Explained with ayahs 51–56
یہودی روایتوں سے بچو
فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
سورة الْاَنْبِیَآء 54
جس واقعہ کا آگے ذکر کیا جا رہا ہے اس کو پڑھنے سے پہلے یہ بات اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ قریش کے لوگ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے، کعبہ ان ہی کا تعمیر کردہ تھا، سارے عرب میں کعبے کی مرکزیت ان ہی کی نسبت کے سبب سے تھی اور قریش کا سارا بھرم اسی لیے بندھا ہوا تھا کہ یہ اولاد ابراہیم ہیں اور کعبہ ابراہیمی کے مجاور ہیں۔ آج اس زمانے اور عرب سے دور دراز کے ماحول میں تو حضرت ابراہیم کا یہ قصہ صرف ایک سبق آموز تاریخی واقعہ ہی نظر آتا ہے، مگر جس زمانے اور ماحول میں اول اول یہ بیان کیا گیا تھا، اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے تو محسوس ہوگا کہ قریش کے مذہب اور ان کی برہمنیت پر یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے اس (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم ؑ کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان (کے کمالات علمیہ و عملیہ) کو خوب جانتے تھے (یعنی وہ بڑے کامل تھے ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے (ان کو بت پرستی میں مشغول دیکھ کر) فرمایا کہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو (یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں) وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، (اور وہ لوگ عاقل تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مورتیں لائق عبادت کے ہیں) ابراہیم ؑ نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان…
Read the full tafseer →قوم سے اصنا مکہ بارے میں بحث
اب یہ ان کی بالکل ابتدائی سرگزشت حیات کا ایک واقعہ بیان ہو رہا ہے جس سے ان کی جرأت و فتوت بھی واضح ہو رہی ہے اور وہ ہدایت و معرفت بھی جو اللہ تعالیٰ نے عین عنفوان شباب میں ان کو بخشی۔ ان کی ولادت اگرچہ ایک بت پرست قوم، ایک مبتلائے شرک خاندان اور ایک مشرک اور بت گر باپ کے گھر میں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو توحید کا وہ نور عطا فرمایا جس کی روشنی سے دنیا آج تک منور ہے قیامت تک منور رہے گی۔ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں کو دعوت دی کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن پر تم لوگ دھرنا دیئے بھے ا ہو ! اس فقرے میں ان بتوں کے لئے جو استخفاف و تحقیر ہے اور…
Read the full tafseer →52۔ 1 تَمَاثِیْل، تِمْثَالُ کی جمع ہے۔ یہ اصل میں کسی چیز کی ہوبہو نقل کو کہتے ہیں۔ جیسے پتھر کا مجسمہ یا کاغذ اور دیوار پر کسی کی تصویر۔ یہاں مراد وہ مورتیاں ہیں جو قوم ابراہیم ؑ نے اپنے معبودوں کی بنا رکھی تھیں اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے عاکف۔ عکوف سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی کسی چیز کو لازم پکڑنے اور اس پر جھک کر جم کر بیٹھ رہنے کے ہیں۔ اسی سے اعتکاف ہے جس میں انسان اللہ کی عبادت کے لیے جم کر بیٹھتا ہے اور یکسوئی اور انہماک سے اس کی طرف لو لگاتا ہے یہاں اس سے مراد بتوں کی تعظیم و عبادت اور ان کے تھانوں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے یہ تماثیلیں (مورتیاں اور تصویریں) قبر پرستوں اور پیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
23: اس آیت نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت کے دن صرف یہی نہیں کہ تمام لوگوں سے انصاف ہوگا ؛ بلکہ اس بات کا بھی اہتمام کیا جائے گا کہ انصاف سب لوگوں کو آنکھوں سے نظر آئے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ ایسی ترازویں برسر عام نصب فرمائیں گے جن میں انسانوں کے اعمال کو تولا جائے گا اور اعمال کے وزن کے حساب سے انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا، انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس دنیا میں اگرچہ ان کا نہ کوئی جسم نظر آتا ہے اور نہ ان میں کسی وزن کا احساس ہوتا ہے، لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا وزن کرنے کی ایسی صورت پیدا فرمائیں گے جن سے ان اعمال کی حقیقت واضح ہوجائے، اگر انسان سردی گرمی جیسی چیزوں کو تولنے کے لئے نئے…
Read the full tafseer →اذ قال۔۔۔۔۔۔۔۔ عکفون (25) ” “
ان کی یہ بات ہی ان کے رشد و ہدایت کی دلیل ہے۔ آپ نے ان پتھروں اور لکڑیوں اور دوسرے مواد کے لیے بڑا صحیح لفظ استعمال کیا یعنی مورتیاں ‘ تماثیل۔ ان کو انہوں نے الہٰ نہ کہا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ تم لوگ بڑی چاہت سے ان کی پرستش کرتے ہو ‘ عاکف کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلسل انکے ساتھ جھکے ہوئے رہتے تھے ‘ حالانکہ وہ دوسرے کام بھی کرتے ہوں گے لیکن ان کے دل ان بتوں ہی کے ساتھ تھے۔ اس لیے مصنوعی طور پر گویا وہ ان کے آگے مسلسل جھکے ہوئے تھے۔ اس لیے تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ تم رات دن ان کے آگے جھکے ہوئے ہو۔
Read the full tafseer →4 یعنی ذرا ان کی اصلیت اور حقیقت تو بیان کرو۔ آخر پتھر کی خود تراشیدہ مورتیاں خدا کسی طرح بن گئیں۔
Read the full tafseer →آیت 52 اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْٓ اَنْتُمْ لَہَا عٰکِفُوْنَ ”
ذرا ان پتھر کی خود تراشیدہ مورتیوں کی اصلیت اور حقیقت تو بیان کرو جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو اور جن کے گیان دھیان میں لگے رہتے ہو !
Read the full tafseer →47 یہ حضرت ابراہیم کی ہوش مندی کا تقاضا تھا کہ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں کو بےجان اور ساکت و صامت بتوں کے سامنے سجدہ ریز دیکھا تو فوراً دل میں سوچنے لگے کہ ان بےجان پتھروں کے سامنے، جو نہ حرکت کرسکتے ہیں، نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں۔ سجدہ کرنے کا فائدہ کیا ہے ؟ ایسی چیزوں کو سجدہ کرنا تو سراسر انسانیت کی توہین اور تذلیل ہے۔ قوم کی اس انسانیت سوز حرکت پر وہ مدتوں دل ہی دل میں کڑہتے اور نفرت کرتے رہے۔ بالآخر انہوں نے اپنے طبیعت کے تقاضا سے مجبور ہو کر اپنے باپ اور اپنی قوم سے یہ سوال کر ہی دیا کہ مجھے بھی تو کچھ بتلاؤ کہ جن بےجان مورتیوں کے سامنے تم بیٹھ کر ان کی عبادت میں مشغول…
Read the full tafseer →70۔ ملک بابل (موجودہ عراق) کی قدیم قوم شرک وبت پرستی میں مبتلا تھی، مظاہر پرستی، کواکب پرستی وغیرہ کے علاوہ مورتی پوجا کا بھی رواج ان میں پھیلا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسی قوم کے درمیان پیدا ہوئے۔ آپ (علیہ السلام) کے والد تارح (عربی تلفظ میں آزر) ایک بڑے صناع بت تراش وبت فروش تھے۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ شیخ اسمعیل شہید (رح) نے اس آیت سے صوفیہ کے تصور شیخ کے ناجائز ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) کی تحقیق ہے جو تصور شیخ غالی صوفیوں میں چلا ہوا ہے وہ تو بیشک ممنوع ہے لیکن اگر تصور شیخ ایسا ہو کہ نہ وہ بالا ستقلال مقصود ہو اور نہ اس پر عکوف ہو، بلکہ محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…
Read the full tafseer →اذ قال لابیہ وقومہ ما ہذہ التماثیل التی انتم لہا عاکفون۔
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی عبادت پر تم جمے ہوئے ہو۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہانت آمیز لہجے میں دریافت کیا اور قوم والے جو مورتیوں کی تعظیم کرتے تھے اس پر ان کو تنبیہ کی کہ یہ مورتیاں ہیں بےجان ہیں نہ فائدہ پہنچا سکتی ہیں نہ نقصان۔ چونکہ عکوف کے بعد علیٰ آتا ہے اس لئے لہا میں لام تعدیہ کا نہیں ہے بلکہ اختصاص کے لئے ہے۔ یعنی خصوصیت کے ساتھ تم ان کے لئے جمے ہوئے ہو یا لام بمعنی علیٰ ہے یعنی تم ان کی عبادت پر جمے ہوئے ہو یا عکوف کے اندر عبادت کا معنی داخل ہے ‘ یعنی تم ان کی عبادت کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(52) جب کہ انہوں نے اپنے باپ آذر اور نمرود بن کنعان اور اس کے لوگوں سے کہا یہ کیا بیہود مورتیاں ہیں جن کی تم لوگ عبادت کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ۔۔ : ”التَّـمَاثِيْلُ“ ”تِمْثَالٌ“ کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کی مثل بنائی ہوئی صورت، مجسمہ۔ بت پرست عموماً انسانوں کے مجسموں کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ سمجھ بوجھ جو موسیٰ ؑ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو عطا فرمائی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا حق ہونا اور بتوں اور دوسرے تمام معبودوں کا باطل ہونا۔ ابراہیم ؑ کی قوم بت پرست بھی تھی، ستارے، چاند اور سورج کی پرستش بھی کرتی تھی اور بادشاہ کو بھی رب مانتی تھی۔ ستارے، چاند اور سورج کے معبود نہ ہونے کے لیے ابراہیم ؑ کی نہایت مدلل، مؤثر اور لاجواب دعوت سورة انعام (76 تا 83) میں ملاحظہ فرمائیں۔ بادشاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ بعض علماء نے فرمایا : یعنی تو یاد کر جب اس نے اپنے باپ کو کہا۔ پس کلام وکنا بہ علمین پر مکمل ہوگی۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم جانتے تھے جب انہوں نے کہا۔ اس مفہوم پر کلام متصل ہوگی اور عالمین پر وقف نہ گا لابیہ سے مراد آزر ہے۔ قومہ نمرود اور اس کے پیروکار۔ ما ھذہ التماثیل اس سے مراد مورتیاں ہیں۔ التماثیل ہر اس شی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔ کہا جاتا ہے : مثلث الشئی بالشئی میں نے ایک چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دی۔ اس ممثل کا اسم تماثل ہے۔ التی انتم لھا عکفون۔ یعنی تم ان کی عبادت پر قائم ہو۔ قالوا وجدنا لھا عبدین۔ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
1:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ہدایت دی اور (آیت) ” ما ھذہ التماثیل “ سے مراد ہے کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ؟۔
2:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت دی۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ التی انتم لھا عکفون “ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو (آیت) ” قالوا وجدنا ابآءنا لھا عبدین “ یعنی ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کو پیروی کرتے ہیں اسی دین پر۔
4:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[ اِذْ : جب ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لِاَبِيْهِ : اپنے والد سے ] [ وَقَوْمِهٖ : اور اپنی قوم سے ] [ مَا هٰذِهِ التماثِيْلُ : یہ مجسمے کیا ہیں ] [ الَّتِيْٓ: وہ ] [ انتم : تم لوگ ] [ لَهَا : جن کے لئے ] [ عٰكِفُوْنَ : اعتکاف کرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا
سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔
یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…
Read the full tafseer →36:۔ اِذْ ، قالوا موخر سے متعلق ہے۔ اور اذکر مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ التماثیل، تمثال کی جمع ہے۔ تمثال اس مصنوعی چیز کو کہا جاتا ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کے مشابہ بنائی جائے۔ مشرکین نے انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور ستاروں کی شکلوں پر بت بنا کر عبادت خانہ میں نصب کر رکھے تھے۔ انہی کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے سوال کیا کہ یہ مورتیاں کیسی ہیں جن کی عبادت پر تم جمے بیٹھے ہو۔ التمثال موضوع للشی المصنوع مشبھا بخلق من خلق اللہ (قرطبی ج 11 ص 296) ۔ ان القوم کانوا عباد اصنام علی صور مخصوصۃ کصورۃ الانسان او غیرہ الخ (کبیر ج 6 ص 160) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لِاَبِيْہِ وَقَوْمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّـمَاثِيْلُ الَّتِيْٓ اَنْتُمْ لَہَا عٰكِفُوْنَ 52
أب
الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6]
( اب و ) الاب
۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–67
تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…
Read the full tafseer →اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاھٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْٓ اَنْـتُمْ لَھَا عٰکِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 52)
(یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوجا پاٹ پر تم جمے بیٹھے ہو۔ )
اصنام پرستی کی مذمت
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جس دانش و بصیرت، ہدایت اور حوصلہ مندی سے نوازا تھا، یہ اس کا اظہار ہے۔ ابھی آپ عنفوانِ شباب میں ہیں۔ جب نوجوانوں پر جوانی کے جذبوں اور خواہشات کی سحرکاریوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ جب وہ کسی سنجیدہ بات اور خواہشات کو حدود میں رکھنے والی کسی نصیحت کے سننے کے بھی روادار نہیں ہوتے انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی…
Read the full tafseer →52: اِذْ (جب) اذکو آتینا سے متعلق کرنا درست ہے نمبر 2۔ رشدہ سے متعلق ہے۔
قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَا ھٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ ( انہوں نے اپنے والد اور قوم کو کہا یہ کیا مورتیاں ہیں ؟ ) تماثیل یہ بت تھے جن کو مختلف درندوں کی شکل دی گئی تھی۔ اسی طرح پرندوں اور انسانوں کی۔ ان کے معبودوں کی تحقیر ظاہر کرنے کیلئے آپ نے کلام تجاہل عارفانہ انداز سے اختیار کیا حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ وہ مورتیوں کی تعظیم کرتے ہیں۔ الَّتِیْٓ اَنْتُمْ لَھَا عَاکِفُوْنَ (وہ جن کی عبادت پر تم جمے ہوئے ہو) لھاؔ کا لام اجلیہ ہے۔ تعدیہ کا نہیں ہے۔ ان کی عبادت کی خاطر اقامت اختیار کرنے والے ہو۔
Read the full tafseer →52۔ اذ قال لابیہ، وقومہ ماھذہ التماثیل، ، اس سے مراد صورتیں ہیں مورتیاں ہیں۔ التی انتم لھاعاکفون۔ جن کی عبادت کرنے پر وہ قائم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
51۔ 56:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش نمرود بن کنعان عراق کے بادشاہ کے زمانہ میں ہوئی ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے قائل کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر انہیں یوں قائل کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بچپنے ہی میں بت پرستی سے بیزار تھے پھر یہ مکہ کے بت پرست اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر کیوں کر کہہ سکتے ہیں ‘ نمردو اور اس کے ساتھی ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی نیت سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں بنار کھی تھیں جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–73
آیت 51-73
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
71 رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیم کا خاص مرتبہ و مقام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو بھی ان کی شان کے لائق رشد و ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جانتے تھے کہ وہ کن کن صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مالک ہیں اور کیا کیا مکارم و محاسن ان کے وجود باجود کے اندر مخفی و مستور ہیں۔ اور وہ ہماری کن کن عنایتوں اور نوازشوں کے اہل اور مستحق ہیں۔ کیونکہ خالق سے مخلوق کی کوئی بھی حالت و کیفیت مخفی و مستور نہیں رہ سکتی ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم کو ہدایت و معرفت کے اس خاص درجہ و مرتبہ سے نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–73
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل
تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔
پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔
دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔
تیسرا : یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–75
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی جن کی پوجا پاٹ میں تم لگے رہتے ہو یہ کس کام کی ہیں اور کیا ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(21:52) التماثیل۔ تمثال کی جمع۔ صورتیں۔ مورتیں۔ تصویریں۔ مجسمے۔ بت۔
عکفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عکف یعکف (ضرب وعکف یعکف (نصر) عکف۔ ترتیب دینا ۔ جب اس کا استعمال عن کے صلہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا کسی کو کسی چیز سے منع رکھنا۔ روکے رکھنا۔ روکنا۔ اس معنی میں ہے والھدی معکوفا (48:25) اور قربانی کے جانور جو روک دئیے گئے ہیں۔ کہتے ہیں عکفہ عن الامر۔ اس نے اسے (اس ) امر سے روک دیا ہے۔ اور اگر علی کے صلہ کے ساتھ آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی طرف اس طرح لگ کر بیٹھ جانا کہ پھر اس کی طرف سے منہ ہی نہ موڑے۔ جیسے یعکفون علی اصنام لہم (7:138) اپنے بتوں کی عبادت کے لئے جم کر بیٹھے رہتے تھے۔ انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–70
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70
رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔
نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 70
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور توحید کا ذکر۔
(ف 1) مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان فرمایا کہ انہیں ان آیتوں میں یوں قائل کیا کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم کو نیک راہ کی توفیق دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی تھی کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی آگے ابراہیم کے نیک راہ پر ہونے کی تفصیل یہاں فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
[31] مراد کتاب تورات ہے جو فرقان یعنی حق و باطل کا فرق دکھانے والی، جہل غفلت کے اندھیاروں میں روشنی پہنچانے والی اور '' ذکر '' یعنی نصیحت نامہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
پیغمبرانہ استعداد :
(ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ،
بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →(52) ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی عبادت پر تم جمے بیٹھے ہو یعنی یہ پتھر کی مورتیاں یا کواکب کی تصویریں کیا لغو چیزیں ہیں جن کی خدمت میں تم ہر وقت مشغول اور ان کی جانب ہر وقت متوجہ رہتے ہو اور ان کی تعظیم کو بجا لانے میں لگے رہتے ہو۔
مطلب یہ کہ ان کی عبادت کیا کرتے ہو اور ان کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹ تھے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 3۔ یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ ان تماثیل کی کیا حقیقت ہے ؟ :
52۔ (تماثیل) جمع ہے (تمثال) کی اور (تمثال) صورت کو کہتے ہیں وہ انسان کی ہو یا اور کسی جاندار وبے جان کی ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں آپ کی قوم کے لوگ مختلف گمروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے اور ہر گروہ کے لئے الگ الگ معبود اور حاجت روا ومشکل کشا تھے بعض لوگ سورج کی پرستش کرتے اور بعض چاند کی اور ایسے بھی تھے جو ستاروں کی پرستش کرتے تھے اور ان کو اپنا معبود بیان کرتے تھے اور وہ بھی کرتے تھے جنہوں نے انسانوں کی شکل و صورت کے بت بنا رکھے تھے اور وہ اپنے قومی بزرگوں کی یاد میں نت نئے بت گھڑتے اور تراشتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
Commentary
الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْقَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 ' (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْقَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh's house, then at the time of his contest with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
54. Before proceeding further, it should be kept in mind that the incident from the history of Prophet Abraham (peace be upon him) has been cited here to refute the erroneous creeds of the Quraish. This was meant to hit them hard for they were the descendants of Prophet Abraham (peace be upon him) and were proud of their relationship with him. It was he who had built the Kabah which had become the center of the entire Arabia and they, being its keepers, were its most important clan. Therefore, they could not remain indifferent to this answer.
Read the full tafseer →