جلدباز انسان
ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بےادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت (ان کاد لیضلناعن الہتنا)۔ یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنا شروع کیا…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 39
یعنی برائی کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ فقرہ ان کے مذاق کا مضمون نہیں بتارہا ہے، بلکہ مذاق اڑانے کی وجہ اور بنیاد پر روشنی ڈال رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فقرہ بجائے خود کوئی مذاق کا فقرہ نہیں ہے۔ مذاق تو وہ دوسرے ہی الفاظ میں اڑاتے ہوں گے اور کچھ اور ہی طرح کے آوازے کستے اور فقرے چست کرتے ہوں گے۔ البتہ یہ سارا دل کا بخار جس وجہ سے نکالا جاتا تھا وہ یہ تھی کہ آپ ان کے خود ساختہ معبودوں کی خدائی کا رد کرتے تھے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 40
یعنی بتوں اور بناوٹی خداؤں کی مخالفت تو انہیں اس قدر ناگوار ہے کہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تمہاری تضحیک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
موت کیا چیز ہے
پھر ارشاد فرمایا كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ، یعنی ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ یہاں مراد ہر نفس سے نفوس ارضیہ یعنی زمینی جاندار ہیں۔ ان سب کو موت آنا لازمی ہے نفوس ملائکہ اس میں داخل نہیں، اس میں اختلاف ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو بھی موت آئے گی یا نہیں ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ ایک لحظہ کے لئے تو سب پر موت طاری ہوجاوے گی خواہ انسان اور نفوس ارضیہ ہوں یا فرشتے اور نفوس سماویہ، بعض حضرات نے فرمایا کہ فرشتے اور جنت کے حور و غلمان موت سے مستثنیٰ ہیں۔ واللہ اعلم (روح المعانی) اور موت کی حقیقت جمہور علماء کے نزدیک روح کا جسد عنصری سے نکل جانا ہے اور روح خود ایک جسم…
Read the full tafseer →مٹی کی موروں کے لئے غیرت مند اور خدائے رحمان کے لئے بےغیرت
آنحضرت ﷺ کا جس انداز اور جس لب و لہجہ میں وہ مذاق اڑاتے، یہ اس کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ توحید اور قیامت کے یہ منکرین جہاں کہیں تمہیں دیکھ پاتے ہیں تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور بڑی تحقیر کے انداز میں کہتے ہیں کہ اچھا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ ذکر کرتا ہے، یعنی برائی کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ یذکر الھتکم کے بعد بالسوء کا لفظ بربنائے غیرت و حمیت وہ حذف کردیتے۔ گویا اپنے بتوں کے لئے برائی کا لفظ اپنی زبان پر لانا انہیں بطور نقل کفر بھی گوارا نہیں۔ یذکر الھتکم میں ضمیر خطاب اپنے عوام کو بھڑکانے کے لئے ہے۔ یوں نہیں کہتے تھے کہ ہمارے…
Read the full tafseer →36۔ 1 اس کے باوجود یہ رسول اللہ ﷺ کا ہنسی و مذاق اڑاتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا) 25۔ الفرقان :41)
جب اے پیغمبر ! یہ کفار مکہ تجھے دیکھتے ہیں تو تیرا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟
Read the full tafseer →19: یعنی آنحضرت ﷺ تو بتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی خدائی کی کوئی حقیقت نہیں، اس پر یہ لوگ عیب لگاتے ہیں کہ آپ ہمارے خداؤں کا برائی سے ذکر کر رہے ہیں، لیکن ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کا نام ”رحمن“ ذکر کرتے ہیں تو یہ اس کا انکار کرتے ہیں کہ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ دیکھئے سورة فرقان : 60
Read the full tafseer →درس نمبر 141 ایک نظر میں
اس سے قبل کے سبق میں ہم نے دور تک اس کائنات کا سفر کیا۔ اس کائنات میں قوانین قدرت کا مطالعہ کیا ‘ انسانیت کا انجام تاریخی واقعات کی روشنی میں دیکھا۔ اس سبق میں روئے سخن اسی مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے جس کا سورة کے آغاز میں ہم نے مطالعہ کرلیا ہے کہ مشرکین نے حضور ﷺ کا اور آپ پر آنے والی وحی کا استقبال مذاق سے کیا اور شرک پر اصرار کرتے رہے۔
اس کے بعد اس سبق میں انسان کی فطرت کی عجلت پسندی اور سیہاہیت کا ذکر ہوا ہے یہاں تک کہ یہ لوگ عذابالہٰی لے آنے میں بھی بہت جلدی کرتے ہیں۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام…
Read the full tafseer →3 یعنی انجام سے بالکل بےفکر ہو کر یہ لوگ پیغمبر ﷺ کی ہنسی اڑاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ چناچہ استہزاء و تحقیر سے کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ ) 21 ۔ الانبیآء :36) کیا یہ ہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا برائی سے ذکر کرتا ہے۔ انھیں شرم نہیں آتی کہ خود حقیقی معبود کے ذکر اور " رحمن " کے نام تک سے چڑتے ہیں، اس کی سچی کتاب کے منکرین، اور جھوٹے معبودوں کی برائی سن کر چیں بجبیں ہوتے ہیں۔ اندریں صورت ہنسی کے قابل ان کی حالت ہوئی یا فریق مقابل کی ؟
Read the full tafseer →آیت 36 وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ”
یہ مشرکین مختلف انداز میں آپ ﷺ پر استہزائیہ فقرے کستے ہیں ‘ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر اس طرح آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے ہیں :
اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ ج ”
یعنی کہتا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اس طرح ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے !
وَہُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ”
انہیں تو اپنے معبودوں کا ذکر اچھا لگتا ہے۔ لات و عزیٰ کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →34 یعنی مشرکین مکہ کے نزدیک ان کے اپنے معبودوں کی شان نبی ﷺ کے مقابلہ میں بہت ارفع و اعلیٰ تھی۔ لہذا وہ آپ کو دیکھ کر از راہ مذاق و استہزا یوں کہتے کہ دیکھو یہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کی باتیں کرتا ہے (یعنی ان کے مقابلہ میں اس کی اوقات ہی کیا ہے ؟ ) حالانکہ آپ ان کے معبودوں کو نہ گالی دیتے تھے اور نہ برا بھلا کہتے تھے۔ اور کہتے تھے تو صرف یہ کہتے تھے کہ تمہارے یہ معبود تمہارا نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ اور اسے ہی وہ اپنے لئے سب سے بڑی گالی سمجھتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک آپ کے اس نظریہ سے ان کے معبودوں کی، ان کی اپنی اور ان کے آباؤ و اجداد کی سب کی توہین ہوجاتی تھی۔ اب…
Read the full tafseer →49۔ (آپس میں) کافروں کی اخلاقی پستی کا نقشہ ہے۔ آج بھی کتنے ہی بدنفس کافر ایسے موجود ہیں جو شریعت اسلامی کے احکام ومسائل کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ہی نہیں۔ سرین سے تمسخر ہی کرتے رہتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل اللہ کی بےقدری اس تشنیع کے عموم میں آجاتی ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
50۔ تو تمسخر و استہزاء کے مستحق اگر ہیں خود یہ لوگ ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت کو یوں ٹھکرائے ہوئے یوں بھلائے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” یذکر “۔ سے مراد ہے کہ برائی سے ذکر کرتے ہیں۔ اے بسوء وانما اطلقہ بدلالۃ الحال (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
آیت نمبر 30 تا 41
ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…
Read the full tafseer →ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون۔ اور ہم تم کو بری بھلی حالتوں سے اچھی طرح آزماتے
ہیں پھر اس زندگی کے بعد تم سب ہمارے پاس واپس چلے آؤ گے۔
نَبْلُوْکُمْیعنی ہم تمہارے ساتھ ویسا عمل کریں گے جیسا امتحان لینے والا کرتا ہے (اللہ کو سب کچھ معلوم ہے اس لئے اصل کیفیت دریافت کرنے اور واقف ہونے کے لئے وہ ہماری جانچ نہیں کرتا پس بلا یعنی امتحان کی نسبت اس کی طرف حقیقی بلکہ محض مجازی اور ظاہری ہے وہ بندوں کے ساتھ معاملہ ایسا کرتا ہے جیسا ممتحن ان لوگوں کے ساتھ کرتا ہو جن کا وہ امتحان لیتا ہے) ۔
بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِیعنی برائی ‘ بھلائی ‘ سختی ‘ نرمی ‘ صحت ‘ بیماری ‘ دولت ‘ افلاس اور ہر ناگوار و…
Read the full tafseer →(36) اور اے محمد ﷺ ابوجہل اور اس کے ساتھی جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے اپنی گفتگو میں مذاق کرنے لگتے ہیں اور آپس میں کہتے ہیں کیا یہی صاحب ہیں جو تمہارے بتوں کا برائی سے ذکر کرتے ہیں حالانکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کے ذکر پر انکار اور کفر کیا کرتے ہیں اور بدبخت کہا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کو نہیں جانتے مسیلمہ کذاب جانتا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”واذا ارک الذین کفروا“۔ (الخ)
اور ابن ابی حاتم ؒ نے سدی سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا ابوجہل اور ابوسفیان کے پاس سے گزر ہوا یہ دونوں آپس میں گفتگو کررہے تھے جب ابوجہل نے آپ کو دیکھا تو بدبخت ہنسا اور ابوسفیان سے کہا کہ یہ بنی عبد مناف کے نبی ہیں، یہ سن کر…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : ”هُـزُوًا“ مصدر بمعنی مفعول ہے، یعنی جسے مذاق کیا جائے۔ پچھلی آیت میں لوگوں کو خیر و شر کے ساتھ آزمانے کا ذکر فرمایا۔ بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑی خیر رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے اور آپ کی آمد لوگوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بھی ہے کہ کون نعمت کی قدر کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتا ہے اور کون ناشکری اور کفر کرتا ہے۔ اس آیت میں اس نعمت کے عطا ہونے پر ناشکری کرنے والے لوگوں یعنی کافروں کے رویے کا ذکر فرمایا کہ جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق ہی بناتے ہیں، سنجیدگی سے نہ کوئی بات سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔
اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ : یہ جملہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و از راک الذین کفروا ان یتخذونک الا ھزواً اس آیت میں ان نافیہ ہے۔ الھزء کا معنی مزاق کرنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ استہزاء کرنے والے وہی ہیں جن کا ذکر سورة الحجر میں انا کفینک المستھزء ین۔ (الحجر) کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ اس کو مبعوث سمجھتے تھے جو ان کے بتوں کے الہ ہونے کا انکار کرتا تھا اور خود رحمن کی الوہیت کا انکار کرتے تھے۔ یہ انتہائی جہالت ہے۔ اھذا الذی یعنی وہ کہتے ہیں : کیا یہ ہے وہ ؟ قول کو مضمر کیا گیا ہے اور وہ اذا کا جواب ہے۔ ان یتخذونک الا ھزواً ، اذا اور اس کے جواب کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
یذکر الھتکم یعنی برائی اور عیب کے ساتھ خداؤں کا ذکر کرتا ہے : عشرہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ابوسفیان اور ابو جہل کے پاس سے گذرے اور وہ دونوں آپس میں باتیں کررہے تھے جب ابوجہل نے آپ کو دیکھا تو ہنسنے لگا اور ابوسفیان سے کہا یہ نبی ہیں بنو عبد مناف سے ابوسفیان غصہ ہوا ور کہا تم بنی عبد مناف کا نبی ہونے کو ناپسند کرتے ہو نبی اکرم ﷺ نے اس کو سن لیا اور ابوجہل کی طرف متوجہ ہوئے تو اس پر خوف طاری ہوگیا اور فرمایا شاید تو اپنی بدزبانی سے نہیں رکے گا یہاں تک کہ تجھ کو وہ مصیبت پہنچے گی جو تیرے چچا کو پہنچی تھی اس نے ابوسفیان سے کہا تو نے یہ بات نہیں کہی مگر غیرت کی وجہ سے تو یہ (آیت) ” واذا راک الذین کفروا ان یتخذونک الا ھزوا “ نازل…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ رَاٰكَ : دیکھتے ہیں آپ کو ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ ان : تو نہیں ] [ يَّـتَّخِذُوْنَكَ : بناتے آپ ﷺ کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ هُـزُوًا : مذاق کا ذریعہ ] [ اَ : (پھر کہتے ہیں) کیا ] [ ھٰذَا : یہ ہے ] [ الَّذِي : وہ جو ] [ يَذْكُرُ : ذکر کرتا ہے (یعنی باتیں بناتا ہے)] [ اٰلِهَتَكُمْ : تمہارے خدائوں کا ] [ وَ : حالانکہ ] [ هُمْ : وہ خود ] [ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے ذکر کا ] [ هُمْ كٰفِرُوْنَ : ہی انکار کرنے والے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 40) بَلْ تَاْتِیْھِمْ میں تَاتِیْ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اس کی ضمیر فاعلی ھِیَ ہے جو…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا) (جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کی ذات کو تمسخر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں) اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ ) (کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے) یعنی تمہارے معبودوں کا انکار کرتا ہے اور ان کی عبادت پر اعتراض کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ یہ بےجان ہیں نفع اور ضرر کے مالک نہیں۔ وہ لوگ یہ بات آپ کی شان معظم کو گھٹانے کے لیے کہتے تھے اور ان کا مطلب یہ تھا کہ کوئی صاحب حیثیت دنیاوی جاہ و مرتبہ والا نہیں تھا جسے نبی بنایا جاتا ؟ کیا اس آدمی کو نبوت دی گئی ہے جو ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت
وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…
Read the full tafseer →25:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ جوحضور ﷺ کو دیکھ کر آپ سے استہزاء کرتے اور حقارت آمیز لہجہ میں کہتے تھے۔ یہ ہے وہ جو تمہارے معبودوں کی توہین اور بےادبی کرتا ہے ” وَ ھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ “ خدا کا پیغمبر تو ان کے جھوٹے معبودوں کو نہیں مانتا اور صاف اعلان کرتا ہے کہ وہ حاجت روا، مشکل کشا، غیب داں اور متصرف و کارساز نہیں مگر یہ ظالم تو خدائے رحمان کی توحید کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔
اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّـتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا ہُـزُوًا 0ۭ اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِہَتَكُمْ 0ۚ وَہُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ كٰفِرُوْنَ 36
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ترکیب : فتنۃ مفعول یا موضع حال میں اے فانتین یا مفعول مطلق ای نفتنکم بھا فتنہ الا ھزوا مفعول ثانی۔ من عجل موضع نصب میں خلق سے علی المجاز جیسا کہ خلق من طین۔ اور حال بھی ہوسکتا ہے ای عجلا و جواب لو محذوف وحین مفعول بہ ہے۔ بغتۃ مصدر موضع حال میں۔
تفسیر : آفتاب و ماہتاب اور دیگر داردنیا کے ارکان بیان فرما کر جن میں غور کرنے سے اس گھر کے بنانے والے کا وجود ثابت ہوتا تھا یہ بات بیان فرماتا ہے کہ کسی کو سدا اس گھر میں رہنا نہیں۔ اے محمد ﷺ ! تم سے پہلے کوئی ہمیشہ رہنے والا نہیں بنایا نہ تم کو ہمیشگی ہے اور نہ تمہارے بعد ہمیشہ یہ رہیں گے جو تمہارے مرنے کی آرزو کرتے ہیں۔ وما جعلنا الخ اس دنیا میں…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاٰ کَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّـتَّخِذُوْنَکَ اِلاَّ ھُزُوًا ط اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ ج وَھُمْ بِذِکْرِالرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 36)
(اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جب وہ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ ﷺ کو مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں کیا یہی ہے وہ جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے (برائی سے) اور حال یہ ہے کہ وہ رحمن کے ذکر کے بھی منکر ہیں۔ )
مخالفین کا شرافت سے گرا ہوا رویہ
آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے جواب میں مشرکینِ قریش جو رویہ اپنائے ہوئے تھے اس کا ذکر گزشتہ آیات سے جاری ہے۔ اسی کے تسلسل میں یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا موت سے بےپرواہ ہونے کی وجہ سے سرور دو عالم ﷺ کے ساتھ رویہّ ۔
انسان جب اپنی موت کو بھول جائے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے عقیدے کا انکار کردے تو نا صرف حق بات کو ٹھکرا تا ہے بلکہ وہ حق کی دعوت دینے والے کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ یہی حال سرور دو عالم ﷺ کے مخالفین کا تھا۔ وہ نا صرف نبی ﷺ کی ذات اور دعوت کا مذاق اڑاتے تھے بلکہ یہ الزام بھی لگاتے کہ یہ شخص ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے۔ حالانکہ ان کے اپنے اخلاق کی پستی کا یہ عالم تھا کہ وہ رب رحمن کا انکار کرتے تھے۔ یہودی اور عیسائی اللہ تعالیٰ کو ” اَلرَّحْمٰنُ “ کے نام سے بھی پکارا کرتے تھے۔ لیکن مکہ کے لوگ اللہ…
Read the full tafseer →قراءت : ابن ذکوان نے تَرجعون پڑھا ہے۔
36: وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا (اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو پس آپ کی ہنسی اڑاتے ہیں) اِلَّا ھُزُوًا انؔ نافیہ ہے اور ھزوًا یہ یتخذونک کا مفعول ثانی ہے۔
: آیت 36: یہ آیت ابو جہل کے متعلق اتری۔ اس کا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا تو ہنسنے لگا۔ اور کہنے لگا یہ نبی ہے بنی عبدالمناف کا اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ (کیا یہ ہے جو تمہارے معبودوں کا تذکرہ برائی سے کرتا ہے) یذکرؔ کا یہاں معنی عیب لگانا ہے۔
ٰالِھَتَکُمْ (تمہارے معبودوں کا) الذکر ؔ خیرو شر دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اور ذاکر سچا ہو تو ثناء و مدح…
Read the full tafseer →36۔ واذاراک الذین کفروا ان یتخذونک۔ وہ آپ کاٹھٹھا نہیں کرتے۔ ، الاھزوا، مگر مسخرہ کے طور پر، سدی کا قول ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی کہ یہ ایک مرتبہ نبی کریم کے پاس سے گزرا تو نبی کریم ﷺ پر ہنس پڑا اور کہا کہ یہ عبد مناف کا نبی ہے۔
” اھذا الذی، وہ بعض، بعض کے ساتھ کہنے لگے کہ یہ ہے وہی۔ یذکرآلھتکم، یعنی کیا یہ ہی وہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے۔ چونکہ دشمن کا ذکر برائی کے ساتھ ہوتا ہے اور دوست کا ذکر اچھائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسے کہاجاتا ہے ، فلانا یذکر فلانا، فلاں شخص اس آدمی کی برائی کررہا ہے ، وفلاں یذکراللہ، فلاں شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے یعنی اللہ کی اچھی صفات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
36۔ 41:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم 4 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں مشرکوں کے بتوں کی مذمت کی آیتیں جو نازل ہوتی تھیں اور آنحضرت ﷺ وہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سناتے تھے تو مشرک لوگ اپنے بتوں کی مذمت سن کر دل میں تو بہت چڑتے اور برا مانتے تھے اور ظاہر میں آنحضرت ﷺ کو مسخراپن میں اڑاتے تھے ‘ چلتے پھرتے جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کو دیکھتے تو ابوجہل وغیرہ آپس میں آنحضرت ﷺ کو چھیڑنے کو کہتے تھے ‘ کیا قریش کی ہدایت کو یہی نبی آئے ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو عذاب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
آیت 36-41
یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے ( اھذا الذی یذکر الھتکم) یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمہارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پیروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو ۔۔۔۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپ ﷺ کی تحقیر ہے جو آپ ﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ وہ اکمل افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص اللہ، غیر اللہ کی عبادت مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔
ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لئے ہے جن میں ہر قسم کے…
Read the full tafseer →46 اہل کفر و باطل کا کام اہل حق کا مذاق اڑانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ کفر و باطل والے آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کا کام مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا " اور اہل حق سے بغض وعناد اور ان کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ہے جو کہ کھلا ثبوت ہے ان کے عناد و ہٹ دھرمی کا۔ کہ بجائے اس کے کہ آپ کو دیکھ کر یہ لوگ خوشی و مسرت میں ڈوب جاتے اور آپ کی پیش فرمودہ تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنا کر، اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان کرتے۔ یہ الٹا آپ ﷺ کا مذاق اڑا کر اپنے کفر کی سیاہی اور بدبختی کو اور پکا کرتے اور اپنے لئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اور ان کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی خود ان کی حالت قابل استہزا ہے۔ یہاں ” ذکر الرحمٰن “ سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(21:36) واذا راک الذین کفروا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ الذین کفروا فعل رای کا فاعل جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ تم کو دیکھتے ہیں۔ ان یتخذونک الا ھزوا۔ ان نافیہ یتخذون مضارع جمع مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ھزوا بمعنی مھزوأ بہ (جس کا مذاق اڑایا جائے) مفعول ثانی یتخذون کا یہ جملہ اذا کے جواب میں ہے۔ نہیں سلوک کرتے تم سے مگر ایک مسخرے کا سا جس کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے یعنی جب آپ کو دیکھتے ہیں تو تمسخر کرنے لگتے ہیں۔
ا ھذا الذی یذکر الھتکم۔ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا (برائی سے) ذکر کرتا ہے۔ یہ جملہ یا تو معطوف ہے ان یتخذونک الا ھزوا جملہ پر یعنی جب یہ کافر لوگ تم کو دیکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 41
الخلد ہمیشہ زندہ رہنا۔ مت تو مر گیا۔ تیرا اتنقال ہوگیا۔ ضائقۃ چکھنے والا۔ فتنۃ آزمائش۔ ھزو مذاق۔ عجل جلد باز۔ لاتستعجلون تم جلدی نہ مچاؤ۔ لایکفون وہ نہ روک سکیں گے۔ بغتۃ اچانک۔ تبھت حیران۔ حاق گھیر لیا۔ آپڑا۔
تشریح :- آیت نمبر 34 تا 41
سورۃ الانبیاء کی یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ کی مخالفت اور دشمنی انتہاؤں تک پہنچ چکی تھی وہ ہر حال میں اس ابھرتی ہوئی تحریک کو اپنی سازشوں سے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ ان سے جو کچھ ممکن تھا انہوں نے اس میں کسر اٹھا نہ رکھی تھی ان لوگوں نے یہاں تک فیصلہ کرلیا کہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے تاکہ یہ مقصد اور مشن ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
حضور نبی کریم سے قریش کا تمسخر۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی نبی تشریف لے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا، اور کہنے لگا کیا قریش کی ہدایت کو یہ نبی آئے ہیں کیا یہی نبی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تسکین فرمائی اور فرمایا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں مہیا کیا گیا ہے اگر اس کو یہ لوگ جان لیں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جائیں اور یہ بھی فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مر گئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جائیں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا جب مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →[25] یعنی تمسخر و استہزاء کے مستحق اگر ہیں تو یہ لوگ ہیں جو خود حقیقی معبود کے ذکر اور '' رحمن '' کے نام تک سے
چڑتے ہیں اور جھوٹے معبودوں کی برائی سن کر چیں بجیں ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابتداء میں کس حقارت سے اسلام کو اور حضور ﷺ کو دیکھتے تھے اور کس بےخوفی سے آوازے کستے تھے ، کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ ہے جو تمہارے بتوں کی مذمت کرتا ہے ، مگر ایک وقت آپہنچا جب کہ ان کو حضور ﷺ کی عظمت کا سچا احساس ہوا ، اور انہیں معلوم ہوگیا کہ جس کو ہم حقارت سے دیکھتے تھے ، وہ کائنات میں سب سے بڑا انسان ہے ۔
Read the full tafseer →-36 اور یہ منکر جب کہیں آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ آپ کا مذاق بنائیں او آپ سے ٹھٹا کرنا شرع کردیں اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو برائی کے ساتھ یاد کرتا ہے اور تمہارے ٹھاکروں کا نام لیتا ہے حالانکہ ان کافروں کا حال یہ ہے کہ یہ رحمان کے نام سے انکار کرتے ہیں اور رحمان کے منکر ہیں۔
یعنی ان بدنصیبوں کی حالت یہ ہے کہ خود تو رحمٰن جل مجدہ کے منکر ہیں اور پیغمبر ﷺ کا محض اس بنا پر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹھاکروں اور معبودوں کا تحقیر کے ساتھ کیوں نام لیتے ہیں اور ان کی برائی کیوں کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 8۔ مطلب یہ کہ زندگی اس لئے دے رکھی ہے کہ دیکھیں کیسے کیسے عمل کرتے ہو۔
Read the full tafseer →اسلام اور ربانی اسلام کو ہنسی مذاق بنانے کا مطلب اور نتیجہ ؟ :
36۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو ہنسی اور مذاق کیوں اور کیسے ؟ جب کوئی شخص کسی قوم کے رسم و رواج کے خلاف تقریر کرتا ہے یا عمل تو قوم کبھی اس کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی یہی حال سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پیش آیا اور اسی نے ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ کو پریشان اور یہی حالت آج اللہ کے ان بندوں کو پیش آتی ہے جو قوم کے اختراعی عقیدوں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنہوں نے انکار حق کی راہ اختیار کی ہے تو انہیں اور تو کچھ سوجھتا نہیں بس تجھے اپنی ہنسی ٹھٹھے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
What is death?
Allah has said كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ 'Every soul has to taste death'. Here the word soul refers to the living things of the earth, who must all face death, but does not include the angels. There is a difference of opinion about whether the angels will also die or not on the Day of Judgment. Some say that every living thing will die, though momentarily, irrespective of whether they are of the earth or the skies. But others maintain that angels and hurs and ghilman of Paradise are excluded from this general rule. (Only God knows best) (Ruh ul-Ma` ani) Majority of the…
Read the full tafseer →39. It should be noted that this sentence contains only the reason why they scoffed at him, but does not refer to the expression of scoff itself. Obviously, the disbelievers must have been using some other words or expressions of derision to avenge themselves on the Prophet (peace be upon him) for his rejecting their self-made deities.
40. This is to rebuke the disbelieves as if to say: You cherish so much love of your self-made idols and false gods that you cannot tolerate anything against them. So much so, that you scoff at the Messenger of Allah, and you are not ashamed when you hear the…
Read the full tafseer →