Al-Anbiyaa 21:51

Al-Anbiyaa · from ayah 51

21:51

وَلَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَ ۟ۚوَلَـقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ مِنۡ قَبۡلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِيۡنَ‌ۚ‏

اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had certainly given Abraham his sound judgement before, and We were of him well-Knowing

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:51

اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی اور ہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو وہ سمجھ بوجھ عطا کی تھی جو ان کے لائق تھی اور ہم انہیں خوب جانتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا کردی اور ہم اس سے خبردار تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم ؑ کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جاننے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیم کو ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اس (کے حال) سے خوب واقف تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم اس سے خوب باخبر تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس زمانہ موسوی سے پہلے ابراہیم کو بھی اس کی شان کے مطابق ہوش مندری عطا کرچکے تھے اور ہم اس کو خوب جانتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم (اس سے بھی) پہلے ابراہیم کو خوش فہمی عطا کرچکے تھے۔ اور ہم ان کو خوب جانتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (موسیٰ ؑ ٰ سے بھی) پہلے ہم نے ابراہیم ؑ کو اس کی سعادت کی راہ بخشی تھی اور ہم ہر طرح سے اس کی خبر رکھتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ترجمہ : اور ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We had bestowed wisdom upon Abraham even earlier, and We knew him well.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Even earlier We had given Ibrahim his right course, and We knew him well

— Muhammad Taqi Usmani

Even earlier We had given Ibrahim his right course, and We knew him well

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We bestowed aforetime on Ibrahim his guidance, and We were Well-Acquainted with him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We verily gave Abraham of old his proper course, and We were Aware of him,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had certainly given Abraham his sound judgement before, and We were of him well-Knowing

— Saheeh International

To Abraham We gave the right guidance and We knew him very well.

— Muhammad Sarwar

And certainly We gave to Ibrahim his rectitude before, and We knew him fully well.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We vouchsafed un to lbrahim his rectitude aforetime, and him We had ever known.

— Abdul Majid Daryabadi

We bestowed aforetime on Abraham his rectitude of conduct, and well were We acquainted with him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–56

یہودی روایتوں سے بچو فرمان ہے کہ خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بچپن سے ہی ہدایت عطا فرمائی تھی۔ انہیں اپنی دلیلیں الہام کی تھیں اور بھلائی سمجھائی تھی جیسے آیت میں ہے وتلک حجتنا اتیناہا ابراہیم علی قومہ۔ یہ ہیں ہماری زبردست دلیلیں جو ہم نے ابراہیم ؑ کو دی تھیں تاکہ وہ اپنی قوم کو قائل کرسکیں۔ یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی انہیں ان کے والد نے ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے مدتوں بعد وہ باہر نکلے اور مخلوقات الٰہی پر خصوصا چاند تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر اللہ کو پہچانا یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ان میں سے جو واقعہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 53 " ہوشمندی " ہم نے " رشد " کا ترجمہ کیا ہے جس کے معنی ہیں " صحیح و غلط میں تمیز کر کے صحیح بات یا طریقے کو اختیار کرنا اور غلط بات یا طریقے سے احتراز کرنا "۔ اس مفہوم کے لحاظ سے " رشد " کا ترجمہ " راست روی " بھی ہوسکتا ہے، لیکن چونکہ رشد کا لفظ محض راست روی کو نہیں بلکہ اس راست روی کو ظاہر کرتا ہے جو نتیجہ ہو فکر صحیح اور عقل سلیم کے استعمال کا، اس لیے ہم نے " ہوش مندی " کے لفظ کو اس کے مفہوم سے اقرب سمجھا ہے۔ " ابراہیم کو اس کی ہوش مندی بخشی " یعنی جو ہوش مندی اس کو حاصل تھی وہ ہماری عطا کردہ تھی۔ " ہم اس کو خوب جانتے تھے "، یعنی ہماری یہ بخشش کوئی اندھی بانٹ نہ تھی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

خلاصہ تفسیر اور ہم نے اس (زمانہ موسوی) سے پہلے ابراہیم ؑ کو ان کی (شان کے مناسب) خوش فہمی عطا فرمائی تھی اور ہم ان (کے کمالات علمیہ و عملیہ) کو خوب جانتے تھے (یعنی وہ بڑے کامل تھے ان کا وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی برادری سے (ان کو بت پرستی میں مشغول دیکھ کر) فرمایا کہ کیا (واہیات) مورتیں ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو (یعنی یہ ہرگز قابل عبادت نہیں) وہ لوگ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے، (اور وہ لوگ عاقل تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مورتیں لائق عبادت کے ہیں) ابراہیم ؑ نے کہا کہ بیشک تم اور تمہارے باپ دادے (ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیم کا مرتبہ خاص رشد سے مراد ہدایت و معرفت ہے اور اس کی اضافت نے اس کے اندر ایک خاص امتایز کا مفہوم پیدا کردیا ہے۔ یعنی ابراہیم کو ہم نے وہ ہدایت و معرفت عطا فرمائی جو اس کے درجے اور مرتبے کے شایان شان تھی۔ ہدایت و معرفت کے مختلف مدارج ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس میں سے کوئی حصہ عطا فرماتا ہے۔ وہ اس کی صلاحیتوں کو جانچ کر اس کے درجہ و مرتبہ کے اعتبار سے عطا فرماتا ہے۔ حضرت ابراہیم کو اس میں سے جو حصہ وافر ملا اس کی وضاحت ہم آیت واذایتلی ابرھم ربہ الآیہ کے تحت کرچکے ہیں۔ انکے اسی وصف خاص کی طرف یہاں اشارہ فرمایا ہے۔ وکنا بہ علمین یعنی یہ مرتبہ بلند جو ہم نے اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 مِنْ قَبْلُ سے مراد تو یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کو رشد و ہدایت (یا ہوشمندی) دینے کا واقع، موسیٰ ؑ کو ابتدائے تورات سے پہلے کا ہے یہ مطلب ہے کہ ابراہیم ؑ کو نبوت سے پہلے ہی ہوش مندی عطا کردی تھی۔ 51۔ 2 یعنی ہم جانتے تھے کہ وہ اس رشد کا اہل ہے اور وہ اس کا صحیح استعمال کرے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–54

23: اس آیت نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت کے دن صرف یہی نہیں کہ تمام لوگوں سے انصاف ہوگا ؛ بلکہ اس بات کا بھی اہتمام کیا جائے گا کہ انصاف سب لوگوں کو آنکھوں سے نظر آئے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ ایسی ترازویں برسر عام نصب فرمائیں گے جن میں انسانوں کے اعمال کو تولا جائے گا اور اعمال کے وزن کے حساب سے انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہوگا، انسان جو عمل بھی کرتا ہے اس دنیا میں اگرچہ ان کا نہ کوئی جسم نظر آتا ہے اور نہ ان میں کسی وزن کا احساس ہوتا ہے، لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا وزن کرنے کی ایسی صورت پیدا فرمائیں گے جن سے ان اعمال کی حقیقت واضح ہوجائے، اگر انسان سردی گرمی جیسی چیزوں کو تولنے کے لئے نئے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد اتینآ۔۔۔۔۔۔۔۔ علمین (15) ” ‘۔ ہم نے ان کو ہوشمندی عطا کی تھی ‘ ان کے حالات سے ہم اچھی طرح واقف تھے اور ان کی وہ صلاحیتیں بھی ہماری نظر میں تھیں جو حاملین رسالت کے لیے ضروری ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت موسیٰ و ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام سے پیشتر ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی اعلیٰ قابلیت و شان کے مناسب رشد و ہدایت دی تھی، بلکہ جوانی سے پہلے ہی بچپن میں اسے نیک راہ پر ڈال دیا تھا جو ایسے اولوالعزم انبیاء کے شایان شان ہو۔ 3 یعنی اس کی استعداد و اہلیت اور کمالات علمیہ کی پوری خبر ہم ہی رکھتے ہیں۔ اسی لیے جو رشدو و ہدیٰ اس کے حسب حال تھی ہم نے عطا کردی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51 وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرٰہِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ ” ان آیات میں بڑی عمدگی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے درمیان ہونے والی کش مکش کی تفصیل بیان ہو رہی ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 رُشد سے مراد ایسی ہوش مندی ہے۔ جس سے انسان اپنے فائدہ و نقصان، نیک و بد اور خیر و شر میں امتیاز کرنے اور فائدہ کی بات کو قبول کرنے اور نقصان کی بات کو رد کرنے کے قابل ہوجائے۔ خواہ یہ نفع و نقصان دنیوی ہو یا اخروی ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت مدت پہلے ہم نے حضرت ابراہیم کو ہوش مندی اور عقل سلیم عطا کی تھی۔ وہ فرمانے کے رسم و رواج کے پیروکار نہیں تھے۔ بلکہ ہر بات کے نفع و نقصان کو خود سوچنے کے عادی تھے۔ اور ہم ان کے حالات سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ وہ فی الواقعہ رسالت الٰہی کے مستحق ہیں۔ لہذا ہم نے انھیں نبوت عطا فرمائی۔ اگرچہ یہ ہوش مندی بھی ہم نے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ (ان کے مرتبہ وحیثیت کے لائق ومتانب) رشد سے مراد ہدایت بھی ہے اور مرتبہ نبوت بھی۔ فی الرشد قولان الاول انہ النبوۃ والثانی انہ الاھتداء لوجوہ الصلاح فی الدین وفیہ قول ثالث وھو ان تدخل النبوۃ والاھتداء تحت الرشد (کبیر) (آیت) ” من قبل “۔ کھلا ہوا تعلق دور موسوی سے قبل کا ہے۔ اے من قبل موسیٰ وھرون (ابن جریر۔ کشاف) بعض نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا دور قبل بلوغ یا قبل ولادت مراد لیا ہے۔ ؛ اے ھداہ صغیرا (ابن جریر۔ عن مجاہد) وقیل من قبل ان یولد (روح) 69۔ (کہ وہ کیسی سعادتیں اور صلاحیتیں اور کیسے کمالات علمی وعملی رکھنے والے ہیں) خدا کی بخششیں اندھا دھند اور اٹکل پچو نہیں ہوتیں۔ تمامتر ظرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور ہم نے پہلے ہی ابراہیم کو یعنی سن بلوغ کے پہنچنے سے پہلے ہوشمندی عطا فرمائی تھی اور ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ وہ اس کا اہل ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیاں (بت) جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں ؟ یعنی ان کی بندگی میں لگے ہوئے ہو تو سب نے جواب دیا ہم نے اپنے آباو اجداد کو انہیں کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے لہٰذا ہم نے انہیں کی اقتداء اختیار کیا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا پھر تو تم اور تمہارے آبا ان کی بندگی کرنے کی وجہ سے کھلی گمراہی میں ہو، تو کہنے لگے کیا تم اپنے اس قول میں ہم سے سچ بات کہتے ہو ؟ یا اس بات میں (یوں ہی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل وکنا بہ علمین۔ اور ہم نے (موسیٰ ( علیہ السلام) سے بہت) پہلے ابراہیم ( علیہ السلام) کو (ان کی شان کے مناسب) راستی فہم عطا کی تھی اور ان سے (ان کے احوال سے خوب) واقف تھے۔ رشد یعنی توحید اور بت پرستی سے پرہیز۔ رشدہ میں اضافت بتارہی ہے کہ رشد میں ابراہیم کا بہت بڑا درجہ تھا۔ من قبل یعنی موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) سے پہلے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو محمد کے پاس وحی بھیجی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمیشہ سے اللہ کا یہی دستور رہا ہے مخلوق کی اصلاح کے لئے اللہ پیغمبروں کے پاس وحی بھیجتا رہا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے من قبل کی تشریح کی ہے بالغ ہونے سے پہلے جب کہ حضرت ابراہیم بچہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(51) اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کے بالغ ہونے سے پہلے ان کو علم اور خوش فہمی عطا کی تھی یا یہ کہ ہم نے حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ کے زمانہ سے پہلے ان کو نبوت کے ساتھ سرفراز فرمایا تھا یا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت عطا کی تھی اور ہم ان کے کمالات کو اور یہ کہ وہ اس چیز کے اہل ہیں، خوب جانتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ۔۔ : ”رُشْدٌ“ ہدایت اور سیدھا راستہ، یہ لفظ ”غَیٌّ“ کے مقابلے میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ) [ البقرۃ : 256 ] ”بلاشبہ ہدایت گمراہی سے صاف واضح ہوچکی۔“ اور سمجھ بوجھ اور ہوش مندی کے معنی میں بھی، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا) [ النساء : 6 ] ”پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو۔“ ”رُشْدَهٗ“ یعنی وہ سمجھ بوجھ جو اس کے لائق تھی۔ مِنْ قَبْلُ : یعنی موسیٰ اور ہارون ؑ سے پہلے یا نبوت عطا کرنے سے پہلے۔ بعض نے کہا غار سے نکلنے کے بعد۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (75 تا 79)۔ وَكُنَّا بِهٖ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینآ ابرھیم رشدہ فرائے نے کہا : ہم نے ابراہیم کو اپنی ہدایت عطا کی، من قبل نبوت سے پہلے یعنی ہم نے اسے غور و فکر کرنے کی توفیق بخشی جب اس پر تاریک ہوئی تو انہوں نے چاند، سورج اور ستارے کو دیکھا۔ بعض نے فرمایا : من قبل سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے پہلے۔ نبوت پر دانشمندی۔ پہلا قول اکثر مفسرین کا ہے۔ جس طرح یحییٰ کو فرمایا : و اتینہ الحکم صبیا۔ (مریم) قرطبی نے کہا : رشدہ سے مراد اس کی اصلاح ہے۔ و کنا بہ علمین۔ یعنی ہم جانتے تھے کہ وہ رشد کے عطا کرنے کے اہل تھے اور نبوت کی صلاحیت رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

1:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ہدایت دی اور (آیت) ” ما ھذہ التماثیل “ سے مراد ہے کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ؟۔ 2:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت دی۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ التی انتم لھا عکفون “ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو (آیت) ” قالوا وجدنا ابآءنا لھا عبدین “ یعنی ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کو پیروی کرتے ہیں اسی دین پر۔ 4:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَقَدْ اٰتَيْنَآ : اور بیشک ہم نے دی تھی ] [ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو ] [ رُشْدَهٗ : ان کی معاملہ فہمی ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَكُنَا : اور ہم تھے ] [ بِهٖ : اس کا ] [ عٰلِمِيْنَ : علم رکھنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–70

داعی توحید حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا، بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرمانا، ان کے بتوں کو توڑ دینا، اور اس کی وجہ سے آگ میں ڈالا جانا، اور سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آنا سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس علاقے میں پیدا ہوئے وہ بت پرستوں کا علاقہ تھا۔ خود ان کا باپ بھی بت پرست تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے مشرکین کے عقائد اور اعمال سے دور رکھا تھا۔ وہاں کوئی موحد نہیں تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید سکھاتا اور شرک کی گمراہی پر متنبہ کرتا۔ لیکن سب سے بڑا معلم اللہ جل شانہ ہے۔ وہ جسے صحیح راہ بتائے، حق سمجھائے راشد و ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–73

(2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا ابراہیم رشدۃ .... الیٰ .... وکانوا لنا عبدین۔ یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جو اہل عرب اور اہل کتاب کے مسلم بزرگ ہیں اور ابتداء عمر سے توحید کے دلدادہ اور شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ابراہیم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے پہلے یا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے خاص ہدایت اور خاص صلاحیت عطا کی تھی۔ جو ان کی شان کے لائق تھے اور ہم ان کی ہدایت اور صلاحیت سے واقف اور باخبر تھے ہم ہی نے ان کو مکارم اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ دلیل عقلی تفصیلی دوم از حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ ابراہیم علیہالسلام کو راہ ہدایت ہم ہی نے دکھائی۔ ” وَکُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَ “ اور ہم ہی اس کو جانتے تھے۔ یعنی دیکھو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جد الانبیاء ہیں وہ بھی اپنے باپ اور اپنی قوم کو غیر اللہ کی پکار اور عبادت سے روکتے رہے۔ ” مِنْ قَبْلُ “ یہ ظرف مبنی علی الضم ہے اس کا مضاف الیہ محذوف منوی ہے ای من قبل النبوۃ (بحر ج 6 ص 320) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–57

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر کیا اور خاص طور پر رسالت کا بیان ہوا ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اور اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) اور بعض دیگر انبیائے کرام کا بیان ہوگا۔ انبیاء کے اس تذکرے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم ان کو دعوت ، طریقہ تبلیغ ، اللہ کے حضور ان کی مناجات اور ان کے ساتھ نافرمانوں کے سلوک کو بیان کیا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا ذریعہ بن سکے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰہِيْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِہٖ عٰلِمِيْنَ۝ 51ۚ رشد الرَّشَدُ والرُّشْدُ : خلاف الغيّ ، يستعمل استعمال الهداية، يقال : رَشَدَ يَرْشُدُ ، ورَشِدَ «5» يَرْشَدُ قال : لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [ البقرة/ 186] ( ر ش د ) الرشد والرشد یہ غیٌ کی ضد ہے اور ہدایت کے معنی استعمال ہوتا ہے اور یہ باب نصرعلم دونوں سے آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [ البقرة/ 186] تاکہ وہ سیدھے رستے پر لگ جائیں ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–67

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ ٰ اتَیْنَـآ اِبْرٰھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 51) (اور اس سے پہلے ہم نے حضرت ابراہیم کو ان کی دانائی عطا فرمائی تھی اور ہم ان سے خوب باخبر تھے۔ ) حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ گزشتہ سورت میں چونکہ تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے اس لیے اس کے مختصر ذکر پر اکتفا فرمایا۔ البتہ ! یہ بات واضح کردی کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کی طرح قوم کی اصلاح کے لیے تشریف لائے تھے اور ان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب نازل کی تھی جو اپنی صفات کے اعتبار سے فرقان، ضیاء اور ذکر کہلانے کی مستحق تھی۔ لیکن اس سے فائدہ اٹھانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے خلیل اور عظیم پیغمبر ہیں۔ جن کا تذکرہ یوں شروع کیا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا اور ہم ابراہیم کو جاننے والے ہیں۔ یہ مسلّمہ حقیقت اور ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کو جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے ان کی ابتدا ہی سے خصوصی رہنمائی فرمائی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا اور ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کی قوم : 51: وَلَقَد اٰتَیْنَـآ اِبْرٰھِیْمَ رُشْدَہٗ ( ہم نے ابراہیم کو راستی فہم عطاء کی تھی) رشد و راہنمائی و ہدایت مِنْ قَبْلُ (ان سے پہلے) موسیٰ و ہارون سے نمبر 2۔ محمد ﷺ سے پہلے وَکُنَّا بِہٖ (اور ہم ان سے) ابراہیم یا اس کی رشد سے عٰلِمِیْنَ (خوب جاننے والے تھے) یعنی ہم نے جو کچھ دیا یہ جان کردیا کہ وہ اس کے اہل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51۔ ولقد اتینا ابراہیم رشدہ، قرطبی نے اس کا معنی اصلاح سے کیا ہے۔ من قبل، موسیٰ و ہارون سے پہلے۔ بعض اہل تفسیر نے من قبل کی تشریح کی ہے ۔ بالغ ہونے سے پہلے جب کہ حضرت ابراہیم بچہ ہی تھے اور غار سے باہر آئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ابراہیم کو نبوت عطا کردی تھی، اسی طرح حضرت یحییٰ کے متعلق فرمایا ، وآتیناہ الحکم صبیا، ، وکنا بہ عالمین۔ ہم جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ہدایت اور نبوت کے اہل ہیںَ

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

51۔ 56:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش نمرود بن کنعان عراق کے بادشاہ کے زمانہ میں ہوئی ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے قائل کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر انہیں یوں قائل کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بچپنے ہی میں بت پرستی سے بیزار تھے پھر یہ مکہ کے بت پرست اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر کیوں کر کہہ سکتے ہیں ‘ نمردو اور اس کے ساتھی ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی نیت سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں بنار کھی تھیں جن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–73

آیت 51-73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰٓ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (ولقد اتینا ابرھیم رشدہ من قبل) یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمدٓ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انہیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰٓ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 51–54

71 رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیم کا خاص مرتبہ و مقام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو بھی ان کی شان کے لائق رشد و ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جانتے تھے کہ وہ کن کن صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مالک ہیں اور کیا کیا مکارم و محاسن ان کے وجود باجود کے اندر مخفی و مستور ہیں۔ اور وہ ہماری کن کن عنایتوں اور نوازشوں کے اہل اور مستحق ہیں۔ کیونکہ خالق سے مخلوق کی کوئی بھی حالت و کیفیت مخفی و مستور نہیں رہ سکتی ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم کو ہدایت و معرفت کے اس خاص درجہ و مرتبہ سے نوازا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–73

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات اور لوگوں کا رد عمل تشریح : جیسا کہ سیدنا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا اسی طرح اب آگے کچھ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختصراً بیان کیا جائے گا۔ اصل میں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انبیاء کی سیرت اور اللہ کے راستے میں آنے والے مصائب اور تکالیف پوری طرح واضح کردیے جائیں اور ان مقاصد سے آگاہ کردیا جائے۔ مقاصد یہ ہیں۔ پہلا : یہ کہ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے اور یہ سلسلہ انسانیت کی ابتدا کے ساتھ ہی شروع کردیا گیا تھا۔ دوسرا : یہ کہ تمام انبیاء اسی تعلیم اور اسی مشن کے لیے بھیجے گئے ہیں جس کے لیے سیدنا محمد ﷺ بھیجے گئے تھے۔ تیسرا : یہ کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–75

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کس قدر واضح دلائل کے باوجود کفار انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں اس لیے کہ کفر ان کے قلوب سے ایمان قبول کرنے کی استطاعت ختم کردیتا ہے اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں دیکھیے کہ ہم نے بہت پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکی اور بھلائی کی سمجھ ان کی شان کے مطابق عطا کی اور ان کے کمالات علمی اور عملی کے ہم خود گواہ ہیں اور کفار کو انہوں نے بہت دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی ، جب انہوں نے خود اپنے باپ اور قوم کو بتوں کی عبادت میں گرفتار دیکھا تو فرمایا کہ عجیب بات ہے کہ اتنی بہادر قوم ایک بہت بڑی اور طاقتور سلطنت کی مالک پتھر کی مورتوں کے سامنے سرنگوں ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یعنی حضرت موسیٰ اور ارون (علیہما السلام) کو کتاب دینے سے پہلے یا سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے (جامع البیان) یہاں ” رشد “ سے خاص قسم کا رشد مراد ہے جو حجرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے شایان شان تھا۔ اس سے بعض نے نبوت بھی مراد لی ہے مگر اپنے عموم کے اعتبار سے یہ لفظ ہر قسم کے رش و ہدایت کو شامل ہے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:51) رشدہ۔ مضاف مضاف الیہ رشد کے معنی ہیں ہدایت۔ دانائی۔ صلاحیت۔ راہ یابی۔ بھلائی۔ راستی۔ ہوشیاری۔ حسن تدبیر۔ رشد یرشد کا مصدر ہے۔ یہاں مراد دانائی فہم و فراست ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ابراہیم ہے یا اس کا مرجع رشد بھی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–70

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 70 رشد ٹھیک سمجھ، عقل سلیم۔ تماثیل (تمثال) جانداروں کی شکل، موتریاں۔ عاکفون جم کر بیٹھنے والے۔ وجدنا ہم نے پایا۔ لاعبین ہنسی دل لگی کرنے والے۔ تاللہ اللہ کی قسم۔ لاکیدن میں ضرور تدبیر کروں گا۔ اصنام (صنم) بت۔ مدبرین پلٹنے والے۔ پیٹھ پھیرنے والے۔ جذاذ (جذیذ) ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ سمعنا ہم نے سنا۔ اعین الناس لوگوں کی آنکھوں کے سامنے۔ ینطقون وہ بات چیت کرتے ہیں۔ نکسوا اوندھے کردیئے گئے۔ حرقوا جلا ڈال۔ کونی ہوجا۔ برداو سلاماً سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہوجانا۔ کید فریب، دھوکہ، تدبیر۔ اخسرین زیادہ نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 70 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–56

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور توحید کا ذکر۔ (ف 1) مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان فرمایا کہ انہیں ان آیتوں میں یوں قائل کیا کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم کو نیک راہ کی توفیق دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی تھی کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی آگے ابراہیم کے نیک راہ پر ہونے کی تفصیل یہاں فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–55

[31] مراد کتاب تورات ہے جو فرقان یعنی حق و باطل کا فرق دکھانے والی، جہل غفلت کے اندھیاروں میں روشنی پہنچانے والی اور '' ذکر '' یعنی نصیحت نامہ تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–51

(ف 2) اہل کتاب سے خطاب ہے ، کہ جب قرآن بھی صحف سابقہ کی طرح اللہ کی کتاب ہے اور اس میں نصیحت و برکت کا سامان وافر موجود ہے ، تو پھر یہ محرومی کیوں ہے کہ تم اس کو نہیں مانتے کیا اسی وجہ سے کہ دلوں میں ایمان کی روشنی باقی نہیں رہی ، اور خوف خدا کا خیال اٹھ گیا ہے ۔ حل لغات : رشدہ : پیغمبرانہ فراست ۔ التماثیل : جمع تمثال ، مورتیاں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت عطا کرنے سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی شان کے مناسب ان کی صحیح ہدایت اور نیک راہ عطا فرمائی تھی اور ہم ان کی اہلیت اور صلاحیت کو جاننے والے تھے۔ یعنی موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے زمانے سے پہلے ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نیک راہ یعنی نبوت عطا کرچکے ہیں اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے نبوت و رسالت کی صلاحیت اور اہلیت کو خوب جانتے تھے اور ہم اس کی صلاحیت سے خوب واقف تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی ان کے کمالات علمیہ و عملیہ کو۔ 2۔ یعنی وہ بڑے کامل تھے بالقوة و استعداد قبل عطائے شد یا بالفعل بعد عطائے رشد۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کو رشد وہدایت عطا کئے جانے کا بیان اور انجام : 51۔ (رشد) ہدایت ‘ صلاحیت ‘ ارادہ یابی ‘ بھلائی ‘ راستی ‘ ہوشیاری اور حسن تدبیر کو کہتے ہیں ۔ ” رشد “ اور ” رشد “ میں فرق یہ ہے کہ ” رشد “ امور دینیہ اور امور دنیویہ دونوں میں استعمال ہوتا ہے اور ” رشد “ صرف امور دینیہ اور اخرویہ میں بولا جاتا ہے اور راشد اور رشید دونوں کے لئے آتا ۔ زیر نظر آیت میں (رشدہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو امور دینویہ اور امور اخرویہ دونوں میں راستی ‘ نیکی ‘ بھلائی اور راہ یابی عطا کی گئی تھی۔ اور اسلام میں اس کی طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے (آیت) ” ربنا اتنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–56

Commentary الْفُرْ‌قَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرً‌ا لِّلْمُتَّقِينَ (Criterion and light and an advice for the God-fearing - 21:48) The three attributes which belong to Torah are فُرْ‌قَانَ (criterion) which differentiates between right and wrong second is 4 ' (light) which provides light and manifestation of truth to hearts, and the third is ذِکر (advice) which is a source of guidance for the people. Some explain فُرْ‌قَانَ as help from God which was available to Sayyidna Musa (علیہ السلام) all times. It was manifest when he was raised in the Pharaoh's house, then at the time of his contest with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53. The Arabic word rushd is very comprehensive and means righteousness as well. We had blessed Abraham with discretion: The discretion he showed in discriminating between the right and the wrong etc. was not of his own acquirement but had been bestowed on him by Us. We knew him well: We knew that he was worthy of Prophethood, therefore We appointed him as such. According to (Surah Al-Anaam, Ayat 124): Allah knows best whom to entrust with His Mission. It contains a subtle answer to the objection raised by the chiefs of the Quraish: Why has Allah appointed this man, the Prophet (peace be upon…

Read the full tafseer →