Explained with ayahs 34–35
خضر ؑ مرچکے ہیں
جتنے لوگ ہوئے سب کو ہی موت ایک روز ختم کرنے والی ہے۔ تمام روئے زمین کے لوگ موت سے ملنے والے ہیں۔ ہاں رب کی جلال و اکرام والی ذات ہی ہمیشہ اور لازوال ہے۔ اسی آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ حضرت خضر ؑ مرگئے۔ یہ غلط ہے کہ وہ اب تک زندہ ہوں کیونکہ وہ بھی انسان ہی تھے ولی ہوں یا نبی ہوں یا رسول ہوں تھے تو انسان ہی۔ ان کفار کی یہ آرزو کتنی ناپاک ہے کہ تم مرجاؤ ؟ تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ ایسا تو محض ناممکن دنیا میں تو چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ کسی کو بجز ذات باری کے دوام نہیں۔ کوئی آگے ہے کوئی پیچھے۔ پھر فرمایا موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا پڑے گا۔ حضرت امام شافعی ؒ فرمایا کرتے تھے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 37
مختصر جواب ہے ان ساری دھمکیوں اور بد دعاؤں اور کو سنوں اور قتل کی سازشوں کا جن سے ہر وقت نبی ﷺ کی تواضع کی جاتی تھی۔ ایک طرف اکابر قریش تھے جو آئے دن آپ کو اس تبلیغ کے خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے، اور ان میں سے بعض پرجوش مخالفین بیٹھ بیٹھ کر یہ تک سوچا کرتے تھے کہ کسی طرح آپ کا کام تمام کردیں۔ دوسری طرف ہر وہ گھر جس کا کوئی فرد اسلام قبول کرلیتا تھا، آپ کا دشمن بن جاتا تھا۔ اس کی عورتیں آپ کو کلپ کلپ کر کو سنے اور بد دعائیں دیتی تھیں اور اس کے مرد آپ کو ڈراوے دیتے پھرتے تھے۔ خصوصاً ہجرت حبشہ کے بعد تو مکہ بھر کے گھروں میں کہرام مچ گیا تھا، کیونکہ مشکل ہی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
موت کیا چیز ہے
پھر ارشاد فرمایا كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ، یعنی ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ یہاں مراد ہر نفس سے نفوس ارضیہ یعنی زمینی جاندار ہیں۔ ان سب کو موت آنا لازمی ہے نفوس ملائکہ اس میں داخل نہیں، اس میں اختلاف ہے کہ قیامت کے روز فرشتوں کو بھی موت آئے گی یا نہیں ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ ایک لحظہ کے لئے تو سب پر موت طاری ہوجاوے گی خواہ انسان اور نفوس ارضیہ ہوں یا فرشتے اور نفوس سماویہ، بعض حضرات نے فرمایا کہ فرشتے اور جنت کے حور و غلمان موت سے مستثنیٰ ہیں۔ واللہ اعلم (روح المعانی) اور موت کی حقیقت جمہور علماء کے نزدیک روح کا جسد عنصری سے نکل جانا ہے اور روح خود ایک جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آگے کا مضمون ……آیات 47-34
پیچھے آیت 8 پر ایک نظر ڈال لیجیے بات یہاں سے چلی تھی کہ مخالفین اس بنیاد پر آنحضرت ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے کہ آپ رسول کس طرح ہو سکتے ہیں جب کہ آپ بھی اسی طرح کے ایک بشر ہیں جس طرح کے عام بشر ہتے ہیں اور مال و جاہ کے اعتبار سے بھی آپ کو کوئی امتیاز حاصل نہیں پھر وہ یہ کہتے کہ اگر ہم سے اپنی رسالت تسلیم کرانی ہے تو آپ کوئی ایسی نشانی دکھائیں جو یہ ثابت کر دے کہ فی الواقع آپ کی بات سچی ہے اوپر کی آیات میں نشانیوں کے مطالبہ کا جاب دیا۔ اب آگ کی آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ تم ان لوگوں کے استہزا کی پروا نہ کرو۔ اب وقت آ رہا ہے کہ یہ تمہاری ہر بات کی صداقت اپنی…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی کبھی مصائب و رنج و غم سے دو چار کرکے اور کبھی دنیا کے وسائل فراواں سے بہرور کر کے۔ کبھی صحت و فراخی کے ذریعے سے اور کبھی تنگی و بیماری کے ذریعے سے، کبھی تونگری دیکر اور کبھی فقرو فاقہ میں مبتلا کر کے ہم آزماتے ہیں۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ شکر گزاری کون کرتا ہے اور ناشکری کون ؟ صبر کون کرتا ہے اور ناصبری کون ؟ شکر اور صبر، یہ رضائے الٰہی کا اور کفران نعمت اور ناصبری غضب الٰہی کا موجب ہے۔
35۔ 2 وہاں تمہارے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دیں گے۔ اول الذکر لوگوں کے لئے بھلائی اور دوسروں کے لئے برائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
18: سورة طور : 30 میں مذکور ہے کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے انتقال کے موقع پر وہ خوشی منائیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اول تو موت ہر شخص کو آنی ہے، اور کیا خود یہ خوشی منانے والے موت سے بچ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
وما جعلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والینا ترجعون ”
کل نفس ذائقۃ الموت (12 : 53) ” ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے “۔ یہ قانون قدرت اس کرئہ ارض پر حیات پر لاگو ہی اور اس قاعدے میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ لہٰذا تمام زندوں کو ‘ تمام عقلمند زندوں کو اس مذاق کا خیال رکھنا چاہیے۔
موت ہر زندہ چیزکا انجام ہے۔ زمین میں انسان کا ایک مختصر سفر ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہاں سفر کے دوران انسان کو جو حالات پیش آتے ہیں یہ تو اس کے لیے آزمائش ہے ‘ ایک امتحان ہے۔
ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ (12 : 53) ” اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں “۔ شر میں مبتلا کر کے آزمائش سمجھ میں آتی ہے کہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
14 یعنی جس طرح مذکورہ بالا مخلوقات کا وجود حق تعالیٰ کی ایجاد سے ہوا۔ تمام انسانوں کی زندگی بھی اسی کی عطا کردہ ہے جس وقت چاہے گا چھین لے گا۔ موت ہر ایک پر ثابت کر دے گی کہ تمہاری ہستی تمہارے قبضہ میں نہیں۔ چند روز کی چہل پہل تھی جو ختم ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " کافر حضور کی باتیں سن کر کہتے تھے کہ یہ ساری دھوم محض اس شخص کے دم تک ہے یہ دنیا سے رخصت ہوئے پھر کچھ نہیں " اس سے اگر ان کی غرض یہ تھی کہ موت آنا نبوت کے منافی ہے تو اس کا جواب دیا۔ (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ) 21 ۔ الانبیآء :34) یعنی انبیاء ومرسلین میں سے کون ایسا ہے جس پر کبھی موت طاری نہ ہو ہمیشہ…
Read the full tafseer →وَنَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ط ”
اس دنیا میں تمہاری آزمائش کے لیے تم لوگوں کو ہم مختلف قسم کی کیفیات سے دو چار کرتے رہتے ہیں۔ خیر و شر اور خوشی و غم کے بارے میں تم لوگوں کے اپنے پیمانے اور اپنے معیار ات ہیں اور اسی مناسبت سے ان کیفیات کے بارے میں تمہارے منفی یا مثبت تاثرات ہوتے ہیں ‘ مگر ضروری نہیں کہ حقیقت بھی تمہارے ہی تاثرات کے مطابق ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ جسے شر سمجھتے ہو وہ حقیقت میں خیر ہو اور جو چیز تمہارے نقطہ نظر سے خیر ہے وہ اصل میں شر ہو۔۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا : وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا…
Read the full tafseer →33 فتنہ سے مراد ایسی آزمائش ہے جس کا انسان کو پتہ بھی نہ چلے اور وہ اندر ہی اندر اپنا کام کئے جارہی ہو۔ جیسے مال اور اولاد اور دوسری مرغوبات کی محبت انسان کے لئے فتنہ ثابت ہوتی ہے۔ اس آیت میں خیر سے مراد مالی دولت کی فراوانی اور خوشحالی کا زمانہ ہے اور شر سے مراد تنگ دستی اور بدحالی کا دور۔ اور اللہ تعالیٰ ہر حال میں ہی انسان کی آزمائش کرتا رہتا ہے۔ ایک مومن تو خوشحالی کے اوقات میں اللہ کا شکر ادا کرکے اور تنگ دستی کے دور میں مصائب پر صبر کرکے اس آزمائش میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دنیوی اور اخروی انعامات کا مستحق بن جاتا ہے۔ لیکن ایک دنیا دار پر جب مال و دولت کی فراوانی اور…
Read the full tafseer →48۔ یہاں انسان کے لئے تین قانون بیان کردیئے۔ (1) ایک یہ کہ ہر ذی حیات کے لئے موت لازمی ہے، خواہ جلد خواہ طویل ترین مدت کے بعد۔ (2) انسان جب تک زندہ رہے گا اس کا امتحان برابر ہوتا رہے گا۔ کہ کن کن حالات میں وہ ایمان وطاعت کی طرف مائل رہتا ہے اور کن کن حالات میں کفر ومعصیت کی طرف جھک جاتا ہے۔ (آیت) ” بالشر والخیر “۔ شر سے مراد انسان کے مخالف طبع حالات ہیں۔ حالات ہیں، مرض، افلاس وغیرہ۔ خیر سے مراد انسان کے موافق طبع حالات ہیں، صحت، خوشحالی وغیرہ۔ اے بالمکروہ والمحبوب و تفسیر الشر والخیر مما ذکر مروی عن ابن زید وروی عن ابن عباس انھا الشدۃ والرخاء وقال الضحاک الفقر والمرض والغنی والصحۃ والتعمیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
آیت نمبر 30 تا 41
ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…
Read the full tafseer →کل نفس ذآئقۃ الموت ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا۔
خلد دنیا میں ہمیشہ رہنا۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب کافروں نے کہا تھا ہم تو اس وقت کے منتظر ہیں جب محمد ﷺ پر موت کا چکر پڑے (اور وہ مرجائیں) مطلب یہ ہے کہ آپ ہمیشہ رہنے والے نہیں یہ بات طے شدہ ہے پھر آپ کے بعد کیا یہ لوگ ہمیشہ یہاں رہنے والے ہیں۔ (ایسا ہرگز نہ ہوگا) ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے بدن سے روح کے جدا ہونے کی تلخی سب کو چکھنی ہے۔
Read the full tafseer →(35) یہ آیت مبارکہ کفار کے جواب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ بدبخت آپ کے انقتال فرما جانے کے منتظر تھے اور اس کی خوشیاں مناتے تھے، موت تو ایسی چیز ہے کہ تم میں سے ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا اور ہم تمہیں سختی اور فراخی سے آزماتے ہیں، یہ دونوں باتیں اللہ کی طرف سے آزمایش ہیں اور مرنے کے بعد پھر تم سب ہماری طرف چلے آؤ گے اور ہم تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
Read the full tafseer →كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ : ”ذَاۗىِٕقَةُ“ ”ذَاقَ یَذُوْقُ“ (ن) سے اسم فاعل ہے، یعنی چکھنے والی۔ اس میں تمام بت پرستوں کی تردید ہے جو اپنے دیوی دیوتاؤں کے ہمیشہ زندہ رہنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اسی طرح ان قبر پرستوں کا بھی جو اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے لیے موت کا لفظ گالی سمجھتے ہیں۔ چناچہ جب بھی رسول کریم ﷺ یا کسی بزرگ کے بارے میں موت یا فوت کا لفظ آئے وہ اس کے بجائے انتقال (جگہ بدلنے) کا لفظ استعمال کریں گے، یا کہیں گے وہ پردے میں ہوگئے ہیں یا پردہ فرما گئے ہیں۔ اللہ کے بندے یہ نہیں سوچتے کہ موت تو مومن کا تحفہ ہے، جس کے بغیر اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد دنیا میں ہمیشہ باقی رہنا۔ کفار نے کہا : ہم محمد ﷺ پر گردش زمانہ کا انتظار کرتے ہیں۔ مشرکین آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : یہ شاعر ہے ہم ان پر گردش زمانہ (موت) کا انتظار کرتے ہیں شاید یہ فوت ہوجائے گا جیسا کہ بنی فلاں کا شاعر فوت ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ سے پہلے انبیاء کا وصال ہوا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خود حفاظ کرتا ہے اسی طرح ہم آپ کے دین اور شریعت کی حفاظ کریں گے۔ افائن مت فھم الخلدون۔ اھم یعنی کیا وہ ہمیشہ رہیں گے : شاعر نے کہا :
رفونی و قالوا یا خولد لا ترع فقلت و أنکرت الوجوہ ھم ھم
یعنی أھم۔ یہ استفہام…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم اللالکائی نے سنہ میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ “ کے بارے میں روایت ک، یا کہ ہم تم کو آزمائیں گے تنگدستی اور خوشحالی سے صحت سے اور بیماری سے مالداری سے اور غربت سے حلال سے اور حرام سے اطاعت سے اور معصیت سے ہدایت سے اور گمراہی سے (واللہ اعلم )
Read the full tafseer →[ كُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ : موت کو چکھنے والی ہے ] [ وَنَبْلُوْكُمْ : اور ہم آزماتے ہیں تم لوگوں کو ] [ بِالشَّرِّ : بُرائی سے ] [ وَالْخَيْرِ : اور بھلائی سے ] [ فِتْنَةً : کسوٹی ہوتے ہوئے ] [ وَاِلَيْنَا : اور ہماری طرف ہی ] [ تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جائو گے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 30 ۔ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔ (ابن کثیر (رح) ) ۔
نوٹ۔ 2: آج کل Big Bang Theory کی…
Read the full tafseer →آپ سے پہلے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے وہ بھی تو وفات پا گئے لہٰذا اس انتظار میں رہنا کہ ان کی وفات ہوجائے تو ہم لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ یہ نبی ہوتے تو وفات کیوں پاتے، ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔
مزید فرمایا (وَ نَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً ) (ہم تمہیں بطور آزمائش شر اور خیر کے ساتھ جانچیں گے) یعنی تمہارا امتحان کریں گے اس زندگی میں اچھی حالت بھی پیش آئے گی (جیسے تندرستی، مالداری، خوشی اور ازواج اولاد کا موجود ہونا) اور بد حالی بھی پیش آئے گی (مثلاً رنجیدہ ہونا، مرض اور تنگدستی کا پیش آنا، اولاد کا مرنا وغیرہ وغیرہ) زندگی میں یہ سب چیزیں آزمائش کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
بیان فناء عالم و رجوع ہمہ بسوئے خلاق عالم و جواب از شماتت اعداء
بموت سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ
قال اللہ تعالیٰ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد .... الیٰ .... والینا ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت کے ذیل میں چھ قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ جو تمام دنیوی نعمتوں کی اصل اور جڑ ہیں اب ان آیات میں یہ بتاتے ہیں کہ یہ دنیا دار فنا ہے دار البقاء نہیں یہ پوری دنیا اور اس کی تمام چیزیں فانی ہیں اس دنیا کے عجائب وغرائب اور اس کی آرائش و زیبائش پر مفتون نہ ہوجانا۔ حق تعالیٰ نے ان چیزوں کو آزمائش اور امتحان کے لیے پیدا کیا ہے فنا اور موت ہر چیز کے لیے لازم ہے مرنے کے بعد تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
24:۔ یہ مشرکین کے لیے زجر اور تیسرے سوال کے جواب کا اعادہ ہے ” کُلُّ نَفْسٍ الخ “ یہ ماقبل کی دلیل اور برہان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔
اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات…
Read the full tafseer →كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ 0ۭ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَۃً 0ۭ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 35
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ،
( نس ) النفس
کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ترکیب : فتنۃ مفعول یا موضع حال میں اے فانتین یا مفعول مطلق ای نفتنکم بھا فتنہ الا ھزوا مفعول ثانی۔ من عجل موضع نصب میں خلق سے علی المجاز جیسا کہ خلق من طین۔ اور حال بھی ہوسکتا ہے ای عجلا و جواب لو محذوف وحین مفعول بہ ہے۔ بغتۃ مصدر موضع حال میں۔
تفسیر : آفتاب و ماہتاب اور دیگر داردنیا کے ارکان بیان فرما کر جن میں غور کرنے سے اس گھر کے بنانے والے کا وجود ثابت ہوتا تھا یہ بات بیان فرماتا ہے کہ کسی کو سدا اس گھر میں رہنا نہیں۔ اے محمد ﷺ ! تم سے پہلے کوئی ہمیشہ رہنے والا نہیں بنایا نہ تم کو ہمیشگی ہے اور نہ تمہارے بعد ہمیشہ یہ رہیں گے جو تمہارے مرنے کی آرزو کرتے ہیں۔ وما جعلنا الخ اس دنیا میں…
Read the full tafseer →کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۔
(الانبیاء : 35)
(ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تم لوگوں کو دکھ اور سکھ دونوں سے آزما رہے ہیں اور آخر کار تم سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کے آنا ہے۔ )
گزشتہ اعتراض کا جواب ایک دوسرے پہلو سے
اس آیت کریمہ میں متذکرہ بالا اعتراض کا جواب ایک دوسرے پہلو سے دیا گیا ہے۔ کفار کو جس طرح آنحضرت ﷺ کے بشر ہونے پر اعتراض تھا، اسی طرح وہ اس بات پر بھی معترض تھے کہ آپ ﷺ اگر اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو کم از کم آپ ﷺ کوئی رئیس آدمی ہوتے یا آپ ﷺ کسی قبیلے کے سردار ہوتے۔ ایک تو آپ ﷺ ہماری طرح بشر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے رات کے بعد دن، چاند اور سورج کو بنایا اور ان کے لیے دائرہ کار اور وقت مقرر کیا اسی طرح ہی ہر انسان کا ایک وقت اور اسے کچھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ جس طرح چاند غائب اور سورج غروب ہوجاتا ہے اسی طرح ہی انسان کی زندگی کا سورج غروب ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں تھے۔
پوری کائنات کا نظام صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس نے ایک معینّہوقت تک ہر چیز کی ایک ڈیوٹی لگا رکھی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی ڈیوٹی نبھا رہا ہے۔ جس طرح ہر چیز کی ایک ذمہ داری ہے اسی طرح ہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذمہ ” اللہ “ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا تھا۔ اسی…
Read the full tafseer →35: کُلُّ نَفْسٍ ذَآ ئِقَۃُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوْکُمْ (اور ہر جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہم تمہیں آزماتے ہیں) ابلاء کا معنی امتحان لینا ہے اس کو ابتلاء کا نام دیا۔ اگرچہ وہ عاملین کے اعمال کو جو آئندہ ہونے والے ہیں ان کے وجود سے قبل ہی جانتے ہیں کیونکہ وہ صورت اختبار میں سے ہے۔
بِالشَّرِّ (برائی سے) فقر و جسمانی ٗتکلیف وَالْخَیْرِ (اور بھلائی سے) مالداری، نفع سے فِتْنَۃً (آزمانا)
نحو : یہ نبلوکم کیلئے مصدر موکد ہے۔ اگرچہ غیر لفظ سے ہے۔
وَّاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ (اور ہماری بارگارہ کی طرف تمہیں لوٹا یا جائے گا) پس تمہیں بدلہ تمہاری طرف سے پائے جانے والے صبر، شکر کی مقدار سے ہوگا۔
Read the full tafseer →35۔ کل نفس ذائقۃ الموت ونبلوکم،۔ ہم تمہارے ساتھ ایسا ہی عمل کریں گے جیسا کہ امتحان لینے والا کرتا ہے۔ بالشر والخیر، سختی کے وقت اور نرمی کے وقت صحت کے زمانے میں اور بیماری کے زمانے میں، اور امیری کی حالت میں ، فقیری کی حالت میں، ہر طرح سے ہم تمہاری جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ خواہ تم اس چیز کو پسند کرتے ہو اور یا ناپسند کرتے ہو ۔ فتنہ، تمہیں مبتلا کردیں گے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ تم مرغوب و محبوب مقصد کو حاصل کرکے شکرادا کرتے ہو یا ناشکری اور دکھ پر صبر کرتے ہو یاشکوہ و شکایت وبے صبری ، والینا ترجعون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34۔ 35:۔ سورة یونس میں گزر چکا ہے 1 ؎ کہ جب اللہ کے رسول ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی وہ آیتیں سناتے تھے ‘ جن میں ان کے بتوں کی مذمت ہوتی تھی تو ان میں کے بڑے بڑے سرکش اللہ کے رسول ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں قرآن سنانا منظور ہے تو اس میں سے ہمارے بتوں کی مذمت کا ذکر بدل ڈالو ‘ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کریں گے۔ پھر اس صورت میں ہمار تمہارا کوئی جھگڑا باقی نہ رہے گا ‘ یہ ذکر تفصیل سے سورة الزمر میں آتا ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ کی یہ باتیں کچھ کارگر نہ ہوئی تو یہ لوگ اللہ کے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 34-35
رسول اللہ ﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس رسول ﷺ کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو ! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزر گاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں۔ ( وما جعلنا لمشرمن قبلک الخلد) ” اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ سے پہلے دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی “۔ اگر آپ ﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپ ﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیا اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ (افائن مت فھم الخلدون) یعنی اگر آپ ﷺ وفات پاجائیں گے تو کیا آپ ﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں ( جس طرح انہوں نے سمجھ رکھا…
Read the full tafseer →44 موت کا مزہ ہر جاندار نے بہرحال چکھنا ہے : اپنے اپنے وقت پر۔ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ تو پھر کسی کی موت سے کسی دوسرے کے لئے خوشی کا کوئی موقع آخر کس طرح ہوسکتا ہے کہ موت کا یہ کڑوا گھونٹ تو اس نے بھی بالآخر بھرنا ہے ؟ اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسروں کی موت کا انتظار کرنے کی بجائے خود اپنی اصلاح پر توجہ دے اور اپنے انجام کیلئے تیاری کرے۔ سو ان منکرین و مکذبین کے لیے اس بارے اگر خوشی و مسرت کا کوئی موقعہ ہوسکتا ہے تو صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ یہ زندگی جاوداں لے کر آئے ہوں۔ تو اس وقت ان کے لیے ایسا کہنے کی گنجائش ہوسکتی تھی کہ ہم جب حیات ابدی کے مالک ہیں تو پھر ایک انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
کائنات اور انسان کی پیدائش کے راز
تشریح : یہ آیات سائنسی نکات اور بڑے بڑے رازوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ جبکہ بظاہر تخلیق کائنات، تخلیق حیوانات، جمادات، نباتات اور تمام اجرام فلکیات کا ذکر ہے کہ یہ سب اللہ نے بنائے ہیں۔ انسان کی آزمائش کے لیے اس کو نعمتیں دیں اور پھر بتایا کہ زندگی ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور پھر آخرت کا بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے اور اس نے ذرے سے لے کر آسمان تک ہر چیز کا حساب کتاب بڑی وضاحت سے اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔
آیت 30 میں بہت بڑا انکشاف ہے۔ کہ زمین آسمان جڑے ہوئے تھے تو ان کو ہم نے علیحدہ کردیا۔ علم فلکیات نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی زمین و آسمان جڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…
Read the full tafseer →ف 5 ضمناً ان لوگوں کی تردید بھی ہے جو یہ کہہ کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ محمد (ﷺ) عنقریب مرجائیں گے تو ہمیں چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ (طور 20) یا بعض اس خیال میں تھے کہ یہ پیغمبر ہمیشہ زندہ رہے گا تو اس پر متنبہ فرمایا کہ موت سے کوئی بشر محفوظ نہیں رہ رہ سکتا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(21:35) نبلوکم۔ نبلوا مضارع جمع متکلم بلا یبلوا (نصر) بلو وبلاء بلو۔ بلیمادہ۔ نبلوا۔ ہم آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ فتنۃ۔ آزمائش کے طور پر۔ ابتلاء مصدر ہے اس کو نبلوکم کے بعد تاکید کے لئے لایا گیا ہے (علی غیر لفظہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 41
الخلد ہمیشہ زندہ رہنا۔ مت تو مر گیا۔ تیرا اتنقال ہوگیا۔ ضائقۃ چکھنے والا۔ فتنۃ آزمائش۔ ھزو مذاق۔ عجل جلد باز۔ لاتستعجلون تم جلدی نہ مچاؤ۔ لایکفون وہ نہ روک سکیں گے۔ بغتۃ اچانک۔ تبھت حیران۔ حاق گھیر لیا۔ آپڑا۔
تشریح :- آیت نمبر 34 تا 41
سورۃ الانبیاء کی یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ کی مخالفت اور دشمنی انتہاؤں تک پہنچ چکی تھی وہ ہر حال میں اس ابھرتی ہوئی تحریک کو اپنی سازشوں سے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ ان سے جو کچھ ممکن تھا انہوں نے اس میں کسر اٹھا نہ رکھی تھی ان لوگوں نے یہاں تک فیصلہ کرلیا کہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے تاکہ یہ مقصد اور مشن ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(ف 1) شان نزول :
رسول اللہ کے دشمن اپنے ضلال وعناد سے کہتے تھے کہ ہم حوادث زمانہ کا انتظار کررہے ہیں۔ عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے حضرت سید عالم کی وفات ہوجائے گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ دشمنان رسول کے لیے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، موت کا مزہ ہر ایک جاندار کو چکھنا ہے پھر اپنی دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں یہ لوگ اپنی موت سے جو غافل ہیں یہ ان کی نادانی ہے دنیا کی خوشحالی اور تنگ دستی تو اللہ نے اس آزمائش کے لیے پیدا کی ہے کہ خوشحالی کی حالت میں کون اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کرتا ہے اور کون ناشکری۔ اسی طرح تنگدستی کی حالت میں کون صبر کرتا…
Read the full tafseer →[23] مشرکین رسول اکرم ﷺ کی باتیں سن کر کہتے تھے کہ ساری دھوم محض اس شخص کے دم تک ہے۔ یہ دنیا سے رخصت ہوا تو پھر کچھ نہیں۔ تو اس کا جواب دیا کہ کون ایسا ہے جس پر موت کبھی نہ طاری ہو۔ اگر رسول کی موت کے تصور سے ہی انھیں اپنا دل ٹھنڈا کرنا مقصود ہو تو خوشی کا ہے کی۔ کیا تم کبھی نہیں مرو گے اور قیامت کے بوریے سمیٹو گے ؟ جب تم کو بھی آگے پیچھے مرنا ہے تو پیغمبر کی وفات پر خوش ہونے کا کیا موقع ہے۔
[24] یہاں انسان کے لئے تین قانون بیان کر دئیے : (1) ہر ذی حیات کے لئے جلد یا بدیر موت لازمی ہے۔ (2) انسان جب تک زندہ رہے گا اس کا امتحان برابر ہوتا رہے گا۔ (3) ہر انسان کے لئے اللہ کے حضور میں واپس جاکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(ف 2) حضور ﷺ نے جب اسلام کو پھیلانا شروع کیا ، اور مشرکین نے دیکھا کہ آپ کو خاص کامیابی ہو رہی ہے ، تو وہ یہ کہہ کر دل کو تسلی دے لیتے کہ یہ کامیابی صرف انکی زندگی تک محدود ہے جب یہ انتقال کر جائیں گے تو پھر اسلام کی اشاعت رک جائے گی ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر آپ کے لئے وصال ضروری ہے تو کیا یہ لوگ مخالفت وعناد کے لئے زندہ رہیں گے ؟
ایسا نہیں ہو سکے گا ، ہمارا اٹل اور محکم قانون یہ ہے کہ ہر نفس کے لئے موت مقدر ہے ۔
فقل المشامتین بنا افیقوا
سیلقی الشامتون کما لقینا :
دنیا کی ہر بات کو اشتباہ اور شک کی نظروں سے دیکھا جاسکتا ہے مگر موت ایسی قطعی ہے کہ اس میں کسی کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہوسکتا ،…
Read the full tafseer →-35 موت کا کوئی خاص تعلق پیغمبر ہی سے نہیں بلکہ ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہارے آزمانے اور تمہارے آزمائش کو تمہیں بھلائیا ور برائی کے ساتھ جا نچا کرتے ہیں اور تم سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے اور تم سب ہماری لرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی موت کا معاملہصرف پیغمبر ہی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر جاندار کو مرنا اور موت کا مزہ چکھنا ہے اس زندگی میں جو اچھے اور برے حالات پیش آتی ہیں اس سے تم کو خوب آزمانا مقصود ہے کیوں کہ ہر شخص کی زندگی دو حال سے خالی نہیں یا پریشانی اور رنج و مصیبت یا راحت و آرام اور خوشی و مسرت پس یہ دونوں حالتیں آزمائش اور امتحان کے لئے ہیں تاکہ دیکھیں کہ نعمت پر شکر گزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 8۔ مطلب یہ کہ زندگی اس لئے دے رکھی ہے کہ دیکھیں کیسے کیسے عمل کرتے ہو۔
Read the full tafseer →موت ہر جان کے لئے لازم ہے حالات کا اختلاف آزمائش کے لئے ہے :
35۔ اس آیت میں منکرین کی انہی خام خیالوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے فرمایا دنیا میں ہر جان کے لئے مرنا ہے یہاں کسی کے لئے بھی دائمی زندگی نہ ہوئی ۔ پس اصل سوال مرنے کا نہیں سوال تو یہ ہے کہ (آیت) ” نبلوکم بالشر والخیرفتنۃ “۔ ہم نے آزمائش عمل میں ڈالنے کے لئے خیر وشر کی آزمائشیں پیدا کردی ہیں ان آزمائشوں سے کون کس طرح عہدہ برآ ہوتا ہے ؟ خیر کا سرمایہ جمع کرتا ہے یا شرکا ؟ یہ تمہاری موت کے خیال سے اپنا جی خوش کرتے ہیں مگر خود اپنی زندگی کی خبر نہیں لیتے ؟ گویا اس آیت میں انسان کے لئے تین قانون بیان کردیئے اور یہ بات پہلے واضح ہے کہ قانون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
What is death?
Allah has said كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ 'Every soul has to taste death'. Here the word soul refers to the living things of the earth, who must all face death, but does not include the angels. There is a difference of opinion about whether the angels will also die or not on the Day of Judgment. Some say that every living thing will die, though momentarily, irrespective of whether they are of the earth or the skies. But others maintain that angels and hurs and ghilman of Paradise are excluded from this general rule. (Only God knows best) (Ruh ul-Ma` ani) Majority of the…
Read the full tafseer →37. This is a brief answer to all those warnings and curses with which the Prophet (peace be upon him) was being threatened and the conspiracies which the Quraish were hatching against him day and night. On the one hand, the women of the Quraish cursed him because according to them he had ruined their home life by enticing away their kith and kits. While on the other hand, the chiefs of the Quraish threatened him with horrible consequences for the propagation of Islam. After the emigration to Habash especially, which almost affected every home of Makkah, these curses and threats increased all…
Read the full tafseer →