Explained with ayahs 204–207
دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی
سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا، ابن عباس کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے حضرت خبیب اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں (من بشری) والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت (من یعجبک) الخ والی آیت نازل ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے، قتادہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
سورة الْبَقَرَة 225
”اِذَا تَوَلّٰی“ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے متن میں اختیار کیا ہے اور دوسرا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ یہ مزے مزے کی دل لبھانے والی باتیں بنا کر ”جب وہ پلٹتا ہے“ ، تو عملاً یہ کرتوت دکھاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
ربط آیات
اوپر کی آیتوں میں دعا مانگنے والے آدمیوں کی دو قسمیں ٹھرائی تھیں ایک کافر کہ منکر آخرت ہے اس لئے صرف دنیا مانگتا ہے دوسرا مومن کہ معتقد آخرت ہے دنیا کی بھلائی کے ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگتا ہے اب اگلی آیت میں اسی طرح کی تقسیم نفاق و اخلاص کے اعتبار سے فرماتے ہیں کہ بعض منافق ہوتے ہیں اور بعض مخلصین۔
خلاصہ تفسیر
(کوئی شخص تھا اخنس بن شریق بڑا فصیح وبلیغ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں آکر قسمیں کھا کھا کر دعویٰ اسلام کیا کرتا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت و ایذا رسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں فرماتے ہیں) اور بعضا آدمی ایسا بھی ہے کہ آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیوی غرض سے…
Read the full tafseer →یعنی تمہارے سامنے تو ان کی باتیں بڑی دل لبھانے والی ہوتی ہیں لیکن تمہارے پاس سے ہٹنے کے بعد ان کی ساری بھاگ دوڑ فساد فی الارض کی راہ میں ہوتی ہے۔ فساد فی الارض سے مراد، جیسا کہ ہم آیت 11 کے تحت واضح کرچکے ہیں، اللہ کی بندگی اور اطاعت کی اس دعوت کی مزاحمت و مخالفت ہے جو نبی ﷺ دے رہے تھے۔ زمین کے تمام امن و عدل کا انحصار اس بات پر ہے کہ اللہ کے بندے اللہ ہی کی بندگی اور اس کی اطاعت میں داخل ہوجائیں، جیسا کہ آگے ارشاد ہو رہا ہے“ ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ : اللہ کی اطاعت میں سب کے سب داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ”۔ اس بندگی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–205
(1)۔ 24۔ 1 بعض ضعیف روایات کے مطابق یہ آیت ایک منافق اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سارے ہی منافقین اور منکرین ہیں جن میں یہ مذموم اوصاف پائے جائیں جو کہ اس کے ضمن میں بیان فرمائے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
تشریح : بعض روایات میں ہے کہ اخنس بن شریق نامی ایک شخص مدینہ منورہ آیا تھا، اور اس نے آنحضرت ﷺ کے پاس آکر بڑی چکنی چپڑی باتیں کیں، اور اللہ کو گواہ بناکر اپنے ایمان لانے کا اظہار کیا ؛ لیکن جب واپس گیا تو راستے میں مسلمانوں کی کھیتیاں جلادیں اور ان کے مویشیوں کو ذبح کرڈالا، یہ آیات اس پس منظر میں نازل ہوئیں تھیں، البتہ ہر قسم کے منافقوں پر پوری اترتی ہیں۔
Read the full tafseer →نفس انسانی کے یہ عجیب خدوخال ، کسی ماہر فن عکاس کی قلم سے ہیں اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ یہ تصویر کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے ۔ اس کلام اور اس نفسیاتی عکاسی کا سرچشمہ انسانی دماغ ہرگز نہیں ہے ۔ کیونکہ کوئی انسان اس قدر مختصر الفاظ میں ، اتنی مختصر عکاسی کے ساتھ ، اس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اور نفس انسانی کے ایسے گہرے خدوخال سامنے نہیں لاسکتا۔ جو اس قدر وسیع بھی ہوں اور اس قدر واضح بھی ۔
اس کلام کا ہر لفظ تصویر کی ایک لکیر ہے ، جو انسان کے کسی خدوخال ، کسی خصوصیت کا اظہار کرتی ہے ، جلد ہی یہ نقش ونگار چلتے پھرتے زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
1 یہ حال ہے منافق کا ظاہر میں خوشامد کرے اور اللہ کو گواہ کرے کہ میں سچا ہوں اور میرے دل میں اسلام کی محبت ہے اور جھگڑے کے وقت کمی نہ کرے اور قابو پا دے تو لوٹ مار مچا دے اور منع کرنے سے اس کو زیادہ ضد چڑھے اور گناہ میں ترقی کرے، کہتے ہیں ایک شخص اخنس ابن شریق تھا منافق فصیح وبلیغ جب آپ ﷺ کی خدمت میں آتا تو غایت اخلاص اور محبت اسلام ظاہر کرتا اور جب چلا جاتا تو کسی کی کھیتی جلا دیتا کسی کے جانوروں کے پیر کاٹ ڈالتا اس پر منافقین کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →آیت 205 وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ط
یہ لوگ جب آپ ﷺ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور لوگوں کی کھیتیاں اور جانیں تباہ و برباد کریں۔
Read the full tafseer →273 اخنس بن شریق ایک منافق تھا جو فصیح وبلیغ اور شیریں کلام تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی چکنی چپڑی باتیں بھلی معلوم ہوتیں۔ وہ بات بات پر اللہ کی قسم کھاتا اور بار بار اللہ کو گواہ بنا کر کہتا کہ وہ سچا مسلمان ہے اور مسلمانوں کا دلی دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صحیح صورت حال سے مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی باتوں پر فریفتہ مت ہونا، کیونکہ یہ سخت جھگڑا لو قسم کا انسان ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، وہ اسلام سے پھر کر مکہ واپس چلا گیا۔ راستہ میں مسلمانوں کے جو کھیت دیکھے انہیں جلا دیا اور جو جانور نظر آئے انہیں مار ڈالا۔
Read the full tafseer →755 ۔ (جیسا کہ اخنس نے کیا بھی، کہ قبیلہ ثقیف کے کھیت جلوادیئے اور ان کے مویشیوں کو ہلاک کرڈالا) کما فعلہ الاخنس بثقیف اذبیتھم واحرق زروعھم واھلک مواشیھم (بیضاوی) (آیت) ” واذا تولی “ یعنی جب مجلس رسول اللہ ﷺ سے اٹھ کر چلا گیا۔ اے اذا خرج من عندک (ابن عباس ؓ اے ادبروا عرض (روح عن الحسن) (آیت) ” تولی “ کے دوسرے معنی ” حاکم بن گیا “ ”’ حکومت پا گیا “ کے بھی ہوسکتے ہیں، اور کیے گئے ہیں۔ یعنی جب وہ ملک میں حاکم ومسلط ہوجاتا ہے۔ قال مجاہد من الولایۃ اے صار والیا (بحر) اے ملک الامر وصار والیا (معالم۔ عن الضحاک) چوں ریاست پیدا کند (شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) اور جب حاکم ہوتا ہے (شاہ رفیع الدین دہلوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
آیت نمبر 204 تا 210
ترجمہ : اور بعض آدمی ایسے بھی ہیں کہ دنیا کی زندگی کے بارے میں آپ کو ان کی باتیں اچھی لگتی ہیں اور آخرت کے بارے میں اچھی نہیں لگتیں اس کے اعتقاد کے آپ کے اعتقاد کے خلاف ہونے کی وجہ سے اور اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ بناتا ہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کے قول کے مطابق ہے حالانکہ وہ زبردست جھگڑالو ہے یعنی آپ سے اور آپ کے متابعین سے سخت خصومت رکھنے والا ہے آپ سے خصومت رکھنے کی وجہ سے اور وہ اخنس بن شریق ہے جو منافق ہے، آپ ﷺ سے بہت شیریں گفتگو کرتا تھا اور قسمیں کھاتا تھا کہ وہ آپ پر ایمان رکھتا ہے اور آپ سے محبت رکھتا ہے آپ ﷺ اس کو اپنے قریب بٹھاتے تھے، تو اللہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۭ ( اور جب لوٹ کر جائے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ فساد پھیلائے اس میں اور تباہ کرے کھیتی اور نسل) مروی ہے کہ اخنس مذکور اور ثقیف کے درمیان کچھ نزاع تھا اخنس نے ان پر شب خون مارا اور ان کی کھیتیاں جلا ڈالیں اور انکے مویشی ہلاک کردیئے اور مقاتل نے فرمایا ہے کہ اخنس اپنے ایک مدیون کے پاس تقاضے کے لیے طائف گیا تھا وہاں جا کر اس کی کھیتی جلا دی اور اس کی ایک گدھی تھی اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اس قصہ کو حق تعالیٰ نے : و اذا تولیٰ الخ سے بیان فرمایا ہے نسل ہر چوپا یہ اور انسان کی نسل کو بولتے ہیں۔ ضحاک نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
(205۔ 206) اور جب غصہ میں آتا ہے تو ہر قسم کے گناہ کرتا ہے اور کھیتوں اور باغات کو برباد اور جانوروں کو قتل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے فساد پھیلانے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتے اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈر تو اس میں تکبر اور حمیت جوش مارنے لگتی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برے لوگوں کا برترین ٹھکانا ہے۔
یہ آیت کریمہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ شیریں کلام تھا رسول اکرم ﷺ کو اس کی یہ بات پسند تھی کہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور خفیہ طریقے سے آپ کے ہاتھ پر بیت کرتا ہوں اور اس پر اللہ کی قسم بھی کھاتا تھا، مگر یہ پکا منافق تھا، لوگوں کا خیال ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
اوپر کی آیات میں ”وَمِنَ النَّاسِ“ سے لے کر یہاں تک دو قسم کے لوگ ذکر کیے، یعنی طالب دنیا اور طالب دنیا و آخرت۔ اب یہاں سے منافقین کے اوصاف کا بیان ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں چند ایسے چال باز لوگ تھے (اور ہمیشہ رہے ہیں) ، ان آیات میں ان کی صفات بیان فرما کر ان سے چوکس رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (قرطبی، فتح القدیر) تفاسیر میں گو ان آیات کا سبب نزول اخنس بن شریق ثقفی کو بیان کیا گیا ہے، مگر الفاظ کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جس میں یہ پانچوں صفات پائی جائیں۔ (کبیر) علاوہ ازیں وہ تمام روایات جن میں اس آیت کے اخنس کے بارے میں اترنے کا ذکر ہے، ضعیف ہیں۔ (دیکھیے الاستیعاب فی بیان…
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” واذا تولی سعی فی الارض لیفسد فیھا “۔ کے تحت کہا گیا ہے کہ تولی اور سعی فعل قلب میں سے ہیں۔ پس تولی ‘ ضل وغضب وانف فی نفسہ “ کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی وہ گمراہ ہوگیا، غصے ہوگیا اور اس نے اپنے دل میں اسے ناپسند کیا۔ اور سعی کا معنی ہے اس نے اپنے حیلہ اور ارادہ کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام پر مصائب لانے کی کوشش کی۔ یہ ابن جریج وغیرہ سے منقول ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں آدمی کے فعل ہیں۔ پس تولیٰ بمعنی ادبر (پیٹھ پھیرنا) آتا ہے، یعنی اے محمد ﷺ اس نے پیٹھ پھیری اور وہ آپ سے چلا گیا اور سعی کا معنی ہے : اور وہ اپنے قدموں کے ساتھ چلا اور اس نے راستہ طے گیا اور اسے…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا تولی سعی فی الارض “ سے مراد ہے کہ وہ زمین پر فساد برپا کرتا ہے ” ومہلک الحرث “ یعنی زمین کی کھیتی کو تباہ کرتا ہے ” والنسل “ یعنی انسان اور حیوان ہر چیز کی نسل کو ہلاک کرتا ہے۔
(2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا تولی سعی فی الارض “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ زمین میں ظلم اور زیادتی کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے آسمان سے بارش کو روک لیتے ہیں اور بارش کے رک جانے کی وجہ سے کھیتی اور حیوان ہلاک ہوجاتے ہیں لفظ آیت ” واللہ لا یحب الفساد “ پھر مجاہدین نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب ] [ تَوَلّٰی : وہ لوٹتا ہے ] [ سَعٰی : تو وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے ] [ فِی الْاَرْضِ : زمین میں ] [ لِیُفْسِدَ : تاکہ وہ ] [ نظم بگاڑے ] [ فِیْہَا : اس میں ] [ وَیُہْلِکَ : اور تاکہ وہ برباد کرے ] [ الْحَرْثَ : کھیتی کو ] [ وَالنَّسْلَ : اور (مویشیوں کی) نسل کو ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ لاَ یُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ الْفَسَادَ : نظم کے بگاڑ کو ]
ح ر ث
حَرَثَ (ن) حَرْثًا : کھیتی کے لیے زمین تیار کرنا ‘ بیج ڈالنا۔ { اَفَرَئَ ‘ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ۔ } (الواقعۃ) ” کیا تم لوگوں نے دیکھا نہیں جو تم بیج ڈالتے ہو ؟ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–205
میٹھی باتیں کرنیوالے منافقوں اور مفسدوں کا تذکرہ
معالم التنزیل ص 179 ج 1 میں لکھا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی یہ شخص میٹھی باتیں کرنے والا تھا۔ دیکھنے میں بھی اچھا لگتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتا تھا اور پاس بیٹھ کر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور اس پر قسمیں کھاتا تھا اور اندر سے منافق تھا۔ رسول اللہ ﷺ (اس کی ظاہری باتوں کی وجہ سے) اسے قریب بٹھاتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اخنس بن شریق کی حرکت :
لباب النقول میں بحوالہ ابن جریر مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی، وہ آپ کی خدمت میں آیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
تقسیم دیگر۔
قال تعالی، ومن الناس من یعجبک قولہ۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اغراض دعا کے اعتبار سے تقسیم کا ذکر تھا اب ان آیات میں اخلاص اور نفاق کے اعتبار سے لوگوں کی تقسیم بیان فرماتے ہیں پہلے ایک منافق کا حال بیان کرتے ہیں جس کا نام اخنس بن شریق تھا یہ شخص بڑا فصیح اللسان اور شیریں بیان اور حسین اور خوبصورت تھا جب آپ ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوتا تو بڑی باتیں بناتا اور قسمیں کھاتا کہ مجھ کو حضور ﷺ سے محبت ہے اور جب آپ کے پاس سے جاتا توفساد پھیلاتا اور لوگوں کی کھیتیوں کو جلاتا اور مویشی کو ہلاک کرتا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور بعضا آدمی ایسا چرب زبان ہے کہ جب وہ دنیاوی اغراض…
Read the full tafseer →393 جب تک آپ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں اس وقت تک تو چکنی چپڑی باتیں کرتے رہتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ہی مخصف ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے اٹھ جاتے ہیں تو شر و فساد برپا کرنے کی سعی اور کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شروفساد سے یا تو کھیتوں اور مویشیوں کی تباہی مراد ہے اور یا مراد یہ ہے کہ آپ کے پاس سے اٹھ کر مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی بابت شبہات پیدا کرتا ہے اور کفر وشرک کی تائید میں عجیب و غریب حیلے نکالتا ہے۔ انہ کان بعد الانصراف من حضرۃ النبی (علیہ السلام) یشتغل بادخال الشبہ فی قلوب المسلمین وباستخراج الحیل فی تقویۃ الکفر (کبیر ص 280 ج 2) وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۔ جیسا کہ اخنس نے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
ربط آیات
حج کے بیان کے آخری حصے میں دو قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہوا ، ایک گروہ وہ ہے۔ جو آخرت کا بالکل منکر ہے۔ ایسے لوگ محض دنیا کے طلبگار ہوتے ہیں اور ان کی دعا بھی یہ ہوتی ہے ” ربنا اتنا فی الدنیا “ یعنی اے اللہ ! ہمیں جو کچھ دینا ہے اس دنیا میں ہی عطا کر دے۔ یہ لوگ یقینا کافر ہیں کیونکہ آخرت پر یہ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو دنیا اور آخرت ہر دو کے طالب ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دنیوی زندگی بھی خوشحالی میں بسر ہو ، اور آخرت میں بھی نجات حاصل ہوجائے۔ اسی لئے وہ اللہ تعالیٰ سے یوں سوال کرتے ہیں۔ ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “ یہ ایماندار لوگ…
Read the full tafseer →وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ 0 ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ 205
سعی
السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114]
( س ع ی ) السعی
تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔
فسد
الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
ترکیب : من یعجبک میں من نکرہ موصوفہ ہے فی الحیوٰۃ الدنیا متعلق ہے قول سے والتقدیرفی امور الدنیا اور ممکن ہے کہ یعجبک کے ساتھ متعلق ہو۔ ویشہد اللّٰہ جملہ حال ہے۔ ضمیر یعجبک سے الخصام جمع خصم ہے اور ممکن ہے کہ مصدر ہو بمعنی اسم فاعل اور افعل اس جگہ مفاضلۃ کے لیے ہے۔ تقدیرہ ہو شدید الخصومۃ لیفسد لام متعلق سعی سے ہے اخذت فعل مفعول العزۃ فاعل بالاثم میں ب سببیہ ہے ای اخذتہ العزۃ بسبب الاثم فحسبہ مبتدا جہنم حسب کا فاعل ہے۔
تفسیر : اول آیت میں ذکر تھا کہ بعض ایسے بھی ہیں کہ جو حج کے ایام اور ایسے مواضع میں صرف دنیا خدا سے مانگتے ہیں کس لیے کہ آخرت اور وہاں کی نعمتوں کا ان کو یقین ہی نہیں اور بعض…
Read the full tafseer →وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ط وَاللّٰہُ لَایُحِبُّ الْفَسَادَ ۔
(اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں ‘ ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچادیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا) (205)
تَوَلّٰی کا مفہوم
تَوَلّٰیکے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ والی بننا اور پیٹھ پھیرنا۔ قاضی بیضاوی ( رح) نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اَدْبَرَ وَانْصَرَفَ عَنْکَ وَ قِیْلَ اِذَا غَلَبَ وَ صَارَ وَالِـیًا قاضی صاحب نے دونوں معنی مراد لیے ہیں۔ یہاں بھی دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ منافقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
فہم القرآن
ربط کلام : پہلے دو قسم کی سوچ اور فکر کے درمیان فرق بیان ہوا تھا اب مخلص ‘ اور غیر مخلص ‘ مصلح اور فساد کرنے والے کے درمیان فرق بتلایا گیا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ کیونکہ جب تک انسان دنگہ فساد سے پرہیز نہیں کرتا۔
منیٰ میں قیام اور ایّام تشریق کا مسئلہ بیان کرنے سے پہلے لوگوں کی دو قسم پر مبنی سوچ کا ذکر ہورہا تھا۔ اب دو کرداروں کو بیان کیا جارہا ہے، پہلا کردار دنیا پرست کا ہے جس کے قول وفعل میں اس قدر تضاد ہوتا ہے کہ اس کی زبان میٹھی ہے اور وہ اپنے کردار کی کھوٹ اور گفتگو کی چوری کو چھپانے کے لیے ہر بات پر اللہ تعالیٰ کے مقدّس نام کو استعمال کرتا…
Read the full tafseer →205۔ وَاِذَا تَوَلّٰی : (جب وہ تم سے منہ پھیر کرجاتا ہے) اور جاتے ہوئے نرم و میٹھی بات کہہ کر گیا۔
فسادی منافق :
سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا : (وہ دوڑ دھوپ کرتا ہے تاکہ فساد برپا کرے) جیسا اس نے ثقیف کے ساتھ کیا۔ کہ اس کے اور ان کے درمیان مخالفت تھی۔ ان پر شب خون مارا اور ان کے مویشیوں کو ہلاک کیا۔ اور کھیتیوں کو آگ لگا دی۔
وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ : (اور ہلاک کرے کھیتی اور نسل) یعنی کھیتی اور حیوان یا جب کہ یہ یآء کے ساتھ یھلک ہو تو پھر اس سے مراد وہ حرکت ہے جس کو برے حکام زمین میں فساد پھیلانے کیلئے کرتے ہیں۔ کھیتیوں کی ہلاکت اور نسل کشی کی صورت میں ایک اور قول یہ ہے۔ کہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 205۔:
(آیت)” واذا تولی “ جب پیٹھ پھیری اور آپ سے اس نے منہ پھیرا (آیت)” سعی فی الارض “ اس (زمین) میں عمل کیا بعض نے کہا اس (زمین) میں چلا (آیت)” لیفسد فیھا “ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں قطع رحمی کی اور مسلمانوں کا خون بہایا (آیت)” لیفسد فیھا “ کا یہ معنی ہے (آیت)” ویھلک الحرث والنسل “ اور یہ اس طرح کہ اخنس اور قبیلہ ثقیف کے درمیان مخالفت ومخاصمت تھی ، پس اخنس رات کو آیا اور ان کی کھیتوں کو جلا ڈالا اور ان کے جانوروں کو ہلاک کردیا ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اخنس طائف کی طرف اپنے مال کے تقاضا کے لیے جو اس نے کسی مقروض سے لینا تھا گیا ، پس اس مقروض نے غلہ کے کھلیاں کو آگ لگا دی اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
(204 ۔ 206) ۔ بعض مفسروں نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریق منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے وہ آنحضرت ﷺ کے پاس جب آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہونچی تو بعض منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے۔ لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجر اور مذمت ان کو مقصود تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت اور شہداء رجیع کے مدح میں یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
جب اللہ تعالیٰ نے اکثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، خاص طور پر فضیلت والے اوقات میں، وہ ذکر الٰہی جو سب سے بڑی بھلائی اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے حال کے بارے میں خبر دی جو اپنی زبان سے جو بات کرتا ہے اس کا فعل اس کی مخلافت کرتا ہے۔ پس کلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بلند مراتب پر فائز کرتی ہے یا اس کو پستی میں گرا دیتی ہے، چناچہ فرمایا :
(آیت) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ” بعض لوگ وہ ہیں جن کی بات تجھ کو اچھی لگتی ہے دنیا کی زندگی میں “ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو اس کی باتیں سننے والے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (واللہ لایحب الفساد اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کتا اس کا ارادہ بھی نہیں کرتا اور جس چیز کا ارادہ نہیں کرتا اسے پسند بھی نہیں کرتا۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ وہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
یہ چیز اس بات کو واجب کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کا کام نہ کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ فساد کا ارادہ کرنے والا اور اسے پسند کرنے والا قرار پائے گا اور اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس کی مثال ایک اور قول باری میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (وما اللہ یرید ظلماً للعباد اور یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کا ارادہ کرتا ہو۔
اس بات پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–206
569 " تَوَلّٰی " کے دو معنی و مطلب : پیٹھ پھیرتا ہے یعنی مجلس سے، یہ اس صورت میں ہے جبکہ " تولیٰ " کو " ولی " سے ماخوذ مانا جائے، جس کے معنی پھرنے اور لوٹنے کے آتے ہیں۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہ " وَلایَۃٌ " سے ماخوذ ہو، جس کے معنی والی اور حاکم بننے کے ہیں، یعنی جب ایسا شخص کسی علاقے کا والی اور حاکم بنتا ہے اور کرسی اقتدار پر بیٹھتا ہے، تو ایسے اور ایسے کام کرتا ہے۔ (جامع البیان، التحریر والتنویر وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح کے شخص کی باتیں جب وہ تمہارے سامنے ہوتا ہے تو بڑی دل لبھانے والی ہوتی ہیں، لیکن تمہارے سامنے سے ہٹنے کے بعد یا کرسی اقتدار پر بیٹھنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
قسمیں کھانیوالے جھگڑالو اور اللہ کی رضا چاہنے والے
تشریح : جیسا کہ حج کے بیان میں نیک و بد انسان کی نشانیاں بیان ہوچکی ہیں کہ بد آدمی صرف دنیا ہی مانگتا ہے مگر نیک دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگتا ہے اور پھر دوزخ سے بھی پناہ مانگتا ہے۔ آیت 204 کا شان نزول اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔ کہ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص اخنس بن شریق بظاہر مسلمانوں کا بڑ اخیر خواہ تھا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس آتا تو قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی میں بڑے بڑے دعوے کرتا۔ لیکن جیسے ہی وہاں سے اٹھتا تو اسلام کے خلاف ہر طرح شرارت، فساد اور جھگڑا کھڑا کرتا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر منافق شخص کچھ ایسے ہی کام کرتا ہے۔ اگلی آیت میں منافق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
ف 4 اوپر کی آیتوں میں جمن الناس سے لے کردو قسم کے لوگ ذکر کیے یعنی طالب دنیا اور طالب آخرت۔ اب یہاں سے منافقین کے اوصاف کا بیان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں چند ایسے چالباز لوگ تھے ان آیات میں ان کی صفات بیان فرماک ان سے چوکس رہنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (اقرطبی۔ فتح اقدیر) علماء تفیسر کے بیان کے مطابق یہ آیت گو اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر اپنے معنی کے اعتبار سے ہر اس شخص کو شامل ہے جو ان صفات خمسہ کے ساتھ متصف ہو۔ (رازی) الدالخصام (سخت جھگڑالو) ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا وہ شخص ہے جو بخٹ جھگڑالو ہو۔ ( فتح البیان بحوالہ صحیح بخاری) اور حدیث میں ہے کہ…
Read the full tafseer →(2:205) تولی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ لوٹا۔ وہ پھرا۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیردی۔
سعی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ سعی۔ مصدر (باب فتح) اس نے کوشش کی۔ اس نے جلدی کی اس نے قصد کیا۔
لیفسد۔ میں لام تعلیل کا ہے اور سعی سے متعلق ہے یعنی وہ زمین میں اس واسطے دوڑتا پھرتا ہے کہ فساد پھیلا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
لغات القرآن : آیت نمبر 204 تا 207
یعجب (پسند آتا ہے ) ۔ یشھد (گواہ کرتا ہے) ۔ الد الخصام (سخت جھگڑالو) ۔ تولیٰ (وہ پلٹا) ۔ سعی (اس نے کوشش کی ) ۔ یھلک (ہلاک اور برباد کردیتا ہے) ۔ الحرث (کھیتی) ۔ النسل (جانور، مویشی) ۔ اتق اللہ (اللہ سے ڈر) ۔ اخذتہ (اس کو پکڑ لیتا ہے (اس کو پکڑ لیتی ہے) ۔ حسبہ (اس کو کافی ہے ) ۔ یشری (فروخت کردیتا ہے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی) ۔ العباد (عبد) بندے) ۔
تشریح : آیت نمبر 204 تا 207
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کمزور کردار کے انسانوں کی خصلتیں اور مخلص مومنوں کی شان اور صفات بیان فرمائی ہیں۔
فرمایا کہ مدینہ کے بہت سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–210
شان نزول : بعضے مفسرین نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریک منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کے پاس آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا ہے کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہنچی تو بعضے منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجو اور مذمت مقصود تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت میں شہدائے رجیع کی مدح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–207
[138] یعنی ایام تشریق (10/ ذی الحجہ سے 13/ذی الحجہ)
[139] یعنی ایام تشریق میں منیٰ سے مکہ کی طرف واپسی خواہ 12/ذی الحجہ کو ہو یا 13/کو، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
جاں فروش مومن :
(ف 1) ان آیات میں بتایا کہ کچھ لوگ مخلص بھی ہیں اور اس درجہ مخلص ہیں کہ وہ اپنی جانیں خدا کی راہ میں دینے سے بھی دریغ نہیں ۔ جہاں منافقین عزت نفس کے لئے ایمان کی گرانمایہ پونجی کو ضائع کردیتے ہیں ۔ وہاں یہ لوگ جان تک خدا کی مرضی کے بھینٹ چڑھا دینے میں تامل نہیں کرتے ، اس لئے یہ خدا کی آغوش رحمت میں رہیں گے انہیں عبودیت کے مرتبہ سے نوازا جائے گا اور خدائے رؤف کی تمام رحمتیں ان کے شامل حال رہیں گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
ف 2 اور لوگوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے کہ جس کی باتیں اور اسکی گفتگوں جو محض دنیوی زندگی کی غرض اور مقصد سے ہوتی ہے آپ کو حیرت زدہ کردیتی ہے اور آپ کو وہ باتیں دل کش اور خوش کن معلوم ہوتی ہیں اور اسکی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کی قسمیں کھا کھا کر اور اپنے مافی الضمیر پر خدا شاہد خدا شاہد کہہ کر آپ کو یقین دلاتا ہے حالانکہ وہ آپ کی مخالفت کرنے والوں اور آپ سے مخاصمت رکھنے والوں میں سب سے زیادہ شدید الخصومت اور بڑا جھگڑالو ہے اور جب وہ آپ کے پاس سے اور آپ کی مجلس سے پیٹھ پھیر کرجاتا ہے تو وہ اس غرض سے دوڑ دھوپ کرتا پھرتا ہے اور کوشش کرتا ہے اور اس قسم کی تدابیر اختیار کرتا ہے کہ شہر میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–209
ف 1۔ کوئی شخص تھا اخنس بن شریق، بڑا فصیح وبلیغ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آکر قسمیں کھاکر جھوٹا دعو اسلام کا کیا کرتا تھا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت وایذارسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں یہ آیت فرمائی ہیں۔
Read the full tafseer →ان منافقین کو اگر حکومت مل جائے تو کیا ہوتا ہے ؟
355: فرمایا کہ اس قسم کے بدبخت جب مسلمانوں سے الگ ہوتے ہیں تو ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی ان کا کام ہوتا ہے پھر جب ان کو ملکی کاموں میں دسترس بھی حاصل ہوجاتی ہے تو یہ طرح طرح کے گل کھلاتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ ایسی چاشنی لگاتے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ اچھا بھلا ماحول تکدرکا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ ایسی چالیں چلتے ہیں کہ قوم مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس سے ان کو کیا حاصل ہوتا ہے ؟ ایسی حالت پیدا ہوگی تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں گے۔ پھر ان کو آگ بھڑکانا آتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
In the previous verses, it was said that there are two kinds of those who make prayers. Some wish to have everything right here in this world, others pray for the good of both worlds, the mortal and the eternal. In the present verse, the same two kinds have been identified as those who are hypocritical and those who are sincere.
Verses 204-206 refer to a hypocrite, Akhnas ibn Shurayq known for his eloquence. He would come to the Holy Prophet ﷺ and try to impress him with his sworn allegiance to Islam, but no sooner did he walk out of his company than he would get busy with his anti-Muslim…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
225. The expression idha tawalla can be translated in two ways. First, in the manner of our translation of the text. It can also be translated to make the verse mean that when such people return from sweet and apparently genuine talk, they engage in arrogant and destructive action.
Read the full tafseer →