اس لئے فرمایا وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” قالو ربنا غلبت علینا شقوتنا “ سے مراد ہے ان کی بدبختی جو ان پر لکھ دی گئی تھی (وہ ان پر غالب آگئی ) ۔
2۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ” غلب علینا شقوتنا “
3۔ عبد بن حمید نے اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراء ۃ میں ” شقوتنا “ ہے۔
Read the full tafseer →[ قَالُوْا (ان سب نے کہا ][ رَبَّنَا (اے ہمارے رب ][ غَلَبَتْ (غالب آگئے ][ عَلَيْنَا (ہم پر ][ شِقْوَتُنَا (ہماری بدبختی ][ وَ (اور ][ كُنَّا (تھے ہم ][ قَوْمًا (قوم ہے) ضَاۗلِّيْنَ (سب گمراہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
اس کے بعد ایک سوال کے جواب کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا (اَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلَی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ ) (کیا تمہارے پاس میری آیات نہیں آئی تھیں جو تم پر پڑھی جاتی تھیں سو تم انہیں جھٹلاتے تھے) (قَالُوْا رَبَّنَآ غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ ) (وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے رب ہم پر بد بختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
79:۔ ” الم تکن الخ “ یہ زجر ہے اور اس سے پہلے یقال لھم مقدر ہے جب انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتے ان سے کہیں گے کیا دنیا میں میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کا انکار کرتے تھے۔ ” قالوا ربنا الخ “ جواب میں وہ کہیں گے۔ ہمارے پروردگار ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے ہمارے پروردگار ایک بار ہمیں دوزخ سے نکال کر عمل کرنے کا موقع عطا فرما۔ اب بھی اگر ہم نے ویسے ہی برے کام کیے تو واقعی ہم ظالم ہوں گے پھر جس طرح تو چاہے ہمیں عذاب دے لینا۔ ” قال اخسئوا الخ “ اللہ کی طرف سے آواز آئے گی دور ہوجاؤ اور مت بولو۔ یہ کلمہ تحقیر ہے جس طرح کتے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَاۗلِّيْنَ 106
غلب
الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَباً «4» ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3]
( غ ل ب ) الغلبتہ
کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ
تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا
ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
اَلَمْ تَکُنْ اٰیٰـتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ ۔ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ ۔ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ ۔
(المومنون : 105 تا 107)
(کیا تمہیں میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں تو تم ان کو جھٹلاتے تھے۔ تو وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم سے (ایک مرتبہ) نکال، اگر ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ہم ہی ظالم ہوں گے۔ )
کفار کی آہ وزاری اور اس کا جواب
جب کفار جہنم میں بہت زیادہ چیخیں چلائیں گے اور بار بار رحم کی درخواست کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں واویلا اور فریادیں کرنا ان کی فریادیوں کے جواب میں ملائکہ اور رب ذوالجلال کا فرمان۔
جہنمی جہنم کے عذاب سے تنگ آکر واویلا اور آہ وزاریاں کریں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کیا تمہارے پاس میرے فرامین نہیں پہنچے تھے ؟ جہنمی زاروقطار روتے ہوئے عرض کریں گے ہمارے پروردگار کیوں نہیں ہمیں تیرے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہوں میں شامل ہوگئے۔ اے ہمارے رب ہماری فریادیں قبول فرما اور ہمیں جہنم سے نجات عطا فرما۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے اگر ہم پھر نافرمانی کریں…
Read the full tafseer →106: قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا (وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر غالب آگئی) ہمیں گھیر لیا : شِقْوَتُنَا (ہماری بدبختی نے)
قراءت : حمزہ و علی نے شقا و تنا پڑھا ہے اور یہ دونوں مصدر ہیں۔ مطلب یہ ہے ہم اپنے برے اعمال سے بدبخت ہوگئے جو ہم نے کیے۔
اہلِ تاویل کا قول :
ہم پر غالب آگئی وہ بدبختی جو ہمارے لیے لکھی تھی۔ یہ درست نہیں ہے کیونکہ وہ لکھا جاتا ہے جو کہ بندہ کرتا اور جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ اسی کا چنائو کرے گا اور نہیں لکھا جاتا اس کے علاوہ کہ جس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ اس کے اختیار کرے گا۔ پس بندہ مغلوب و مضطر فعل میں نہ ہوا۔
اہل جہنم یہ بات بطور معذرت کریں گے کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →106۔ قالواربناغلبت علینا شقوتنا، حمزہ اور کسائی نے شقاوتنا ، پڑھا ہے شین کے فتحہ کے ساتھ ، اس میں دونوں لغات جائز ہیں یعنی ہم نے تمہارے لیے بدبختی لکھ دی۔ پس تمہیں کوئی ہدایت نہیں دے گا۔ وکناقوماضالین، ہدایت سے بہرور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
105۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ جلتے جلتے دوزخیوں کا تمام بدن سوج کر نیچے کا ہونٹ ناف تک لٹک پڑے گا اور اوپر کا ہونٹ سر کے اوپر چلا جاوے گا ‘ یہ تو ان لوگوں کی بدصورتی کا حال ہوا ‘ سینڈھ کا پھل جو ان لوگوں کو کھانے کو ملے گا جس کا ذکر سورة والصافات میں آوے گا ‘ اس پھل کی مذمت ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں یوں آئی ہے کہ اس پھل کے عرق کا ایک قطرہ زمین پر اگر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام دنیا کے لوگ گھبرا جاویں ‘ سورة محمد میں آوے گا کہ دوزخیوں کو سینڈھ کا پھل کھلایا جاوے گا ‘ جب وہ پھل ان کے حلق میں پھنسے گا تو ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جاوے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
121 منکروں کا بےوقت کا اقرار جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم پر غالب آگئی تھی ہماری بدبختی اور ہم واقعی گمراہ تھے اے ہمارے رب۔ ہمیں یہاں سے نکال دے اور ایک مرتبہ پھر ہمیں دنیا میں کام کرنے کی فرصت و مہلت عطا فرما دے۔ پھر اگر ہم قصور کریں تو جو مرضی ہمیں سزا دے کہ اس صورت میں بلاشبہ ہم پکے ظالم ہوں گے۔ سو اس وقت مجرم لوگ اپنی گمراہی اور بدبختی کا اس طرح اعتراف و اقرار کریں گے اور چیخ چیخ کر کریں گے۔ مگر بےوقت کے اس اقرار و اعتراف سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے ان کی حسرت و افسوس میں اضافہ کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کتنا بڑا احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–108
کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟
تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 )
یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
6 ۔ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” انہوں نے تم کو میری یاد بھلا دی “ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلا دینے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(23:106) شقوتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہماری کم بختی ۔ شقوۃ۔ شقی یشقی (سمع) کا مصدر ہے۔ شقی صفت بدبخت ۔ اشقیاء جمع۔ شقوتنا۔ ہماری بدبختی۔ ہماری بدنصیبی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
کفار پر اللہ تعالیٰ کا غصہ۔
(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کے عذاب کے وقت ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہا جاوے گا کہ دوزخ کے عذاب کی قرآن کی آیتیں دنیا میں تم لوگوں کو سنائی جاتی تھیں اور تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اب یہ وہی عذاب ہے جس میں تم گرفتار ہو اس کے جواب میں یہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار دراصل ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی اس لیے ہماری ساری زندگی گمراہی میں گذری اب اگر تو ہم کو اس آگ سے نکال کردینا میں دوبارہ بھیج دے تو ضرور ہم نیک کام کریں گے اور اگر دوسری دفعہ بھی ہم اپنی زندگی گمراہی میں گزاریں تو ہم کو سخت مجرم قرار دیاجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–113
[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔
[43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
منکرین کی محرومی وبدبختی :
حشمت و جاہ کے عارضی اور فانی ہونے پر خود دنیا میں اس قدر دلائل وبراہین موجود ہیں کہ علقمند انسان کے لئے مقام انکار نہیں ، ہو سکتا ہے کہ محض استدلال کی قوت سے صاحب بصیرت ایمان بالآخرۃ کی دولت گرانمایہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی نوازش ہے کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ، کتابیں نازل کرتا ہے اور معجزات وخوارق کے مطالعہ کا موقع دیتا ہے ۔ تاکہ ظلوم وجہول انسان اپنی زندگی کے مقصد اعلی کا سمجھے ۔ اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ سارے مادی سازو سامان محض فانی ہیں ، مگر منکرین کی غفلت اور محرومی کا یہ عالم ہے کہ کہ باوجود اس اہتمام رشد وہدایت کے دنیا کے فنا ہونے کا…
Read the full tafseer →(106) وہ کہیں گے اے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ یعنی عذاب کے بعد اعتراف کریں گے اور اپنی گمراہی اور بدبختی کا اقرار کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–110
ف 4۔ یعنی وہ مومن ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی اس گمراہی کی تصدیق کریں گے :
106۔ وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ اے رب کریم ! یہ ہماری بدبختی اور شقاوت ہی تھی جو ہم پر چھا گئی تھی اور ہم نے اس دن کی تکذیب کردی بلاشبہ ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے ، بلاشبہ یہ ان کا پچھتاوا ہے لیکن اسی وقت ہے جب اس طرح پچھتاوے کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اب جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوچکا ۔ جب وہ بھی یقین کرلیں گے کہ اب ہمارے اس طرح پچھتانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا تو وہ اپنی اپیل کا رخ اس طرح پھیر دیں گے اور اپنی چالاکی و بیباکی کا مظاہرہ اس طرح کریں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ And they will be disfigured therein - 23:104). The word is used for a person whose lips do not meet and leave his teeth fully exposed, which looks very ugly. It is said that the upper lip of a person consigned to Hell will be drawn up and his lower lip will be drawn down so that his teeth will remain visible at all times.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
97. The word kalih means a face whose skin has been removed so as to expose the jaws. When somebody asked Abdullah bin Masud the meaning of kalih, he said: Haven’t you seen the scorched head of a slaughtered animal?
Read the full tafseer →