Explained with ayahs 101–104
قبروں سے اٹھنے کے بعد
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پر شفقت ہوگی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا " جیسے قرآن میں ہے کہ " اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
سورة الْمُؤْمِنُوْن 97
اصل میں لفظ کالِحُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ کالح عربی زبان میں اس چہرے کو کہتے ہیں جس کی کھال الگ ہوگئی ہو اور دانت باہر آگئے ہوں جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا اَلَمْ تَرَ اِلَی الرأس المشیط ؟ " کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی " ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ ، کالح لغت میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے دونوں ہونٹ اس کے دانتوں کو نہ چھپائیں ایک اوپر رہے دوسرا نیچے دانت نکلے ہوئے نظر آئیں جو نہایت بدصورت ہے جہنم میں جہنمی کا اوپر کا ہونٹ اوپر چڑھ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ نیچے لٹک جائے گا دانت کھلے نکلے نظر آویں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
آیت 104-102
اس دن کسی کا حسب نسب کچھ کام نہیں آئے گا بلکہ صرف اس کا عمل کام آئے گا۔ جن کے پلے بھاری ہوں گے وہ تو کامیاب ہوں گی اور جن کے پلے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں رکھا، وہ ہمیشہ ہمیش کے لیء جہنم میں پڑیں گے۔ اس جہنم میں ان کا حال یہ ہوگا کہ آگ ان کے چہروں کو جھلسے گی اور وہ منہ بسوائے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
14-1چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ انسانی وجود کا سب سے اہم اور اشرف حصہ ہے، ورنہ جہنم تو پورے جسم کو ہی محیط ہوگی۔
14-2کَلَحً کے معنی ہوتے ہیں ہونٹ سکڑ کر دانت ظاہر ہوجائیں۔ ہونٹ گویا دانتوں کا لباس ہیں، جب یہ جہنم کی آگ سے سمٹ اور سکڑ جائیں گے تو دانت ظاہر ہوجائیں گے، جس سے انسان کی صورت بدشکل اور ڈراؤنی ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–109
32: دنیا میں رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے بارے میں یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی فکر پڑی ہوگی، اور اسے اتنی فرصت نہیں ہوگی کہ وہ رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کا حال معلوم کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔
نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔
یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
5 جلتے جلتے بدن سوج جائے گا، نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف تک اور اوپر کا پھول کر کھوپڑی تک پہنچ جائے گا، اور زبان باہر نکل کر زمین میں لٹکتی ہوگی جسے دوزخی پاؤں سے روندیں گے (اللہم احفظنا منہ ومن سآئر انواع العذاب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
آیت 104 تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ ”
چہروں کے جھلس جانے کے باعث ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
100 کلح کا لغوی معنی بدشکل ہونا یا حلیہ کا اس طرح بگڑ جانا ہے جس سے انسان بدصورت اور ڈراؤنا معلوم ہو۔ وہ یوں کہ اوپر کا ہونٹ اوپر کو اٹھ جائے اور نیچے کا نیچے کو اور بڑے بڑے دانت سامنے نظر آئیں جیسے ابھی کسی کو پھاڑ کھائے گا۔ یعنی جہنم کی آگ ان کے چہروں کا اس طرح حلیہ بگاڑ کے رکھ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
93۔ یہ ان دوزخیوں سے اللہ تعالیٰ بلاواسطہ یا بہ واسطہ ارشاد کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
آیت نمبر 93 تا 118
ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم…
Read the full tafseer →تللفح وجوہہم النار جھلس دے گی ان کے چہروں کو آگ۔ یعنی ان کے چہروں کو آگ جلا ڈالے گی۔
(کذا فی القاموس) اور مؤمن کے چہرے کو آگ نہیں جلائے گی۔ مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت کے کچھ لوگ دوزخ میں جائیں گے اور آگ ان کو جلائے گی لیکن ان کے چہروں کے گھیرے کو نہیں جلائے گی پھر کچھ مدت کے بعد ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے حضرت ابو درداء کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت تَلْفَحْ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ کے متعلق دریافت کیا گیا فرمایا آگ کی ان کو ایک لپٹ لگے گی کہ ان کے گوشت بہہ کر ایڑیوں پر جا پڑیں گے۔ طبرانی نے الاوسط میں اور ابو نعیم…
Read the full tafseer →(104) ان کے چہروں کی آگ جھلستی ہوگی اور ان کی ہڈیوں اور گوشت کو آگ جلا کر ختم کر دے گی اور دوزخ میں ان کی صورتیں سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
ۚتَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ : چہرے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ انسان کا سب سے اہم اور باشرف حصہ ہے اور انسان سب سے زیادہ اسی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، جب آگ اسے بھی جلا رہی ہوگی تو جسم کے دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔
وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ : ”کَلَحَ“ کا معنی ہے کہ اوپر کا ہونٹ اوپر اٹھ جائے اور نیچے کا مزید نیچے ہوجائے اور دانت باہر نکل آئیں، جس سے چہرہ شدید تیوری والا، نہایت بدشکل اور ڈراؤنا ہوجائے، جیسے بکرے کی جلی ہوئی سری ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
آیت نمبر 104 تا 105
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تلفح وجو ھہم النار۔ کہا جاتا ہے : تنفخ دونوں کا ایک معنی ہے اس سے ہے ولئن مستھم نفحہ من عذاب ربک (الانبیاء : 46) مگر تلفخ تکلیف کے اعتبار سے زیادہ ہے کہا جاتا ہے : الفحتہ النا والسموم بحرھا یعنی آگ نے اسے جلا دیا اور گرم ہوا نے اپنی گرمی سے جلا دیا۔ لفحتہ یا لسیف لفحۃ جب کوئی آہستہ سے کسی کو تلوار مارے و ھم فیھا کلحون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے منہ بسورنے والے۔ اہل نعت نے کہا یبوست میں دانت نکالنے کو الکلوح کہتے ہیں۔ الکالح جس کے ہونٹ سکڑ گئے ہوں اور دانت باہر نکل آئے ہوں۔ اعشی نے کہا :
ولہ المقدم لا مثل لہ ساعۃ الشدق عن الناب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” تلفح وجوہہم النار “ سے مراد ہے تنفح یعنی آگ ان کی ہڈیوں سے گودا پگھلادے گی۔
2۔ ابن مردویہ نے والضیاء فی صفۃ النار ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” تلفح وجوہہم النار “ کے بارے میں فرمایا کہ (آگ) ان کو جلادے گی تو ان کے گوشت ان کے پٹھوں پر بہہ جائیں گے۔
3۔ ابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب جہنم کے رہنے والوں کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا تو گردن کے ساتھ ان کو جہنم پکڑ لے گی اور ان کو جلا ڈالے گی۔ ہڈی پر گوشت کو نہ چھوڑے گی مگر اس کو…
Read the full tafseer →تَلْفَحُ (جھلسائے گی ][ وُجُوْهَهُمُ ( ان کے چہرے ][ النَّارُ (آگ ][ وَهُمْ (اور وہ ][ فِيْهَا (اس میں ][ كٰلِحُوْنَ (سب تیوری چڑھانے والے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل جہنم کے عذاب اور ان کی بد صورتی کا تذکرہ فرمایا ارشاد ہے (تَلْفَحُ وُجُوْھَہُمْ النَّارُ وَھُمْ فِیْہَا کَالِحُوْنَ ) (دوزخ کی آگ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے) ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (وَ ھُمْ فِیْھَا کَالِحُوْنَ ) کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دوزخی کو آگ بھون ڈالے گی جس سے اس کا اوپر کا ہونٹ سکڑ کر سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر اس کی ناف پر پہنچ جائے گا۔ (رواہ الترمذی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–114
تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال
واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
78:۔ ” فمن ثقلت الخ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” و من خفت موازینہ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے وہاں نسلی اور خاندانی بڑائی کام نہ آئیگی بلکہ اعمال صالحہ کام آئیں گے۔ جن کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا وہ نجات پائیں گے اور جن کا ہلکا ہوگا وہ خسارے میں رہیں گے اور جہنم میں جائیں گے۔ ” تلفح وجوھم الخ “ جہنم کی آگ دوزخیوں کے چہرے جلا ڈالے گی اور ان کی شکلیں جل کر بدنما اور قبیح ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک…
Read the full tafseer →تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِيْہَا كٰلِحُوْنَ 104
لفح
يقال : لَفَحَتْهُ الشمس والسّموم . قال تعالی: تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ [ المؤمنون/ 104] وعنه استعیر : لَفَحَتْهُ بالسّيف .
( لح ) لفحتہ الشمس والسمور کے معنی ہیں سورج یا بادسموم نے اپنی لپٹ سے جھلسا دیا ۔ قرآن میں ہے ؛تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ [ المؤمنون/ 104] آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی ۔ اور اسی سے استعارہ کے طورپر لفحتہ بالسیف کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی تلوار سے سر قلم کردینا ہیں ۔
وجه
أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6]
( و ج ہ ) الوجہ
کے اصل معنی چہرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
1 ؎ نیک اعمال کا پلہ مراد یہ ہے کہ جس کے نیک اعمال بدعملوں سے زیادہ ہوئے تو ان کو نجات ہے ورنہ جہنم۔ 12 منہ
تفسیر …تناسخ کا ابطال : یہاں سے تناسخ کا صریح ابطال ہوگیا اور یہی مسلک تمام انبیاء کا ہے۔ پھر قیامت کی کیفیت ظاہر فرماتا
ہے فاذا نفخ فی الصور کہ جس رور صور پھنکے گا تو اس روز نہ انسان کا نسب کام آوے گا جیسا کہ دنیا میں رشتہ کا لحاظ ہوتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے ‘ فلاں کی اولاد ہے ‘ فلاں قوم اور قبیلے کا ہے اونچی ذات کا ہے ‘ شریف خاندانی ہے یا کم قوم پاجی ہے اور نہ کوئی ان باتوں سے پوچھا جائے گا ‘ وہاں تو انسان کے اعمال اور ایمان سے کام پڑے گا فمن ثقلت موازینہ الخ پھر جس کی نیکیوں کا پلہ بدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فِیْ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ۔ تَلْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کٰلِحُوْنَ ۔ (المومنون : 102 تا 104)
(پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جھلس ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ، اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے۔ )
قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ
یہ تیسرا منظر ہے جس سے قیامت کے دن کفار کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ دنیا میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
فہم القرآن
ربط کلام : عالم برزخ کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔
پہلے صور پھونکے جانے کے بعد نامعلوم لوگ کتنی مدت تک عالم برزخ میں رہیں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل فرشتے کو دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دیں گے تو اس کے صور پھونکنے کے فوراً بعد لوگ برزخ سے عالم وجود میں آجائیں گے اور اس دن کوئی کسی کے ساتھ تعلق قائم نہیں کرسکے گا۔ حالت یہ ہوگی۔
(یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیہِ ) [ عبس : 34] ” آدمی اس دن اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ “
اس حالت میں لوگوں کو معشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ پورے جمال اور جلال کے ساتھ جلوہ…
Read the full tafseer →104: تَلْفَحُ (جھلسا دے گی) جلا دے گی۔ وَجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کَالِحُوْنَ (ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس آگ میں بدشکل ہونگے) ترش رو ہونگے۔ پس انہیں کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
104۔ تلفح وجوھھم النار، ان کو جھلسادے گا۔ بعض نے کہا کہ آگ ان کو جلادے گی، وھم فیھاکالحون ، ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی ، حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، وھم فیھاکالحون، کہ آگ ان کو بھون ڈالے گی کہ اوپر کا ہونٹ بالائی جانت کو اتنا اٹھ جائے گا کہ سر کے وسط تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ اتنالٹک جائے گا کہ ناف سے جا کے لگ جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ کافر کے جسم کی چوڑائی سات رات چلنے کے بقدر ہوگی۔ پس اس کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور ان کے ہونٹ ایسے ہوں گے جیسے پکی ہوئی سری جس کے دانت باہر نکل آئے ہوں اور ہونٹ سکڑ گئے ہوں اور وہ کالے رنگ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
101۔ 104:۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود کا اس باب میں اختلاف 1 ؎ ہے کہ ان آیتوں میں پہلے صور کا ذکر ہے یا دوسرے کا۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہاں صور کے ذکر کے بعد عملوں کے تولے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس پر سب سلف کا اتفاق ہے کہ عملوں کا تولا جانا دوسرے صور کے بعد ہوگا اس سبب سے عبداللہ بن مسعود کا قول قوی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں دوسرے صور کا ذکر ہے ترمذی ‘ ابوداؤد کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی صحیح روایت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن میزان میں خوش اخلاقی بڑی بھاری چیز ٹھہرے گی ‘ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–114
(آیت نمبر (101
اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–118
قول باری ہے (مستکبرین بہ سامراً تھجرون اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھاٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے) لفظ تھجرون کی ایک قرأت حرف تاء کے فتحہ اور حرف جیم کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ایک قرأت کے مطابق حرف تاء مضموم اور حرف جیم مکسور ہے۔ اس لفظ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تم حق سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیتے ہو۔ “ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” تم بکواس کرتے ہو۔ “ ھجر بکواس کرنے کو کہتے ہیں۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے ان کے نزدیک یہ لفظ ھجر بمعنی چھوڑنا سے ہی نکلا ہے جیسا کہ حضرت ابن بع اس وغیرہ سے مروی ہے۔ جب مریض بیماری…
Read the full tafseer →119 دوزخیوں کی انتہائی بدحالی کی ایک تصویر : کہ وہاں پر نہایت بری طرح بگڑی ہوئی ہونگی ان لوگوں کی شکلیں۔ دانت ان کے نکلے ہوئے ہوں گے۔ اوپر کے ہونٹ سکڑ کر کھوپڑیوں سے جا ملے ہوں گے اور نیچے کے لٹک کر ان کے نافوں تک جا پہنچے ہوں گے۔ جیسا کہ سنن ترمذی (رح) وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوزخ کی وہ ہولناک آگ ان کو جھلس رہی ہوگی۔ حضرت ابوداؤد ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ آگ جب ان پر ایک جھٹکا ماریگی تو ان کے گوشت پگھل کر ان کی ایڑیوں پر آگریں گے۔ (ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–108
کیا مرنے کے بعد دوبارہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟
تشریح : حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ” کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں پھر دنیا میں واپس کردیا جائے گا “ تو وہ کہتا ہے کہ ” میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ۔ “ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے۔ ” مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ “ (از معارف القرآن جلد 6 صفحہ 331 )
یہ تمام آیات عالم الغیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی وضاحت کچھ حدیث اور کچھ قرآنی آیات سے کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں اس دنیا سے جو ایک دفعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ یہ دعا کیجئے کہ ایمان دار بندے یہ سیکھ لیں کہ اے اللہ جب میرے سامنے ان پر عذاب آئے اور تیری گرفت میں آئیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں سے الگ رکھیے گا اور ان پر آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیے گا اس لیے کہ ہمیں قدرت حاصل ہے کہ ان سے عذاب کے وعدے کیے جا رہے ہیں وہ پورے کردیں اور آپ کو بھی دکھا دیں چناچہ کفار پر مکہ میں مختلف عذاب وارد ہوئے پھر میدان میں شکست ہوئی اور روئے زمین پر مسلسل شکست ہوتی چلی گئی ، اور اللہ کریم نے دنیا میں جن عذابوں سے خبر دار کیا تھا وہ واقعہ ہو کر رہے ۔
(کفار ومشرکین سے الگ رہنا ضروری ہے)
یہاں واضح ہے کہ مومن شکل و صورت وضح قطع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
5 ۔ دراصل ” کالح “ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی چمڑی ادھڑ گئی ہو اور دانت ظاہر ہوگئے ہوں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ” کالح “ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا : الم ترا الی الرأس المشیط۔ کہ تم نے جلائی ہوئی سری نہیں دیکھی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
(23:104) تلفح۔ مضارع واحد مؤنث غائب لفح مصدر (باب فتح) لفح فلانا بالسیف اس نے فلاں کو تلوار سے مارا۔ یا تلوار سے سرقلم کیا۔ یا لفحت النار والسموم بحرھا۔ آگ یا باد سموم نے چہرے کو اپنی تپش سے جھلس دیا۔ تلفح وہ جھلس دے گی یہ جملہ حالیہ ہے یا جملہ مستانفہ ہے۔
کالحون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ کالح واحد کلح یکلح (فتح) سے کلوح وکلاح مصدر ۔ منہ بنا کر دانت نکالنا۔ تیوری چڑھانا۔ کلح وجھہ تیوری چڑھا ہوا ہونا کالح منہ بنا کر دانت نکالنے والا۔ کلحۃ منہ کے گول حلقہ کو کہتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا۔ الم تر الی الرأس المشیط۔ (کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–118
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 :
ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 :
جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اس روز باہم قرابت کا پاس نہ ہوگا اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں باپ اور بی بی اور بیٹیوں سے بھاگے گا کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا اور یہ سب نسب اور رشتے اور قومیں سب دنیا تک ہی ہیں پس وہاں جس شخص کا پلڑا اعمال صالح کا بھاری ہوگا وہی جنتی قرار پاویں گے اور جن کا پلڑا ہلکا ہوگا جن بدلوگوں کا پلڑا بدعملوں سے بھاری ہوگا وہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ان کے مونہوں کو آگ جھلستی ہوگی اور وہاں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے یعنی اوپر کا ہونٹ سکڑ کر نصف سر تک پہنچے گا اور نیچے کا ناف تک لٹک جائے گا دانت کھلے رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–113
[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔
[43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
(ف 3) یعنی جس قدر یہ امتیازات ہیں سب دنیا تک کے لئے ہیں ، آخرت میں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے اور کن لوگوں سے انتساب رکھتے ہو وہاں تو اعمال تلیں گے اور افعال جانچے جائیں گے وہ لوگ کامیاب وکامران رہیں گے جن کے کردار وزنی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں کارہائے مستحسن سرانجام دیں گے اور جن کے پاس زاد عقبے کا وافر ذخیرہ ہوگا ، اور جن کا دامن تہی ہوگا دنیا میں غفلت اور گمراہی میں زندگی بسر کی ہوگی اس دن پچھتائیں گے اور جہنم کے عذاب سے دوچار ہوں گے ۔
حل لغات :
ہمزات : ہمزہ کی جمع ہے معنی وسوسہ انداز اور دل میں بڑائی کے لئے تحریک پیدا کرنا ، وساوس شیطانی ،
برزخ : حائل ہونے والی…
Read the full tafseer →(104) جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور اس آگ میں ان کی شکلیں بگڑی ہوئی ہوں گی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جلتے جلتے بدن سوج جائیں گے نیچے کا ہونٹ ناف تک اور اوپر کا کھوپری تک اور زبان گھسٹتی زمین پر لوگ اس کو روندیں گے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–110
ف 4۔ یعنی وہ مومن ہوگا۔
Read the full tafseer →آگ کے شعلوں کی لپٹ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی ‘ وہ ناگفتہ بہ حالت میں ہوں گے :
104۔ (کالحون) اسم فاعل جمع مذکر مرفوع کالح واحد اور کلح ماضی کلوح وکلاح مصدر باب فتح ہے ۔ منہ بگاڑنے والے ‘ منہ بنا کر دانت نکال دینے والے ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کالح وہ شخص ہے جو ہونٹوں کو سکیڑ کر دانت باہر کر نکال دے اس لئے کہ کلحہ منہ کے گول حلقے کو کہتے ہیں ۔ ” تلفح “ لفح سے ہے اور یہ آگ یا سموم کے باعث چہرے کو جھلس دینے پر بولا جاتا ہے اور عذاب کو دیکھ کر یہ ان بداعمال لوگوں کی حالت کا بیان ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے اعمال کا تو کوئی وزن نہیں ہے اور پھر اس کے نتیجہ پر جب ان کی نظر جائے گی تو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ And they will be disfigured therein - 23:104). The word is used for a person whose lips do not meet and leave his teeth fully exposed, which looks very ugly. It is said that the upper lip of a person consigned to Hell will be drawn up and his lower lip will be drawn down so that his teeth will remain visible at all times.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
97. The word kalih means a face whose skin has been removed so as to expose the jaws. When somebody asked Abdullah bin Masud the meaning of kalih, he said: Haven’t you seen the scorched head of a slaughtered animal?
Read the full tafseer →