Explained with ayahs 94–96
مباہلہ اور یہودی مع نصاریٰ
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان یہودیوں کو نبی ﷺ کا زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹا ہے اسے ہلاک کر دے۔ لیکن ساتھ ہی پیشنگوئی بھی کردی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے چناچہ یہی ہوا کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لئے کہ وہ دل سے حضور ﷺ کو اور آسمانی کتاب قرآن کریم کو سچا جانتے تھے اگر یہ لوگ اس اعلان کے ماتحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے۔ روئے زمین پر ایک یہودی بھی باقی نہ رہتا۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اور جھوٹے کے لئے موت طلب کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
سورة الْبَقَرَة 98
یہ ایک تعریض اور نہایت لطیف تعریض ہے ان کی دنیا پرستی پر۔ جن لوگوں کو واقعی دار آخرت سے کوئی لگاؤ ہوتا ہے، وہ دنیا پر مرے نہیں جاتے اور نہ موت سے ڈرتے ہیں۔ مگر یہودیوں کا حال اس کے برعکس تھا اور ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ لوگ موت کی تمنا کیا خاک کرتے) آپ (تو) ان کو حیات (دنیویہ) کا حریص (اور عام) آدمیوں سے (بھی) بڑھ کر پائیں گے اور (اوروں کا تو کیا ذکر حیرت تو یہ ہے کہ بعض) مشرکین سے بھی (بڑھ کر آپ ان کو حیات کا حریص دیکھیں گے اور ان کی یہ کیفیت ہے کہ) ان میں ایک ایک (شخص) اس ہوس میں ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہوجائے اور (بھلا بالفرض اگر اتنی عمر ہو بھی گئی تو کیا) یہ امر عذاب سے تو بچا نہیں سکتا کہ (کسی کی بڑی) عمر ہوجائے اور حق تعالیٰ کے سب پیش نظر ہیں ان کے اعمال (بد جس پر ان کو عذاب ہونے والا ہے)
فائدہاس میں حیرت استبعاد کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب تو آخرت کے منکر تھے ان کی بہار اور عیش…
Read the full tafseer →یعنی اللہ تعالیٰ سے قرب اور آخرت کی اجارہ داری کے ادعا کے باوجود موت کی آرزو یہ کبھی نہیں کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور اس کی شریعت کے ساتھ جو بدعہدیاں اور غداریاں انہوں نے کی ہیں وہ دوسروں کے سامنے ہوں یا نہ ہوں لیکن خود ان سے یہ ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اس وجہ سے موت کے تصور سے ان پر لرزہ طاری ہوتا ہے لیکن موت سے یہ کب تک بھاگیں گے۔ اور اس سے بھاگ کر کہاں جائیں گے۔ بالآخر ایک دن موت سے دوچار ہونا اور اس رب کے سامنے حاضر ہونا ہے جو ان ظالموں کے تمام اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس حقیقت کو سورہ جمعہ میں اس طرح واضح فرمایا ہے۔
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہُ…
Read the full tafseer →95۔ 1 حضرت ابن عباس نے یہودیوں کو کہا اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اللہ سے محبوبیت کے دعوے میں سچے ہو تو مباہلہ کرلو یعنی اللہ کی بارگاہ میں مسلمان اور یہودی دونوں ملکر یہ عرض کریں یا اللہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اسے موت سے ہمکنار کر دے یہی دعوت انہیں سورت جمعہ میں بھی دی گئی ہے۔ نجران کے عیسائیوں کو بھی دعوت مباہلہ دی گئی تھی جیسا کہ ال عمران میں ہے۔ لیکن چونکہ یہودی بھی عیسائیوں کی طرح جھوٹے تھے اس لئے عیسائیوں ہی کی طرح یہودیوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہرگز موت کی آرزو (یعنی مباہلہ) نہیں کریں گے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے (تفسیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
64: یہ بھی قرآن کریم کی طرف سے ایک چیلنج تھا جسے قبول کرلینا ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہ تھا وہ بآسانی کم از کم زبان سے علی الاعلان موت کی تمنا کرکے دکھاسکتے تھے لیکن چونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ خدائی چیلنج ہے اس لئے ایسی تمنا کا اظہار انہیں فوراً قبر میں پہنچادے گا اس لئے کسی نے ایسی جرأت نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
1 یعنی یہودیوں نے ایسے برے کام کیے ہیں کہ موت سے نہایت بچتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ مرتے ہی خیر نظر نہیں آتی حتیٰ کہ مشرکین سے بھی زیادہ جینے پر حریص ہیں۔ اس سے ان کے دعو وں کی تغلیط خوب ہوگئی۔
Read the full tafseer →آیت 95 وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ ط
ہر شخص کو خود معلوم ہے کہ میں نے کیا کمائی کی ہے ‘ کیا آگے بھیجی ہے۔
وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بالظّٰلِمِیْنَ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
112 آخرت سے متعلق یہود کی تمنا :۔ یہ یہود کی دنیا سے محبت پر ایک نہایت عمدہ پیرایہ میں تعریض ہے۔ کیونکہ جن لوگوں کو آخرت سے لگاؤ ہوتا ہے وہ دنیا پر اس قدر ریجھے ہوئے نہیں ہوتے اور نہ ہی موت سے ڈرتے ہیں۔ مگر یہودیوں کا حال اس کے بالکل برعکس تھا اور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دلیل سے یہود کے اس غلط دعویٰ کا رد فرمایا جو وہ کہتے تھے کہ آخرت کا گھر ہمارے ہی لیے مخصوص ہے
Read the full tafseer →332 ۔ یعنی ان کا خود چو رہے۔ ان کا ضمیر ان پر ملامت کررہا ہے۔ لقاء رب کا کوئی ولولہ کوئی جذبہ ان میں باقی ہی کہاں ہے، جو یہ عالم آخرت کی تمنا کرسکیں۔ (آیت) ” ابدا “ احتجاج بالا جب صرف یہود معاصرین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص ہوگیا تو (آیت) ” ابدا “ کے معنی بھی لازمی طور پر یہ ہوں گے کہ یہ اپنی زندگی بھر ایسا نہ کریں گے۔ و یعنی بالابدھنا ما یستقبل من زمان اعمارھم (بحر) اے لن یتمنوہ ماعاشوا (روح)
333 ۔ یعنی ان لوگوں سے جو اپنے ہتھکنڈوں سے خود اپنے حق میں ظلم کرتے ہیں۔ الظلم ھو تجاوز ما حد اللہ (بحر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
دعوت مباہلہ : قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الآخِرَۃُ عِنْدِ اللہِ خَالِصَۃً ، (الآیۃ) حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر دعوت مباھلہ سے کی ہے یعنی یہودیوں سے کہا گیا کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اللہ سے دعوائے محبت میں سچے ہو تو مباہلہ کرلو، یعنی اللہ کی بارگاہ میں مسلمان اور یہودی دونوں مل کر یہ عرض کریں کہ : یا اللہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اسے موت سے ہمکنار کر دے یہی دعوت انہیں سورة جمعہ میں بھی دی گئی ہے، نجران کے عیسائیوں کو بھی دعوت مباہلہ دی گئی تھی، جیسا کہ آل عمران میں ہے، لیکن چونکہ یہود بھی عیسائیوں کی طرح چھوٹے تھے، اس لئے عیسائیوں کی طرح یہودیوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا ( اور کبھی ہرگز آرزو نہ کرینگے موت کی) اس جملہ میں پیشینگوئی اور غیب کی خبر کے طور پر ایک معجزہ ہے۔
بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ( بوجہ ان گناہوں کے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں) اس سے مراد جہنم میں جانے کے وہ اسباب ہیں جن کا یہود ارتکاب کرتے تھے مثلاً محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول اور قرآن کو کلام اللہ نہ ماننا اور تورات کی تحریف کرنا وغیرہ وغیرہ خود ان کی ذات کے فعل کو ان کے ہاتھوں کی طرف اس لیے نسبت کردیا کہ انسان کے لیے ہاتھ قدرت کا آلہ ہے اور اکثر نفع نقصان کے کام اسی سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اس لیے ید ( ہاتھ) سے خود ذات مراد لے لی اور کبھی ید (ہاتھ) سے قدرت بھی…
Read the full tafseer →(95) کیوں کہ انہوں نے یہودیت کے زمانہ میں بہت کارگزاریاں کی ہیں، اس لیے یہ موت کی تمنا کبھی بھی نہیں کریں گے، اور اللہ تعالیٰ ان یہودیوں کو زیادہ جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
اس آیت سے ملتا جلتا مضمون سورة جمعہ (6 تا 8) میں بیان ہوا ہے، یہاں ”وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ“ اور وہاں ”وَلَا يَتَمَنَّوْنَهٗٓ اَبَدًۢا“ ہے۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہاں دعویٰ اللہ کی دوستی کا ہے، جس کی نفی صرف ”لا“ کے ساتھ کی گئی، یہاں دار آخرت کا یہودیوں کے لیے خاص ہونے کا ہے جو اس سے بڑا دعویٰ ہے، کیونکہ اللہ کی دوستی ذریعہ ہے اور جنت کا حصول نتیجہ ہے، اس لیے یہاں نفی صرف ”لن“ کے ساتھ کی گئی، جو تاکید کے لیے ہے۔ (رازی) واللہ اعلم !
اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں، ایک یہ کہ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو کہ جنت میں تمہارے سوا کوئی نہیں جائے گا تو موت کی تمنا کرو، کیونکہ جس شخص کو یقین ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت نمبر 94 تا 95
جب یہود نے باطل دعوے کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان دعوؤں کو اپنی کتاب میں ان کی طرف سے بیان فرمایا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لن تمسنا النارالا ایاماً معوددۃً (البقرہ : 80) اور انہوں نے کہا : ہرگز نہ چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ بجز گنتی کے چند دن۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودًا او نصری (البقرہ :111) اور انہوں نے کہا : ہرگز داخل نہ ہوں گے جنت میں مگر جو یہودی یا نصرانی ہوں گے) اور انہوں نے کہا : نحن ابنٰٓؤا اللہ واحبآؤہ (المائدہ :18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں)
اللہ تعالیٰ انہیں جھوٹا ثابت کیا اور اس پر حجت لازم فرمائی۔ اور فرمایا : اے پیارے محمد ! ﷺ انہیں کہو۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(1) ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا ونصری “ اور انہوں نے کہا ” نحن ابناء اللہ واحباء ہ “ المائدہ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ” قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین “ لیکن انہوں نے موت کی تمنا نہیں کی۔
یہود کے زعم باطل کی تردید
(2) امام بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اے محمد ﷺ ان کو فرما دیجئے لفظ آیت ” ان کانت لکم الدار الاخرۃ “ یعنی جنت جیسا کہ تم گمان کرتے ہو۔ ” خالصۃ من دون الناس “ یعنی مؤمنین کے علاوہ خالص تمہارے…
Read the full tafseer →[ وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ : اور وہ الوگ ہرگز تمنا نہیں کریں گے اس کی ] [ اَبَدًۢا : کبھی بھی ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ قَدَّمَتْ : آگے بھیجے ] [ اَيْدِيْهِمْ ۭ : ان کے ہاتھوں نے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے ] [ بِالظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
۔ ابتدائی ” وَ “ مستانفہ ہے، ترجمہ ” اور “ ہی کیا جاسکتا ہے۔ اگلا لفظ
۔ ” لن یتمنَّوہ “ ہے جس کے آخر پر ضمیر منصوب (ہ) ہے جس کا اردو ترجمہ تو ” اس کو “ بنتا ہے مگر اردو کے فعل (آرزو کرنا) کی مناسبت سے اس کا ترجمہ یہاں ” اس کی “ ہی ہوسکتا ہے۔ باقی صیغۂ فعل ” لن یتمنَّوْا “ ہے (خیال رہے جب ضمیر مفعول ساتھ نہیں لکھیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
یہودیوں کو دعوت مباہلہ کہ موت کی تمنا کریں
یہودیوں کے دعوؤں اور آرزوؤں میں یہ بھی تھا کہ عالم آخرت کی خیر اور خوبی اور جنت کا داخلہ اور نعمتوں کا حصول یہ سب کچھ ہمارے لیے ہی خاص ہے دوسرے کسی دین والے اور کسی بھی قوم اور نسل کے لوگ جنت میں نہ جائیں گے ان کے اس خیالی جھوٹے دعوے اور جھوٹی آرزو کے پیش نظر ان کو مباہلہ کی دعوت دی گئی کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو آجاؤ ہم اور تم مل کر موت کی دعا کریں کہ دونوں فریق میں سے جو بھی جھوٹا ہو وہ ابھی فوراً مرجائے جب یہ بات سامنے آئی تو اس پر آمادہ نہ ہوئے اور راہ فرار اختیار کرلی۔ حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے اور انہوں نے یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
شناعت نوز دہم (19)
قال تعالیٰ قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ بصیر بما یعملون
یہود باوجود ان شنائع اور قبائح کے یہ کہتے تھے کہ جنت میں ہمارے سوا کوئی نہیں جائے گا اور آخرت کی نعمتیں ہمارے لیے مخصوص ہیں تو اے ہمارے نبی آپ ﷺ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ اگر دار آخرت فقط تمہارے ہی لیے اللہ کے یہاں خاص ہے اوروں کے لیے نہیں۔ یعنی بہشت اور نعمائے آخرت میں تمہارا کوئی شریک اور سہیم نہیں تو پھر مرنے کی تمنا اور آرزو کر کے دکھلاؤ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو۔ اس لیے کہ دار آخرت کی وہ لازوال اور بیمثال نعمتیں کہ جن میں تمہارا کوئی شریک اور سہیم نہیں ان تک پہنچنے کا راستہ سوائے موت کے اور…
Read the full tafseer →185 یہودیوں کو اپنی سابقہ بد اعمالیوں کی بنا پر اس بات کا یقین ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹ ہیں اس لیے وہ مباہلہ پر کبھی تیار نہ ہوں گے اور نہ ہی موت کی آرزو کریں گے۔ انھم فی دعواھم کاذبون (معالم ص 71 ج 1، قرطبی ص 33 ج 2) وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی تدبیروں اور ہتھکنڈوں سے خوب واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–96
گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کی قباحتیں اور ان کی سزائیں بیان ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں یہودیوں کی برائیوں اور ان کے کفر پر اصرار کا ذکر تھا۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ خاتم النبین ﷺ کی آمد سے پہلے یہودی ان کے منتظر تھے۔ کہ جب وہ نبی آخر الزمان آئے گا تو اس کا ساتھ دیں گے۔ یہودی لوگ آپ کی برکت سے مشرکین پر غلبہ حاصل کرنے کی تمنا بھی کرتے تھے۔ اور اس کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ مگر جب وہ رسول آگیا جس کا انتظار تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب بھی آگئی اور ان لوگوں نے پہچان بھی لیا تو پھر انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے دوہرے غضب میں مبتلا ہوئے۔
دعوت ایمان : ان آیات میں بھی یہودیوں کی ہٹ دھرمی کا…
Read the full tafseer →وَلَنْ يَّـتَمَنَّوْہُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْہِمْ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِــمِيْنَ 95
ابد
قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا .
وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل :
آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء .
وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی التأكيد .
وتأبّد الشیء : بقي أبداً ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
ترکیب : قالوا فعل بافاعل سمعنا وعصینا مفعول واشربوا فی قلوبہم العجل ای حب العجل بکفرھم ای بسبب کفرھم یہ جملہ بہ تقدیر قدحال ہے ضمیر قالوا سے۔ قل بئسما یامرکم الخ جواب ہے ان کے قول سمعنا وعصینا کا۔ قل فعل بافاعل ان کانت الخ جملہ شرطیہ مقولہ الدار موصوف الآخرۃ صفت مجموعہ اسم کان لکم متعلق ہے کانت سے خالصۃ خبر کان عنداللہ ظرف خالصۃ ہے من دون الناس بسبب خالصۃ کے موضع نصب میں ہے کہتے ہیں خلص کذامن کذایہ سب جملہ شرط اور فتمنوا الموت شرط اول اور ان کنتم صادقین 1 ؎ شرط ثانی (دونوں کا جواب ہے) (جلالین) ابدًا ظرف ہے بماقدمت کا و من الذین اشرکوا 2 ؎ میں دو وجہ ہیں ایک یہ کہ یہ بمعنی الناس پر معطوف ہے ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
قُلْ اِنْ کَانَتْ لَـکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَاللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالظّٰلِمِیْنَ ۔ وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ج وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج یَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ ج وَمَا ھُوَبِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔
(آپ کہہ دیجئے ! اگر آخرت کا گھر خاص تمہارے ہی لیے ہے دوسروں کو چھوڑ کر، تو موت کی آرزو کردیکھو اگر تم سچے ہو۔ لیکن وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
فہم القرآن
ربط کلام : یہود یوں کے من گھڑت عقیدہ اور خود ساختہ دعویٰ کا جواب اور دنیا کے بارے میں ان کی حرص۔
یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم اللہ کے محبوب اور انبیاء کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ہمارے لیے ہی بنایا اور سجایا ہے بالفرض اگر ہمیں جہنم میں جانا بھی پڑا تو یہ چند دنوں کے لیے جانا ہوگا بالآخرہم جنت کے لیے اور جنت ہمارے ہی لیے ہے۔ ہم ہی اس کے وارث ہوں گے۔ وہ یہ بات اتنی شدّو مد کے ساتھ کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے عوام الناس یہ سمجھ بیٹھے کہ جنت میں جانے کے لیے یہودی ہونا از حد ضروری ہے۔ اس کے بغیر کسی کو جنت کا خیال بھی دل میں نہیں لانا چاہیے۔ یہ یہودیوں کے باطل عقیدہ کے…
Read the full tafseer →وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًا : (وہ ہرگز تمنا نہ کریں گے) ابدًا کو ظرفیت کی وجہ سے نصب دیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ہرگز (موت کی) تمنا نہ کریں گے۔ جب تک وہ زندہ ہیں۔
بِمَاقَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ : (بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا) یعنی جو انہوں نے محمد ﷺ کے ساتھ گذشہ زمانہ میں کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تحریف وغیرہ کی۔ یہ معجزات نبوت میں سے ہے کہ گذشتہ زمانے کی خبر بتلائی۔ اور جیسا آپ نے خبر دی۔ یہ اسی طرح واقع ہوا۔ جیسا کہ ولن تفعلوا۔ البقرہ آیت نمبر 24 میں (مستقبل میں نہ کرسکنے کی پیش گوئی ہے) اگر یہود موت کی تمنا کرتے۔ تو ضرور قرآن مجید نقل کردیتا جس طرح دیگر حوادث نقل…
Read the full tafseer →95۔ (آیت)” ولن یتمنوہ ابدا بما قدمت ایدیھم “ ان کا موت کی آرزو نہ کرنا بایں وجہ کہ انہیں اپنے دعوی میں جھوٹا ہونے کا علم تھا اور (آیت)” ما قدمت ایدیھم “ سے مراد ان کے وہ اعمال ہیں جو انہوں نے آگے بھیجے اور عمل کی نسبت ہاتھ کی طرف اس لیے کی گئی کیونکہ انسان کے اکثر قصور ہاتھ سے ہوتے ہیں ، پس اس کے اعمال کی نسبت ہاتھ کی طرف کی گئی ، اگرچہ ان اعمال میں ہاتھ کا کچھ بھی عمل دخل نہ ہو ۔ (آیت)” واللہ علیم بالظالمین “۔ ۔۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
(94 ۔ 95) ۔ اس سورت میں آگے آئے گا کہ یہود کہتے تھے { لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا } اور سورة مائدہ میں آئے گا کہ تورات کی آیت بدل ڈالا تھا اور کہتے تھے { نَحْنُ اَبْنَا ئَ اللّٰہُ وَاَحِبَّاؤُہٗ } ان کے ان قولوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں سوا ہمارے اور کوئی جنت میں ہرگز نہیں جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق آنحضرت ﷺ یہود سے موت کی بد دعا کا مباہلہ کرنے کو تیار ہوئے۔ لیکن یہود تو اپنے دل میں سمجھتے تھے کہ مباہلہ کریں گے تو اپنے جھوٹ کے سبب سے غارت ہوجائیں گے۔ مباہلہ کی صورت یہ ہے کہ جب دو فریق میں زبانی بحث سے کوئی بات طے نہ ہو تو ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
(قل) یعنی ان کے دعویٰ کی تصحیح کی خاطر کہہ دیجئے ! (ان کانت لکم الدار الاخرۃ) ” کہ اگر آخرت کا گھر (جنت) صرف تمہارے ہی لئے ہے “ (آیت) دوسرے لوگ اس میں نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ تمہارا گمان ہے کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی اور نصرانی ہیں، نیز تمہیں ہرگز آگ نہیں چھوئے گی سوائے چند روز کے اس لئے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو (فتمنوا الموت) ” تو موت کی تمنا کر دیکھو “۔ یہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان مبابلہ کی ایک قسم ہے۔ ان کے دلائل کا توڑ، انہیں لاجواب کردینے اور ان کے عناد کے بعد ان کے لئے دو باتوں میں سے کسی ایک کو مانے بغیر چارہ نہیں۔
(1) یا تو وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–102
ساحر کا حکم
قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔
اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
265 قرآن حکیم کا ایک معجزہ : سو یہ بھی قرآن حکیم کا ایک معجزہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں کے حال سے متعلق اتنی صراحت و وضاحت سے یہ خبر دی اور اس قدر جزم و تاکید کے ساتھ دی کہ یہ لوگ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ مگر اس کے باوجود وہ لوگ محض ظاہر داری کے طور پر بھی کبھی موت کی تمنا نہیں کرسکے۔ حالانکہ ان کیلئے یہ ایک موقع تھا کہ وہ اپنے طور پر قرآن حکیم کی اس پیشینگوئی کو غلط ثابت کرنے کیلئے ایسی کوئی تمنا کرلیتے مگر کہاں اور کیسے ؟ ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ الَّذِیْ لا اِلٰہَ غَیْرُہ وَلا مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہٗ ۔ سو اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ کلام اس ذات اقدس و اعلی کا ہے جو دلوں کے بھیدوں کو جاننے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لمبی عمر کی حرص
تشریح : ان آیات میں یہودیوں کی جھوٹی آرزوؤں کی تردید کی گئی ہے۔ جس کا ذکر گزشتہ چند آیات میں ہوچکا ہے، یہاں ان کے سامنے دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اگر تمہیں پورا یقین ہے کہ جنت تو صرف تمہارے لئے ہی بنائی گئی ہے تو پھر اپنے اس دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لئے فوراً موت کی تمنا کرو، تاکہ جنت کی تمام نعمتوں کو تم جلد از جلد حاصل کرسکو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے، کیونکہ اول تو ان کو اپنے دعویٰ کے سچ ہونے کا یقین نہیں اور دوسرے وہ اپنی بداعمالیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ برے اعمال کی سزا آخرت میں بھی ضرور ملے گی، جو بڑی سخت سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →ف 7 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر یہو ددی ایک دن بھی یہ آرزو کرتے تو روئے زمین پر کوئی یہو دی باقی نہ رہتا، یہ ویسی ہی بات ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے وفد نجران پر حجت قائم کرنے کے بعد جب انہیں دعوت مبادلہ دی تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اگر تم نے اس نبی سے مباہلہ کیا تو تم میں سے کوئی شخص بھی زندہ نہ بچ سکے گا۔ چناچہ انہوں نے جزیہ پر صلح کرلی (ابن کثیر )
Read the full tafseer →ولن یتمنوہ۔ مضارع نفی تاکید بلن۔ یتمنوا اصل میں یتمنون تھا۔ نون اعرابی لن کی وجہ سے ساقط ہوگیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد ذکر غائب ۔ جس کا مرجع الموت ہے۔
ابدا۔ ہمیشہ ، زمانہ مستقبل غیر محدود۔ کسی بھی۔
بما۔ میں ب سببیہ ہے اور فاء موصولہ۔
قدمت۔ ماضی واحد مؤنث غائب ۔ تقدیم (تفعیل) مصدر ۔ پہلے بھیج چکے۔ پہلے کرچکے (جو ان کے ہاتھوں نے کرکے بھیجے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لغات القرآن : آیت نمبر 94 تا 96
الدار الاخرۃ (آخرت کا گھر، (جنت) ۔ خالصۃ (خالص۔ (جس میں کوئی شریک نہ ہو) ۔ تمنوا (تم تمنا کرو) ۔ لن یتمنوہ (وہ اس کی ہرگز تمنا نہ کریں گے) ۔ ابدا (ہمیشہ (کبھی بھی) ۔ قدمت (آگے بھیجا) ۔ ایدیھم (ان کے ہاتھ) ۔ تجدن (تو ضرور پائے گا) ۔ احرص الناس (لوگوں میں زیادہ لالچی) ۔ الذین اشرکوا (جنہوں نے شریک کیا) ۔ یود (پسند ہے) ۔ احدھم (ان میں سے ہر ایک کو) ۔ یعمر (زیادہ بڑی عمر ہوجائے) ۔ مزحزح (بچانے والا، چھٹکا را دلانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
دنیا پرست یہودی جہاں اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور محبوب سمجھ کر گھمنڈ رکھتے تھے وہیں ان کا خیال تھا کہ آخرت میں تمام فضل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
شان نزول : یہود کا دعوٰ ی تھا کہ ہم اللہ کے پیارے ہیں اور جنت خاص ہمارے لئے ہے اور کوئی ملت و مذہب اس کا مستحق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں اس دعویٰ کو اس طرح باطل کیا کہ اے محبوب ﷺ ان سے کہ دو کہ اگر تم کو اس بات کا یقین ہے کہ دار آخرت خالص ہمارا حصہ ہے تو تم کو لازم ہے کہ موت کی آرزو کرو ۔ اگر تم نے موت کی آرزو نہ کی تو یہ تمارے جھوٹ کی دلیل ہوگی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے ، اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ لوگ پکے دنیا دار ہیں ۔ ان کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور اپنے عملوں کے نتیجوں کو جان چکے ہیں ، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
[64] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
حریص ترین قوم :
(ف 1) حق و باطل میں ، شرک و توحید میں ایک متمائز فرق ہے ، مشرک و باطل پرست کی خواہشیں بےانتہا ہوتی ہیں اور موحد حق پرست انسان بالطبع قانع ہوتا ہے ، یہودیوں کی دنیا پر ستی قرآن حکیم کے ان الفاظ سے واضح ہوتی ہے کہ (آیت) ” سمعون للکذب اکلون السحت “۔ کہ پرلے درجے کے جھوٹے اور سود خوار ہیں ۔
آج بھی یہودی سود خواری میں اس درجہ مشہور ہے کہ مغربی ممالک میں یہودی اور سود خوار باہم مترادف لفظ ہیں ۔
قرآن حکیم نے یہاں انہیں (آیت) ” احرص الناس “۔ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہزار سال کی عمر بھی یہ پائیں تو بھی دین کے لئے یہ کچھ کرسکیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 3 اور ہم بتائے دیتے ہیں کہ یہ مدعیان نجات و فلاح اپنے ان اعمال کفر یہ کے باعث جو یہ اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے حال کو خوب جانتا ہے ۔ اور اے پیغمبر ! یہ متو کی تمنا کیا کریں گے۔ آپ ان کو دوسرے عام لوگوں سے بھی زندگی کا زیادہ حریص پائیں گے اور لوگوں کا تو کہنا ہی کیا آپ ان کو مشرکین سے بھی حیات دنیویہ کا بڑھ کر حریص و آرزو مند پائیں گے۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہوجائے اور فرض کرو اگر اتنی عمر ہو بھی جائے تب بھی اس قدر جینا اس کو عذاب سے تو کچھ بچا نہیں سکتا اور یہ جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
ف 1۔ بینات سے مراد وہ دلائل ہیں جو اس قصہ سے پہلے کہ اس وقت تک تورات نہ ملی تھی صدق موسیٰ پر قائم ہوچکی تھیں مثلا عصا اور ید بیضاء اور فلق بحر وغیرذالک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
بنی اسرائیل اپنی ساری بد اعتدالیوں کے باوجود آخرت کی کامیابی بھی اپنا حق سمجھتے تھے :
182: آیت 93 تک بنی اسرائیل کی دنیاوی زندگی ، ان کے روز مرہ کے کارناموں اور ان کے عقائد اور اخلاق پر بحث ہوئی۔ اب بیان ہوتا ہے کہ باوجود ان ناشائستہ حرکتوں کے اپنی نجات کے متعلق انہوں نے کیا کیا منصوبے باندھ رکھے تھے اور پھر صرف خالی منصوبے ہی نہیں تھے بلکہ اس بنیادی عقیدہ کا ابتدائی خاکہ تورات کے اندر انہوں نے داخل کردیا تھا چناچہ تورات میں ہے کہ ” تم خداوند اپنے خدا کیلئے مقدس قوم ہو اور خداوند نے تجھ کو چن لیا ، تاکہ سب قوموں کی بہ نسبت جو زمین پر ہیں تو اس کے لئے ایک خاص قوم ہو۔ “
(استثناء 14 : 2)
” تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
The Jews used to claim that the blessings of the other world were specially reserved for them, and were not, meant for any other people. Certain other verses of the Holy Qur'an too refer to such a claim on the part of the Jews, and also of the Christians: قَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً : "They say: The, fire will not touch us but for a few days" (2:80), وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ : And they say: No one will enter Paradise except he who is a Jew or Christian" (2:111), وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
98. This is a subtle, satirical reference to their excessive worldliness. Those who really care for the Hereafter neither set their hearts on earthly life, nor are they unduly frightened of death. The condition of the Jews was the reverse of this.
Read the full tafseer →